Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2018 » شمارہ فروری و مارچ » شیخ ذوالفقار علی طاہررحمہ اللہ ایک عہد تھا جوگذرگیا

شیخ ذوالفقار علی طاہررحمہ اللہ ایک عہد تھا جوگذرگیا

’’آج جمعیت کی کمرٹوٹ گئی، المعہد السلفی کی کمر ٹوٹ گئی‘‘ یہ الفاظ تھے محدث العصر فضیلۃ الشیخ علامہ عبداللہ ناصررحمانی حفظہ اللہ امیر جمعیت اہل حدیث سندھ کے جب عالم ربانی،مدرس بے مثال، مربی بے بدل، خطیب لاجواب،مصنف بے بہا،خوش اخلاقی کے پیکر شیخنا ابوزبیرذوالفقار علی طاہر رحمہ اللہ کی ناگہانی وفات پر، جس نے ہم سب کو شدت غم سے نڈھال کردیا ہے،اناللہ واناالیہ راجعون.

میں نے المعہد السلفی کی پرشکوہ عمارت کو غم میں ڈوباہواپایا، اور ان کی روحانی اولاد کو سسکتے اور بلکتے دیکھا، ہزاروں اشکبارآنکھیں….لیکن اللہ کے فیصلے پرراضی ،آہ! دل اس خبر کو مان ہی نہیں رہا تھا،ظہر کے بعد جن سے امیرمحترم کی موجودگی میں ایک گھنٹہ تک مجلس رہی، وہ صرف چند گھنٹوں کے بعد ہمیں داغِ مفارقت دیں گے،دل پرصدموںکا سیلاب آگیا جو آنکھوں کے بندتوڑ کر آنسوبن کے گررہاتھا ،لیکن تقدیر پر ایمان میں سےایک چیز ’الرضاعن أقدار اللہ المؤلمۃ‘ بھی تو ہے،

ان العین تدمع، والقلب یحزن ،ولانقول الامایرضی ربنا وانا بفراقک یاشیخنا لمحزونون.

نماز جنازہ کے بارے میں امیرمحترم کی زیرصدارت میٹنگ ہوئی، طے پایا کہ رات گیارہ بجے نماز جنازہ المعہد السلفی للتعلیم والتربیۃ میں ادا کی جائے گی،ساڑھے آٹھ، نو تک جگہ تنگیٔ دامن کا شکوہ کرنے لگی، چنانچہ طے ہوا کہ نماز جنازہ دومرتبہ ادا کی جائے، ایک ساڑھے نو اور دوسری گیارہ بجے وقت مقرر پر۔

دونوں مرتبہ نماز جنازہ علامہ عبداللہ ناصررحمانی حفظہ اللہ نے پڑھائی۔ (بعد میں پتاچلاکہ شیخ رحمہ اللہ کی یہ وصیت تھی)نماز جنازہ سے پہلے شیخ صاحب حفظہ اللہ نے چندمختصر کلمات ارشاد فرمائے:

’’جب 1983ء میں دارالحدیث رحمانیہ میںمیرا بطور مدرس تقرر ہواتو اس وقت سے ایک استاد اور شاگرد کا تعلق تھا، جس میں آئے روز اضافہ ہورہاتھا، جو کہ آج ختم ہوگیا،ان کا سانحہ ارتحال ایک بہت بڑا خلاہے، جو مدتوں پورانہیں ہوگا، ایک طالب علم اپنے استاد کا روحانی بیٹا ہوتا ہے ،کس قدرالمناک ہے اپنے بیٹے کا جنازہ اٹھانا….‘‘

نماز جنازہ میں انتہائی رقت آمیز مناظر تھے جوآہوں اور سسکیوں میں اد ا کی گئی،اللہ ، اللہ! کیا اخلاص تھا اور کیامحبت تھی جو اللہ تعالیٰ علماءِ حق کو وفات کے بعد دیتا ہے، ایک طالب علم اور شیخ کا کیا ہی رشتہ ہے، بہرکیف ایک قابل رشک جنازہ تھا۔

دوسری مرتبہ نماز جنازہ کے بارے میں اندیشہ تھا کہ شاید لوگ اتنی تعداد میں نہ ہوں لیکن دوسری نماز جنازہ میں تعداد پہلے سے زیادہ تھی، وہی روحانیت وہی آہیں اور وہی سسکیاں…

ایک مرتبہ پھر شیخ محترم علامہ عبداللہ ناصر رحمانی حفظہ اللہ امامت کے لیے آگے بڑھے اور اپنے مختصر درس میں شیخ ذوالفقار علی طاہر رحمہ اللہ کو جمعیت اہل حدیث سندھ کا ایک مثالی کارکن قرار دیااور کہا کہ وہ پوری زندگی داستانِ وفا رقم کرتے رہے اور اپنی تمام ذمہ داریاں بحسن خوبی ادا کرتے رہے ،ایسے بے لوث، مخلص اور بے داغ کردار کے حامل انسان کی وفات ایک ایسانقصان ہے جس کی تلافی ناممکن ہے۔

المعہد السلفی للتعلیم والتربیۃ میں نماز جنازہ میں شریک بعض علمائے کرام کے اسماءِ گرامی یہ ہیں:شیخ افضل سردار، شیخ حسین بلتستانی، شیخ احسن سلفی، شیخ عبدالغفار حازم، شیخ عثمان صفدر، شیخ  حماد چاؤلہ، ڈاکٹر شاہ فیض الابرار، شیخ عبدالواحد سیال آبادی، المعہد السلفی للتعلیم والتربیہ کے تمام اساتذہ کرام اور طلباء عظام کے علاوہ کراچی کی اکثر مساجد ومدارس کے ذمہ داران، خطباء ،ائمہ اور جماعتی احباب نے شرکت کی۔

شیخ رحمہ اللہ کی وفات ان کے خاندان اور رشتہ داروں کے لیے جہاں ایک بہت بڑا صدمہ ہے، وہاں پوری جماعت اہل حدیث ایک عظیم قائد،عالم،خطیب اور قلمکار سے محروم ہوگئی، اللہ تعالیٰ ہم سب کوصبر جمیل کی توفیق دے اور جماعت کو ان کا نعم البدل عطافرمائے۔

بعدازنماز جنازہ تقریبا بارہ بجے شیخ ذوالفقار علی طاہر رحمہ اللہ کی میت کو بذریعہ ایمبولینس تدفین کے لئے ان کے آبائی گاؤں ساماروموری روانہ کیاگیا ،امیرمحترم جنازےکی روانگی تک ایمبولینس کے پاس ہی رہے، ایمبولینس میں شیخ اصغرمحمدی، شیخ امین جوگی، حافظ اکبر اور حافظ ابراھیم کے ساتھ المعہد السلفی کے دو طالب علم ،آصف عمران اور نعمان بھی ساتھ تھے ، جبکہ شیخ رحمہ اللہ کی فیمیلی اور شتہ دار جن میں راقم الحروف،  حافظ عبدالوہاب اورحافظ نوراللہ دوسری گاڑی میں تھے۔

کراچی سے گاؤں تک متعدد بار سفر کرچکاہوں لیکن یہ سفر جس میں شیخaکی میت لے جانے والی ایمبولینس ہماری آنکھوں کے سامنے تھی جو مسلسل غم اور بے چینی میں اضافہ کا سبب بن رہی تھی، ان کے ساتھ بیتاہوا وقت ،ان کے احسان اور محبتیں یادوں کے سفینے تھے جو پورا سفر تیرتے ہی رہے۔

شیخ رحمہ اللہ کی فیملی اور معصوم بچے جن سے وہ آج صبح ہی شام کو دوبارہ ملاقات کے وعدے پر رخصت ہوئے تھے ،کلیجہ مونہہ کو آرہا تھا …بار بار ان کے بیٹوں حافظ زبیر اور ننھے زہیر کے آنسوؤں اور غمگین چہروں کو دیکھ کر دل ڈوب رہا تھا، اللہ ان کا حامی اورناصر ہو،آنے والے وقت کو ان کے لئے بہتر بنادے ۔آمین

روڈ کا طویل سفرختم ہوا،گاؤں میں داخلے کے لئے چھوٹی کچی سڑک شروع ہوئی ،رات کے پچھلے پہر کافی سردی پڑرہی تھی جب گاؤں میں داخل ہوئے توصبح ساڑھے چار کا وقت تھا شیخ ذوالفقار علی طاہررحمہ اللہ کے بھائی لیاقت صاحب، برکت صاحب، محمد علی صاحب،محمد اور بھتیجے مولانا حزب اللہ ،شیخ عبدالرحمٰن اثری، شیخ فرمان اللہ ،شیخ صبغت اللہ، شیخ عبداللہ ،شیخ فضل اللہ اور دیگر اقرباء جمع تھے، شیخ رحمہ اللہ کی وفات کی خبر سن کر عزیزواقارب شام سے ہی جمع ہونا شروع ہوگئے تھے ویسے تو سب بھائیوںسے عمر میں چھوٹے تھے  لیکن پورے خاندان کے بڑے تھے،ہمدرد اورغمخوار تھے، ان کے بارے میں فکرمند رہتے تھے، ان کی جدائی سے ہم سب یتیم ہوگئے ہیں، ان کی شخصیت کا جوسہارا تھا وہ اُٹھ گیا ہے، اللہ تعالیٰ غمزدہ خاندان کی باہمی الفت ومحبت کو قائم ودائم رکھے۔

نماز جنازہ کا وقت احباب کے مسلسل اصرار کو دیکھتے ہوئے ایک بجے مقرر کیاگیا تھا لیکن بعض وجوہات کی بناءپر ساڑھے دس کے قریب نماز جنازہ ادا کی گئی، یہاں پر بھی ایک جم غفیر تھا، جن میںجماعت کے نامور علمائے کرام اور مشہور شخصیات کے ساتھ ساتھ شیخ رحمہ اللہ کے شاگردوں کی بھی کثیر تعداد تھی، جو دور دراز علاقوں: لاڑکانہ، حیدرآباد، کراچی سے لیکر بدین اور تھرپارکر تک کا سفر کرکے اپنے محبوب شیخ کو اس کے سفرآخرت پر آہوں ،سسکیوں اور دعاؤں کے ساتھ الوداع کرنے آئے تھے، بہت سے غیر جماعتی لوگ بھی جنازے کو دیکھ کر حیران تھے کہ ایسا جنازہ ہم نےکسی کا بھی نہیں دیکھا،یہ وہ عزت واکرام ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس عالم ربانی کو دیا جس نے پوری زندگی درس وتدریس، قال اللہ وقال الرسول کی صدائیں لگائیں، اور عقیدۂ توحید کی غیرت کو سینے سے لگایا ،سنت رسول ﷺ کی نشر واشاعت کی اور بدعات کی بیخ کنی کی اور علم وعمل سے بھرپور زندگی گزاری اور اسی نہج پر اپنے طلباء کی تربیت کی جو یقینا ان کے لئے صدقہ جاریہ ہیں۔

نماز جنازہ فضیلۃ الشیخ حافظ محمد سلیم صاحب حفظہ اللہ شیخ الحدیث المعہد السلفی نے پڑھائی جو کہ فضیلۃ الشیخ داؤدشاکر نائب مدیر المعہد السلفی کے

ساتھ خصوصی طور پر نماز جنازہ وتدفین میں شرکت کے لئے کراچی سے تشریف لائے تھے۔شیخ کے آبائی گاؤں ساماروموری میں نماز جنازہ میں شریک بعض علمائے کرام کے نام: شیخ حافظ محمد سلیم صاحب، شیخ داؤد شاکر صاحب،حافظ عبدالصمدصاحب،شیخ اصغر محمدی صاحب، مولانا عبدالعزیز نظامانی صاحب،شیخ افتخار احمد الأزھری صاحب، شیخ شعیب سلفی صاحب، مولانا اعظم لانڈر صاحب، ڈاکٹر عبدالرشید صاحب، محترم انور ساہڑ صاحب، سعید اقبا ل صاحب، ذیشان صاحب کے علاوہ جمعیت اہل حدیث کے قائدین اور کارکنوں سمیت اہل علاقے کی کثیرتعداد نے شرکت کی۔

نماز جنازہ کے بعد شیخa کے آبائی گاؤں کے قبرستان لائق پیر میں ان کو سینکڑوں سوگواران کی موجودگی میں لحد میں اتاراگیا ،أللھم اغفرلہ وارحمہ….

شیخ ذوالفقار علی طاہررحمہ اللہ کے پسماندگان میں ان کی بیوہ، دوبچے حافظ زبیر جوکہ المعہد السلفی میں درجہ ثالثہ کے طالب علم ہیں اور زہیر جو کہ اسکول کی ابتدائی کلاس میں ہیں ،اور چھ بیٹیاں ہیں،اللہ تعالیٰ ان کو صبر جمیل کی توفیق دے اور اس عظیم صدمے کو سہنے کی ہمت وطاقت دے۔

گو کہ شیخ رحمہ اللہ کی زندگی مشکلات ومصائب سے بھرپور تھی، صحت کے مسائل سے بھی دوچاررہتےتھے لیکن کبھی بھی حرف شکایت زبان پرنہیں لائے، ہرمشکل کا مردانہ وارمقابلہ کیا۔

اللہ تعالیٰ ان کی نیکیوں کو شرف قبولیت سے نوازے، ان کی بشری لغزشوں سے درگزری فرمائے، ان کی قبر کو منور فرمائے اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطافرمائے۔

ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے

بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پید

About شیخ عبدالصمد مدنی

Check Also

’’حصن المسلم“ کے مؤلف جوار رحمت میں

الحمدللہ والصلاۃ والسلام على رسول وعلى آله وأصحابه أجمعين أما بعد: قارئین کرام! السلام علیکم …

جواب دیجئے