Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2018 » شمارہ فروری و مارچ » فضیلۃ الشیخ مولانا ذوالفقار علی طاہررحمہ اللہ کا سانحہ ارتحال

فضیلۃ الشیخ مولانا ذوالفقار علی طاہررحمہ اللہ کا سانحہ ارتحال

قیامت کب قائم ہوگی؟یہ بات غیب کے علم سے تعلق رکھتی ہے، جس کواللہ سبحانہ وتعالیٰ کے علاوہ مخلوق میںسے کوئی بھی نہیں جانتا،البتہ اللہ تعالیٰ نے قیامت کی کچھ نشانیاں بذریعہ وحی ،اپنے پیارے پیغمبر محمد ﷺ کو بتلائی ہیں، ان میں سے کچھ کاذکر کیاجاتاہے:

سیدنا انس tسے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ:

” إِنَّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ: أَنْ يُرْفَعَ العِلْمُ وَيَثْبُتَ الجَهْلُ، وَيُشْرَبَ الخَمْرُ، وَيَظْهَرَ الزِّنَا "(صحیح بخاری:۸۰)

بیشک یہ نشانیاں قیامت کی ہیں،(قرآن وحدیث کا) علم اٹھ جائے گا،اور جہالت ظاہرہوگی اور (ظاہر ظہور)شراب نوشی کی جائے گی اور زنا پھیل جائے گا۔

بیا ن کردہ حدیث مبارکہ میں دینی علم،جوکہ قرآن وحدیث اورفہم سلف پر مشتمل ہے کہ اٹھ جانے کا ذکرہے، قرآن اور حدیث کا علم اور سلف وصالحین کا فہم کیسے اٹھ جائے گا، اس بات کی تشریح خود رسول اللہ ﷺ نے کی ہے۔

سیدنا عبداللہ بن عمروبن عاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ آپ ﷺ نے فرمایا:

إِنَّ اللَّهَ لاَ يَقْبِضُ العِلْمَ انْتِزَاعًا يَنْتَزِعُهُ مِنَ العِبَادِ، وَلَكِنْ يَقْبِضُ العِلْمَ بِقَبْضِ العُلَمَاءِ، حَتَّى إِذَا لَمْ يُبْقِ عَالِمًا اتَّخَذَ النَّاسُ رُءُوسًا جُهَّالًا، فَسُئِلُوا فَأَفْتَوْا بِغَيْرِ عِلْمٍ، فَضَلُّوا وَأَضَلُّوا.

(صحیح بخاری ۱۰۰،صحیح مسلم:۶۷۹۶)

بیشک اللہ علم کو اس طرح نہیں اٹھائے گا جو اس کو بندوں سے چھین لے، بلکہ وہ (ربانی اور پختہ کار) علماء کو موت دے کرعلم کو اٹھالے گا، حتی کہ(ایسے علماء میں سے) کوئی عالم ایسا نہ بچے گا ،لوگ جہلاء کو اپنا سردار (اور پیشوا) بنائیں گے پھر جب ان سے (دین کی کسی بات کے متعلق) پوچھاجائےگا تو وہ بغیرعلم(اور دلیل) کے جواب دیں گے،اس لئے وہ خود بھی گمراہ ہوں گے اور (دوسرے لوگوں کو بھی) گمراہ کریں گے۔

مذکورہ بالادونوں حدیثوں کو سامنے رکھ کر عالم اسلام کو چھوڑ کر صرف مملکت خدادادپاکستان کے چاروں صوبوں میں نظر دوڑاتے ہیں تو معلوم ہوتا ہےکہ بہت سارے راسخ علماء داغِ مفارقت دے کر اس فانی دنیا کو چھوڑ چکےہیں، ہم علامہ سید محب اللہ شاہ راشدی رحمہ اللہ کی وفات پر غم میںگرفتار تھے کہ محدث العصر مولانا سلطان محمود جلال پوری پیروالےرحمہ اللہ نے اس فانی دنیا کو الوداع کہہ دیا، اہل علم طبقہ ان دونوں عظیم شخصیتوں کی موت پر ابھی رنج والم میں مبتلا تھا کہ اللہ کی مشیت سے شیخ العرب والعجم علامہ سید بدیع الدین شاہ راشدی رحمہ اللہ  نے وفات پائی، جس شخص کی دعوت اور تحریر سے لاکھوں لوگ مستفیض ہوئے اور توحید وسنت کا عظیم راستہ پالیا، ان کے لئے یہ حادثہ معمولی نہ تھا، اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس اور ناامید نہ تھے  ،اس اثناء میں محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ نے جماعت اہل حدیث کی عظمت اور مسلک اہل حدیث کی حقانیت کو چار چاند لگادیئے، اپنی ایامکاری میں اس شخص نے منہج محدثین Sکو جو آبیاری کی اور فن اسماء الرجال کو جو جلابخشی، ہم سمجھ رہے تھے کہ علمی حوالے سے جو خال پیدا ہوا تھا ،وہ اللہ کی رحمت سے پر ہورہا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا حکم آگیا اور آپ بھی ہم سے بچھڑ گئے، اس غم کا بارگراں ابھی ہلکا ہی نہ ہوا تھا کہ مولانا عبدالسلام رستمی رحمہ اللہ بھی اس فانی دنیا کوچھوڑ گئے، اہل علم حضرات اپنے اسلاف کی جدائی میں مغموم ہی تھے کہ حافظ عبدالحمید ازہررحمہ اللہ  بھی اس عارضی دنیا کو الوداع کہہ گئے، ایک عظیم عالم دین کی قبر کی مٹی ابھی تک گیلی ہی تھی کہ جماعت اہل حدیث کا عظیم سرمایہ، مؤرخ اور صاحب قلم وقرطاس مولانا محمد اسحٰق بھٹی رحمہ اللہ کی موت کی اطلاع آئی۔ تھوڑے ہی دن گذرے تھے کہ مولانا محمد رمضان یوسف سلفی اور استاذ العلماء مولانا عبداللہ امجد چھتوی رحمہ اللہ بھی چل بسے،ان مشہور ومعروف علماء کے علاوہ اور بھی علاقہ کے حساب سے اہل علم وفات پاگئے۔ سن ۲۰۱۸ءکا پہلا ہفتہ بھی نہیں گزرا تھا کہ کانوں نے ایک ایسی موت کی خبر سنی کہ جسم سن ہوگیا۔ اپنے محبوب علماء کے بچھڑ جانے پر دل پہلے ہی نہایت مغموم تھا،موت کی اس خبر نے گویا کہ غموں کے پہاڑ گرادیے، موت کی یہ خبر ہمارے ایک مخلص دوست، وفادار ساتھی، جانی پہچانی شخصیت، ایک عظیم دینی ادارے المعہد السلفی للتعلیم والتربیہ کراچی کے مدرس اور جمعیت اہل حدیث سندھ کے ترجمان جریدے ’’دعوت اہل حدیث‘‘ (اردو) کے مدیر مولاناذوالفقار علی طاہر کی تھی، رحمہ اللہ رحمۃ واسعۃ.

۴مارچ ۱۹۷۲ء پر صوبۂ سندھ کے ضلع سانگھڑسابقہ اورحالیہ ضلع میرپورخاص کے ایک پسماندہ اور چندمکان پر مشتمل چھوٹے سے گاؤں حمزہ علی شر،نزدساماروموری میں پیداہونے والے مولانا ابوزبیر ذوالفقار علی طاہررحمہ اللہ زندگی کی تقریباً پینتالیس بہاریں ہی دیکھ پائے، اللہ تعالیٰ کے حکم سے تقدیر کے کاتب نے اس کی یہی عمر لکھی تھی جس علاقے میں دنیوی تعلیم کارجحان اور بندوبست نہ ہو، وہاں دینی تعلیم کا کیاحال ہوگا؟ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور مہربانی سے اس علاقے میں قیام پاکستان سے پہلے تقریبا ۱۹۴۵ء میں شیخ العرب والعجم علامہ سید بدیع الدین شاہ راشدی رحمہ اللہ نے توحید اور سنت کی تعلیم پر مشتمل مسلک اہل حدیث کی دعوت دی تھی، آپ کی دعوت سے متاثر ہوکر مولانا ذوالفقار علی طاہر رحمہ اللہ کے دادا غلام حیدر صاحب نے مسلک حقہ کو قبول کرلیاتھا، اس علاقے میں اس وقت جماعت اہل حدیث کا کوئی خاص دینی ادارہ فعال نہیں تھا، یہی سبب ہے کہ آپ نے ۱۹۸۴-۱۹۸۵ء میں میرپورخاص میں ٹنڈدم روڈ پر قائم حنفی دیوبندی مسلک سے وابستہ ایک ادارے ’’قاسم العلوم‘‘ میں داخلہ لیا،مولانا عبد القادر مری صاحب کے پاس آپ نے فارسی کی کچھ کتب مثلاً: کریما، نامہ حق، پند نامہ وغیرہ پڑھیں، مولانا عطاء اللہ خاصخیلی صاحب کے پاس آپ نے علم الصرف ،علم النحو اور قرآنی صیغے پڑھے، مولانا محمد سعید بلوچ صاحب کے پاس آپ نے گلستان سعدی، بوستان سعدی اور مالابد پڑھیں، چونکہ آپ کے خاندان پر مسلک اہل حدیث کے اثرات تھے، اس لئے آپ نے ۱۹۸۸ءمیں دارالحدیث رحمانیہ، سولجربازار کراچی میں داخلہ لیا، آپ نے وہاں مختلف اساتذہ سے مختلف کتب پڑھیں، فضیلۃ الشیخ علامہ عبداللہ ناصر رحمانی حفظہ اللہ کے پاس آپ نے الفیہ ابن مالک، الفیۃ الحدیث ،شرح نخبۃ الفکر،جامع ترمذی، سنن نسائی اور صحیح بخاری (جلددوم) پڑھیں، مولانا غلام رسول صاحب کے پاس آپ نے دستور المبتدی، اصول الشاشی، شرح جامی، ھدایہ، تفسیر جلالین، بیضاوی اور قدوری پڑھیں،مولانا محمد افضل اثری حفظہ اللہ کےپاس آپ نے مرقاۃ شرح مشکوٰۃ ،علم الصیغہ، شرح مائۃ عامل ،ھدایۃ النحو، سنن ابن ماجہ، صحیح مسلم اور صحیح بخاری (جلد اول) پڑھیں، مولانا مفتی محمد صدیق صاحب کے پاس آپ نے شرح تہذیب اور مولانا امان اللہ ناصر صاحب کے پاس آپ نے حجۃ اللہ البالغہ پڑھی، مولانا سید محمد شاہ صاحب کے پاس بلوغ المرام، مولانا افضل سردار صاحب کے پاس مشکوٰۃ المصابیح(مکمل) ،فضیلۃ الشیخ مولانا داؤد شاکر حفظہ اللہ کے پاس معلم الانشاء اور مقامات حریری اور فضیلۃ الشیخ مولانا عبدالرحمٰن چیمہ حفظہ اللہ کے پاس کافیہ پڑھی، اس طرح درس نظامی کا مروجہ نصاب ۱۹۹۴ء میں مکمل کیا، جامعہ دار الحدیث رحمانیہ سے اول نمبر میں سند فراغت حاصل کی۔

ایک مشہور اور معروف دینی ادارے سے علم کی منزلیں کامیابی سے طے کرنے کے بعد درس وتدریس کے شعبے میں قدم رکھا، مختلف دینی اداروں میں خدمتیں سرانجام دیتے رہے ،آپ کو محدث وقت علامہ عبداللہ ناصر ر حمانی حفظہ اللہ امیر جمعیت اہل حدیث سندھ کی سرپرستی میں چلنے والے دینی ادارے،المعہد السلفی للتعلیم والتربیۃ میںتدریسی خدمات سرانجام دینے کا سنہری موقع ملا، ایک علمی شخصیت کی صحبت اور رفاقت میں رہنے سے آپ کی خداداد صلاحیتوں کو چارچاند لگ گئے، اللہ تعالیٰ نے آپ کو جتنی ذہانت اور قابلیت دی تھی، آئے دن اس میں اضافہ ہوتاچلاگیا ،روز مرہ کے مشاہدے آنکھوں سے دیکھتے اور کانوں سے سنتے رہتے ہیں کہ دینی ادارے کی انتظامیہ یا مسجد کی انتظامیہ اپنے ہاں کام کرنے والے مدرس یا امام اورخطیب وغیرہ کو تھوڑے وقت کے بعد منت سماجت کرکے واپس کردیتی ہے ،ایسے ماحول میں ایک شخص کا ساڑھے انیس سال تک ایک جگہ پر رہنا اور جم کر کام کرنا، اس کے عمدہ اخلاق اور اعلیٰ کردار کی غمازی کرتا ہے، اگر ایسا کہاجائے کہ موصوف خود بھی یہاں خوش تھا، تو متعلقین بھی آپ سے خوش تھے ،تو اس میں غلو نہ ہوگا۔واللہ اعلم

آپ اس دینی ادارے میں صرف تدریسی خدمات تک محدود نہ تھے،بلکہ کراچی شہر میں جماعت اہل حدیث کی تبلیغی سرگرمیوں میں بڑے ذوق اور شوق سے شریک ہوتے تھے ،جامع مسجد ابوعبیدہ بن جراحtڈرگ روڈ کراچی میں تقریباً پندرہ سولہ برس بطور امام اور خطیب رہے، اس کے علاوہ لیاری وغیرہ کے علاقوں میں مستقل دروس کے سلسلے میں مسلسل خدمت سرانجام دیتے رہے۔ اتنی گوناگوں مصروفیات کے باوجود سندھ کے مختلف مقامات پر وہ وعظ وارشاد کے سلسلے میں برابر حاضر ہوتے رہتے تھے، باوجودیکہ آپ کو جسمانی لحاظ سے کچھ تکلیفیں اور مجبوریاں واقع تھیں، لیکن آپ نے کبھی ان کا رونا نہ رویا۔

علامہ عبداللہ ناصر رحمانی حفظہ اللہ کےساتھ رہنے اور کام کرنے کے نتیجے میں آپ کی دینی ذمہ داریاں اتنی ہی بڑھ گئی تھیں ،جمعیت اہل حدیث سندھ کے ترجمان جریدے’’دعوت اہل حدیث ‘‘(اردو) کی نگرانی کرنے کا معاملہ پیش آیا تو اس کے لئے آپ کا نام سرفہرست تھا، علامہ عبداللہ ناصر رحمانی حفظہ اللہ کے حکم پر آپ نے نہایت خندہ پیشانی سے وہ بھاری ذمہ داری قبول کی، اس اضافی محنت اور بھاگ دوڑ کا آپ کو الگ سے کوئی معاوضہ نہیں ملتا تھا،اپنے قیمتی وقت میں سے وقت نکالنا اور نہایت قلیل تنخواہ میں سے خرچ کرنے کا اعزاز آپ ہی کے حصے میں آیا تھا۔ دعوت اہل حدیث (اردو) شمارہ نمبر ۱۱۱سے لے کر شمارہ نمبر:۱۹۹ تک اندازاً ۸۹شمارے آپ کی قیادت وسیادت میں شایع ہوئے، ہر شمارے میں علامہ سید بدیع الدین شاہ راشدی رحمہ اللہ کی تفسیر کا اردوزبان میں قسط وار ترجمہ کرکے ایک بڑی علمی خدمت سرانجام دی، ہر شمارے میں حالات حاضرہ پر ایک جاندار اداریہ رقم کرتے تھے، آپ کا شمار ان اہل علم میں کیا جاسکتا ہے جن کو جماعت اہل حدیث کے منہج ،قواعد وضوابط کا فہم حاصل ہے، یہی سبب تھا کہ آپ کی تحریروں میں مسلک اہل حدیث اور منہج اہل حدیث کے لئے غیرت،ایک ایک سطر میں محسوس کی جاسکتی تھی ،جماعت اہل حدیث پر کسی شخص نے کوئی اعتراض کیا یا مسلک اہل حدیث پر کسی نے کوئی الزام تراشی کی ،جلدازجلد ان اعتراضات اور الزامات کی اصلیت کو عیاں کرتے تھے ، اپنی ذات پر کئے گئے اعتراضات اور الزامات تو برداشت کرلیتے تھے ،لیکن جماعت اور مسلک کی عیب چینی ہرگزبرداشت نہیں کرسکتے تھے، ابلاغ عامہ کے جدید ذرائع، اخبارات،مجلات اور دیگرچیزوں پر گہری نظر رکھتے تھے ، اگر کسی بھی جگہ پراسلام،توحید اور سنت وغیرہ کی مخالفت دیکھتے تو آپ کا قلم حرکت میں آجاتا تھا،آپ کے پاس اظہار کا ایک مؤثر ذریعہ تھا، جس کا آپ نے خوب استعمال کیا، اس حوالے سے کبھی بھی مصلحت پسندی کو اختیارنہیں کیا۔

آپ کی دلچسپی اور کوشش کے نتیجے میں’’دعوت اہل حدیث‘‘ میں ’’فہم حدیث‘‘ کے عنوان سے علامہ عبداللہ ناصر رحمانی حفظہ اللہ کی ’’اربعین نووی‘‘ پر لکھی ہوئی ایک نفیس اور عمدہ شرح قسط وار شایع ہوئی، شیخ حفظہ اللہ  سے ہر مہینےشرح کی قسط لینا کوئی معمولی کام نہیں بلکہ جوئے شیر لانے کے مترادف تھا، اس کا سبب شیخ صاحب حفظہ اللہ  کی ان گنت علمی،دعوتی اور درسی مشاغل تھے، اتنی مصروفیات کے باوجود ان سے مضمون وصول کرنا آپ ہی کاخاصہ تھا، آپ نے’’اخبار الجمعیۃ‘‘ کے عنوان سے رسالے میں ایک مستقل، سلسلہ شروع کیا تھا، اس سلسلے کا ایک مستقل نگران مقرر کیا، اس کے ذمہ یہ کام لگایا کہ اہل علم حضرات کی دعوتی سرگرمیوں اور جماعتی احباب کی فوتگی کے متعلق مختصر اطلاعات دی جائیں۔

پاکستان اور سندھ کے اہل قلم سے ہروقت رابطے میں رہتے تھے، ماہنامہ دعوت اہل حدیث کے لئے اہل علم سے مضمون وصول کرنے میں مہارتِ تامہ رکھتے تھے، آپ کی ایامکاری میں آپ کو کبھی بھی مضمون نہ ملنے کی شکایت نہ ہوئی، سال بھر کے مخصوص مواقع کی مناسبت سے آپ نہایت جاندار،علمی اور اصلاحی مضامین شایع کرانے میں اپنی مثل آپ تھے ، قارئین کے ذوق مطالعہ کو سامنے رکھ کر وقتافوقتا انہیں اپنی پسند کے حساب سے مواد پہنچانا،صبح،دوپہر،شام،دن،رات،گرمی اور سردی کی پرواہ کئے بغیر اپنی منزل کی طرف رواںد واں رہتے۔

ابودرداء tسے روایت ہے کہ نبیuنے فرمایا کہ:

مَا شَيْءٌ أَثْقَلُ فِي مِيزَانِ المُؤْمِنِ يَوْمَ القِيَامَةِ مِنْ خُلُقٍ حَسَنٍ، وَإِنَّ اللَّهَ لَيُبْغِضُ الفَاحِشَ البَذِيءَ.

(سنن ترمذی :۲۰۰۲،وسندہ صحیح)

قیامت کے دن مومن کی ترازومیں اچھے اخلاق سے بھاری دوسری کوئی چیز نہ ہوگی، اور بیشک اللہ بدزبان اور بے ہودہ باتیں کرنے والے کو ناپسند کرتاہے۔

مذکورہ حدیث مبارکہ کی تعلیم کو سامنے رکھتے ہیں تو مولاناذوالفقار علی طاہررحمہ اللہ کی ذات آنکھوں کے سامنے آجاتی ہے، جب سے آپ سے سابقہ پڑاتب سے لے کر اس جہان سے رخصت ہونےتک، آپ کو اخلاق،سنجیدگی اور بردباری کا مجسمہ پایا، کبھی کوئی گراہوالفظ، جملہ اور محاورہ آپ سے نہیں سنا، کبھی کبھار حجت کرتے ہوئے آپ سے اخلاقیات کے دائرے کے اندرہنسی مذاق پر مشتمل کوئی بات کرتے تھے تو آپ خوب ہنستے اور خوش ہوتے تھے، لیکن واپسی پر آپ نے ایسے قسم کی کوئی بات نہ کی ۔

عیاض بن حمارtسے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

وَإِنَّ اللهَ أَوْحَى إِلَيَّ أَنْ تَوَاضَعُوا حَتَّى لَا يَفْخَرَ أَحَدٌ عَلَى أَحَدٍ، وَلَا يَبْغِي أَحَدٌ عَلَى أَحَدٍ.

(صحیح مسلم:۲۸۶۵)

بیشک اللہ نے میری طرف وحی کی کہ آپ تواضع اختیار کریں، تاکہ کوئی کسی پر فخر نہ کر ے اور نہ کوئی کسی پر ظلم کرے۔

ذکر کردہ حدیث مبارکہ میں ایک مومن مسلمان کا وقار اور شان تواضع،سادگی اور سنجیدگی میں بتایاگیاہے، تکبر حسن کا ہو یا مال کا، علم کا ہو یا عمل کا اور خاندان کا ہویا منصب کا،کسی بھی طرح ٹھیک نہیں ہے، ان خوبیوں اور خاصیتوں کو اہل علم بھی اکثر بھول چکےہیں، خود پسندی اور بڑائی والے اس سماج میں مولانا ذوالفقار علی طاہرaنے اپنا دامن صاف اور شفاف رکھا، طبیعت میں تواضع، سادگی اور نیاز مندی، گویا کہ آپ کو مورثی طور پر ملی تھی، کافی سارے اعزازات کےمالک تھے، لیکن کبھی بھی کسی اعزاز پر فخر اور کبر کا اظہار نہیں کیا، آپ کے لباس،گفتگو،رہن سہن اور چال چلن میں عاجزی کی بھینی بھینی خوشبو محسوس ہوتی تھی۔

سیدنا عبداللہ بن عمرwفرماتے ہیں کہ،رسول اللہ ﷺ نے (ایک مرتبہ) میراشانہ پکڑ کرفرمایا:

كُنْ فِي الدُّنْيَا كَأَنَّكَ غَرِيبٌ أَوْ عَابِرُ سَبِيلٍ.

(صحیح بخاری:۶۴۱۶)

دنیا میں اس طرح رہ گویا کہ مسافریاراستہ چلنے والاہو۔

ابوھریرہtفرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے فرماتے ہوئے سنا،آپ نے فرمایا:

 أَلاَ إِنَّ الدُّنْيَا مَلْعُونَةٌ مَلْعُونٌ مَا فِيهَا إِلاَّ ذِكْرُ اللهِ وَمَا وَالاَهُ وَعَالِمٌ أَوْ مُتَعَلِّمٌ.(سنن الترمذی:۲۳۲۲)

خبردار رہیں! یہ دنیاملعون ہے اس میں جو جوکچھ ہے وہ ملعون ہے، ماسوائے اللہ کے ذکر اور اس سے تعلق رکھنے والی اشیاء کے اور عالم اور متعلم کے۔

بیان کردہ دونوںحدیثوں میں دنیا میں رہنے کا جو انداز بیان کیا گیا ہے، اس کوسامنے رکھ کر مولاناذوالفقار علی طاہررحمہ اللہ کی زندگی کو دیکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ جیسے جگ میں آئے تھے ویسے ہی لوٹ گئے، آدھی زندگی کراچی جیسے شہر میں گزارنے کے باوجود، آپ کے پاس دنیا کے اسباب اکٹھے نہ ہوسکے، ایسی زندگی گزارنے کا درس دینے والوں کا ظاہر اور باطن دیکھتے ہیں تو ان کے قول اور فعل میں رات اور دن کافرق نظر آتا ہے ، ہزاروں دنیادارلوگوں سےا چھے تعلقات اور میل جول ہونے کے باوجود نہ کراچی میں کوئی درمیانہ گھر لے سکے اور نہ پلاٹ لے کر اس پر کچھ تعمیر کرسکے، ڈرگ روڈ پر قائم جامع مسجد ابوعبیدہ بن جراحtکی اوپر والی منزل پر آپ کی مختصر رہائش تھی، آپ اپنے گھر والوں کے ساتھ ایک مسافر کی حیثیت میں ہی رہتے تھے، اتنا ضرور تھا کہ مسجد، باجماعت نماز اور دعوۃ وتبلیغ کے ساتھ گہراتعلق قائم رہا، فضیلۃ الشیخ مولانا داؤد شاکر حفظہ اللہ نائب مدیر المعہد السلفی ،آپ کا دیرینہ ساتھی اور رفیق خاص رہا ہے، ۵جنوری۲۰۱۸ء برو ز جمعہ کے خطبہ میں آپ نے کہا تھا: جب آپ کے گھر کا سامان اکٹھاکیاگیا تو وہ وین کی چھوٹی سی چھت پر آسانی سے رکھاگیا، قارئین کرام سے گذارش ہے کہ وہ وین کی چھت کو ایک بارغورسے دیکھیں ،پھر سوچیں کہ کراچی میں تقریباً چوبیس سال رہنے کے باوجود کتنا سامان اکٹھاکیاتھا؟

بقا اور ہمیشگی صرف اللہ تعالیٰ کی ذات بابرکت کے لئے مختص ہے، جو بھی اس جہاںمیںآیا ہے وہ بادل نخواستہ اس دنیا کو اللہ کے حکم کےتحت ضرور چھوڑے گا، انسان ذات میں سے اگر کوئی زندہ رہنے کے لائق ہوتا تومحمدﷺ ہوتے، لیکن آپ نے بھی موت کاکڑوا ذائقہ چکھا، اللہ تعالیٰ کا یہ حکم ہر زندہ ماننے کا پابند ہے، جس بیش بہا شخصیت کی انسانی خوبیاں اور دینی اوصاف پڑھ کر آئے ہیں ،اس کی موت کا وقت بھی آپہنچا،۱۵ربیع الثانی ۱۴۳۹ھ کے مطابق ۳جنوری۲۰۱۸ء بروز بدھ آپ المعہد السلفی آئے، ادارے میں اپنی ذمہ داریوں کو احسن طریقے سے پوراکیا، عصر کی نماز باجماعت پڑھ کر، آپ اپنے ایک شاگرد کےساتھ موٹرسائیکل پر گھر کے لئے روانہ ہوئے، راشد منہاس روڈ پر سی اوڈی(COD)کے قریب ایک تیزرفتار بس نے پیچھے سے موٹر سائیکل کو زوردار ٹکرماری، ٹکر لگتے ہی آپ روڈ پر گر گئے۔ ایسی چوٹ لگی کہ آپ جائے وقوعہ پر ہی دم توڑ گئے، اناللہ واناالیہ راجعون. اللھم اجرنی فی مصیبتی واخلف لی خیرا منھا .

آپ کے جسد خاکی کو قریبی ہسپتال لے جایاگیا،لیکن ڈاکٹروں نے بتایا کہ آپ کی موت واقع ہوچکی ہے ، زخموں پرپٹی رکھی جاسکتی ہے، مرہم لگایاجاسکتا ہے ،درد کی دوائی لی جاسکتی ہے،گولی تو دی جاسکتی ہے،لیکن موت کو ٹالنے ،روکنے ،بھگانے اور لوٹانے کا کوئی مجرب نسخہ، نہ آسمانی کتابوں میں ملتا ہے،نہ طب اور حکمت کی پرانی کتابوں میں ملتا ہے، اور نہ ہی جدید میڈیکل سائنس کی کتب میں درج ہے۔ اس موڑ پر پہنچنے کے بعد حکیم طبیب اور معالج وغیرہ بے بس ہو جاتے ہیں، یہاں بھی یہی معاملہ درپیش تھا۔

ابوقتادہ بن ربعی الانصاری tسے روایت ہے کہ:

……مُسْتَرِيحٌ وَمُسْتَرَاحٌ مِنْهُ» قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا المُسْتَرِيحُ وَالمُسْتَرَاحُ مِنْهُ؟ قَالَ: «العَبْدُ المُؤْمِنُ يَسْتَرِيحُ مِنْ نَصَبِ الدُّنْيَا وَأَذَاهَا إِلَى رَحْمَةِ اللَّهِ، وَالعَبْدُ الفَاجِرُ يَسْتَرِيحُ مِنْهُ العِبَادُ وَالبِلاَدُ، وَالشَّجَرُ وَالدَّوَابُّ»(صحیح بخاری:۶۵۱۲،صحیح مسلم:۲۲۰۲)

رسول اللہ ﷺ کے قریب سے ایک جنازہ گزرا، آپ نےفرمایا کہ یہ ’’مستریح‘‘ (یعنی راحت لینے والا)ہے یا ’’مستراح‘‘(یعنی اس سے دوسرے راحت لینے والے) ہیں،عرض کیا گیا کہ اے اللہ کے رسول!(ﷺ)’المستریح ‘اور’ المستراح‘کا کیا مطلب ہے؟آپ نے فرمایا کہ:مومن بندہ دنیا کی مشقتوں اور تکلیفوں سے اللہ عزوجل کی رحمت سے نجات پاتا ہے، وہ ’مستریح‘ ہے اور’مستراح منہ‘ وہ ہے کہ فاجر بندے (کی موت) سے اللہ کے بندے ،شہر، درخت اور چوپائے سب آرام پاتے ہیں۔

ہمارا ایمان ہے کہ مولانا ذوالفقار علی طاہرaکو اللہ تعالیٰ نے فتنوں کی اس دنیا سے اس حال میں اٹھالیا ہے کہ آپ کے عقیدہ میں ذرہ برابر لچک نہ تھی، جو بھی عمل صالح کیا کرتے تھے وہ قرآن وحدیث کی تعلیم کے عین موافق کرتے تھے ، سارا دن قرآن اور حدیث کی تعلیم اور تدریس میں گزارتے تھے ،نمازبا جماعت کے پابند تھے، شرک ، بدعت اور ظاہر میں گناہوں سے متنفر تھے، دنیا اور اس کے اسباب کی لالچ سے اجتناب کرنے والے اور بے جا ہوس اور حرص سے بے نیاز تھے، تواضع اور عاجزی کے صاحب تھے اور سادگی اور پرہیزگاری کے پیکر تھے، اس حالت میں آپ کے اوپر موت آئی ہے، کہ آپ کے سرپرست، ساتھی، رفقاء، دوست اور متعلقین آپ سے بے حد راضی اور خوش تھے۔ واللہ اعلم

مولانا ذوالفقار علی طاہررحمہ اللہ کی اچانک موت کی خبر جب المعہد السلفی للتعلیم والتربیۃ پہنچی ،توادارے کے رئیس علامہ عبداللہ ناصر رحمانی حفظہ اللہ ادارے کے اساتذہ، طلباء، خادمین اور پوری جماعت پرسکتہ طاری ہوگیا، کوئی منہ ایسا نہ تھا جو مرجھانہ گیاہواو کوئی آنکھ ایسی نہ تھی، جو آنسو نہ بہاسکی ہو، اس موقعہ پر ہمارا مخلص دوست محترم جمیل احمد جمالی حفظہ اللہ وہاں موجود تھا ،اس نے آنکھوں دیکھا احوال جس لب ولہجہ میں بتلایا، ا س سے حاضرین کے درد، رنج والم کا اندازہ کیا جاسکتا تھا، سندھ ،پاکستان اور عالم اسلام کو توحید اور سنت کا درس دینے والے اور محدث وقت،علامہ عبداللہ ناصر رحمانی حفظہ اللہ جیسی شخصیت کی پریشانی اور تکلیف کا اندازہ کرنا موجود لوگوں کےبس کی بات نہ تھی، آپ کی آنکھوں سےمسلسل نکلنے والے آنسو یہ ظاہر کررہےتھے کہ اس سینے میں تکلیف کا کیا عالم ہے؟ ساراماحول سوگوار ہوچکا تھا ،اللہ تعالیٰ کی تقدیر کو مٹانا اور اس کے برعکس کرناکسی کے بس کی بات نہیں،یہ خبر جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی، جماعت اہل حدیث سے منسلک دینی مدارس،مساجد اور جماعت سے وابستہ لوگ المعہد السلفی پہنچنا شروع ہوگئے، ہر آنے والا شخص شیخ حفظہ اللہ سے تعزیت اور دکھ کااظہار کررہاتھا، جس شخص نے تقریباً ساڑھے انیس برس جس جگہ پر ایک مدرس اور منتظم ہوکرزندگی گذاری تھی، آج اسی جگہ پر آپ کی نعش پڑی تھی، اور چاروں طرف سوگ کا عالم تھا۔

ام المؤمنین عائشہrسے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایاکہ

مَا مِنْ مَيِّتٍ تُصَلِّي عَلَيْهِ أُمَّةٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ يَبْلُغُونَ مِائَةً، كُلُّهُمْ يَشْفَعُونَ لَهُ، إِلَّا شُفِّعُوا فِيهِ.

جس میت پر ایک سو مسلمان نماز جنازہ پڑھیں وہ سب کے سب اس کے حق میں سفارش کریں گے تو اس کے حق میں سفارش قبول کی جائے گی۔(صحیح مسلم:۲۱۹۸)

عبداللہ بن عباسwفرماتے ہیں میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سناکہ :

مَا مِنْ رَجُلٍ مُسْلِمٍ يَمُوتُ، فَيَقُومُ عَلَى جَنَازَتِهِ أَرْبَعُونَ رَجُلًا، لَا يُشْرِكُونَ بِاللهِ شَيْئًا، إِلَّا شَفَّعَهُمُ اللهُ فِيهِ.(صحیح مسلم:۲۱۹۹)

جو کوئی مسلمان فوت ہوجائے ،پھر اس پر چالیس (ایسے) لوگ نماز جنازہ پڑھیں، جو کہ(موحد ہوں اور) اللہ کے ساتھ کسی چیز کوشریک نہ کرتے ہوں، تو اس شخص کےبارے میں اللہ ان کی سفارش کو قبول کرتا ہے۔

مذکورہ دونوں حدیثوں کو سامنے رکھ کر کہاجاسکتا ہے کہ اس نماز جنازہ میں ایک سو سے کہیں زیادہ مسلمان موجود تھے، اور ان میں چالیس سے بہت زیادہ موحدبندے موجود تھے، واللہ اعلم، مولاناذوالفقار علی طاہر رحمہ اللہ کی وصیت کے مطابق علامہ عبداللہ ناصر رحمانی حفظہ اللہ نے(دو مرتبہ)نہایت رقت آمیز انداز میں نماز جنازہ پڑھائی، اللہ تعالیٰ کی ذات سے پوری امید ہے کہ وہ مانگی گئی ان دعاؤں کو شرف قبولیت عطا کرکے مولانا ذوالفقار علی طاہر رحمہ اللہ کی مغفرت اور بخشش کرے گا۔ان شاء اللہ

نمازجنازہ کے بعد میت کوایمبولینس میں رکھاگیا، مولانا ذوالفقار علی طاہررحمہ اللہ کے گھر والے  ایک الگ گاڑی میں میت کے ساتھ تھے، فضیلۃ الشیخ مولانا داؤد شاکر اور فضیلۃ الشیخ مولانا حافظ محمد سلیم، حفظھما اللہ خاص طور پر میت کے ساتھ روانہ ہوئے جب میت کی گاڑی علامہ عبداللہ ناصر رحمانی حفظہ اللہ کے پاس سے گذری تو آپ کی زبان پر الامان والحفیظ! الامان والحفیظ کے الفاظ زوردار انداز میں جاری ہوگئے۔ اس طرح سوگ بھرایہ قافلہ کراچی سے روانہ ہوا، پورے پاکستان میں بالعموم اور سندھ میں بالخصوص وفات کی خبر پہنچ چکی تھی، صبح ہوتے ہی جماعتی احباب اور متعلقین وہاں پہنچنا شروع ہوگئے، صبح کو ۰۰:۱۰ بجے تیسری نماز جنازہ فضیلۃ الشیخ حافظ محمد سلیم حفظہ اللہ نے پڑھائی، لوگوں کی ایک کثیر تعداد نے نماز جنازہ میں شرکت کی، اس طرح شیخ ذوالفقارعلی طاہررحمہ اللہ کو سنت کے مطابق اپنے آبائی قبرستان میں سپردخاک کردیاگیا، علم، عمل، اخلاص، محنت اور وفا جیسی خوبیوں کےمالک اس شخص کا سفرِ آخرت دعاؤں پر اپنے اختتام کوپہنچا، اللہ تعالیٰ سے خلوصِ دل سے دعاگوہیں کہ وہ ہمارے شیخ رحمہ اللہ کی قبر کو بہشت کے باغیچوں میں سے ایک باغیچہ بنائے اور اس کو تاحدنگاہ کشادہ کرے اور اپنی خاص رحمت سے ان کی بشری لغزشوں کو معاف فرمائے۔ آمین

سوگوار خاندان میں ایک بیوی،دوبیٹےہےایک زبیر اور دوسرے زہیر چھ بیٹیاں،چاربھائی:لیاقت علی، برکت علی، محمد علی اور محمدjعزیز واقارب کی ایک بڑی تعداد،جماعتی محبین اور طلباء کی ایک کثیر تعداد شامل ہے، اللہ تعالیٰ سے خلوص دل سے دعاگوہیں کہ وہ جملہ لواحقین اور متعلقین کو صبرجمیل کی توفیق عطافرمائے۔آمین

About پروفیسر محمد جمن کنبھر

Check Also

عورت کا مسجد اور عیدگاہ آنا

اس کرۂ ارضی پر’’مسجد‘‘ اللہ تعالیٰ کے نزدیک محبوب ترین مقام ہے، سیدنا ابوھریرہ tسے …

جواب دیجئے