Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2020 » شمارہ جنوری » ترویج الحاد میں سوشل میڈیاکاکردار؛طریقۂ واردات اورحقائق

ترویج الحاد میں سوشل میڈیاکاکردار؛طریقۂ واردات اورحقائق

الحمدللہ والصلاة والسلام علی رسول الله وعلی آلہ واصحابہ اجمعین اما بعد:

قارئین کرام! السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ

عصر حاضر میں سوشل میڈیا نے دنیا بھر میں پھیلے بھانت بھانت کی بولیاں بولنے والوں، مختلف مذاہب، ادیان اور نظریات و افکار میں بٹے لوگوں کو ایک ہی پلیٹ فارم مہیا کردیا ہے، جہاں ایسے موضوعات پر مکالمات اور اظہارِ خیال کی آزادی ہے جن پر عام طور پر گفتگو سے انسان کتراتا ہے اس کا باعث یا تو طبعی حیا ہوتی ہے یا معاشرے کا ڈر اور خوف۔

یہی وجہ ہے کہ ملحدین، لبرلزم کے پیروکار، اباحیت کے علمبردار، وطن دشمنی میں اندھے بھی اپنی تمام نحوستوں اور نجاستوں کے ساتھ اس سوشل ميڈیا کی بہتی گنگا میںاپنے ہاتھ دھونے میں مصروف ہیں!

متذکرہ بالا ہولناک فتنوں میں سے جس تباہ کن فتنے کی طرف میں قارئین کرام کی توجہ مبذول کرانا چاہتا ہوں وہ فتنہ الحاد ہے جو سوشل میڈیا کے ذریعے نوجوانوں میں ایک گھناؤنی سازش اورمنظم طریقے سے پھیلایا جا رہے!

الحاد کا عربی زبان میں لغوی معنی انحراف یا راستے سے ہٹ جانا ہے۔الحاد کو انگریزی زبان میں atheism کہا جاتا ہے جس کا اردو زبان میں مطلب لامذہبیت یا لادینیت لیا جاتا ہے۔

فیروز الغات کے مطابق الحاد کا اردو میں لغوی معنی ہے” سیدھے راستے سے بھٹک جانا‘‘۔الحاد کو انحراف کے معنوں میں استعمال کرنے کی وجہ یہ ہے کہ یہ لفظ عربی زبان کے لفظ لحد سے نکلا ہے جسے قبر کی اس دراڑ کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جو درمیان سے الگ ہو جاتی ہے یا انحراف کر جاتی ہے۔اسلامی اصطلاح میں ملحدفی الدین کا لفظ ایسے ہی افرادکے لیے بولاجاتا ہے جو خدا کے وجود کی کلی طور پرنفی کرتے ہوں-

الحاد کے پیروکاروں کو ملحد،دہریے،مادیت پرست یا atheists بھی کہا جاتا ہے۔

الحاد کے شجر خبیثہ کی تخم ریزی کیسے ہوئی؟ مغرب ممالک میں اس نے اپنے برگ و بار کیسے پیدا کیے؟ اس سوال کا جواب جب تلاش کریں گے تو معلوم ہوگا کہ:

اسلام کی پوری تاریخ کے اندر، اسلام کو ان دشواریوں کا سامنا نہیں کرنا پڑا جو یورپ کو انکے غلط عقیدے کی وجہ سے کرنا پڑیں۔ بہت اہم مشکلات میں سے ایک محرف مذہب عیسائیت اور سائنس کے درمیان خوفناک اختلافات تھے۔ مذہب اس بےرحمی کیساتھ سائنس سے جا ٹکرایا کہ کلیسا نے بہت سے سائنسدانوں کو زندہ جلا دیا اس بنا پر کہ وہ انکی کتاب کے خلاف چل رہے تھے۔

اہلِ کلیسا کے ان لرزہ خیز مظالم اور چیرہ دستیوں نے پورے یورپ میں ایک ہلچل مچا دی۔ ان لوگوں کو چھوڑ کر جن کے مفادات کلیسا سے وابستہ تھے، سب کے سب کلیسا سے نفرت کرنے لگے اور نفرت و عداوت کے اس جوش میں بدقسمتی سے انھوں نے مذہب کے پورے نظام کو تہ و بالا کردینے کا تہیہ کرلیا… چنانچہ غصے میں آکر وہ ہدایتِ الٰہی کے باغی ہوگئے!

گویا اہلِ کلیسا کی حماقت کی وجہ سے پندرھویں اور سولھویں صدیوں میں ایک ایسی جذباتی کش مکش شروع ہوئی، جس میں چڑ اور ضد سے بہک کر ’تبدیلی‘ کے جذبات خالص الحاد کے راستے پر پڑگئے۔ اور ایک طویل ٹاکرے کے بعد مغرب میں تہذیب الحاد (Secular) کا دور دورہ ہوا۔

 یہ حقیقت ہے کہ انسان فطرتاً تدین اور مذہب کی جانب مائل ہے یہی وجہ ہے کہ موجودہ دنیا کی ٩٠ فیصد سے زیادہ آبادی ایسے لوگوں پر مشتمل ہے جو کسی نہ کسی مذہب کو مانتے ہیں۔ کوئی نہ کوئی نظریہ یا عقیدہ ہمیشہ سے انسان کی ضرورت رہا ہے۔ انسان کے اندر موجود تجسس کا مادہ اسے ہر معاملے میں کوئی نہ کوئی نظریہ یا عقیدہ رکھنے کی ترغیب دلاتا ہے خواہ وہ حق ہو یا باطل!

عیسائیت کی شکست و ریخت اور جدید تنویری الحاد کے غلبے کی تاریخ بتاتی ہے کہ لوگ یکایک مذہب ترک کرکے الحاد قبول نہیں کرلیتے بلکہ یہ ایک طویل المیعاد عمل کا نتیجہ ہوتا ہے جسکا آغاز تجدد پسندی سے ہوتا ہے۔

الحاد کے ناپاک قدم کیسے آگے بڑھتے  ہیں ؟ اس کے لیے ملحدیں عموماً درج ذیل طریقے اپناتے ہیں:

 (1) (ایک مخصوص تناظر میں) مذہب کی تاریخی تشریح و تعبیر کو رد کر کے مذہب کی انفرادی تعبیرات اختیار کرنے کا پلیٹ فارم مہیا کرنا۔

 یہ مذہب کو اجتماعی زندگی سے بے دخل کرکے ذاتی زندگی تک محدود کرنے کا مذہبی جواز ہوتا ہے۔

(2) ان مسلمان نوجوانوں کو شکار کرنا جو اپنے مذہب کو یا تو بالکل نہیں جانتے یا وہ دین کی سطحی معلومات رکھتے ہیں  اور وہ جدیت اور مادیت سے مرعوب ہیں۔

 (3)صرف اعتراضات کرنا اور شہبات وارد کرنا اس کے لیےسوشل میڈیا کا خوب استعمال کرنا اور جب وہ کہیں لاجواب ہونے لگتے ہیں تو اس وقت یہ تاثر دینا کہ ہم تحقیق کررہے ہیں!

(4) علمائے کرام سے لوگوں کو متنفر کرنا،  ان منفی امور کو اچھالنا جن میں کوئی داڑھی والا ملوث ہو یا کسی مدرسے کے متعلق کوئی خبر ہو، بغیر تحقیق اور تفتیش کے منفی پروپیگنڈا کرنا اور یہ رائے قائم کرنا کہ سارے مولوی اور مدارس ہی ایسے ہوتےہیں!

(5)ایسے پیجز اور گروپس کا رخ کرنا جن کے فالورز لاکھوں میں ہوتے ہیں، یاایسے عنوانات سے پیجز بنانا جن کو زیادہ لوگ لائک کریں۔جیسے: حقیقی اسلام، روشنی ، فکر ونظر ، پاک وطن، دعوت اسلام  وغیرہ ابتدائی طور پر اچھی چیزیں شیئر کرتے ہیں جب فالورز کی تعداد زیادہ ہوجاتی ہے تو ملک، فوج، مذہب اور دین دار طبقے پر تنقید اور عامۃ الناس کا ذہن خراب کرتے اور ان کے ذہنوں میں تشکیک اور تخریب کے کانٹے پیوست کرتے ہیں۔

درج بالاتفصیل عصر حاضر کے’’ تعلیم یافتہ‘‘ معاشرے میں فتنۂ الحاد کے خطرے کی غماز ہےحالانکہ الحاد کسی دور میں بھی ایک نظریے کی صورت میں سامنے نہیں آیا کیونکہ یہ فطرت سے متصادم ہے ، کوئی عقلمند کبھی اس گھٹیا فکر کو قبول نہیں کرسکتا، اللہ تعالیٰ پر ایمان یہ  بدیہی امور میں سے ہے جس کا انکار کسی فرد نے اگر کیا بھی ہے تو مکابرۃ کیا ہے۔ فرمان باری تعالیٰ ہے:

وَجَحَدُوۡا بِهَا وَاسۡتَيۡقَنَـتۡهَاۤ اَنۡفُسُهُمۡ ظُلۡمًا وَّعُلُوًّا‌ ؕ فَانْظُرۡ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الۡمُفۡسِدِيۡنَ  (النمل 14)

ترجمہ: انہوں نے انکار کردیا حالانکہ ان کے دل یقین کرچکے تھے صرف ظلم اور تکبر کی بنا پر  پس دیکھ لیجئے کہ ان فتنہ پرواز لوگوں کا انجام کیسا کچھ ہوا۔

يقول الحافظ العلامة ابن القيم: "سمعت شيخ الإسلام تقي الدين ابن تيمية – قدس الله روحه – يقول: كيف يطلب الدليل على من هو دليل على كل شيء؟ وكان كثيراً ما يتمثل بهذا البيت:

وليس يصح في الأذهان شيء

إذا احتاج النهار إلى دليل

ومعلوم أن وجود الرب تعالى أظهر للعقول والفطر من وجود النهار، ومن لم ير ذلك في عقله وفطرته فليتهمهما”

(مدارج السالکین:160)

امام ابن قیم رحمہ اللہ کہتے ہیں میں نے شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ سے سنا کہ اس ذات سے وجود کی دلیل کیسے طلب کی جاسکتی ہے جو خود ہر چیز پر دلیل ہے!

شیخ الاسلام اکثر اس شعر کو ذکر کیا کرتے:

اس وقت ذہنوں میں کچھ بھی درست نہیں، جب دن سے بھی اس کے وجود پر دلیل مانگی جائے!

بلاشبہ یہ معلوم ہے کہ رب تعالیٰ کا وجود عقل اورفطرت کےلئے دن کے وجود سے بھی زیادہ ظاہر ہے،جس کو یہ سب سےبڑی حقیقت نظر نہیں آتی وہ اپنی عقل اورفطرت پر ماتم کرے!

غرض یہ کہ ہر انسان کے اندر ایک چبھن اور ایسی لگن ہے جو اسے اپنے خالق کی تلاش پر مجبور کرتی ہے اور اسے پانے کےلئے مذاہب میں راستے الگ الگ ضرور ہوتے ہیں لیکن اس کا انکار نہیں کیاجاسکتا۔

بقول الطاف حسين حالى :

مسلم نے حرم میں راگ گایا تیرا

ہندو نے صنم میں جلوہ چاہا تیرا

دہری نے کیا دہر سے تعبیر تجھے

انکار کسی سے بن نہ آیا تیرا

پروفیسر مولابخش محمدی  حفظہ اللہ کوصدمہ!

31دسمبر2019ء رات تین بجے معروف ادیب ،دانشور،مجلہ دعوت اہل حدیث کی مجلس مشاورت کے رکن پروفیسر مولابخش محمدی حفظہ اللہ کے والد محترم لعل محمد صاحب اپنی حیات مستعار کے ننانوے برس مکمل کرکے خالق حقیقی سے جاملے!اناللہ واناالیہ راجعون.

مرحوم تقویٰ،للٰہیت اوراخلاق کےپیکر تھے،صوم وصلاۃ کے پابند تھے،امیرمحترم علامہ عبداللہ ناصر رحمانی حفظہ اللہ اور ادارہ دعوت اہل حدیث کے تمام اراکین پروفیسرمولابخش محمدی حفظہ اللہ کے غم میں برابرکے شریک ہیں اور دعاگوہیں کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کوغریق رحمت کرے،ان کی بشری لغزشوں کو معاف کرے ، جنت الفردوس میں جگہ عطافرمائےاور جملہ پسماندگان کوصبر جمیل کی توفیق دے۔آمین یا رب العالمین

About شیخ عبدالصمد مدنی

Check Also

کالاکوٹ بمقابلہ سفید کوٹ؛نصاب کس کا تبدیل ہو؟

الحمدللہ والصلاة والسلام علی رسول الله وعلی آلہ واصحابہ اجمعین اما بعد: قارئین کرام! السلام …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے