Home » تعارف و خدمات

تعارف و خدمات

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

جمعیت اہل حدیث سندھ

(تعارف و خدمات)

جمعیت اہل حدیث سندھ ،صوبہ سندھ کی سطح پرمسلک اہل حدیث کی ایک نمائندہ تنظیم ہے ،جو اپنے آغاز (قبل از قیام پاکستان) سے لیکر آج تک مسلک اہل حدیث کی نمائندگی کرتے ہوئے عوام الناس کی دینی تربیت اور ان کی حتی الامکان دنیوی خدمت میں مصروف عمل ہے۔

جمعیت اہل حدیث سندھ کے بانی شیخ العرب والعجم سید ابو محمد بدیع الدین شاہ الراشدی رحمہ اللہ ہیں جوکہ اپنے دور کے راسخین فی العلم علماء میں سے تھے بلکہ ان کے سرخیل تھے۔

صوبہ سندھ میں موجود فتنوں ،فرقوں ،ضلالتوں،تقلیدجامد اور ان کی نشاطات کو دیکھتے ہوئے شاہ صاحب (رحمہ اللہ) نے اس صوبہ کو اپنی دعوتی واصلاحی سرگرمیوں کا مرکز ومحور بنالیاتھا۔

شاہ صاحب رحمہ اللہ کی تقریر وتحریر کامرکزی نکتہ کتاب وسنت کی طرف دعوت ،توحید وسنت کا بیان اورشرک وبدعت کارد ہوتا تھا ۔

وقت کے ساتھ ساتھ دعوت وتبلیغ کایہ سلسلہ پھیلتا،منّظم ہوتاچلاگیا اور ــ” جمعیت اہل حدیث سندھ”کی صورت میں ایک پلیٹ فارم معرض وجود میں آگیا،جواستقلالِ پاکستان سے قبل قائم ہوچکاتھا۔

 اللہ تعالی نے جمعیت اہل حدیث سندھ کی خدمات کو بابرکت بنایا ہے کہ آج صوبہ سندھ کے تمام گاؤں،گوٹھوں اور شہروں میں افراد اہل حدیث، مساجد اہل حدیث اور اکثر گوٹھوں اور شہروں میں مدارس اہل حدیث موجود ہیں،اور باقاعدگی سے نظم قائم ہے۔

 یہ ایک اظہر من الشمس حقیقت ہے کہ ” جمعیت اہل حدیث سندھ” صوبہ سندھ میں اہل حدیث مکتبہ فکر کا قدیم ،مضبوط اور وسیع تر نظم ہے۔

جمعیت اہل حدیث سندھ کا اصل امتیاز ،اس کا منہج مستقیم پرقائم ومستمر ہونا ہے،ملک اور بیرون ملک کا اہل علم طبقہ،اوراہل حدیث تنظیمیں،جمعیت اہل حدیث سندھ کے اس امتیاز ووصف کو بخوبی جانتی بھی ہیں اور اس کی معترف بھی ہیں ۔وللہ الحمد   والمنۃاولاوآخرا.

جمعیت اہل حدیث سندھ اپنے اس منہج مستقیم پر قائم رہتے ہوئے دعوت وتبلیغ،تعلیم وتربیت اور خدمت خلق کے امورمیں شرعی نصوص اور منہج سلف صالحین پر پوری استقامت کےساتھ کاربند اور عمل پیرا ہے ،یہی وجہ ہے کہ آج تک جمعیت اہل حدیث سندھ کے منہج پرکبھی اعتراض وارد نہیں کیا جاسکا۔

 جمعیت اہل حدیث سندھ کے منہج کی ایک جھلک

(۱) قرآن وحدیث کے ساتھ مضبوط تعلق فہم ِسلف وصالحین کی روشنی میں

(۲)مسلک اہل حدیث (قرآن وحدیث)کے ساتھ پختہ اور غیر متزلزل وابستگی

(۳) مسلک اہل حدیث (قرآن وحدیث)کاتعارف اور اس کی دعوت

(۴)دعوتِ دین کی اساس توحید وسنت

(۵) مغربی وفرنگی جمہوریت وسیاست سے کلی اجتناب

(۶) عقید ہ(الولاء والبراء )کی اساس پر مبتد عین کا کلی مقاطعہ

(۷) دعوت وتبلیغ کے میدان میں غیر شرعی وسائل سے کلی احتراز۔

(۸)ایسے تمام امور سے پرہیز جو ملک کی سالمیت کے لئے نقصان دہ ہوں۔

جمعیت اہل حدیث سندھ کے قیام کے اغراض ومقاصد

(۱)کتاب اللہ وسنت رسول ﷺ کی طرف لوگوں کو دعوت دینا۔

(۲)اسلامی اخوت اوربھائی چارے کو فروغ دینا۔

(۳) تقریر وتحریر اور دیگر جائز ذرائع سے قرآن وحدیث کی تبلیغ اور اشاعت کرنا۔

(۴)ملک میںاسلامی معاشرہ کے قیام کے لئے جدوجہد کرنا۔

(۵) جماعت کے مستحق افراد کی مدد کرنا۔

(۶)مساجد ومدارس اوردارالمطالعہ (دینی کتب،لائبریری)کا قیام اور اس کی سرپرستی ونگرانی ۔

(۷)جمعیت کے زیر انتظام فلاحی اداروں کا قیام ۔

جمعیت اہل حدیث سندھ کی خدمات کا اجمالی خاکہ

(۱)مساجد تعمیر کرنااور ان کی سرپرستی کرنا

(۲)مدارس تعمیر کرنا اور ان کی سرپرستی کرنا

(۳)دعوت وتبلیغ (دروس،تقاریر،کانفرنسیں)

(۴)اردو وسندھی زبان میں الگ الگ ماہانہ مجلہ ’’دعوتِ اہل حدیث‘‘ کا اجراء۔

(۵)دار الافتاء

(۶)علماء کرام کی اہم عربی تصانیف کا اردوترجمہ

(۷)ویلفیئرورفاہی امور:(سندھ بھر میں کنویں کھدوانابالخصوص تھرپارکرمیں۔عیدالاضحی کے موقع پر اندرون سندھ قربانیوںکا اہتمام۔رمضان المبارک میں اندرون سندھ افطاریوں کااہتمام۔رمضان المبارک میں غرباء ومساکین میں راشن کی تقسیم کاخصوصی اہتمام۔

(۸)قدرتی آفات میںمتاثرین کی فوری مدد کا اہتمام

(۹)مظلوم کشمیری وبرمی مسلمانوں کی مددواعانت

جمعیت اہل حدیث سندھ کے نظم کا تعارف

بانی اور امیر اول: شیخ العرب والعجم سید ابومحمد بدیع الدین شاہ راشدی رحمہ اللہ

 امیر: فضیلۃ الشیخ عبداللہ ناصر رحمانی حفظہ اللہ

 ناظم اعلٰی:ڈاکٹر عبدالحفیظ سموں حفظہ اللہ

 نائب ناظم اعلٰی:پروفیسر محمدجمن کنبھر حفظہ اللہ

 ناظم تبلیغ :حاجی محمداعظم لانڈر حفظہ اللہ

 ناظم بیت المال:ڈاکٹر عبدالرشید حفظہ اللہ

 ناظم تعلیمات :مفتی حافظ محمد سلیم حفظہ اللہ

 ناظم امتحانات :الشیخ عبداللہ شمیم حفظہ اللہ

 مجلس شورٰی   :65افراد پر مشتمل ہے جس میں علماء،دانشوراورمختلف شعبہ ہائے زندگی کے ماہرین شامل ہیں۔

 مرکزی کمیٹی   :7افرادپر مشتمل ہے جو مجلس شورٰی سے منتخب کئے جاتے ہیں۔

  رابطہ کمیٹی     :11افراد پر مشتمل ہے جو مجلس شورٰی سے منتخب کئے جاتے ہیں۔