Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2018 » شمارہ فروری و مارچ » پیارے بھائی طاہر صاحب رحمہ اللہ

پیارے بھائی طاہر صاحب رحمہ اللہ

وَمَنْ أَحْسَنُ قَوْلًا مِمَّنْ دَعَا إِلَى اللَّهِ وَعَمِلَ صَالِحًا وَقَالَ إِنَّنِي مِنَ الْمُسْلِمِينَ.(فصلت:۳۳)

ترجمہ:اور اس سے زیادہ اچھی بات والاکون ہے جو اللہ کی طرف بلائے اور نیک کام کرے اور کہے کہ میں یقیناً مسلمانوں میں سے ہوں۔

جس شخص کی زندگی قرآن وحدیث پڑھنے پڑھانے سیکھنے سکھانے ،قال اللہ و قال الرسول کی صدائیں بلند کرنے ،توحید وسنت  کی دعوت  دینے ، نیکی کا حکم دینے برائی سے روکنے ،اس حوالے سے آنےوالی تکالیف و مصائب پر کمال صبر کا مظاہرے کرنے ،عمل  صالح سے چمٹے رہنے میں گذری ہو وہ کتنا خوش نصیب ہوتا ہے وہ اور اسکی زندگی قابل رشک ہوتی ہے ایسے ہی بندے کے بارے میں پیارے  نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ” لاَ حَسَدَ إِلَّا عَلَى اثْنَتَيْنِ: رَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ الكِتَابَ، وَقَامَ بِهِ آنَاءَ اللَّيْلِ وَآنَاءَ النَّهَارِ.(صحیح بخاری  5025وصحیح مسلم815)

کہ وہ آدمی قابل رشک ہے جسکو اللہ نے کتاب کا علم دیا ہو جس کی وہ رات دن تبلیغ و ترویج کرتاہو ۔

ہمارے پیارے بھائی الشیخ ذوالفقار علی طاہر رحمہ اللہ بھی انہی خوش نصیب لوگوں میں سےایک تھے جن کی زندگی قرآن وحدیث پڑھنے  اور پڑھانے میں گذری زندگی کا آخری دن بھی اسی عظیم کام میں صرف ہوا ۔

والدہ محترمہ بتایا کرتی تھیں بچپن میں ہم تین بھائی تھے بڑے بھائی لیاقت علی وبرکت اللہ آپس میں ساتھ ہوتے تھے میں چھوٹا ہونے کی وجہ سے اکیلا ہوتا تھا اللہ سے دعائیں مانگتا تھا کہ ہمیں ایک اور بھائی دیں جو میرا ساتھی بنے اللہ نے طاہر صاحب رحمہ اللہ دیا۔

واقعی پوری زندگی انہوں نے میرا ساتھ دیا،ہر طرح کی ہمدردی  کی،بڑے بھائیوں کو بھی میرے بارے میں سفارش کرتے تھے میرے ساتھ حسن سلوک کی تلقین کرتے تھے، راقم سے ان کے دوستانہ تعلقات تھے اللہ پاک نے انکے اندر خیر خواہی کا جذبہ بدرجہ اتم رکھا تھا  ہر کسی کے ساتھ اچھے انداز سے پیش آتے اسکے ساتھ خیر خواہی کرتے،وہ محسوس کرتا کہ میں انکے سب سے زیادہ قریب ہوں ۔

خاندان میں اللہ پاک نے کمال کی مقبولیت عطا فرمائی تھی ہر فرد انکی بات اور مشورے کو حرف آخر تصور کرتا تھا،اللہ پاک نے انہیںایسا ملکہ عطا کیاتھا کہ کئی معاملات میں بڑے بڑے اختلافات کو بڑے ہی احسن انداز سے حل کردیا کرتے تھے کہ جانبین انکے فیصلہ میں اپنے لئے خیر خواہی ہی محسوس کرتے تھے وہ بلکل غیر متنازع شخصیت تھے بلکہ خاندان  کے لیئے اتحاد کی علامت تھے،جب بھائیوں میں کسی بات پر ناراضگی ہوجاتی تو یہ کہتے ہوئے اختلاف اورناراضگی ختم کی جاتی کہ ’’صلح کرو  ورنہ طاہر صاحب کو بتاتے ہیں۔‘‘

اس عظیم انسان  کی کچھ عادات جو محسوس ہوئیں

سفید لباس پہننا انکا معمول تھا سفید لباس میں نظر آتے تھے انکا یہ عمل سنت کے مطابق تھا جیساکہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

عن ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ” الْبَسُوا مِنْ ثِيَابِكُم الْبَيَاضَ فَإِنَّهَا مِنْ خَيْرِ ثِيَابِكُمْ، وَكَفِّنُوا فِيهَا مَوْتَاكُمْ.(سنن ابی داؤد)

کہ سفید کپڑے پہنا کرو یہ تمہارے بہتریں کپڑوں میں سے ہیں  اور مردوں کو انہیں میں کفن دیا کرو۔

مسواک کے بڑے پابند تھے، تقریبا ہر نماز کے وقت مسواک کرتے تھے یہی وجہ ہے کہ حادثے کے موقعے پر ان کےپاس جو سامان تھا اس میں انکی جیب میں مسواک بھی تھی  اس عمل کو رب کی رضا کے حصول کا  ذریعہ قرار دیا گیا ہے:

عن عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: السِّوَاكُ مَطْهَرَةٌ لِلْفَمِ مَرْضَاةٌ لِلرَّبِّ.(سنن نسائی)

  اور پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم  نے دنیا سے جاتے جو آخری عمل فرمایا وہ مسواک ہی تھا ۔

انکی یہ بھی خوبی تھی کہ وہ حوصلہ افزائی کرتے تھے مختلف مواقع پر کسی فرد سے کسی کام پر متاثر ہوکر اسکی  بہترین حوصلہ افرائی کرتے اور اپنے مختلف دروس میںحوصلہ افزائی کرنے کے لئے احادیث مبارکہ سے شاندار استدلال کرتے تھے جیساکہ انکے دو استدلال یاد آرہے ہیں:

  جنگ احد کے موقعے پر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا سعد ابن ابی وقاص t کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے فرمایا تھا :

يَا سَعْدُ ارْمِ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي.(صحیح بخاری 4059)

اے سعد! تیر ماریں میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ۔

صحیح مسلم کی ایک طویل حدیث میں ہے،ابو ہریرہt نے انصاریوں کو کہا تھا :

أَلَا أُعْلِمُكُمْ بِحَدِيثٍ مِنْ حَدِيثِكُمْ يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ.

کہ میں تمہیں تمہاری حدیث نہ بتاؤں ای انصاریو …

اس حدیث کے اندر اللہ کے نبی ﷺ نے انصاریوں کو  کہا تھا :

كَلَّا، إِنِّي عَبْدُ اللهِ وَرَسُولُهُ، هَاجَرْتُ إِلَى اللهِ وَإِلَيْكُمْ، وَالْمَحْيَا مَحْيَاكُمْ وَالْمَمَاتُ مَمَاتُكُمْ.

کہ ایسے کیسے ہوسکتا ہے کہ میں مکہ میں رہنا شروع کردوں ،میں اللہ کا بندہ اور اسکا رسول ہوں، میں نےاللہ کی طرف ہجرت کی ہے اور تمہاری طرف کی ہے میرا جینا تمہارے ساتھ ہے اور میرا مرنا تمہارے ساتھ ہے۔

اس میں انصاریوں کی بہت بڑی حوصلہ افزائی تھی ۔

شیخ رحمہ اللہ مثالی خودداری کے مالک تھے باوجودضروریات وپریشانیوں کے کبھی بھی محسوس تک نہ ہونے دیتے تھے محدود وسائل کے باوجود آپ اپنے بچوں کو عمدہ کھلاتے اور آنے والےمہمانوں کے لئے پر تکلف ضیافت کااہتمام کرتے انکا دل واقعی بڑا غنی تھا اور گاؤں میں گاہے بگاہے آتے تو مساکین کا خیال رکھتے، خود بھی صاف ستھرا اور بہتریں لباس پہنتے تھے ۔

ان سے اگر کسی کی کوئی شکایت کی جاتی  تو منفی تبصرہ کرنے کے بجائے مخصوص انداز میں "اللہ ہدایت دے "کہہ دیتے اگر ناراضگی کا اظہار بھی کرنا ہوتا تو "عجیب عجیب "کے الفاظ کہتے انکی زبان سے کثرت سے اللہ ربی ومولائی کے الفاظ  سنے گئے ۔

وقت کی تین محدثین سے  دلی تعلق تھا ان سے والہانہ محبت کرتے تھے محدث العصر علامہ عبداللہ ناصر رحمانی حفظہ اللہ ومتعنا بطول حیاتہ کا حد درجہ احترام کرتےتھے اپنی تقاریر میں بطور نصیحت جب شیخ صاحب حفظہ اللہ کی بات نقل کرتے تو کہتے "استاذ الاساتذہ ،وقت کے محدث ،پھر انکی عبارت پیش کرتے ۔

محدث العصر الشیخ حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ سے بھی بہت حدتک متاثر تھے۔شیخ زبیر کی حیات میں انکا رسالہ الحدیث پڑھنے کےلئے بڑی کوششوں سے ماہوار جاری کروایا بسااوقات شیخ کی کتب سے استفادہ کرکے جمعہ وغیرہ کی تیاری بھی کرتے تھے۔

  شیخ حزب اللہ صاحب کی آخری دنوں طاہر صاحب رحمہ اللہ سے ملاقات ہوئی تو کہا کہ میں شیخ زبیر رحمہ اللہ پرتنقید کی وجہ سے انکی کتب کا تنقیدی نظر سے حرفا حرفا مطالعہ کررہا ہوں  مجھے تو انکا منہج مضبوط نظر آیا   ہے۔

اسی طرح شیخ العرب و العجم الامام العلامہ السید بدیع الدین شاہ الراشدی رحمہ اللہ کی شخصیت سے بھی والہانہ محبت رکھتے تھے  یہی وجہ ہے کہ انکی کافی کتب پر کام بھی کیا، اسی طرح  کوئی بھی مسئلہ درپیش  ہوتا  یا کسی مسئلےکو تفصیلا دیکھنا چاہتے تو راقم کو(شاہ صاحب کی کتب کا مطالعہ ہونے کی بنا پر )  کال کرکےاس حوالے سے شاہ صاحب رحمہ اللہ کی رائے اورحوالہ معلوم کرتے تھے ۔

ایک مرتبہ نماز جنازہ میں ایک طرف سلام کے حوالے سے رابطہ کیا تو بتایا کہ یہ نظریہ شاہ صاحب رحمہ اللہ اور شیخ زبیر رحمہ اللہ کا بھی تھا تو انکو مزید تشفی ہوگئی ۔

ہمارے پیارے بھائی الشیخ ذوالفقار علی طاہر رحمہ اللہ نے زندگی میں مصائب ،مشکلات ،تکلیفیں اور پریشانیاں برداشت کیں،ایک ہی وقت میں متعددامراض،اللہ کا فیصلہ سمجھ کر برداشت کرتے رہے کبھی زبان پر شکوہ شکایت نہیں لائے صبر کی مثال قائم کر گئے،جب بھی طبیعت معلوم کی گئی تو بڑے حوصلے والاجواب دیتے تھے،کبھی اپنے آپ کو کمزور ظاہر نہیں کیا ،مصائب و پریشانیوں کا مقابلا کرنے کے لیئے انہوں نے وہ آیات ایک رقعہ پر لکھ کر جیب میں رکھی ہوئیں تھیں جن میں انبیاء کرا م کی آزمائشوں اور انکے عظیم صبر کا  ذکر ہے حادثے کے موقعے پر بھی وہ چھوٹا سا رقعہ انکی جیب میں موجو دتھا اتنی تکلیفوں و آزمائشوں کی وجہ انکی دین میں پختگی معلوم ہوتی ہے،جیساکہ نبی صلی اللہ  علیہ وسلم نے فرمایا :

عن مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ النَّاسِ أَشَدُّ بَلَاءً؟ قَالَ:الأَنْبِيَاءُ ثُمَّ الأَمْثَلُ فَالأَمْثَلُ، فَيُبْتَلَى الرَّجُلُ عَلَى حَسَبِ دِينِهِ، فَإِنْ كَانَ دِينُهُ صُلْبًا اشْتَدَّ بَلَاؤُهُ.(ترمذی )

سیدنا مصعب بن سعدt فرماتے ہیں میںنے کہا ای اللہ کے رسول! کس انسان پر سخت آزمائشیں آتی ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نبیوں پر سخت آمائشیں آتی ہیں،پھر جو انکے بعد ہیں پھر جو انکے بعد ہیں بندےکو اسکےدین کے حساب سےآزمایا جاتاہےاگراسکی  دینداری مضبوط ہوتی ہے تو آزمائشیں بھی سخت آتی ہیں ۔

انکی گذاری ہوئی زندگی کے لمحات کو یاد کرکے اور حسن خاتمہ ،(ان شا ء اللہ)شھادت کی موت اوراطمینان والاچہرا دیکھ کر یہ ہی محسوس ہوا کہ ہمارےپیارے بھائی سکون والی زندگی میں داخل ہوچکے ہیں جیساکہ پیارے نبیﷺنے فرمایا :

العَبْدُ المُؤْمِنُ يَسْتَرِيحُ مِنْ نَصَبِ الدُّنْيَا وَأَذَاهَا إِلَى رَحْمَةِ اللَّهِ.(صحیح بخاری)

کہ مومن بندہ دنیا کی تھکاوٹوں اور تکلیفوں سے اللہ کی رحمت میں پہنچ کر سکون وآرام حاصل کرلیتا ہے ۔

ای رب العالمین! شیخ طاہر صاحب آپ کے جوار رحمت میں آچکے ہیں،ہم گواہی دیتے ہیں کہ انہوں نے تیری توحید کی دعوت دی،تیرے نبی کی سنت کی طرف بلایا،تیرے دین کی پوری زندگی خدمت کی، عمل صالح سے بھرپور زندگی گزار دی،اسے معاف فرما دے،بشری لغزشیں بخش دے انہیں  قبر کے  عذاب سے محفوظ رکھ، قبر کو جنت کا باغیچہ بنادے، انہیں جنت الفردوس میں اونچا مقام عطا کر، لواحقین کو صبرجمیل دے اور انکا  کارساز بن جا،انکی اولاد اور اور شاگردوں کو انکے لئے تا قیامت صدقہ جاریہ بنادے ۔آمین  یارب العالمین ۔

About محمد علی بلوچ

جواب دیجئے