Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2018 » شمارہ فروری و مارچ » انا بفراقک لمحزونون استاذی المکرم استاذ الاساتذہ فضیلۃ الشیخ ذوالفقار علی طاہررحمہ اللہ

انا بفراقک لمحزونون استاذی المکرم استاذ الاساتذہ فضیلۃ الشیخ ذوالفقار علی طاہررحمہ اللہ

سورج روز ہی مشرق سے طلوع ہوتا ہے، سارا دن اپنی روشن کرنیں بکھیرنے کےبعد شام ڈھلے مغرب میں غروب ہوجایا کرتاہے، لیکن اس دن سورج غروب ہوتے ہوئے اپنے ساتھ آسمانِ علم کے آفتاب کو بھی لیکر غروب ہوا، اس دن کا یہ غروب کس قدر افسوسناک اور امت مسلمہ کے لئے باعثِ غم واندوہ تھا۔ دراصل اس دار فانی سے ہر انسان نے بالآخر جانا ہی ہے، لیکن بعض ہستیاں ایسی بھی ہوتی ہیں جن کی جدائیگی کو برداشت کرنا بہت مشکل امر بن جاتا ہے ان کو مالک ایسا شرف قبولیت بخشتاہے کہ جب وہ ہوتے ہیں توفخر ہوتے ہیں اور جب چلے جاتے ہیں تو یادگارِزمانہ بن جاتے ہیں۔ ہر دل اُن کی جدائی کو محسوس کرتا ہے،اس کی وجہ ان کا وہ زہدوتقویٰ اور للّٰہیت ہوتی ہے جس کو ناپنے کے لئے پیمانے نہیں ہوتے، یہ وہ لوگ ہوتےہیں جن کو مالک نے ہزاروں عہدوں،وزارتوں اور عزتوں سے بھی زیادہ نوازا ہوتا ہے، یہ مل جائیں تو سعادت کی علامت ،دعادے دیں تو رفعت کا مقام، ساتھ چل دیں تو عزت میں اضافہ ہوتا ہے ،جمعیت اہل حدیث سندھ کے روحِ رواں ،غیور اہل حدیث عالم، کامیاب مدرس اور ہمارے محبوب شیخ ومحسن ،استاذ الاساتذہ واستاذی المکرم شیخ ذوالفقار علی طاہر a کا بھی انہی بابرکت وعظیم الشان شخصیات میں شمار ہوتا ہے،استاد محترمaکا ہم سے بچھڑجانا ایک ایسا غم ہے جسے جتنا کم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے اتنا ہی گہرا ہوتاچلاجاتاہے۔

آپ رحمہ اللہ میدان تدریس کے شہسوار ہونے کے ساتھ ساتھ بلند پایہ خطیب، محقق، مقالہ نگار اور ناقد بھی تھے، حق گوئی وبیباکی کے اعلیٰ درجے پر فائز تھے، طلباء سے بے پناہ محبت ،شفقت اور حوصلہ افزائی کرنے میں ان کا کوئی ثانی نہیں تھا، وہ دفاعِ کتاب وسنت سے سرشارتھے، طلباء کے ساتھ روحانی والدکاسامزاج رکھتے تھے، سادگی میں ان کی مثال نہیں ملتی، خودداری،صبر،اعلیٰ کردار اور اخلاق کے پیکر تھے، تکبر وریاکاری سے کوسوں دورتھے۔

ساماروموری تحصیل سندھڑی ضلع میرپورخاص میں طلوع ہونے والی علم کی یہ شمع ۳جنوری ۲۰۱۸ء بروز بدھ نماز مغرب سے کچھ دیر قبل بجھ گئی۔ ان کی وفات کی خبر سن کر زبان پر بے ساختہ الفاظ جاری ہوگئے:

انا للہ وانا الیہ راجعون ان العین تدمع، والقلب یحزن ولانقول الامایرضی ربنا وانا بفراقک لمحزونون.

یہ پرغم خبرسنتے ہی ہماری خوشیاں غم میں بدل گئیں، آنکھوں سے آنسو تیرنے لگے،چہرہ اداس اور دل افسردہ ہوگیا،صبح فجرنماز کے بعد راقم اپنے دیرینہ دوست شیخ عبدالرزاق گاہوٹی dکی معیت میں استاذ محترم کی نماز جنازہ کے لئے ان کے آبائی گاؤں ساماروشاخ میرپورخاص کی طرف روانہ ہوا، ہم تقریباً۹بجے وہاں پہنچ گئے ،نماز جنازہ سے قبل کافی دیر استاذ محترم کا دیدارکرتے رہے،۔ وہاں پرموجود شیخaکے ورثاء، تلامذہ اور دیگر معتقدین غم ودکھ کی تصویر بنے ہوئے تھے۔

استاذ محترم کی بعض خصائل واوصاف کاتذکرہ

سنتِ نبوی سے محبت: استاذ محترم سنت نبوی سے بے حد محبت کرنے والے تھے، جب بھی کہیں سے سنت کا استہزاء کیاجاتاتو شیخ رحمہ اللہ اس سنت کے دفاع میں میدان میں اترآتے،اس بات پر ان کی زیرادارت شایع ہونے والے ماہنامہ دعوت اہل حدیث کے کئی مضامین شاہد عدل ہیں، گذشتہ سال کا واقعہ ہے کہ پنجاب سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے نبی اکرم ﷺ کی پیاری سنت(داڑھی بڑھانے) کی مخالفت میں ایک مضمون لکھا اور اس میں اس نے اس سنت پر عاملین کا کئی لحاظ سے استہزاء بھی کیا تھا، جب استاذ محترم کی نظر اس شخص کی عبارت پر پڑی اللہ گواہ ہے شیخ رحمہ اللہ کی کیفیت بدل گئی اور فوراً بندۂ ناچیز کو اس کارد لکھنے کا حکم دیا، بتوفیق اللہ تعالیٰ چند ہی دنوں میں،میں نے استاذ محترم کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے اس مضمون کا تنقیدی جائزہ لکھ کر شیخ رحمہ اللہ کی خدمت میں پیش کیا تو انہوں نے بڑی خوشی کااظہار کرتے ہوئے راقم کو دعائیں دیں پھر اسے  اپنی نظر ثانی کے بعد ماہوار مجلہ دعوت اہل حدیث میںشامل اشاعت کیا۔

  اہل بدعت سے سخت نفرت: استاذ محترم مسلک حق اہل حدیث سے بے پناہ محبت کرتے تھے، اس کی محبت ان کے دل میں کوٹ کوٹ کے بھری ہوئی تھی، ہم نے مسلکی غیرت ان ہی سے سیکھی ہے اور اہل حدیث کے مخالفین (اہل بدعت) سے سخت نفرت کرتے تھے،ان علماء پر تعجب کیا کرتے تھے جو اہل بدعت کے پیچھے نماز اداکرنے کا فتویٰ دیتے ہیں اور فرمایا کرتے تھے کہ میں نے حقائق سمجھنے کے بعد کبھی بھی ان کی اقتداء میں نماز نہیں پڑھی۔ ایک دفعہ کاذکر ہے کہ ہماری کلاس میں پڑھنے والے ایک ساتھی نے جمعہ کی نماز کسی بدعقیدہ اور بدعتی شخص کے پیچھے پڑھ لی جب اس بات کا علم استاذ محترمaکوہوا تو انہوں نے دورانِ کلاس اس عمل کی مذمت فرمائی اور بڑے ہی دردبھرے انداز میں فرمایا:’’تم علماء کی صف میں شامل ہونے والے ہو اب تک تمہارے اندر سلفیت پیدا نہیں ہوئی!‘‘ہمیں شیخaسے فقہ حنفی کی معتبر ترین کتاب ہدایہ (تنقیدی نظر کے ساتھ)پڑھنے کا بھی شرف حاصل ہوا،تو اس میں بھی شیخaفقہ حنفی کےبعض مسائل پر مضبوط دلائل وبراہین کے ساتھ تنقید فرماتے۔

  قرآن مجید سے غیر معمولی شغف: شیخ رحمہ اللہ کا کلام اللہ سے گہرا تعلق تھا، اگرچہ آپaحافظ قرآن نہیں تھے، لیکن اس کے باوجود آپ کو قرآن کاوافر حصہ یاد تھا،جب بھی فارغ وقت ملتا تومسند تدریس پر ہی تلاوت شروع کردیتے ،روزانہ ایک پارہ تلاوت کرناشیخ رحمہ اللہ کی روٹین میں شامل تھا نیز روزانہ جامع مسجد ابوعبیدہ بن جراح ڈرگ روڈ کراچی میں ترجمہ کی کلاس بھی پڑھاتے تھے۔

  نفلی روزوں کااہتمام: ہم نے استاذ محترم رحمہ اللہ کو بہت زیادہ نفلی روزے رکھنے والاپایا، شیخaبلاناغہ ہر ماہ ایام بیض کے روزے رکھا کرتے تھے اور اسی طرح سوموار وجمعرات کو بھی آپ رحمہ اللہ روزے کی حالت میں ہوتے تھے ،آپ زہد وتقویٰ اورللّٰہیت میں اپنی مثال آپ تھے۔

 حق گوئی: آپaکا شماران علماءِ حقہ میںہوتا ہے، جب بھی ان کی نظر کسی غیر شرعی امرپرپڑتی توفوراً اس کی لسان یا قلم کے ذریعے تردید کرتے،اس پر آپ کے متعددمضامین وخطبات گواہ ہیں، صرف یہاں تک بس نہیں بلکہ علماء کے طبقے میں بھی کوئی ایسی بات نظر آتی تو اس کی اسی وقت نشاندہی فرماتے،آپ کبھی بھی کسی سے خوف محسوس نہیں کرتے بلکہ آپ قرآن مجید کی اس آیت کے صحیح مصداق تھے:

[وَلَا يَخَافُوْنَ لَوْمَۃَ لَاۗىِٕمٍ۝۰ۭ](المائدۃ:۵۴)

m  رجوع الی الحق: آپ رحمہ اللہ میں ایک ایسی خوبی تھی جس کا آج کل فقدان ہے، آپ پر جب بھی اپنے موقف کا خطاہوناثابت ہوجاتا تو اپنے موقف سے رجوع کرنے میں ذرا بھی عار محسوس نہ کرتے۔

  علماءِ حق سے بے حد محبت: آپ رحمہ اللہ علماءِ ربانین بالخصوص شیخ العرب والعجم علامہ بدیع الدین شاہ راشدی رحمہ اللہ، محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ اور فضیلۃ الشیخ علامہ عبداللہ ناصر ر حمانی حفظہ اللہ سے بے پناہ محبت کرتے تھے ، ان تینوں شخصیات کا اکثرمجالس میں ذکرخیر کرتے رہتے تھے۔

  طلباء سے شفقت: شیخ رحمہ اللہ کا طلباء کرام سے روحانی تعلق تھا، میں نے پانچ سال کے عرصے میں ان کو کبھی بھی کسی بھی طالب العلم پر غصہ کرتے ہوئے نہیں دیکھا ،استاذ محترم رحمہ اللہ طلباء سے مل جل کر رہا کرتے تھے، اور ان سے مزاح بھی کرلیتے تھے، اچھا کام کرنے پر طلباء کی حوصلہ افزائی کرتے تھے، اسی حوصلہ افزائی نے ہماری ہمتوں کو جلا بخشی ،کسی شاگرد سے کوئی غلطی ہوجاتی تواحسن انداز میں اس کی اصلاح کرتے۔ ہمیں دوران طالب علمی جب بھی کسی چیز کی ضرورت ہوتی تو ہمیشہ شیخaکی طرف ہی رجوع کرتے مجھے یاد نہیں کہ کبھی ہم نے ان کو کوئی کام کہا اور انہوں نے وہ کام نہ کیاہو، کبھی بھی کوئی طالب علم ان سے مایوس ہوکرنہیں لوٹا، میں نے اپنی پوری زندگی میں استاذ محترم جیسا مشفق ومحسن استاذ نہیں دیکھا۔

حال ہی میں راقم نے نماز جنازہ میں ایک طرف سلام کے متعلق ایک رسالہ مرتب کیا ہے،اس کو ترتیب دینے سے قبل حسب معمول میں نے استاذ محترم سے اس حوالے سے لکھنے کی خواہش کااظہار کیا تو استاذ محترم نے راقم کی اس کام میں تحسین فرمائی اورحوصلہ دیا تومیرا عزم مزید پختہ ہوگیا، ایک ماہ کے قلیل عرصے میں،میں نے کتاب لکھ لی اور شیخ رحمہ اللہ کی خدمت میں بھیج دی توآپ نے علالت کے باوجود اسے لفظ بلفظ پڑھا اور بہت سے مقامات پر اصلاح فرمائی اور ساتھ میں جانداراورپرمغزتقریظ بھی تحریر فرماکروفات سے دوہفتے قبل راقم کی طرف بھیج دی۔

راقم کااستاذ محترم کے ساتھ تعلق:

میرا ستاذمحترم رحمہ اللہ سے گہراتعلق تھایہ تعلق المعہدالسلفی میں داخلہ لینے سےلیکر شیخaکی وفات تک جاری رہا،میںنے المعہد السلفی میں شیخ رحمہ اللہ ہی کی وساطت سے داخلہ لیاتھا،داخلہ کے وقت انٹرویوبھی انہوں نے ہی لیا اورداخلہ فارم پرسرپرست کی جگہ اپنانام درج فرمایا جو کہ میرے لئے ایک اعزاز سے کم نہ تھا۔ دورانِ تعلیم جو بھی مسئلہ درپیش ہوتا تومیں شیخ رحمہ اللہ ہی کی طرف رجوع کرتا اور وہ اسے احسن انداز میں نمٹاتے اوریہ بھی یاد رہے کہ ہمیں تحقیق کاذوق بھی انہیں کے ترغیب دلانےپر ہوا،چونکہ شیخ رحمہ اللہ انہیں دنوں سے وفات تک جمعیت اہل حدیث سندھ کے ترجمان ماہوار دعوت اہل حدیث کے مدیرمنتظم بھی تھے، استاذ محترم کی خاص ترغیب سے درجہ رابعہ ہی سے مضامین لکھنے کا سلسلہ شروع کیا، اس سلسلے کے بعد شیخ رحمہ اللہ کے ساتھ تعلق مزیدگہرا ہوگیا۔ بعد میں شیخaمجھے کئی تحقیقی مسائل پر لکھنے کا حکم دیتےرہے، مثلاً: نماز جنازہ میں ایک طرف سلام کامسئلہ، میں نے انہیں کے حکم سے لکھا تھا، پھر انہوں نے اسے شایع بھی کیا۔ اور اسی طرح گذشتہ سال ایک مشت سے زائد داڑھی کاٹنے کے حوالے سے( مجلہ ضیاء حدیث لاہور ) شایع ہونے والے ایک مضمون کا رد بھی شیخ نے مجھ سے لکھوایا اور تین قسطوں میں دعوت اہل حدیث میں شایع کیا۔

علم کی پختگی کےلئے مجھے عصرحاضر کے محققین سے استفادہ کرنے کی ترغیب دیتے رہتے تھے، میں انہیں کے مشورے سے دوسال قبل رمضان کی چھٹیوں میںماہرعلم رجال شیخ غلام مصطفیٰ ظہیر امن پوری حفظہ اللہ  سے اصول حدیث ورجال پڑھنے کے لئے سرگودھا گیا وہاں پر بہت  علمی فائدہ ہوا،متعدد نئی باتوں سے آگاہی ہوئی۔ چونکہ استاذ محترم سے ہمارا دلی تعلق تھا،توہم ان سے گھریلومعاملات کاذکر کرنے میں بھی عیب محسوس نہیں کیا کرتے تھے ،جب بھی کوئی اس طرح کا معاملہ درپیش ہوتا تو ہم اس کا بھی ان سےذکر کرتے تو آپ ہمیں اچھے مشورے دیتےجن سے ہمیں دلی سکون ملتا۔استاذ محترم ہمیشہ ہمارے لئے اچھا سوچتے تھے، اور ان کے مجھ پر بہت سے احسانات بھی ہیں جن کو میں کبھی بھی فراموش نہیں کرسکتا، استاذ محترم کی جدائیگی کے بعدمیں اپنے آپ کو یتیم تصور کررہاہوں۔

ذھب الذین یعاش فی أکنافھم

وبقیت فی خلف کجلد الأجرب

اے اللہ!ہمیں شیخ رحمہ اللہ کا نعم البدل عطافرما۔

استاذ محترم کی بعض نصائح:

 ہمیں استاذ محترم نےکئی بار یہ نصیحت فرمائی کہ بیٹا عالم بن جانے کے بعد کبھی بھی لوگوں کی جیبوں پر نظر نہ رکھنانیز فرمایا کرتے تھے کہ میں نے پوری زندگی کبھی بھی اپنی تنخواہ بڑھانے کا مطالبہ کرنا تو دور کی بات اپنی مقرر شدہ تنخواہ وقت پر نہ ملنے کی صورت میں بھی کبھی تقاضا تک نہیں کیا۔

اور فرمایا:میں کافی عرصہ پہلے ایک مسجد میں خطیب مقرر ہوا مسجد کی انتظامیہ کی طرف سے مجھے4000روپے تنخواہ ملتی تھی، کافی عرصہ گزر گیا لیکن میں نے تنخواہ بڑھانے کا مطالبہ نہیں کیا، آخرکارانتظامیہ نے مجبور ہوکر مجھ سے کہا ہم کافی دنوں سے اس بات کے منتظر تھے کہ آپ تنخواہ بڑھانے کی بات کریں گے تو ہم آپ کے وظیفے میں اضافہ کردیں گے لیکن آپ نے اب تک بات ہی نہیں کی!شیخ رحمہ اللہ نے فرمایا پھر انہوں نے خود تنخواہ میں اضافہ کیا اور انہوں نے کہا آپ پہلے شخص ہیں جس نے تنخواہ بڑھانے کامطالبہ نہیں کیا۔

    ہمیشہ سادگی والی زندگی گذرارنے کی خاص طور پرنصیحت کیا کرتے تھے،استاذ محترم توسادگی میں اپنی مثال آپ تھے۔ یہاں تک کہ گھریلواشیاء بھی بازار سے خود خریدنے جاتے تھے، کبھی بھی کسی جماعتی کو کوئی چیز خریدنے کے لئے نہیں بھیجا،جب بھی کوئی جماعتی کہتا کہ شیخ صاحب آپ تکلیف نہ کیاکریں ہمیں بھیج دیاکریں توشیخ رحمہ اللہ فرماتے ’’شوگر کے مریض کے لئے پیدل چلنابہتر ہےاس لئے میں خود نکل آتاہوں‘‘، یقینا آپ نبیﷺ کے اس فرمان:

کن فی الدنیا کانک غریب او عابر سبیل.

کی عملی صورت تھے۔

  ہم نے گذشتہ سال المعہد السلفی کراچی سے سند فراغت حاصل کی تو اس موقع پرہم نے استاذ محترم سے نصیحت طلب کی تو آپ نے فرمایا: میں ایک ہی نصیحت کرونگاکہ’’ علم پر عمل کرنا اوراپنے اساتذہ کو کبھی بھی نہ بھولنا۔

 شیخ رحمہ اللہ نے ہمیں خصوصی طور پرفرمایا کہ’’ جہاں بھی تمہیں دین کا کام کرنے کا موقعہ ملے وہاں مخلص ہوکر کام کرنا، جس ادارے میں آپ کام کررہے ہوںہمیشہ اس ادارے سے مخلص رہنا‘‘، استاذ محترم بھی آخری دم تک ادارہ المعہد السلفی کراچی وجمعیت اہل حدیث سندھ سے بے حدمخلص تھے۔

   استاذ محترم ہمیشہ شیخ العرب والعجم علامہ سید بدیع الدین شاہ الراشدی رحمہ اللہ کی مایہ ناز تفسیر بدیع التفاسیر اور محدث العصر حافظ زبیر علی زئیaکی کتب کو اپنے مطالعہ میں رکھنے کی ترغیب دیتے رہتے تھے۔

     استاذ محترم نے کئی بار ہم سے مخاطب ہو کرفرمایا:’’اپنے اندر علماء اہل حدیث کے مابین ہونے والے اختلافات کو برداشت کرنے کا مادہ پیداکرو،اپنے ذہن کو وسیع کرو،اسی میں فلاح ہےاور اگر آپ لوگوں کو قائل کرناچاہتےہیں تو آپ اپنے موقف کو کھل کر بیان کریں لیکن علماء کا مکمل احترام کریں۔‘‘

یہ استاذ محترم کی چندوہ یادیں ہیں جو اس وقت میرے ذہن میں گردش کررہی تھیں، توان کو صفحہ قرطاس پر منتقل کرنا ضروری سمجھا نیز شیخaکی زندگی پر مفصل مضمون لکھنے کا ارادہ ہے۔ اللہ تعالیٰ استاذ محترم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطافرمائے، تمام تلامذہ کو ان کے لئے صدقہ جاریہ بنائے اور ہمیں ان کا نعم البدل نصیب فرمائے۔آمین

About محمدابراھیم ربانی

Check Also

امام ترمذی رحمہ اللہ کا تساہل علماءاحناف کی نظر میں

امام ترمذی رحمہ اللہ کا مقام ومرتبہ کسی بھی ذی علم سےاوجہل نہیں، امام صاحب …

جواب دیجئے