Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2018 » شمارہ فروری و مارچ » میرے محسن اور مربی استاذ محترم الشیخ ذوالفقار علی طاہررحمہ اللہ

میرے محسن اور مربی استاذ محترم الشیخ ذوالفقار علی طاہررحمہ اللہ

یہ تقریباپندرہ برس قبل کی بات ہے جب الشیخ ذوالفقار علی طاہرaسے میری پہلی ملاقات ہوئی،ان دنوں شیخ محترم کی رہائش صراط مستقیم مسجد تین ہٹی میں ہوا کرتی تھی،ملاقات یوں ہوئی کہ میں نے مرکز ابن القاسم الاسلامی ملتان میں حفظ اور تجوید کے امتحانات سے فراغت کے بعد علوم اسلامیہ (درس نظامی) کی تعلیم کے لئے کراچی کا رُخ کیا،بڑے بھائی کاروبار کے حوالے سے پہلے ہی کراچی میں رہائش پذیر تھے،کسی جامعہ میں میرے داخلے کے حوالے سے انہوں نے اپنے ایک دوست سے بات کی اور وہ مجھے مغرب یاعشاء کی نماز میں اپنے ساتھ صراط مستقیم مسجد تین ہٹی لےگئے۔ نماز کے بعد سفید سوٹ میں ملبوس، درمیانے قد،وجیہ چہرے اور چہرے پر سنت کے مطابق سجی خوبصورت لمبی اور گھنی داڑھی کی حامل شخصیت سےملاقات ہوئی، رسمی دعا سلام کے بعد مجھے بتایاگیا کہ یہ الشیخ ذوالفقار علی طاہر صاحب ہیں جو ادارہ المعہد السلفی کےسینئراستاذہیں جہاں آپ کا داخلہ کرانا ہے،شیخ کے کہنے پر میں نے اپنا تعارف کرایا اور ملاقات کامقصد بھی بتادیا۔یہ عیدالاضحیٰ کے بعد کی بات ہے جب مدارس اور جامعات میں داخلے بند ہوچکے ہوتے ہیں، جب میں نے ملاقات کا مقصد بتایا تو شیخ فرمانے لگے :’’المعہد السلفی میں داخلے بند ہوچکےہیں مگر آپ چونکہ ایک لمبا سفر کر کے آئے ہیں، اس لئےآپ کل صبح میرے ساتھ چلیں، میں آپ کے داخلے کے لئے کوشش کروں گا۔‘‘ شیخ رحمہ اللہ کے ساتھ یہ وہ پہلی ملاقات تھی جو ہمیشہ کے ایک تعلق کا پیش خیمہ ثابت ہوئی۔ شیخ رحمہ اللہ کے پاس اپنی کوئی سواری نہیں تھی، اس لئے پبلک ٹرانسپورٹ ہی پر معہد سلفی میں آتے جاتے تھے،جب اگلے دن معہد سلفی میں جانے کے لئے بس پر سوار ہوئے تو مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ میرا کرایہ بھی شیخ رحمہ اللہ نے ادا کیا اور مجھے کرایہ دینے سے منع کردیا، جب معہد سلفی پہنچے تو شیخ رحمہ اللہ نے میری ملاقات ناظم ادارہ مولانا داؤد شاکرحفظہ اللہ سے کروائی، اور ساتھ ہی ملاقات کا مقصد بیان کردیا۔ مولانا داؤد شاکر حفظہ اللہ فرمانے لگے: ’’ہمارے پاس طلبہ کی جو مخصوص تعداد ہوتی ہے وہ پوری ہوچکی ہے، مزید گنجائش نہیں ہے۔ اسی طرح رہائش کا بھی مسئلہ ہے ،تمام کمرے فل ہیں، شیخ رحمہ اللہ فرمانے لگے کہ آپ اس کے لئے گنجائش پیدا کریں اور اسے ضرور داخلہ دیں، بہرحال شیخ رحمہ اللہ کے اصرار پر شیخ داؤد شاکرحفظہ اللہ  مان گئےاور مجھے اسی وقت کلاس میں بٹھادیا۔یوں معہد سلفی کے تمام اساتذہ سے استاد اور شاگرد کا رشتہ قائم ہوگیا۔استاذ محترم ذوالفقار علی طاہررحمہ اللہ کا مجھے معہد سلفی میں داخل کروانا مجھ پر ایک ایسا احسان تھا کہ شاید میں زندگی بھر ان کے اس ایک احسان کا بدلہ نہ —————————————————–

محترم قارئین!اس تمہید کامقصد استاذمحترم کی اس عظیم صفت کو بیان کرنا ہے کہ آپ رحمہ اللہ کس قدر متلاشیانِ علم حدیث کا خیال رکھنے والے تھے، آپ کی یہ کوشش ہوتی کہ جو طالب علم ،علم حدیث پڑھنے کے لئے آئے اسے واپس نہ لوٹایاجائے، دوسرا مقصد تحدیث نعمت کے طور پراس بات کو بیان کرنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ابتدا ہی میں میرا تعلق ایک ایسے مشفق اور مربی استاذ سے جوڑ دیا جو واقعتاً اپنے دل میں طلبہ کو پڑھانے اور ان کی تربیت کرنے کی تڑپ رکھتے تھے، یہ تو صرف ایک صفت تھی،اللہ تعالیٰ نے استاذمحترم کو بے شمار اعلیٰ خصائل اور اوصاف حمیدہ سے نوازا تھا،آئیے !استاذ محترم کی ذات میں نمایاں طور پر پائے جانے والے چنداوصاف کا مطالعہ کرتے ہیں:

عقیدے اور منہج کی غیرت

استاذ محترم کی سب سے نمایاں اور اہم خصلت عقیدے اور منہج کی غیرت تھی، جب کبھی عقیدۂ توحید اور منہجِ سلف کی بات ہوتی استاذ محترمaنے کبھی لچک کاپہلو اختیار نہیں کیا۔ آپ رحمہ اللہ اپنے طلبہ کو بھی یہی نصیحت کرتے کہ عقیدہ اور منہج سلف کے حوالے سے اپنی زندگی میں کبھی لچک نہ دکھانا۔آپ کی تقریر اور تحریر میں بھی یہ چیز نمایاں طور پرنظر آتی تھی،جب کسی تنظیم یا جماعت کو منہج سلف صالحین سے ہٹتا ہوا دیکھتے تو بڑے گہرے دکھ کا اظہار کرتے ،طلبہ کو گاہے بگاہے یہ نصیحت کرتے رہتے ہمیشہ اس جماعت اور تنظیم سے چمٹے رہو جو عقیدہ توحید اورمنہج سلف صالحین پر کاربند ہو، حقیقت یہ ہے کہ ہم نے عقیدہ توحید اور منہج سلف کی غیرت استاذ محترم الشیخ ذوالفقار علی طاہر رحمہ اللہ سے سیکھی۔

ہماراکوئی کمال نہیں

استاذ محترم میں خیر کے کاموں کا جذبہ کوٹ کوٹ کربھراہواتھا، خیر اور بھلائی کے کاموں کی ٹوہ میں رہتے اور کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیتے، کسی کام کی کامیابی پر اگر کوئی تعریف اور تحسین کے کلمات کہتا تو استاذ محترم کا ایک ہی جواب ہوتا:’’یہ سب اللہ کافضل ہے، اس میں ہمارا کوئی کمال نہیں۔‘‘حدیبیہ کے مقام پر رسول اللہ ﷺ نے اسی بات کی تعلیم اپنی امت کو دی تھی کہ’مطرنا بفضل اللہ‘ کہنے والے ہی اپنے ایمان پرقائم ہیں اور ’مطرنا بنوء کذا وکذا‘ کہنے والے کفر کی وادی میں داخل ہوچکے ہیں۔(صحیح بخاری :۱۰۳۸)استاذ محترم اس حدیث کا عملی نمونہ تھے، جب بھی کوئی خیرکاکام ان کے ہاتھوں ہوجاتا اسے صرف اللہ کافضل قرار دیتے۔

سنن ابی داؤد اور صحیح مسلم کی تکمیل

استاذ محترم دوران تدریس کتبِ احادیث کو خاص اہمیت دیا کرتے تھے، ان کی کوشش ہوتی کہ دوسری کتب سے بچنے والاوقت حدیث پڑھانے میں صرف ہو۔یہی وجہ ہے کہ چھٹی اورساتویں کلاس میں جانے والے طلبہ کی یہ خواہش ہوتی کہ سنن ابی داؤداور صحیح مسلم کا پیریڈ شیخ ذوالفقار علی طاہرصاحب لیں تاکہ ان کی کتب کی تکمیل بروقت ممکن ہوسکے۔ طلبہ اس خواہش کا اظہار گزشتہ سال کے آخر پر استاذ محترم کے سامنے کر بھی دیا کرتے تھے ،استاذ محترم ان کتب کے پڑھانے کا حق اداکردیتے اور ساتھ ساتھ دوسری کتب میں بھی کمی نہ رہنے دیتے ۔ تدریسی اوقات کے علاوہ بھی جس قدر ممکن ہوتا طلبہ کو سنن ابی داؤد اور صحیح مسلم پڑھانے میں مشغول رہتے، یاد رہے!اضافی اوقات میں پڑھانا طلبہ کی خوشی اور رضامندی پر موقوف ہوتا تھا ،ایسا ہرگز نہیں تھا کہ استاذ محترم طلبہ کو اضافی اوقات میں بھی پڑھنے پر مجبور کرتے ہوں، دراصل استاذ محترم طلبہ کے ذہنوں میں حدیث پڑھنے کا شوق اس قدر بھر دیتے کہ ہر طالب علم اضافی اوقات میں حدیث پڑھنے کو اپنی سعادت مندی سمجھتا۔

سب سے پہلے پہنچنا

طویل سفر، ٹریفک کاہجوم اور آنے جانے والوں کا رش ،اس سب کچھ کے باوجود اسمبلی سے پہلے معہد سلفی میں پہنچنا یہ صرف استاذمحترم ذوالفقار علی طاہر رحمہ اللہ کاخاصہ تھا،اگر یہ کہاجائے تومبالغہ نہ ہوگا کہ ہاسٹل میں رہنے والے اساتذہ ابھی اپنے کمروں میں ہوتے تھے مگراستاذ محترم ان سے بھی پہلے دفتر میں پہنچ چکے ہوتے تھے، یہ کوئی دوچار دن یاہفتے بھر کاشیڈول نہیں بلکہ ہمیشہ آپ رحمہ اللہ کا یہی معمول رہا، جب کبھی بامرمجبوری لیٹ ہوجاتے تواساتذہ اور طلبہ پریشان ہوجاتے کہ آج طاہر صاحب نہیں آئے ،اللہ خیر کر ے!

مسائل شرع میں حیاآڑے نہ آتی

پہلے یہ بات بیان ہوچکی کہ استاذ محترم خاصے عرصےسے سنن ابی داؤد اورصحیح مسلم پڑھاتے چلے آرہے تھے، جب دورانِ تدریس ایسے مسائل پر بحث ہوتی جن کے بیان کرنے میں عام طور پر شرم اور حیا محسوس کی جاتی ہے، استاذ محترم بڑے اچھے پیرائے میں ان کی وضاحت فرماجاتے، اگر کسی طالب علم کو بات سمجھ نہ آتی تو اس مسئلے کو مزید کھول کر بیان کرتے، اس دوران میں کوئی طالب علم اگر مسکرا دیتا تو استاذ محترم فرماتے:جب اللہ اور اس کا رسول ان مسائل کے بیان کرنے میں شرم نہیں کرتے تو پھر ہمیں بھی ان مسائل کو سمجھنے اور سمجھانے میں شرم سے کام نہیں لینا چاہئے‘‘، استاذ محترم کا اشارہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی طرف ہوتا:[وَاللہُ لَا يَسْتَحْيٖ مِنَ الْحَقِّ۝۰ۭ]

(الاحزاب:۵۳)

ہم کس مرض کی دواہیں؟

ایک قابل اور محنتی استاذ کی یہ خصلت ہوتی ہے کہ وہ اپنے تلامذہ کو پوری تن دہی کے ساتھ سبق پڑھاتا اور سمجھاتاہے، یہ خصلت استاذ محترم کی ایک صفتِ لازمہ تھی۔ آپ سبق پڑھانے کے بعد طلبہ سے پوچھتے کہ سمجھ آگئی ہے یانہیں؟ آپ کا یہ سوال خصوصا ان طلبہ سے ہوتا جو پڑھائی میں کچھ کمزور ہوتے تھے۔ اگر کوئی طالب علم تھوڑا سابھی پریشان نظر آتا تو اسے دوبارہ سمجھاتے اور اکثر وبیشتر ساتھ میں یہ بھی فرماتے کہ ہم کس مرض کی دواہیں؟ اگر نہیں سمجھ آتاتو ہم سے پوچھیں ،ہم یہاں سمجھانے کے لئے بیٹھے ہیں۔

جھوٹ سے شدید نفرت

میری یہ خوش نصیبی ہے کہ معہد سلفی سے فراغت کے بعد مجھے استاذ محترم کے سایۂ شفقت میں بطور نائب مدیر ماہنامہ دعوت اہل حدیث تین ماہ گزارنے کا موقع میسر آیا۔ اسی سلسلے میں ایک دن استاذ محترم کے ساتھ بیٹھاہواتھا کہ باتوں باتوں میں فرمانے لگے: میرے موبائل میں فضیلۃ الشیخ استاذ محترم عبداللہ ناصر رحمانی حفظہ اللہ کا نمبر سیونہیں ہے۔ مجھے یہ بات سن کر حیرانی بھی ہوئی اور تعجب بھی کہ شیخ صاحب کے اس قدر قریب ہونے کے باوجود بھی نمبر سیونہیں ہے،میں نے وجہ پوچھی توفرمانے لگے: بہت سارے لوگ شیخ صاحب سے درس کاٹائم لینے اور تعاون کے سلسلے میں رابطہ کرنے کے لئے نمبر مانگتے ہیں، اگر نمبر دے دیں تواکثر لوگ بار بار کال کر کے شیخ صاحب کو خوامخواہ تنگ کرتے رہتے ہیں جس سے شیخ صاحب کا بہت وقت ضایع ہوتا ہے، اگر ان کو کہیں کہ ہمارے پاس نمبر نہیں ہے تو یہ واضح جھوٹ ہوگا ،اس لئے میں نے شیخ صاحب کا نمبر ڈیلیٹ کردیا ہے، استاذ محترم کا یہ جواب سن کر میں دنگ رہ گیا کہ اس قدر جھوٹ سے سخت نفرت!!!

استاذ محترم کی زندگی میں جھوٹ توپہلے بھی ہم نے نہیں پایا مگر اس دن یہ یقین ہوگیا کہ استاذ محترم واقعتاً:(ایاکم والکذب)کی عملی تصویر ہیں۔

متعصبانہ ذہنیت…؟

قوم،برادری اور لسانیت کے تعصب میں ہم نے بہت سارے لوگوں کوحق بات اور عدل وانصاف سے پھرتے دیکھا ہے۔ خاص کر لسانی تعصب کی رو میں بہت سارے لوگ بہہ جاتے ہیں۔ ایک طویل عرصہ سندھ میں گزارنے پرہمیں یہ بھی خاصا تجربہ ہوا کہ سندھی عوام کی اکثریت میں لسانی تعصب کے جراثیم کچھ زیادہ پائے جاتے ہیں، استاذ محترم ذوالفقار علی طاہرaبھی سندھی زبان سےتعلق رکھتے تھے ، حیران کن اور تعجب خیز بات یہ ہے کہ ہم نے استاذ محترم میں کبھی لسانی تعصب کی ذرہ برابر بھی بومحسوس نہیں کی۔ ان کاسندھی طلبہ اور دیگر زبانوں کے حامل طلبہ کے ساتھ بھی بلاامتیاز ایک جیسا رویہ ہوتا تھا۔ مجھے یہ بات لکھنے میں کوئی باک نہیں کہ سندھی طلبہ کو کسی بھی معاملے میں استاذ محترم کو سندھی ہونے کااحساس دلاکر اپنے حق میں فیصلہ کروانے کی جرأت کبھی نہ ہوتی تھی۔یہ بات بیان کرنے کایہ مقصد نہیں کہ سندھی طلبہ اور دیگر طلبہ میں اختلافات کی فضاقائم رہتی تھی، بیان کرنے کامقصد صرف یہ ہے کہ اگر کبھی اِکادُکا ایسے واقعات پیش آتے بھی تواستاذ محترم کا طرز عمل ہمیشہ حق بجانب رہا،یہ بات بھی مبالغے سے خالی ہے کہ دیگرزبانوں سے تعلق رکھنے والے طلبہ بھی استاذ محترم کو اپنا’’ہم زبان‘‘ سمجھتے تھے ،یہ تو طلبہ کی بات ہے، عوام الناس کے ساتھ بھی استاذ محترم کا رویہ کچھ اس سے جدا نہ تھا۔

مشفق اورغمخوار

استاذ محترم کی ایک نمایاں خوبی یہ تھی کہ جب کوئی طالب علم اپنی کسی پریشانی یاتکلیف کا اظہار استاذ محترم کے سامنے کرتا توآپ دلی طور پر اس طالب علم کا دکھ محسوس کرتے۔یوں لگتا تھاکہ اس طالب علم سے بڑھ کر استاذ محترم کو اس پریشانی اور تکلیف پر دکھ ہوا ہے،آپ اس طالب علم کو تقدیر پرراضی رہ کر صبر کرنے کی تلقین کرتے اور دل سے اس کے لئے دعائیں کرتے۔

عجز وانکسارکے پیکر

اللہ تعالیٰ نے استاذ محترم پر اپنی خاص نوازش فرماتے ہوئے آپ کو بڑی صلاحیتوں سے نوازاتھا، آپaبیک وقت مدرس، مقرر، مصنف اور ادیب تھے۔ ماہنامہ دعوت اہل حدیث کے انتظامی امور سنبھالنے سے قبل بھی اگر کسی طالب علم نے ماہنامہ دعوت اہل حدیث میں کوئی مضمون بھیجناہوتاتومضمون بھیجنے سے پہلے استاذ محترم کو چیک کرایا جاتاتھا۔آپ فائنل کرتے تب مضمون دعوت اہل حدیث میں شائع ہونے کے لئے بھیجاجاتاتھا۔ ایک قابل مدرس،ماہرمقرر، مصنف اور ادیب ہونے کے باوجود آپaمیں کوئی اکڑ یاپھول پھاں نہ تھی۔ عجزو انکسار آپ کی طبیعت میں کوٹ کوٹ کر بھراہواتھا۔ گاہے بگا ہے جب موبائل فون پر رابطہ ہوتا اور میں ضیائے حدیث میں چھپنے والے اپنے مضامین کےبارے میں اصلاح طلب کرتا تو فرماتے: ’’آپ کے مضامین بڑے بہترین ہوتے ہیں،میں نے آپ کے فلاں مضمون سے جمعہ پڑھایا ہے۔‘‘استاذ محترم کے یہ الفاظ جہاں آپ کی عاجزی اور انکساری پر دلالت کرتے وہیں یہ الفاظ میرے جذبے اور حوصلے کو بھی جلابخشتے۔یہی وجہ ہے کہ میں نےجب بھی ضیائے حدیث میں شائع ہونےوالے مضامین کے حوالے سے بات کی یا ماہنامہ دعوت اہل حدیث میں شائع کرنے کے لئے کوئی مضمون بھیجا استاذ محترم نے ہمیشہ میری حوصلہ افزائی فرمائی۔

پنکھے کے قریب ہوجائیں

ایک قابل مدرس کی بہت ساری خصوصیات میں سے ایک خصوصیت یہ ہوتی ہےکہ استاذ بڑی توجہ کے ساتھ سبق پڑھائے، طلبہ بڑی غور کے ساتھ اس سبق کو سنیں اوربغیر کسی مارپیٹ کے اس سبق کو بعینہ یاد کریں،جس طرح استاذ پڑھائے ،ایک قابل ،محنتی اور مشفق استاذ کی یہ خصلت استاذ محترم الشیخ ذوالفقار علی طاہر رحمہ اللہ میں بدرجہ اتم پائی جاتی تھی۔ آٹھ سالہ عرصے میں مجھےیاد نہیں پڑتا کہ استاذ محترم نے سزا دینے کے لئے مارپیٹ کا طریقہ اختیار کیا ہو۔ البتہ استاذ محترم کا سزا دینے کا اپنا ایک انداز بڑا معروف تھا اور وہ تھا:پنکھے کےقریب کرنا۔جب کوئی طالب علم سبق یاد کرکے نہ آتا تواستاذ محترم بڑے دھیمے لہجے میں فرماتے:پنکھے کے قریب ہوجا۔ پنکھے کے قریب ہونے کا مطلب یہ ہوتا کہ کھڑے ہوکرسبق یادکرو۔پنکھے کے قریب ہونا اگرچہ بظاہرفائدہ مند ہوتا کہ اس سے ہوا زیادہ لگتی مگر طلبہ کی پوری کوشش ہوتی کہ استاذ محترم کے پیریڈ میں یہ نوبت نہ ہی آئے۔

طبیعت میں ٹھہراؤاوراطمینان

استاذ محترم کی ایک خصلتِ حمیدہ یہ تھی کہ آپ کی طبیعت میں بڑا ٹھہراؤاور اطمینان تھا، آپ کی طبیعت میں خوامخواہ کی تیزی اور اضطراب کی کوئی چیز نہ تھی،آپ پر سکون طبیعت کے مالک تھے، جو بھی کام کرنا ہوتا بڑے سکون ،آرام اور اطمینان کے ساتھ کرتے۔ طلبہ کو بھی اسی بات کا درس دیتے، خاص کر امتحانات کےدنوں میں طلبہ کو اس بات کی تلقین کرتے کہ سوالوں کے جوابات بڑے آرام اور سکون سے لکھیں، پہلے سکون سے سوال کو اچھی طرح سمجھیں اور پھر بعد میں اس کا جواب لکھنا شروع کریں، ایسا نہ ہوکہ آپ جلدی میں سوال کو سمجھ نہ پائیں اور جواب کچھ کا کچھ لکھ دیں۔

محترم قارئین!استاذ محترم کی شخصیت کے حوالے سے یہ چند باتیں تحریر کرنے کی کوشش کی ہے،حقیقت یہ ہے کہ جو بھی بات جوں جوں لکھ رہاتھاتوں توں اس بات سے متعلق استاذمحترم کا انداز اور طریقہ کار ذہن کی پردہ اسکرین پر ساتھ ساتھ چل رہا تھا۔ہمیں استاذ محترم کی جدائی کا غم تو بہت ہے مگر اس کے باوجود جب مزاح سے بھرپور آپ کے علمی اور ادبی لطائف دل ودماغ میں آتے ہیں توہنسی روکے نہیں رکتی۔ اخلاق کے دائرے میں رہتے ہوئےآپ کامزاح کرنا اساتذہ کی مجلس کو رونق بخشتا تھا، دوران سبق بھی علم وادب سے بھرپورمزاحیہ چُٹکلا چھوڑنا آپ ہی کاخاصہ تھا۔

دل تو چاہتا ہے کہ استاذ محترم کی شخصیت میں پائی جانے والی مزید امتیازی خصوصیات کوذکرکروں مگر مزید طوالت سے بچنے کے لئے آخری بات ذکرکرکے اپنے مضمون کو سمیٹنے کی کوشش کرتاہوں۔

(ان شاءاللہ)

[..فامساک بمعروف اوتسریح باحسان..](البقرہ:۲۲۹)

اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان کہ’’اچھائی کے ساتھ روکنا یا عمدگی کے ساتھ چھوڑ دینا‘‘ اگرچہ میاں اور بیوی کے معاملات کے تعلق سے ہے مگر استاذ محترم زندگی کے دیگر معاملات میں بھی اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کو اپنے سامنے رکھتے تھے ، یہ غالباً ان دنوں کی بات ہے جب میں کراچی چھوڑ کر پنجاب آنے کے لئے استاذ محترم سے الوداعی ملاقات کرنے کے لئے گیا۔استاذ جی کے پاس بیٹھاہواتھا کہ بطورنصیحت مجھے فرمانے لگے: ’’اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کو ہمیشہ اپنے سامنے رکھو،آپ یہاں سے جارہے ہیں، جہاں بھی کام کرنے کا موقع ملے وہاں رہنا ہے تو اچھے طریقے سے اور اگر چھوڑنا پڑے تو پھربھی اچھے طریقے سے جانا ہے۔ اپنے تعلقات خراب نہیں کرنے بلکہ آپ کے جانے کے بعد لوگ آپ کو اچھے الفاظ کے ساتھ یاد کریں،اسی طرح دیگر معاملات میں بھی اس فرمان کو اپنے سامنے رکھنا ہے ۔‘‘استاذ محترم کی یہ نصیحت ہمیشہ میرے پیشِ نگاہ رہی اور میں نے اسے بہت مفید پایا ،والحمدللہ علی ذلک.

استاذ محترم کا قرآن وحدیث کےمطابق زندگی گزارنا اور اس دنیا سے جانا ،اس بارے تنہائی میں بیٹھا سوچ رہا تھا کہ یہی نصیحت پردہ اسکرین پر چلنے لگی کہ استاذ محترم کا اس دنیا میں رہنا بھی اچھا تھا اور اس دنیا کو چھوڑ کر جانا بھی بہت اچھا !!!(ان شاءاللہ) ایسا چھوڑ کر گئے کہ ہر کسی کو اپنی یادوں میں گم کرگئے۔ایسی یادیں چھوڑ گئے کہ جن کے بیان کے لئے اچھے الفاظ کاذخیرہ بھی کم پڑتا نظرآنے لگا،اللھم اغفرلہ وارحمہ وادخلہ الجنۃ الفردوس.

About حافظ شیبر صدیق

جواب دیجئے