Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2018 » شمارہ فروری و مارچ » اک چراغ اور بجھا اور بڑھی تاریکی

اک چراغ اور بجھا اور بڑھی تاریکی

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:[اَوَلَمْ يَرَوْا اَنَّا نَاْتِي الْاَرْضَ نَنْقُصُہَا مِنْ اَطْرَافِہَا۝۰ۭ وَاللہُ يَحْكُمُ لَا مُعَقِّبَ لِحُكْمِہٖ۝۰ۭ وَہُوَسَرِيْعُ الْحِسَابِ۝۴۱ ](الرعدـ:۴۱)

ترجمہ:لوگ یہ چیزکیوں نہیں دیکھتے کہ ہم زمین کو اس کے تمام اطراف سے کم کرتے جارہےہیں ،فیصلہ اللہ تعالیٰ ہی کرتا ہے اور اس کے کسی حکم کو کوئی ٹالنے والانہیں ہے اور وہ بہت جلد حساب وکتاب لینے والاہے۔

زمین کو اس کے اطراف سے کیسے گھٹایاجارہاہے؟ اس بارے میں مفسرین کے مختلف اقوال ہیں۔ سیدنا ابن عباسwاور مجاہد رحمہ اللہ نے ایک تفسیر یہ بھی ذکر فرمائی ہے کہ:اس سے مراد علماء،فقہاء وصلحاء کادنیا سے اٹھ جانا ہے،یعنی علماء کی موت زمین میںمختلف فتنوں کے نمودارہونے کی علامت ہے۔

نبی کریم ﷺ نے فرمایا:ان مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ: أَنْ يَقِلَّ العِلْمُ، وَيَظْهَرَ الجَهْلُ.(صحیح بخاری:۸۰،صحیح مسلم:۲۶۷۱)

قیامت کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ علم کو اٹھالیاجائے گا اور جہالت اپنے پنجے گاڑ لے گی۔

علم کو کیسے اٹھایاجائے گا؟

رسول اللہﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ علم کو ایسے نہیں اٹھائے گا کہ لوگوں کے سینوں سے اُچک کرمحو کردے، بلکہ علماء کو اس دنیا سے اٹھا کر علم کواٹھالے گا،تو جب علماء دنیا میں باقی نہیں رہیں گے تو لوگ اپنے رئیس(بڑے،حکمران،ذمہ داران،ائمہ وخطباءومدرسین)جاہلوں کو بنالیں گے ،ان لوگوں سے مسائل دریافت کئے جائیں گے اور فتوے لئے جائیں گے وہ بغیر علم کے اپنی رائے وقیاسات (باطلہ) سے فتوے دیں گے اس طرح وہ خود توگمراہ ہونگے مگر دوسروں کو بھی گمراہ کردیں گے۔(صحیح بخاری:۷۳۰۷،صحیح مسلم:۲۶۷۳)

الارض تحیا اذا ما عاش عالمھا

حتی یمت عالم منھا یمت طرف

زمین اس وقت تک آباد وزندہ رہتی ہے جب تک اس کی پشت پر علماء زندہ ہیں جب کوئی عالم فوت ہوتا ہے تودرحقیقت زمین کا کوئی طرف (ٹکڑا) فوت ہوجاتاہے۔

سیدنا عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ نے فرمایا:عالم کی وفات اسلام میں ایسا شگاف ہے جسے کبھی بھی کوئی چیز پر نہیں کرسکتی (یعنی جس کی کوئی تلافی نہیں ہے) (شرح السنۃ للبغوی :۱؍۳۱۷)

سعید بن جبیرaسے سوال کیاگیا کہ لوگوں کی ہلاکت کی نشانی کیا ہے؟

فرمایا:جب ان کے علماء فوت ہوں۔(حوالہ ایضا)

سفیان بن عیینہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:لوگوں کے لئے اس سے بڑی کیا آزمائش ہوسکتی ہے!کہ ان کے علماء فوت ہوجائیں۔(شرح السنۃ)

ایوب سختیانی aفرماتے ہیں کہ مجھے جب کسی سنت پرعامل شخص کی وفات کی اطلاع ملتی ہے توگویا میرے جسم کا کوئی عضو ٹوٹ جاتاہے۔(حلیۃ الاولیاء:۳؍۹)

لعمرک ما الرزیۃ فقد سال

ولا شاۃ تموت ولابعیر

ولکن الرزیۃ فقد شخص (عالم)

یموت بموتہ خلق کثیر

درحقیقت مصیبت وآزمائش یہ نہیں ہے کہ بندے کامال اونٹ، بھیڑ،بکریاں تلف ہوجائیں۔حقیقی آزمائش اورمصیبت تو کسی عالم کا فوت ہونا ہے کہ اس کی موت سے ایک خلق کثیر مرجاتی ہے۔

ہم جس دور سے گزر رہے ہیں یہ علمی انحطاط کادور ہے اور علماء حق اٹھے جارہےہیں، ایسی ہی متبحر علمی اور نابغہ روزگارشخصیات میں سے ہمارے استادمحترم الوالد المکرم فضیلۃ الشیخ ذوالفقار علی طاہررحمہ اللہ بھی تھے، ان کا سانحہ ارتحال ایک نقصان عظیم ہے۔

تقدیر پر ایمان میں اہل ایمان کیلئے بہت بڑی تسلی ہوتی ہے ،ورنہ اس دن کلیجہ پھٹ جاتا:

ان العین تدمع والقلب یحزن ولانقول الامایرضی ربنا وانا بفراق شیخنا ووالدنا لمحزونون.

اس مضمون میں مختلف عنوانات کے تحت آپaکی عظیم زندگی پر نظر ڈالی گئی ہے۔

عقیدہ توحید ومنہجی غیرت

شیخنا الوالدرحمہ اللہ نے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ:دعوت اہل حدیث میں توحید کو اہم ترین وبلندترین مقام حاصل ہے اس لئےکہ توحیدہی ہر نبی کی بنیادی دعوت ہے:[وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِيْ كُلِّ اُمَّۃٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اللہَ وَاجْتَـنِبُوا الطَّاغُوْتَ۝۰ۚ ]

ہم نے ہر امت میں رسول کو(یہ دعوت دے کر) بھیجا کہ تم (ایک) اللہ کی عبادت کرواور طاغوت سے بچو۔(النحل:۳۶)

سیدنانوح،ہود،صالح وشعیب oاور تمام انبیاء کی یہی دعوت تھی کہ تم اللہ کی عبادت کرو اور اس کے سواتمہاراکوئی معبود نہیں۔(الاعراف:۵۹،۶۵،۷۳،۷۵،الانبیاء:۲۵)

اللہ تبارک وتعالیٰ نے محمدﷺ کو بھی یہ حکم دیا کہ آپ اپنے عقیدہ کا اظہار ان الفاظ میں کیجئے:[قُلْ اِنَّ صَلَاتِيْ وَنُسُكِيْ وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِيْ لِلہِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ۝۱۶۲ۙ لَا شَرِيْكَ لَہٗ۝۰ۚ وَبِذٰلِكَ اُمِرْتُ] (الانعام:۱۶۳،۱۶۲)

بیشک میری نماز(بدنی عبادت)اور میری قربانی(مالی عبادت) اور میرا جینا اورمیرامرنا تمام جہانوں کے رب اللہ تعالیٰ کے لئے ہے اور مجھے یہی( عقیدہ اپنانے کا)حکم دیاگیاہے۔

رسول اللہﷺ نےکئی واقعات میں صحابہ کرام کو عقیدہ توحید میں راسخ ہوجانے کی تعلیم وترغیب دی،مثلاً:دوران سفر جب آپﷺ نے اللہ اکبر اللہ اکبر،اشھدان لاالٰہ الااللہ آواز سنی تو فرمایا: علی الفطرۃ…خلع الانداد.یہ شخص فطرت یعنی دین اسلام پر قائم ہے اور اس نے تمام شرکاء کو ترک ورد کردیا۔(ترمذی:۱۶۱۸،مسند البزار البحر الزخار:۴۲۲۵)

ماشاءاللہ وشئت کہنے والے کوفرمایا:جعلتنی للہ ندا بل ماشاء اللہ وحدہ.تم نے مجھے اللہ کے ساتھ شریک کردیا!بلکہ (صرف یہ کہاکروکہ) جیسے ایک اللہ چاہے۔

توحیدوصفات الرحمٰن پر مشتمل سورۃ الاخلاص ہررکعت میں پڑھنے والے سے فرمایا:

اخبروہ ا ن اللہ عزوجل یحبہ.(صحیح بخاری:۷۳۷۵)

اسے خبر دے دو کہ بیشک اللہ عزوجل اس سے محبت کرتاہے۔

صحابہ کرام کی زندگیوں کااولین مقصداقامت توحید ہی تھا،سیدنا ربیع بن عامرtسے جب رستم (بادشاہ) نے پوچھاتھا کہ تم اپنے بال بچوں، تجارت وکاروبار وغیرہ کو کیوں نہیں سنبھالتے کیوں لوگوں سے قتال کرتے پھرتے ہو؟ توانہوں نے جواب دیا کہ:لکی نخرج العباد من عبادۃ العباد الی عبادۃ رب العباد.

ہماری زندگیوں کامقصد ہی یہی ہے کہ ہم بندوں کو بندوں کی عبادت سے نکال کر بندوں کورب کی عبادت کےساتھ جوڑ دیں۔

(البدایہ والنھایہ ج۷غزوہ قادسیہ ،تاریخ اسلام)

اس لئے عقیدہ توحید کے بارے میں ذرے برابرتغافل،تساہل ومداہنت ناقابل برداشت ہے،مشرکین تو یہ چاہتے تھے کہ :

[وَدُّوْا لَوْ تُدْہِنُ فَيُدْہِنُوْنَ۝۹ ](القلم:۹)

کہ آیئے ذرا سازباز کرلیتے ہیں کچھ مداہنت ونرمی آپ کرلیں اور کچھ ہم کرلیتے ہیں۔

شیخنا الوالد رحمہ اللہ ہمیشہ اس صافی منہج پر قائم ودائم رہے، عقیدہ ومنہج کے سلسلے میں ذاتی وسیاسی مفادات کی خاطر مداہنت ،تساہل کے شکار افراد وجماعتوں پربلاخوف لومۃ لائم سخت تنقید فرماتے،تقریر، خطبہ ومضامین میں ان کی اصلاح کی کوشش فرماتے رہے۔

آپ رحمہ اللہ کی زندگی کے آخری خطبات کاموضوع بھی عقیدہ توحید ہی تھا،یکم دسمبر2017ءکے خطبہ جمعہ میں راقم بھی شریک تھا موضوع عقیدہ توحید ہی تھا۔

عقیدہ کی معروف کتاب’’لمعۃ الاعتقاد‘‘ کا مستقل سلسلہ وار درس ۔ابوھریرہ مسجدنیاآباد میں ہرانگریزی مہینے کے دوسرےہفتے کے دن بعدنمازعشاء تاحیات قائم رہا،11نومبر2017ء بروز ہفتہ آخری درس مسئلہ تقدیر پر ارشاد فرمایا،یہ درس 21مہینے ہوا۔برادر حافظ عبدالوہاب حفظہ اللہ (امام وخطیب مسجدہذا)نے بتایا کہ درس کے بعد کچھ ساتھی میرے پاس آکرکہنے لگے کہ تقدیر پر اس سے پہلے بھی کئی علماء کرام کی گفتگو سنی ہے لیکن اس بارے میں تشفی آج شیخ ذوالفقار علی طاہر (رحمہ اللہ )کا درس سن کر ہوئی ہے۔ حافظ صاحب بتارہے تھے کہ شیخ رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اس کتاب کی تکمیل پر میں خودفضیلۃ الشیخ عبداللہ ناصر رحمانی حفظہ اللہ سے ٹائم لوں گا اور آپ اس کتاب کا اختتامی درس اس کے خلاصہ کے طور پر ارشاد فرمائیں گے۔اللہ اکبر رحمہ اللہ رحمۃ واسعۃ.

عقیدہ کے سلسلہ وار درس کا یہ پروگرام اب آپ کے روحانی بیٹے الشیخ عبدالصمد المدنی حفظہ اللہ نے سنبھال لیا ہے اللہ تعالیٰ ان کے لئے صدقہ جاریہ بنادے۔

ہمارے علاقے میں ’’لائق پیر‘‘ کے عرس کے سلسلے میں لگنے والے میلے کیخلاف تحریک میں شیخaنے بڑابھرپور کا کردار ادا کیا، مقامی ساتھیوں کو مشورہ دیتے ،تحریک کی کارکردگی کی باقاعدہ رپورٹ لیتے رہتے تھے، مجلہ دعوت اہل حدیث میں اس سلسلہ میں آپ نے مضمون بھی شایع فرمائے۔الحمدللہ مقامی جماعت کی بھرپورمحنت اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ تحریک کامیاب ہوئی اور گورنمنٹ کی طرف سے اس عرس پر پابندی لگادی گئی۔

عقیدہ ومنہج آپ کا پسندیدہ موضوع تھا، اکثر بڑی بڑی کانفرنسوں میں آپ کا موضوع اسی طرح کا ہوتا تھا،آ پ کی کوشش ہوتی کہ ہر موضوع میں عقیدہ ومنہج پر کچھ گفتگوضرور کی جائے۔ محترم الشیخ ڈاکٹر عبدالحفیظ سموں (ناظم اعلیٰ جمعیت اہل حدیث سندھ) حفظہ اللہ نے بتایا ہمیں جب بھی اس موضوع پرگفتگو کروانے کیلئے اپنے علاقے میں ضرورت پڑتی تو ہم شیخ ذوالفقار علی طاہررحمہ اللہ کوہی مدعو کرتے تھے،’’عقیدہ وعقیدت‘‘ کے عنوان سے آپ رحمہ اللہ کا ایک خطاب انتہائی اہم اور یادگار ہے۔

صحیح عقیدہ ومنہج کے منافی جس فورم سے بھی آواز اٹھی شیخa نے اس کا خوب رد کیا، اخبارات ورسائل پر نظر رکھتے غیرمنہجی بات کا دعوت اہل حدیث کے اداریہ میں جواب لکھتے، گروزنی میں ہونے والی صوفی کانفرنس ہو، یااسمبلی سے پاس ہونے والے غیر اسلامی قوانین، سیاستدان کاجہنم کی گرمی برداشت کرلینے والابیان ہو یانام نہاد شریعت لطیفی کےمطابق پڑھایا جانے والازنانہ نکاح غرض یہ کہ ہر غیر شرعی وغیر منہجی افکار ونظریات کے رد میں بڑے ہی جاندار اداریے ومضامین تحریر فرمائے، آپ رحمہ اللہ کے اداریوں ومضامین کی بہت بڑی خصوصیت یہ بھی تھی کہ آپ محض ادبی لفاظی پرزور نہیں دیتے تھے بلکہ نفس مسئلہ پر بھرپور مواد بھی فراہم کردیتے تھے۔

منہج سے وفا

چند سال قبل سعید آباد کی سالانہ کانفرنس میں منہج سے وفا کے عنوان پر تاریخی خطاب فرمایاتھا، برادرم حافظ فضل اللہdنے بتایا کہ ہرصورتحال میں عقیدہ ومنہج پر قائم رہنے کیلئے جادوگروں کا سیدنا موسیٰu پر ایمان لانے کا قصہ ذکر فرمایاکہ:فرعون نے جادوگروں سے کہا: [لَاُقَطِّعَنَّ اَيْدِيَكُمْ وَاَرْجُلَكُمْ مِّنْ خِلَافٍ ثُمَّ لَاُصَلِّبَنَّكُمْ اَجْمَعِيْنَ۝۱۲۴ ](الاعراف:۱۲۴) کہ میں تمہیں یہ سزادوں گا کہ پہلے تمہارے ہاتھ پیر کاٹوں گاپھر سولی چڑھادوںگا۔لیکن وہ ذرہ برابر گھبراہٹ کا شکار نہ ہوئے بلکہ کہنے لگے:[فَاقْضِ مَآ اَنْتَ قَاضٍ۝۰ۭ](طہ:۷۲) توجوکچھ چاہتا ہے وہ کرلے ہم اب اس عقیدہ سےپھرنے والے نہیں ہیں۔

شیخنا رحمہ اللہ کے ایک شاگرد رشید حافظ شبیر dفاضل المعہد السلفی وسب ایڈیٹر ماہنامہ ضیائے حدیث لاہور نےلکھا: استاذ محترم کی وفات کے موقع پر لمبی چوڑی تحریر لکھنے کی بجائے صرف اتنا کہوں گا کہ ہم نے عقیدے اور منہج کی غیرت استاد محترم فٗضیلۃ الشیخ ذوالفقار علی طاہر رحمہ اللہ سے سیکھی ہے، اللہ گواہ ہے جب کبھی عقیدے ومنہج کی بات ہوتی توذہن میں فوراً استاد محترم کی یاد آجاتی ،انا عندظن عبدی بی کے تحت ہمارے دل اس بات پر مطمئن ہیں کہ اللہ تعالیٰ استادمحترم کی عقیدے اور منہج کی غیرت کی بناء پر بشری لغزشوں سےد رگزر کرتے ہوئے جنت میں ضرور اعلیٰ مقام عطافرمائے گا۔أللھم اغفرلہ وارحمہ وارفع درجتہ فی المھدیین.

توحید پر مشتمل یہ الفاظ :اللہ ربی ومولائی ہمارے استاد محترم رحمہ اللہ کے تکیہ کلام تھے، یہ الفاظ بار بار دہراتے ،کچھ دیر خاموشی کے بعد:اللہ ربی ومولائی بے اختیار آپ کی زبان سے نکل جاتا،یعنی اللہ ہی میرا پروردگار،مالک،مربی ،منتظم، نگران،دوست ورفیق،محبوب، وارث اور سرپرست ہے۔ اسی طرح:اللہ ربی لااشرک بہ شیئا. بھی اکثر وبیشتر پڑھتے رہتے تھے۔

منہجی ومسلکی غیرت

اہل حدیث کےمسلک ومنہج پرذرہ برابرآنچ برداشت نہیں کرتے تھے ، اہل حدیث کے خلاف جہاں بھی آواز اٹھتی بھرپور جواب دیتے اس سلسلے میں کئی ادایے اورمضامین تحریر کئے، مثلاً: 1دعوت اہل حدیث کے عنوان پر بہترین مضمون لکھا جسے ایک پمفلٹ کی شکل میں بھی شایع کیا گیا۔2کسی نے یہ طنز کیا کہ بتاؤ لفظ اہل حدیث کے استعمال پر کتنی نیکیاں ملتی ہیں؟ اس بارے میں ایک مضمون لکھا3کسی نے کہا اہل حدیث کہلواناریاکاری ہے تو اس کا زبردست رد لکھا4ایک مولوی نے کہا اہل حدیث لفظ تو صرف برصغیر میں استعمال ہوتا ہے اس کا دندان شکن جواب لکھ ڈالا5اہل حدیث کے خلاف عالمی سازشیں(یہ مضمون اتنا بہترین تھا کہ کراچی اور حیدرآباد میں الگ الگ چھپواکر تقسیم کیاگیا)6تقلید کے کرشمے۔ وغیرہم

7علامہ سید بدیع الدین الراشدی رحمہ اللہ کی کئی کتب کے تراجم کئے جو کہ مطبوع ہیں جن میں سرفہرست اہل حدیث کے امتیازی مسائل: (۱)رفع الیدین (۲)سینے پر ہاتھ باندھنا (۳)فاتحہ خلف الامام(۴) تحفہ نماز مغرب(۵)فقہ وحدیث (۶)مقدمہ بدیع التفاسیر کا اردوترجمہ (۷)حجۃ الوداع(۸)انفاق فی سبیل اللہ۔

شیخ العرب والعجم علامہ سید بدیع الدین الراشدی رحمہ اللہ کی  قائم کردہ جمعیت اہل حدیث سندھ کو آپ منہجی طور پر بہترین اورمضبوط سمجھتے تھے اورتاحیات اسی کے ساتھ وابستہ رہے اور اپنے خاندان کے افراد کو بھی اسی کی تلقین فرماتے رہے۔

قرآن وحدیث سے محبت اور اتباع سنت

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:قرآن پڑھا کروکیونکہ قرآن قیامت کے دن اپنے پڑھنے والوں کے لئے شفاعت کریگا۔(صحیح مسلم:۸۰۴) بے شک اللہ تعالیٰ اس کتاب(قرآن) کی وجہ سے بہت سارے لوگوں کو سربلندی عطافرماتاہے۔(صحیح مسلم:۸۱۷) قرآن مجید کو پڑھنے والےکی مثال ایسے پھل(مالٹا) کی طرح ہے کہ اس کاذائقہ بھی اچھا ہے اورخوشبوبھی بہترین ہوتی ہے۔(بخاری:۵۰۲۰) قرآن مجید کی تلاوت کرنے والے اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایسی تجارت کررہے ہیں کہ جو کبھی ختم ہونےوالی ہی نہیں۔(الرعد:۲۸) قرآن کو مہارت کے ساتھ پڑھنے والااللہ تعالیٰ کے انتہائی مقرب معزز ور نیک سفراء (فرشتوں) کےساتھ ہوگا۔(مسلم:۲۴۴) کائنات میں سب سے اچھے لوگ قرآن پڑھنے والے ہیں۔(بخاری:۵۰۲۷)جسے پسند ہو کہ وہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرے (اور ان کا محبوب بن جائے)تو اسے قرآن پڑھنا چاہئے۔(حلیۃ الاولیاء ۷؍۲۰۹،شعب الایمان ۲۰۲۷،السلسلۃ الصحیحۃ:۲۳۴۲)

قارئین کرام! ہمارے روحانی والدشیخ ذوالفقار علی طاہررحمہ اللہ کا قرآن مجید کے ساتھ بڑا ہی گہرا اورمضبوط تعلق تھا جو کہ آپ کی وفات تک جاری رہا۔

شیخ رحمہ اللہ نے امامت وخطابت کا باقاعدہ آغاز سبحانی مسجد ھنگورہ آباد لیاری کراچی سےکیا تھا، قرآن مجید کی تلاوت ترجمہ وتفسیر سے آپ کو بہت شغف تھا ،سبحانی مسجد میں آپ نے جماعتی احباب کے لئے باقاعدہ ترجمۃ القرآن کی کلاس کاآغاز کیا، شیخ العرب والعجم محدث دیار سندھ سیدبدیع الدین شاہ راشدی رحمہ اللہ کی سندھی میں لکھی ہوئی عظیم الشان تفسیر’’بدیع التفاسیر‘‘بہت زیادہ پسند فرماتے تھے ،کہتے تھے کہ اس کی حفاظت میں اپنی جان سے زیادہ کرتاہوں ،مذکورہ تفسیر سے روزانہ اردو میں درس ارشاد فرماتے تھے۔

ترجمہ وتفسیر کی اس کلاس کو آپ نےجامع مسجدابوعبیدہ بن الجراح(رضی اللہ )ڈرگ روڈ میں بھی جاری رکھا ،یہ سلسلہ سورہ یوسف تک پہنچ چکاتھا۔

سندھی زبان میں احسن البیان کی طرز پر ایک جلد میںایک تفسیر لکھنے کا عزم رکھتے تھے جس کے لئے آپ نے بنیادی تیاری بھی کر رکھی تھی ،وفات کے وقت جوموبائل آپ رحمہ اللہ کی جیب میں تھااس میں بعض میسیج محفو ظ تھے ان میں سے دو میسیجز تفسیر کے بارے میں تھے کہ:تفسیر کے لئے استفادہ والی کتب (۱)بدیع التفاسیر(۲)توحید ربانی (۳)تمییز الطیب(یہ تینوں کتب شیخ العرب والعجم سید بدیع الدین الراشدی رحمہ اللہ کی تصنیف کردہ ہیں) (۴)حدیث وسنت میں فرق عزیز اللہ بوہیو کا رد،تصنیف پروفیسر محمد جمن کنبھر(۵)قصص القرآن (۶)قرآن میں تحریف۔

یہ نوٹ آپ رحمہ اللہ نے بتاریخ24دسمبر2017ء بوقت رات ۳۴:۹ اور ۳۵:۹بجے وفات سے صرف ۹دن قبل محفوظ کئے تھے، یعنی تفسیر کےآغاز کیلئے آپ عزم مصمم اورتیاری کرچکے تھے۔

ماہ رمضان میں آپ نے پوری زندگی خلاصہ تراویح بھی بیان کیا، تروایح میں پڑھے جانے والے سیپارے کی مختصر تفسیر بیان فرماتے، یہ خلاصہ تراویح بعض نوٹس اور مکمل آڈیو کی صورت میں الحمدللہ محفوظ ہے، ایک سال خلاصہ تراویح رحمانیہ مسجد بوہرہ پیر میں بیان فرمایا۔

اپنے تمام بچوں کو قرآن مجید کی ابتدائی تعلیم آپ نے خود ہی اپنے گھر میں دی،اسپیکر پرمسجد میں جب ترجمہ وتفسیر کی کلاس پڑھاتے تو اپنے گھروالوں ،بچوں کو کہتے کہ آپ لوگ بھی قرآن مجید کے نسخے کھول کر ترجمہ وتفسیر پڑھاکرو۔

روزانہ اسلامی تاریخ کےحساب سے قرآن مجید کےایک سیپارے کی تلاوت زندگی بھر آپ کا معمول رہا، چاند کی ۲۹تاریخ کو متفکر رہتے اورمعلوم کرتے کہ پہلی تاریخ ہوئی یانہیں؟ اگرانتیس(۲۹) کو چاند نظرآجاتا تو اس دن دوسیپارے تلاوت کرتے، آپ کی وفات 1439ھ ربیع الثانی کی پندرہ تاریخ بروز بدھ شام پانچ بجے کے بعد ہوئی تھی، اس دن آپ نے حادثہ سے صرف آدھا پون گھنٹہ قبل: شام۲۸:۴ (چار بج کر اٹھائیس منٹ)پر پندرھواں (۱۵)پارہ پڑھا، یہ بات ان کےموبائل میں محفوظ کردہ یاددہانی والے ایک نوٹس سے معلوم ہوئی ،لکھا تھا:3جنوری 15ربیع الثانی15پارہ پڑھا۔

روزانہ ایک سیپارہ پڑھنے والے اس عمل پر آپ نے اپنی مسجد کے تمام جماعتی احباب کو بھی آمادہ کیا،فجر کے بعد اکثر ساتھی تلاوت کے لئے بیٹھ جاتے اور ایک سیپارہ پڑھ ہی جاتے۔

میںنے کئی بار نوٹ کیا کہ جب گاؤں میں آتے توعصر سے آدھا پونہ گھنٹہ قبل محفل سے اٹھ کر چلے جاتے وضوکرکے مسجد میں تلاوت قرآن مجید میں مشغول ہوجاتے۔

اپنی تقاریر وخطبات میں نہ صرف یہ کہ کم از کم ایک پارہ پڑھنے کی تلقین فرماتے بلکہ ترجمہ وتفسیر کے ساتھ پڑھنے پر زور دیتے ،ہر گھر میں تفسیر احسن البیان کا نسخہ ضرور رکھنے اور پڑھنے کی ہدایت فرماتے تھے۔

نبی کریم ﷺ نے فرمایا: قرآن شفاعت کریگا اور اس کی شفاعت قبول کی جائے گی،(جو آدمی قرآن سے مضبوط تعلق جوڑکر) اسے اپنے سامنے رکھے(پڑھے،پڑھائے،پیشواومقتدیٰ بنالے )توقرآن اسے جنت تک پہنچاکررہے گا۔(صحیح ابن حبان:۱۲۴،طبرانی کبیر:۱۰۴۵۰، السلسلۃ الصحیحۃ:۲۰۱۹)

یااللہ!ہمارے شیخ aکو اس حدیث کامصداق بناکر جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطافرما۔

حدیث رسول سے محبت واتباع سنت

نبی کریم ﷺ کی احادیث وسنت سے ہمارے شیخ رحمہ اللہ کو والہانہ عقیدت ومحبت تھی،اسلاف امت حدیث رسول ﷺ کی بہت زیادہ تعظیم فرمایا کرتے تھے امام مالک رحمہ اللہ جب اپنے گھر سے حدیث کا درس دینے کے لئے روانہ ہوتے توغسل کرتے، اچھے کپڑے پہنتے، اپنے بالوں اورداڑھی کوکنگھی کرتے، خوشبولگاتے، ٹوپی پہنتے یعنی بھرپور اہتمام کرتے اور فرماتے:اوقر بہ حدیث رسول اللہ ﷺ .ایسا کرکے میں حدیث رسول ﷺ کا ادب واحترام کرتاہوں۔(حلیۃ الاولیاء ۶؍۳۱۸)

ہمارے استا د محترم کا زندگی کے آخری دن تک حدیث رسول ﷺ کے ساتھ تعلق جڑا رہا۔

حدیث کی تمام تدریسی کتابیں عرصہ دراز تک پڑھاتے رہے، آپ نے جامعۃ الاحسان،جامعہ رحمانیہ اور المعہد السلفی میں تدریسی خدمات انجام دیں،المعہد السلفی کے قیام۱۹۹۹ء سےلیکر تادم حیات، تدریسی وتنظیمی تعلق رہا، سنن نسائی پرآپaکے لکھے ہوئے نوٹس ایک بہترین شرح ہیں، کئی طلبہ، اساتذہ ومدرسین نےان سے بھرپور استفادہ کیا،جن میں راقم بھی شامل ہے، ہمارے فاضل دوست الشیخ عارف اثری حفظہ اللہ نےبتایا کہ جب میں نے سنن نسائی پڑھائی توآپ کی اس شرح سے بھرپور استفادہ کیا اس کے بعد کسی اور شرح کی ضرورت ہی نہیں پڑتی تھی،سبق پڑھانے، مضمون یا اداریہ لکھنے کی ابتداء حمدوثناء اور درود وسلام سے فرماتے تھے۔

اپنے اسباق خصوصا حدیث کی کتاب بھرپورمطالعہ کے بعد پڑھاتے،جس دن مطالعہ نہ ہوتا اس دن طلبہ کو بتاکر پڑھانے سے معذرت کرتے، ہرسال حدیث کی کتاب لازماً مکمل پڑھاتے، المعہد السلفی میں تکمیل حدیث کو رواج دینے والے آپ ہی تھے، یقیناً یہ بھی بہت بڑا صدقہ جاریہ ہے۔

کتاب کو مکمل کرنے کے لئے تدریسی اوقات کے علاوہ بھی بہت وقت دیتے تھے، فجر کے فوراً بعد ہی حدیث پڑھانے کے لئے لوکل ٹرانسپورٹ میں اپنے گھر سے نکل جاتے طلبہ سے پہلے ہی کلاس میں بیٹھ جاتے،بعض طلبہ اگر سستی کا مظاہرہ کرتے توانہیں احساس دلانے کے لئے کہتےکہ بھائی مجھے یہاں جلدی پہنچنے کے لئے صبح صبح بسوں کے پیچھے بھاگنا پڑتاہے، مطالعہ کرنے یا خطبہ جمعہ وغیرہ کی تیاری کے لئے بعض اوقات کمرےکو باہرسے تالالگاکراکیلے بیٹھ جاتے۔

مسجد علی بن ابی طالب (t)شاہ بیگ لین میں شاہ صاحب رحمہ اللہ کی سندھی زبان میں تحریر کردہ کتاب ’’چالیھ حدیثون‘‘ یعنی چالیس احادیث کے درس کا ماہانہ سلسلہ عرصہ سے قائم تھا،آٹھ احادیث پر تیرہ دروس دے چکے تھے، آخری حدیث :حق المسلم علی المسلم….تھی حدیث کے الفاظ :اذا دعاک فاجبہ.یعنی جب کوئی مسلمان تمہیں دعوت دے تو اسے قبول کرو۔پر دو تین دروس ہوچکے تھے، یہ درسِ حدیث ہر مہینے کے دوسرے ہفتے کے دن بعدنماز مغرب منعقد ہوتا تھا، آخری درس 11نومبر2017ء کوہوا۔

zحدیث کی معروف کتاب مؤطا امام مالک کے ترجمہ وشرح کا ا بتدائی کام شروع کرچکے تھے۔

تمام اہل حق اہل الحدیث اور علماء اہل حدیث سے بڑی محبت کرنے والے تھے، شیخ العرب والعجم الامام السید بدیع الدین شاہ الراشدی رحمہ اللہ ،محدث العصر استاذ الاساتذہ علامہ عبداللہ ناصر رحمانی حفظہ اللہ  سے بڑی عقیدت ومحبت رکھتے تھے، ان کے علمی نکات وواقعات اپنی تدریس وتقریر میں کثرت کے ساتھ سناتے رہتے تھے، استاد محترم فضیلۃ الشیخ حافظ محمد سلیم اور استاد محترم فضیلۃ الشیخ محمد داؤد شاکرfسے بڑی محبت رکھتے، جنازہ کے موقعہ پر الشیخ حافظ محمد سلیم صاحب نے فرمایا کہ ہم تینوں(حافظ سلیم صاحب، شیخ داؤد شاکر اور شیخ ذوالفقار علی طاہر)کا آپس میں یہ عہد تھا کہ ہم میں سے جو بھی پہلے فوت ہوتودوسرے کے لئے بڑے اخلاص کے ساتھ دعائیں کریں۔ ترجمان مسلک اہل حدیث علامہ محمد ابراھیم بھٹی اور الشیخ ضیاء الحق بھٹی fکی بڑی تعریف کرتے۔ محدث العصر حافظ زبیرعلی زئی رحمہ اللہ سے بے حدمتاثر نظرآئے یکم دسمبر2017ءکی میری آخری ملاقات میں فرمایا شیخ زبیر رحمہ اللہ کی بہت زیادہ مخالفت کی جاتی ہے اس لئے میں ان کی کتابوں کو تنقیدی نظر سے پڑھ رہاہوں اب تک مجھے ان کی تحقیق میں کوئی جھول نظر نہیں آیا، اہل الحدیث کے مابین اجتہادی مسائل پر اختلاف میں تشدد پرسخت نالاں نظرآئے فرمایا کہ ان مسائل میں اکابر علماءپر طعن وتشنیع سخت معیوب ہے۔

دین اسلام میں اتباع سنت کی بڑی اہمیت ہے،شیخ رحمہ اللہ نے لکھاہے:دعوت اہل حدیث کا دوسرا اہم ترین جزء رسول عربی ﷺ کے اسوہ ،طریقہ ،سنت کی اتباع وپیروی کرنا،اس کے مقابلے میں کسی امام، فقیہ،پیر،بزرگ ولی کےطریقہ کو درخوراعتنا نہ سمجھنا۔

ہوتے ہوئے مصطفی (ﷺ)کی گفتار

مت دیکھ کسی کا قول وکردار

[قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللہَ فَاتَّبِعُوْنِيْ يُحْبِبْكُمُ اللہُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ۝۰ۭ وَاللہُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ۝۳۱]

اگرتم اللہ سے محبت کرناچاہتے ہو تو پھر میری(رسول اللہﷺ) کی اتباع کرو اللہ تم سے محبت کرے گا اور تمہارے گناہ بھی معاف کردے گا۔(آل عمران:۳۱)

[لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِيْ رَسُوْلِ اللہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ]

(الاحزاب:۲۱)

یعنی اگر کسی کا طریقہ واسوہ قابل اتباع ومستحق پیروی ہے تو وہ فقط رسول اللہ ﷺ ہی ہیں کسی امتی کو یہ مقام ومرتبہ حاصل نہیں ہے،اطاعت رسول سے روگردانی کرنے والادرحقیقت جنت میں جانے سےانکار کرنے والاہے۔(صحیح بخاری:۷۲۸۰)

اسی لئے امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: سنت رسول ﷺ کی مثال نوح علیہ السلام کی کشتی کی طرح ہے کہ جو اس میں سوار ہوگیا وہی نجات پاسکے گا اور جو سنت کی اتباع سے پیچھے رہ گیا تو وہ یقینا غرق ہوجائےگا۔(تاریخ بغداد ۷؍۳۳۶ح۳۸۵۰،تاریخ دمشق۱۴؍۹)

ہمارے استا د محترم رحمہ اللہ سنت رسول ﷺ کے بڑے شیدائی تھے، برادر حافظ فضل اللہ کا بیان ہے کہ اتباع سنت کی حکمت بیان کرتے ہوئے یہ آیت پڑھی:[وَمَا جَعَلْنَا الْقِبْلَۃَ الَّتِىْ كُنْتَ عَلَيْہَآ اِلَّا لِنَعْلَمَ مَنْ يَّتَّبِــعُ الرَّسُوْلَ](البقرہ:۱۴۳) پھر فرمانے لگے کہ اللہ تعالیٰ اس بات پر قادر تھا کہ حدیث وسنت کو بھی قرآن کی صورت میں نازل فرمادیتا لیکن ایسا اس لئے بھی نہیں کیا کہ:[اِلَّا لِنَعْلَمَ مَنْ يَّتَّبِــعُ الرَّسُوْلَ ]تاکہ پتہ چلے کہ رسول اللہ ﷺ کی اتباع وفرمانبرداری کون کرتا ہے اور کون اس سے روگردانی کرتاہے۔

شیخ رحمہ اللہ نہ صرف خود اور اپنے گھروالوں کو سنت پر عمل پیرا ہونے کی ترغیب دیتے بلکہ تقریباً آپ کی ہر تقریر وخطاب میں یہ دعوت ضرور ہوتی، اپنی مسجد میں ہر جمعرات کو بعدنمازمغرب درس ارشاد فرماتے اورجمعۃ المبارک کی تمام سنتوں کا ذکرفرماتے،اور عمل کی ترغیب دلاتے،اسلامی مہینے کی ہر۱۲(بارہ) تاریخ کو ایام بیض کے روزوں کے متعلق درس دیتے اور اپنی پوری زندگی اس پرخود بھی عمل پیرا رہے ،جمعہ کے دن سورہ کہف کی تلاوت ضرور کرتے بلکہ دوسروں کو یاددہانی بھی کرواتے،چاند کی آخری تاریخ کا درس چاند دیکھنے کی دعا پر مشتمل ہوتا،صبح وشام اور دیگر مواقع کے اذکار کی سختی سے پابندی کرتے اور ترغیب دیتے رہتے۔

اتباع سنت کے حوالےسے آپaکےلکھے ہوئے سنہری الفاظ :اتباع سنت بہت ضروری ہے اگر عمل کرنے والاصحابی رسول ﷺ ہی کیوں نہ ہو،غلط طریقےسے نمازپڑھنے والاصحابی ہی تھا جسے آپﷺ نے رد کرتےہوئے فرمایا:ارجع فصل فانک لم تصل .دوبارہ نماز پڑھو تم نے نماز نہیں پڑھی۔

(بخاری:۷۵۷،۷۹۳،۳۹۷)

ام المؤمنین سیدہ زینب نےعبادت کی تھکاوٹ کی وجہ سے رسی بندھوائی لیکن نبی کریم ﷺ نے اسے تڑوادیا۔

(مسلم:۷۸۴۱،ابوداؤد:۱۳۱۲)

فتح مکہ کے سفر میں آپ نے عصر کےبعد روزہ افطار کیا اور اس کے بعد بھی افطار نہ کرنے والوں کے بارے میں فرمایا:اولئک العصاۃ .یہ لوگ نافرمان ہیں۔(صحیح مسلم:۱۱۱۴)

حج کے دوران (بغیرکھائےپیئے) بغیر سواری کے سائے میں نہ بیٹھنے کی نذرمان کر حج کرنے والے سے فرمایا:اسے بتادواللہ تعالیٰ تمہارے اس عمل سے بری ہے۔(مسلم :۴۳،۱۶۴۲بخاری:۱۸۶۶)

نماز عید سے پہلے قربانی کرنے والے کی قربانی کو رد کرتے ہوئے فرمایا:تلک شاۃ لحم. تمہاری قربانی نہیں ہوئی بلکہ یہ تو محض بکری کا گوشت ہے۔(بخاری:۹۵۵،۹۸۳)

سیدناابوبکر کے خیمے سے پست آواز سے اور سیدنا عمر کے خیمے سے بلند آواز سے تلاوت کی آوازسن کر سیدناابوبکر tکو اپنی آواز کچھ بلند کرنے اور سیدنا عمرtکو اپنی آواز کچھ پست کرنے کاحکم دیا۔

(ابوداؤد:۱۳۲۹)

قارئین کرام !اندازہ لگائیں کہ انتہائی اختصار وجامعیت کے ساتھ کتنے خوبصورت پیرائے میں رسول اللہ ﷺ کی سنت کی اہمیت کو اجاگر فرمادیاہے۔ رحمہ اللہ رحمۃ واسعۃ.

میرے والد محترم(یعنی شیخ ذوالفقار علی طاہررحمہ اللہ کے بڑے بھائی محترم لیاقت علی بلوچ حفظہ اللہ ومتعنا اللہ بطول حیاتہ)نے بتایا کہ صبح کو وضوکرنے کے لئے میں نے اپنے بھائی aکو ایک تھال نما برتن میں پانی دیا توانہوں نے برتن میں ہاتھ نہیں ڈالے لیکن تھال نما برتن میں ہاتھ ڈال کر ہی وضوکرناپڑتا ایک طرف حدیث مبارکہ پر عمل کا مسئلہ تھا تو انہوں نے مشقت سے پوراتھال اٹھالیا جسے انڈیل کر پہلے تین مرتبہ ہاتھ دھوئے اور پھر برتن میں ہاتھ ڈال کووضوکیا۔

شیخنا رحمہ اللہ کی ایک معروف تقریر اس موضوع پر ہوئی تھی کہ ’’نماز نبوی صرف صحیح بخاری سے‘‘ نماز کامکمل طریقہ صحیح بخاری سے ثابت کرتے،ہنگورنوسندھڑی ضلع میر پورخاص میں ایک مرتبہ یہی موضوع تھا،نئے ساتھی بھی آئے تھے وہاں کے ساتھی عبدالغنی قریشی صاحب نے بتایا کہ اس جمعے میں،میں بھی شریک تھا،لیکن نماز سنت کے مطابق نہیں پڑھتاتھا، شیخaکا یہ خطبہ سن کر میں نے سنت کے مطابق نماز پڑھنا شروع کی، جب اس بات کاذکرشیخ aکے سامنے کیاگیا تو الحمدللہ کہتے ہوئے بڑے خوش ہوئے۔

نبی کریم ﷺ صحابہ کرام کو تمام معاملات میں استخارہ کی تعلیم فرماتے تھے۔(بخاری:۱۱۶۲)

ہمارے شیخ رحمہ اللہ اس سنت کابڑا اہتمام کرتے تھے جب بھی ان سے کوئی مشورہ کرتا تو اسے لازماً استخارہ کرنے کا مشورہ دیتےتھے، کئی دفعہ مجھے بھی استخارہ کاکہا۔

سنتِ مؤکدہ مسواک

zہرنماز سے پہلے اور بعد کی سنتیں اورخصوصی طور پر وہ سنن مؤکدہ جن کے بارے میں حدیث سے یہ ثابت ہے کہ اگرکوئی ان کا اہتمام کرے تو جنت میں اس کے لئے گھر بنایاجاتاہے،چاررکعتیں ظہر سے قبل اور دوبعد میں، دورکعات مغرب کے بعد، دوعشاء کے بعد اور دوفجر سے پہلے، صحابہ کرام واسلاف امت ان کابڑا اہتمام فرماتے تھے۔(صحیح مسلم:۷۲۸،ترمذی:۴۱۴،۴۱۵)

اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم اور اس کی توفیق سے ہمارے شیخ a ان رکعات کی بڑی پابندی فرماتے تھے، کراچی کے کسی دوردراز علاقے میں بھی اگر پروگرام کی غرض سے جاناہوتا اور مغرب وعشاء کے فورابعد اگر طویل خطاب بھی ہوتا توفارغ ہونے کے بعد سب سے پہلے سنتیں ادا کرتے۔ برادرحافظ عبدالوہاب اور برادرحافظ ابراھیم fنے یہ بات ہمیشہ نوٹ فرمائی۔

ہروضو کے ساتھ مسواک کرنا آپ کا معمول تھا حتی کہ فجر میں اٹھنے کے بعد پہلے مسواک کرتے،احادیث میں اس کی بڑی فضیلت وتاکید وارد ہوئی ہے، مسواک ہمیشہ اپنی جیب میں رکھتے تھے، وفات کے وقت جو سامان آپ کی جیب میں تھا اس میں مسواک بھی تھی۔

خلاف سنت عمل کی فوری تردید آپ کامنشور تھا کسی بڑی کانفرنس میں آپaکی تقریر سے پہلے کسی قاری صاحب نے تلاوت کی اورآخر میں مروجہ الفاظ (صدق اللہ العظیم) کہے تو آپ نے اپنی تقریر شروع کرنے سے پہلے اس کی زبردست تردید کی، فرمایا کہ بھائی غیر ثابت ومن گھڑت چیزیں اہل حدیث کے کسی صورت شایان شان نہیں ہیں، ہمارا منہج کھرا سچا اورقرآن وحدیث سے ثابت اقوال وافعال پر مشتمل ہے،سبحانی مسجد کے علاقے میں بدعات وخرافات کے امورکو آپ نے جماعتی احباب کے تعاون سے باقاعدہ ہاتھ سے رکوایا جوکہ ایمان کا اعلیٰ ترین درجہ ہے۔

آپ رحمہ اللہ  فوٹووتصویرسازی کے سخت خلاف تھے، ایک مرتبہ کسی نے آپ کی تصویر بناکرواٹسپ،فیس بوک وغیرہ پر شیئر کردی جیسے ہی آپ کو علم ہوا تو آپ نے شدید ردعمل وناراضگی کااظہار کیا اور اپنا تردیدی آڈیوپیغام ریکارڈ کرواکراعلان برأت کیا۔

برادرم حافظ فضل اللہ کے بقول شیخ رحمہ اللہ نے دوران تدریس یہ واقعہ طلباء کو بتایا کہ وہ طالبعلمی کے زمانہ میں کسی گھر میں ٹیوشن پڑھاتے تھے اس گھر میں ایک مجلس میں تین طلاقوںکا واقعہ ہوگیا اور وہ لاعلمی اور جہالت اور علماء سوء کی غلط رہنمائی کی وجہ سے حلالہ جیسے بدترین عمل کیلئے تیار ہوگئے، جب مجھے پتاچلاتومیں نے تمام گھروالوں کو بلالیا اور قرآن وحدیث کے مطابق ان کی خوب رہنمائی کی جس پر وہ خوش ہوگئے میں نے انہیں ساتھ لیا اور جامعہ رحمانیہ لے کرآیا، جہاں ان کی مزید رہنمائی کی گئی اور قرآن وسنت کے مطابق فتویٰ جاری کیاگیا، الحمدللہ وہ گھرانہ اہل حدیث ہوگیا۔

ڈرگ روڈ کے علاقے میں آپaنے ایک جماعتی ساتھی کا نماز جنازہ پڑھایاسنت کے مطابق جھراً اور اس میں کثرت کے ساتھ میت کے لئے دعائیں بھی پڑھیں،جنازے میں کافی غیر جماعتی احباب بھی شریک تھے، جنازہ کے بعد ایک غیرجماعتی ساتھی مسجد کے متولی کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ میں وصیت کرتاہوں کہ میرا جنازہ آپ کے یہ امام صاحب پڑھائیں، متولی صاحب نے کہا کہ بھائی ہمارے امام صاحب اس بارے میں بڑے سخت ہیں وہ کسی غیر جماعتی کا جنازہ نہیں پڑھائیں گے اس لئے آپ کو اہل حدیث مسلک قبول کرنا پڑے گا ،غالبا وہ بندہ اہل حدیث ہوگیاتھا۔

والد صاحب حفظہ اللہ کا بیان ہے کہ میں نے کئی بار نوٹ کیاکہ نماز کے بعد کی تسبیحات ہاتھوں پر چھپا کر اس انداز سے پڑھتے تاکہ لوگوں کو معلوم نہ ہو کہ تسبیحات پڑھ رہے ہیں، والد صاحب نے فرمایا کہ میں نے انہیں کئی بار کہا کہ آپ اپنے خطبات ،دروس وغیرہ اپنے موبائل میں ریکارڈ کیاکریں توکہا کہ یہ بہت مشکل ہے لوگ کہیں گے اپنی تقاریر ریکارڈ کرتے ہیں!پھر میں نےکہا آپ صرف اتنا کریں کہ پروگرام سے پہلے مجھے کال کریں اور میں کال کے ذریعے پروگرام ریکارڈکرلوں گا یا کسی اور ساتھی سے کال کروالیں ،لیکن ایسا کرنا بھی انہیں پسند نہیں تھا اور نہ کبھی ایسا کیا۔

اساتذہ وعلماء اہل حدیث وطلباء حدیث سے محبت وادب

آپ رحمہ اللہ علماء وطلباء کے ساتھ والہانہ محبت سے پیش آتے اور حد درجہ ادب کرتے، یہ بات پچھلے صفحات میں بھی گزر چکی ہے، خود بہت بڑا علمی مقام رکھنے کے باوجود علماء کرام کو اپنے اوپر ترجیح دیتے محفل میں خود اٹھ کر ان کو جگہ دیتے،مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ جامعہ رحمانیہ میں ایک دفعہ آپ دواساتذہ (غالبا شیخ داؤد صاحب اور حافظ سلیم صاحب) کے درمیان میں تشریف فرما تھے اتنے میں جامعہ کے استاد شیخ یوسف کاظم صاحب تشریف لائے توآپ فوراً اٹھ گئے اور شیخ کاظم صاحب کوا پنی جگہ پر بٹھانے لگے،جس پر وہ بہت حیران ہوئے اور کہنے لگے کہ بھائی اتنا تکلف؟ ہم توآپس میں ایک طرح کے بھائی ہیں۔ مجھ جیسا کوئی طالبعلم بھی ان کے ساتھ ہوتاتو اسے بھی بڑی اہمیت دیتے کئی مرتبہ ان کے ساتھ ایسےپروگرام میں جانے کا اتفاق ہواجس میں خطاب صرف ان کا مقرر تھا لیکن ہر دفعہ مجھے کہتے کہ آپ نے بھی ضرور تقریر کرنی ہوگی۔

طلباء کے ساتھ بھی بڑی شفقت ومحبت سےپیش آتے اور ہمیشہ ان کی حوصلہ افزائی کرتے، آگے بڑھنے کے لئے بہترین مشورے دیتے، کلاس یامحفل میں کبھی اکتاہٹ کاشکار نہ ہونے دیتے، طبیعت میں مزاح تھا اس لئے خوب ہنستے ہنساتے،فون کال ضرور اٹینڈ کرتے، مصروف ہوتے توبعد میں ضرور جوابی کال کرتے، عام لوگوں کےمیسیجز کو بڑی اہمیت دیتے اور جواب دیتے، اور اچھے میسج کی حوصلہ افزائی کرتے، برادر حافظ فضل اللہ dنے بتایا کہ میں رمضان میں اپنی مسجد میں خلاصہ تروایح بیان کرتا تھا ایک دن تیاری نہ کرسکا اور میں نے شام کے وقت شیخ رحمہ اللہ سے میسج کے ذریعے معلوم کیا تو آپ نے پورا خلاصہ میسج کے ذریعے بھیج دیا، سورہ یوسف کاخلاصہ تھا جس میں یہ بات بھی لکھی کہ ہر عالم وداعی کوچاہئے کہ وہ ہر عیب وگناہ کے داغ سے بھی اپنے آپ کو بچا کر رکھے جس طرح سیدنا یوسفuنے اس وقت تک جیل سے نکلنا بھی گوارہ نہ کیا جب تک آپ کو غلط الزام وتہمت سے بری قرار نہ دیا گیا۔

یہ واقعہ خود بتاتے تھے کہ میں جامعہ رحمانیہ میں آخری کلاس میں پڑھتا تھا اور سال کے آخری ایام چل رہے تھے،ایک دن طبیعت کچھ ناساز تھی توکلاس میں حاضر نہ ہوا، جمعرات کا دن تھا اور طلباء کی تقاریر کا اسبوعی اجلاس چلانےکی ذمہ داری میری ہوتی تھی، میں اسٹیج سیکریٹری ہوتا تھا تو اس کے لئے میں آگیا اور اجلاس چلانے لگا اتنے میں ہمارے استاد شیخ افضل اثری صاحب آگئے اور مجھے کہا کہ آپ کلاس میں نہیں تھے؟ اور اجلاس چلارہے ہو؟ اٹھک بیٹھک لگاؤتو میں نے سب کے سامنے اس سزا کو قبول کیا اور بلاچوں وچراںاٹھک بیٹھک نکالنے لگا،جس سے استاد محترم کے دل میں میرا مقام بلند ہوگیا اور وہ کلاس میں میری یہ مثال دیا کرتے تھے۔

پچیس اگست ۲۰۱۷ء بروز جمعہ رات ۸بجے میری طرف بھیجا گیا آپaکا ایک میسیج جو اب بھی میرے موبائل میں محفوظ ہے:

جان لیوا-وبا کے دور میں ڈاکٹر سےد وری جان لیواثابت ہوسکتی ہےاور فتنہ کے دور میں علماء کرام سے دوری اور ان سے بغض وعداوت ایمان لیوا ثابت ہوسکتا ہے۔

ہمارے ادارے مدرسہ تعلیم القرآن والحدیث گھمن آباد حیدر آباد میں ایک عرصہ تک امتحانی پرچے جمعیت کے مرکزی ادارے المعہد السلفی سے بن کر آتے تھے پرچہ بنانے والے اساتذہ میں آپ رحمہ اللہ سرفہرست ہوتے تھے،ایک مرتبہ سنن نسائی کا پرچہ بنایا جب چیک کرنے کے لئے حیدرآباد آئے تو کسی سے پوچھا کہ یہان سنن نسائی کون استاذ پڑھاتےہیں ؟بتایاگیا کہ:محترم الشیخ حافظ ایوب صاحب حفظہ اللہ ،حافظ صاحب کا نام سنتے ہی کہا کہ :اللہ اکبر!اگرمجھے پہلے پتہ ہوتا تویہ پرچہ میں کبھی نہ بناتا اس لئے کہ شیخ ایوب صاحب حفظہ اللہ میرے استاد ہیں، یہ واقعہ برادر شیخ عبدالرحمٰن اثری حفظہ اللہ نے بتایا۔

الشیخ محمد افضل محمدی حفظہ اللہ کا بیان ہے کہ شیخ رحمہ اللہ نے ایک مرتبہ طلباء سے سبق سنا تو صرف مجھے اور ایک دوسرے طالبعلم کو یاد تھا باقی کو یاد نہ تھا،تومجھے اور دوسرے یاد کرنے والے کوکھڑا کیا اور ہمیں مخاطب کرکے کہنے لگے تمہیں کیاہوگیا ہے تم سبق یاد کیوں نہیں کرتے؟آخر تم لوگ مدرسہ آئے کس مقصد کیلئے ہو؟ وغیرہ وغیرہ توہم دل ہی دل میں ہنستے رہے اور باقی طلباء نے گردنیں جھکالیں اور معافی مانگنے لگے، احساس دلانے کا یہ انداز بھی کتناخوبصورت اور نرالاہے!

اپنے شاگردوں کو دینی کام کرنے کے لئے ہرملاقات میں ابھارتے ترغیب دلاتے،مجھے اور بہت سارے شاگردوں کو ہر ملاقات میں رسالے کے لئے مضامین لکھنے کیلئے کہتے رہتے، مجھے توآخر کار اس کیلئے آمادہ کرچکے تھے، جنوری،فروری کیلئے میں مضمون ارسال کرچکا تھا مارچ کے لئے موضوع کاانتخاب ہوچکاتھا،میرا آپ سے ہر رسالے کے لئے ہر مہینے مضمون کا وعدہ ہوچکاتھا۔اللہ تعالیٰ مجھے توفیق عطا فرمائے ،مضمون پرفون اورمیسج کے ذریعے بہترین حوصلہ افزائی کرتے۔

معہد السلفی میں پڑھنے والے اپنے بھتیجوں اور قریبی رشتہ داروں کو بڑی پابندی کے ساتھ ہفتہ وار خرچہ دیتے اس کے لئے جمعرات کا دن مقرر تھا، اگر اس دن آپ معہد نہ آتے تو نگرانِ معہد کو فون کرکے بچوں کوخرچہ دلواتے، کچھ عرصہ کے بعد والدین کوحکم دیتے کہ اب بچوں کے خرچے میں اتنااضافہ کردیں۔

کسی طالبعلم سے اگر کوئی غلطی ہوجاتی اور اس کے بارے میں اساتذہ کے مابین مشورہ ہوتا تومعاف کرنے درگزرکرنے کا مشورہ دیتے اور سخت فیصلہ کی مخالفت کرتے، بعض طلبہ کو شیخ کو’’ابو‘‘ کہتے ہوئے سناگیا،سندھ کے تمام مدارس کے طلباء واساتذہ عموما المعہد السلفی کے خصوصا آپ رحمہ اللہ سے بڑی محبت والارویہ رکھتے،اگر عید پر شیخ رحمہ اللہ گاؤں آجاتےتو بعض طلبہ آپ سے عید ملنے گاؤں آجاتے، جامعہ رحمانیہ سے نورستانی طلبہ بھی ملنے کے لئے گاؤں آجاتے،واپسی پر طلبہ سے کرایہ وغیرہ کا بھی پوچھتے کہ آپ کے پاس ہے یانہیں؟ غریب طلبہ کو کرایہ بھی دیتے تھے، عام جماعتی احباب بھی گاؤں عیدملنے آجاتے، بدین سے محترم اقبال قاضی اکثر آتے تھے۔

zرسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ جب کسی آدمی سے محبت کرتا ہے ،جبریل علیہ السلام کو اپنے پاس بلاکرحکم دیتا ہے کہ میں اس بندے سے محبت کرتاہوں لہذا تم بھی اس سے محبت کرو،پھر جبریل علیہ السلام  بھی اس سے محبت کرتے ہیں اور وہ آسمانوں میں اعلان کرتے ہیں کہ فلاں آدمی سے اللہ محبت کرتا ہے تم بھی اس سے محبت کرو تو تمام اہل سماء (فرشتے) اس سے محبت کرنےلگتے ہیں، پھر اللہ تعالیٰ زمین میں بھی اس کے لئے قبول(عام) نازل کرتاہے۔(کہ زمین والے بھی اس سے محبت کرتے ہیں)(صحیح بخاری :۳۲۰۹،مسلم:۲۶۳۷)

ہم نے اپنے شیخ رحمہ اللہ کو اس حدیث کا مصداق پایا، آپ کی زندگی میں بھی اور خصوصاً وفات کے بعد،جمعیت کے اہم رکن شوریٰ اور شاہ صاحب رحمہ اللہ کے ساتھی محترم نثار اللہ کھوکھر حفظہ اللہ نے کافی عرصہ قبل مجھ سے کہا تھا کہ شاہ صاحب رحمہ اللہ کے بعد ان کی محبتیں ،شفقتیں ،پیار اور ان جیسا ہی رویہ میں شیخ ذوالفقار علی طاہر(رحمہ اللہ )میں دیکھتاہوں۔اور آپ جمعیت کا عظیم سرمایہ ہیں،المعہد السلفی میں تین مرتبہ پڑھی گئی نماز جنازہ میں علماء، طلباء وعوام الناس کا سمندر ،اور دومرتبہ گاؤں کی تاریخ کا سب سے بڑا جنازہ اور شریک لوگوں کا غم دیکھ کر بخوبی اس کا اندازہ لگایا جاسکتا تھا۔

کھپرو کے ذمہ دار ساتھی آصف اقبال نے کہا کہ قریبی رشتہ داروں کی وفات پر بھی رونانہیں آتا لیکن شیخ رحمہ اللہ کی وفات پر میں گھر والوں اور بچوں سمیت زاروقطار روتارہا۔

فضیلۃ الشیخ علامہ عبداللہ ناصررحمانیdشیخaکی میت کو رخصت کرتے وقت بے خود ہوکر زمین پر بیٹھ گئے اور غم سے نڈھال تھے۔

تری جدائی سے جانے والے وہ کون ہے جو حزیں نہیں ہے

مگر تری مر گ ناگہاں کا اب تک یقین نہیں ہے

مکہ مکرمہ سے محترم عبداللہ شیخ نے روتے ہوئے کہا کہ آج ہمار ا صدقہ بند ہوگیا دراصل شیخ رحمہ اللہ کی دینی تعلیم کیلئے انہوں نے ہی مشورہ دیا تھا۔

تقویٰ، تزکیہ نفس وحقوق العباد کی ادائیگی

استاد محترم رحمہ اللہ نے لکھا ہے :دعوت اہل حدیث کا تیسرا اہم ترین جزء تزکیہ نفس کو اپنانے کی سعی ،کاوش اورکوشش کرنا یعنی اپنے نفس کا بایں طور تزکیہ کرنا کہ نفس پر اوامر الٰہی کا تمسک اور نواہی سے اجتناب اور رذائل اخلاق کا ترک سہل وآسان ہوجائے اور نفس کا ہرعضو آنکھ،کان، زبان ،دل ،دماغ،ہاتھ، پاؤں وغیرہ رب تعالیٰ کی بنائی ہوئی شریعت کے احکامات کا پابند واسیر بن کررہ جائے، کسی عضو کی طرف سے شریعت الٰہی کے احکامات سے بغاوت کاارتکاب نہ ہو۔ اسی تزکیہ کیلئے نبی کریم ﷺ تشریف لائے ،’ویزکیھم‘یعنی پیغمبر کی بعثت کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ آپ اپنی امت کےا فراد کا تزکیہ کرتے ہیں….

[قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَكّٰىہَا۝۹۠ۙ ](الشمس:۹)

[قَدْ اَفْلَحَ مَنْ تَزَكّٰى۝۱۴ۙ](الاعلیٰ:۱۴)

یعنی جس نے اپنے نفس کا تزکیہ کیا وہی کامیاب ہوگا۔

دعوت اہل حدیث کاچوتھا اہم ترین جزء حقوق العباد کی پاسداری کرنا یعنی اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ نے والدین،بیوی، اولاد،پڑوسی، غرباء ومساکین غرض جس جس کے جوجوحقوق رکھے ہیں انہیں پورا کرنے کو اپنی اہم ترین ذمہ داری تصور کرنا، کیونکہ حقوق العباد کی پامالی کے رجسٹرکوکبھی ترک نہیں کیاجائیگا یعنی اس میں موجود ایک ایک حق کی پامالی کا حساب ہوگا…..حقوق العباد کوپامال کرنے والااس امت کا مفلس ترین آدمی ہوگا۔

الحمدللہ ہمارے شیخ رحمہ اللہ شب زندہ دارتھے، قیام اللیل کی پابندی کرنے والے، اور یہ مؤمنین کی اہم ترین صفت ہے، میں نے ایک دفعہ ان سے پوچھا:شیخ محترم قیام اللیل کیلئے رات کے آخری پہر میں اٹھنا توبہت مشکل ہے؟ فرمایا: آج کل رات کو بہت دیر سے سونا ایک رواج بن چکا ہے چلواگر ہم سونے کے بعد اٹھ نہیں سکتے تو کم از کم یہ تو کرسکتےہیں کہ سوتے وقت ہی جتنی توفیق ہونماز پڑھ لیں۔

المعہد السلفی جب تین ہٹی میں تھا، تو ان دنوں میرا ایک دفعہ وہاں جاناہوا،رمضان کا مہینہ تھا اور تراویح کی جماعت ہورہی تھی ،اپنے دیرینہ دوست اور ساتھی مولانا صفی اللہ محمدیaسے ملاقات ہوئی، میں نے ان سے پوچھا بھائی شیخ ذوالفقار علی طاہر(رحمہ اللہ )نظرنہیں آرہے میں نے تروایح کی جماعت میں مسجد میں بھی دیکھ لیا ہے وہ کہاں ہیں؟ کہنے لگے آپ نے ناممکن سی بات کردی ہےمجھے یہاں ایک عرصہ ہوا شیخ صاحب ہمیشہ پہلی صف میں اور امام کے بالکل پیچھے ہی ہوتے ہیں۔

ماہنامہ دعوت اہل حدیث کی ذمہ داری آپaکو دی جارہی تھی ،حیدرآباد دفتر میں،میں ان کےساتھ موجود تھا اور کراچی میں فضیلۃ الشیخ عبداللہ ناصررحمانی حفظہ اللہ سے فون پر رابطے میں تھے شیخ داؤد صاحب نے بتایا کہ آپ کو دعوت اہل حدیث کے مدیرمنتظم بنانے کا فیصلہ ہوا ہے اور آپ یہ رسالے پرتحریرکروادیں، آپ نے جواب دیا میرا نام بطور مدیررسالے میں لکھنے کی ضرورت نہیں ہےبس فضیلۃ الشیخ عبداللہ ناصر رحمانی حفظہ اللہ کا نام موجود ہے وہی کافی ہےاور میں اپنانام نہیں لکھواؤں گا، شیخ داؤد صاحب نے کہا ذرارکیں میں شیخ صاحب حفظہ اللہ سے مشورہ کرتاہوں،کچھ دیر بعد شیخ داؤد صاحب نے دوبارہ فون کیا اور کہا کہ شیخ صاحب حفظہ اللہ نے یہ حکم دیا ہے کہ بطور مدیر آپ کا نام رسالے پر لکھوایاجائے۔پورا عرصہ یہ بھاری ذمہ داری بغیر کسی معاوضے کے بخوبی نبھاتے رہے بلکہ اس سلسلہ میں اپنی جیب سے خرچہ بھی کرناپڑتا تھا، اپنی ناموری ونمودونمائش سے کوسوں دور تھے،ایسی صفات کےمالک لوگ اللہ تعالیٰ کے پسندیدہ ہوتے ہیں ،رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اپنے اس بندے سے محبت کرتا ہے جو متقی ہو،غنی ہو اور گم نام وگوشہ نشین ہو۔(صحیح مسلم:۲۹۶۵)

دعوت وتبلیغ

تعلیمی ،تدریسی ،امامت وخطابت اور رسالے کی ذمہ داری بخوبی نبھانے کے بعد بھی ہمیشہ تبلیغی پروگرواموں میں مصروف رہتے، اندرون کراچی سلسلہ وار تبلیغی پروگراموں کے علاوہ بھی آئے روز بے شمار پروگرام ہوتے رہتے، پورے سندھ کے دوردراز علاقوں میں کثرت کے ساتھ تبلیغی پروگرام تاحیات جاری رہے،بڑے عرصے کے بعد چند ایام کیلئے اگر گاؤں آناہوتا تو بھی ہمیشہ علاقے میں روزانہ کے حساب سے تبلیغی پروگراموں میں ہی مصروف رہتے، گاؤں میں عورتوں کے لئے الگ سے پروگرام بھی ہوتے۔ رمضان المبارک میں کراچی کے علاقوں میں روزانہ دوتین پروگرام بھی ہوجاتے، شعبان میں ایک مرتبہ ان کے ہاں جاناہوا تو کسی طرح پتہ چلا کہ رمضان کےتمام دنوں کے پروگرام طے ہوگئے ہیں اور کوئی دن فارغ نہیں ہے۔ جہاں پرپروگرام دیتے وہاں ہرصورت وقت سے کافی دیرپہلے ہی پہنچ جانے کی کوشش کرتے ایک بارپروگرام کیلئے بہت پہلے ہی نکلنے لگے تو میں نے کہاشیخ اتنی جلدی ؟کہا کہ بھائی ایک دوگھنٹے پہلے پہنچ جانا بہتر ہوتا ہے اس سے کہ بندہ وقت مقررہ سے لیٹ ہوجائے یا عین موقعے پر پہنچے، اس کا یہ بھی فائدہ ہوتا ہے کہ جماعتی احباب سے اچھی ملاقات ہوجاتی ہے،حال واحوال تبادلہ خیال ہوجاتا ہے ،پروگرام کے بعد تو واپسی کی جلدی ہوتی ہے!جس جگہ ایک بارپروگرام ہوجاتاوہاں کے لوگ آپ کے گرویدہ ہوجاتے اور باربار وقت لینے کی کوشش کرتے، خطاب بھرپوردلائل، انتہائی عمدہ ترتیب کے ساتھ انتہائی پراثرہوتا۔

ڈھونڈ گے اگرملکوں ملکوں

ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم

ایک مرتبہ سکھر میں عظیم الشان کانفرنس منعقد کی گئی ،فضیلۃ الشیخ عبداللہ ناصررحمانی حفظہ اللہ کے خطاب سے قبل آپaکا خطاب تھا،شیخ صاحب حفظہ اللہ بھی تشریف فرما تھے آپ کاخطاب سماعت فرمایا جب شیخ صاحب حفظہ اللہ کو خطاب کی دعوت دی گئی توفرمایا کہ شیخ ذوالفقار علی طاہر نےمجھ سے پہلے ایساعظیم خطاب کیا ہے کہ اب میرے خطاب کی ضرورت ہی باقی نہیں رہی ہے۔

دعوت وتبلیغ کے امور میںتعاون کے حوالے سے محترم میر محمد جمالی صاحب کاکردار ناقابل فراموش ہے،شیخ رحمہ اللہ کو اپنے گھر سے بائیک پر لیتے اور پروگرام کے بعد واپس چھوڑ کرجاتے، ان کے مابین محبت کاعظیم رشتہ قائم تھا۔

آخری سالوں میں زیادہ علالت کی وجہ سے ہم خاندان کے افراد نے آپ سے عرض کی کہ آپ اپنے پروگرام کم کردیں خصوصا دوردراز علاقوں کے پروگرام بند کردیں توکہنے لگے کہ جماعتی احباب جب پروگرام لینے کے لئے رابطہ کرتےہیں تو میں جواب نہیں دے سکتا۔

وفات کے بعد معلوم ہوا کہ آپ نے آئندہ ایام اورمہینوں تک کے کئی پروگرام اورخطبات جمعہ کے لئے ٹائم دیاہواتھااور انہیں اپنے موبائل کی ڈائری میں محفوظ کررکھاتھا۔

محترم ڈاکٹرعبدالحفیظ سموں dنے بتایا کہ آخری ایام میں بدین کیلئےہمیں ایک پروگرام دیاہواتھا، فون کرکے کہاکہ اگرچہ میری طبیعت کافی خراب ہے لیکن اگر میری ضرورت ہے اورآپ کہیں توضرور آؤنگا۔

حسن اخلاق

آپ کے حسن اخلاق کی گواہی آپ سےہر ملاقات کرنے والادیتاہے،اچھے اخلاق کےمالک کو نبی کریم ﷺ نے سب سے اچھا قرار دیا ہے۔(بخاری:۶۰۳۵،مسلم:۲۳۲۱)میزان میں سب سے بھاری عمل قیامت کے دن حسن اخلاق ہی ہوگا،اچھے اخلاق کا مالک دن کوروزے رکھنے اور رات کو قیام کرنے والے کے اجروثواب کوپالیتا ہے۔(ترمذی:۲۰۰۲،السلسلۃ الصحیحۃ:۷۹۵)

آپ رحمہ اللہ کی مخالفت کرنے والاشخص بھی اگر آپ کے پاس چلاجاتا توآپ کے اخلاق سے متاثر ہوکرآتا۔

اندرون سندھ کے ایک عالم نے آپ سے کہا میں آپ کی مسجد میں جمعہ پڑھاؤںگا،اس صورت میں کہ آپ بھی موجود ہونگے ، اپنےمدرسہ کے لئے تعاون کااعلان کروں گا اور بعد میں آپ میری تائید کریں گے آپ اس پرآمادہ ہوگئے،عام جماعتی احباب کو بھی بڑی اہمیت دیتے ان کے کام آتے، کسی کام کے لئے کوئی فون بھی کردیتا  تو وہ کرنے کی بھرپور کوشش کرتے اپنے پاس اسے نوٹ کرلیتے، وفات کے بعد دیکھا ان کے موبائل میں اس طرح سے ٹوٹس محفوظ تھے: مثلاً:(۱)محمد احمد اور عبدالغنی (مدرسہ گھمن آباد کے دوطالبعلم) کا تزکیہ شیخ خلیل سے لینا ہے، ان شاءاللہ(۲)میرمحمد جمالی اور نثار کھوکھر کو اعلان کردہ کتب دینی ہے،ان شاءاللہ(۳)نثار اللہ کورسید دینی ہے ، ان شاء اللہ(۴)خدابخش میمن کےبیٹے کاتزکیہ داؤد صاحب سے معلوم کرنا ہے۔ان شاءاللہ۔اس لئے بعض اوقات توکام کہنے والاخود بھول جاتا لیکن آپ نہیں بھولتے اس کے لئے کوشش کرتے رہتے۔

ہروقت ہر کسی کی خیرخواہی کرنا، اور مشورہ کرنے والے کوخیرخواہانہ اور انتہائی صائب مشورہ دینا آپ کی عظیم صفت تھی۔رسول اللہ ﷺ کی حدیث ہے:تم میں سے بہترین اور اللہ تعالیٰ کے پسندیدہ لوگ وہ ہیں جو دوسروں کو فائدہ پہنچاتے ہیں،اورمؤمن وہ ہے جو دوسروں سے الفت ومحبت رکھتا ہے اور لوگ اس سے الفت رکھتے ہیں اور جس میں یہ صفت نہ ہو اس میں کوئی بھلائی نہیں۔(السلسلۃ الصحیحۃ:۴۲۶،۹۰۶)

عظیم امانت دارواصول پسند

اللہ تعالیٰ نے کامیاب ہونےوالے مؤمنین کی یہ صفت ذکر فرمائی ہے وہ اپنی امانتوں اورعہدوپیماں کی پاسداری کرتے ہیں۔

(المؤمنون:۸)

اگربندے کو چارچیزیں مل جائیں پھر اگر اسے (باقی) دنیا نہ بھی ملے تو اسے کچھ نقصان نہیں ہے:1امانت کی حفاظت2سچائی 3اخلاق4حلال کھانا۔

اللہ تعالیٰ کے فضل سے مذکورہ تمام صفات ہمارے محترم aمیں موجود تھیں، والدصاحبdنے بتایا کہ جب آپ جامعہ رحمانیہ میں پڑھتے تھے تو ایک دفعہ میں ملنے گیا ،بیٹھے تھے کہ باہرسے کسی نے ان کو بلایا والدنے کہاکہ ان کی پیٹی کھلی ہوئی تھی میں نے دیکھا الگ الگ لفافوں میں بہت سارے پیسے تھے ،مجھے تشویش ہوگئی واپسی پر ان سےمعلوم کیا تو بتایا کہ یہ پیسے ساتھی طلباء کی امانت ہیں جو میرے پاس رکھتے ہیںوہ ہر کسی کے الگ الگ لفافوںمیںرکھے ہیں۔یعنی آپ aزمانہ طالبعلمی سے ہی قابل اعتماد اور امانت دار تھے، وفات کے وقت ان کی ذاتی رقم صرف ساڑھے چارسوروپے (450)تھی جو کہ ان کی جیب میں تھی جبکہ گھر میں ایک لاکھ روپے سے زیادہ رقم امانت رکھی ہوئی تھی اور الگ الگ لفافوں میں، ہر لفافے پر نام بھی لکھا ہوا تھا،ایک لفافے پرلکھا تھا رسالے (دعوت اہل حدیث ) کی امانت اور وہ رقم(23500)تھی۔

ایک دفعہ اپنے علاقے میں تشریف لائے ،عبدالحکیم شر کے گاؤں میں جلسہ تھا اور آپ نے خطاب کےبعدواپس روانہ ہوناتھا، دوران جلسہ بارش ہوگئی ہم نے کہا اب تو اسٹاپ تک پہنچنا بھی محال ہے آپ آج رُک جائیں،کل چلے جائیں کہنے لگے نہیں میں ابھی جاؤں گا، کل معہد میں کلاس لیناضروری ہے، اس طرح کے تو کئی واقعات ہیں۔

المعہد السلفی میں حاضری رجسٹر پر اپنے دستخط کے ساتھ آنے جانےکاٹائم بھی لکھتے۔

الشیخ عبدالصمد المدنی حفظہ اللہ نے بتایا کہ جب میں المعہد السلفی میں پڑھتاتھا امتحانات چل رہے تھے میں نے پیپر سے فارغ ہوکرکاپی جمع کروادی،بس جانے ہی لگاتومیری نظر ایک سوال پر پڑی، جس پر لکھا تھا کہ لازمی ہے،اورغلط فہمی اورنظر نہ پڑنے کی وجہ سے وہ سوال میں نے حل نہیں کیا، میں نے ایک استاد سے بات کی کہ میں ابھی باہر نہیں نکلاہوں آپ مجھے کاپی دیں تاکہ لازمی سوال حل کرلوںوہ راضی ہوگئے لیکن کہا کہ چونکہ مدیرالامتحان شیخ ذوالفقار علی طاہر(رحمہ اللہ )ہیں ان سے اجازت لے لیں ،لیکن شیخaنےکہا یہ اصول کی خلاف ورزی ہوگی جب آپ نے کاپی جمع کروادی تو اب آپ کو واپس نہیں دی جاسکتی۔

مثالی مہمان نواز

مہمان کااکرام واہتمام ضیافت کرنا مؤمن کی نشانی ہے۔

(بخاری:۶۰۱۹)

جومہمان کے لئے ضیافت کااہتمام نہ کرے اس میں کوئی خیر وبھلائی نہیں ہے۔(مسند احمد :۱۷۴۱۹،السلسلۃ الصحیحۃ:۲۴۳۴)

ہمارے شیخ رحمہ اللہ ہرمہمان کے لئے بلامبالغہ پر تکلف ضیافت کا اہتمام فرماتے تھے حالانکہ آپ غریب طبقہ سے تعلق رکھتے تھے، اپنے قریبی رشتہ داروں کے لئے بھی شاندار اہتمام کرتے،والد صاحب حفظہ اللہ  نے بتایا کہ میں خصوصی اہتمام کے لئے منع کرتا لیکن وہ باز نہ آتے،میں اس وقت بہت زیادہ حیران ہوا کہ جب کسی بات پر ایک عالم کے کھانے کے معمولات بتارہے تھے کہ وہ ناشتہ میں یہ چیز، اور دوپہر اوررات کے کھانے میں فلاںچیزپسند کرتے ہیں اور یہ چیزیں انہیں پسند نہیں ہیں، میںنے پوچھا ان کے ان معمولات کا آپ کو کیسے علم ہوا؟کچھ دیرخاموشی کے بعد کہا کہ دراصل وہ میرے پاس آتے رہتے ہیں۔

آخری ایام میں بیماری کی حالت میں بھی وہ مہمانوں کیلئے سب کچھ خود ہی لاتے، سامنے رکھتے پھریہ برتن وغیرہ بھی خود اٹھاتے اور اس میں خوشی محسوس کرتے۔

سبحانی مسجد کی چندیادیں

سبحانی مسجد (ہنگورہ آبادلیاری کراچی) کے ساتھیوں محمد یوسف اور ارشد صاحب نے بتایا کہ جب شیخaہماری مسجد میں امام وخطیب بن کر آئے توصورتحال یہ تھی کہ ساتھی تتربتر اور منتشر تھے اور منہج ونظم کا کچھ علم نہ تھا تو ایک دن شیخ رحمہ اللہ نے میٹنگ بلائی اور ساتھیوں کو متحرک ہونے کاحکم دیا اور پھر آپ نے مسجد میں ایسا کام کیا کہ بہاریں آگئیں، صحیح سچے کھرے منہج ونظم میں تمام جماعت کو پرودیا،نماز سے سلام پھیرنے کے بعد آپ پوری جماعت پر نظر ڈالتے اگرکوئی ساتھی نظر نہ آتا تو اس کا معلوم کرتے،مسجد وجماعت کے ساتھ جڑے رہنےکی تلقین فرماتے رہتے، اگر کوئی ساتھی بیمار ہوتا تو عیادت کیلئے اس کے گھر چلے جاتے، ساتھیوں کی اگر آپس میں ناراضگی ہوجاتی تو اور وہ اس وجہ سے مسجد نہ آتا تو اسے پہلے پیغام بھیجتے کہ اگلی نماز میں مسجد میں آجاؤ اور آپس کی ناراضگی ختم کرو ورنہ دوسری نماز میں،میں تمام ساتھیوں کے ساتھ آجاؤں گا۔ سبحانی مسجد میں ایک فنڈ قائم کروایا کہ ہرروز ہر جماعتی ساتھی عشاء کی نماز میں صرف ایک رو پیہ جمع کروائے ،کہتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے اس میں اتنی برکت ڈالی کہ بڑے بڑے امور اس فنڈ سے سرانجام دیئے گئے، کوئی جماعتی ساتھی اگر نماز کے بعد سوالات وغیرہ کی غرض سے بٹھادیتا تو آپ بخوشی وقت دیتے ،بعض اوقات تو دوسری نماز کا وقت ہوجاتا ،ڈرگ روڈ میں بھی آخر تک یہی صورتحال رہی لیکن آپ اکتاہٹ کا شکار نہ ہوئے۔

صبر،عزم واستقامت اوراستغناء خودداری

ہمارے شیخ رحمہ اللہ صبر،عزم واستقامت کے پہاڑ تھے، زندگی میں بہت زیادہ مشقتیں وتکالیف اور بیماریاں دیکھیں لیکن کبھی بھی حرف شکایت زبان پر نہ لاتے بلکہ دوسروں کو بھی حوصلہ دیتے، یکم دسمبر2017ء جمعہ کے دن ان کی طبیعت کافی خراب تھی ٹانگ میں درد کی وجہ سے چلابھی نہ جارہاتھا ،میں بھی وہیں تھا، خطبہ جمعہ بھی خود پڑھانے کا ارادہ رکھتے تھے، میں نے کہا: شیخ میں آگیاہوں آپ کی طبیعت کافی خراب ہے، جمعہ میں پڑھالیتاہوں آپ آرام کریں، کہنے لگےکہ دراصل جمعہ پڑھانے سےجماعتی ساتھیوں اور مجھے خود کو بھی یہ حوصلہ ملے گا کہ اب طبعیت بہتر ہے میں نے جمعہ بھی پڑھالیا، ورنہ بیماری ذہن پر سوار ہوجائے گی اس لئے میرا ارادہ ہے کہ جمعہ میں خود پڑھاؤں، وہ جمعہ بڑی مشقت سے پڑھایا درد کی وجہ سے بار بار پیر اوپر اٹھالیتے کافی دیر تک ایک پیر پر کھڑےرہتے، اس دن ایک دل آزاری کرنے والے شخص کا ذکر ہوا تومیں نے دیکھا کہ آپ کی آنکھوں سے آنسوٹپک پڑے کہنے لگے کہ میں نے ان کے بارے میں کبھی منفی سوچ بھی نہیں رکھی۔

ان کےگھر پرمسلح افراد نے حملہ کیا ،ڈرایادھمکایاگیا لیکن پھر بھی بڑے عزم واستقامت کامظاہرہ کیا، علاقے میں اکیلے ہی گھومتے پھرتے، ہم نے کہا بھی کہ آپ ایسا نہ کریں، جماعتی احباب سےکہیں آپ کے ساتھ رہیں، اسٹاپ تک آپ کو چھوڑ کر آئیں اور اسٹاپ سے گھر تک آپ کے ساتھ ہوں جواب دیا کہ اتنا تکلف ممکن نہیں ہے اس سے کیا فائدہ ہوگا زندگی تو اتنی ہی رہے گی جو تقدیر میں لکھ دی گئی ہے ہم نے کہا کہ پھر آپ اس مسجد کوچھوڑ دیں کسی دوسری مسجد میں شفٹ ہوجائیں تو کہا کہ یہ بھی جماعت کا ایک مرکز ہے، شیخ صاحبdکی طرف سے ذمہ داری لگائی گئی ہے اس لئے ایسا بھی نہیں کرسکتا!تادم آخر وہیں کام کرتے رہے۔

تکالیف دینے والے لوگوں کا اگرمحفل میں ذکر بھی ہوتا، اورخاندانی نوجوان اپنے جذبات کا اظہار کرتے تو آپ مسکراتے رہتے اور کہتے کہ بھائی تکلیف مجھے دیتے ہیں اورجذباتی آپ ہورہے ہیں! چھوڑ دوبس اللہ تعالیٰ ہدایت دے۔

عمربھر کی ہم سے بے رخی سب نے

کفن میں ہم بھی عزیزوں سےمنہ چھپا کرچلے

شاید ان ہی بے رخیوں،تکالیف ومشکلات میںاپنی تسلی یا پھر لواحقین کیلئےوفات کے غم کو ہلکا کرنے کیلئے آپaنے صبر کے عنوان پر چنددلائل لکھ کر اپنی جیب میں رکھے ہوئے تھے، جس میں سیدنا یعقوب uکے صبر کاخصوصی ذکر ہے کہ دونوں بیٹوں کی گمشدگی کی اطلاع پر ’’فصبرجمیل‘‘ کہا اور کہنے لگے:[قَالَ اِنَّمَآ اَشْكُوْا بَثِّيْ وَحُزْنِيْٓ اِلَى اللہِ ….وَلَا تَايْــــَٔــسُوْا مِنْ رَّوْحِ اللہِ۝۰ۭ ]

کہ بس مجھے توہرحال میں صبر کرنا ہے…..میں اپنی ہر پریشانی اور رنج وغم کا شکوہ اللہ تعالیٰ ہی سے کرتاہوں،اور اللہ کی رحمت سے ہرگز مایوس نہ ہوں۔(یوسف:۸۶،۸۷)

ایک معروف روز نامہ اخبار کے غیر شرعی ومتعصبانہ آرٹیکل پر دلائل سے بھرپور رد لکھتے حتی کہ اس کے ایک ذمہ دار نے کال بھی کی آپ نے اسے دوٹوک جواب دیا کہ آپ اپنے غیر شرعی رویے پر نظر ثانی کریں۔

مالی طورپر غیر مستحکم اورغریب طبقہ سے تعلق کے باوجود آپaاستغناء کو اختیار کرنے والے تھے، کبھی کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلایااور نہ ہی اس طرح کا کوئی اشارہ کیا، والد صاحب حفظہ اللہ نے بتایا کہ  کبھی میںان کے موبائل نمبر پر ایزی لوڈ کروادیتا تصدیق کے لئے فون کرتاکیا کوئی بیلنس آپ کو ملاہے؟ کہتے بھائی ملا توہے لیکن پتہ نہیں چلا کہ کس نے بھیجا!آپ نے ہی بھیجاہوگا اس سے بہتر تھا کہ آپ گاؤں میں کسی غریب ومسکین کی مدد کردیں مجھے بیلنس نہ بھیجیں ،والد صاحب کہتےبھائی ہدیہ وتحفہ دینا بھی تو سنت ہے آپ میری طرف سے ہدیہ ہی سمجھ لیں۔

ایک مرتبہ کسی ساتھی عالم دین نے ازراہِ مذاق آپ سے کہا کہ اب تو آپ کے مزے آگئے فلاں صاحب ثروت آدمی آپ کا مقتدی بن گیا ہے!جواب دیا کہ شاید آپ میری طبیعت کو نہیں جانتے، اب تک تو میں اس سے ملابھی نہیں ہوں اور نہ ہی ملوں گا،علماء کا وقار اسی میں ہے، میں کسی صورت بھی اس وقار کومجروح نہیں کرسکتا۔

گاؤں میں آپ کاذاتی مکان نہیں تھاخاندان کےلوگ آپ سے کہتے کہ آپ جمعیت میں اورشیخ صاحبdکے بہت قریب ہیں تو آپ اپنا مسئلہ ان کے سامنے کیوں نہیں رکھتے؟آپ نے اس سے صاف انکار کردیا ،اور وفات سےد وچار ماہ قبل ہی قرضہ لیکر ایک کمرہ تعمیر کروایا۔

کوئی آدمی آپ کے لئے کوئی چیز لیکر آتا تو ا س سے اس کی قیمت معلوم کرتے اور وہ ادا کرنے کی کوشش کرتے، آخری ایام میں دو تین مرتبہ میں نےد وائی لیکر بھیجی اور ایک مرتبہ خود لیکرگیا ،اس کی قیمت معلوم کرنے لگے جب زیادہ اصرار کیا تو میں نے کہاشیخ آپ بتائیں کہ میرے ذمے آ پ کا کوئی حق بھی ہے یانہیں؟ فرمایا کہ ہاں وہ تو ہے میں نےکہا بس پھر قیمت رہنے ہی دیں۔

ایک مرتبہ عبدالارحمٰن آلادaنے ان سے کہا کہ شیخ میں تنخواہ کے علاوہ ایک ہزار روپے آپ کوماہانہ اپنی طرف سے دونگا ان سے سوال کیا کہ کیاآپ تمام اساتذہ کو دیں گے؟ انہوں نے کہانہیں صرف آپ کو تو آپ نے جواب دیا کہ پھر میرا یہ رقم لینا غیرمناسب ہے اس لئے میںنہیںلونگا۔

گھریلوزندگی اور صلہ رحمی

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے بہتر وہی ہے جو اپنے اہل خانہ کےلئے اچھا ہواور میں بھی اپنے گھروالوں کیلئے بہترہوں۔(جامع ترمذی :۳۸۹۵،ابن ماجہ:۱۹۷۷)

گھریلو زندگی چونکہ عام لوگوں کی نظروں سے اوجھل ہوتی ہے تو اصل بھلائی یہی ہے کہ انسان کی وہ زندگی خیروبھلائی پر مشتمل ہو۔ذیل میں درج کی جانے والی اکثروبیشترباتیں ان کے اہل خانہ سے معلوم ہوئیں:

آپ اپنے بچوں پر بہت زیادہ شفقت کرتے تھے، بچوں کے بارے میں انتہائی نرم مزاج تھے، عموماً والد سخت اور والدہ نرم ہوتی ہیںلیکن شیخaاپنی زوجہ محترمہ سے زیادہ نرم مزاج تھے، انہیں بھی بچوں پر سختی نہ کرنےکاکہتے۔ بچوں کو بہت اچھا کھلاتے پلاتے اور مہنگی چیزخرید کرلاتے، گھر میں لائی ہوئی چیز اگرجلد ہی ختم ہوجاتی تو اس کا کبھی نہ پوچھتے بلکہ اگر معلوم ہوتا توکہتے کہ آپ لوگ کھاتے ہو تو مجھے بہت خوشی ہوتی ہے، ان کی گھریلوزندگی بھی بھرپور منظم تھی ،ہفتے کے ایام میں کھانے کا شیڈول مقررتھااس کے مطابق چلتے رہتے، گھر میں ہوجانے والے اتفاقی نقصان پربازپرس اورڈانٹ ڈپٹ بلکل بھی نہ کرتے  اور نہ ہی غصہ کرتے۔

آپ رحمہ اللہ کی بچیوں نے بتایاکہ ہمارے والد خاموش طبع انسان تھے، گھر میں آتے سلام دعاکرتے حال احوال معلوم کرتے پھر اپنے کام میں مشغول ہوجاتے، کبھی مطالعہ تو کبھی لکھتے رہنا، کبھی بھی فارغ اورفضول نہیں بیٹھتے تھے ، کوئی جاکر ان کےپاس بیٹھ جاتا اور بات چیت کرتا تو اسے جواب دیتے رہتے، نماز،اعمال صالحہ پردہ کی زیادہ تلقین کرتے،ذکرواذکار ،تلاوت واذکارِمسنونہ پر بڑی پابندی کرتے، باجماعت نماز کو کبھی بھی ترک نہ کرتے بلکہ گھروالوں کو بھی یہی حکم دیتے کہ اکیلے پڑھنے کے بجائے گھر میں باجماعت نماز کا اہتمام کریں ،شام کےاذکار کیلئے مغرب سے آدھا گھنٹہ پہلے ہی وضوکرتے اور مسجد میں چلے جاتے۔

محبت کرنے والی اورصلح جوطبیعت کے مالک تھے،بھائیوں میں عمر میں چھوٹے ہونے کے باوجود تمام خاندانی معاملات میں آخری فیصلہ ان کا ہی ہوتا،بھائیوں میں اختلاف کی صورت میں بڑے احسن انداز سےد ونوں کو سمجھاتے لیکن خود فریق نہ بنتے، گاؤں میں ان کے بھائیوں کا کسی کے ساتھ کوئی اختلافی معاملہ ہوجاتا تو وہ بھی منصف کے طور پر آپaکو ہی منتخب کرتاکیونکہ اسے بھی یقین ہوتا کہ وہ کبھی بھی اپنے بھائیوں کی غلط سائیڈ نہیں لیں گے،اندرون سندھ دوجماعتی احباب کے فیصلے کرنے کی ذمہ داری بھی بخوبی اور انتہائی احسن اسلوب میں ادا کرتے تھے۔

آپ گہری نیند سوتے تھے اس لئے اپنے موبائل پر بھی الارم رکھتے اس کے ساتھ میرے والدd(آ پ کے بڑے بھائی) ان کو ہمیشہ کال کرکے جگاتے۔

معمولی معمولی باتوں پر بحث مباحثہ کوناپسند کرتے تھے۔

تراویح کیلئے مسجد میں آنے والی اور اعتکاف کرنے والی خواتین کیلئے ٹھنڈے پانی کا انتظام ہمیشہ ان کے گھر سے ہوتا،بعض اوقات تو اپنے گھر کیلئے برف نہیں رکھتے تھے وہ ساری ان کے لئے دے دیتے۔اعتکاف کرنے والی خواتین کی اعتکاف کے پہلے اور آخری دن آپ کےگھر سے خصوصی دعوت کااہتمام ہوتا۔

زمانہ طالب علمی میں اکثرطور پر آپ کے داماد بھی آپ کے گھر میں ہی رہتے لیکن انہیں کسی طرح کا کوئی خرچہ کرنےنہ دیتے، بار بار کوشش کی گئی کہ آپ ان سے بھی کچھ خرچہ لے لیں لیکن انہوں نے کبھی ایسا ہونے نہ دیا، گھر میں آتے ہی ان کے بارے معلوم کرتے کہ (حافظ فضل اللہ، حافظ نوراللہ)نے کھانا کھایا ہے یانہیں تاکہ میں اچھااہتمام کرسکوں۔

خاندان کاکوئی بھی فرد ان کے پاس آرہاہوتا یاجارہاہوتاتو جب تک وہ گھر نہ پہنچ جاتا مسلسل اس سے رابطے میں رہتے معلوم کرتے رہتے کہ کہاں پہنچے؟یہ اہتمام وہ اپنے بارے میں بھی کرتے،میسج پر گھر پہنچنے کی اطلاع ضرور دیتے۔

ہمارے پورے علاقے میں باقاعدہ دینی تعلیم حاصل کرکے علماء کی صف میں شامل ہونے والے شیخ aپہلے شخص تھے اب ماشاءاللہ بیسیوں علماء وحفاظ تیار ہوگئے ہیں اور دن بدن اس میں اضافہ ہورہا ہے اور تاقیامت ہوتارہے گاان شاءاللہ ،یہ تمام آپaکے لئے بہترین صدقہ جاریہ وسنت حسنہ ہیں۔

اگرآپ کومحسوس ہوتا کہ کسی کو آپ کی کسی بات یا عمل سے کوئی غلط فہمی پیدا ہوسکتی ہے توفوراً اس کی وضاحت ضرور کرتے تاکہ کوئی غلط فہمی پیدا نہ ہو ،ایک دفعہ میں نے والدصاحبdکے ذریعے کوئی کام کہا جو کہ بوجوہ نہ ہوسکا ،جب مجھ سے ملاقات ہوئی تو مجھے پوری بات وضاحت سے بتائی تاکہ مجھے کوئی غلط فہمی پیدا نہ ہو۔

بچیوں کی تعلیم وتربیت اور صحت کے حوالے سے بڑے متفکر رہتے، ان کابڑابچہ زبیرحافظ ہے اور المعہد السلفی میں مزید تعلیم حاصل کررہا ہے،دوسرا لڑکا زہیر بھی المعہد السلفی میں ہے، بچیوں کے حوالے سے ذہن یہ تھا کہ ان کو عالمہ کاکورس کروایاجائے، اپنی بچیوں کو بھی اس کی تلقین کرتے رہتے تھےا وروہ اس کے لئےآمادہ ہیں،ان شاءاللہ

ان کے بچوں کی تعلیم وتربیت کی اس فکر کو امیرجمعیت اور رئیس المعہد السلفی استاد محترم علامہ عبداللہ ناصر رحمانیdومنتظمین وشیوخ المعہد نے اپنے ذمےلیا ہے۔جزاھم اللہ خیراکثیرا.

اپنی زندگی کی آخری رات بھی انہوں نے اپنی بچیوں سے اس طرح کی گفتگو کی اور سردی زیادہ تھی جس سے بچنے اور گرم کپڑے پہننے کی تلقین کرتے رہے۔

گاؤں کے غرباء ومساکین کا اپنی حیثیت کےمطابق ضرور خیال رکھتے، جب بھی گاؤں آتے تو اپنے قریبی رشتہ داروں کے ہاتھ پر کچھ نہ کچھ ضرور رکھتے، کراچی سے گاؤں آنے والوں کے ساتھ گاؤں کے قریبی مستحق لوگوں کے لئے کبھی کپڑے تو کبھی کچھ اورخاص مواقع پر ان کے ساتھ تعاون کرنے کی کوشش کرتے، اپنے اہل خانہ کا صدقہ فطر کراچی میں ادا نہیں کرتے بلکہ گاؤں کے مستحق افراد کے لئے بھیج دیتے۔

اپنے بھائیوں کابے حدخیال رکھتے وقتافوقتا ان کو کوئی ہدیہ وغیرہ بھی دیتے، بھائی محترم محمدعلی اور محمد کے گھر کاخاص خیال رکھتے، اپنی اکلوتی بڑی بہن جو کہ نوجوانی میں بیوہ ہوگئی تھیں ان کا اور ان کے بچوں کاتاحیات خیال رکھا ،مختلف مواقع پر ان کی مدد کرتے ان سے ملنے کیلئے ضرور جاتے۔

والدصاحب dسے خاص تعلق تھاان سے بعض رازدارانہ باتیں بھی کرتے ، ایک دفعہ ان سے کہا کہ لوگ عموماً علماء کرام کو تحفے تحائف میں صرف مردانہ کپڑے ہی دیتے ہیں حالانکہ ان کے گھر میں عموما بیٹیاں زیادہ ہوتی ہیں۔

اپنے سے چھوٹے لوگوں سے مشورہ کرنے ،کوئی مسئلہ معلوم کرنے میں عار محسوس نہیں کرتے تھے بعض اوقات اپنے شاگردوں سے بھی معلوم کرتے۔

الشیخ عبدالصمد المدنیdکی دینی تعلیم وتربیت میں ان کا خاص کردار ہے۔

والدصاحب نے بتایا کہ ایک دفعہ سردی زیادہ تھی میرے بیٹے حافظ ولی اللہ کو جوکہ معہد میں پڑھتا تھا کسی کوٹ یاجرسی کی ضرورت تھی، میں نے آپ کوفون کیا کہ اسے لیکر دیں تو آپ نے اپنی جرسی اتار کر اسے دے دی۔

آپ پکے کھرے اورسچے پاکستانی تھے وطن سے بے حد محبت کرنےوالے اورخارجی افکار ونظریات کے سخت مخالف اور ناقد تھے، اگست2017ءکے رسالے دعوت اہل حدیث کا اداریہ’’پاکستان زندہ آباد‘‘ کے عنوان سے تحریر فرمایا۔ لسانی تعصب کے سخت خلاف تھے آپ کو اپنی مادری زبان سندھی سے زیادہ قومی زبان اردو پر دسترس تھی۔

عام لوگ اور جماعتی احباب بھی آپ پربھرپور اعتماد کرتے اپنے گھریلومعاملات ،اولاد کے رشتوں کے سلسلے میں بھی آپ سے مشورے لیتے۔

ارض توحید سعودی عرب سے بھی آپ کو بہت محبت تھی، سعودی عرب کابھرپوردفاع کرتے ایک روزنامہ جب سعودی عرب کے خلاف لکھتا تو آپ رسالے میں اسے بھرپور جواب دیتے، آپ کے گھروالوں نے ایک واقعہ بتایا کہ آپ نے ان کو عمرہ سے واپسی پر بتایا کہ آپ مکہ یامدینہ کے بازار سے گزر رہے تھے کہ دیکھا دودکاندار عورتیں آپس میں لڑپڑیں ایک پاکستانی ان کی وڈیوبنانے لگا آپ نے سوچا کہ وہ شخص اس وڈیو کو شایدسعودی عرب کی بدنامی کیلئے استعمال کرے تو آپ نے قریب ہی موجود ایک شرطے(پولیس والے) کو اس کی اس حرکت سے آگاہ کیا تو پولیس والے نے اس سے موبائل چھین لیا۔

آپ رحمہ اللہ بڑی حیاء دار اورشرمیلی طبیعت کے مالک تھے، زوجہ محترمہ نے ایک واقعہ بتایا کہ آپ گاؤں آئے ہوئے تھے چند دن رہنے کے بعد واپس روانہ ہوگئے آپ کو گردوں میں پتھری کی تکلیف تھی تودوران سفرتکلیف ہوگئی یہ درداچانک اوربڑاشدید ہوتا ہے تو آپ نے اپنا سامان پھوپھوکےگھررکھا اورگاؤں واپس آگئے لیکن اپنے گھر نہ آئے گاؤں کی پرانی والی مسجد میں آکربیٹھ گئے کہ لوگ کیاکہیں گے ابھی توگئے تھے اور واپس آگئے!یابیگم کی محبت واپس لائی ہےوغیرہ۔

بیٹیوں سے بہت زیادہ محبت کرتے، ان کی رخصتی کے موقعہ پر آنسو بہارہے ہوتے،گذشہ شعبان 1438ھ میں تیسری بیٹی کی رخصتی کے موقعہ پر آنسوٹپک رہے تھے اورکہا کہ آج تیسری مرتبہ اس چھری کے نیچے آرہاہوں پھراچانک سنجیدہ ہوکرکہنے لگے بھائی یہ تو نبی کریم ﷺ کی سنت ہے آپ نے بھی تواپنی چار لخت جگر بیٹیوں کی رخصتی کی تھی۔

سالوں کے بعد شادی بیاہ وغیرہ کے موقعے پر گاؤں آتےتو ہی ہماری آپس میں تفصیلی ملاقاتیں ہوتیںا ورخوب باتیں ہوتیں، ایک دن ایسی ہی ایک مجلس جاری تھی کہ گھروالوں نے میراایک سالہ بیٹا معاذ میری طرف بھیج دیا کہ اسے اپنے پاس بٹھائیں مجھے اس بات پرغصہ آگیا اور میں اپنے بچے کوڈانٹنے لگا کہ عرصہ کے بعد تو ہمیں مل بیٹھنے کا موقعہ ملتا ہے اور اب تم نے بچہ بھیج دیا!میری یہ باتیں آپ کو ناگوار گزریں،لیکن کچھ نہ بولے اور بچوں سے کہا کہ لاؤبچہ میرے پاس بٹھادوکافی دیر بچے کو اپنی گودمیں بٹھائے رکھا،مجھے اپنے طرزپر بڑی شرمندگی ہوئی۔

تقریباً دوسال قبل ۲۶فروری۲۰۱۶ء اپنی بڑی بہن کی وفات کے موقعہ پرآپ نے خاندان کوبڑی نصیحتیں کیں آپس میں پیار ومحبت سے رہنے ،ناراضگیاں ختم کرنے کاحکم دیا،میرے بھائیوں مولانا فرمان اللہ،مولانا صبغت اللہ،مولانا عبداللہjکو بلاکر بعض معاملات کےمتعلق نصیحتیں کی تو وہ فوراہی آپ کاحکم مان گئے اور فوری تعمیل کرنے لگے،جس پر بہت زیادہ خوش ہوئے ،میںموقعہ پر موجود نہ تھا بعد میں مجھے خود ہی اس میٹنگ کے بارے میں بتایا، بہت خوش ہوکر کہنے لگے  کہ آپ کے بھائیوں نے فوراً نصیحتوں پر عمل کیا،اپنے بھائیوں اور خاندان کے لوگوں کو اس موقعہ پر نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ بہن کی وفات سے موت کا سلسلہ والد صاحب کی اولاد میں شروع ہوچکا ہے اس سے اب ہمیں سنبھل جاناچاہئے نہ جانے اس کے بعد کس کی باری آنے والی ہے، کسے معلوم تھا کہ اب نصیحت کرنے والے آپ کی خود کی باری ہے:

کسے خبر تھی کہ یہ حادثہ بھی ہونا تھا

کہ پل بھر میں ایک سانحہ بھی ہونا تھا

zآپ aنے اپنے جدامجد،والد گرامی، والدہ ماجدہ، اور باجی محترمہ Sکی حیات ومحاسن پرمضامین تحریر فرماکر دعوت اہل حدیث میں شایع فرمائے تھے اور فرماتے تھے کہ فوت ہونے والے کایہ حق ہوتا ہے کہ ان کے محاسن ،اچھائیوں اور نیکیوں کو بیان کیاجائے اور یہ شرعی حکم بھی ہے ،تاکہ بعد والوں کی اصلاح کاباعث بنے اور ان کے لئے صدقہ جاریہ کی صورت بن جائے،اس لئے میں نے ان کا یہ حق اداکرنے کی سعی کی ہے۔راقم نے بھی اسی جذبے کے تحت اپنے انتہائی محسن ومربی پیارے چچا وخالو،استادمحترم اور روحانی والدفضیلۃ الشیخ ذوالفقار علی طاہر رحمہ اللہ کا اپنے ذمے یہ حق پرنم آنکھوں کے ساتھ ادا کرنے کی کوشش کی ہے، میں اعتراف کرتاہوں اس عظیم شخصیت کی زندگی کے تمام محاسن کواحاطہ تحریر میں نہ لاسکا،بس ایک خلاصہ ہی پیش کرسکا ہوں۔

About الشیخ حزب اللہ بلوچ

Check Also

مسجداقصیٰ بیت المقدس کی فضیلت

زمانہ قدیم میں جس علاقے کو’’شام‘‘ کہاجاتاتھا، وہ لبنان ،فلسطین، اردن اور شام کی سرزمین …

جواب دیجئے