Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2019 » شمارہ جولائی » شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ اور عقیدہ نزول مسیح علیہ السلام

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ اور عقیدہ نزول مسیح علیہ السلام

معروف مائکرو بلاگنگ ویب سائٹ’’دلیل‘‘پر محمد فہد حارث صاحب کا ایک مضمون بعنوان ’’جاوید احمد غامدی کے تفردات تعداد اور حقیقت ‘‘نظر سے گذرا،بلاشبہ موصوف نےفتنہ غامدیت کی حقیقت کو دلائل و براہین سے ثابت کیا ہے  نيز ان کے تفردات کے تانے بانے جہاں جہاں ملتے ہیں ؛ وہاں کا کھوج  لگایا ہے ۔ان کی یہ کاوش قابل ستائش ہے ۔

راقم کو موصوف کے دوسرے تفرد (جوکہ’’غامدی صاحب کے نظریہ نزول عیسی  علیہ السلام کے عقیدہ کا انکار “؛کے بارہ میں ہے) کو شیخ الاسلام ابن تیمیہ سے یہ کہہ کرجوڑنا کہ ’’یہ تفرد ابن تیمیہ کی بعض مبہم تحریروں سے مستعار لیا ہوا ہے“!!! سے  شدیداختلاف ہے –۔

درج بالا عبارت سے بظاہر یہ وہم واشکال پیدا ہوتا ہے کہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ (جن کی پوری زندگی صحیح عقیدہ کی نشر واشاعت اور دفاع میں گذری) وہ عقیدہ نزول عیسی علیہ السلام کے متعلق ابہام اوراضطراب کا شکار تھے اور غامدی صاحب نے یہ تفرد اُن ہی سے لیا ہے!جوکہ بالکل غلط ہے اور حقائق کے منافی ہے بلکہ اس بارے میں شیخ الاسلام کا وہی مؤقف ہے جو اس امت  کا متواتر چلا آرہا ہے،جس پر کتاب وسنت کی نصوص موجود ہیں ۔

اس سلسلے میں ابن  تیمیہ رحمہ اللہ کی عظیم تصنیف’’ مجموع الفتاوی ‘‘سے ایک اقتباس نقل کرہا ہوں ؛جس سے ان کے اس عقیدہ  کی وضاحت ہوتی ہے، چناچہ فرماتے ہیں:مسیح (عیسی علیہ السلام )ضرور بضرور زمین پر نزول فرمائیں گے، ان کا نزول دمشق کے مشرقی مینار پر ہوگا،وہ دجال کو قتل کریں گے، صلیب کو توڑ یں گے اور خنزیر کو قتل کریں گے؛ جس طرح احادیث صحیحہ سے ثابت ہوتا ہے. (مجموع الفتاوی 4/329) ۔

ابن تیمیہ رحمہ اللہ  آگے چل کرعیسی علیہ السلام کے دوسرے آسمان پر ہونے (جیسا کہ احادیث معراج میں ہے) کی علت  یہ ذکر کرتے ہیں کہ وہ روز قیامت سے قبل زمین پر اتریں گے-(حوالہ مذکور)

شیخ الاسلام کی اس عبارت سے، یہ امر روز روشن کی طرح عیاں ہو گیا کہ نزول عیسی علیہ السلام سے متعلق ان کا بھی وہی عقیدہ ہے جو کہ ( بقول آپ کے) جمہور امت کا ہے-

امید واثق ہے کہ اس مسئلہ میں اس مختصروضاحت کوکافی سمجھا جائے گا-

About شیخ عبدالصمد مدنی

Check Also

اصلاح امت کا فریضہ ؛ امر واقع اور حقیقی طریقہ کار

الحمدللہ والصلاة والسلام علی رسول الله وعلی آلہ واصحابہ اجمعین اما بعد: قارئین کرام! السلام …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے