Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2018 » شمارہ فروری و مارچ » اربعینِ نووی حدیث نمبر27،قسط نمبر 59

اربعینِ نووی حدیث نمبر27،قسط نمبر 59

عن النواس بن سمعان رضي الله عنهما، عن النبي ﷺ  قال: ((البر حسن الخلق، والإثم ما حاك في نفسك وكرهت أن يطلع عليه الناس)) .

أخرجه مسلم- كتاب: البر والصلة والآداب، باب: تفسير البر والإثم، (25539، (14) .

ترجمہ:سیدنانواس بن سمعان tسے مروی ہے،نبیﷺ نے فرمایا:نیکی اچھے اخلاق کانام ہے، اور برائی ہر وہ چیز ہے جو تمہارے نفس میں کھٹکے اور تم اس بات کو ناپسند جانوکہ لوگ اس پر مطلع ہوں۔

اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے (البر)  یعنی:نیکی کا تعارف پیش فرمایاہے، (البر)  ایک ایسا کلمہ ہے جس کا اطلاق ہر خصلتِ خیر پر ہوتاہے،جس کی رُوسے پورے دین کو (البر)  کہاجاسکتاہے،عربی لغت میں اس قدر وسعت اور جامعیت ہے کہ بعض کلمات پورے دین کی تعبیر پیش کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جیسے کلمہ(التقویٰ) ہے، اس قدر جامع ہےکہ دین کے ہرہر شعبہ نیز تمام خصائلِ خیر کا احاطہ کیے ہوئےہے،(البر)  کی ضد(الاثم) ہے،جو گناہ کے معنی میں مستعمل ہے،قرآن حکیم میں بھی (البر)  کے مقابلے میں ضد کے طور پہ (الاثم) یعنی:گناہ کا لفظ استعمال ہواہے:

[وَتَعَاوَنُوْا عَلَي الْبِرِّ وَالتَّقْوٰى۝۰۠ وَلَا تَعَاوَنُوْا عَلَي الْاِثْمِ وَالْعُدْوَانِ۝۰۠ ](المائدۃ:۳)

اس حدیث میںرسول اللہ ﷺ نے حسنِ خلق کو (البر)یعنی:نیکی قرار دیا ہے،جس کا معنی یہ ہے کہ حسن خلق (البر) کی انواع میں سے ایک نوع ہے،یہ معنی نہیں ہے کہ (البر)       یعنی نیکی صرف حسن خلق میں محصور ہے۔حسن خلق کو (البر)کی انواع میں سے سب سے بڑی نوع قرار دیا جاسکتا ہے،اسی لئے رسول اللہ ﷺ نے قیامت کے دن اللہ کے میزان میں سب سے بھاری نیکی اخلاقِ حسنہ ذکرفرمائی ہے۔

(البر)کےبیان میں صرف حسن الخلق کا ذکر کرنا ایسے ہی ہے جیسے آپﷺ نے (الحج عرفۃ) فرمایاہے،یعنی: حج، عرفہ کا نام ہے۔ اب اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ حج صرف وقوفِ عرفہ ہی کانام ہے،بلکہ حج کےدیگر بہت سے ارکان اورواجبات موجود ہیں،البتہ وقوفِ عرفہ حج کا رکنِ اعظم کہلاتاہے،اسی لئے رسول اللہ ﷺنے وقوفِ عرفہ کو حج قرار دیا، لہذا حدیثِ زیرِ بحث کی رُو سے حسنِ خلق نہایت مہتم بالشان نیکی شمار ہوگی،جس کاثبوت یہ ہے کہ حدیثِ مذکور میں آپﷺ نے صرف حسن خلق کو (البر)قراردیاہے۔

واضح ہو کہ حسنِ خلق کی دوقسمیں ہیں:(۱)حسنِ خلق مع اللہ تعالیٰ ، یعنی: اللہ تعالیٰ کے ساتھ اچھے اخلاق کامظاہرہ۔

(۲)حسنِ خلق مع عباداللہ ،یعنی:اللہ کے بندوںکے ساتھ اچھے اخلاق کابرتاؤ۔

اللہ تعالیٰ کے ساتھ اچھے اخلاق کا مطلب یہ ہےکہ اس کے تمام احکامِ شریعہ کو مکمل رضاء اور تسلیم کےساتھ قبول کرے،کسی شرعی حکم کے تعلق سے نفس میں کوئی تنگی یاخلجان نہ ہو، بلکہ انشراحِ صدر کے ساتھ قبول کا جذبہ ہو،مثلاً: اللہ تعالیٰ کی طرف سے نماز کاحکم ملے تو کسی تنگی کے بغیر انتہائی خوشدلی اور شوق وذوق سے اسے اداکرے،اسی طرح زکاۃ اور روزے وغیرہ۔

اللہ تعالیٰ کے ساتھ حسنِ خلق کی دوسری صورت یہ ہے کہ اس کے احکامِ قدریہ کے تعلق سے بھی قبول وتسلیم کا مادہ ہو؛کیونکہ تقدیر کے فیصلے تکلیف دے بھی ہوسکتے ہیں،تکلیف کا تعلق اہل وعیال ،مال ودولت اور جان وغیرہ سےبھی ہوسکتاہے،جن پر برضاء ورغبت صبرکادامن تھامے رہنا،کسی قسم کا شکوہ نہ کرنااور ان فیصلوںکے تعلق سے شرعی ہدایات سے جڑے رہنا،حسنِ خلق کی بہترین صورت قرارپائے گی۔

لوگوںکے ساتھ حسنِ خلق سے مراد یہ ہے کہ ان سے خندہ پیشانی کے ساتھ ملاجائے،اپنی زبان یاہاتھوں کی تکلیف سے انہیں بچایاجائے، ان کی جانب سے پہنچنے والی تکالیف پر صبرکیاجائے اور ضرورت پڑنے پر اپنے مال تک کی سخاوت جیسے قابلِ تعریف اقدام کواپنالیاجائے۔

اسی معنی میں رسول اللہ ﷺ کی دوسری حدیث بھی وارد ہے:

(وخالق الناس بخلق حسن)

یعنی:لوگوں کے ساتھ اچھے اخلاق کامظاہرہ کرو۔

قرآن حکیم نے رسول اللہ ﷺ کے اخلاقِ حسنہ کا مختلف اسالیب سے ذکر فرمایاہے:

[وَاِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِيْمٍ۝۴ ](القلم:۴)

ترجمہ:اور بیشک آپ بہت بڑے (عمده) اخلاق پر ہے ۔

[فَبِمَا رَحْمَۃٍ مِّنَ اللہِ لِنْتَ لَھُمْ۝۰ۚ وَلَوْ كُنْتَ فَظًّا غَلِيْظَ الْقَلْبِ لَانْفَضُّوْا مِنْ حَوْلِكَ۝۰۠ ](آل عمران:۱۵۹)

ترجمہ:اللہ تعالیٰ کی رحمت کے باعث آپ ان پر نرم دل ہیں اور اگر آپ بد زبان اور سخت دل ہوتے تو یہ سب آپ کے پاس سے چھٹ جاتے۔

اس سےواضح ہوا کہ حسنِ خلق ایک ایسا عمدہ وصف ہے جسے انسان کے محاسن اور مکارمِ خیر میں شمارکیاجاتاہے۔

(البر)کے مقابلے میں (الاثم) ہے، جو گناہ کےمعنی میں مستعمل ہے، آپﷺ نے (الاثم) کی تعریف میں یہ بات ارشاد فرمائی کہ جو چیزآپ کے دل میں کھٹکے اور جس چیز کے ارتکاب کے تعلق سے آپ اپنے نفس میں قلق محسوس کریں اور اس کے لوگوں پر ظاہر ہونے کو براجانیں ،وہ  (الاثم) یعنی گناہ ہے۔

معلوم ہوناچاہئے کہ یہاں نفس سے مراد ،نفسِ مومن ہے،ایک فاسق اور فاجر بلکہ سرکش قسم کے انسان کا نفس مراد نہیں ہے،وہ ہرگز گناہ کو پہچاننے کا معیار نہیں بن سکتا۔

مومن کا نفس انتہائی پاکیزہ اورصاف ستھراہوتاہےجونیکیوں پر مطمئن ہوتا ہے اور گناہوں پر وحشت محسوس کرتاہے،اور اس بات کو برا خیال کرتا ہے کہ یہ معاملہ لوگوں پر ظاہر نہ ہوجائے۔

یہی مضمون ایک دوسری حدیث میں اس طرح وارد ہے:

دع ما یریبک الی مالایریبک.

(مسند احمد:۱۲۵۷۸،سنن نسائی:۵۷۱۱،جامع ترمذی:۲۵۱۸)

یعنی:جوچیز تمہیں شبہ میں ڈال دے اسے چھوڑ دواور ایسا عمل اختیار کرلو جو شک وشبہ سےپاک ہو۔

اس حدیث میں بندۂ مومن کے تعارف کے تعلق سے ایک ضابطہ موجود ہے اور وہ یہ ہے کہ وہ ہمیشہ اپنے گناہوں کے لوگوں پر ظاہر ہونے کو برامحسوس کرے گا،جبکہ ایک فاجرانسان اپنے گناہوں کے ظاہر ہونے کو کبھی برامحسوس نہیں کرےگا،بلکہ بعض لوگ تو اپنے گناہوں کو بڑے فخر کے انداز میں بیان کرتے پھرتے ہیں،اس قماش کے لوگوں کو رسول اللہ ﷺنے ایک دوسری حدیث میں مجاہرین قرار دیا ہے،چنانچہ آپﷺ کا ارشاد ہے:

عن أَبی هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ” كُلُّ أُمَّتِي مُعَافًى إِلَّا المُجَاهِرِينَ، وَإِنَّ مِنَ المُجَاهَرَةِ أَنْ يَعْمَلَ الرَّجُلُ بِاللَّيْلِ عَمَلًا، ثُمَّ يُصْبِحَ وَقَدْ سَتَرَهُ اللَّهُ عَلَيْهِ، فَيَقُولَ: يَا فُلاَنُ، عَمِلْتُ البَارِحَةَ كَذَا وَكَذَا، وَقَدْ بَاتَ يَسْتُرُهُ رَبُّهُ، وَيُصْبِحُ يَكْشِفُ سِتْرَ اللَّهِ عَنْهُ "(صحیح بخاری:۶۰۶۹)

ترجمہ:ابوھریرہtسےمروی ہے، فرماتے ہیں:میںنے رسول اللہ ﷺکو یہ فرماتے ہوئے سناہے:بے شک میری پوری امت معافی کی مستحق ہے،سوائے ان لوگوں کے جو گناہوں کو برسرِ عام ظاہر کرتے ہیں،ظاہرکرنے کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ انسان رات کو کسی گناہ کا مرتکب ہوتا ہے،اللہ رب العزت اس پر پردہ ڈال دیتا ہے،اور وہ لوگوں سے کہتاپھرتاہے کہ رات میں نے گناہ کا فلاں کام کیا تھا،اللہ تعالیٰ نے رات بھر اس کے گناہ پر پردہ ڈالے رکھا اور وہ خود صبح ہوتے ہی اس پردے کو پھاڑ ڈالتا ہےاور اپنےگناہ کو ظاہر کردیتاہے۔

یہ بندہ انتہائی خطرناک روش پر قائم ہے،اس قسم کے لوگ آہستہ آہستہ گناہ کو نیکی سمجھ بیٹھتے ہیں،اور انتہائی بےپرواہی کے ساتھ اس کا ارتکاب کرتے رہتے ہیں۔(والعیاذباللہ)

علاوہ ازیں خود ہی اپنے گناہوں کو لوگوں پر کھولنا،شریعت کے ساتھ مذاق کی ایک بدترین شکل ہے،مثلاً:ایک شرابی شخص کا ڈھینگیں مارتے ہوئے کہنا کہ رات میںنے اتنے جام شراب کے پی لئے ہیں، یہ جملہ تو شریعتِ مطہرہ کے ساتھ مذاق ہے ،اس قسم کامذاق بندے کو کفر کی وادی میں دھکیل دیتاہے۔(واللہ المستعان)

فقیہ الزماں الشیخ محمد بن صالح العثیمین aفرماتے ہیں:ایسے شخص سےتوبہ کرنے کا کہاجائے گا، اگر کرلی تودرست،ورنہ قتل کردیاجائےگا، یہ حاکمِ وقت کی ذمہ داری ہے۔

شراب نوشی یازناکاری ایسے گناہ ہیں جن سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایاہے،ایسی بے حیائی اور بدکرداری کا مظاہرہ کرنے والاویسے ہی ملعون قرادیاگیاہے،اگر یہ شخص اللہ تعالیٰ کی حرمت کو پامال کرکے مذاقاًوسخریۃًاپنے گناہوں کو اچھالتاہے،تو اس کا دین وایمان کہاں رہا؟یقینا یہ شخص توبہ نہ کرنے کی صورت میں واجب القتل ہے۔

وعن وابصة بن معبد رضى الله عنه، قال: أتيت رسول الله ﷺ، فقال: ((جئت تسأل عن البر والإثم؟)) قلت: نعم؛ قال: ((استفت قلبك؛ البر ما اطمأنت إليه النفس واطمأن اليه القلب، والإثم ما حاك في النفس وتردد في الصدر، وإن أفتاك الناس وأفتوك))

اخرجه الإمام أحمد في المسند (4/228) والدارمي (2/245-246) وأبو يعلى (1586، 1857) .

ترجمہ:سیدناوا  بصہ بن معبد tسے مروی ہے،کہتے ہیں:میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضرہوا،آپ نے فرمایا:تم نیکی کے بارے میں پوچھنے آئے ہو؟میںنے عرض کیا:جی ہاں۔توآپ نے فرمایا:اپنے دل سے پوچھو،نیکی وہ ہے جسے اختیار کرکے نفس مطمئن ہو، اوردل مطمئن ہو،اور گناہ وہ ہے جو دل میں کھٹکتارہےاور سینہ تردد کا شکار رہے،اگرچہ لوگ اس کے حق میں فتوے دیتے رہیں۔

یہ حدیث حسن ہے،مسنداحمد اور دارمی میں حسن سند کے ساتھ مروی ہے۔

یہ حدیث صحابی ٔرسول وا    بصہ بن معبدالأسدی کی روایت سے ہے، ان کی کنیت ابوالشعثاء یا ابوسعیدہے،۹ہجری میں اپنے قبیلے کے ساتھ نبیﷺ کی خدمت اقدس میں،مدینہ منورہ آکر اسلام قبول کیا،نبی ﷺ سے چنداحادیث بھی روایت فرمائی ہیں،نیز عبداللہ بن مسعوداور ام قیس بنت محصن سےبھی احادیث روایت کی ہیں،ان کے دوبیٹے سالم اور عمر بھی راویانِ حدیث میں شمار ہوتے ہیں،جنہیں ان کے تلمذ کا شرف حاصل ہے۔

حدیثِ مذکور جس میں نیکی اور گناہ کاذکر ہےکی روایت سے قبل اپنا قصہ بیان کرتے ہیں :میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور میرا ارادہ یہ تھا کہ نیکی اور گناہ کےتعلق سے کوئی نکتہ نہ چھوڑوں، بلکہ ہر بات آپﷺ سے پوچھ لوں،اس وقت آپﷺ کے اردگرد صحابہ کی ایک جماعت موجود تھی،جوآپﷺ سے سوالات کررہی تھی،میں ان کی گردنیں پھلانگتے ہوئے آگے بڑھنے لگا،صحابہ نے کہا:اے وا    بصہ!تم رسول اللہ ﷺ سے ہٹ کربیٹھو،میں نےکہا:مجھے چھوڑ دو،میں رسول اللہ ﷺکے قریب جاناچاہتاہوں،کیونکہ آپﷺ میرے نزدیک تمام لوگوں سے بڑھ کر محبوب ہیں،رسول اللہ ﷺنے فرمایا:وا    بصہ کو چھوڑدو،اےوا    بصہ!قریب آجاؤ،(یہ بات آپﷺ نے دوتین بار ارشاد فرمائی)میں آپﷺ کے قریب آتارہا حتی کہ آپ کے سامنے بیٹھ گیا،آپﷺ نے فرمایا:اےوا    بصہ!تجھے میں خبر دوںیا تم مجھ سےسوال کروگے؟میںنے عرض کیا:نہیں ،آپ ہی خبر دیجئے، تو آپﷺ نے فرمایا:تم مجھ سے نیکی اور گناہ کی بابت سوال کرنے آئے ہو،وا  بصہ نے کہا:جی ہاں،توآپﷺ نے اپنی انگلیوںکے پورے اکٹھے کیے اور میرے سینے کوکریدتے ہوئے فرمایا:اے وا    بصہ! اپنے دل سے استفسارکرواور اپنے نفس سے استفساکرو…..الحدیث

اس حدیث میں بھی قلبِ مومن کو نیکی اور گناہ کے مابین فرق کے لئے ایک معیار قراردیاگیاہے، چنانچہ نیک عمل انجام دینے سے مومن کے دل میں انشراح واطمینان پیداہوتاہے،جبکہ گناہ کے عمل پر اس کا دل تنگی محسوس کرتاہے،اور وہ متردد رہتاہے کہ یہ عمل لوگوں پر ظاہرکروں یا نہ؟یہ تردد ہی اس کے گناہ ہونے کی دلیل ہے۔

اللہ رب العزت نے نفسِ مومن کو ایک ایسا نور عطافرمایا ہےجو خیروشر کی معرفت اور ان کے مابین تمیز کی صلاحیت رکھتاہے،اللہ تعالیٰ کافرمان ہے:

[اِنْ تَتَّقُوا اللہَ يَجْعَلْ لَّكُمْ فُرْقَانًا](الانفال:۲۹)

یعنی:اگر تم اللہ تعالیٰ کا خوف اختیارکروگے تو وہ تمہیں فرقان عطافرمائے گا۔

فرقان سےمراد خیروشر اور نفع وضرر کے درمیان تمیز کرنا ہے، چنانچہ اللہ رب العزت اپنے متقی بندے کو فرقان کی صلاحیت بخشتا ہے، جس کے ذریعے وہ خیروشر میں تمیز کرنے میں کامیاب ہوجاتاہے۔

اس حدیث سے واضح ہوا کہ بعض اوقات مفتیوں کے فتویٰ سے اطمینانِ قلبی حاصل نہیں ہوتا،دل میں ایک تردد سا قائم رہتا ہے، توچونکہ کوئی شخص معصوم نہیں،ایک عالم سے بھی غلطی کاامکان ہے،اور خاص طور پہ اگر عالم گمراہی اور انحراف کے راستے پر قائم ہو تو وہ عمداً وقصداً ایسے فتوے صادرکرے گا جو شریعتِ مطہرہ کے خلاف ہوں،لہذا کسی فتویٰ پر اس وقت تک اعتماد نہ کیجئے جب تک اطمینانِ قلب حاصل نہ ہوجائے۔

اطمینان کاحاصل ہونا اس عمل کے نیک ہونے کی دلیل ہے، اور شک ،تنگی اور تردد کا حاصل ہونا اس کے گناہ ہونے کی دلیل ہے۔

کچھ لوگوں کی یہ روش بھی دیکھی گئی ہےکہ وہ اپنے بعض علماء کے اندھے پیروکاربن جاتےہیں، شیطان ان کے دل میں یہ بات ڈال دیتا ہے کہ ان سے غلطی صادر ہوہی نہیں سکتی، لہذا ہر بات میں ان کی پیروی کواپنے لئے ضروری قراردے دیتے ہیں،یہ روش شرعی مقاصد کے خلاف ہے۔

کچھ لوگ اس قدر سست اور کوتاہ ہمت واقع ہوئے ہیں کہ وہ کسی بھی عالم کی ہربات یہ کہہ کر تسلیم کرلیتے ہیں کہ صحیح یا غلط انہی کے کاندھوں پر ہےاور وہ خود اس مسئلہ کے ذمہ دار ہیں،یہ موقف بھی شرعی ادلہ سے موافقت نہیں رکھتا۔

علماءِ کرام سے استفسار ضرورکیاجائے،ان سے مسئلہ کی دلیل بھی طلب کی جائے،پھر اپنے دل کی طرف رجوع کیاجائےکہ وہ اس مسئلہ پرمطمئن ہے یانہیں؛کیونکہ حدیثِ بالاکی روشنی میں رسول اللہ ﷺ نے اپنے نفس سے بھی فتویٰ طلب کرنے کی ترغیب دلائی ہے۔

ہم شروع میں عرض کرچکے کہ اس سے مراد ایک متقی انسان کانفس ہے،اگروہ کسی عالم کے جواب اور اس کی ذکرکردہ دلیل سے اطمینان وانشراح محسوس کرتا ہے تو یہ اس کے حق ہونے کاثبوت ہے،اور اگر ضیق (تنگی) اور تردد محسوس کرتا ہے،تو اسے ناحق خیال کرتے ہوئے مزید تحقیق جاری رکھے،دیگرعلماء سے استفسارکرے، تا آنکہ دل مطمئن ہوجائے۔

خلاصۂ کلام یہ ہے کہ کسی بھی مسئلہ کی تحقیق کی تین بنیادیں ہیں:

(۱)علماء سے استفسار

(۲)مسئلہ کی دلیل کا مطالبہ

(۳) بیان کردہ جواب پر دل کا مطمئن ہونا

گویا کسی بھی مسئلہ کی صحت کیلئے خالی اطمینانِ قلبی کافی نہیں،اسی طرح کسی عالم کا بلادلیل جواب بھی کافی نہیں، بلکہ یہ تینوں مراحل اپنانا ضروری ہیں،خصوصاً اس پرفتن دور میں کہ فتنے سمندر کی لہروں کی طرح اُٹھ رہے ہیں،بارش کے قطروں کی طرح برس رہے ہیں، چٹائی کے تنکوں کی طرح باہم مربوط ہوکر پوری قوت سے حملہ آورہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ رسول اللہ ﷺ کی وہ پیش گوئی بھی موجود ہے، جس میںآپﷺ نے ایسے دعاۃ کی خبردی ہے جو جہنم کے دروازوں پر کھڑے ہوکر دعوت دیں گےاور اپنے ماننے والوں کو اسی وقت کھینچ کر جہنم میں جھونک دیں گے۔

قرآن پاک نےبھی ایسے دعاۃ سےمتنبہ فرمایاہے،جو دنیائے دنی کی غلامی کی بدترین روش اپنائے ہوئے ہیں، جن کاہدف مال وزر کا حصول ہے ،جس کے لئے ہر قسم کے فتوے صادر کرنے پر تیار رہتےہیں، ایسے خواہش پرست عناصر کوقطعاً اس لائق نہیں کہ انہیں علماء کی صف میں شمارکیاجائے،ان سے اس طرح دوری اوربچاؤاختیارکیاجائے جیسے بھاولےکتے سے اجتناب برتاجاتاہے،اس پر حدیث بھی موجودہے۔

نیز اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

[يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِنَّ كَثِيْرًا مِّنَ الْاَحْبَارِ وَالرُّہْبَانِ لَيَاْكُلُوْنَ اَمْوَالَ النَّاسِ بِالْبَاطِلِ وَيَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِيْلِ اللہِ۝۰ۭ](التوبۃ:ـ۳۱)

ترجمہ:اے ایمان والو! اکثر علما اور عابد، لوگوں کا مال ناحق کھا جاتے ہیں اور اللہ کی راه سے روک دیتے ہیں ۔

ثابت ہوا کہ یہ خواہش پرست طبقہ دین کا بھی ڈاکوہے اور دنیا کابھی۔

واضح ہو کہ اس حدیث سے صوفیاء کے لئے کوئی دلیل نہیں جن کا انحصار قلبی کشف والہام پر ہے؛کیونکہ یہ طبقہ وحیٔ الٰہی پر اعتماد کی بجائے اپنے قلبی رجحانات ومیلانات جنہیں وہ کشف وغیرہ کا نام دیتے ہیںپر تکیہ کیے ہوئے ہیں۔(واللہ المستعان)

(جاری ہے۔)

About الشیخ عبدﷲ ناصر رحمانی

امیر جمعیت اہل حدیث سندھ

Check Also

اربعینِ نووی(حدیث نمبر28 قسط نمبر 60)

عَن أَبي نَجِيحٍ العربَاضِ بنِ سَاريَةَ رضي الله عنه قَالَ: وَعَظَنا رَسُولُ اللهِ مَوعِظَةً وَجِلَت …

جواب دیجئے