Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2019 » شمارہ دسمبر » کالاکوٹ بمقابلہ سفید کوٹ؛نصاب کس کا تبدیل ہو؟

کالاکوٹ بمقابلہ سفید کوٹ؛نصاب کس کا تبدیل ہو؟

الحمدللہ والصلاة والسلام علی رسول الله وعلی آلہ واصحابہ اجمعین اما بعد:

قارئین کرام! السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ

لاہور کےالمناک سانحے نے انسانیت کا سر شرم سے جھکا دیا، ایسا تو دشمن حالت جنگ میں بھی نہیں کرتا۔۔۔ چشم فلک نے یہ دل خراش اور روح فرسا منظر دیکھا جب قانون کے ڈگریاں حاصل کرنے والے کالے کوٹ میں ملبوس وکلاء نے بھوکے درندوں کی طرح لاہور میں دل کے ایک ہسپتال پنجاب کارڈیو لاجی پر ایک منظم حملہ کردیا،وہ ہسپتال جہاں مختلف امراض قلب میں مبتلا مریض زندگی و موت کی کشمکش میں تھے ،  ہسپتال میں ان وکلاء نے توڑ پھوڑ کی، مریضوں اور عملے کو زدو کوب کیا، چھ قیمتی جانیں تک ضایع ہو گئیں، جبکہ زخمیوں کی تعداددرجنوں تک بتائی گئی ہے۔کروڑوں کی مشینری کو تہس نہس کردیا،کئی ایک گاڑیوں کو نذر آتش کر دیا، قانون کے محافظ بے بس نظر آئے، ہسپتال میدان جنگ بنا رہا، تقریباً چھ گھنٹے تک یہ مکروہ کھیل چلتارہا اس دوران وزیر اطلاعات پنجاب فیاض الحسن چوہان آئے لیکن بپھرے ہوئے وکلاء نے انہیں بھی آڑے ہاتھوں لیا، وزیر صحت پنجاب ڈاکٹر یاسمین راشد بھی ہسپتال کے گیٹ پر تقریباً آدھا گھنٹہ کھڑی رہیں لیکن ان کے لیے بھی  بند دروازہ نہیں کھولاگیا—!

ایسے ہی وکیلوں کے بارے میں کہا گیا ہے :

پیدا ہوئے وکیل تو ابلیس نے کہا

لو آج ہم بھی صاحب اولاد ہوگئے

یہ وحشیانہ عمل اور جاہلانہ حرکت کیوں کی گئی ؟ اخباری رپورٹ کے مطابق دو تین وکلاء کسی سلسلے میں پنجاب کارڈیالوجی ہسپتال گئے،اس دوران ان کی ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹر سے توتکار ہو گئی، بات مار کٹائی تک پہنچ گئی۔ اس کی خبر وکلاء برادری کو ملی تو فوری ردعمل میں ہڑتال کر دی گئی اور سڑک بند کر کے مقدمے کا اندراج کرکے ڈاکٹروں کی گرفتاری کا مطالبہ کیا گیا۔

آئی جی نے وکلاء کے دباؤ پر دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ تو درج کر لیا، مگر ڈاکٹروں کی گرفتاری عمل میں نہ لائی گئی۔ اس کی دو وجوہات ہو سکتی ہیں :

پہلی وجہ یہ کہ ؛پولیس نہیں چاہتی تھی کہ ڈاکٹروں کو گرفتار کرے اور وہ پنجاب کارڈیالوجی ہسپتال کو بند کر دیں۔

 دوسری وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ؛ اگر ڈاکٹروں کو گرفتار کیا جاتا تو لازماً ریمانڈ کے لئے کچہری لے جایا جاتا، جہاں وکلاء کی طرف سے ردعمل اور تشدد کا خطرہ تھا۔ سو اس معاملے کو ٹالا جاتا رہا۔

بہرحال اسباب کچھ بھی ہوں لیکن اس وحشیانہ طرز عمل کی کوئی منطقی توجیہ نہیں کی جاسکتی! پھر یہ اس ملک میں کوئی پہلا واقعہ تو نہیں ہے بلکہ یہ ان واقعات کا ایک تسلسل ہے جو آئے روز ہمارے معاشرے میں جنم لیتے رہتے ہیں، اپنے پیشے کو اہم اور اپنے پیٹی بھائیوں کی اندھی وکالت اور ہر جرم میں ان کا ساتھ دینا۔۔۔ یہ وہ المیے ہیں جو اس ’’متمدن اور تعلیم یافتہ سماج“ کو دور جاہلیت سے بھی بدتر بنا دیتے ہیں!

کسی ایک وکیل کے خلاف کوئی ٹریفک کانسٹیبل، کوئی ڈاکٹر، کوئی دکاندار یا کوئی راہ چلتا شخص زیادتی کرے تو سب سے پہلے بار ایسوسی ایشن کچہری کو بند کرنے کا حکم جاری کرتی ہے، عدالتوں کا بائیکاٹ کر دیا جاتا ہے، مقدمات کی سماعت کو زبردستی رکوا کر مطالبات داغے جاتے ہیں۔ دوسری طرف یہی حال ڈاکٹروں کا بھی ہے!

بدقسمتی سے ڈاکٹر بھرتی ہونے والے اس غلط فہمی میں مبتلا ہو جاتے ہیں کہ وہ ہی اب ہسپتال کے سیاہ و سفید کے مالک ہیں۔ وہ ذرا ذرا سی بات پر ہسپتال کو تالے لگا دیتے ہیں، گیٹ بند کر دیتے ہیں، مریضوں کو بے یارو مدد گار چھوڑ دیتے ہیں، کوئی اونچی آواز سے پوچھ لے کہ بھائی! یہ تم کیسے کر سکتے ہو ؟ تو اس کو پھینٹی لگا دیتے ہیں۔یہ سب کرتے ہوئے وہ اپنے حلف، اپنے فرائض اور اپنی ذمہ داریوں کو یکسر فراموش کر جاتے ہیں!

اس سانحے کے متعلق ایک تلخ حقیقت تو یہ بھی ہے کہ  یہ مختلف تنظیموں اور انجمنوں کی صورت میں وجود پانے والے مختلف طبقات وہ مافیاز ہیں جو معاشرے میں غنڈہ راج اور دہشت گردی کو فروغ دے ہیں انہوں نے تعلیمی اداروں، ہسپتالوں،عدالتوں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی کو تباہ و برباد کرکے رکھ دیا ہے،بجائے حق اور انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کے ہر اتحاد اور انجمن اپنی برادری کے مفادات کو ہی مقدم کرتا ہے، جہاں پر یہ مجبور ہو جائیں یا ان کے پیشے کا  کارڈ نہ چلے تو وہاں پر وہ غنڈہ گردی پر اتر آتے ہیں،اور پورے سسٹم کو ہی یرغمال بنا دیتے ہیں !

اور قانون  ان کے آگے گھٹنے ٹیک دیتا ہے ان کے اس گھمسان کے رن میں خون عام لوگوں کا بہتا ہے، لیکن اس تمام کے باوجود بھی ان طبقات کے مقام و مرتبے پر کوئی آنچ نہیں آتی!

فواد چوہدری، فیاض الحسن چوہان اوران کےچند دیگر ہم نواحضرات سے سوال ہے بتائیے کہ جہالت کی فیکٹریاں کہاں ہیں ؟ کیامدارس ہیں جہاں سے قرآن وحدیث اور سیرت طیبہ کی روشنی میں اخلاق اور کردار کی تعمیر ہوتی ہے ، حقیقی انسان بنایا جاتا ہےیا آپ کی قائم کردہ ”ہارورڈ اور کیمبرج یونیورسٹیز“ جہاں پر صرف اپنے خسیس مفادات، جاہ و منصب اور مال و دولت ہی مقصود و مطلوب ہیں انسانیت، اخلاقیات اور آداب کی کوئی حیثیت نہیں!

آج تک کسی مدرسے والوں نے کسی ہسپتال پر حملہ نہیں کیا ، سڑکیں بلاک نہیں کیں، ایمبولینس سروس کو نہیں روکا، ایک ٹائر تک نہیں جلایا، بلکہ جب بھی اس ملک و قوم پر کوئی مشکل وقت آئے ، یہ پیش پیش ہوتے ہیں ، اپنی جانوں تک کے نذرانے پیش کرتے ہیں، ویلفیئر اور فلاح و بہبود کا وہ کام کرتے ہیں جس میں انسانیت کو ہی پیش نگاہ رکھتے ہیں، سیلابوں اور زلزلوں کی تاریخ اٹھا کر دیکھیں یقین آ جائے گا، یہ پاکیزہ اقدار ان کو اس نصاب نے سکھائی ہیں جس پر قرآن وحدیث کا نور ہے اوروہ وحی الہی کی روشنی میںہے۔

اب ایمانداری سے بتائیے کہ کس کے نصاب کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے؟ کہاں سے جہالت کے مہیب سائے پیدا ہوتے ہیں اور جہالت کی فیکٹریاں کہاں ہیں؟اور ان فیکٹریوں کو خام مال کہاں سے ملتاہے؟

ارباب اقتدار کو ہمارا مخلصانہ مشورہ ہے کہ مدارس کے نصاب سے فائدہ اٹھائیں سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کے تمام مراحل میں التربیۃ الاسلامیہ کے نام سے ایک سبجیکٹ لازمی طور پر شامل نصاب کریں، جس میں قرآن وحدیث اور محسن انسانیت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ کو پڑھایا جائے اس سلسلے میں جید علماء کرام پر مبنی ایک بورڈ تشکیل دیا جائے، کیونکہ تربیت کے بغیر حاصل ہونے علم سے انسانیت کو کوئی فائدہ نہیں پہنچے گا، الٹا نقصان ہی حاصل ہوگا، سچ ہے کہ:

آدمیت اور شے ہے علم ہے کچھ اور شے

کتنا طوطے کو پڑھایا پر وہ حیوان ہی رہا

About شیخ عبدالصمد مدنی

Check Also

بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر اور کرتارپور راہ داری!

الحمدللہ والصلاة والسلام علی رسول الله وعلی آلہ واصحابہ اجمعین اما بعد: قارئین کرام! السلام …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے