Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2018 » شمارہ فروری و مارچ » ایڈیٹردعوت اہل حدیث شیخ ذوالفقار علی طاہررحمہ اللہ کے ساتھ بطورکمپوزر بیتی چندیادیں

ایڈیٹردعوت اہل حدیث شیخ ذوالفقار علی طاہررحمہ اللہ کے ساتھ بطورکمپوزر بیتی چندیادیں

سن2002ء کی بات ہے ،راقم نےالمعہد السلفی للتعلیم والتربیۃ میں،ساتویں کلاس میں داخلہ لیا،(آخر ی دوسال تعلیم حاصل کرکے) یہاںسے سندِ فراغت حاصل کی،اس وقت ان دونوں کلاسوں کا کوئی سبق شیخ ذوالفقارعلی طاہر رحمہ اللہ کے پاس نہیں تھااور یوں راقم شیخ ذوالفقار علی طاہر کے شرفِ تلمذ سے محروم رہا۔

2010ءکے اواخر میں دعوت اہل حدیث (اردو) کے مدیرمنتطم ہونے کی ذمہ داری شیخ ذوالفقار علی طاہر کوتفویض کی گئی تو دعوتِ اہل حدیث (اردو) کاکمپوزر ہونے کے ناطے شیخ aسے قربت اور رفاقت کا ایک سلسلہ شروع ہوا جو آپ aکی حیات تک قائم رہا۔ الحمدللہ علی ذلک

شیخ رحمہ اللہ انتہائی بااخلاق ہرخاص وعام سے محبت کرنے والے، انتہائی ملنسار تھے، اس کا اندازہ آپ کے ساتھ گزارے گئے ہر ماہ کے دودن میں بخوبی ہوتا(دعوت اہل حدیث کے آخری مراحل کی تکمیل المعہد السلفی میں عموما دودن میں ہوا کرتی تھی)

دعوتِ اہل حدیث کے قارئین ہر ماہ شیخ عبداللہ ناصر رحمانی d کے درسِ حدیث سے مستفید ہوتے جس میں شیخ aکی تحریص کو فراموش نہیں کیاجاسکتا، شیخ محترمdکی گوناگوںعلمی،تدریسی،تصنیفی اور دعوتی سرگرمیوں سے ہرخاص وعام واقف ہے ان مصروف دنوں میں سے فارغ دن کا معلوم کرکے شیخ محترمdکو درسِ حدیث کے املاء کرانے کی یاددہانی کراتے،جس کا علم مجھے آپ کے میسج سے ہوتا کہ میںنے آج یاددہانی کرادی ہے آپ بھی ضرور یاددہانی کرادیجئے گا تاکہ رسالہ شیخ محترمdکے درسِ حدیث سے محروم نہ رہے۔نتیجتاً قارئین دعوتِ اہل حدیث بخوبی واقف ہیں کہ شاذونادر ہی کوئی رسالہ شیخ محترمd کے  درسِ حدیث سے خالی ہوتا۔

آپ کی دوسری خوبی ’’دعوتِ اہل حدیث‘‘ کے جملہ متعلقین کے ساتھ دلجوئی وہمدردی ،جس کا اندازہ قارئینِ دعوت اہل حدیث ،دعوت اہل حدیث میں موجود اداریے کے ساتھ منسلک شذرات سے لگاسکتے ہیں، ان کے ساتھ پیش آنے والے حادثات جو کسی قریبی کی فوتگی،بیماری یا کسی ناگہانی آفت کی صورت میں ہوتے ان کا نہ صرف ذکر کرتے بلکہ ادارے کاہر غمی وخوشی میں شامل حال رہنے کا عندیہ دیتے۔

دورانِ کام نمازِ مغرب کا وقت ہوتا،نماز کی ادائیگی کے لئے مسجد تشریف لے جاتے،اگر کمرے میں، میں پہلے آجاتا ،مجھے یاد نہیں کہ شیخ رحمہ اللہ نےکمرے میں داخل ہوتے وقت سلام نہ کیا ہو۔

اگر کبھی ظہر میں آنے کا پروگرام ہوتا جس سےآپ پہلے ہی آگاہ ہوتے،میرے گھر سے نکلنے یا دورانِ سفر آپ کی طرف سے میسج موصول ہوتاکہ آپ نےکھانا معہد میں ہی کھانا ہے۔

عموماًہم دونوں عشاء کی اذان سے قبل معہد سےایک ساتھ ہی نکلا کرتے تھے،آپ aنے ڈرگ روڈ پہنچنا ہوتا ،معہد سے ڈرگ روڈ کا سفر تقریباً۲۰، سے ۲۵منٹ کاہی بنتا ہے،عشاء کی نماز سے فارغ ہوکر میسج کرتے،زبیر صاحب آپ نے عشاء کی نماز پڑھنی ہے بھول نہ جائیے گا، نماز پڑھ کر ہی سوئیے گا۔

مجلہ میں شایع ہونے والی تمام تحریرات کا بڑی عرق ریزی سے مطالعہ کرتے،اس کے لئے وقت نکالتے ،نئے لکھنے والوں کی بھی حوصلہ افزائی فرماتے اور ان کی تحریرات میں اضافی محنت کرکے ان کو بھی دعوتِ اہل حدیث کی زینت بناتے۔

آپ کی ایک اور خوبی معہد السلفی کے طلبہ کے ساتھ انتہائی مخلصانہ تعلق تھاجس کا اندازہ مجھے اس بات سے ہوا کہ عموماً طلبہ آپ ہی کےپاس آکر اپنے مسائل کاذکر کرتے اورآپa ان کے حل کی یقین دہانی کراتے اور انہیں مطمئن کرتے۔

مزاح آپ رحمہ اللہ کے مزاج کا حصہ تھا، لیکن آپ aکے مزاح میں بیہودگی توبہت دور کی بات ہے کسی نامناسب جملے کا بھی کوئی اظہار نہ ہوتا۔

شیخ رحمہ اللہ نے کبار علماءِ اہل حدیث کے داغِ مفارقت پر دعوتِ اہل حدیث کے کئی اداریے تحریر کیے،شیخ عبدالغفور دامنی حفظہ اللہ (بطورِ مزاح) اکثر کہا کرتے، آپ مجھے اتنا گھور کرکیوں دیکھ رہے ہیں،کہ یہ کب فوت ہوںگے تاکہ ان پر بھی ایک مضمون لکھوں،شیخ رحمہ اللہ ہنس کر جواب دیتے،یہ تو اللہ ہی کو معلوم ہے کہ کون کس پر لکھے گا۔ رحمہ اللہ رحمۃ واسعۃً

آخری بات جس سے آپ کی مجلہ دعوت اہل حدیث کے ساتھ دلی وابستگی کا اندازہ ہوتا ہے وہ یہ کہ 3جنوری2018عصراور مغرب کے درمیان آپ اس دنیا سے رحلت فرماگئے ،دعوتِ اہل حدیث ماہِ فروری 2018ء کا اداریہ،درسِ حدیث سمیت تمام مضامین کمپوزکراچکے تھے،2 جنوری کومنعقد ہونی والی مختصر تقریب کی رپورٹ’’اعلانِ نتائج امتحانات فترۂ اولیٰ المعہد السلفی‘‘آپ کی وفات کے دن ہی کمپوزنگ کے لئے مجھے موصول ہوچکی تھی۔

آخر میں دعا ہے کہ اللہ آپ کی تمام جہود ومساعی کو شرفِ قبولیت بخشے اور تمام لواحقین کو صبرجمیل عطافرمائے۔آمین

About حافظ زبیر اسماعیل

جواب دیجئے