Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2018 » شمارہ فروری و مارچ » انٹرویو شیخ ذوالفقار علی طاہررحمہ اللہ

انٹرویو شیخ ذوالفقار علی طاہررحمہ اللہ

سوال :شیخ صاحب آپ کا پورا نام بمع کنیت وسلسلہ نسب اور تاریخ ولادت کیا ہے؟

جواب :میرانام ذوالفقار علی طاہر ہے اورکنیت ابوزبیر ہے میری تاریخ ولادت 4مارچ 1972ء ہے۔

میرا سلسلہ نسب یوں ہے:ذوالفقار علی طاہر بن حمزہ علی بن غلام حیدر بن گلن بن چھٹو بن رکن بن شہداد بن شاہ علی۔

سوال :اپنے خاندانی بزرگوں کا کچھ تعارف کرائیں؟

جواب :میرے پردادارحمہ اللہ بے انتہاء دیندارشخص تھے آپ کے دیندار ہونے کی بہت سے باتیں لوگوں کی ز بانوں پر مشہور ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ میرے پردادا رحمہ اللہ کاہرروز کامشغلہ تھا کہ وہ مسافروں کیلئے پانی بھرکررکھتے تاکہ وہ ان کے رکھے ہوئےپانی سے اپنی پیاس بجھائیں اور ان کے لئے دعاکریں اس کارخیر میں آپ اپنے علاقہ میں اتنے مشہور ہوئے کہ آپ کے بارے میں ہرخاص وعام کی زبان پر ’’گلن فقیر جی وانڈھ‘‘جیسے تعریفی الفاظ مشہورہوگئے۔اور علاقے کے نقشے میں باقاعدہ اس کی نشاندہی کی گئی۔

میرے دادا رحمہ اللہ کے بھائی محمدیوسف رحمہ اللہ بھی بڑے دیندار تھے آپ اپنی دینداری کی وجہ سے لوگوں کے ہاں اتنے مقبول ہوئے کہ لوگوں نے آپ کوحاظ یوسف کہنا شروع کردیا ،یادرکھئے کہ حاظ مخفف ہے حافظ کا یعنی لوگوں نے آپ کوحافظ کہنا شروع کردیاحالانکہ وہ حافظ نہیں تھے۔

سوال :آپ کےعلاقےتحصیل کھپروضلع سانگھرمیں دعوتِ حق؍ دعوتِ اہل حدیث کب اور کس کے ذریعے پہنچی؟

جواب :ہمارے علاقہ میں دعوت حق ،دعوت اہل حدیث شیخ العرب والعجم محدث دیار سندھ علامہ سیدابومحمد بدیع الدین شاہ راشدی رحمہ اللہ کے ذریعے پہنچی،میرے داداغلام حیدرؒ1945ء سے کہیں پہلےہی شاہ صاحب رحمہ اللہ کی دعوت پر اہل حدیث ہوگئے تھے کیونکہ1945ء میںکبرجوگوٹھ میں شاہ صاحب کاگل محمد بریلوی سے گیارہویں پر مناظرہ ہواتھا اس مناظرہ میں میرے دادا رحمہ اللہ شاہ صاحب کے ساتھ تھے۔

سوال :آپ کے علاقے میںسب سے پہلے کس نےد عوتِ حق کو قبول کیا؟

جواب :شاہ صاحبaجب دعوت حق،دعوتِ اہل حدیث لے کر ہمارے علاقہ میں پہنچے تو سب سے پہلے شاہ صاحبaکی دعوت پر لبیک کہنےو الوںمیں میرے دادارحمہ اللہ،اور میرے والدرحمہ اللہ،حاجی یختیارشررحمہ اللہ،حاجی عبدالکریم شررحمہ اللہ، ثابت علی رحمہ اللہ جیسے جواں مرد شامل تھے۔

سوال :جب ان باہمت شخصیتوں نے مسلک اہل حدیث کو قبول کیا توپھرکیاہوا؟

جواب :پھر وہ ہوا جس کاسب کوعلم ہے، یاد رکھیے جہاں صدیوں سے شرک،بدعات وخرافات نے ڈیرے ڈال رکھے ہوں وہاں حق پہنچ جائے،شرک ،بدعات وخرافات کوجڑ سے اکھیڑ کرپھینکاجانے لگے تو باطل اپنے اہل وعیال کے ساتھ مقابلے کیلئے نکلتا ہے۔

ان جواں مردوں کے ساتھ بھی ایسا ہی ہواکہ مناظرے ،مباحثے، تنازعے اورلڑائیاں تک ان کے ساتھ کی گئیں لیکن بفضلہ تعالیٰ ہر جگہ حق نے میدان مارا۔

سوال :آپ کے دادا رحمہ اللہ اور والدرحمہ اللہ کے بہن بھائیوں کی تعداد؟

جواب :میرے دادا رحمہ اللہ کے چاربھائی تھے:

۱:محمدیوسف ۲:محمد کمال ۳:محمدصادق ۴:محمد عالم

میرے دادا رحمہ اللہ نے15فروری1983ء کو وفات پائی۔میں نے دادارحمہ اللہ کے حالات زندگی پر ’’دعوت اہل حدیث‘‘ کے شمارہ دسمبر 2009ءمیں مضمون لکھاہے۔

میرے والد رحمہ اللہ کے دوبھائی تھے:

۱: حاجی عباس(فوت ہوچکے ہیں)

۲: عبدالقادر،یہ الحمدللہ حیات ہیں اور فضیلۃ الشیخ عبدالصمد المدنی حفظہ اللہ  کے والدمحترم ہیں۔

اورتین بہنیں تھیں، جن میں سے دوفوت ہوچکی ہیں،ایک حیات ہیں۔

سوال :آپ کےد ادارحمہ اللہ کے ایک دوواقعات؟

جواب :میرے دادارحمہ اللہ شاہ صاحب رحمہ اللہ سے بے حد محبت کرتے تھے ایک دفعہ دادارحمہ اللہ کے سامنے شرکیہ عقائد کے حامل ایک شخص نے شاہ صاحب رحمہ اللہ کے بارے میں کہا:’’وہ گستاخِ رسول ہے اور گستاخ رسول کافرہے‘‘دادارحمہ اللہ کے کان میں یہ الفاظ پڑنے تھے کہ داداaنے اسے زناٹے دارتھپڑ رسیدکردیا۔

اسی طرح ایک مرتبہ مخنثین کا ایک ٹولہ داداaکے پاس آیا اور بھیک مانگنے لگا،دادانے اچھے الفاظ میں معذرت کی لیکن ان کااصرار بڑھ گیا اور کہنے لگا ہم پیسے لیے بغیرنہیں جائیں گے چونکہ دادا رحمہ اللہ نے جلالی مزاج پایاتھالہذا انہوں نے ان کے سرغنہ کو تھپڑماردیا،بس چماٹ لگناتھا کہ وہ اور اس کاٹولہ بھاگ کھڑا ہوا، اور اس سرغنہ نے بھاگتے ہوئے دادارحمہ اللہ کو بددعا دی کہ:’’تیرابیٹامرجائےگا۔‘‘(اس وقت دادارحمہ اللہ کی اولاد صرف میرے والد رحمہ اللہ ہی تھے) تو دادارحمہ اللہ  نے کہا:زندگی اورموت اللہ کے ہاتھ میں ہے، میں تم اور تمہاری بددعا سے نہیں ڈرتا۔

سوال :آپ کے والداوروالدہ کا آپس میں کیانسبی رشتہ تھااور آپ کے بھائیوں کاتعارف؟

جواب :میرے والد رحمہ اللہ میری والدہ کے پھوپھی کے بیٹےتھے اور والدہ ان کی ماموں زاد تھیں۔

میرے والدرحمہ اللہ نے دوشادیاں کیں، ایک ہماری والدہ سے جوکہ۳مئی ۲۰۰۱ءکو فوت ہوگئیں ،ان کے بطن سے سب سے بڑی ہماری بہن تھی جوکہ فوت ہوچکی ہیں جن کے حالات زندگی پر میں نے ’’دعوت اہل حدیث کے شمارہ اپریل۲۰۱۶ء میں مضمون لکھا ہے، دوسرے لیاقت علی ہیںجوکہ اس وقت بلدیہ کھپروسے وابستہ ہیں، تیسرے برکت اللہ ہیں جو کہ گاؤں کے سرکاری اسکول میں ہیڈ ماسٹر ہیں، چوتھے محمد علی ہیں یہ اس وقت مدرسہ تعلیم القرآن والحدیث للبنات میں معلم ہیں اور پانچواں میں ہوں۔

میں نے اپنی والدہ کے حالات زندگی پر’’دعوت اہل حدیث کے شمارہ جنوری ۲۰۱۰ء میں مضمون لکھا ہے۔

میرے والدصاحب رحمہ اللہ نے جودوسری شادی کی وہ ہماری ماں الحمدللہ حیات ہیں، ان کے بطن سے ہمارے صرف ایک ہی بھائی ہیں ،نام محمد ہے وہ اس وقت محنت مزدوری کرتے ہیں۔

سوال :آپ کےو الدصاحب کے ایک دوواقعات؟

جواب :والدصاحب رحمہ اللہ کاشاہ صاحب کے ساتھ بڑا ادب واحترام پر مبنی تعلق تھا،والدصاحب رحمہ اللہ کچھ عرصہ جماعت اسلامی میں شامل ہوگئے تھے اور ضلع سانگھڑ کے قیم مقرر کردیے گئے، ان ہی دنوں کی بات ہے کہ والدصاحب رحمہ اللہ جماعت اسلامی کے ایک ضلعی اجلاس کے سلسلےمیںشہداد پور میں تھے، اجلاس صبح کے وقت تھا اور شام کو شہداد پور میں شاہ صاحب رحمہ اللہ کا جلسہ تھا تووالدصاحب رحمہ اللہ جماعت اسلامی کے اجلاس سے فارغ ہوتے ہی گاؤں واپس آگئے،اورشاہ صاحب رحمہ اللہ کے جلسہ میں شرکت نہ کی وجہ یہ تھی کہ شاہ صاحب رحمہ اللہ کے جلسہ میں شرکت کرتے تو یقیناً شاہ صاحبaسے بھی ملاقات ہوتی اگر ملاقات میں شاہ صاحب پوچھ لیتے کہ یہاں کیسے آناہوا؟ توبتانا پڑتا کہ جماعت اسلامی کے کام کے سلسلے میں آناہواہے،جس سے شاہ صاحبaکو تکلیف ہوتی اور اگر کوئی اور وجہ بتاتے تو جھوٹ ہوتا۔

بالآخر والدصاحب رحمہ اللہ نے جماعت اسلامی سے علیحدگی اختیار کرلی تھی اور اس کی کچھ وجوہات تھیں،علیحدگی کا سبب ایک وہ واقعہ بھی بتلاتے تھے جو منصورہ میں پیش آیا، ایک بارمنصورہ ہالامیں قاضی حسین احمد کی زیرصدارت اجلاس ہورہاتھا،اس اجلاس میں قاضی حسین نے کہا: ’’پاکستان میں قرآن وحدیث کے نفاذ کامطالبہ کیاجارہاہے لیکن نافذ فقہ حنفی ہی ہوگی، اس لئے کہ پاکستان میں اکثریت حنفیوں(دیوبندیوں؍ بریلویوں) کی ہے۔‘‘اس اجلاس میں قاضی صاحب سے پوچھاگیا کہ جماعت اسلامی کے مدارس میں معلمین کس مسلک کےرکھے جائیں؟ تو قاضی صاحب نےکہا:’’دیوبندی اوربریلوی کورکھیں کسی اہل حدیث کو معلم نہ رکھنا۔‘‘

میں والدصاحب رحمہ اللہ کے حالات زندگی پر’’دعوت اہل حدیث کے شمارہ اگست۲۰۱۱ء میں تفصیلی مضمون لکھ چکاہوں۔

والدصاحب رحمہ اللہ نے یکم جولائی۲۰۰۵ء کو وفات پائی۔

سوال :آپ کی شادی کب ہوئی،آپ کا اپنی اہلیہ سے کیا نسبی رشتہ ہے؟ اور آپ کی اولاد کاتعارف؟

جواب :میری شادی میری ولادت کے ٹھیک ۲۰ویںسال میری تاریخِ ولادت پر۴مارچ ۱۹۹۲ء کو ہوئی، میری اہلیہ رشتے میں میرےخالہ زاد کی بیٹی ہیں۔

میرے دوبیٹے اورچھ بیٹیاں ہیں۔

بیٹوں کے نام:زبیراور زہیرہیں۔

سوال:آپ کی دینی تعلیم کاآغاز کیونکر ہوا؟

جواب :میری دینی تعلیم کاآغاز یوں ہواکہ:

عبداللہ شیخ مکہ والے میرے بڑے بھائی لیاقت علی صاحب کو اکثر میرے متعلق کہتے رہتے تھے کہ ’’ان کو مدرسہ کی تعلیم دلواؤ‘‘ عبداللہ شیخ کےا صرار پر مجھے برادرلیاقت علی صاحب نے دیوبندی مسلک کی جامع مسجد کھپرومیں قاری لعل محمد صاحب کے ہاں داخل کرادیا۔پھر عبداللہ شیخ کے سسر احمدشیخ صاحب نے لیاقت علی بھائی سے کہا :’’آپ ان کو حافظ کی بجائےعالم بنائیں کیونکہ حفاظ کرام تو بہت ہیں۔ہمارے ہاں علماء کی قلت ہے۔‘‘تولیاقت علی بھائی نے احمدشیخ صاحب کے مشورہ پر عمل کرتےہوئے اس مسجد سے میرانام خارج کرواکے مجھے میرپورخاص ٹنڈوآدم روڈ پر واقع دیوبندی مسلک کے مدرسہ قاسم العلوم کے شعبہ کتب میں داخل کرادیا۔یہ 1984-85ءکی بات ہے۔

سوال :مدرسہ قاسم العلوم میں آپ نے کن کن اساتذہ سے کون کون سی کتب پڑھیں؟

جواب :اس مدرسہ میں مولانا عبدالقادر مری صاحب سے میں نے فارسی کی پہلی کتاب،کریما،نام حق اورپندنامہ پڑھیں۔اور مولانا عطاء اللہ خاصخیلی صاحب سے علم الصرف، علم النحواور قرآنی صیغے پڑھیں۔ اور مولانا محمدسعید بلوچ صاحب سےگلستان سعدی اور بوستان سعدی اور مالابد منہ پڑھیں۔

سوال :آپ نے جامعہ دارالحدیث رحمانیہ میں کب داخلہ لیا اور یہاں کن اساتذہ سے کیاپڑھا؟

جواب :1988 ء کو جامعہ دارالحدیث رحمانیہ سولجربازار کراچی میں داخلہ لیا۔

محدث العصر، استاذ العلماء شیخ الحدیث علامہ عبداللہ ناصر رحمانی حفظہ سے الفیہ ابن مالک، الفیۃ الحدیث، شرح نخبۃ الفکر ،جامع ترمذی، سنن نسائی اورصحیح بخاری جلد دوم پڑھیں۔

اور فضیلۃ الشیخ استاذ الاساتذہ الشیخ محمدافضل الاثری حفظہ اللہ سے مرقاۃ، علم الصیغہ، شرح مائۃ عامل، ہدایۃ النحو، ابن ماجہ، صحیح مسلم جلد اول ودوم، صحیح بخاری جلد اول پڑھیں۔

دیوبندی استاذ مولانا غلام رسول صاحب سے دستور المبتدی، اصول الشاشی، شرح جامی ،ہدایہ،جلالین،تفسیر بیضاوی اور قدوری پڑھیں۔

مولانا مفتی محمدصدیق aسے شرح تہذیب پڑھی۔اور الشیخ امان اللہ ناصرصاحب سےحجۃ اللہ البالغۃ پڑھی۔ اور الشیخ سیدمحمدشاہ صاحب سے ابوداؤد پڑھی۔اور الشیخ عبدالمجید سادھوی صاحب سے بلوغ المرام پڑھی۔اور الشیخ افضل سردار صاحب سے مشکوٰۃ کے دونوں حصے پڑھے۔

اور فضیلۃ الشیخ الاستاذ نائب مدیر المعہد السلفی للتعلیم والتربیۃ محمد داؤد شاکر صاحب سے معلم الانشاء اور مقامات حریری پڑھیں۔

اور استاذ العلماء ،فضیلۃ الشیخ عبدالرحمٰن چیمہ حفظہ اللہ سے کافیہ پڑھی۔

سوال :آپ نے کس ادارے سے اور کب سندفراغت حاصل کی؟

جواب :میں نے 1994ء میں جامعہ دار الحدیث رحمانیہ سولجربازار کراچی سے سندفراغت حاصل کی۔

سوال :درس بخاری کس نے دیا؟دستاربندی کس نے کرائی؟ پوزیش وانعامات کیارہے؟

جواب :ہمارادرسِ بخاری علامہ قاری الشیخ عبدالخالق رحمانی aنے دیا۔

قاری عبدالخالق رحمانی رحمہ اللہ ہرسال سالانہ امتحان لیتے اور درس بخاری بھی دیتے، میں نے درجہ ثانیہ سے ثامنہ تک قاری صاحب (رحمہ اللہ)کوسالانہ امتحان دیا۔

ہماری دستار بندی محدث العصر علامہ عبداللہ ناصررحمانی حفظہ اللہ اور الشیخ افضل سردار نے کی سرپرٹوپی ،رومال رکھا اورچوغہ پہنایاجبکہ سندقاری صاحب رحمہ اللہ سے وصول کی۔

دستار بندی کے بعد ہمیں کتب صحاح ستہ کا سیٹ بھی دیاگیا۔

اور چونکہ بفضلہ تعالیٰ میں نے تفسیر ،حدیث اور اپنی کلاس میں اول پوزیشن حاصل کی تھی اس لئے انعامات کی مدمیں مجھے2300روپے دیے گئے جو کہ اس سال تک کسی بھی طالب علم کو حاصل ہونے والی سب سے بڑی رقم تھی۔

سوال :دورانِ طالب علمی کتنے علماء کرام سے ملاقات ہوئی؟

جواب :جب ہم دارالحدیث رحمانیہ میں زیرتعلیم تھے تومجھے مندرجہ ذیل علماء کرامSکی زیارت کاشرف حاصل ہوا:

1شیخ العرب والعجم علامہ سید ابومحمدبدیع الدین شاہ راشدی رحمہ اللہ ۔ شاہ صاحب رحمہ اللہ سے کئی بار اورکئی مقامات پر ملاقات ہوئی،ان دنوں فون پررابطہ خال خال تھا تومحدث العصر علامہ عبداللہ ناصررحمانی حظہ اللہ  کراچی سے پیغام رسانی کیلئے نیوسعیدآباد مجھے ہی بھیجاکرتے تھے، جس سے شاہ صاحب رحمہ اللہ سے ملاقات بھی ہوجاتی تھی اورپیغام بھی دےدیتا۔

2محدث الزماں علامہ ابوقاسم محب اللہ شاہ راشدی رحمہ اللہ دار الحدیث رحمانیہ تشریف لائے اساتذہ وطلبہ کو نصائح کیں تو انہیں دیکھنے کا شرف حاصل ہوا۔

3،4استاذ العلماء شیخ الحدیث سلطان محمود محدث جلالپوری رحمہ اللہ اور پروفیسرالشیخ عبداللہ بہاولپوری رحمہ اللہ وقفہ وقفہ سے شیخ محمد افضل اثری حفظہ اللہ کی دعوت پر دلی مسجد تشریف لاتے تھے ان سے استفادہ بھی کیا اور ملاقات کاشرف بھی حاصل ہوا۔

5علامہ احسان الٰہی ظہیر رحمہ اللہ کو محمدی مسجد پکا قلعہ حیدرآباد میں ہونے والے جلسے میں خطاب کرتے ہوئے دیکھنے کا شرف حاصل ہوا، اس جلسہ میں شاہ صاحب aبھی موجود تھے ،علامہ صاحب رحمہ اللہ کا یہ خطاب میں نے ریکارڈ بھی کیاتھا۔

6جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کے بانی عالم ربانی پروفیسر ظفر اللہ رحمہ اللہ کی زیارت جامعہ ابی بکر کے جلسوں میں چندبار ہوئی۔

7باعمل، عظیم عالم دین مولانا یحی عزیز میرمحمدی رحمہ اللہ کو جامع مسجد اہل حدیث کورٹ روڈ کراچی میں خطبہ جمعہ دیتے ہوئے دیکھا اور سنا اور اسی دن انہوں نے سورۂ حجرات کی تفسیر جامع مسجد دلی، دھلی کالونی میں بیان فرمائی۔جسے مجھے سننے کاشرف حاصل ہوا ان دنوں ان کے ساتھ الشیخ مولانا خالد گھرجاکھی رحمہ اللہ بھی تھے ان کاخطاب بھی سننے کاشرف حاصل ہوا۔(نوراللہ مرقدھم)

سوال :محدث دیارِ سندھ کاکوئی واقعہ؟

جواب :ہمارے طالب علمی دور میں ایک بار شاہ صاحبرحمہ اللہ  دارالحدیث رحمانیہ تشریف لائے ان دنوں فضیلۃ الشیخ استاذ العلماء عبدالرحمٰن چیمہ حفظہ اللہ دارالحدیث رحمانیہ کے شیخ الحدیث تھے تو شیخ چیمہ صاحب حفظہ اللہ نے شاہ صاحب رحمہ اللہ سے عرض کی کہ ہمارے ہاں ایک ایسا بچہ زیر تعلیم ہے جوپڑھنے لکھنے میں بیحدہوشیار ہے لیکن ہم اس کی شرارتوں سے تنگ آچکے ہیں اب آپ مشورہ دیں کہ ہم اس کاکیاکریں، توشاہ صاحب رحمہ اللہ نے فرمایا کہ :’’اسے جامعہ سے خارج کرنے کی کبھی غلطی نہ کرنا بلکہ اسے سمجھاتے بجھاتے رہیں یہ طالب علم ان شاءاللہ مستقبل میں کامیاب مدرس اورخادم دین بنے گا۔‘‘شاہ صاحب رحمہ اللہ کی نصیحت پر عمل کیاگیا آج وہ طالب علم بفضلہ تعالیٰ شاہ صاحب رحمہ اللہ کے کہنے کے مطابق بہترین خطیب و کامیاب مدرس ہیں اور ایک ادارہ میں صحیح بخاری پڑھارہے ہیں۔(اللھم زدہ فی علمہ وعملہ وشرفہ)

سوال :آپ نے کون کون سے امتحان پاس کیےہیں؟

جواب :میں نے درس نظامی کے علاوہ وفاق المدارس ،السنۃ الشرقیۃ کے ادیب عربی اورفاضل عربی کے امتحان پاس کیے ہیں۔

سوال :آپ نے کون کون سی کتب پڑھائی ہیں؟

جواب :موطا امام مالک اورصحیح بخاری کے سوامیں نےمشکوٰۃ المصابیح، سنن اربعہ اور صحیح مسلم پڑھائی ہے۔

اورحجۃ اللہ البالغہ ،جلالین، شرح نخبۃ الفکر، علم الصیغہ، فصول اکبری، ہدایہ اورالعبرات وغیرہ پڑھائی ہیں۔

سوال :آپ نے کن کن مدارس میں تدریس فرمائی ہے؟

جواب :میں نے ایک سال جامعۃ الاحسان ٹیونیشیالائن، چار سال جامعہ دارالحدیث رحمانیہ میں اور 19سال مکمل ہوگئےہیں کہ محدث العصرعلامہ عبداللہ ناصررحمانی حفظہ اللہ کی سرپرستی میں المعہد السلفی للتعلیم والتربیۃ میں تدریس کررہاہوں۔(وللہ الحمد)

سوال :آپ اپنے شاگردوں کےنام بتادیں؟

جواب :میرے شاگردوں میں سےآپ بھی ہیں، اورقاری اخترضیاء حفظہ اللہ جو کہ اس وقت رحمانیہ مسجد بوہرہ پیر کے امام اور مدرسہ تعلیم القرآن والحدیث کے نگران ہیں، حافظ عبدالمالک مجاہد حفظہ اللہ اس وقت المعہد السلفی کے شعبہ حفظ وناظرہ تین ہٹی کے نگران ہیں،حزب اللہ بلوچ یہ اس وقت مدرسہ تعلیم القرآن والحدیث گھمن آباد حیدرآباد میں مدرس ہیں، حافظ شعیب سلفی یہ بھی اسی مدرسہ میں مدرس ہیں، حافظ عبداللہ شمیم یہ اس وقت المعہد السلفی میں مدرس ہیں اورفاضل مدینہ یونیورسٹی بھی ہیں، حافظ محمد عثمان صفدر، یہ المدینہ اسلامک سینٹرکے چیئرمین اور فاضل مدینہ یونیورسٹی بھی ہیں، حافظ محمداصغرمحمدی یہ اس وقت المعہد السلفی میں مدرس ہیں، اور جامع مسجد الیاس بھٹائی آباد کے امام وخطیب اور اس میں قائم مدرسہ حفظ وناظرہ کے نگران ہیں،حافظ عبیدالرحمٰن محمدی یہ بھی المعہد السلفی میں مدرس ہیں،حا فظ صہیب احمد ثاقب یہ بھی المعہد السلفی میں مدرس ہیں، الشیخ عبدالصمد المدنی یہ بھی فاضل مدینہ یونیورسٹی ہیں اور المعہد السلفی میں مدرس ہیں، نظام الدین سیال یہ اس وقت مدینہ یونیورسٹی میں زیرتعلیم ہیں، حافظ محمد یونس اثری یہ اس وقت المعہد السلفی میں مدرس ہیں،حافظ عبدالوہاب،قاری ابراھیم نواز، حافظ اکبر محمدی اور دیگر شاگرد ہیں جو پاکستان کے مختلف شہروں میں دین کی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔

سوال :کیاآپ کابیرون ملک جاناہواہے اور وہاں کسی عالم دین سےملاقات ہوئی ہے؟

جواب :بیرون ملک میرا صرف سعودی عرب جاناہواہے وہ بھی عمرہ کی غرض سے،پہلی بار 2013ء میں جاناہوا اس سفر میں الشیخ وصی اللہ عباس کے مسجدحرام کے حلقہ درس میں بیٹھنا ہوا اور درس کے بعد ان سے ملاقات بھی ہوئی، دراصل میں پاکستان سے محدث العصر علامہ عبداللہ ناصررحمانی حفظہ اللہ کی کتب کاسیٹ لے کرگیاتھا وہ سیٹ میں نے مکہ میں نوجوان دوست امجدبھائی اور شیخ وصی اللہ عباس کے توسط سے مکتبہ مسجدالحرام کی زینت بنایا(وللہ الحمد) اور اس سفر میں مسجد نبوی میں قائم شیخ ابوبکرالجزائری کے حلقہ درس میں شرکت کی لیکن رش کی وجہ سے ان سے ملاقات نہ ہوسکی۔

دوسری بار2015ءمیں عمرہ کی سعادت حاصل ہوئی۔میں  یہاں بطورخاص فضیلۃ الشیخ علامہ محمدابراھیم بھٹی اور فضیلۃ الشیخ ضیاء الحق بھٹی کا تذکرہ کروں گا کہ انہوں نے مجھےد و مرتبہ اپنی ٹریول ایجنسی کی جانب سے گروپ لیڈر بناکرعمرہ پرروانہ کیا جزاھما اللہ خیرا .

سوال :اپنے ملک میں کسی غیر ملکی عالم دین سے کبھی ملاقات ہوئی؟

جواب :پاکستان میں سعودی عرب کے عالم دین شیخ زید العیدان 2006ء میںتشریف لائے تووہ المعہد السلفی بھی تشریف لائے تھے ان سے ملاقات بھی ہوئی اور انہوں نے استاذہ اور طلبہ سے حقانیت منہج اہل حدیث کے عنوان پر خطاب کیا۔

سوال :آپ نےجو کتب تصنیف فرمائی ہیں ان کے نام بتادیں۔

جواب :میری ذاتی کوئی تصنیف نہیں البتہ محدث دیارسندھ کی نصف درجن سے زائد کتب کااردو ترجمہ اور ان پر تبویب کاکام کیا ہے، مثلا:فقہ وحدیث، فاتحہ خلف الامام کاثبوت، آمین بالجھر، الاربعینین فی اثبات رفع الیدین، سینے پر ہاتھ باندھنا، تحفہ نمازمغرب،اسی طرح ماہنامہ دعوت اہل حدیث کے شمارہ111سے حالیہ شمارہ190تک بدیع التفاسیر کااردوترجمہ میں نے کیا ہے جو کہ ابھی جاری ہے اسی طرح استاذ الاساتذہ فضیلۃ الشیخ عبداللہ ناصررحمانی حفظہ اللہ کی پردہ سے متعلق ایک کتاب کا سندھی ترجمہ کرچکاہوں جوکہ عنقریب منظرعام پر آنے والی ہے، ان شاءاللہ،محدث دیار سندھ کی تصانیف میں کتاب واقعہ حجۃ الوداع بھی شامل ہے۔

سوال :خطباء کوآپ کیانصیحت فرمائیں گے؟

جواب :نصیحت بڑے لوگ کرتے ہیں میں خطباء حضرات خصوصاً نوجوان خطیبوں کو مشورہ دوں گا کہ رٹے رٹائے مروجہ انداز کو ترک کرکے حالات حاضرہ کے پیش نظر عنوانات اختیار کریں اور اس کے لئےاگر خطباء حضرات مدرسین بھی ہیں اور حدیث کی کوئی کتاب پڑھا رہے ہیں تو دوران تدریس مختلف عنوانات پر کئی احادیث واقوال،آثار تابعین اور واقعات نظر سے گزرتےہیں انہیں نوٹ کرتے جائیں یوں متعدد عنوانات پر آپ کے پاس بہت سارامواد ہوجائے گا ،ساتھ میں شیخ عبداللہ ناصررحمانی حفظہ اللہ کی تقاریر ودروس سے استفادہ کریں اور دوسری بات اپنے خطبات میں صحیح احادیث شامل کریں اس کے لئے ریاض الصالحین کوپیش نظر رکھیںجب میں نے خطابت شروع کی تھی تو ایک سفر کے دوران شیخ محمدداؤدشاکر حفظہ اللہ نےمیرے حوالے سے شیخ عبداللہ ناصررحمانی حفظہ اللہ سے کہا کہ انہیں خطابت کے حوالے سے نصیحت کریں تو شیخ صاحب حفظ اللہ نے فرمایا کہ ریاض الصالحین کوپیش نظر رکھیں اور کتاب’’اسلامی خطبات‘‘ سے بچیں۔

سوال :مدرسین کوکیانصیحت فرمائیںگے؟

جواب :مدرسین احباب کومیرامشورہ یہ ہے کہ مطالعہ کرکے تدریس فرمائیں بغیرمطالعہ کسی ایک سبق کی بھی تدریس نہ کریں، قاری عبدالخالق رحمانی رحمہ اللہ اپنے ایک قابل ترین استاذ کے بارے میں بتلاتے تھے کہ وہ چھوٹی سے چھوٹی کتاب بھی بغیر مطالعہ کے نہیں پڑھاتے تھے تلامذہ نے اپنے استاذ کے کمرے کے دروازے کے سوراخوں سے مشاہدہ کیا تواستاذ کو تدریسی کتب کا مطالعہ کرتے ہوئے پایا، اسی طرح جونیئر مدرسین سینئرمدرسین سے طریق تدریس سیکھیں ان کے پاس مختلف کتب لے کر جائیں اور ان سے استفسار کریں کہ ان کتب کی تدریس کس انداز سے کی جائے؟ یوں معیار تدریس کو بلند کیا جاسکتا ہے۔

About آصف فاروق کمبوہ

Check Also

ڈاکٹر ابوجابر عبداللہ دامانوی حفظہ اللہ

یہ انٹرویو بروز پیربعدنمازظہر 15مئی 2017 ء کو آصف فاروق صاحب نےکیماڑی میں شیخ دامانوی …

جواب دیجئے