Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2019 » شمارہ جولائی » اصلاح امت کا فریضہ ؛ امر واقع اور حقیقی طریقہ کار

اصلاح امت کا فریضہ ؛ امر واقع اور حقیقی طریقہ کار

الحمدللہ والصلاة والسلام علی رسول الله وعلی آلہ واصحابہ اجمعین اما بعد:

قارئین کرام! السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ

محدث العصر علامہ ناصر الدین البانی رحمہ اللہ اپنی کتاب’’التوحید اولاًیا دعاۃ الاسلام“ میں اس سوال کے جواب میں کہ، امت مسلمہ جن المناک اور روح فرسا حالات سے گزر رہی ہے اس کی نشاۃ ثانیہ کیسے ہوگی اور اس کی اصلاح کا کیا طریقہ کار ہے؟ جو بہترین جواب دیا ہے وہ  ہر اس شخص کو پڑھنا چاہیے جو اس سوال کا حقیقی جواب چاہتا ہے اور ان عوامل و اسباب کا بے لاگ تجزیہ چاہتا ہے جن کی وجہ سے آج امت مسلمہ  پستی کے اس مقام تک پہنچی ہے اور اس پر ذلت و ادبار کےیہ مہیب سائے چھائے ہیں اور وہ چاہتا ہے کہ یہ امت دوبارہ اپنی اسی عظمت رفتہ کو پالے جس پر اس امت کے اسلاف تھے۔ چنانچہ اسی کتابچے  کی روشنی میں چند گذارشات آپ معزز قارئین کے سامنےپیش کرنا چاہتا ہوں:

 اس میں کوئی شک نہیں کہ اس وقت امت مسلمہ اپنے نازک دور سے گزر رہی ہے اور حالات انتہائی کٹھن اور نا مساعد ہیں لیکن اتنے بھی مشکل نہیں کہ جن کا علاج ناممکن ہو، ہمارا معاشرہ عرب کے اس معاشرے سے زیادہ برا نہیں ہے جسے دور جاہلیت کہا جاتا ہے۔ دین اسلام نے جب اس کی تمام برائیوں اور خرابیوں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا اور وہ معاشرہ انسانیت کی تاریخ کا مثالی معاشرہ بن گیا جو رہتی دنیا تک انسانیت کے لیے مینارۂ نور ہے تو ناامید ہونے کی کوئی ضرورت نہیں! تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ اس امت کے علماء،مصلحین اور داعی حضرات وہی طریقہ کار اپنائیں جس کو امام کائنات نبی آخر الزمان محمد صلی اللہ علیہ وسلم  نے اپنایا تھا۔

جیساکہ فرمان باری تعالیٰ ہے : ﴿ لَّقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّـهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَن كَانَ يَرْجُو اللَّـهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ وَذَكَرَ اللَّـهَ كَثِيرًا ﴾  (الاحزاب:۲۱)یقیناً تمہارے لئے رسول اللہ میں عمدہ نمونہ (موجود) ہے، ہر اس شخص کے لئے جو اللہ تعالیٰ کی اور قیامت کے دن کی توقع رکھتا ہے اور بکثرت اللہ تعالیٰ کی یاد کرتا ہے۔

اپنی دعوت کا نکتۂ اساس عقیدہ توحید کو بنائیں جو تمام انبیاء ورسل علیہم السلام کی دعوت کا بنیادی نکتہ ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:﴿ وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِي كُلِّ أُمَّةٍ رَّسُولًا أَنِ اعْبُدُوا اللَّـهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوتَ ۖ …… ﴾ (النمل:۳۶)ہم نے ہر امت میں رسول بھیجا کہ (لوگو!) صرف اللہ کی عبادت کرو اور اس کے سوا تمام معبودوں سے بچو۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وسلم کی مکی زندگی اس بات پر شاہد ہے کہ دعوت کی ابتدا دعوت توحید سے ہونی چاہیے اور اس امر پر کوئی مداہنت اور سودے بازی روا نہیں!

آج اس امت میں سب سے زیادہ خلل بھی عقیدۂ توحید کا ہے بنابریں نوبت بایں جا رسید کہ شرک اکثریت میں رچ بس گیا ہے!

والعیاذ باللہ!

کفار مکہ کلمہء توحید کے مفہوم اور تقاضوں کو سمجھتے تھے کہ اس کلمہ کو تسلیم کرنے کا مطلب ہے اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت اور تمام معبودانِ باطلہ کا انکار۔ تبھی تو انہوں نے اس کلمہ کا اقرار نہیں کیا بلکہ کھلی دشمنی اور عناد پر اتر آئے۔ جبکہ آج کے مسلمان یہ کلمہ تو پڑھتے ہیں لیکن افسوس کہ وہ اس کے معنی، مفہوم اور تقاضوں سے بالکل نابلد اور قطعی طور پر ناآشنا ہیں!

لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ علماء امت اور مصلحین ملت عقیدۂ توحید کے پرچار اور نشر واشاعت میں اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لائیں اور اس چیز کو اپنی دعوت کا محور بنائیں لیکن یہاں پر بھی افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اس وقت بیشتر جماعتیں اور تحریکیں جو امت کی نشاۃ ثانیہ کے لیے میدان عمل میں ہیں ، عقیدہ توحید ان کے منشور میں ہی نہیں ہے بلکہ ان میں سے بعض تو یہاں تک کہہ دیتے ہیں ہم امت کو جوڑنا چاہتے ہیں عقیدہ توحید کی بات کریں گے تو لوگ ہم سے دور ہو جائیں گے ۔ والی اللہ المشتکی !

امام دار الھجرہ مالک بن انس فرمایا کرتے تھے :  لن يصلح آخر هذه الأمة إلا بما  أصلح أولها . (اقتضاء الصراط (ص: 367)؛ لابن تيمية، ومجموع الفتاوى (20/ 375)، (27/ 384 – 396)

 اس امت کے آخر کی اصلاح بھی اسی نھج پر ہوگی جس پر اس امت کے اول کی اصلاح ہوئی ہے-

 معلوم ہوا کہ امت کی نشاۃ ثانیہ کے لیے کسی نئے تجربے یا نئے علاج کی ضرورت نہیں ہے بلکہ امت کے تمام امراض کا مداوا اور اصلاح کا طریقہ کار آج سے چودہ صدیاں قبل اتر چکا ہے۔

قارئین کرام!  قطع نظرعوام کے بعض خواص جو دعوت کے میدان کے’’شہسوار“ سمجھے جاتے ہیں  وہ بھی صرف توحید ربوبیت کو بیان کرتے ہیں؛ جس کا اعتراف مشرکین مکہ بھی کیا کرتے تھے! جیساکہ فرمان باری تعالیٰ ہے :﴿ وَلَئِن سَأَلْتَهُم مَّنْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَيَقُولُنَّ اللَّـهُ ۖ فَأَنَّىٰ يُؤْفَكُونَ ﴾ (العنکبوت:۶۱)اور اگر آپ ان سے دریافت کریں کہ زمین وآسمان کا خالق اور سورج چاند کو کام میں لگانے والاکون ہے؟ تو ان کا جواب یہی ہوگا کہ اللہ تعالیٰ، پھر کدھر الٹے جا رہے ہیں ۔

توحید الوہیت جس میں اصل جھگڑا ہے اس کے بیان سے کلی اعراض برتتے ہیں! یہ اصلاح کے نبوی طریقے سے سراسر روگردانی ہے!

اس کے ساتھ ساتھ  یہ اصول  بھی پیش نظر رہے کہ عبادات توقیفی ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ وہی عبادات کی جائیں گی جن کا ثبوت کتاب و سنت میں ہے اور وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے طريقے اور سنت کے مطابق ادا کی جائیں، اپنے مذاہب اور خود ساختہ طریقوں کو  چھوڑ کر صرف اسوۂ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی  کامل پیروی کی جائے۔

علاوہ ازیں اپنے اخلاق اور معاملات کو بھی منہج نبوی کے سانچے میں ڈھالا جائے، نیزحقوق اللہ کے ساتھ ساتھ حقوق العباد کی بھی ادائیگی یقینی بنائی جائے اور اپنی معیشت وتجارت کو بھی اسلامی اصولوں کے مطابق بنانا چاہیے ۔

شیخ البانی رحمہ اللہ اصلاح امت کے اس طریقہ کار کو ”تصفیہ اور تربیہ“ سے بھی تعبیر کرتے ہیں، یعنی اپنے عقائد و اعمال اور سلوک واخلاق کو درست کرکے امت کے دیگر افراد کی تربیت اسی اساس اور منھج پر کی جائے-

قارئین کرام ! ایک اور بات  جس کا تذکرہ کرنا یہاں  از حد ضروری ہے وہ یہ کہ: اصلاح کا عمل اپنی ذات سے شروع کیا جائے پھر اپنے گھر ، محلہ ، اعزہ واقارب سے ہوتا ہوا امت کے دیگر افراد تک پھیل جائے،اس طریقے سے ایک صالح اسلامی معاشرے کی داغ بیل ڈالی جائے گی،ایسا معاشرہ کہ جس کی اکثریت صحیح عقائد و اعمال کی حامل ہوگی، اب ایسے صالح  و مصلح معاشرے پر جو حکمران ہونگے وہ بھی اچھے اور صالح ہی ہونگے لیکن اس طریقے سے ہٹ کر یہ کہنا کہ حکومتی باگ ڈور اپنے ہاتھ میں لینے اور حکمرانوں کا قبلہ درست کرنے سے حالات کی اصلاح ہو جائیگی  اور امت سر بلند  ہو جائیگی تو یہ سراسر  اپنے آپ کو فریب  میں مبتلا کرنے کے مترادف ہے؛  کیونکہ اصلاح نیچے سے اوپر تلے ہوگی، صالح فرد ہی سے صالح قوم اور صالح قوم سے ہی صالح معاشرہ وجود میں آتا ہے۔

 تاریخ کے بعض ادوار میں یہ مقولہ معروف ہوا تھا کہ جیسی رعایا ویسے حکمران!

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَكَذَٰلِكَ نُوَلِّي بَعْضَ الظَّالِمِينَ بَعْضًا بِمَا كَانُوا يَكْسِبُونَ ﴾ (الأنعام: ١٢٩)اور اسی طرح ہم ظالموں کو ان کے اعمال کے سبب جو وہ کرتے تھے ایک دوسرے پر مسلط کر دیتے ہیں۔

قارئین کرام ! بتانا یہ مقصود ہے کہ صرف حکمران طبقے کو کوسنے اور انہیں قصور وار ٹہرانے کے بجائے ہمیں من حیث القوم  اپنے گریبان میں بھی جھانکنا چاہیے کہ کہیں یہ ظالم حکمران ہمارے ہی کرتوتوں کی وجہ سے تو ہم پر مسلط  نہیں ہیں !؟

ہم اپنی چھوٹی سی ذات اور اپنے حلقہ احباب میں تو اسلام نافذ نہیں کرسکتے لیکن حکمرانوں سے یہ مطالبہ کرتے نہیں تھکتے کہ وہ پورے ملک پر اسلام نافذ کیوں نہیں کردیتے!؟

 شیخ البانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : بعض مصلحین کا یہ قول مجھے بے حد پسند ہے جس میں انہوں نے کہا: "أقيموا دولة الإسلام في قلوبكم, تقم لكم في أرضكم”. تم اسلامی ریاست کی اقامت اپنے دلوں میں کرو، تو وہ زمین میں بھی تمہارے لیے قائم ہوجائیگی۔

(التصفية والتربية وحاجة المسلمين إليهما، ص: 33).

حاصل کلام یہ ہےکہ علماء کرام اور اصلاح امت کے فریضے سے وابستہ افراد کی  یہ ذمے داری ہے کہ امت کی اصلاح کے اس طریقہ کار کو اپنائیں جس پر نصوص شرعیہ اور اسوہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا نور ہے اور اپنی دعوت کی اساس عقیدۂ توحید کو بنائیں نیز عبادات،سلوک واخلاق و جمیع معاملات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کامل اتباع اور پیروی کریں، تصفیہ اور تربیہ کے زریں اصولوں پر کاربند ہوکر اس عظیم نصب العین کے لیے اپنے اپنے حصے کے چراغ روشن کردیں، اخلاص کے ساتھ کوشش ہم کریں، کامیابی  اللہ تعالی عطا فرمائے گا۔

محرومِ تماشا کو پھر دیدۂ بِینا دے

دیکھا ہے جو کچھ میں نے اَوروں کو بھی دِکھلا دے

اللہ تعالیٰ سے خلوصِ دل کے ساتھ دعا گو ہوں کہ اللہ تعالیٰ امت مسلمہ کو اسلام کے سائے میں عروج اور سر بلندی سے ہم کنار کردے، ذلت اور ادبار کے یہ گھٹا ٹوپ اندھیرے چھٹ جائیں، اور ہم سب مسلمان عقیدہ توحید اور اسوہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی میں یک جان دو قالب کی عملی تصویر بن کر دنیا اور آخرت میں سرخرو ہوجائیں!

About شیخ عبدالصمد مدنی

Check Also

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ اور عقیدہ نزول مسیح علیہ السلام

معروف مائکرو بلاگنگ ویب سائٹ’’دلیل‘‘پر محمد فہد حارث صاحب کا ایک مضمون بعنوان ’’جاوید احمد …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے