Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2017 » شمارہ جولائ » انٹرویو ۔ الشیخ فیض اللہ سیال

انٹرویو ۔ الشیخ فیض اللہ سیال


تاریخ اہل حدیث لاڑکانہ
شیخ فیض اللہ سیال امیر جمعیت اہل حدیث سندھ لاڑکانہ ڈویژن سے یہ انٹرویو24مارچ2017ء بروز جمعہ رحمانیہ مسجد اہل حدیث لوہاربازار قمبر میں مولانا آصف فاروق کمبوہ نے لیا، انٹرویوکیاہے لاڑکانہ ڈویژن کی تاریخ اہل حدیث ہے جو بیان کردی گئی ہے،آیئے اس تاریخی انٹرویو سے بھرپور استفادہ کرتے ہیں۔(ادارہ)


سوال:آپ کا نام وسلسلہ نسب کیاہے؟

جواب: فیض اللہ بن محمد عرس بن فیض محمد بن بہادر علی۔

سوال:آپ اپنے خاندان کے متعلق کچھ بتائیں؟

جواب: میرے داداaکھیتی باڑی کیا کرتے تھے، اور والد صاحب نے بھی کھیتی باڑی کو ہی اپنایا اور ساتھ ہی گاؤں میں کریانہ کی دکان کھول رکھی تھی ہمارا آبائی گاؤں ٹنڈوعلی مراد تحصیل میروخان ضلع قمبر علی خان ہے۔والد صاحب نے اپنی زندگی گاؤں میں ہی گزار دی۔

سوال: آپ کی تاریخ ولادت کیاہے؟

جواب: شناختی کارڈ کے حساب سے05-1-1946ہے لیکن میری پیدائش اس سے قبل کی ہے کیونکہ والدین کا کہنا تھا کہ تم 1942کے سیلاب کے وقت موجود تھے۔
1942میں بہت بڑا سیلاب آیا تھا جس میں لوگوں کا جانی ومالی بہت زیادہ نقصان ہوا تھا اس وجہ سے میرے والدین عارضی طور پر ’’میتلا‘‘گاؤں چلے گئے تھے جب واپس آئے قبروں کے باہر بڑی بڑی ہڈیاں پڑی ہوئی تھیں۔

سوال: آپ کی شادی کس سن میں ہوئی اور اولاد کے متعلق بتائیں؟

جواب:میں نے 1973ء میں شادی کی، 2001ء میں میری اہلیہ فوت ہوگئی ۔میرے چھ بیٹے ہیں:
اسداللہ، ذبیح اللہ، ثناء اللہ، خالد سیف اللہ، سلیم اللہ، کلیم اللہ۔

سوال: اپنی تعلیم کے متعلق بتائیں؟

جواب:  1960ء میں فائنل دینے کے بعد مجھے دیوبندی مولوی قادر بخش نے’’مدرسہ مطلع الھدی‘‘ مرزاپور،تحصیل گڑھی یاسین، ضلع شکار پورمیں داخل کردیا، اس مدرسہ میں قاری دوست محمد سے ارشاد الصرف، نحومیر، شرح مائۃ عامل، ھدایۃ النحو، کافیہ، نورالایضاح، قدوری، کنز الدقائق پڑھیں پھر1993ء میں یہ مدرسہ چھوڑ کر مولانا علی محمد حقانی (ڈاکٹر خالدمحمود سومروکے والد)کے مدرسہ اشاعت القرآن والحدیث، عاقل گاؤں ضلع لاڑکانہ میں داخلہ لیا، اس مدرسہ میں مولانا علی محمد حقانی نے مجھے نحووصرف پھر سے پڑھائی، اس مدرسہ میں دوسال پڑھا، آنکھوںمیں تکلیف ہونے کی وجہ سے 1965ء میں چھوڑ دیا۔
اور یہ بات قابل ذکر ہے کہ مرزاپور کے مدرسہ مطلع الھدی میں میرےساتھ دیوبندیوں کے مشہور مولوی عبدالرزاق میکھو بھی پڑھے۔
ہمارے آباؤاجداد دیوبند مسلک سے تعلق رکھتے تھے ہمارے رشتے دار مولوی قادر بخش دیوبندی کی اولاد نہ تھی اس لئے گھروالوں کی طرف سے میں ان کو دے دیاگیا،یہ لاڑکانہ شہرمیں رہائش پذیرتھے، میں نے ان کی شفقت میں رہ کر اسکول کی پہلی کلاس سے لے کر ساتویں فائنل تک پڑھا،اور ان سے کچھ فارسی کتب بھی پڑھیں، ان کا گھر محمدی مسجد اہل حدیث کھٹان بازار کے سامنے تھاجس وجہ سے پانچ وقت کی نماز میں اسی مسجد میں پڑھنے آتاتھا، اس وقت اس مسجد کے امام وخطیب مولانا فیض اللہ خارانی تھے، مولانا صاحب شیخ العرب والعجم علامہ سیدابومحمد بدیع الدین شاہ راشدیaاور مناظر اسلام مولانا عبداللہ کھوکھر رتودیریa(جوکہ شیخ الاسلام مولانا ابوالوفاء ثناءاللہ امرتسریaکے شاگرد تھے) کے شاگرد تھےاوروقت کے بہت بڑے عالم تھے، اور بڑے خوش مزاج اور میٹھی زبان والے تھے، آپ لوگوں کو مرشد کہہ کرپکارتے تھے، جس سے پہلی ملاقات ہوتی اسے مرشد مرشد کہہ کر اپنا بنالینا ان کا خاص فن تھا، مجھے بھی مرشد کہنے لگے ان کی اس خوش اخلاقی کو دیکھ کر میں نے ان کے پاس قرآن کا ترجمہ پڑھنا شروع کردیا جسے دیکھ کر حاجی محمد صالح سہو بھی میرے ساتھ شامل سبق ہوگئے، مولانافیض اللہ خارانی سے جب ہم دونوں نے ترجمہ مکمل کیا تو ہم دونوں نے اہل حدیث ہونے کا اعلان کردیا۔ حاجی محمد صالح سہوؒ پریہاں سے گھرسمیت بھینس کالونی منتقل ہوگئے وہاں انہوں نے جامع مسجد اللہ والی کی بنیاد رکھی جو آج مولانا ممتازبرڑوصاحب کی نگرانی میں ہے، مولانا ممتازبرڑوصاحب نے قدیم مسجد کوگراکرنئے سرے سے تعمیر کروایا ہے۔
شروع میں لاڑکانہ شہر میں صرف عبدالرحمٰن سہگل اہل حدیث ہوا کرتے تھے جوکہ پنجاب کے شہر چنیوٹ سے تعلق رکھتے تھے یہاں کاروبار کے سلسلے میں رہتے تھے۔
مولانا فیض اللہ خارانی جب شاہ صاحب سے پڑھ کر لاڑکانہ آئے تو جماعت اسلامی سے وابستہ ہوگئے اور رفع الیدین وغیرہ نہیں کرتے تھے، ایک بار شاہ صاحب سےملاقات ہوگئی تو شاہ صاحب نے مولانا خارانی صاحب سے فرمایا:
آخر کب تک جماعت اسلامی کی کتب بیچتے رہوگے، اب ان چیزوں کو چھوڑواور مسلک اہل حدیث کی تبلیغ شروع کرو، مولاناخارانی کو شاہ صاحب کی نصیحت دل کو لگی اور مسلک اہل حدیث کی تبلیغ شروع کردی ان دنوں مولانا صاحب کی شاہی بازار کی لوہار مسجد میں رہائش تھی مولانا کی تبلیغ ومحنت سے قاطع شرک وبدعت مولانا حاجی علی محمد سیال aاہل حدیث ہوگئےاور کچھ ہی دنوں میں حافظ غلام سرور شیخ(جو کہ ڈاکٹر عبدالمالک شیخ کےو الد تھے)اہل حدیث ہوگئے آپ تو پہلے سے ہی لوہار مسجد میں تراویح پڑھایاکرتے تھے اب پورے لاڑکانہ میں صرف چاراشخاص تھے جو اہل حدیث تھے، عبدالرحمٰن سہگل، مولانا فیض اللہ خارانی، مولانا علی محمد سیال اور حافظ غلام سرور شیخ یہ چاروں لوہار مسجد میں نماز پڑھتے تھے۔
حافظ غلام سرور شیخ جب اہل حدیث ہونے کے بعد بھی لوہار مسجد میں تراویح پڑھاتے تھے ایک دن کسی نے حافظ صاحب سے پوچھا کہ تراویح کتنی سنت ہے توحافظ صاحب نے جواب دیا:آٹھ ۔بس حافظ صاحب کی زبان سے یہ الفاظ نکلنے تھے کہ جماعت میں کھلبلی مچ گئی کسی نے کہا آپ تو 20 پڑھاتے ہیں۔
توحافظ صاحب نے جواب دیا میں آٹھ رکعت سنت کی نیت کرتاہوں اور باقی رکعتوں میں نفل کی نیت کرتاہوںیہ سن کر لوگوں نے شور مچاناشروع کردیا ،مولوی صاحب نے(جوکہ حنفی تھے) فتوی دیا کہ اس کے پیچھے نماز نہیں ہوگی اس کے بعد انہوں نے تراویح کیلئے دوسرے حافظ کو کھڑاکردیا لیکن پھر بھی یہ چاروں اہل حدیث نمازیہیں پڑھتے تھے ، ایک دن انہوں نے جاکرتھانے میں کہا کہ ایک نئی جماعت پیداہوئی ہے جو کہ ہماری مسجد میں فساد پھیلانا چاہتی ہے اسے ہمارے مسجد سے روکاجائے ،دوسرے دن یہ چاروں نماز کیلئے مسجد آرہے تھے کہ راستے میں پولیس نے ان کو مسجد جانے سے روک دیا بلکہ انہیں تھانے لے گئے ،عبدالرحمٰن سہگل نے کہا کہ تم نے ہمیں تھانہ میں بند کیا ہے تو ہمارے ساتھ ان کو بھی بند کرو فیصلہ ہم خود کرلیں گے اس کے بعد ان چاروں کو اس مسجد سے ہمیشہ کیلئے منع کردیاگیا اس کے بعد یہ مولانا علی محمد سیال کے بہنوئی کے کارخانہ میں نماز پڑھتے تھے پھر اللہ کی غیبی مدد یوں ہوئی کہ لاہور کےرہائشی حاجی عبدالستار دھرم پوری نے لاڑکانہ میں ٹھیکا لیا ان کو اس ٹھیکہ میں فائدہ ہوا تو انہوں نے کھٹان بازار میں پلاٹ لیکر مسجد تعمیر کردی یہ اہل حدیثوں کی لاڑکانہ میں پہلی مسجد تھی پھر1982ء میں اس مسجد کو گراکر دوبارہ تعمیر کا ارادہ کیا تو اس میں توسیع کیلئے ایک اور پلاٹ خریداگیا اس کے بھی17ہزار حاجی عبد الستار نے دیئے اور ایک ٹرک سریے کا بھی دیا۔
اب اس مسجدمیں مولانافیض اللہ خارانی امام وخطیب تھے کہ میں نے ان سے ترجمۃ القرآن پڑھنا شروع کردیا، مولاناخارانی صاحب کا طریقہ تبلیغ یہ تھا کہ وہ مشکوٰۃ شریف ہاتھ میں لیتے اور لاڑکانہ کے مختلف مسالک کے علماء کے پاس جاتے اور ان سے کہتے کہ مجھے مشکوٰۃ پڑھایا کریں جب وہ مشکوٰۃ پڑھانے کیلئے تیار ہوتا تو مولاناخارانی اس کے سامنے رفع الیدین وغیرہ والی احادیث کھول کر رکھ دیتے اور کہتے یہاں سے پڑھاؤوہ سمجھ جاتا اور کہتا کہ تیرا پڑھنے کا انداز بتاتا ہے کہ تو پڑھاہوا ہے اس لئے یہاں سے چلے جاؤ میں نہیں پڑھاؤنگا۔
1982ء سے پہلے کی با ت ہے کہ میں نے اور حاجی محمد صالح سوہرؒ نے قمبر کےاہل حدیث عالم دین سے صحیح بخاری پڑھی۔
ہیڈ پوسٹ میں میری نوکری تھی 2002ء میں ریٹائر ہوا ہوں۔

About آصف فاروق کمبوہ

Check Also

ڈاکٹر ابوجابر عبداللہ دامانوی حفظہ اللہ

یہ انٹرویو بروز پیربعدنمازظہر 15مئی 2017 ء کو آصف فاروق صاحب نےکیماڑی میں شیخ دامانوی …

جواب دیجئے