Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2017 » شمارہ اگست » انٹرویو ۔ الشیخ فیض اللہ سیال قسط :2آخری

انٹرویو ۔ الشیخ فیض اللہ سیال قسط :2آخری

 انٹرویوکنندہ: آصف فاروق کمبوہ

فاضل المعہد السلفی کراچی

قسط :2 آخری


سوال:کیاکبھی حج یاعمرہ کی سعادت حاصل ہوئی؟
جواب: 2016ء کے اپریل کے مہینہ میں عمرہ کیا ہے۔

سوال:کیا کوئی کتاب وغیرہ آپ نے تصنیف فرمائی ہے؟
جواب:نہیں،باقاعدہ سے تو کوئی کتاب نہیں لکھی، البتہ ’’شمارہ دعوت اہل حدیث ‘‘ میں مضامین شائع ہوتے رہتے ہیں اور فرقہ مسعودیہ یعنی مسعود احمد بی،ایس ، سی، کے فرقہ کے رد میں میرے بہت سے مضامین ہیں جو مختلف مواقع پر ان کے ہفوات کے جواب میں لکھے ہیں اگرانہیں جمع کرکے شائع کیاجائے تو ایک اچھی خاصی کتاب بن جائے۔

سوال:کیاآپ نے کبھی مناظرہ کیا ہے؟
جواب:باقاعدہ تو میرا کوئی مناظرہ نہیں ہوا البتہ چھوٹی لیول پر تو ہر روز کچھ نہ کچھ ہوتا ہےکیونکہ ہم جہاں رہ رہے ہیں، وہاں بریلوی، دیوبندی، اور شیعہ کے مراکز ہیں اس لئے نا چاہتے ہوئے بھی ان میں سے کوئی ٹکرا جاتا ہےاس لئے اسے منہ دینا پڑتا ہے اور فرقہ مسعودیہ تو ویسے ہی اہلحدیثوں کی تلاش میں ہوتا ہے اس لئے انہیں بھی کتاب وسنت کا صحیح مفہوم بتاتاہوں اللہ کی توفیق سے،اللہ تعالیٰ ہماراحامی وناصر ہو اور ہمیںاپنے دین کےلئے چن لے اور اپنے دین کا چوکیدار بنالے، اور جو اس دین پر اِدھر اُدھر سے مکھیاں گر رہی ہیں ہمیں ان مکھیوں کو اس دین سے دوررکھنے کی توفیق عطافرمائے۔ آمین

سوال:اس وقت لاڑکانہ شہر میں اہل حدیثوں کی کتنی مساجد ہیں؟
جواب:پانچ مساجد ہیں:(۱)ایک کھٹان بازار میں محمدی مسجد(۲)دوسری میروخان چوک میں(۳)تیسری بھینس کالونی میں اللہ والی مسجد(۴)دڑی محلہ میں سلفیہ مسجد(۵)نظرمحلہ میں۔

سوال:کبھی آپ نے کسی مناظرہ میں شرکت فرمائی ہے؟
جواب:جی ہاں۔1995ء میں توحید کے سپاہی قاطع شرک وبدعت،مقرر ہردل عزیز مولانا علی محمد سیال نے لاڑکانہ میں مناظرہ کروایاتھا اور یہ مناظرہ بہت مشہور ہے اور اس مناظرہ میں کئی گاؤں کے لوگ اہل حدیث ہوئے تھے، اس مناظرہ میں،میںموجود تھا۔

سوال:اس مناظرہ کی تفصیل بیان کریں؟
جواب:ہوایوں کہ دیوبندیوں کےمشہور عالم ڈاکٹر خالد محمود سومرو صاحب کے رضاعی بھائی، ڈاکٹر علی نواز میمن اہل حدیث ہوگئے تھے ۔جب ڈاکٹر خالدمحمو سومرو صاحب کو اس بات کا علم ہوا تو انہیں بہت غصہ آیا انہوں نے’’عاقل ‘‘گاؤں میں جلسہ رکھا، جس میں سکرنڈ کے مشہور دیوبندی عالم مولانا احمدخان چانڈیو صاحب وغیرہ کو بھی بلوایا تھا جلسہ کا افتتاح مولانا ڈاکٹر خالد محمود سومرو صاحب نے ان الفاظ سے کیا کہ ’’جس طرح جسمانی بیماری کے ڈاکٹر ہوتے ہیں اسی طرح روحانی بیماری کے بھی ڈاکٹر ہوتے ہیں آج میں روحانی بیماری کے بہت بڑے بڑے ڈاکٹرلایاہوں آپ جو بھی سوال کریں گے اس کاجواب آپ کو قرآن وحدیث کی روشنی میں دیاجائے گا توڈاکٹر نواز صاحب نے کہا کہ ’’مجھے اہل حدیث ہوئے تھوڑا وقت ہوا ہے اس لئے مجھے یہ بھی نہیں پتہ کہ ہمارے علماء کہاں ہیں؟ بہرحال میں آپ سے سوال کرتاہوں کہ آپ حضرات جو روزے کی نیت کرتے ہیں ’’وبصوم غد نویت من شھررمضان‘‘یہ الفاظ قرآن وحدیث میں دکھائیں؟تو خالد محمود صاحب اور ان کے ساتھ آئے ہوئے مولانا احمدچانڈیو صاحب وغیرہ یہ الفاظ قرآن وحدیث میں نہ دکھاسکےبلکہ جواب میں ادھرادھر کی باتیں کرنے لگ گئے، اسی طرح ڈاکٹر اللہ نواز صاحب نے دوچار سوالات کئے جن کے جوابات وہ قرآن وحدیث کی روسے نہ دے سکے، بلکہ خودخالد محمود صاحب کے ساتھ آئے ہوئے علماء آپس میں جھگڑپڑے ایک کہتا تو جواب دے ،دوسرا کہتاتوجواب دے بالآخر معاملہ یوں ہوا کہ خالد محمود سومرو صاحب نے جمعیت علماء اسلام کا لیٹرپیڈ ڈاکٹر اللہ نواز میمن صاحب کے سامنے رکھتے ہوئے کہا کہ ہمارامناظرہ ہوگا
(۱)فاتحہ خلف الامام (۲)رفع الیدین(۳)آمین بالجھرکے موضوعات پرتوڈاکٹر اللہ نواز میمن صاحب قاطع شرک وبدعت مولانا علی محمد سیال کے پاس آئے اور ان کے سامنے ساری بات رکھی تومولانا علی محمد سیالaشیخ العرب والعجم محدث دیار سندھ علامہ سید ابومحمد بدیع الدین شاہ راشدی کے پاس آئے اور ان کےسامنے ساری بات رکھی تو شاہ صاحب نے سیال صاحب کو مناظر اسلام مولانا شمشاد احمد سلفی(نارنگ منڈی لاہور)اور مناظراسلام علامہ سید طالب الرحمٰن شاہ صاحب راولپنڈی کے نام خط لکھ کردیا آپ ان سے ملیں تو سیال صاحب مولانا شمشاد احمدسلفی سے ملے تو انہوں نے حامی بھرلی پھر راولپنڈی میں علامہ سید طالب الرحمٰن شاہ صاحب سے ملے تو انہوں نے بھی یہ مناظرہ کرنے کی درخواست قبول کرلی توسیال صاحب واپس لاڑکانہ لوٹ کر آئے بالآخر مقررہ تاریخ سے ایک دن پہلے علامہ طالب الرحمٰن محدث العصر علامہ حافظ زبیر علی زئی کو ساتھ لے کر لاڑکانہ پہنچ جاتے ہیں ادھر علامہ بدیع الدین شاہ راشدی نے اپنے مدرسہ کے مدرس مولاناعبدالرحیم نہڑیو کو کتب دے کر لاڑکانہ روانہ کیا اور ادھر مناظرہ اسلام مولانا محمد شریف حصاروی کو کراچی سے بلاکر شاہ صاحب نے اس مناظرہ کا نگراں مقرر کردیا۔
یاد رکھیں یہ مناظرہ ڈاکٹرخالد محمود سومرو صاحب کے مدرسہ اشاعت القرآن والحدیث میں ہونا تھا دیوبندیوں کی طرف سے مناظرماسٹر محمد امین اوکاڑوی دو تین دن پہلے ہی پہنچ گیا تھا اور سومروصاحب کے مدرسہ میں ٹھہراہواتھا توعلامہ سید طالب الرحمٰن شاہ صاحب نے مناظرہ کی کاروائی شروع کرتے ہوئے مولانا علی محمد سیال احمد کے واسطے سے ماسٹر محمد امین اوکاڑوی کوپیغام بھیجا کہ شرائط مناظرہ طے کریں اور صبح آٹھ بجے ان شاء اللہ مناظرہ شروع کردیں گے تو امین اکاڑوی نے شرائط مناظرہ طے کرنے کیلئے مولانامشتاق احمد جتوئی اور عبدالحمید میمن(قمبروالے)کو بھیجا تو طالب الرحمٰن شاہ صاحب نے دعویٰ لکھا:سورۃ الفاتحہ کے بغیر نماز نہیں ہوتی چاہے اکیلا ہویاامام ہو یا مقتدی ہو اور رفع الیدین ہم رسول اللہ ﷺ سے ثابت کریں گے اور آمین بالجھر بھی رسول اللہ ﷺ سے ثابت کریں گے،شاہ صاحب کا دعویٰ لے کر دونوں واپس امین اکاڑوی کے پاس گئے تو امین اکاڑوی نے ان سے کہا کہ وہ لیٹر پیڈ لاؤ جس پر مناظرہ کا چیلنج لکھا ہوا ہے جب وہ لیٹر پیڈ امین اکاڑوی کے سامنے لایاگیا تو اس پر سورہ فاتحہ کا لکھا دیکھ کر امین اوکاڑوی ڈاکٹر خالد محمود سرمرو پر برس پڑا اور کہا کہ آپ نے فاتحہ خلف الامام کیوں لکھا ،ہم تو قراءۃ خلف الامام سے گاڑی چلاتے ہیں، اب طالب الرحمٰن مجھ سے پوچھے گا کہ فاتحہ خلف الامام کے منع کی حدیث دکھاؤ تو میں کیادکھاؤں گا توڈاکٹر خالد محمود صاحب نے کہا کہ جھگڑا فاتحہ خلف الامام کا ہے ،قراءۃ خلف الامام کا نہیں، اس پر بھی اوکاڑوی صاحب نے ڈاکٹر صاحب کو ڈانٹ پلائی اور کہا کہ اب جائیں اور طالب الرحمٰن سے کہیں کہ ’’فاتحہ خلف الامام ‘‘ کی جگہ ’’قراءۃ خلف الامام‘‘ لکھ دیں تو مولانا مشتاق احمد جتوئی اور عبدالحمید میمن آئے اور طالب الرحمٰن شاہ صاحب کے سامنے اوکاڑوی صاحب کی درخواست پیش کی تو شاہ صاحب نے فرمایا:’’ہمارا اختلاف ہی فاتحہ پڑھنے یا نہ پڑھنے پر ہے اور چیلنج بھی آپ نے ہی کیا ہے‘‘ شاہ صاحب کا جواب سن کر یہ دونوں چلے گئے اس طرح پھر مختلف اوقات میں لوگ آتے اور یہی درخواست کرتے کہ فاتحہ خلف الامام کوکاٹ کر اس کی جگہ قراءۃ خلف الامام لکھ دیںتو شاہ صاحب وہی جواب دیتے جو پہلے دے چکے تھے ان کا آنے کا سلسلہ رات کے دو بجے تک جاری رہا، پھر صبح آٹھ بجے تک علامہ سیدطالب الرحمٰن شاہ صاحب کے جوابی دعویٰ کا انتظار کرتے رہے مگر کوئی جواب نہ آیا، بالآخر مولانا علی محمد سیال ،صفی اللہ کنبھر، اور محدث العصر مولانا حافظ زبیر علی زئی رکشہ کرواکر ڈاکٹر خالد محمود سومرو صاحب کے مدرسہ پہنچ گئے اور کہا کہ ہم محمد امین اکاڑوی صاحب سے ملنا چاہتے ہیں تو جواب ملا کہ ’’فاتحہ‘‘ کوکاٹ کر’’قراءۃ‘‘ کو لکھ کر دوگے تو مل سکوگے ورنہ نہیں تو جواب میں انہوں نے کہا’’جھگڑا ہے ہی فاتحہ کا ،فاتحہ کو کیوں کاٹیں؟بڑی کوشش کے باوجود انہوں نے انہیں محمد امین اوکاڑوی سے نہیں ملنے دیا بالآخر یہ واپس لوٹ آئے پھر علامہ طالب الرحمٰن شاہ صاحب نے مولانا علی محمد سیال کے گھر میں بعدنمازظہر ،’’حقانیت مسلک اہل حدیث ‘‘ کے موضوع پر زوردار انداز میں مدلل تقریر کی جس سے ’’عاقل‘‘ گاؤں والے اور ’’میاں شال محمد‘‘ گاؤں والے جاگیرانی اہل حدیث ہوگئے۔
اور اسی طرح مجھے’’عاقل ‘‘گاؤں کے ایک اور مناظرےمیں حاضر ہونے کا موقع ملاوہ اس طرح کہ ڈاکٹر خالد محمود سومرو صاحب کے مدرسہ کا شیخ الحدیث مولانا امان اللہ جمالی صاحب ایک دن کہتا ہے کہ ’’اہل حدیث اپنی نماز صحیح احادیث سے ثابت کریں‘‘ تومولانا علی محمد سیال حیدر آباد پہنچےاور شیخ الحدیث مولانا حافظ محمد ایوب صابر اور میھڑ میں شیخ القراء فاضل جامعہ ازہر(مصر) وفاضل جامعہ ام القری (مکہ مکرمہ) مولانا قاری سعید احمد ڈیروaسے عرض کی دونوں لاڑکانہ پہنچیں، مقررہ تاریخ پریہ دونوں علماء کرام لاڑکانہ پہنچ گئے ’’عاقل‘‘ گاؤں کی دیوبندی مسجد میں مولوی امان اللہ جمالی صاحب پہلے سے ہی موجود تھا تو ان دونوں علماء نے پہنچتے ہی مولوی امان اللہ صاحب کو پیغام بھجوایا کہ آؤ ہم آپ کو اپنی نماز صحیح احادیث سےدکھاتے ہیں ،مولانا علی محمد سیال یہ پیغام لے کر جب مولوی امان اللہ صاحب کے پاس پہنچا اور اسے آنےکو کہا تو اس نے کہا میں ان سے کچھ سوالات کروں گا پھر اس نے امیر جماعت اہل حدیث عاقل گاؤں ڈاکٹر نواز صاحب کو بلوایا اور پھر ان پر تبصرہ کیا کہ:’’یہ اہل حدیث سب جاہل اوران پڑھ ہیں‘‘تو ان کے پاس سندھ اسمبلی کے اسپیکر نثاراحمد کھوڑو کےمنشی حجت اللہ بیٹھے تھے اس نے کہا:’’ تو پھر چلومنٹوں میں انہیں گھماکے رکھ دواو راگر یہ واقعی جاہل اور ان پڑھ ہوئے تو میں انہیں گاؤں سےنکال دوں گا‘‘اور پھر حجت اللہ صاحب ڈاکٹر اللہ نواز میمن صاحب کی طرف متوجہ ہو کر کہنے لگا’’یہ مولوی صاحب ابھی آپ کے علماء کے پاس آرہے ہیں اور میں بھی ساتھ آرہاہوں یہ آکر آپ کے علماء سے سوالات کریں گے اگر انہیں جوابا ت نہ آئے تو میں تمہیں گاؤں سے نکال دوں گا۔‘‘توڈاکٹر صاحب ان کا یہ پیغام لے کر اپنے علماء کے پاس پہنچے اور انہیں ان کی ساری بات سنائی، پھر تھوڑی ہی دیر کے بعد مولوی صاحب اور حجت اللہ صاحب اپنے باڈی گارڈ کے ساتھ مسجد اہل حدیث پہنچ گئے، مولوی امان اللہ صاحب نے آتے ہی کہا:’’یہ سب جاہل ہیں اگر یہ صحیح بخاری کاایک صفحہ صحیح پڑھ کر دکھادیں تو میں ان کو عالم مانوں گا،ورنہ میں ان جاہلوں سے بات کرنافضول سمجھتاہوں‘‘تو اہل حدیث عالم مولانا قاری سعید احمد ڈیرو نے اس کے جواب میںکھڑے ہو کر فرمایا ’’میں مکہ مکرمہ کی یونیورسٹی ام القریٰ کا فاضل ہوں‘‘ تم ہم سے کہتے ہو کہ ہم صحیح بخاری کا ایک صفحہ پڑھ کر دکھائیں تو پھر ہماری طرف سے سنو:’’یہ میرے ہاتھ میں شاطبی ہے( اس کتاب میں تجوید کے قواعد عربی شعروں میں بیان کئے گئے ہیں) اگر تم اس کے پانچ اشعار صحیح پڑھ گئے اور ان کاترجمہ ومفہوم بتادیا تومیں مانوں گاکہ آپ عالم ہیں‘‘ تو مولوی امان اللہ کہنے لگا: یہ تجوید کی کتاب ہے مجھے یہ نہیں آتی، بلکہ میں تو سوالات کرنے آیاہوں ‘‘تو اب اس نے سوالات کا سلسلہ شروع کیا۔
پہلاسوال: تم اہل حدیث نماز میں دل سے نیت کرنے کے الفاظ احادیث سے دکھاؤ؟کیونکہ زبان سے نیت کرنے کو تم مانتے نہیں؟ تو شیخ الحدیث مولانا حافظ محمد ایوب صابر نے جواب میں فرمایا کہ: مولوی صاحب حدیث کی ہر کتاب میں یہ حدیث موجو د ہے کہ:
انما الاعمال بالنیات.
کہ تمام اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔
جناب نیت دل کے ارادے کا نام ہے ،جب کوئی شخص گھر سے نکلتا ہے تو وہ دل میں نماز کی نیت کرکے نکلتا ہے، تو مولوی امان اللہ اِدھراُدھر کی مارنے لگا اور اس کو تسلیم کرنے سے انکار کرنے لگا تو منشی حجت اللہ صاحب بول پڑے اور مولوی امان اللہ صاحب سے کہنے لگے ’’مولوی صاحب یہ حدیث تو ہم نے بھی اسکول کی کتابوں میں پڑھی ہے آپ اسے ماننے سے کیوں انکار کررہے ہو؟ آپ کو یہ تسلیم کرناپڑےگا کہ آپ کے اس سوال کا جواب آپ کو مل گیا، اب دوسرا سوال کرو‘‘
اس طرح مولوی امان اللہ صاحب نے اور بھی سوالات کیے جن کے جوابات مولانا حافظ محمد ایوب صاحب نے دیئے، لیکن مولوی صاحب ان جوابات کو تسلیم کرنے سے انکار کرتاجارہاتھاتو جس پر منشی حجت اللہ صاحب کو غصہ آگیا اور کہا:’’مولوی صاحب ہمارےپاس اتنا ٹائم نہیں ہے کہ ہم آپ کی خوامخواہ کی بحث سنتے رہیں، اہل حدیثوں نے آپ کے تمام سوالات کےجوابات دے دیےہیں، اب آ پ سے اہل حدیث صرف دوسوال کریں گے جن کے آپ نے جواب دینے ہیں تو مولوی صاحب نے راہِ فرار اختیار کرتے ہوئے کہا کہ میرے پاس کتابیں نہیں ہیں میں تو سوالات کرنے آیا ہوں تو مولوی صفی اللہ کنبھر نے فرمایا:’’مولوی صاحب کی فقہ کی تمام کتب ہمارے پاس موجود ہیں آپ بیٹھیں میں کتابیں لارہاہوں ہمارے سوالات کے جوابات دے کر جائیں‘‘ لیکن مولوی امان اللہ جمالی صاحب اب کہاں رکتے انہوں نے جلدی سے کتابیں اٹھائیں اور چل دیئے بعد میں پتہ چلا کہ وہ اہل حدیثوں کی بھی چند کتابیں لے گئے۔
مولوی صاحب کے جانے کے بعد منشی حجت اللہ صاحب نے اپنے ہاتھ سےایک ورقہ پر اہل حدیثوں کی فتح لکھ کر نیچے اپنے دستخط کردیے اورالحمدللہ منشی حجت اللہ صاحب کے ہاتھ سے لکھی ہوئی فتح اب بھی اہل حدیثوں کے پاس موجود ہے۔

About آصف فاروق کمبوہ

Check Also

انٹرویو شیخ ذوالفقار علی طاہررحمہ اللہ

سوال :شیخ صاحب آپ کا پورا نام بمع کنیت وسلسلہ نسب اور تاریخ ولادت کیا …

جواب دیجئے