Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2019 » شمارہ جون » انٹرویو مولانامحمد عاشق کمبوہ

انٹرویو مولانامحمد عاشق کمبوہ

سوال:آپ کا نام ونسب کیا ہے؟

جواب :میرا نام محمد عاشق ہے اور نسب محمد عاشق بن عبداللہ بن جمال بن بشیر عرف بھمبہ ،یہاں تک یقینی ہے ،باقی آگے بشیر بن روڑا بن گھایا بن سنتا بن بھتا غیریقینی ہے۔

میرے پڑدادا بشیر پہلے سکھ مذہب سے تعلق رکھتے تھے پھر انہوں نے سکھ مذہب کو چھوڑ کر اسلام قبول کیا اور اپنا نام بشیر رکھا اور یہ مشہور بھمبہ سے ہوگئے تھے ،بھمبہ ان کا لقب اس لئے پڑا کہ یہ جو بھی کام کرتے منٹوں سیکنڈوں میں گھما کر رکھ دیتے اس لئے ان کا لقب بھمبہ پڑ گیا اور یہ لقب اتنا مشہور ہواکہ اصل نام لوگوں کو بھول گیا، بشیر مسلمان ہوئے تویہ معلوم نہیں ہے کہ انہوں نے کس مسلک کواپنایا لیکن اتنا ضرور کہا جاسکتا ہے کہ وہ اہل حدیث نہیں تھے، کیونکہ مجھے یاد ہے کہ میں چھوٹا تھا ہماری دادی زندہ تھی اور بہت بوڑھی ہوچکی تھیں ،اور بڑی نیک صالحہ خاتون تھیں، تقریبا سوسال سے تجاوز کرچکی تھیں، اور بہت زیادہ بوڑھی ہونے کی وجہ سے لوگ ان سے کہتے کہ:’’اماں توکب فوت ہوگی کہ ہم چھولے کھائیں‘‘لوگوں کی یہ بات ان کو بری لگی تو انہوں نے اپنے بیٹوں کو وصیت کی کہ میں فوت ہوجاؤں تو کسی کو چھولے نہیں کھلانا، تو ان کی وفات کے بعد ان کےبیٹوں نے ان کی وصیت پر عمل کرتے ہوئے کسی کو چھولے نہیں کھلائے، اور الحمدللہ یہ رسم ایسی ختم ہوئی کہ اب تک اس رسم سےد ور ہیں۔

بشیر کے تین بیٹے تھے : 1نہال 2 جمال 3  اللہ بخش، اور جمال کے چار بیٹے: (۱)حاجی محمد سلیمان(۲) عبداللہ (۳) محمود (۴) حسن ۔ اللہ بخش پنجاب چھوڑ کر سندھ کے علاقے نواب شاہ میں آکر آباد ہوگئے۔عبداللہ کے تین بیٹے ہیں:(۱)غلام نبی(فوت ہوگئے ہیں) (۲)محمد یوسف ،الحمدللہ اس وقت پنجاب پتوکی کے قریب گاؤں کوٹ حاجی سلیمان میں رہائش پذیر ہیں۔

ان کے تین بیٹے ہیں:(۱) شوکت علی (۲) لیاقت علی (۳) محمد ادریس ۔لیاقت علی الحمدللہ عالم دین ہیں اور محدث الزماں ،مناظر اسلام حافظ عبداللہ روپڑی  رحمہ اللہ کے مدرسہ سے سند یافتہ ہیں۔

جمال کا تیسرا بیٹا میں ہوں ،میرےپانچ بیٹے ہیں:

(۱)عطاء الرحمٰن (فوت ہوگئے) (۲) عبدالغفار (۳) عبد الصمد (۴) محمد آصف فاروق (امام وخطیب رحمانیہ مسجد اہل حدیث قمبر علی خان) (۵) محمد فیصل (یہ ضلع نواب شاہ کے شہر دولت پور کے گاؤں ’’یارمحمد ڈاہری‘‘ کی جامع مسجد اہل حدیث کے امام وخطیب ہیں)

سوال :آپ کی تاریخ پیدائش کیاہے؟

جواب :شناختی کارڈ پر1940ء ہے، لیکن اس کے بعد کی ہے۔

سوال :آپ اپنی تعلیم کے حوالے سے بتائیں؟

جواب :میرے والد صاحب راجوال میں کھیتی باڑی کرتے تھے، ان کے بھائی سب پتوکی میں تھے اور وہاں کھیتی باڑی کرتے تھے پھر والد صاحب سانپ کےڈسنے سے وفات پاگئے تو میری والدہ سے میرے چچا حسن رحمہ اللہ نے شادی کی تومجھے یاد ہے کہ جب ہم راجوال سے پتوکی آئے تو بیل گاڑی پر سرکنڈے لدے ہوئے تھے اوران کے اوپر بیٹھ کر پتوکی آیا،اور یہاں سے ہی میری تعلیم کا آغاز ہوا ،مجھے یاد پڑ رہا ہے کہ میں چھوٹا تھا تووالدہ صاحبہ پلیٹ شکر کی بھرلیتی اور مجھے ساتھ لیتی اور گاؤں کے مولوی مولانا محمود احمد کے گھر پڑھنے کےلئے چھوڑ آتی، دو تین دن شکر کی لالچ میں پڑھتا رہتا جب شکر ختم ہوجاتی تو میں بھی پڑھنا چھوڑ دیتا،والدہ صاحبہ پھر پلیٹ شکر کی بھرتی اور مجھے ساتھ لے کرمولوی صاحب کے گھر چھوڑ آتی، تقریبا میر عمر چھ سال ہوگی کہ میری والدہ صاحبہ بھی فوت ہوگئیں۔ جب والد صاحب فوت ہوئے تو والد صاحب کی پگڑی میرے سر پر باندھی گئی تھی۔

سوال :آپ کاکس برادری سے تعلق ہے؟

جواب :میراکمبوہ برادری سے تعلق ہے، اور کمبوہ برادری کی بھون شاخ سے ہوں۔

سوال :آپ کی تعلیم کا آگے سلسلہ کیسے جاری رہا؟

جواب :والدہ صاحبہ کی وفات کے بعد میں نے پڑھائی چھوڑ دی اور اس کا سبب یہ کہ نہ باپ تھا اورنہ ماں تھی ،یتیمی کا دور شروع ہوگیا، یہ یتیم سے پوچھیں کہ یتیم کیا ہوتاہے؟ مختصر الفاظ میں:یتیم بمعنی لاوارث ،دوسرے لفظوں میں جس پر سب کی چلے اور جس کی کسی پر نہ چلے، بہرحال جب میں جوانی کے قریب پہنچا تو میرے دل میں تعلیم حاصل کرنے کا شوق پیدا ہوا تو میں نے مولانا محموداحمد رحمہ اللہ سے جا کر قرآن کی تعلیم حاصل کرناشروع کردی، ان سے میں نے سات سپارے پڑھے تو میںبھینسیں چَرانے کے لئے راجوال چلاگیاتو وہاں میں استاذ العلماء مولانا محمد یوسف راجوالوی کے پاس ان کے مدرسہ میں گیا تو مولانا محمد یوسف راجوالوی صحیح بخاری پڑھا رہے تھے ،تو میں سیدھا مولانا صاحب کے پاس گیا اور ان سے کہا کہ میں نے قرآن پڑھا ہے تو مولانا صاحب نے مجھے اپنے قریب کرکے میری کمر تھپکی، اور بڑے پیار اور محبت بھرے لہجے میں میرے ساتھ گفتگو کی اور ماشاءاللہ کہا اور میری حوصلہ افزائی کی، اور   فورا شاگرد کو دودھ لانے کے لئے جیب سے پیسے نکال کر دیے ،گلاس بھر کے مجھے دودھ دیا، اس وقت مولانا صاحب فل جوانی میں تھے، پھر مولانا صاحب نے آخری کلاس کے شاگرد حافظ عبداللہ کی ڈیوٹی لگائی کہ ہر روز میرا سبق سنے، جب تک عبداللہ صاحب تھے توانہوں نے میرا سبق سنا جب وہ فارغ ہوگئے تو مولانا صاحب نے حافظ ثناءاللہ کی ڈیوٹی لگائی کہ میرا سبق سنے، آٹھواں اور نواں پارہ وہاں پڑھا پھر میں بھینسیں لیکر پتوکی آگیا۔توباقی قرآن میں نے مولانا محمود صاحب سے پڑھا۔

پھر میں نے بھیڑیں چَرانی شروع کردیں تو میرے ماموں محمد حسن صاحب مجھے کہتے کہ ’’جاؤ بیٹا تمہاری بھیڑوں کامیں خیال کرتاہوں تم جا کر مسجد میں قرآن پڑھو۔ تو میں اپنی بھیڑیں ماموں کے حوالے کر کے مسجد میں آتا اور دس دس سپارے پڑھ جاتا۔

پھر میں نے بھیڑیں بیچ دیں صرف ایک بھینس رکھ لی اور ادھر مجھے عالم بننے کا شوق ہوا تو میں ٹائم سے بھینس کو گھاس وغیرہ ڈال کر استاذ العلماء ،مولانا عبدالقیوم ناروکی والے کے پاس گیا، اور ان کے سامنے اپنی خواہش کا اظہار کیا تومولانا عبدالقیوم صاحب نے مجھے سورۃ الناس سے پنجابی میں ترجمہ پڑھانا شروع کردیا اس کےساتھ ساتھ بلوغ المرام اور ابواب الصرف بھی شروع کرادی۔

مولانا عبدالقیوم ناروکی والے بڑے نیک ،صالح ،متقی ،پرہیز گار اور سادہ عالم دین تھےآپ کاناروکی میں مدرسہ تھا 1975ء میں فوت ہوئے ۔

مولاناعبدالقیوم کے پاس آنےسے پہلے میں اپنے گاؤں کی مسجد میں امامت و خطابت اور بچوں کو پڑھاتا تھا، اور اس وقت میں اتفاق المسلمین (مصنف مولانا امام الدین نیکے والے) کا مطالعہ کرچکا تھا ،یہ کتاب اہل حدیث کے امتیازی مسائل پر ہے اور بڑی بہترین ہے ،اور پنجابی میں ہے، اسی طرح تفسیر ابن کثیر، تفسیر محمدی للامام لکھوی، تقویۃ الایمان للامام شاہ محمد اسماعیل شہید، صحیح بخاری، ابوداؤد،جامع ترمذی، موطا امام مالک، موطا امام محمد بھی پڑھ چکا تھا، ان کتب کےمطالعہ سے مجھے مسلک اہل حدیث کے حق ہونے کوتسلیم کرنا پڑا، کیونکہ اس سے قبل میں اہل حدیثوں سےشدید نفرت کرتا تھا،اور زبان جوآتا وہ ان کے بارے میں کہتاتھا، اللہ تعالیٰ نے مجھ پر عظیم احسان کیا کہ اس نے مجھے صراط مستقیم پر چلایا،اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ جس طرح نے کرم فرما کر مجھے گمراہیوں کی راہ سے نکال کر صرا ط مستقیم پر چلایا اسی طرح مجھے موت بھی صراط مستقیم پر دے۔آمین

آج ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں کہ اہل باطل اپنی ایڑی چوٹی کا زور لگارہے ہیں کہ لوگوں کے دلوں میں صحیح بخاری کی نفرت بٹھادیں ،یاد رکھیں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے امام بخاری رحمہ اللہ سے اپنی توفیق سے ایسی کتاب لکھوائی ہے جو کہ امت محمدیہ پر اللہ تعالیٰ کا بڑا احسان ہے، جو کہ عقل کے بھی عین مطابق ہے اور نقل کے بھی عین مطابق ہے ،اس کتاب کے ذریعے صدیوں سے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ہدایت دے رہا ہے اور جس بھی عقل سلیم والے،غیر ضدی اور غیر متعصب نے اس کتاب کو پڑھا ہے وہ اہل حدیث ہوکر ہی رہا ہے، اسی لئے اب اہل باطل کا تمام ترنشانہ امام بخاری اور امام بخاری کی کتاب صحیح بخاری ہے۔

(۱)[يُرِيْدُوْنَ لِيُطْفِــــُٔـوْا نُوْرَ اللہِ بِاَفْوَاہِہِمْ وَاللہُ مُتِمُّ نُوْرِہٖ وَلَوْ كَرِہَ الْكٰفِرُوْنَ۝۸](الصف:۸)

ترجمہ:وه چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو اپنے منھ سے بجھا دیں اور اللہ اپنے نور کو کمال تک پہنچانے والاہے گو کافر برا مانیں ۔

(۲)[يُرِيْدُوْنَ اَنْ يُّطْفِــــُٔـوْا نُوْرَ اللہِ بِاَفْوَاہِہِمْ وَيَاْبَى اللہُ اِلَّآ اَنْ يُّتِمَّ نُوْرَہٗ وَلَوْ كَرِہَ الْكٰفِرُوْنَ۝۳۲](التوبۃ:۳۲)

ترجمہ:وہ چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو اپنے منھ سے بجھا دیں اور اللہ تعالیٰ انکاری ہے مگر اسی بات کا کہ اپنا نور پورا کرے گو کافر نا خوش رہیں ۔

(۳)[وَيُحِقُّ اللہُ الْحَقَّ بِكَلِمٰتِہٖ وَلَوْ كَرِہَ الْمُجْرِمُوْنَ۝۸۲ۧ ](یونس:۸۲)

ترجمہ:اور اللہ تعالیٰ حق کو اپنے فرمان سے ﺛثابت کردیتا ہے گو مجرم کیسا ہی ناگوار سمجھیں ۔

(۴)[وَيُرِيْدُ اللہُ اَنْ يُّحِقَّ الْحَقَّ بِكَلِمٰتِہٖ وَيَقْطَعَ دَابِرَ الْكٰفِرِيْنَ۝۷ۙ لِيُحِقَّ الْحَقَّ وَيُبْطِلَ الْبَاطِلَ وَلَوْ كَرِہَ الْمُجْرِمُوْنَ۝۸ۚ ](الانفال:۸)

ترجمہ: اور اللہ تعالیٰ کو یہ منظور تھا کہ اپنے احکام سے حق کا حق ہونا ثابت کردے اور ان کافروں کی جڑ کاٹ دے تاکہ حق کا حق ہونا اور باطل کا باطل ہونا ﺛثابت کردے گو یہ مجرم لوگ ناپسند ہی کریں ۔

یہ کام غیر مسلم کرتے تو دکھ نہ ہوتا لیکن یہ کام نام نہاد اسلام کا دعویٰ کرنے والے کررہے ہیں۔

’’ہمیں اپنوں نے لوٹا غیروں میں کہاں دم تھا‘‘

مولانا عبدالقیوم صاحب کے پاس میں پڑھتا تھا کہ ایک دن مولانا غلام اللہ صاحب نے مدرسہ کی دعوت کی جس میں ،میں بھی گیا تو وہاں مولانا عبدالقیوم صاحب کی اور مولانا غلام اللہ صاحب کی آپس میں میرے حوالے سے گفتگو ہوئی تومولانا عبدالقیوم صاحب نے اپنے ظن کے مطابق میرے حوالے سے چند تعریفی کلمات کہے تومولانا غلام اللہ نے فرمایا: انہیں نحووصرف بھی پڑھاؤ،تو واپسی پر مولانا عبدالقیوم صاحب نے مجھے نحو پڑھانا شروع کردیا۔

تفسیر میں نے مولانا محمد اسماعیل صاحب سے پڑھی ،یہ عالم دین ہمارے گاؤں کےساتھ والے گاؤں ’’کانی‘‘ کی جامع مسجد اہل حدیث کے امام وخطیب تھے ۔

سوال :دعوت وتبلیغ کے حوالے سے اپنے بارے میں بتائیں؟

جواب :دعوت وتبلیغ کا کام تو امت محمدیہ کا ہرفرد کرتا ہے کوئی کم اور کوئی زیادہ ،بہت کم لوگ ہوں گے جو اس کام سے محروم ہونگے۔

میں نے اللہ کی توفیق سے پڑھائی کے دوران ہی اپنے گاؤں کی مسجد میں امامت،خطابت اور بچوں کوپڑھانا شروع کردیا تھا اور جو بچے میرے پاس پڑھنے آتے تھے انہیں میں نے رفع الیدین اور سینہ پر ہاتھ باندھنا ،پاؤں سے پاؤں ملانا اور آمین بالجہر سکھا دیا تھا، بچے جب آمین کہتے تو میرے سگے چچا نے میری مخالفت کرنا شروع کردی ،اور مجھے ہر طرح سے منع کرنے کی کوشش کی کہ یہ کام چھوڑ دوں تو میں اس سے باز نہ آیا تو اس نے مجھے مسجد سے ہٹانے کی کوشش کی تو بیچ میں میرے تایا حاجی محمد سلیمان آگئے اور انہوں نے اسے سختی سے منع کیا کہ مجھے تنگ نہ کرے ،جب ہماری مسجد کا مولوی صاحب چھوڑ گیا تھا تو مجھے امام وخطابت اور بچوں کو پڑھانے کے لئے بھی میرے تایا حاجی محمد سلیمان نے ہی کہا تھا اور ان کو گاؤں کا چودہری ہونے کا بھی شرف حاصل تھا، اس کے ساتھ ساتھ ان کی استاذ العلماء مولانا محمد یوسف راجوالوی رحمہ اللہ کےساتھ دوستی بھی تھی اور اہل حدیثوں کے جلسوں میں جاتے رہتے تھے اور شیخ القرآن محمد حسین شیخوپوری کی تقریریں سنتے رہتے تھے اسی لئے تو جب میں تقریر کرتا تھا تو وہ مجھے کہا کرتے تھے کہ آپ کی آواز کی مٹھاس ایسی ہے کہ جیسے مولانا محمد حسین شیخوپوری کی آواز کی مٹھاس ہے، بہرحال یہ ان کی طرف سے میرے لئے حوصلہ افزائی اور حسن ظن تھا تو میرے چچا مجھے اذیتیں دینے سے نہ رکے انہیں اکیلا ملتا یا بھری مجلس میں ہوتا وہ اپنا کام کرجاتے اور ایسے الفاظ کہہ جاتے جن کا زبان پر لانا اچھا بھی نہیں لگتا، دوسری بات یہ ہے کہ اللہ کی توفیق سے میں اپنے خاندان کا پہلا فرد تھا جس نے مسلک اہل حدیث کی حقانیت کو مان کر اس پر عمل کرناشروع کیا ،مسلک اہل حدیث کی حقانیت کو بہت سےلوگ مانتے ہیں لیکن عمل کرنے کے حوالے سے بہت سی چیزیں آڑے آجاتی ہیں جس کی وجہ سے وہ عمل نہیں کرتے1بہرحال میرا وہ چچا جو ہر ٹائم میری مخالفت میں لگا رہتا تھا جب میں پنجاب سے سندھ منتقل ہوگیا تو ابھی چند سال قبل اللہ تعالیٰ نے اس گاؤں پر ایسا کرم فرمایا کہ پوراکا پورا گاؤں اہل حدیث ہوگیا جن میں میرے چچا کے بیٹے بھی تھے تو ان کے بیٹوں کی کوشش سے اللہ نے میرے چچا کو بھی ہدایت دے دی اور انہوں نے بھی مسلک اہل حدیث قبول فرمالیا اور سو سال کی عمر میں ابھی فوت ہوئےہیں ،اللھم اغفر لہ وارحمہ .

پنجاب میں اپنے گاؤں میں جمعہ پڑھاتا تھا کہ ایک بار پڑوسی گاؤں کے دیوبندی آئے اور مجھے اپنے گاؤں میں جمعہ پڑھانے کی دعوت دی تو میں جمعہ پڑھانے گیا جب جمعہ سے فارغ ہواتومجھے کہنے لگے کہ آپ دیوبندی ہوجاؤ اور اہل حدیث مسلک کو چھوڑ دو اور ہماری اس مسجد میں جمعہ پڑھاؤ،جتنی تنخواہ کہوگے دیں گے ۔

اپنی برادری میں اکیلے اہل حدیث ہونے کی وجہ سے برادری برداشت نہ کرتی ،لڑنے جھگڑنے پر اتر آتے جس کی وجہ سے مجھے ایک گاؤں چھوڑ کر دوسر گاؤں جانا پڑتا ،کچھ مہینے وہ رہنے دیتے پھر ان کا بھی یہی رویہ ہوتا پھر وہ بھی گاؤں چھوڑنا پڑتا ،جوانی سے لے کر اب تک میں بیشمار گاؤں چھوڑ چکاہوں ،اب الحمدللہ میر ی برادری جو سندھ میں آباد ہے ،ان سے بھی چند لوگ اہل حدیث ہوچکے ہیں ،بلکہ تین چار علماء بھی تیار ہوگئے ہیں۔                                              (جاری ہے)

About آصف فاروق کمبوہ

Check Also

ڈاکٹر ابوجابر عبداللہ دامانوی حفظہ اللہ

یہ انٹرویو بروز پیربعدنمازظہر 15مئی 2017 ء کو آصف فاروق صاحب نےکیماڑی میں شیخ دامانوی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے