Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2017 » شمارہ ستمبر » انٹرویو: الشیخ محمدداؤد شاکر۔قسط 1

انٹرویو: الشیخ محمدداؤد شاکر۔قسط 1

سوال:اپنا نام وسلسلہ نسب بیان کریں؟
جواب:میرا نام محمد داؤد شاکر ہے اور میرا سلسلہ نسب یوں ہے: محمد داؤد شاکر بن مولانا عبدالغفار محمدی بن سلطان محمود بن مولانا عبد الغفار بن مولانا عبدالحکیم بن مولانا سلطان محمود۔
ہمارے جداعلیٰ مولانا سلطان محمود خانبیلوی aپہلے شخص ہیں جنہوں نےمسلک اہل حدیث قبول کیا اور پھر اس کی نشر واشاعت میں مصروف ہوگئے اور پھر آپ جانتے ہیں کہ اس دور میں کوئی اہل حدیث ہوتا تھا تو اس پر کیاکیامصیبتیں اترتی تھیں ان کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا لیکن اللہ کی توفیق سےانہوں نے ہرپریشانی کو خندہ پیشانی سے قبول کیا اور اپنے عقیدے اور دعوت وتبلیغ میں مصروف رہے۔
ہمارے ان اجداعلیٰ مولانا سلطان محمودخانبیلویaکے بارے میں آتا ہے کہ یہ بچے تھے کہ کسی وجہ سے گھر سےناراض ہوکرچلے گئے پھر کسی کوکوئی پتہ نہیں تھا کہ کہاںگئے کیا اب زندہ بھی ہیں یا نہیں گھروالوں کو ان کے بارے میں کوئی اطلاع نہ ملی جس کی وجہ سے گھروالوں کو ایک قسم کی ناامیدی سی ہوچکی تھی اور اس میں کئی سال بیت گئے ایک دن ایک نوجوان باریش لڑکاگاؤں میں داخل ہوا کہ جسے دیکھنے والے شروع میں تو یہی سمجھ رہےتھے کہ یہ کوئی عالم ہے لیکن اس نوجوان لڑکے سے جب بات چیت شروع ہوئی اور جب ان کی زبان سےالفاظ نکلے کہ میں فلاں کابیٹا سلطان محمود ہوںجوبچپن میں غائب ہوگیاتھا بات یہ ہے کہ میں نے یہاں سے جانے کے بعد مدرسہ میں داخلہ لے لیا اور درس نظامی کا کورس شروع کردیا میں اپنی پڑھائی میں اتنامشغول ہواکہ مجھے گھر کا دھیان نہ رہا اور اگر کبھی گھریاد آتاتو بھی اسے دل سے نکال دیتا یہاں تک کہ میرا درس نظامی کا کورس مکمل ہوگیا(والحمدللہ) تومدرسہ سے فراغت کے بعد میں سیدھا آپ کے پاس حاضرہواہوں ، اس نوجوان کی زبان سےیہ الفاظ سنے تو تمام حاضرین کے چہرے پرخوشی اور حیرت کی لہرچھاگئی توپھرکیاہوا؟وہی ہوا کہ وہاں موجود بچوں، نوجوانوں اور بوڑھوں نے اس نوجوان کو بار بار گلے لگایا اور اس نوجوان کی بات بچوں کے ذریعے بجلی کی طرح گھر میں پہنچ گئی اور پھر یہ نوجوان مولوی صاحب لوگوںکےجمگھٹے میں گھر پہنچے اور پھر پورے گاؤں میں خوشیاں ہی خوشیاں منائی گئیں اور اِدھراُدھروالے گاؤں میں بھی بتلایا گیا تو لوگ اس نوجوان سے ملنے آرہے ہیں پھر آہستہ آہستہ وقت گزرتا گیا اور یہ نوجوان دعوت وتبلیغ میں مشغول ہوگیا دعوت وتبلیغ بھی اس چیز کی جس کی آج سے کئی صدیاں پہلے محمد رسول اللہﷺ نے کی،لیکن آج لوگ اس کو بھول چکے تھے لیکن مولانا سلطان محمود خانبیلویaپھر ایک بار وہ دعوت لےکر خان بیلہ پہنچے تھے اس پرانی بات کی طرف پھر سے لوگوں کو دعوت دی تو لوگوں نےوہی الفاظ کہنے شروع کردیے جو تمام انبیاء کو کہے گئے کہ یہ تو بات ہم نےکبھی سنی نہیں ہم تو اس پر چلیں گے جس پر ہمارے آباؤاجداد تھے اور پھر مولانا صاحب کو وہابی کہنا شروع کردیا نہ مسجد میں نمازپڑھنے دیتے اور نہ کنویں سے پانی بھرنے دیتے اس کےساتھ ساتھ ذہنی اور جسمانی اذیتیں بھی دیتے رہتے لیکن مولانا صاحب aہمت نہ ہارے اپنی دعوت میں مصروف رہے بالآخر مولانا صاحب aکی دعوت رنگ لائی جس سے وریامحلہ کا انصاری برادری کا ایک شخص اہل حدیث ہوگیا پھر کچھ ہی عرصہ میں مولانا صاحب aاور اس انصاری ساتھی نے مل کر وریامحلہ میں مسجد اہل حدیث کی بنیاد ڈالی اور اس کے ساتھ ہی چھوٹا ساکنواں کھودا جس سے یہ وضواور پینے کا پانی نکالتے تھے۔
مولاناسلطان محمود خانبیلویaکا ایک بڑا کتب خانہ تھا جس میں مولانا نواب صدیق حسن خانaکی تقسیم کردہ کتب بھی تھیںلیکن پھر اس کتب خانہ کو کماحقہ کوئی وارث نہ ملا جو اس کی دیکھ بھال کرتا ،اس کتب خانہ کی دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے کئی کتب کو دیمک کھاگئی اور کئی کتب جسے جو پسند آئی وہ حضرت لے گئے یوں یہ کتب خانہ اجڑگیا، جب ہمارے محترم والد مولانا عبدالغفار محمدی خانبیلویaنے مدرسہ میں پڑھنا شروع کیا تھا تو اس وقت اس کتب خانہ میں چند کتب ہی رہ گئی تھیں جن میں قابل ذکر:’’الدین الخالص‘‘ اور ’’دلیل الطالب علی ارجح المطالب‘ ‘اور ’’ترجمہ ادب المفرد‘‘ وغیرہ ہیں۔
مولانا سلطان محمود خانبیلویaکے تین بیٹے تھے(۱)مولانا عبدالحکیم خانبیلوی(۲)مولانا عبدالکریم خانبیلوی(۳)مولانا عبدالحلیم خانبیلویS
اورپھر مولانا عبدالحلیم خانبیلوی aکے دوبیٹے تھے:مولانا عبدالغفار خانبیلوی،حاجی عبدالستار S
مولاناعبدالغفار خانبیلویaہمارے پڑداداہیں ان کے بارے میں استاذ العلماء والمحدثین مولانا سلطان محمود محدث جلالپوریa فرماتے ہیں:جب میں’’بستی گمانی‘‘ میں دیوبندی عالم مولانا حبیب اللہ گمانی حنفی کے مدرسہ میں زیرتعلیم تھا تو ایک نئے طالب علم نے اس مدرسہ میں داخلہ لیا جب میری اور اس کی ملاقات ہوئی تو اس کا نام عبدالستار یاعبدالغفار معلوم ہوا اور اس کے بیان سے یہ بھی معلوم ہوا تھا کہ وہ حکیم مولوی عبدالحلیم صاحب خان بیلہ والے کا رشتہ دار ہے، حکیم مولوی عبدالحکیم صاحب اپنے علاقہ میں طب یونانی کے ایک عظیم ماہر حکیم تھے، ہوا یہ کہ اس نئے طالب علم نے چھ ماہ تک مدرسہ میں پڑھا اورپھر گھر گیا ولیکن واپس نہ آیا،لیکن میں نے’’بستی گمانی‘‘ میں پڑھائی مکمل کی اور پھر استاذ الاساتذہ مولانا عبدالحق محدث احمد پوری بھاولپوریaکے پاس پڑھنے کے لئے ’’احمدپور‘‘ گیا وہاں جب میں نے پڑھائی کی تکمیل کی تو جلالپورپیروالہ کی جماعت اہل حدیث نےمولاناعبدالحق محدث احمدپوریaسےایک استاذ مانگا تو محدث احمدپوریaنے مجھے وہاں بھیج دیا، تو میں نے وہاں جاکر مدرسہ کی بنیاد ڈال کر دین کی خدمت شروع کردی، ارگرد کے علاقہ کے لوگوں کو جب مدرسہ کا پتاچلا تو وہ میرےپاس آنے جانے لگے جن سے مجھے آشنائی ہونا شروع ہوگئی، ارگرد کے علاقوں میں’’بستی خان بیلہ‘‘ بھی تھی وہاں کے احباب بھی میرے پاس آئے جن سے حال واحوال ہوئے اور ان سے ملاقات کرنے سے مجھے’’گمانی‘‘ میں میرے ساتھ پڑھنے والاخان بیلہ کا ساتھی یاد آگیا تو ان سے میں نے کہا ’’گمانی‘‘ میں میرے ساتھ مولوی عبدالستار پڑھتا تھا جو آپ کے’’خان بیلہ‘‘ کا رہائشی تھا تو انہوں نے کہا کہ’’مولوی عبدالستار‘‘نامی تو کوئی شخص ہمارے علاقے میں نہیں ہے ہاں البتہ حاجی عبدالستار کے نام سے ہے لیکن وہ تو صرف قرآن مجید پڑھاہواہے،ان سے بھی مجھےاس طالب علم کی خبر نہ مل سکی لیکن میں نے اس کی تلاش جاری رکھی، بالآخر اس طالب علم کی کھوج میںنےلگا ہی لی پتہ چلا کہ وہ طالب علم جو’’خان بیلہ‘‘ سے’’گمانی‘‘ پڑھائی کے لئے گیا تھا پھر گھریلوکام کاج میں مشغول ہونے کی وجہ سے ان کو پڑھائی ادھوری چھوڑ نی پڑی وہ حاجی عبدالستار کے بھائی مولوی عبدالغفار تھے جنہوں نے شادی کر لی تھی اور ابھی دو ہی بیٹے سلطان محمود اور محمد افضل پیدا ہوئے تھے کہ وہ فوت ہوگئے ،یہ تھاہمارے پڑ دادا عبدالغفار خانبیلویaکے بارے میں استاذ العلماء والمحدثین مولانا سلطان محمود محدث جلالپوریaکا بیان۔’’خان بیلہ‘‘ سے کوئی ساتھی محدث جلالپوریaکے پاس جاتا تو آپ فرمایا کرتے :
’’تم میرے دوست کی اولاد ہو ،تمہارے ساتھ میرا خصوصی تعلق ہے۔‘‘
مولانا عبدالغفار خانبیلویaکےبیٹے سلطان محمود ہمارے دادا تھے جو مستری تھے چنائی وغیرہ کا کام کرتے تھے ان کے چھ بیٹے اورایک بیٹی ہے۔
بیٹے: (۱)مولاناابوداؤدعبدالغفارمحمدی خانبیلویؒ(۲)عبد الوہاب (۳)عبدالرزاق(۴)عبدالجبار(۵)اکرام اللہ(۶)غلام اللہ
ابوداؤدعبدالغفارمحمدی خانبیلویaہمارےوالد ہیں، ہمارے والد ابھی جوان ہی ہوئے تھے کہ ان کے والد صاحب فوت ہوگئے جس کی وجہ سے گھر کی تمام ذمہ داریاں والد صاحب پر آن پڑیں جو انہوں نے خندہ پیشانی سے نبھائیں۔
مولانا سلطان محمود خانبیلویaکے دوسرے بیٹےمولانا عبد الکریم خانبیلویaتھے ان کی اولاد میں سے مولانا عبداللہ خانبیلوی ہیں جو اس وقت ملتان شہر میں اہل حدیث مسجد کے امام وخطیب ہیں اور ان کے چچا زاد بھائی مولانا ابویاسرdہیں ،مولانا ابو یاسرdسندھ کے شہر’’قمبر‘‘ کی جامع مسجد رحمانیہ اہل حدیث کے امام وخطیب اور اسی مسجد میں قائم مدرسہ تعلیم القرآن والحدیث کے مدرس بھی رہے ہیں ان میں دعوت وتبلیغ کا بڑا شوق ہے ان کے بارے میں قمبر والے کہتےہیں کہ یہ اکیلے پیدل تبلیغ کےلئے نکل جاتے تھے اور کئی کئی میل اس طرح سفر کرجاتے تھے ،جس دور میں آپ قمبر میں تھے تو اس مدرسہ میں بچوں کو رہائش دی ہوتی تھی پھر آپ کے جانے کے بعد اب تک وہ مدرسہ رہائشی نہ بن سکا یہ شاید نوے کی دہائی کی بات ہے،مولانا عبدالکریم خانبیلوی aکی اولاد میں سےایک اور عالم دین مولانا محمدصدیقd بھی ہیں جو اس وقت ’’اوچ‘‘شہر میں دینی خدمات سرانجام دے رہے ہیں اور مولانا سلطان محمود خانبیلویaکے تیسرے بیٹے مولانا حکیم عبدالحلیم خانبیلویaکی اولاد میں مولانا حکیم احمد سعید خانبیلویa گزرےہیں جن کے تین بیٹے مولانا عبد الواحد، مولاناعبدالاحد،اورحکیم عبدالصمد صاحب (حکیم صاحب چند ماہ قبل فوت ہوگئے)دین کی خدمات میں مصروف ہیںخصوصا مولانا عبد الاحد تو دین کی دعوت وتبلیغ میں ہر وقت مشغول نظرآتے ہیں اور اس کی اشاعت کا بڑا جذبہ رکھتے ہیں۔
مولانا سلطان محمود خانبیلویaوالے چاربھائی ان میں سب سےچھوٹے آپ ہی تھے مولانا صاحب کے ایک بھائی کی اولادمیں سے مولانا محمد احسن سلفی ہیں جو اس وقت کراچی میں مدرسہ جامعۃ الاحسان الاسلامیہ منظور کالونی گجرچوک کے مدیرہیں۔
سوال:آپ اپنے والد صاحب مولانا عبدالغفارمحمدی خانبیلوی کے متعلق بتائیں؟
جواب:میرے والد صاحب عالم دین تھے، اور استاذ العلماء والمحققین مولانا سلطان محمود محدث جلالپورaکے شاگرد رشید تھے، آ پ کی مختلف موضوعات پر تصانیف بھی ہیں، خابیلہ شہر اور اردگرد کے مقلدین مولویان سے آپ کے تقریری وتحریری مناظرے ہوا کرتے تھے، آپ کی تحریری مناظرے کتاب کی صورت میں شایع ہوچکےہیں، آپ کی تصانیف میں سے:(۱)حنفیوں کے150سوالات کے مدلل جوابات (۲)جائز نمبر۱:قبرکاپجاری جواب لے بجواب مردے کادشمن جواب دے(۳)جائزہ نمبر۲:مولوی سراج احمد اوچ والےکے دلائل دعا بعد نماز جنازہ کاجواب (۴)جائزہ نمبر۳:مولوی حمداللہ شاہ کے دلائل دعا بعد نماز جنازہ کاجواب(۵)جائزہ نمبر۴:فیض احمد اویسی بہاولپوری بریلوی کے رسالہ کاجواب(۶)صحابہ کرامyسے رکوع والے رفع الیدین کا ثبوت(۷)مولوی محمد موسیٰ دیوبندی کے عدم رفع الیدین کے دلائل کاجواب(۸)بریلوی مولوی کے منسوخیت رفع الیدین پر دلائل کا جواب(۹) فاتحہ خلف الامام پر لکھی گئی حنفی تحریر کا مدلل جواب(۱۰)فاتحہ خلف الامام پر ایک اور حنفی رسالہ کامدلل جواب(۱۱)غلام اکبر شاہ نعت خواہ دیوبندی کے اشتہار کاجواب(۱۲)غلام اکبرشاہ نعت خواہ دیوبندی کے اشتہار تقلید کا مدلل جواب(۱۳)غلام اکبر شاہ کے اشتہار (دلائل رکوع کے رفع الیدین پرمختصر رسالہ) کا جواب، ہیں۔
آپ کم گواورکثیرالمطالعہ تھےجب گفتگو کرتے تو بالکل آہستہ دھیمی آواز میں کرتے ،آپ کا لباس ،مزاج اور گفتگو کا انداز بالکل سادہ تھا، جب بھی کراچی میں میرے پاس آتے تو کتابوں کے مطالعہ اور تحریر میں مشغول نظرآتے، ایک دفعہ آپ نے میری الماری سےکوئی کتاب پڑھنے کیلئےنکالی تو اس میں کچھ پیسے پڑے ملے جو میں رکھ کر بھول چکا تھا تو جب میں گھرآیا تو والد صاحب نے بتایا کہ اس طرح آپ کی کتاب سے پیسے ملے ہیں۔
خان بیلہ میں بریلوی مولوی سے تو آپ کی تحریری وتقریری بحث خاص ہوا کرتی تھی وہ کوئی بات کرتاتووالد صاحب اسپیکر کھول کر اس کا جواب دیتے اگر وہ جواب الجواب دیتا تو والد صاحب اس کا بھی جواب دیتے اس طرح دونوں کئی کئی گھنٹے اسپیکر میں جوابات دینے میں مشغول رہتے۔
ایک بار ایک بریلوی مولوی باہرسےمنگوایاگیا اس نے آیت پڑھی:[كَـمَا يَىِٕسَ الْكُفَّارُ مِنْ اَصْحٰبِ الْقُبُوْرِ۝۱۳ۧ ]’’ترجمہ کیا کہ جس طرح کفار قبروں والوں سے ناامید ہوچکے ہیں پھر تفسیر کرتے ہوئےکہنا لگا پتا چلا کہ قبر والوں سے کافر ناامیدہوتے ہیں۔‘‘
اس نے تقریر ختم کی تو والدصاحب نے اسپیکر کھول لیا اور احمدرضا خان صاحب اور دوسرے بریلوی علماء کے تراجم کو سامنے رکھ کر بتایا کہ تمہارے مولوی صاحب کو توترجمہ بھی نہیں آتا اور فرمایا کہ جو مولوی صاحب نے تفسیر کی ہے اس کی تکذیب اس کے اپنے علماء کرتے ہیں۔
آپ ہر وقت اور ہر معاملہ میں دین کو سامنے رکھ کر چلتے ایک بار کوئی فوتگی ہوگئی تو بریلوی مولوی صاحب تعزیت کے لئے آئے اور دونوں ہاتھ آگے بڑھائے آپ نے ایک ہی ہاتھ دیا۔
والد صاحب نے مکمل تعلیم مدرسہ دارالحدیث محمدیہ جلالپور پیر والہ میں حاصل کی اور استاذ العلماء والمحدثین مولانا سلطان محمود محدث جلالپورaسے سند مدرسہ اور سند الاجازۃ بھی حاصل کی۔1
آپ کی پیدائش 1941ء خان بیلہ تحصیل جلالپورپیروالہ ضلع ملتان میں ہوئی۔
والد صاحب اپنی کتاب ’’دعا بعدنماز جنازہ کے دلائل کاتحقیقی جائزہ‘‘ کے انتساب میں فرماتے ہیں کہ:’’یا اپنے والد محترم جناب مستری سلطان محمودaکے نام جنہوں نے مجھے دینی تعلیم کے حاصل کرنے کی طرف متوجہ فرمایا مجھے آج تک یاد ہے کہ سیلاب کے دنوں میں کشتی پر سوار ہوکر مجھے مدرسہ دارالحدیث محمدیہ جلالپور پیروالہ پہنچایااور حضرت الاستاذ مولانا سلطان محمود محدث جلالپورaکے سپرد کیا‘‘
والد صاحب اپنےخاندان کےبڑے تھے فیصلہ وغیرہ خود ہی کیا کرتے تھے خان بیلہ کے بریلوی مولوی صاحب کے بارے میں یاد آیا کہ اکثر وہ مولوی رؤیت ھلال کےموضوع پر اسپیکر کھول کربیان کرتا تھا اور کہتا تھا کہ جب تک خود چاند نہ دیکھو تو نہ روزہ رکھو اور نہ ہی روزہ ختم کرو تو والد صاحب aکا موقف تھا کہ پاکستان میں کہیں بھی چاند نظرآجائے اور اس کی اطلاع ریڈیو وغیرہ سےمل جائے تو اس اطلاع کو مان لینا ہے تو وہ مولوی ایک دن غصہ میں کہتا ہے کہ تم:صوموا لریڈیوکم وافطروا لریڈیوکم.تووالد صاحبaنے جواب میں فرمایا کہ اگر تم دیکھنے کی بات کرتے ہو تو پھر نابینا کیا کرے گا دوسری بات یہ ہے کہ ایک بار نبیﷺ نے چاند نہ دکھنے کی وجہ سے روزہ رکھ لیا تھا لیکن بعد میں ایک صحابی نے چاند دیکھنے کی اطلاع دی تو نبی ﷺ نےروزہ افطار کردیا تھا تو مجھے بتاؤ کہ اس وقت نبیﷺ نے اس صحابی کےچاند دیکھنے کو مان نہیں لیا حالانکہ نبی ﷺ نےخود چاند نہیں دیکھا تھا۔
اور والد صاحب کے بارے میں یہ بھی بتا دوں کہ استاذ العلماء والمحدثین مولانا سلطان محمود محدث جلالپورaوالد صاحب سےبیحد محبت کرتے تھے جیسا کہ پیچھے بھی بیان ہوچکا ہے۔
سوال:آپ کی تاریخ ولادت کیا ہے؟
جواب:اندازاً1968ء میں میری پیدائش ہوئی۔
مجھ سے پہلے میرےایک بھائی کی ولادت ہوئی تھی جس کانام والدین نے محمدداؤد رکھا تھا لیکن وہ بچپن میں ہی فوت ہوگیاتھا پھر میں پیدا ہوا تو والدین نے میرا نام بھی اسی کے نام پر محمد داؤد رکھا۔
سوال:اپنی تعلیم کےبارے میں بتائیں؟
جواب:ناظرہ قرآن مجید اور لکھنا پڑھنا میں نےوالد صاحب aسے ہی سیکھا ہے، والد صاحبaتختی لکھوایا کرتے تھے، اسی لئے میر ی لکھائی اچھی ہے، اس وقت والد صاحب aخان بیلہ کی جامع مسجد کےامام وخطیب تھے، جوتنخواہ ملتی تھی وہ بڑی مشکل سے 100روپے بنتی تھی، جس سے گزر بسربڑی مشکل سے ہوتا تھا اور اکثر ہم سالن کی جگہ پیاز کاٹ کر اس پر نمک اور لال مرچ ڈال کر کھالیا کرتے تھے اس طرح کئی کئی دن گزر جاتے گھر میں سالن نہ پکتا تھا کیونکہ داداجی فوت ہوچکے تھے اور چچے چھوٹے تھے جو کما نہ سکتے تھےجس کی وجہ سے ساری ذمہ داریاں والد صاحب پر آن پڑی اور وہ تمام ذمہ داریاں اکیلے نبھاتے رہے اور میں بھی پڑھائی کی عمر کو پہنچ گیا تووالد صاحب aنے مجھے مدرسہ دارالحدیث محمدیہ جلالپور لے جا کر داخل کرادیا، داخلہ کراکر جب واپس گھر جانے لگے تو الوداعی مصافحہ کیا تو میں ان کی طرف اس بچہ کی طرح دیکھا جس طرح کوئی بچہ اپنے باپ سےالتجائی نظروں سے کچھ مانگ رہا ہوتا ہے تووالد صاحب بھانپ گئے اور جیب میں ہاتھ ڈال کر آٹھ آنے نکال کر مجھے دیے اور پھر مجھ سے تسلی کے الفاظ کہے اور چلے گئے،اردوپڑھنا لکھنا چونکہ میں نے والد صاحب aسے سیکھ لیا تھا اس لئے مجھے اولیٰ میں داخلہ مل گیا لیکن کتابیں نہ ملیں اس مدرسہ میں اڑھائی سال میں نے پڑھا تیسری کلاس میں چھوڑ دیا تھا، یہاں استاذ العلماء والمحدثین مولانا سلطان محمود محدث جلالپورa کےبعد نماز فجر کےبلوغ المرام کےد روس میں بیٹھنے کا موقعہ ملا (الحمدللہ) اوراستاذ الاساتذہ محدث العصر مولانا محمد رفیق الاثریd سے فتح المجیداور شیخ عبد الرشید dسے بلوغ المرام اور استاذ الشیوخ مولانا اللہ یار dسے شرح مائۃ عامل یا ہدایۃ النحو پڑھی۔
پھر میں’’دارالحدیث محمدیہ ملتان‘‘ چلا گیا وہاں ایک سال پڑھا پھر وہاں سے کراچی آگیا اور جماعت اہل حدیث کی عظیم درسگاہ ’’جامعہ دار الحدیث رحمانیہ‘‘ سولجربازار میں داخلہ لے لیا، ملتان سے کراچی پڑھنے کیلئے میں استاذ العلماء مولانا عبدالرحمن چیمہdکی وجہ سے آیا تھا۔
مجھےیاد ہے کہ جب میں نے کراچی آنے کا ارادہ کیا تو اس کااظہار والدین سے کیا تووالدین کے پاس اتنے پیسے نہ تھے کہ وہ مجھے کراچی آنے کا کرایہ دے دیتے، تو والدہ محترمہ اپنی بہن کے پاس گئیںاور ان سے سوروپے لائیں اور وہ سوروپے مجھے کرائےکیلئے دے دیئے اب میں،محمد احسن سلفی اور محمدصدیق کراچی کے لئے نکلے اور اسٹیشن سے60روپے کا کراچی کیلئے ریل گاڑی کا ٹکٹ لیا اور ریل گاڑی کے ذریعے کراچی پہنچ کر ’’جامعہ رحمانیہ‘‘ میں داخلہ لے لیا، داخلہ تو مل گیا لیکن مدرسہ کےکمروں میں سونے کی جگہ نہ ملی کیونکہ اتنے بچوں نے داخلہ لیا تھا کہ مدرسہ بچوں سے کھچاکھچ بھراہواتھا،توہمیں سونے کیلئے چپلیںرکھنے کی جگہ ملی توہم کئی مہینے تک وہاں ہی سوتے رہے اور اس وقت مدرسہ کی طرف سے بچوں کو وظیفہ ملتا تھا تو ہماری کلاس والوں کو 40روپے ملتے تھے جن میں اپنی پورے مہینہ کی ضروریات بھی پوری کرتا اور ان سے بچاکر گھر آنے جانے کا کرایہ بھی بچاتا، اس طرح سے میں نے یہاں اپنی پڑھائی کو جاری رکھا اور جید علماء اہل حدیث کے سامنے دوزانوں بیٹھ کر اپنی بقیہ تعلیم مکمل کی اور یہاں سے سند فراغت حاصل کی۔
اس مدرسہ میں فضیلۃ الشیخ محدث العصر علامہ عبداللہ ناصر رحمانی dسے صحیح بخاری وصحیح مسلم اور استاذ الاساتذہ مولانا عبدالرحمٰن چیمہdسے جامع ترمذی اور شیخ الشیوخ مولانا محمد افضل الاثریd سے سنن نسائی اور موطا امام مالک اور الشیخ محمد شاہ dسے سنن ابی داؤد اور الشیخ غلام رسول دیوبندی صاحب سے جلالین پڑھی۔
اور اس کے ساتھ ساتھ نویں اور دسویں کا اکٹھا امتحان بھی اور وفاق المدارس کا آخری امتحان دےکر ممتاز پوزیشن حاصل کی اور میٹرک میںAگریڈ حاصل کیا۔
اور یہ بھی بتادوںکہ میں نے اپنی تعلیم کاآغاز 1972ء میں کیا اور سند فراغت 1990ء میں حاصل کی۔
سوال:آپ نے اجازۃ الروایۃ کن کن علماء کرام سے حاصل کی ہے۔
جواب:
(۱)محدث العصر علامہ عبداللہ ناصر رحمانی
(۲)شیخ الکل ثانی مولانا محمد حیات لاشاری
(۳)استاذ العلماء مولانا محمد رفیق الاثری المحدث جلالپوری
(۴)محدث العصر علامہ فیض الرحمٰن ثوری
(۵)شیخ القرآن والحدیث مولانا عبدالسلام رستمی
سوال:آپ کے کتنے بھائی اور بہنیں ہیں؟
جواب:میرے تین بھائی اور پانچ بہنیں ہیں۔
بھائی:مولانا محمد ایوب عابد،مولانا حافظ محمد ابراھیم ،مولانا حافظ محمد اسماعیلj
مولانا محمد ایوب dنے بھی ابتدائی تعلیم پڑھنا لکھنا اور ناظرۃ قرآن مجید والد صاحبaسے ہی سیکھا اور درس نظامی ’’جامعہ دار الحدیث رحمانیہ ‘‘سولجربازار کراچی میں ہی کیا اور ’’جامعہ ابوھریرہt‘‘ دھلی کالونی میں مدرس رہے اور اب’’مدرسہ تعلیم القرآن والحدیث‘‘ گھمن آباد حیدرآباد میں مدرس بھی ہیں اور ناظم دفتر بھی ہیں۔
مولانا حافظ محمد ابراھیم dنے بھی ابتدائی تعلیم پڑھنا لکھنا اور ناظرۃ قرآن مجید والد صاحبaسے ہی سیکھااور درس نظامی کے لئے والد صاحب نے انہیں’’دار الحدیث المحمدیہ‘‘ جلالپور میں داخل کرایا وہاں آپ نے تھوڑا ہی پڑھا وہاں سے چھوڑ کر ’’المعہد السلفی للتعلیم والتربیۃ‘‘ میں داخلہ لے لیا،یہاں آپ پڑھ رہے تھے اور ابھی چھٹی کلاس میں پہنچے تھے کہ شدید بیمار ہوگئے توپھر محدث العصر علامہ عبداللہ ناصر رحمانیdکے مشورہ سے انہیں گاؤں کے ’’مدرسہ محمدیہ تعلیم القرآن والحدیث‘‘ کا معلم ومنتظم بناکربھیج دیا ، جس کی اشد ضرورت تھی۔
مولانا حافظ محمد اسمعیل dنے بھی ابتدائی تعلیم پڑھنا لکھنا اور ناظرۃ قرآن مجید والد صاحبaسے ہی سیکھا اورآپ نے درس نظامی ’’المعہد السلفی للتعلیم والتربیۃ ‘‘میں 2007ءمیں مکمل کیا، المعہد السلفی سے فراغت حاصل کرنے کے بعد آپ کراچی میں مختلف مقامات پر دینی خدمات سرانجام دیتے رہے اور پھر والد صاحب a کی وفات کے بعد انہیں بھی محدث العصر علامہ عبداللہ ناصررحمانیdکے مشورہ سے گاؤں کے مدرسہ کا معلم بناکر بھیج دیاگیا اور ان کو گاؤں کے مدرسہ میں بھیجنے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ مولانا حافظ محمد ابراھیم اور مولانا عبدالاحددونوں دعوت وتبلیغ کے حوالے سے گاؤں سے باہر چلے جاتے ہیں اور ان کے بعد گاؤں میں کوئی نہیں ہوتا تھا ان کو اس لئے بھیجا کہ یہ گاؤں میں ہی ہواکریں۔
سوال:آ پ نے شادی کب کی؟
جواب:میں نے 1990ء میں شادی کی وہ سال میری جامعہ دارالحدیث رحمانیہ میں تدریس کا پہلا سال تھاواقعہ یوں ہے کہ جب میں نے تدریس شروع کی تو پہلے سال ہی مجھے پڑھانے کیلئے بلوغ المرام دی گئی تو میںنے والدصاحب کوخط لکھا کہ جب میں نے بلوغ المرام پڑھنا شروع کی تھی تو آپ نے تحفہ میں گھڑی دی تھی اور اب بلوغ المرام پڑھارہاہوں اب تحفہ میں کیا دیں گے؟ تووالد صاحب نے فرمایا:اب آپ کی شادی کرواتاہوں۔
سوال:سنا ہے کہ آپ کانکاح محدث دیار سندھ علامہ بدیع الدین شاہ راشدی نے پڑھایاتھا؟کچھ تفصیل بتائیں گے۔
جواب:جیسا کہ میں نے بتایا کہ تدریس کے پہلے سال میں نے شادی کی تھی محدث العصرعلامہ استاذ محترم شیخ عبداللہ ناصررحمانیdکی رفاقت کا دوسرا سال تھا، میں نے شیخ صاحب سے نکاح پڑھانے کی درخواست کی تو شیخ صاحب نے شفقت فرماتےہوئے قبول فرمالیا، حالانکہ صرف اسی کے لئے شیخ صاحب کو ہمارے گاؤں جاناپڑ رہا تھا، تاریخ مقرر ہوگئی پھر معلوم ہوا کہ شاہ صاحب اور شیخ صاحب علی پور مظفر گڑھ کی سالانہ کانفرنس میں جارہے ہیں علی پور شہر ہمارے علاقے کے قریب ہے ،اتفاق سے شاہ صاحب کراچی آئے ہوئے تھے اور دن کا ایک حصہ شیخ صاحب کی لائبریری میں تفسیر لکھواتے تھے تو میں نے شیخ صاحب سے کہا کہ آپ اور شاہ صاحب فلاں تاریخ کو ملتان جارہے ہیں اگر میں اپنے نکاح کی تاریخ اس پر رکھ لوں اور شاہ صاحب میرانکاح پڑھائیں تو شیخ صاحب نے فرمایا کہ شا ہ صاحب سے بات کرلو،اب مجھ میں ہمت نہیں ہورہی تھی تو شیخ صاحب نے میری یہ کیفیت بھانپ لی، تو شیخ صاحب نے شاہ صاحب سے کہا کہ آپ کا یہ بچہ(اشارہ میری طرف تھا) کچھ کہنا چاہ رہا ہے لیکن کچھ کہہ نہیں پارہا، پھر شیخ صاحب نے پوری بات شاہ صاحب کے سامنے رکھ دی تو شاہ صاحب نے فوراً ہی حامی بھرلی اور ساتھ ہی فرمایا کہ جلالپور بھی دیکھ لیں گے اور مولانا سلطان محمود(a) سے بھی ملاقات ہوجائیگی ۔
آخرمحدث دیار سندھ آہی گئے
میں نے یہ پروگرام عبدالرحمٰن صاحب آف جلالپور کو بتایا تو انہوں نے بڑی خوشی کا اظہار کیا اور مولانا سلطان محمود محدث جلالپوری (a) اور محدث العصر مولانا محمد رفیق الاثریdکوبتایا توا نہوں نے بھی بڑی خوشی کااظہار کیا اور نکاح سے ایک دن قبل رات پروگرام (جلسہ) رکھ لیا، رات کو جلسہ ہوا دوسرے دن صبح دس بجےشاہ صاحب نے میرانکاح پڑھایا، شیخ صاحب بھی اس موقعہ پر موجود تھے ،دوسرے دن ولیمہ کے موقعہ پر مولانا سلطان محمود محدث جلالپوری(a)،محدث العصر مولانا محمد رفیق الاثریdاور دیگر اساتذہ اور بہت سے طلبہ ہماری دعوت پر ہمارے گاؤں خان بیلہ تشریف لائے، مولانا سلطان محمود محدث جلالپوری(a)نے محدث دیار سندھ علامہ ابومحمد بدیع الدین شاہ راشدی(a)کی آمد پر بڑی خوشی کااظہار کیا اور ازراہ مزاح میرے والد محترم مولانا عبدالغفار خانبیلوی(a)سے کہا:ماشاء اللہ تمہارے بیٹے کی تو بڑی اونچی پہنچ ہوگئی ہے، شاہ صاحب کی جلالپور میں یہ دوسری مرتبہ آمد تھی جبکہ ہمارے گاؤں میں پہلی اور آخری آمد تھی، البتہ محدث العصر محترم استاذ علامہ عبداللہ ناصر رحمانیdاس کے بعد بھی دومرتبہ گاؤں تشریف لاچکے ہیں۔
سوال:آ پ کی اولاد کتنی ہے؟
جواب:میرے تین بیٹے اور اور دوبیٹیاں ہیں۔
بیٹے:محمد سلیمان، محمدحسان، احسان الٰہی۔
[وَوَرِثَ سُلَيْمٰنُ دَاوٗدَ] میرابیٹا محمد سلیمان جب پیداہواتومیںجامعہ دارالحدیث میں پڑھاتا تھا اور یہاں وقتاً فوقتاً محدث دیار سندھ ابومحمد بدیع الدین شاہ راشدی(a)بھی آتے رہتے تھے تو میں نے شاہ صاحب کو محمد سلیمان کی پیدائش کی خبرسنائی تو شاہ صاحب بیحد خوش ہوئے اور پوچھا نام کیا رکھا ہے؟ میں نےکہا: سلیمان تو شاہ صاحب نے فوراً قرآن کی آیت پڑھی [وَوَرِثَ سُلَيْمٰنُ دَاوٗدَ]اور مجھےمبارک باد دی اور بہت سی دعائیں دی۔
میرے بیٹے محمد سلیمان نے محدث العصر مولانا خلیل الرحمٰن لکھوی کے مدرسہ معہد القرآن الکریم سے حفظ کرنے کے بعد المعہد السلفی میں داخلہ لیا،یہاں سے 2015ء میں سندفراغت حاصل کی اور اب اسکول میں ٹیچر اور المعہد السلفی کی نئی عمارت سہارن پور سوسائٹی نزد ملیر کینٹ کی مسجد کے امام ہیں۔
محمدحسان: نے محدث العصر مولانا خلیل الرحمٰن لکھوی کے مدرسہ معہد القرآن الکریم سے حفظ کیا اور اب یہاں المعہد السلفی میں درس نظامی کی چھٹی کلاس میں پڑھ رہا ہے۔
احسان الٰہی:اس وقت المعہد السلفی میں درس نظامی کے پانچویں کلاس کا طالب علم ہے،اللہ تعالیٰ ان سب کی حفاظت فرمائے اور زیادہ سے زیادہ انہیں دین کی خدمت کی توفیق عطافرمائے ۔آمین
سوال:آ پ نے کون کون سی کتب پڑھائی ہیں؟
جواب:میں نے کتب ستہ، تفسیر جلالین، موطا امام مالک، مشکوٰۃ المصابیح، عمدۃ الاحکام، شرح عقیدہ الطحاویہ، بلوغ المرام، فقہ المواریث،السنۃ وغیرہ پڑھائی ہیں۔1
سوال:آ پ کے شاگردوں کی فہرست کہاں تک ہے ان میں سے کچھ کے بارے میں بتائیں:
جواب:میرے شاگردوں کی فہرست اچھی خاصی ہے،کیونکہ میں نے دس سال تودارالحدیث رحمانیہ کراچی میں پڑھایا ہے وہاں کے میرے شاگردوں میں:
الشیخ ذوالفقار علی طاہرd:مجھے اپنے شاگردوں میں سے ان پر فخر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے شاگردوں میں سے ایسے شاگرد بھی دیے جو باعمل اوربیحدمخلص اور انتہائی محنتی اور وقت کےپابند ہیں2یہ دار الحدیث رحمانیہ میں بھی مدرس رہے اور جامعۃ الاحسان میں بھی۔
الشیخ حافظ نصراللہd:بھی میرے شاگرد ہیں یہ بھی دارالحدیث رحمانیہ میں مدرس اور امام وخطیب بھی رہے اور پھر المعہد السلفی بننے کے بعد اس میں مدرس رہے اور پھر2004ء میں اپنے علاقے سمندری فیصل آباد چلے گئے اور اب وہاں ایک مدرسہ میں بخاری وغیرہ پڑھارہے ہیں اور ساتھ ساتھ اسکول میں ٹیچر بھی ہے۔
الشیخ قاری اخترضیاءd:بھی میرے شاگرد ہیں یہ جامعہ دار الحدیث رحمانیہ میںبھی مدرس رہے اور پھر المعہد السلفی کے بننے کے بعد اس میں مدرس رہے اور کئی سال تک یہاں پڑھاتے رہے اور ساتھ ساتھ جامع مسجد رحمانیہ بوہرہ پیر میں امام بھی ہیں اور اس میں قائم مدرسہ کے نگران بھی ہیں آپ کو اللہ تعالیٰ نے بڑی خوبصورت آواز عطا فرمائی ہے۔
الشیخ حافظ عبدالمالک مجاہدd:بھی میرے شاگردہیں ،جامعہ دار الحدیث رحمانیہ کے سند یافتہ ہیں اور المعہد السلفی کے شعبہ حفظ وناظرہ تین ہٹی کے نگران ہیں اور جامع مسجد صراط مستقیم کے امام وخطیب بھی ہیں اور ساتھ ساتھ درس نظامی کی ادنی کلاس بھی آپ کے پاس ہے۔
اور مجھے المعہد السلفی میں پڑھاتےہوئے 19سال ہوچکے ہیں یہاںبھی مجھ سے بہت سے شاگردوں نے پڑھا ہے مثلاً: آپ ہیں1الشیخ حافظ عبداللہ شمیم، الشیخ حافظ عثمان صفدر، الشیخ محمد اسماعیل ناصر، مولانا محمد اصغر محمدی، مولانا عبید الرحمٰن، مولانا عبدالصمد مدنی، مولانا حافظ محمد یونس اثری، مولانا نظام الدین سیال، مولانا خالد مصطفی، مولانا عبدالاحد خانبیلوی وغیرھم ہیں جو اس وقت ملک کے مختلف شہروں اور گاؤں،دیہاتوں میں دین کی خدمت میں مشغول ہیں اور بیرون ممالک میں بھی میرے شاگردوں کی ایک تعداد موجود ہے۔
سوال:مدسین کو آپ کیانصیحت فرمائیں گے؟
جواب:مدرسین کو چاہئے کہ جوبھی کتاب پڑھائیں اس کا مطالعہ ضرور کریں اور ترتیب سے ذہن میں بٹھائیں اور پڑھاتے وقت تمام طلبہ کے ذہنوں کو سامنے رکھیں اور سبق انتہائی آسان کرکے پیش کریں اور اہم چیز کو دوبار یا تین بار رپیٹ کریں تاکہ طلبہ کے ذہن میں بات بیٹھ جائے اور اگر کوئی طالب علم دوران سبق سوال کرے تو ٹھنڈے دل سے جواب دیں اس کو جھڑکیں نہیں تاکہ اسے دوبارہ بھی سوال کرنے کہ ہمت ہو ورنہ وہ بغیر سبق سمجھے ہاں میں ہاں ملاتارہے گا اور اگر کوئی طالب علم بحث وغیرہ پر اترآئے توبھی اس کو نہ جھڑکیں اور اسی طرح طلبہ کے سامنے ہمیشہ سنجیدہ اور پروقار ہوکررہیں اور اگر کوئی ہنسی مذاق کی بات بھی ہو تو اپنے وقار کو سامنے رکھیں اور طلبہ سے زیادہ فری نہ ہوں۔
(جاری ہے)
vvvvvvvvvvvvvv

About آصف فاروق کمبوہ

Check Also

انٹرویو شیخ ذوالفقار علی طاہررحمہ اللہ

سوال :شیخ صاحب آپ کا پورا نام بمع کنیت وسلسلہ نسب اور تاریخ ولادت کیا …

جواب دیجئے