Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2017 » شمارہ اپریل » انٹرویوشیخ ذوالفقار علی طاہر قسط ۱

انٹرویوشیخ ذوالفقار علی طاہر قسط ۱

یہ انٹرویوشیخ ذوالفقار علی طاہر سے20فروری2017ء تا8مارچ 2017ء موبائل میسجز کے ذریعے لیاگیا،ہم محترم شیخ صاحب کے انتہائی شکرگذار ہیں کہ آپ نے اپنے انتہائی قیمتی وقت سے ٹائم نکالا اور ہماری حوصلہ افزائی فرمائی۔(آصف فاروق )

E:شیخ صاحب آپ کا پورا نام بمع کنیت وسلسلہ نسب، اور تاریخ ولادت کیا ہے؟
F:میرانام ذوالفقار علی طاہر ہے اورکنیت ابوزبیر ہے میری تاریخ ولادت 4مارچ 1972ء ہے۔
میرا سلسلہ نسب یوں ہے:ذوالفقار علی طاہر بن حمزہ علی بن غلام حیدر بن گلن بن چھٹو بن رکن بن شہداد بن شاہ علی۔
E:اپنے خاندانی بزرگوں کا کچھ تعارف کرائیں؟
F:میرے پرداداaبے انتہاء دیندارشخص تھے آپ کے دیندار ہونے کی بہت سے باتیں لوگوں کی ز بانوں پر مشہور ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ میرے پرداداaکاہرروز کامشغلہ تھا کہ وہ مسافروں کیلئے پانی بھرکررکھتے تاکہ وہ ان کے رکھے پانی سےاپنی پیاس بجھائیں اور ان کے لئے دعاکریں اس کارخیر میں آپ اپنے علاقہ میں اتنے مشہور ہوئے کہ آپ کے بارے میں ہرخاص وعام کی زبان پر ’’گلن فقیر جی وانڈھ‘‘جیسے تعریفی الفاظ مشہورہوگئے۔اور علاقے کے نقشے میں باقاعدہ اس کی نشاندہی کی گئی۔
اور میرے داداaکے بھائی محمدیوسف aبھی بڑے دیندار تھے آپ اپنی دینداری کی وجہ سے لوگوں کے ہاں اتنے مقبول ہوئے کہ لوگوں نے آپ کوحاظ یوسف کہنا شروع کردیا ،یادرکھئے کہ حاظ مخفف ہے حافظ کا یعنی لوگوں نے آپ کوحافظ کہنا شروع کردیاحالانکہ وہ حافظ نہیں تھے۔
E:آپ کےعلاقےتحصیل کھپروضلع سانگھرمیں دعوتِ حق؍ دعوتِ اہل حدیث کب اور کس کے ذریعے پہنچی؟
F:ہمارے علاقہ میں دعوت حق ،دعوت اہل حدیث شیخ العرب والعجم محدث دیار سندھ علامہ سیدابومحمد بدیع الدین شاہ راشدیa کے ذریعے پہنچی،میرے داداغلام حیدرؒ1945ء سے کہیں پہلےہی شاہ صاحبaکی دعوت پر اہل حدیث ہوگئے تھے کیونکہ1945ء میںکبرجوگوٹھ میں شاہ صاحب کاگل محمد بریلوی سے گیارہویں پر مناظرہ ہواتھا اس مناظرہ میں میرے داداaشاہ صاحب کے ساتھ تھے۔
E:آپ کے علاقے میںسب سے پہلے کس نےد عوتِ حق کو قبول کیا؟
F:شاہ صاحبaجب دعوت حق،دعوتِ اہل حدیث لے کر ہمارے علاقہ میں پہنچے تو سب سے پہلے شاہ صاحبaکی دعوت پر لبیک کہنےو الوںمیں میرے داداa،اور میرے والدa،حاجی یختیارشرa،حاجی عبدالکریم شرa، ثابت علیa جیسے جواں مرد شامل تھے۔
E:جب ان ہمت والی شخصیتوں نے مسلک اہل حدیث کو قبول کیا توپھرکیاہوا؟
F:پھر وہ ہوا جس کاسب کوعلم ہے، یاد رکھیے جہاں صدیوں سے شرک،بدعات وخرافات نے بسیرے ڈال رکھے ہوں وہاں حق پہنچ جائے،شرک ،بدعات وخرافات کوجڑ سے اکھیڑ کرپھینکاجانے لگے تو باطل اپنے اہل وعیال کے ساتھ مقابلے کیلئے نکلتا ہے۔
ان جواں مردوں کے ساتھ بھی ایسا ہی ہواکہ مناظرے ،مباحثے، تنازعے اورلڑائیاں تک ان کے ساتھ کی گئیں لیکن بفضلہ تعالیٰ ہر جگہ حق نے میدان مارا۔
E:آپ کے دادا aاور والدaکے بہن بھائیوں کی تعداد؟
F:میرے داداaکے چاربھائی تھے:
۱:محمدیوسف ۲:محمد کمال ۳:محمدصادق ۴:محمد عالم
میرے داداaنے15فروری1983ء کو وفات پائی۔میں نے داداaکے حالات زندگی پر ’’دعوت اہل حدیث‘‘ کے شمارہ دسمبر 2009ءمیں مضمون لکھاہے۔
میرے والدaکے دوبھائی تھے:
۱: حاجی عباس(فوت ہوچکے ہیں)
۲: عبدالقادر ، یہ الحمدللہ حیات ہیں اور فضیلۃ الشیخ عبدالصمدمدنیd کے والدمحترم ہیں۔
اورتین بہنیں تھیں، جن میں سے دوفوت ہوچکی ہیں،ایک حیات ہیں۔
E:آپ کےد اداaکے ایک دوواقعات؟
F:میرے داداaشاہ صاحبaسے بے حد محبت کرتے تھے ایک دفعہ داداaکے سامنے شرکیہ عقائد کے حامل ایک شخص نے شاہ صاحبaکے بارے میں کہا:’’وہ گستاخِ رسول ہے اور گستاخ رسول کافرہے‘‘داداaکے کان میں یہ الفاظ پڑنے تھے کہ داداaنے اسے زناٹے دارتھپڑ رسیدکردیا۔
اسی طرح ایک مرتبہ مخنثین کا ایک ٹولہ داداaکے پاس آیا اور بھیک مانگنے لگا،دادانے اچھے الفاظ میں معذرت کی لیکن ان کااصرار بڑھ گیا اور کہنے لگا ہم پیسے لیے بغیرنہیں جائیں گے چونکہ دادا aنے جلالی مزاج پایاتھالہذا انہوں نے ان کے سرغنہ کو تھپڑماردیا،بس چماٹ لگناتھا کہ وہ اور اس کاٹولہ بھاگ کھڑا ہوا، اور اس سرغنہ نے بھاگتے ہوئے داداaکو بددعا دی کہ:’’تیرابیٹامرجائےگا۔‘‘(اس وقت داداaکی اولاد صرف میرے والدaہی تھے) تو داداa نے کہا:زندگی اورموت اللہ کے ہاتھ میں ہے، میں تم اور تمہاری بددعا سے نہیں ڈرتا۔
E:آپ کے والداوروالدہ کا آپس میں کیانسبی رشتہ تھااور آپ کے بھائیوں کاتعارف؟
F:میرے والدaمیری والدہ Aکے پھوپھی کے بیٹےتھے اور والدہ Aان کی ماموں زاد تھیں۔
میرے والدaنے دوشادیاں کیں، ایک ہماری والدہ سے جوکہ۳مئی ۲۰۰۱ءکو فوت ہوگئیں ،ان کے بطن سے سب سے بڑی ہماری بہن تھی جوکہ فوت ہوچکی ہیں جن کے حالات زندگی پر میں نے ’’دعوت اہل حدیث کے شمارہ اپریل۲۰۱۶ء میں مضمون لکھا ہے، دوسرے لیاقت علی ہیںجوکہ اس وقت بلدیہ کھپروسے وابستہ ہیں، تیسرے برکت اللہ ہیں جو کہ گاؤں کے سرکاری اسکول میں ٹیچرہیں، چوتھے محمد علی ہیں یہ اس وقت مدرسہ تعلیم القرآن والحدیث للبنات میں معلم ہیں اور پانچواں میں ہوں۔
میں نے اپنی والدہAکے حالات زندگی پر’’دعوت اہل حدیث کے شمارہ جنوری ۲۰۱۰ء میں مضمون لکھا ہے۔
میرے والدصاحبaنے جودوسری شادی کی وہ ہماری ماں الحمدللہ حیات ہیں، ان کے بطن سے ہمارے صرف ایک ہی بھائی ہیں ،نام محمد ہے وہ اس وقت محنت مزدوری کرتے ہیں۔
E:آپ کےو الدصاحب کے ایک دوواقعات؟
F:والدصاحبaکاشاہ صاحب کے ساتھ بڑا ادب واحترام پر مبنی تعلق تھا،والدصاحب aکچھ عرصہ جماعت اسلامی میں شامل ہوگئے تھے اور ضلع سانگھڑ کے قیم مقرر کردیے گئے، ان ہی دنوں کی بات ہے کہ والدصاحب aجماعت اسلامی کے ایک ضلعی اجلاس کے سلسلےمیںشہداد پور میں تھے، اجلاس صبح کے وقت تھا اور شام کو شہداد پور میں شاہ صاحبaکا جلسہ تھا تووالدصاحبaجماعت اسلامی کے اجلاس سے فارغ ہوتے ہی گاؤں واپس آگئے،اورشاہ صاحب a کے جلسہ میں شرکت نہ کی وجہ یہ تھی کہ شاہ صاحبaکے جلسہ میں شرکت کرتے تو یقیناً شاہ صاحبaسے بھی ملاقات ہوتی اگر ملاقات میں شاہ صاحب پوچھ لیتے کہ یہاں کیسے آناہوا؟ توبتانا پڑتا کہ جماعت اسلامی کے کام کے سلسلے میں آناہواہے،جس سے شاہ صاحبaکو تکلیف ہوتی اور اگر کوئی اور وجہ بتاتے تو جھوٹ ہوتا۔
بالآخر والدصاحبaنے جماعت اسلامی سے علیحدگی اختیار کرلی تھی اور اس کی کچھ وجوہات تھیں،علیحدگی کا سبب ایک وہ واقعہ بھی بتلاتے تھے جو منصورہ میں پیش آیا، ایک بارمنصورہ ہالامیں قاضی حسین احمد کی زیرصدارت اجلاس ہورہاتھا،اس اجلاس میں قاضی حسین نے کہا: ’’پاکستان میں قرآن وحدیث کے نفاذ کامطالبہ کیاجارہاہے لیکن نافذ فقہ حنفی ہی ہوگی، اس لئے کہ پاکستان میں اکثریت حنفیوں(دیوبندیوں؍ بریلویوں) کی ہے۔‘‘اس اجلاس میں قاضی صاحب سے پوچھاگیا کہ جماعت اسلامی کے مدارس میں معلمین کس مسلک کےرکھے جائیں؟ تو قاضی صاحب نےکہا:’’دیوبندی اوربریلوی کورکھیں کسی اہل حدیث کو معلم نہ رکھنا۔‘‘
میں والدصاحبaکے حالات زندگی پر’’دعوت اہل حدیث کے شمارہ اگست۲۰۱۱ء میں تفصیلی مضمون لکھ چکاہوں۔
والدصاحبaنے یکم جولائی۲۰۰۵ء کو وفات پائی۔
E:آپ کی شادی کب ہوئی،آپ کا اپنی اہلیہ سے کیا نسبی رشتہ ہے؟ اور آپ کی اولاد کاتعارف؟
F:میری شادی میری ولادت کے ٹھیک ۲۰ویںسال میری تاریخِ ولادت پر۴مارچ ۱۹۹۲ء کو ہوئی، میری اہلیہ رشتے میں میرےخالہ زاد کی بیٹی ہیں۔
میرے دوبیٹے اورچھ بیٹیاں ہیں۔
بیٹوں کے نام:زبیراور زہیرہیں۔
E:آپ کی دینی تعلیم کاآغاز کیونکر ہوا؟
F:میری دینی تعلیم کاآغاز یوں ہواکہ:
عبداللہ شیخ مکہ والے میرے بڑے بھائی لیاقت علی صاحب کو اکثر میرے متعلق کہتے رہتے تھے کہ ’’ان کو مدرسہ کی تعلیم دلواؤ‘‘ عبداللہ شیخ کےا صرار پر مجھے برادرلیاقت علی صاحب نے دیوبندی مسلک کی جامع مسجد کھپرومیں قاری لعل محمد صاحب کے ہاں داخل کرادیا۔پھر عبداللہ شیخ کے سسر احمدشیخ صاحب نے لیاقت علی بھائی سے کہا :’’آپ ان کو حافظ کی بجائےعالم بنائیں کیونکہ حفاظ کرام تو بہت ہیں۔ہمارے ہاں علماء کی قلت ہے۔‘‘تولیاقت علی بھائی نے احمدشیخ صاحب کے مشورہ پر عمل کرتےہوئے اس مسجد سے میرانام خارج کرواکے مجھے میرپورخاص ٹنڈوآدم روڈ پر واقع دیوبندی مسلک کے مدرسہ قاسم العلوم کے شعبہ کتب میں داخل کرادیا۔یہ 1984-85کی بات ہے۔
E:مدرسہ قاسم العلوم میں آپ نے کن کن اساتذہ سے کون کون سی کتب پڑھیں؟
F:اس مدرسہ میں مولانا عبدالقادر مری صاحب سے میں نے فارسی کی پہلی کتاب،کریما،نام حق،پندنامہ پڑھیں۔اور مولانا عطاءاللہ خاصخیلی صاحب سے علم الصرف، علم النحو،اور قرآنی صیغے پڑھیں۔اورمولانا محمدسعید بلوچ صاحب سےگلستان سعدی اور بوستان سعدی اور مالابد منہ پڑھیں۔
E:آپ نے جامعہ دارالحدیث رحمانیہ میں کب داخلہ لیا اور یہاں کن اساتذہ سے کیاپڑھا؟
F: 1988ء کو جامعہ دارالحدیث رحمانیہ سولجربازار کراچی میں داخلہ لیا۔
محدث العصر استاذ العلماء شیخ الحدیث علامہ عبداللہ ناصر رحمانیd سے الفیہ ابن مالک، الفیۃ الحدیث، شرح نخبۃ الفکر ،جامع ترمذی، سنن نسائی اورصحیح بخاری جلد دوم پڑھیں۔
اور فضیلۃ الشیخ استاذ الاساتذہ الشیخ محمدافضل الاثریdسے مرقاۃ، علم الصیغہ، شرح مائۃ عامل، ہدایۃ النحو، ابن ماجہ، صحیح مسلم جلد اول ودوم، صحیح بخاری جلد اول پڑھیں۔
دیوبندی استاذ مولانا غلام رسول صاحب سے دستور المبتدی، اصول الشاشی، شرح جامی ،ہدایہ،جلالین،تفسیر بیضاوی اور قدوری پڑھیں۔
مولانا مفتی محمدصدیق aسے شرح تہذیب پڑھی۔اور الشیخ امان اللہ ناصرصاحب سےحجۃ اللہ البالغۃ پڑھی۔ اور الشیخ سیدمحمدشاہ صاحب سے ابوداؤد پڑھی۔اور الشیخ عبدالمجید سادھوی صاحب سے بلوغ المرام پڑھی۔اور الشیخ افضل سردار صاحب سے مشکوٰۃ کے دونوں حصے پڑھے۔
اور فضیلۃ الشیخ الاستاذ موجودہ نائب مدیر المعہد السلفی للتعلیم والتربیۃ محمد داؤدشاکر صاحب سے معلم الانشاء اور مقامات حریری پڑھیں۔
اور استاذ العلماء ،فضیلۃ الشیخ عبدالرحمٰن چیمہ dسے کافیہ پڑھی۔
(جاری ہے)

About آصف فاروق کمبوہ

Check Also

ڈاکٹر ابوجابر عبداللہ دامانوی حفظہ اللہ

یہ انٹرویو بروز پیربعدنمازظہر 15مئی 2017 ء کو آصف فاروق صاحب نےکیماڑی میں شیخ دامانوی …

جواب دیجئے