Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2017 » شمارہ جنوری » شراب تمام جرائم کی جڑ مگر ۔۔۔۔۔!!

شراب تمام جرائم کی جڑ مگر ۔۔۔۔۔!!

سندھ ہائی کورٹ نے شراب پر پابندی لگائی اور اس کے مثبت اثرات نظر آنے لگے ، لیکن پتہ نہیں کیوں ایسا لگتا تھا کہ شراب پر پابندی زیادہ دیر رہنے والی نہیں، ہم نے اس خدشے کا اظہار اپنے ایک کالم میں کیا، جو روزنامہ جسارت میں شائع ہوا،لیکن اس پابندی کے باوجود میڈیا کی خبروں کےمطابق بعض محافظوں کی سرپرستی میں ڈھکے چھپے شراب کی ترسیل جاری وساری ہے۔ ہائے اس ترقی یافتہ دور میں شراب !! جبکہ شراب نوشی تو اس دور کا حصہ تھی جسے دور جاہلیت کہا جاتا ہے،اس دور میں لوگ شراب کے عادی تھے، اسلام نے آکر اسے ختم کیا، اور ایسا ختم کیا کہ لوگوں نے شراب کے مٹکے توڑ دئیے ۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:[کُنْتُ سَاقِيَ الْقَوْمِ فِي مَنْزِلِ أَبِي طَلْحَةَ وَکَانَ خَمْرُهُمْ يَوْمَئِذٍ الْفَضِيخَ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنَادِيًا يُنَادِي أَلَا إِنَّ الْخَمْرَ قَدْ حُرِّمَتْ قَالَ فَقَالَ لِي أَبُو طَلْحَةَ اخْرُجْ فَأَهْرِقْهَا فَخَرَجْتُ فَهَرَقْتُهَا فَجَرَتْ فِي سِکَکِ الْمَدِينَةِ] (صحیح بخاری: 2464صحیح مسلم: 1980)
انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں ابوطلحہ کے مکان میں لوگوں کو شراب پلا رہا تھا، اس زمانہ میں لوگ فضیخ نامی شراب استعمال کرتے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو حکم دیا کہ وہ اعلان کردے ،سن لو !شراب حرام کر دی گئی۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: مجھ سے ابوطلحہ نے کہا :باہر جا ؤاور اس شراب کو بہا دوچنانچہ میں باہر نکلا اور اس کو بہا دیا۔ اس دن مدینہ کی گلیوں میں شراب بہہ رہی تھی۔
اندازہ لگائیں کہ ادھر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ہے اور ادھر اس پر عمل ہے اور عمل کا منظر دیدنی ہے کہ شراب گلیوں میں بہہ رہی ہے۔بلکہ جو زندہ ہیں انہیں گزرے ہوئے لوگوں کی فکر لاحق ہوگئی کہ وہ جو شراب نوش تھے ان کا کیا بنے گا؟؟ سورۂ مائدہ کی آیت نمبر 93 کے ذریعے ان کی برأت کا حکم نازل ہوا۔
یقیناً شراب کئی ایک مفاسد والی چیز تھی (جیسا کہ آگے آرہا ہے) اسی لئے اسلام میں حرام ٹھہری اور اور صحابہ نے حکم نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سنتے ہی شراب کو گلیوں میں بہا دیا ۔
شراب جرائم کی جڑ:
شراب دراصل جرائم کی جڑ ہے۔ اس کے دلائل حسبِ ذیل ہیں:
۱۔احادیث میں حرمتِ شراب سے قبل شراب نوشی کے مفاسد کا تذکرہ ملتا ہے، مثلاً : ایک شخص نے شراب پی کر اونٹنیوں کے کوہان کاٹ دئیے اور مزید ان کو زخمی کیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب اس ماجرے کے مطلع ہونے پر وہاں دیکھنے گئے تو وہ شخص ہوش میں نہ تھے ، اس کی آنکھیں سرخ تھیں ، بلکہ زبان سے بھی کچھ کلمات کہہ دئیے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابھی یہ ہوش میں نہیں ہے۔ اور واپس چلے گئے۔
(صحیح بخاری: 4003)
اس شخص نے شراب نوشی کی وجہ سے نہ کہ صرف دو اونٹنیوں کو زخمی بلکہ ہلاک ہی کردیا۔معلوم ہواکہ شراب نوشی کی وجہ سے انسان اس حد تک مخمور ہوسکتا ہے کہ وہ کسی کی جان لے سکتا ہے۔
۲۔ شبِ معراج کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دو پیالے دئیے گئے، ایک میں دودھ اور دوسرے میں شراب تھی، جبرائیل علیہ السلام نے کہا، دونوں میں سے جو چاهیں پی لیجئے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دودھ لے کر پی لیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا، که آپ نے فطرت کو اختیار کیا ہے، اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم شراب پی لیتے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت گمراه ہو جاتی۔(صحیح بخاری: 3394 صحیح مسلم:168 )
اس حدیث میں شراب کو گمراہی کے طور پر تعبیر کیا گیا۔
۳۔ نبی اکرمصلی اللہ علیہ وسلم نے قربِ قیامت ہونے والے امور کی نشاندہی کرتے ہوئے فرمایا علم اٹھالیا جائے گا اور جہالت پھیل جائے گی اور شراب کو پیا جائےگا اور زنا کی کثرت ہوگی ۔ (صحیح بخاری: 80)
اس حدیث کے مطالعے سے یہ بات واضح ہوجاتی ہےکہ قربِ قیامت ظاہر ہونے والے فتن اور برائیوں کے اسباب میں سے کچھ یہاں بیان ہوئے مثال کے طور پر جہالت۔ ظاہر سی بات ہے کہ جس کے پاس علم نہ ہو اور جاہل ہو ، وہ شعور کے کس درجے پر کھڑا ہوگا اور ایسے احمق قسم کے لوگوں کی حماقتیں ان کو فتنوں اور برائیوں میں مبتلا کردیں گی کیونکہ ان کے پاس علم نہیں۔
اسی طرح شراب نوشی جو ان کے عقل پر پردے ڈال دے گی، جب عقل مخمور ہوجائے تو پھر انسان کوئی بھی جرم کرسکتا ہے۔ ایک گناہ کا تو ساتھ ہی ذکر ہے کہ زنا عام ہوجائے گا۔ مے نوشی اور حسن پرستی دونوں آج یکجا جمع نظر آتی ہیں ۔ اور باقی جرائم کی اپنی داستان۔
۴۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شراب نہ پیو یہ ہرشر کی چابی ہے۔
(سلسلۃ الصحیحہ : 2798 )
۵۔ ایک حدیث میں اسے ام الخبائث قرار دیا گیا ۔
(سلسلہ الصحیحۃ: 1854)
۶۔ ایک حدیث میں راس کل فاحشۃ قرار دیا گیا۔
(ارواء الغلیل: 2026)
۷۔ بنی اسرائیل کے ایک بادشاہ نے ایک شخص کو پکڑ کرچار میں سے ایک برائی کے کرنے کا حکم دیا، نہ کرنے پر قتل کی دھمکی دی۔ کہ وہ شراب پئیے یا کسی عورت کے ساتھ بدکاری کرے، یا کسی کو قتل کرےیا خنزیر کا گوشت کھالے ۔ اس نے شراب کو سب سے ہلکا جانتے ہوئے اس کے پینے کو اختیار کرلیا۔ جب اس نے شراب پی لی تو بد مست ہو کر اس نے بدکاری بھی کی، قتل بھی کیا، اور خنزیر کا گوشت بھی کھایا۔
(سلسلۃ الصحیحۃ : 2695)
اسی مفہوم کا ایک واقعہ ایک نیک شخص اور عورت کے بارے میں بھی ہے کہ ایک عورت ایک شخص پر فریفتہ ہوگئی اور بہانے سے گھر بلوالیا، اور اسے بدکاری، بچے کے قتل، اور شراب میں سے ایک کام کو اختیار کرنے کا کہا اور نہ کرنے پر دھمکی دی کہ وہ وایلا کرکے اس پر الزام لگائےگی ۔ اس شخص نے عزت بچانے کے لیے سب سے ہلکا جانتے ہوئے شراب کو اختیار کیا، اور شراب پی لی۔نتیجتاً وہ بد مست ہوکر بقیہ گناہوں کا بھی مرتکب ہوگیا۔ (سنن النسائی : 5666)
مشت از خروارے کے طور پر پیش کردہ ان ادلہ کی روشنی میں یہ واضح ہوجاتا ہے کہ شراب کئی ایک جرائم کا بڑا سبب ہے۔
اب حالتِ واقعی بھی پیش کئے دیتے ہیں کہ شراب نوشی کی وجہ سے کس قسم کے جرائم رونما ہورہے ہیں۔
۱۔بیوی نے بچوں کے سامنے شراب پینے سے منع کیا تو شوہر نے گولی مار دی۔ 1
۲۔شراب پی کر لوگوں کو گالیاں دینے والا گرفتار۔ 2
۳۔ شراب انسان تو انسان جانور پر بھی اثر انداز ہوتی ہے اور جانور بھی اسے پی کر وہی کرتا ہے جو انسان کرتا ہے۔ 3
۴۔ شراب پی کر بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی اورقتل ۔ 4
۵۔ نشہ کے عادی باپ نے پیٹ پیٹ کر بیٹی کو قتل کردیا۔ 5
۶۔شراب نوشی کے دوران چچا نے بھتیجے کو قتل کر دیا۔ 6
۷۔کم سن بچوں سے جنسی زیادتی کرنے والا شخص اس طرح کے جرم سے قبل شراب ضرور پیتا تھا۔ 1
یہ تو چند ایک نمونے ہیں جن سے یہ سمجھنے میں آسانی ہوگی کہ اگر ہم جرائم کی روک تھام میں سنجیدہ ہیں تو ان اسباب کا بھی تعین کرنا ہوگا جو جرائم کی کثرت کاسبب بن رہے ہیں۔ ان میں سے ایک شراب نوشی ہے۔
شراب کی شناعت پر ایک طائرانہ نظر
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گناہوں کی شناعت کو بیان کرتے تو اس میں شراب کا تذکرہ فرماتے مثال کے طور پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زانی مومن ہونے کی حالت میں زنا نہیں کرتا ہے اور نہ مومن ہونے کی حالت میں شراب پیتا ہے اور شراب پینے والا مومن ہونے کی حالت میں شراب نہیں پیتا اور ڈاکو جب ڈاکہ زنی کرتا ہے اور لوگ اس کے دیکھ رہے ہیں اس ڈاکہ زنی کے موقع پر بھی وہ مومن نہیں ہوتا۔
(صحیح بخاری: 2475)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ گناہوں سے ایمان میں کمی واقع ہوتی ہے ،اور جن گناہوں کا یہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تذکرہ فرمایااس میں ایک شراب بھی ہے۔ بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کوئی ایسا کیس آجاتا کہ کسی نے شراب پی ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کو حکم فرماتےکہ اس کو ماریں اور اسے جوتیوں چھڑیوں وغیرہ سے مارا جاتا۔ (صحیح بخاری: 2316)
بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں بھی کوڑوں سے سزا دی گئی۔ (صحیح بخاری: 6780) بلکہ اس کی حد بھی مقرر ہے جوکہ چالیس کوڑے ہے۔
شراب پینے والے،پلانے والے، بیچنے والے، خریدنے والے، نچوڑنے والے اسے تیار کروانے والے، منتقل کرنے والے اور جس کی طرف منتقل کی جارہی ہے، اللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے ملعون ہیں۔ (سنن ابی داؤد: 3674)
مسلمان کے لیے اس دسترخوان پر بیٹھنا بھی حرام ہے ، جس پر شراب پی جاتی ہو۔ (جامع ترمذی: 2801علامہ البانی رحمہ اللہ نے اسے حسن قرار دیا۔ )
شراب پینے والے کی چالیس روز تک نماز قبول نہیں ہوتی۔(سنن ابی داؤد: 3680 )
قرآن مجید میں شراب کےلیے متعددالفاظ یکے بعد دیگرے استعمال ہوئے جو اس کی حرمت کو مؤکد در مؤکد بنادیتے ہیں۔
[يٰٓاَيُّھَاالَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْاَنْصَابُ وَالْاَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّيْطٰنِ فَاجْتَنِبُوْهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ 0 اِنَّمَا يُرِيْدُ الشَّيْطٰنُ اَنْ يُّوْقِعَ بَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاۗءَ فِي الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ وَيَصُدَّكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ وَعَنِ الصَّلٰوةِ ۚ فَهَلْ اَنْتُمْ مُّنْتَهُوْنَ ] (المائدہ: 90,91)
اے ایمان والو! یہ شراب اور یہ جوا یہ آستانے اور پانسے سب گندے شیطانی کام ہیں، لہذا ان سے بچتے رہو تاکہ تم فلاح پاسکو ۔شیطان تو یہ چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کے ذریعہ تمہارے درمیان دشمنی اور بغض ڈال دے اور تمہیں اللہ کے ذکر سے اور نماز سے روک دے تو کیا تم باز آتے ہو؟
مذکورہ آیت میں اللہ تعالیٰ نے شراب کی حرمت کے لیے جو الفاظ استعمال فرمائے ، ان میں سے ہر لفظ انفرادی طور پر اس کی حرمت کے بیان کے لیے کافی ہے ، لیکن ان تمام الفاظ کا اجتماع اس کی حرمت کی تاکید میں بہت اضافہ کردیتاہے۔
(1)’’ رِجْسٌ‘‘ یعنی گندے کام کا لفظ استعمال کیا۔ ہر ناپاک حرام ہوتا ہے۔
(2)’’مِّنْ عَمَلِ الشَّيْطٰنِ ‘‘ یعنی شیطانی اعمال سے ہیں۔اور ہر شیطانی کام حرام ہے۔
(3)’’ فَاجْتَنِبُوْهُ ‘‘ یعنی ان سے بچو۔ شریعت جس کام سے روک دے ، بچنے کا حکم دے وہ حرام ہوتا ہے۔
(4) ’’ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ ‘‘ یعنی تا کہ تم فلاح پاؤ۔ شریعت نے جس کام کے ترک کے ساتھ فلاح کو معلق کیا اس کا کرنا حرام اور خسارہ والا عمل ہے۔
(5)’’ اَنْ يُّوْقِعَ بَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاۗءَ ‘‘ یعنی شیطان چاہتا ہےکہ شراب اور جوئے کے ذریعہ سے تمہارے درمیان عداوت اور بغض ڈال دے۔ ہر مضر چیز شریعت نے حرام قرار دی ہے اور مضر بھی ایسی کہ جو باہمی دشمنی کا سبب بن رہی ہو جوکہ اسلام کو کسی طور گوارا نہیں ۔
(6)’’وَيَصُدَّكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ وَعَنِ الصَّلٰوةِ ِۚ‘‘ یعنی اور تمہیں خدا کی یاد سے اور نماز سے روک دے۔ جو کام دین سے دور ی کا سبب بنے وہ حرام ہوتا ہے۔
(7)’’فَهَلْ اَنْتُمْ مُّنْتَهُوْنَ‘‘ یعنی : پھر کیا تم ان چیزوں سے باز رہو گے؟۔ اتنے نقصانات بتلا کر استفہامیہ انداز جوکہ استفہام تقریر کے لئے ہے کہ تمہیں باز رہنا ہے۔
بیک وقت ان متعدد الفاظ کے ذریعے سے شراب کی حرمت کو بیان کیا۔ اس کے بعد بھی اس کی حرمت کو اور اس کی شرعی سزا کو محل خلاف سمجھنا عجیب ہے۔
شراب کے طبی نقصانات:
شراب اس قدر بری چیز ہے کہ جب ایک شخص شراب پیتا ہے تو اسے برائی سے روکنے والا نظام خود ہی رک جاتا ہے۔ پھر وہ سب کچھ کرسکتا ہے جسے ہوش و حواس میں کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا ۔یہی وجہ ہےکہ 1996 ء میں ایک سروے کے مطابق امریکہ میں روزانہ زنا بالجبر کے ہونے والے واقعات کی تعداد 2713 تھی۔ جن میں سے اکثر نشے میں مدہوش ہوتے تھے۔ بلکہ اعداد و شمار کے مطابق 8 فیصد امریکی محرمات سے مباشرت کرتے ہیں یقیناً ایسے واقعات کی وجہ شراب ہی ہے۔
شراب کی وجہ سے لاحق ہونے والی بیماریوں کی اگر فہرست بنائی جائے تو اس میں سرفہرست جگر کا سرطان، معدے کی نالی کا سرطان،بڑی آنت کا سرطان، معدے کی نالی، معدے ، لبلبے، جگر کی سوزش، بلڈ پریشر، دل کے عضلات کا تباہ ہونا، دل کی شریان کا خراب ہوناسمیت دیگر دلی امراض،دماغی فالج اور دیگر نفسیاتی بیماریاں، بیری بیری ، ڈیلیریم ٹریمنس، اینڈو کرائن، خون سے متعلقہ بیماریاں، پھیپھڑوں کی بیماریاں، جلدی بیماریاں ہیں۔ الغرض جسم کاکون سا حصہ ہے کہ جس کے بارے میں یہ کہا جاسکےکہ وہ شراب کی وجہ سے متاثر نہیں ہوتا۔
ایک جرمن طبیب کا کہنا ہے: ’’اقفلوا لی نصف الحانات اضمن لکم الاستغناء عن نصف المستشفیات والملاجی والسحون‘‘
تم شراب کی دوکانوں میں سے آدھی دوکانیں بند کردو میں تم کو آدھے شفاخانوں ، پنا ہ گاہوں اور جیل خانوں سے مستغنی کرنے کی ضمانت لیتا ہوں۔ )شراب و نشہ آور اشیاء کی حرمت و مضرت: 92)
اسی کتاب سے ماخوذ و ملخص بعض مغربی اطباء کی شہادتیں پیشِ خدمت ہیں:
انگلینڈ کے طبی بورڈ کی رپورٹ میں اس بات کا اعتراف ہےکہ شراب سے بدنی حرکات ، قوت عقلیہ کا نظام خراب ہوجاتاہے۔
سنوڈن جو کہتا ہے کہ میں جنگ عظیم میں اس بورڈ کا رکن تھا جو شراب کے حوالے سے ریسرچ کررہا تھا۔ وہ اعتراف کرتا ہے کہ شراب کی کوئی قسم نقصان سے خالی نہیں۔
بلکہ ایک لکھنے والےنے تو یہاں تک لکھ دیا کہ وہ تیز ہتھیار جو اہل مشرق اور مسلمانوں کا صفایا کرسکتا ہے وہ شراب ہے۔
ایک امریکی ڈاکٹر نے تو شراب کو بطور علاج کے استعمال سے بھی روک دیا۔
کچھ انگریز ڈاکٹروں نے تو لکھ ڈالا کہ ’’دماغی امراض کے ہسپتالوں یعنی پاگل خانوں میں داخلے کی سب سے بڑی وجہ شراب نوشی ہے ۔ بہت سے حادثے اور خودکشی کی وارداتیں شراب نوشی کی وجہ سے ہوتی ہیں ۔ شراب نوشی مسلسل جسمانی اور دماغی تنزل کا باعث ہے۔ ‘‘
ذاتی طوپر تو یہ نقصانات ہیں ہی!! معاشرے پر بھی اس کے برے اثرات منتج ہوتے ہیں ۔ جیسا کہ ایک مصنفہ لکھتی ہیں:’’ڈیلی نیوز کراچی کی 19 جنوری 1970ء کی اشاعت میں اے پی پی خبر رساں کے حوالے سے ہےکہ نیشنل کونسل آف الکوہل ازم کی آخری رپورٹ کے مطابق انگلستان میں دو سو پچاس ملین پونڈ سالانہ کا نقصان شراب نوشی کی وجہ سے کام کرنے والوں کی غیر حاضریوں اور دوسرے مضر اثرات کی صورت میں ہوتا ہے۔ ہر پیر کو اڑھائی لاکھ آدمی اتوار کی شراب خوری کی وجہ سے غیر حاضر رہتے ہیں ۔ شراب نوشی کےعادی مزدور سال میں چالیس سے ساٹھ دن تک کا کام ضائع کردیتے ہیں۔ ‘‘
اس قدر نقصانات اور مفاسد کی جڑ شراب کی پابندی کے باوجود خرید وفروخت فیاللعجب.

About شیخ یونس اثری

Check Also

فضائل علی رضی اللہ عنہ اور من گھڑت روایات

نبی اکرم ﷺ کا فرمان ذیشان ہے:’’ فَعَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي، وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ الْمَهْدِيِّينَ ‘‘  (سنن …

جواب دیجئے