Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2017 » شمارہ جنوری » صاحبِ قرآن کیلئے خوشخبریاں

صاحبِ قرآن کیلئے خوشخبریاں

صاحبِ قرآن سےمراد ایسا خوش نصیب شخص ہے جس کاقرآنِ حکیم سے قلبی لگاؤہو، وہ قرآن مجید کی کثرت سے تلاوت کرتا ہو،اسے اپنے دل ودماغ میں محفوظ کررکھتاہو۔
ایسے خوشبخت بندے کے لئے قرآن کریم اور احادیث نبویﷺ میں کئی خوشخبریاں وارد ہوئیں ہیں جنہیں بالاختصار ذیل میں بیان کیا جاتا ہے۔
قارئین !کسی سے یہ بات ڈھکی چھپی نہیںکہ ہمارے معاشرے میں گمراہی وضلالت عروج پر پھیلی ہوئی ہے، لیکن صاحب قرآن ان خوش نصیب بندوں میں سے ہے جو راہِ ہدایت پر گامزن ہے، کیونکہ اللہ عزوجل اور اس کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے بندے کے گمراہ ہونے کی نفی کی ہے،اللہ تعالیٰ کافرمان ہے:[اِنَّ ہٰذَا الْقُرْاٰنَ يَہْدِيْ لِلَّتِيْ ھِيَ اَقْوَمُ](اسراء:۹)
بیشک یہ قرآن و راہِ راست دکھاتاہے جو بالکل سیدھی ہے۔
نبیuکافرمان مبارک ہے کہ:
ترکت فیکم شیئین لن تضلوا بعدھما کتاب اللہ وسنتی ولن یتفرقا حتی یردا علی الحوض.
(الصحیحۃ للالبانی:۱۷۶۱)
میں تمہارے اندردوچیزیں چھوڑ کر جارہاہوں اس کے بعد (یعنی اگرتم نےان دونوں کو مضبوطی سے پکڑلیا تو)کبھی گمراہ نہ ہوؤگے ایک تو اللہ تعالیٰ کی کتاب(یعنی قرآن مجید) اور دوسری میری سنت اور یہ دونوں کبھی بھی جدا نہیں ہونگی حتی کہ حوض پر آکر مجھ سے مل لیںگی۔
صاحب قرآن کو اللہ سبحانہ وتعالیٰ قرآن مجید سے الفت کےبدلے بڑی بلندیوں سے نوازتا ہے، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ:
ان اللہ یرفع بھذا الکتاب اقواما ویضع بہ آخرین.
(صحیح مسلم:۸۱۷)
ترجمہ:بیشک اللہ اس کتاب کے ذریعے لوگوں کو بلند کردیتا ہے اور دوسروں کو پست۔
اس قرآن کے ذریعے بندے کو ہر قسم کی رہنمائی ونصیحت حاصل ہوتی ہے، اللہ تعالیٰ کافرمان ہےکہ
[يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ قَدْ جَاۗءَتْكُمْ مَّوْعِظَۃٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ] (یونس:۵۷)
ترجمہ:اے لوگو! تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے ایک ایسی چیز آئی ہے جو نصیحت ہے۔
اور صاحب قرآن دنیا کے ہر انسان سے بہتر وافضل ہوتا ہے، رسول اللہﷺ کافرمان ہےکہ:
خیرکم من تعلم القرآن وعلمہ.
دوسری روایت کے الفاظ یوں ہیںکہ
ان افضلکم من تعلم القرآن وعلمہ.
(بخاری:۴۶۳۹-۵۰۲۸)
تم میںسے بہترین شخص وہ ہے جو قرآن سیکھے اور سکھائے۔
صاحب قرآن کو اللہ عزوجل ہر قسم کے امراض سے محفوظ فرماکر، اس خوش نصیب بندے پر اپنی رحمت کانزول فرماتاہے، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہےکہ
[يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ قَدْ جَاۗءَتْكُمْ مَّوْعِظَۃٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَشِفَاۗءٌ لِّمَا فِي الصُّدُوْرِ۝۰ۥۙ وَہُدًى وَّرَحْمَۃٌ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ۝۵۷ ] ترجمہ:اے لوگو! تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے ایک ایسی چیز آئی ہے جو نصیحت ہے اور دلوں میں جو روگ ہیں ان کے لیے شفا ہے اور رہنمائی کرنے والی ہے اور رحمت ہے ایمان والوں کے لیے۔(یونس:۵۷)
اور ایک دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے یوں فرمایا:
[وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْاٰنِ مَا ہُوَشِفَاۗءٌ وَّرَحْمَۃٌ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ۝۰ۙ وَلَا يَزِيْدُ الظّٰلِـمِيْنَ اِلَّا خَسَارًا۝۸۲ ] (بنی اسرائیل:۸۲)
اور ہم قرآن (کے ذریعے) سے وہ چیز نازل کرتے ہیں جو مومنوں کے لئے شفااور رحمت ہے اور ظالموں کے حق میں تو اس سے نقصان ہی بڑھتاہے۔
قرآن حکیم ہی مرض کاعلاج ورحمت ہے اس حوالے سے مذکورہ قرآنی متعدد آیات کے علاوہ کتب احادیث کا مطالعہ کیجئے۔(بلخصوص صحیح بخاری، حدیث:۵۰۱۶-۲۲۷۶-۵۷۳۶،اور صحیح مسلم :۷۹۶)
صاحب قرآن کے کثرت سے قرآن مجید پڑھنے سےاللہ سبحانہ وتعالیٰ صاحب قرآن کے گھر کو جنات وشیاطین سے محفوظ رکھتا ہے۔ آپﷺ کافرمان ہے کہ:
اقرءوا سورۃ البقرۃ فی بیوتکم ،فان الشیطان لایدخل بیتا فیہ یقرأ سورۃ البقرۃ .
(الصحیحۃ للالبانی:۱۵۲۱)
اپنے گھروں میں سورۃ البقرہ پڑھا کروکیونکہ شیطان اس گھر میں داخل نہیں ہوتا جس میں سورۃ البقرہ پڑھی جائے۔
صاحب قرآن کتنی بڑی خوشخبریوں کاحامل ہے کہ اللہ عزوجل صاحب قرآن کو ہی ایک حرف پر دس نیکیوں سے نوازتا ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کافرمان ہے:
مَنْ قَرَأَ حَرْفًا مِنْ كِتَابِ اللهِ فَلَهُ بِهِ حَسَنَةٌ، وَالحَسَنَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا، لاَ أَقُولُ الْم حَرْفٌ، وَلَكِنْ أَلِفٌ حَرْفٌ وَلاَمٌ حَرْفٌ وَمِيمٌ حَرْفٌ.(سنن ترمذی:۲۸۳۵)
جس شخص نے اللہ کی کتاب میں سے ایک حرف پڑھا اس کے لئے ایک نیکی ہے، اور وہ نیکی دس کے برابر ہے،میں نہیں کہتا کہ ’’الم‘‘ ایک حرف ہے، بلکہ الف ایک حرف ہے، لام ایک حرف ہے، اور میم ایک حرف ہے۔
امام الانبیاء سیدنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دجال کے عظیم ترفتنے سےاللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کی، امت کو بھی اس فتنے سے ڈراتے ہوئے اللہ عزوجل کی پناہ طلب کرنے کا حکم دیا۔
لیکن صاحب قرآن کو اللہ کے محبوب نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دجال کے فتنے سے بچاؤ کی بشارت سنائی۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کافرمان ہے کہ:
من قرأ سورۃ الکھف (کما انزلت) کانت لہ نورا یوم القیامۃ من مقامہ الی مکۃ، ومن قرأ بعشر آیات من آخر ھا ثم خرج الدجال لم یضرہ.(الصحیحۃ للالبانی:۲۹۷۷،مستدرک الحاکم:۲۰۲۷)
جس شخص نے سورۃ ’’الکھف‘‘ اس طرح پڑھی (جس طرح نازل ہوئی) تو یہ عمل اس کے لئے قیامت کے دن اس کی قیام گاہ سے لے کر مکہ تک نور کاباعث ہوگا۔ اور جس شخص نے اس کے آخر سے دس آیات تلاوت کیں،پھر دجال ظاہر ہوگیا تو اسے نقصان نہیں پہنچاسکے گا۔
گویا قرآن سے الفت ومحبت صاحب قرآن کو دنیا کی تمام مشکلات سے بچاتی ہے،اس قرآن کے بناپر ہی بندے کو قبر کے دردناک عذاب سے چھٹکارامل سکتا ہے، جیسا کہ آپصلی اللہ علیہ وسلم کافرمان ہے کہ:
سورۃ تبارک ھی المانعۃ من عذاب القبر.
(الصحیحۃ للالبانی:۱۱۴۰)
سورۂ تبارک(الملک) عذاب قبر سے رکاوٹ کا باعث ہے۔
جب سے بندہ قرآن حکیم پڑھنا شروع کرتا ہے اس روز سے لے کر قبر تک اور پھر روزمحشر تک بندے کیلئے کئی بشارتیں ہیںکیا سعادت ہے کہ روزقیامت قرآن مجید اور اس کی مخصوص سورتیں صاحب قرآن کے لئے اللہ تعالیٰ کے ہاں سفارشی بنیں۔
سیدنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ
قرآن پڑھاکرو،کیوں کہ یہ قیامت کےدن اپنے پڑھنے والوں کے لئے سفارشی بن کر آئے گا۔کھلتے ہوئے پھول کی مانند ۔
سورۃ البقرہ اور آل عمران پڑھاکروکیونکہ یہ دونوں قیامت کے دن بدلیوں کی صورت میں یا یہ دونوں پرندوں کی صورت میں یا کبوتر کے بچوں کی صورت میں آئیں گی اور اپنے پڑھنے والوں کے بارے میں جھگڑا کریں گی۔
سورۃ البقرہ پڑھاکرو کیوں کہ اس کاپڑھنا باعث برکت اور اس کا چھوڑنا باعث حسرت ہے اور باطل اس کے مقابلہ کی طاقت نہیں رکھتا۔
(مسلم:۳۳۷)
اللہ عزوجل روز محشر قرآن پاک کی سفارش قبول کرتے ہوئے صاحب قرآن کو لازوال انعامات سے مالامال فرماکر،عزت والاتاج اور لباس پہناکر جنت میں داخل فرمائے گا۔
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کافرمانِ مبارک ہے کہ
” يَجِيءُ القُرْآنُ يَوْمَ القِيَامَةِ فَيَقُولُ: يَا رَبِّ حَلِّهِ، فَيُلْبَسُ تَاجَ الكَرَامَةِ، ثُمَّ يَقُولُ: يَا رَبِّ زِدْهُ، فَيُلْبَسُ حُلَّةَ الكَرَامَةِ، ثُمَّ يَقُولُ: يَا رَبِّ ارْضَ عَنْهُ، فَيَرْضَى عَنْهُ، فَيُقَالُ لَهُ: اقْرَأْ وَارْقَ، وَيُزَادُ بِكُلِّ آيَةٍ حَسَنَةً "(سنن ترمذی:۲۹۱۵)
روز قیامت قرآن مجید آئے گااور (صاحب قرآن کے لئے )کہے گاکہ اے میرے رب!اس کوجوڑاپہنا، پس اسے جوڑا پہنایاجائے گا تاج کرامت (یعنی عزت) کا، پھر کہے گا کہ اےمیرے رب!اس کی زیب وزینت میں اضافہ فرما!تو اسے (زیادہ زیب وزینت والا) جوڑا پہنایاجائے گا، تو وہ کہے گا:اے میرے رب! اس سے راضی ہوجا،تو اللہ تعالیٰ اس سے راضی ہوجائے گا، اور فرمائے گاقرآن پڑھتے جاؤ اور(درجات پر) چڑھتے جاؤ، ہر آیت کے بدلے ایک نیکی زیادہ کی جائے گی، ایک دوسری روایت میں ہےکہ:
” يُقَالُ لِصَاحِبِ الْقُرْآنِ: اقْرَأْ، وَارْتَقِ، وَرَتِّلْ كَمَا كُنْتَ تُرَتِّلُ فِي الدُّنْيَا، فَإِنَّ مَنْزِلَكَ عِنْدَ آخِرِ آيَةٍ تَقْرَؤُهَا "(سنن ابی داؤد:۱۴۶۴)
صاحب قرآن(جو قرآن پڑھتا ہے اور اس کے مطابق عمل کرتا ہے) کو کہاجائے گا:پڑھتاجا اور درجات پر چڑھتا جا۔ ویسے ترتیل سے پڑھ جیسے دنیا میں ترتیل سے پڑھتا تھا جہاں توآخری آیت کی تلاوت کرے گا وہی تیری منزل ہے۔
مذکورہ بشارتیں قرآن حکیم کو بکثرت پڑھنے،حفظ کرنے کے ساتھ ساتھ اس پر عمل کرنے کے ساتھ مشروط ہیںلہذا ہمیں چاہئے کہ قرآن مجید کی کثرت کےساتھ تلاوت کریں، اور اس پر عمل کریں۔
اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اس پر عمل کرنے کی توفیق بخشے اور مذکورہ خوشخبریوں سے نوازے۔
آمین یامجیب السائلین.

About عبدالسلام جمالی

Check Also

صالح کے لئے خوشخبریاں احادیث کی روشنی میں

      قارئین کرام! جیسا کہ آپ سابقہ معروضات میں صالح بندے  کے لئے …

جواب دیجئے