Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2017 » شمارہ جنوری » گیارہویں کی حقیقت

گیارہویں کی حقیقت

گیارہ ربیع الثانی شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کی وفات کادن ہے اس روز ان کےساتھ عقیدت کے دعویٰ دار گیارہویں کےنام سے ان کیلئے نیاز دیتے ہیںیعنی ان کے نام پر صدقہ کرتے ہیں جس طرح کہ اللہ تعالیٰ کے نام پر صدقہ کیا جاتا ہے،اس نیاز سے لوگوں کامقصد شیخ عبدالقادر جیلانی کی خوشنودی ہوتی ہے تاکہ وہ سال بھر ان پر نظر کرم فرمائیں اور ان کی جان ومال اور اہل وعیال کی حفاظت فرمائیں،کیوں کہ ان غالی عقیدتمندوںکا عقیدہ ہےکہ شیخ عبدالقادر جیلانی ؒاپنی قبر میں زندہ ہیں، عالم الغیب ہیں اور کائنات میںتصرف فرماتےہیں،بلکہ وہ انہیں ’’غوث الاعظم‘‘ (سب سے بڑا مددگار) کہتے ہیں، اور اس بناء پر وہ ان سے مدد طلب کرتے ہیں اور’’یاغوث الاعظم المدد‘‘ کانعرہ لگاتے ہیں، شیخ  عبدالقادر جیلانیؒ کے متعلق یہ سارا عقیدہ صریح شرک پرمبنی ہے، کیونکہ کائنات میں تصرف کا اختیار ،عالم الغیب ہونا،اور نفع ونقصان کا مالک ہونا،صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کے ساتھ خاص ہے،اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:[عٰلِمِ الْغَيْبِ وَالشَّہَادَۃِ فَتَعٰلٰى عَمَّا يُشْرِكُوْنَ۝۹۲ۧ ] ترجمہ:اور وہ اللہ غیب اورظاہر کو جاننے والاہے اور لوگوں کے شرک سے بلندوبالاہے۔(المؤمنون:۹۲)
نیز فرمایا:
[اَمَّنْ يُّجِيْبُ الْمُضْطَرَّ اِذَا دَعَاہُ وَيَكْشِفُ السُّوْۗءَ وَيَجْعَلُكُمْ خُلَـفَاۗءَ الْاَرْضِ۝۰ۭ ءَ اِلٰہٌ مَّعَ اللہِ۝۰ۭ قَلِيْلًا مَّا تَذَكَّرُوْنَ۝۶۲ۭ ](النمل:۶۲)
’’کون ہے جوبے قرار کی دعا سنتا ہے جبکہ وہ اسے پکارےاور کون اس کی تکلیف کو رفع کرتا ہے؟ اور کون ہے جو تمہیں زمین کاخلیفہ بناتا ہے !کیا اللہ کے ساتھ اور کوئی الٰہ بھی ہے؟تم بہت کم نصیحت وعبرت حاصل کرتے ہو۔
جب شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کے نام کی گیارہویں کی بنیاد ہی باطل ہے تو گیارہویں خودبخود باطل ہوگئی۔
خود فقہ حنفی میں بھی اس کی صراحت موجود ہے کہ نذرونیاز عبادت ہے اس لئے یہ کسی مخلوق کیلئے جائز نہیں، اگر کوئی ایسا کریگا تو کفرکریگا ۔ درِ مختار کی مشہورشرح ’المعروف فتاویٰ شامی‘ میں اس کی شرح یوں کی گئی ہے یعنی:’’اس نذرِ غیراللہ کے باطل اورحرام ہونے کی کئی وجوہ ہیں:
الف:یہ کہ قبروں کے چڑھاوے وغیرہ مخلوق کے نام کی نذریں ہیں اورمخلوق کے نام کی نذر جائز ہی نہیں۔
ب:اور یہ کہ جس کے نام کی نذر دی جاتی ہے وہ مُردہ ہے اورمُردہ کسی چیز کااختیار نہیں رکھتا۔
ج:اور یہ کہ نذر دینے والاشخص مُردوں کے متعلق یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ وہ اللہ کے سوا،کائنات میں تصرف کرنے کااختیار رکھتےہیں حالانکہ مُردوں کے متعلق ایسا عقیدہ رکھنا بھی کفر ہے۔‘‘
اسی طرح امام بیضاوی ؒ کی تفسیر بیضاوی کے حاشیہ میں ہے کہ’’ ہر وہ جانور جس پرغیراللہ کانام پکارا جائے حرام ہےاگرچہ ذبح کے وقت اس پر اللہ ہی کانام لیاگیاہو‘‘
بلاشبہ ایصال ثواب کے لئے صدقہ کرنا جائز ہےلیکن بلا کسی دن کے تعین کے،پیرعبدالقادر جیلانیؒ کی گیارہویں اور دیگراولیاء کرام کے نام کی نذوونیاز دینے والااسے ایصال ثواب کا نام دیکرمغالطہ دینے کی کوشش کرتا ہے،جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ان کی یہ گیارہویں اورنذر ونیاز ایصال ثواب نہیں،کیونکہ ایصال ثواب تو میت کوثواب پہنچانے کیلئے ہوتا ہےجبکہ گیارہویں یا دیگراولیاء کی نذرونیاز تو ان بزرگوں کی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے ہوتی ہے تاکہ وہ ان پر خوش ہوکرسال بھر ان کی جان ومال اور اہل وعیال کی حفاظت کریں، بعض لوگوں کو تو یہ کہتے ہوئے سناگیا ہے کہ ہمارے مال ومتاع اور تجارت کی حفاظت اور اس میں برکت کی وجہ ہمارا پابندی سے گیارہویں کرنا ہے، اوسر کسی سے سنا گیا ہے کہ ہم نے ایک سال گیارہویں کرنےمیں سستی وغفلت کی اس سال میں ہمیں بہت مالی نقصان ہوا۔
بہرحال گیارہویں کےنام پر دیگیں پکائی جائیں یاجانور ذبح کیاجائے یابغداد کی طرف منہ کرکےپیر عبدالقادر جیلانیؒ کے نام کی صلاۃ غوثیہ پڑھی جائے یاگیارہویں کےجلوس نکالے جائیں وہ ایصالِ ثواب بالکل نہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کی وفات چھٹی صدی ہجری میں ہوئی جبکہ وفات کے بعد کئی صدیوں تک گیارہویں کو کوئی نہیں جانتا تھا علاوہ ازیں پاک وہند کے علاوہ کسی بھی علاقے میں گیارہویں کا کوئی تصور نہیں،لہذا ایسی نذرونیاز کی دعوتوں میں شرکت سےا جتناب کرنا چاہئے اور اس کی حقیقت سےلوگوں کو آگاہ کرنا چاہئے۔

About حافظ صہیب ثاقب

Check Also

ماہِ ذی الحج کی اہمیت

ذی الحج کامہینہ حرمت والے چار مہینوں میں سے ایک ہے۔ ماہِ ذی الحج میں …

جواب دیجئے