Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2017 » شمارہ جنوری » کارکنانِ جمعیت سے امیرمحترم کاخطاب

کارکنانِ جمعیت سے امیرمحترم کاخطاب

27نومبر بروز اتوار2016 ساڑھے آٹھ بجے شب راشدی مسجد موسیٰ لین لیاری کراچی میں کارکنانِ جمعیت اہل حدیث سندھ حلقہ لیاری کی تربیت کے حوالے سے ایک مختصر تقریب منعقد کی گئی ،جس میں فضیلۃ الشیخ عبداللہ ناصررحمانیdاور کراچی بھر سے علماء کرام نے شرکت کی، شریک علماء کرام کاتعارف حسبِ ذیل ہے:
حافظ محمد سلیم صاحب مفتی جمعیت۔ شیخ محمد داؤد شاکر نائب مدیر المعہد۔ ذوالفقار علی طاہرؔ۔ حافظ عبدالمالک مجاہد ناظم اعلیٰ جمعیت حلقہ کراچی۔پروفیسر عبدالغفار حازم امام وخطیب محمد ی مسجد اخترکالونی۔ حافظ عبدالوہاب امام وخطیب مسجد ابوھریرہ نیاباد۔ حافظ محمد ابراھیم نواز امام وخطیب مسجد علی بن ابی طالب شاہ بیگ لین۔ مولانا عتیق الرحمٰن امام وخطیب مسجد عبدالرحمٰن بن عوف ماڑیپور۔ مولانا مرتضیٰ امام محمدی مسجد چاکیواڑہ۔ حافظ محمد اکبر محمدی امام وخطیب مسجدعمرفاروق کمہارواڑہ۔ مولانا عبدالرافع امام وخطیب محمدی مسجد آگرہ تاج۔ حافظ احمد محمود امام راشدی مسجد موسیٰ لین۔
سب سے پہلے حافظ محمد سلیم صاحب نے’’نوجوان کاعلم وعلماء سے تعلق‘‘کے عنوان پرخطاب کیا۔ ان کے بعد فضیلۃ الشیخ عبداللہ ناصر رحمانیdامیر جمعیت اہل حدیث سندھ کو دعوتِ خطاب دی گئی۔ آپ نے خطبہ مسنونہ کے بعد سورۂ کہف کی آیتیں:[اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ كَانَتْ لَہُمْ جَنّٰتُ الْفِرْدَوْسِ نُزُلًا۝۱۰۷ۙ خٰلِدِيْنَ فِيْہَا لَا يَبْغُوْنَ عَنْہَا حِوَلًا۝۱۰۸ ]تلاوت کیں اور فرمایا:
عزیز نوجوان ساتھیو! یہ جو نوعمری ونوجوانی کامرحلہ ہے اس حوالے سے بڑا ہی قابلِ قدر ہے کہ ایک طاقتور مؤمن کی بڑی فضیلت ہے، نبی کریمﷺ کی حدیث ہے:المؤمن القوی خیر واحب الی اللہ من المؤمن الضعیف وفی کل خیر .(مسلم:۲۶۶۴)
اس حدیث کامقصد یہ ہے کہ اس (نوعمری ونوجوانی کی) قوت کو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت میں صرف کیاجائے۔نبیuکی بعض دعاؤں میں، اطاعتِ الٰہی میں جسمانی اعضاء سے بھرپور فائدہ اٹھانے کا تذکرہ ہے۔ ان دعاؤں سے بھی یہی پیغام ملتا ہے۔
قیامت کے دن اس نوجوانی کے مرحلے کاحساب الگ سے ہوگا، پانچ سوالات کیے جائیں گے، ان میں سے ایک سوال: عن شبابہ فیما ابلاہ. جوانی کہاں فنا(صرف) کی۔ یعنی اس مرحلے میں جسمانی اعضاء کی قوت کہاں صرف کی؟
لہذا عمر کے اس مرحلے پر خصوصی توجہ کی ضرورت ہے۔ اور اس تفصیل سے ایک نوجوان کا کردار بھی متعین ہوجاتا ہےکہ وہ اپنی قوت کو صرف کرنے کیلئے اصل تقاضے تلاش کرے اور اس کیلئے واحد راستہ یہی ہے کہ وہ علماء کی صحبت ورفاقت اختیار کرے، اپنےآپ کو سمجھائے کہ یہ رہنمائی علماء ہی کرسکتے ہیں۔
نوجوانی کے اس مرحلے کیلئے ایک اور بشارت بیان فرمائی گئی ہے۔ نبیuکافرمان ہے:جن سات قسم کے افراد کو قیامت کے دن عرش کاسایہ نصیب ہوگا، ان میں سے ایک-شاب نشأ فی عبادۃ ربہ.یعنی وہ نوجوان جو اپنے رب کی عبادت میں پروان چڑھا۔ ان ہی خوش نصیبوں میں ایک اور شخص بھی ہے:ورجل دعتہ امرأۃ ذات منصب وجمال فقال انی اخاف اللہ.(صحیح بخاری:۱۴۲۳)
یعنی وہ شخص بھی روز قیامت عرش کے سایہ تلے ہوگا جیسے منصب وجمال والی عورت دعوتِ گناہ دے اور وہ کہے :میں اللہ سے ڈرتا ہوں۔
ایسے مراحل بھی اکثر جوانی ہی میں آتے ہیں۔
اس حدیث میں نوجوانوں کی ان کے اصل کردار کی طرف رہنمائی کی گئی ہے یعنی ہر وقت عبادت میں رہنا ہے۔ اور یہ بات ذہن نشین کرلیجئے کہ عبادت کا اطلاق صرف نماز، روزہ پر نہیں ہوتا بلکہ زندگی کےہرشعبہ پرہوتا ہے۔
شیخ الاسلام امام ابن تیمیہaفرماتےہیں کہ ہر وہ قول اور ہر وہ فعل عبادت ہے جو اللہ کو راضی کردے۔ لہذا ہرنوجوان اس بات کوذہن نشین کرکے زندگی بسرکرے۔
عزیزنوجوانو! یاد رکھو،آپ لوگ صرف علماء کی رہنمائی ہی میں کام کرتے ہوئے دورحاضر میںاٹھنے والے نت نئے فتنوں سےمحفوظ رہ سکتے ہیں علماء کرام کے علاوہ کسی اور ڈاکٹر،پروفیسر، سیاستدان کی رہنمائی میں فتنوں کا شکار توہوسکتے ہیں ،ان سےمحفوظ نہیں رہ سکتے۔ اگر آپ یہ نکتہ سمجھ جائیں توپھر کوئی اور ضرورت باقی نہیں بچتی۔
لیکن! آج نوجوان کاکردار اس کے برعکس ہے، کوئی مفتی بن بیٹھا ہے، کوئی نام نہاد اسکالرز ،ڈاکٹرز اور پروفیسروں کاگرویدہ بن گیا ہے، دینی علم سے بالکل کورے ان لوگوں کی کہی ہوئی بات کو حرفِ آخر سمجھتا ہے۔ جبکہ ان لوگوں کا مقام یہ ہےکہ مسجد کے ممبرومحراب اور مدارس کی مسندیں انہیں قبول کرنے کیلئے تیار نہیں، انہیں اگر کوئی چیز میسر ہے تو وہ الیکٹرانک میڈیا کی اسکرین!نوجوان ایسے لوگوں کے گرویدہ بنے بیٹھے ہیں اور کچھ نوجوانوں نے اپنی ہی ٹولیاں بنائی ہوئی ہیں،مذہب کے حوالہ سے اپنا ہی من پسند نظریہ اپنایاہواہے،حالانکہ اس پر فتن دور میں جیدوعلماء ربانی کے منہج ونظریہ کو دیکھنا چاہئے کہ فلاں فلاں مسئلے کے حوالے سےان علماء کا کیا مؤقف ہے اور پھر اسی مؤقف کو اپنا لینا چاہئے،اسی میں سعادت وعافیت ہے۔
محدث ایوب سختیانی aکاقول ہے کہ:
ان من سعادۃ الحدث والاعجمی ان یوفقھما اللہ لعالم من اھل السنۃ. (شرح اصول اعتقاد اھل السنۃ والجماعۃ لللالکائی ۱؍۶۶برقم:۳۰)
ایک نوجوان کی سب سے بڑی سعادت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے دل میں اہل حدیث عالم کی محبت ڈال دے اور اسے اس عالم کی صحبت ورفاقت عطاکردے۔
ابن قیم aکا قول ہے کہ:
جس بستی میں عالم دین نہ ہو تو اس پوری بستی والوں پرہجرت کرنا فرض ہے کہ وہ عالم کےپاس چلے جائیں تاکہ ان کے عقیدہ وعمل کی اصلاح ہوتی رہے۔
نوجوانو! بہت سارے لوگ نوجوانوں کا مستقبل تاریک کرنے کیلئے نوجوانوں میں منفی جراثیم منتقل کرنے کیلئے کوشاں ہیں ،ایسے لوگوں سے ہوشیار رہو۔
نوجوانو! نوجوانی کے اس مرحلے میں قیادت وسیادت کے خواب نہ دیکھو بلکہ علماء سے تعلق رکھکر ان سے تعلیم حاصل کرو اور سیکھو، یوں پروان چڑھو۔ اس کے بعد اللہ پاک جوکام لے وہ کرو۔
سیدناامیر عمرtفرماتے ہیں:
تفقھوا قبل ان تسودوا .
امام بخاریaنے اس قول میں یوںاضافہ فرمایا: وبعد ان تسودوا.(صحیح بخاری، باب الاغتباط فی العلم والحکمۃ)یعنی سیادت(قیادت) سے پہلے اور بعد میں (بھی)علم حاصل کرو۔
ضروری ہے کہ نوجوان اِس منہج کو پہچانیں اور اختیارکریں۔
الحمدللہ جمعیت اہل حدیث سندھ علماء سے مالامال ہے لہذا اپنی بہترین تربیت کیلئے ان علماء سے رابطہ قائم کریں۔
ہمارے شاگرد آج ہماری نگرانی میں کام کررہےہیں ،ہم نے اپنے اساتذہ کی نگرانی میں کام کیا، انہوں نے اپنے اساتذہ کی نگرانی میں کام کیا۔اس انداز سے کام کرنے میں ٹھوکرکھانے کاسوال ہی پیدا نہیں ہوتا،اس لئے کہ علماء کی نگرانی قائم ہے۔ اگر آج کا نوجوان اس منہج کواختیار کرلے تو اسے سرکھجانے کاوقت بھی نہ ملے چہ جائیکہ وہ کسی منفی سرگرمی میں مبتلاہوجائے۔
اگر آپ یہ منہج اختیار کرلیتےہیں تو پھر بشارتیں ہی بشارتیں ہیں:
[اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ كَانَتْ لَہُمْ جَنّٰتُ الْفِرْدَوْسِ نُزُلًا۝۱۰۷ۙ ](الکھف:۱۰۷)
ترجمہ:جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے کام بھی اچھے کیے یقیناً ان کے لئے الفردوس کے باغات کی مہمانی ہے ۔
[اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سَيَجْعَلُ لَہُمُ الرَّحْمٰنُ وُدًّا۝۹۶ ](مریم:۹۶)
ترجمہ:بیشک جو ایمان لائے ہیں اور جنہوں نے شائستہ اعمال کیے ہیں ان کے لیے رحمٰن محبت پیدا کردے گا ۔
علماء کے دروس میں شرکت کریں، ان سے خوب استفادہ کریں، علماء کے رابطہ نمبر اپنے پاس رکھیں، مختلف مسائل کے حل کیلئے ان کی طرف رجوع کریں، ان سے ملاقات کرنے کیلئے جائیں۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہےکہ وہ ہمیں توفیق دے کہ ہماری قوت اور توانائی صحیح منہج کے تحت دینی سرگرمیوں میں صرف ہو اور اللہ تعالیٰ ہمیں غلط سرگرمیوں اور ہرقسم کے فتنوں سے محفوظ ومامون رکھے۔ آمین وآخردعوانا ان الحمدللہ رب العالمین.

vvvvvvvvvvvvvvv

About ادارہ

Check Also

مراسلے ومکاتیب

مٹیاری سےأزکی اخت حافظ محمد احمدصاحبہ کامکتوب جناب محترم ومکرم مدیرصاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ …

جواب دیجئے