Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2017 » شمارہ جنوری » مولانا محمد رمضان یوسف سلفی

مولانا محمد رمضان یوسف سلفی

ایک نامورقلمکار وادیب کی رحلت

7دسمبر2016ء بمطابق7ربیع الاول 1438ھ بروز بدھ بوقت شام 4بجے نامورقلمکار وادیب مولانا محمدرمضان یوسف سلفی بقضائے الٰہی اس فانی دنیا سے کوچ کرگئے۔ اناللہ واناالیہ راجعون.
مولانا محمدرمضان یوسف سلفیaشگروگردوں کےمرض میں  مبتلاتھے،لیکن مرض میں کوئی سنگینی نہیں تھی، آخروقت تک ہشاش بشاش تھے۔ بس بات وہی ہے کہ وہ گھڑی آپہنچی جس کے متعلق خالقِ کائنات نے فرمایا ہے کہ :[اذاجاء لایؤخر] اگلے روزیعنی8دسمبر2016ء بروز جمعرات 10بجے دن دکن پارک سمن آباد فیصل آباد میں مولانا محمدرمضان یوسف سلفی aکی دوبارنماز جنازہ ادا کی گئی،پہلی مرتبہ مولاناارشاد الحق اثریdاور دوسری مرتبہ حافظ محمد اسلم شاہدرویdکی اقتداء میں نماز جنازہ ادا کی گئی۔ آپ کی نماز جنازہ میں فیصل آباد شہر کے مدارس کے اساتذہ، علماء، طلباء اور شہر بھر کی مساجد کے خطباء وعوام الناس کی کثیرتعداد نےشرکت کی۔ نماز جنازہ سے قبل علماء نےآپaکی شخصیت سے متعلق اپنے تاثرات بیان کئے اور آپaکو جماعتی خدمات پر زبردست خراج تحسین پیش کیا۔نمازجنازہ کے بعدسمن آباد فیصل آباد کے قبرستان میں آپaکی تدفین عمل میں آئی۔
مولانا محمدرمضان یوسف سلفی کے والدکانام محمد یوسف اوردادا کا نام منشی تھا، آپ نے 4دسمبر1967ء بمطابق ۲رمضان ۱۳۸۷فیصل آباد کے نواحی گاؤں پکی پنڈوری میں جنم لیا،یوں آپaنے 49سال دودن کی حیاتِ مستعارپائی۔
غالباً رمضان المبارک میں ولادت کی بناء پرآپ کانام رمضان رکھا گیا۔مولانا محمدرمضان یوسف سلفیaبڑے اعلیٰ اخلاق وکردار کے حامل تھے،بڑے بڑے علماء کرام کے ساتھ محض دین کی بنیاد پر آپ کے نیک مراسم قائم تھےا ورباقاعدہ اپنے احباب کو نہ صرف یاد رکھتے تھے بلکہ بذریعہ خط وکتابت اور میسیج وکال رابطہ میں بھی رہتے تھے۔
راقم کے ساتھ بھی بڑی محبت ولگاؤرکھتےتھے، چند ہی ایام کے وقفہ سے کال کرتے اور طویل گفتگو کرتے، اپنی منظر عام پرآنے والی ہر کتاب اپنے دستخط کے ساتھ بذریعہ ڈاک راقم کو ارسال فرماتے، میری تحریرات پرباقاعدہ حوصلہ افزائی کرتے، اگر کسی تحریر میں کہیں جھول ہوتا تو تعمیری انداز میںاس کی نشاندہی فرماتے۔آپaمسلک اہل حدیث سے متعلق بڑے حساس تھے، اس کی ایک جھلک میں نے یوں محسوس کی کہ میں نے ماہنامہ دعوتِ اہل حدیث میں’’حاصل مطالعہ‘‘ کے تحت مؤرخ اہل حدیث مولانا محمداسحٰق بھٹیaکی کتاب’’نقوشِ عظمت رفتہ‘‘ سے ایک اقتباس شایع کیا، جس میں اہل حدیث احباب پر ذرا تنقید سی تھی، جیسے ہی وہ شمارہ آپaکوموصول ہوا،فوراً مجھے کال کی اور شفقت بھری برہمی کا اظہار فرمایا کہ ہم نے بڑی تگ ودو کے بعد اسحٰق بھٹی صاحب کاذہن بنایا ہے کہ آپ اپنی تصانیف میں اس طرح کی عبارات نہ لایاکریں، اور آپ ان ہی کا اعادہ کررہے ہیں۔
مولانا محمدرمضان یوسف سلفیaکے والد رحمہ اللہ 13دسمبر 1979ء کووفات پاگئے تھے، یوں والد کی وفات کے بعدآپ کیلئے بڑے کٹھن دور کاآغاز ہوا، تعلیم ادھوری چھوڑنی پڑی اور مسلسل اٹھارہ سال نٹ بولٹ بنانے والے کارخانے میں ملازمت کرتے ہوئے ’’سنتِ داؤدی‘‘ پر عمل پیرارہے اور تین سال تک ایک ہوزری میں اونی مفلر بھی بنائے۔ لیکن ساتھ میں تعلیم وتعلم کا سلسلہ بھی جاری رکھا۔ گاؤں کی مسجد میں مولوی عمادالدینaسے قاعدہ یسرناالقرآن پڑھا، فیصل آباد آکر جامع مسجد محمدی نثارکالونی میں قاری منیراحمد سعید سے ناظرہ قرآن پڑھا، اور مولانا حکیم ثناءاللہ ثاقب سے محمدی مسجد میں ترجمۃ القرآن پڑھا،اوراسی مسجد میں نماز عشاء کے بعد مولانا حکیم ثناء اللہ صاحب کے درسِ حدیث میں ان سے ترتیب کے ساتھ صحیح بخاری کی مکمل سماعت کی، جبکہ مندرجہ ذیل علماء کرام کی مجالس میں بیٹھ کر ان سے علمی استفادہ کی سعادت حاصل کی:
مؤرخ اہل حدیث مولانا محمداسحٰق بھٹیa،مولانا عبدالرحمن سلفی d، مولانا ادریس ہاشمیa، مولانا ارشاد الحق اثریd، حافظ عبدالقادر روپڑیa۔
مولانا محمدرمضان یوسف سلفیaکاخاندان شروع میں اہل حدیث نہیں تھا،آپaکے ماموں مولوی محمد شریفaمتوفی 5 جنوری2005ء اس خاندان کے پہلے فرد تھے جنہوں نے مسلک اہل حدیث قبول کیا۔انہوں نے مولانا سلفیaکی تربیت کی اورآپ کو مسلک اہل حدیث سے آشناکیا۔
مولانا رمضان یوسف سلفیaکو دینی، ادبی اور تاریخی کتب کے مطالعےکابڑا شوق تھا، جب تک آپ کے گھر میں بجلی کامیٹر نہیں لگاتھا تو آپ لالٹین کی روشنی میں رات گئے تک کتب ورسائل کا مطالعہ کیا کرتے۔
آپaنے ملک بھر سے شایع ہونےوالے مجلات ورسائل میں مضامین لکھے، آپ کے چند مضامین کے عناوین یہ ہیں:
1سیرت ابراہیمuکےچند پہلو2جمالِ مصطفےﷺ 3شان صدیق اکبرؓ4اسلام اورخاندانی منصوبہ بندی5لباس خضر میں راہزن6دخترجدید اورپردہ7علماء اہل حدیث کے تبلیغی کارنامے8قادیانیت کے خلاف اہل حدیث کی اولیات9برصغیر میں فتنہ انکارحدیث اور اس کے علمبردار0ذبیح اللہ کون تھے؟
آپaکی چندتصانیف کاتعارف حسبِ ذیل ہے:
bچار اللہ کےولی: اس کتاب میں مولانا عبدالوہاب دہلوی، مولانا عبدالستار دہلوی، مولانا عبدالغفار سلفی دہلوی اور مولانا عبدالجلیل خان جھنگوی کے حالات لکھے گئے ہیں۔
bمولانا عبدالوہاب دہلوی اور ان کاخاندان :اس کتاب میں مولانا عبدالوہاب دہلوی اور ان کی اولاد سے14علماء کے حالات اور ان کی دینی خدمات کو بیان کیاگیاہے۔
bعقیدہ ختم نبوت کے تحفظ میں علماء اہل حدیث کی مثالی خدمات۔
bمولانا اسحٰق بھٹی حیات وخدمات
عجیب اتفاق ہے کہ گذشتہ سال اسی موسمِ سرما میں مولانا محمد اسحٰق بھٹی ہمیں داغِ مفارقت دے گئے اور اِس سال اسحٰق بھٹی ثانی(محمد رمضان یوسف سلفی) ہم سے جداہوگئے۔
مولانا محمدرمضان یوسف سلفیaنے پوری جماعت اہل حدیث کے علاوہ دوبیٹے محمد ابوبکر سلفی، محمدعبداللہ سلفی اور دوبیٹیاں حرابیٹی وطوبیٰ بیٹی کو سوگوار چھوڑا ہے۔
اللہ تبارک وتعالیٰ آپaکی تمام جہود ومساعی کو شرفِ قبولیت بخشے اور لواحقین کو صبرجمیل عطافرمائے ،آمین
دریںاثناء فضیلۃ الشیخ عبداللہ ناصر رحمانیdامیر جمعیت اہل حدیث سندھ نے مولانا محمد رمضان یوسف سلفی کی رحلت پر گہرے دکھ وافسوس کا اظہار کیا ہے اورفرمایا ہے کہ رمضان سلفیaکی رحلت جماعت کا ناقابلِ تلافی نقصان ہے ، سلفیaکی رحلت سےجدوجہدکا، علم وعمل کا اور مسلک کی تحریک کا ایک باب بند ہوگیاہے۔
امیر جمعیت اہل حدیث سندھ نے حافظ عبدالرحمٰن سلفیd حافظ محمد سلفیdاور لواحقین سے مسنون تعزیت کی ہے اور دعافرمائی ہے کہ اللہ تعالیٰ مولانا رمضان یوسف سلفی کی جماعتی خدمات اور حسنات کو اپنی بارگاہ میں قبول فرماکر انہیں اعلیٰ علیین نے بلندمقام عطافرمائے۔آمین

About شیخ ذوالفقارعلی طاہررحمہ اللہ

.سابق ناظم امتحانات جمعیت اہل حدیث سندھ اور ایڈیٹر دعوت اہل حدیث اردو مجلہ ٣ جنوری ٢٠١٨ کو ایک ٹریفک حادثے میں انتقال کر گئے ‏اللهم اغفر له، وارحمه، وعافه، واعف عنه، وأكرم نزله، ووسع مدخله واغسله بالماء والثلج والبرد ونقه من الخطايا، كما نقيت الثوب الأبيض من الدنس، وأبدله داراً خيراً من داره، وأهلاً خيراً من أهله، وزوجاً خيراً من زوجه، وأدخله الجنة، وأعذه من عذاب القبر، ومن عذاب النار

Check Also

عمل پرہمیشگی پسندیدہ ہے!

الحمدللّٰہ والصلاۃ والسلام علی رسول ﷲ(ﷺ) وبعد! قارئین کرام! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ جیسےہی …

جواب دیجئے