Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2018 » شمارہ نومبر » جلاء البصر فی حُبِّ خیر البشر ﷺ نبی مکرم ﷺ سے حقیقی محبت

جلاء البصر فی حُبِّ خیر البشر ﷺ نبی مکرم ﷺ سے حقیقی محبت

( قرآن و سنت اور واقعاتِ صحابہ کی روشنی میں )

اللہ تعالی نے ہر ذوی العقول مخلوق میں ایک احساس رکھا ہے، جس کا نام محبت ہے ،یہ احساس بڑی اہمیت کا حامل ہے ۔دیگر مخلوقات سے قطع نظر صرف انسان میں اس جذبہ کے حوالے سے گفتگو کی جائے تو انسان چاہے کسی بھی ذات ،پات اور مذہب سے تعلق رکھتا ہومحبت اس کی طبیعت کا لازمی عنصر ہے ۔البتہ یہ ممکن ہےکہ غذا،علاقہ و ماحول اور علم و شعور کی بنیادپر جس طرح دیگر چیزوں میں تفاوت اور فرق ہوتا ہے، انسانوں میں بھی یہ تفاوت ممکن ہے ۔انسان چاہے کسی بھی مذہب کا ماننے وا لاہو،وہ طبعی طور پر اپنے متعلقین ، روٗساء اور اپنے الہ و معبود سے محبت رکھتا ہے ۔اسلام نے بھی ان طبعی محبتوں کے حوالے سے بالتفصیل رہنمائی کی ہےاور مکمل طور پر درجہ بندی کی ہے ۔جس میں سب سے پہلے اللہ تعالیٰ سے محبت کا درجہ ہے ، کیونکہ وہی خالق حقیقی اور معبود برحق ہے اور پھر نبی ﷺ سے۔ کیونکہ آپ ﷺ اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے نبی ہیں ۔ایک مسلمان ہونے کے ناطے اللہ تعالیٰ کی محبت کے بعد نبی ﷺ کی محبت کا درجہ ہے ۔پھر دیگر محبتوں کا درجہ بدرجہ نمبر ہے اور ہر محبت میں اعتدال مطلوب ہے ۔اس مضمون میں ہم نبی ﷺ سے محبت کو قرآن و سنت اور صحابہ کرام کے سنہرے واقعات کی روشنی میں بیان کریں گے تاکہ صحیح معنی میں محبت رسول ﷺ اور اس سے متعلق دیگر جزئیات کو سمجھنے میں مدد مل سکے ۔سب سے پہلے ہم لفظ محبت کی وضاحت کردیتے ہیں ۔

محبت کا لغوی مفہوم :

محبت بغض کی ضد ہے ۔(دیکھئے :کتب لغات )

امام ابن القیم رحمہ اللہ نے اس کی لغوی بحث کے حوالے سے بڑی نفیس کلام فرمائی ہے ،وہ فرماتے ہیں کہ مادہٗ ’’حب ‘‘ پانچ معانی کے گرد گھومتاہے ۔

1صفاء و بیاض. (خالص ہونا ،سفیدی )

2العلو والظھور. (بلندی ،ظاہر ہونا)

3اللزوم والثبات. (چمٹ جانا،ٹھہر جانا)

4اللُّب .(عقل )

5الحفظ والامساک .(محفوظ کرلینا)

ان معانی کی امثلہ بھی ذکر کیں،پھر فرماتے ہیں :

’’وَلَا رَيْبَ أَنَّ هَذِهِ الْخَمْسَةَ مِنْ لَوَازِمِ الْمَحَبَّةِ.‘‘

(مدارج السالکین : 9/3)

یعنی : کوئی شک نہیں ہے کہ یہ پانچ معانی محبت کے لوازم میں سے ہیں ۔

اصطلاحی مفہوم :

اس کے اصطلاحی مفہوم کے حوالے سے حافظ ابن حجر اور امام ابن القیم Sنے جو لکھا ہے، ملاحظہ فرمائیں۔

قال ابن حجرaوحقيقة المحبة عند أهل المعرفۃ من المعلومات التي لا تحد وإنما يعرفها من قامت به وجدانا ولا يمكن التعبير عنها.

(فتح الباری : 568/10)

یعنی : ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ محبت کی حقیقت اہل معرفہ کے نزدیک معلومات میں سے اس کی کوئی تعریف نہیں کی جاسکتی،البتہ یہ اس معنی میں معروف ہے کہ جو چیز دلی پر موجود ہو اور اسے بیان نہ کیا جاسکتا ہو۔

قال ابن القيمaلاتحدالمحبة بحد أوضح منها، فالحدود لا تزيدها إلا خفاء وجفاء، فحدها وجودها، ولا توصف المحبة بوصف اظهر من المحبة.

(مدارج السالكين :9/3)

محبت کی کوئی واضح ترین تعریف نہیں کی جاسکتی ۔حدود اسے مزید خفاء اور پیچیدگی میں ہی بڑھائیں گی ۔محبت کا وجودہی اس کی تعریف ہے محبت کو اس سے بڑھ کر کسی ظاہری لفظ سے متصف نہیں کیا جاسکتا ۔

بہرحال محبت ایک ناقابل بیان احساس ہے کہ جسے بذاتہ کسی پیمانے میں ماپا نہیں جاسکتا ۔البتہ محبت کے لوازم کو دیکھ کر یا اس کی علامات ومتقاضیات کو دیکھ کر حقیقی محب اور محض محبت کا دعوی کرنے والوں میں فرق ضرور کیا جا سکتا ہے ۔ہم اس مضمون میں نبی ﷺ سے محبت کے حوالے سے چند گزارشات پیش کرتے ہیں ۔

محبت رسول ﷺ جزو ایمان :

نبی ﷺ سے محبت ایمان کا جزء ہے ،قرآن مجید و احادیث صحیحہ کی نصوص میں اس بات کو واضح انداز میں بیان کردیا گیا ہے، رسول اللہ ﷺ سےمحبت نہ کرنے والا شخص قطعاً مومن نہیں ہوسکتا۔نبی ﷺ سے محبت کو ہم دو اقسام کے تحت بیان کریں گے۔ (1)نبی ﷺ کی ذات سے محبت (2) نبی ﷺ کی بات سے محبت ۔ان دونوں اقسام کی تفصیل درج ذیل ہے ۔

نبی ﷺ کی ذات سے محبت :

نبی ﷺ کی ذات سے محبت سے مراد نبی ﷺ کی ذات سے ہر شے سے بڑھ کر محبت ،نبی ﷺ سے متعلق اشیاء و ذوات سے محبت جیسے اصحاب رسول ﷺ ، اہل بیت (جس میں ازواج  وذریات اور وہ لوگ بھی جنہیں نبیﷺ نے اس خصوصیت میں شامل کیا ،کما فی حدیث الرداء )سے محبت ،یہ تمام محبتیں نبی ﷺ سے حقیقی محبت کا مظہر ہیں۔ اگر ایک شخص ان تمام مظاہر میں یا ان میں سے کسی ایک مظہر میں اظہار نفرت کرتا ہے ،تو اس کا واضح سامعنی یہ ہے کہ اسے نبی ﷺ سے کما حقہ محبت نہیں ۔

قرآن مجید و احادیث میں نبی ﷺ سے محبت کو کس انداز میں بیان کیا گیا ہے ،آئیے ملاحظہ کیجئے :

[اَلنَّبِيُّ اَوْلٰى بِالْمُؤْمِنِيْنَ مِنْ اَنْفُسِهِمْ]

یعنی : بلاشبہ نبی مومنوں کے لئے ان کی اپنی ذات سے بھی مقدم ہے۔(الاحزاب: 6)

[قُلْ اِنْ كَانَ اٰبَاۗؤُكُمْ وَاَبْنَاۗؤُكُمْ وَاِخْوَانُكُمْ وَاَزْوَاجُكُمْ وَعَشِيْرَتُكُمْ وَاَمْوَالُۨ اقْتَرَفْتُمُوْهَا وَتِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَمَسٰكِنُ تَرْضَوْنَهَآ اَحَبَّ اِلَيْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ وَجِهَادٍ فِيْ سَبِيْلِهٖ فَتَرَبَّصُوْا حَتّٰي يَاْتِيَ اللّٰهُ بِاَمْرِهٖ  ۭ وَاللّٰهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْفٰسِقِيْنَ ] (التوبہ :24)

یعنی :(اے نبی! آپ مسلمانوں سے) کہہ دیجئے کہ اگر تمہیں اپنے باپ، اپنے بیٹے، اپنے بھائی، اپنی بیویاں، اپنے کنبہ والے اور وہ اموال جو تم نے کمائے ہیں اور تجارت جس کے نقصان سے تم ڈرتے ہو اور تمہارے مکان جو تمہیں پسند ہیں، اللہ، اس کے رسول اور اس کی راہ میں جہاد کرنے سے زیادہ محبوب ہیں تو انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ اپنا حکم لے آئے۔ اور اللہ نافرمان لوگوں کو راہ نہیں دکھاتا۔

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:’’ثَلاَثٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ وَجَدَ حَلاَوَةَ الإِيمَانِ: أَنْ يَكُونَ اللهُ وَرَسُولُهُ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِمَّا سِوَاهُمَا، وَأَنْ يُحِبَّ المَرْءَ لاَ يُحِبُّهُ إِلَّا لِلهِ، وَأَنْ يَكْرَهَ أَنْ يَعُودَ فِي الكُفْرِ كَمَا يَكْرَهُ أَنْ يُقْذَفَ فِي النَّارِ‘‘

(صحیح بخاری : 16،کتاب الایمان، باب حلاوۃ الایمان، صحیح مسلم : 43،جامع ترمذی : 2624 ،سنن النسائی : 4987،سنن ابن ماجہ :4033 )

یعنی :  انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا یہ تین باتیں جس کسی میں ہونگیں، وہ ایمان کی مٹھاس (مزہ) پائے گا، اللہ اور اس کے رسول اس کے نزدیک ہر شے سے زیادہ محبوب ہوں اور جس کسی سے محبت کرے تو صرف اللہ ہی کے لئے کرے اور کفر میں واپس جانے کو ایسا برا سمجھے جیسے آگ میں ڈالے جانے کو۔

سب سے بڑھ کر محبت نبی ﷺ سے ہونی چاہئے :

گذشتہ سطور میں قرآنی نصوص کے حوالے سے یہ بات بیان کی جاچکی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بعد سب سے بڑھ کر محبت نبی ﷺ سے ہونی چاہئے ،جیساکہ الاحزاب: 6،التوبہ:24کے حوالے سے یہ بات گزر چکی ہے ،اسی طرح صحیحین میں ہے کہ : [عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لاَ يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ، حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَالِدِهِ وَوَلَدِهِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ ]

(صحیح بخاری : 15،صحیح مسلم :44)

انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺنے فرمایا: تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ میں اس کے نزدیک اس کے والد اور اس کی اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔

اب  اس حوالے سےمزید صحابہ کے جذبات ملاحظہ فرمائیں :

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور محبت رسولﷺ:

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ایک دفعہ نبی ﷺ سے کہنے لگے :

  يَا رَسُولَ اللهِ، لَأَنْتَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ إِلَّا مِنْ نَفْسِي، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لاَ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْكَ مِنْ نَفْسِكَ» فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: فَإِنَّهُ الآنَ، وَاللهِ، لَأَنْتَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ نَفْسِي، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الآنَ يَا عُمَرُ»

(صحیح بخاری : 6632 ،کتاب الایمان والنذور ،باب کیف کانت یمین النبی ﷺ )

 عمر رضی اللہ عنہ ایک دفعہ عرض کرنے لگے ،اللہ کے رسول ﷺ! مجھے سب سے بڑھ کر آپ کی ذات سے محبت ہے ،مگر اپنی جان سے زیادہ نہیں۔ نبی اکرم ﷺفرمانے لگے :نہیں ! قسم ہے ، اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ، (اس وقت تک مومن ہی نہیں)یہاں تک کہ تو مجھے اپنی جان سے بھی زیادہ محبوب نہ سمجھ لے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فوراً جواب دیا : اللہ کی قسم ! اب میں آپ کو اپنی جان سے بھی زیادہ محبت کرتا ہوں ۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا،کہ اب بات بنی۔(یعنی اب تمہارا ایمان مکمل ہوا)۔

ایک انصاری عورت اور محبت رسول ﷺ

سیدناانس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جنگ احد والے دن نبی کریمﷺ کی شہادت کی افواہ پھیل گئی۔مدینہ میں آہ و بکا ءسماںکا بن گیا۔چنانچہ ایک انصاری عورت آپ ﷺ کی خبر لینے کے لئے مدینہ سے نکلی اور لشکر کی جانب چل پڑی۔اور جنگ سے واپس آنے والے ہر شخص سے رسول اللہ ﷺ کے بارے میں پوچھتی۔جب اس کو بتایا گیا کہ تیرا باپ ،بیٹا ،بھائی اور خاوند تمام شہید ہو چکے ہیں، تو اس نے کہا:[مافعل رسول اللّٰہ ﷺ]’’مجھے رسول اللہ ﷺ کے بارے میں بتاؤ کہ ان کا کیا حال ہے؟‘‘

صحابہ کرام نے بتایا کہ رسول اللہ ﷺ وہ تیرے سامنے بخیر وعافیت موجودہیں۔اس انصاری عورت نے آپ ﷺکے کپڑے کا کنارہ پکڑتے ہوئے کہا:

[ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللهِ، لَا أُبَالِي إِذْ سَلِمْتَ مَنْ عَطِبَ]

’’میرے ماں باپ آپ پر قربان !اب آپ کو سلامت دیکھ کر مجھے اب کسی کی ہلاکت کی کوئی پرواہ نہیں‘‘(المعجم الاوسط:7499 )

اور بعض کتب سیر میں ہے کہ اس نے کہا:[کل مصیبۃ بعدک جلل]’’آپ کے بعد تمام غم آسان ہیں۔‘‘

(سیرۃ ابن ہشام:99/2)

ایمان لانے کے بعد سب سے زیادہ محبوب نبی ﷺ ہوگئے :

عبدالرحمن ابن شماسہ کہتے ہیں کہ جب عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ مرض الموت میں مبتلا تھےہم ان کی خدمت میں حاضر ہوئے، وہ بہت دیر تک روتے رہے اور چہرہ دیوار کی طرف پھیر لیا۔ ان کے بیٹے ان سے کہہ رہے تھے: ابوجان! کیوں رو رہے ہیں ،کیا اللہ کے رسولﷺ آپ کو یہ بشارت نہیں سنائی؟ عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ فرمانے لگے کہ ہمارے نزدیک سب سے افضل عمل اس بات کی گواہی دینا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمدﷺ اللہ کے رسول ہیں ۔

پھر فرمایا:مجھ پر تین دور گزرے ہیں ۔ایک دور تو وہ ہے جو تم نے دیکھا کہ میرے نزدیک اللہ کے رسولﷺ سے زیادہ کوئی مبغوض نہیں تھا اور مجھے یہ سب سے زیادہ پسند تھا کہ آپﷺ پر قابو پا کر آپﷺ کو قتل کر دوں اگر میری موت اس حالت میں آجاتی تو میں دوزخی ہوتا ۔

پھر جب اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں اسلام کی محبت ڈالی تو میں نے رسول اللہﷺ کی خدمت میں عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ﷺ! اپنا دایاں ہاتھ بڑھائیں تاکہ میں آپ ﷺکے ہاتھ پر بیعت کروں،آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ بڑھایا تومیں نےاپنا ہاتھ کھینچ لیا۔ آپﷺ نے فرمایا: اے عمرو! کیا بات ہے؟ میں نے عرض کیا کہ ایک شرط ہے، آپﷺ نے فرمایا کیا شرط ہے؟ میں نے عرض کیا کہ یہ شرط ہےکہ اسلام لانےکے بعد کیا میرے پچھلے گناہ معاف کر دئیے جائیں گے؟ آپ ﷺنے فرمایا :عمرو !کیا تو نہیں جانتا کہ اسلام لانے سے گزشتہ سارے گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں۔اور اسی طرح ہجرت اور حج سے بھی گذشتہ سارے گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں۔(پھر اسلام لانے کے بعد مجھے) رسول اللہ ﷺسے بڑھ کر کسی سے محبت نہیں تھی ،اور نہ ہی میری نظر میں آپﷺ سے زیادہ کسی کا مقام تھا۔ اور آپ ﷺ کی عظمت کی وجہ سے مجھ میں آپ ﷺکو بھر پور نگاہ سے دیکھنے کی سکت نہ تھی اور اگر کوئی مجھ سے آپﷺ کی صورت مبارک کے متعلق پوچھے تو میں بیان نہیں کر سکتا ،کیونکہ میں آپﷺ کو بوجہ عظمت وجلال دیکھ نہ سکا، اگر اس حال میں میری موت آجاتی تو مجھے جنتی ہونے کی امید تھی۔

 پھر اس کے بعد ہمیں کچھ ذمہ داریاں دی گئیں ،اب مجھے پتہ نہیں کہ میرا کیا حال ہوگا؟ پس جب میرا انتقال ہو جائے تو میرے جنازے کے ساتھ نہ کوئی رونے والی ہو اور نہ آگ ہو جب تم مجھے دفن کر دو تو مجھ پر مٹی ڈال دینا اس کے بعد میری قبر کے اردگرد اتنی دیر ٹھہر نا جتنی دیر میں اونٹ ذبح کر کے اس کا گوشت تقسیم کیا جاتا ہے تاکہ تمہارے قرب سے مجھے انس حاصل ہو اور میں دیکھ لوں کہ میں اپنے رب کے فرشتوں کو کیا جواب دیتا ہوں۔

(صحیح مسلم : 121،مسند احمد : 17780 )

اس طویل واقعے میں جہاں سیدنا عمرورضی اللہ عنہ کا خوف الہی معلوم ہوتا ہے۔ وہاں یہ بھی معلوم ہوا کہ اسلام سے قبل سیدنا عمرورضی اللہ عنہ کی کیفیت کیا تھی ؟اور اسلام لے آنے کے بعد آپ کو نبی ﷺ سے کس قدرمحبت تھی ؟؟

 نبی ﷺ کے جسم اطہر کا بوسہ لینے کاانداز :

عَنْ أُسَيْدِ بْنِ حُضَيْرٍ، رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ قَالَ: بَيْنَمَا هُوَ يُحَدِّثُ الْقَوْمَ وَكَانَ فِيهِ مِزَاحٌ بَيْنَا يُضْحِكُهُمْ فَطَعَنَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي خَاصِرَتِهِ بِعُودٍ فَقَالَ: أَصْبِرْنِي فَقَالَ: اصْطَبِرْ قَالَ: إِنَّ عَلَيْكَ قَمِيصًا وَلَيْسَ عَلَيَّ قَمِيصٌ، فَرَفَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَمِيصِهِ، فَاحْتَضَنَهُ وَجَعَلَ يُقَبِّلُ كَشْحَهُ، قَالَ إِنَّمَا أَرَدْتُ هَذَا يَا رَسُولَ اللهِ  .

(سنن ابی داؤ د :5224،کتاب الادب ،باب فی قبلۃ الجسد،المعجم الکبیر للطبرانی :556،مستدرک حاکم : 5262،سنن کبری بیھقی : 16021،صححہ الحاکم والذھبی والالبانی )

سید نا اسید بن حضیررضی اللہ عنہ جو ایک انصاری صحابی ہیں، فرماتے ہیں کہ وہ مزاحیہ باتیںکرکے لوگوں کو ہنسا رہے تھے۔رسول اللہ ﷺنے ان کی کو کھ میں لکڑی سے مارا ۔انہوں نے کہا کہ مجھے بدلہ دیجیے آپ ﷺنے فرمایا :ٹھیک ہے بدلہ لے لو۔ انہوں نے کہا کہ آپ کے جسم پر قمیص ہے ،جبکہ میرے جسم پر قمیص نہیں تھی۔ تو نبی کریم ﷺنے اپنی قمیص اٹھائی ،تو وہ اس سے لپٹ گئے اور آپ کے پہلوئے کو بوسہ دینے لگے کہ اور کہا کہ اللہ کے رسولﷺ:میرا یہی مقصد تھا(میں آپ کے جسم اطہر کا بوسہ لے لوں، ور نہ ! آپ سے بدلہ لینے کا تو تصور بھی نہیں کرسکتا۔)

نبیﷺ کے لباس کو کفن بنانے کی خواہش :

عَنْ سَهْلٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:أَنَّ امْرَأَةًجَاءَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبُرْدَةٍ مَنْسُوجَةٍ، فِيهَا حَاشِيَتُهَا»، أَتَدْرُونَ مَا البُرْدَةُ؟ قَالُوا: الشَّمْلَةُ، قَالَ: نَعَمْ، قَالَتْ: نَسَجْتُهَا بِيَدِي فَجِئْتُ لِأَكْسُوَكَهَا،فَأَخَذَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحْتَاجًا إِلَيْهَا، فَخَرَجَ إِلَيْنَا وَإِنَّهَا إِزَارُهُ»، فَحَسَّنَهَا فُلاَنٌ، فَقَالَ: اكْسُنِيهَا، مَا أَحْسَنَهَا، قَالَ القَوْمُ: مَا أَحْسَنْتَ، لَبِسَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحْتَاجًا إِلَيْهَا، ثُمَّ سَأَلْتَهُ، وَعَلِمْتَ أَنَّهُ لاَ يَرُدُّ، قَالَ: إِنِّي وَاللَّهِ، مَا سَأَلْتُهُ لِأَلْبَسَهُ، إِنَّمَا سَأَلْتُهُ لِتَكُونَ كَفَنِي، قَالَ سَهْلٌ: فَكَانَتْ كَفَنَهُ

(صحیح بخاری : 1277،کتاب الجنائز ،باب من استعد الکفن فی زمن النبی ﷺ ولم ینکر علیہ ،سنن ابن ماجہ : 3555،کتاب اللباس ،باب لباس رسول اللہ ﷺ)

سید نا سہل رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک عورت نبی ﷺکے پاس بنی ہوئی حاشیہ دار چادرلے کر آئی۔(سھل نے پوچھا:تم جانتے ہو کہ بردہ کیا چیز ہے؟ لوگوں نے کہا کہ شملہ (چادر) سہل نے کہا ہاں۔) اس عورت نے کہا :میں نے اسے اپنے ہاتھوں سے بُنا ہےتاکہ آپﷺ اسے پہنیں۔ نبیﷺ نے اسے لے لیا اور آپ کو اس کی ضرورت بھی تھی۔ پھر آپﷺ اس چادر کوپہنے ہوئے ہمارے پاس تشریف لائے۔ایک شخص نے اس چادر کی تعریف کی اور کہا آپ یہ چادر مجھے دے دیں۔ لوگوں نے کہا کہ تم نے اچھا نہیں کیا کہ نبی ﷺ نےبڑی ضرورت کی حالت میں اسےپہنا تھا اور تم نے اسے مانگ لیا ۔حالانکہ تم جانتےہو کہ آپ ﷺ کسی کے سوال کو رد نہیں فرماتے تھے۔ اس نے کہا :اللہ کی قسم ! میں نے یہ اپنے پہننےکے لئے نہیں مانگی تھی بلکہ اس لئے مانگی تھی کہ(جب میں مروں تو) یہ چادر میرا کفن بن جائے۔ سہل رضی اللہ عنہ فرماتےہیں کہ یہی چادر اس شخص کا کفن بنی۔

اندازہ لگائیے صحابہ کو نبی ﷺ کے پہنے ہوئے لباس سے بھی اس قدر محبت ہوتی تھی کہ اسے اپنا کفن بنالیں ۔

نبیﷺ کے وضو کا پانی اور صحابہ :

صلح حدیبیہ کے موقع پر عروہ بن مسعودثقفی آیا اس نے اپنی آنکھوں سے جو کچھ دیکھا اب وہ مشرکین مکہ سے کچھ ان الفاظ میں بتا رہا ہے ۔

’’میری قوم ! میں کسرٰی ،قیصر ،نجاشی کے پاس گیا ،لیکن اللہ کی قسم ! میں نے ایسا بادشاہ کہ اس کے ساتھی اس کی ایسی تعظیم کرتے ہوں جیسی محمد ﷺکی کرتے ہیں ،نہیں دیکھا۔اللہ کی قسم ! وہ منہ سے کچھ لعاب بھی نکالتے ہیں تو وہ آپ کے ساتھیوں میں سے کسی نہ کسی کی ہتھیلی پر واقع ہوتا ہے اور وہ اسے اپنے چہرے و جسم پرمل لیتے ہیں ،وہ انہیں جو بھی حکم دیں تو اس کی پیروی کرتے ہیں جب بھی محمد ﷺ وضو کریں تو معاملہ ایسا ہوتا ہے کہ قریب ہے کہ وہ آپس میں لڑ پڑیں نبی ﷺ کے وضو کے پانی کے بارے میں ۔جب محمد ﷺ کلام کرتے ہیں تو سب خاموش ہوجاتے ہیں ان کی تعظیم کی وجہ سے ان کی طرف نظر تک نہیں اٹھاتے ۔تحقیق تم پر ہدایت کا راستہ پیش کر لیا گیاہے اسے قبول کر لو ۔‘‘

(صحیح بخاری :2731 ،2732،کتاب الشروط باب الشروط فی الجھاد والمصالحۃ مع اھل الحرب و کتابۃ الشروط )

واضح ہو کہ ایک کافر کی حالت کفر میں دی گئی گواہی ہے کہ صحابہ کرام رسول اللہ ﷺ سے کس قدر محبت کرتے تھے ۔

نبی ﷺ کی زلفوں سے محبت :

عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، قَالَ: قُلْتُ لِعَبِيدَةَعِنْدَنَا مِنْ شَعَرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصَبْنَاهُ مِنْ قِبَلِ أَنَسٍ أَوْ مِنْ قِبَلِ أَهْلِ أَنَسٍ فَقَالَ: لَأَنْ تَكُونَ عِنْدِي شَعَرَةٌ مِنْهُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا.

 (صحیح بخاری : 170،سنن کبری : 13410 )

یعنی : محمد ابن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے عبیدہ (سلمانی) سے کہا: ہمارے پاس نبی ﷺکے چند بال ہیں، جو ہمیں انسtسے، یا کہاکہ: انس رضی اللہ عنہ کے خاندان کی جانب سے حاصل ہوئے ہیں۔ عبیدہ سلمانی نے کہا: میرے پاس آپﷺوسلم کا ایک بال ہونا مجھے دنیا ومافیہا سے زیادہ پسند ہوتا۔“

اس کے تحت حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ صحیح بخاری کی اگلی ہی حدیث میں ہے کہ نبی ﷺ نے جب اپنے بال کٹوائے تھے ،تو سب سے پہلے ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کو دئیے تھے اور سیدنا انس رضی اللہ عنہ ان کے ربیب تھے ،اور یہ بال ابوطلحہ کے ذریعے سے سیدنا انس رضی اللہ عنہ تک پہنچے اور سیرین جو محمد کے والد ہیں وہ انس رضی اللہ عنہ کے غلام تھے۔یہی بال ان تک پہنچے ۔اور پھر سیرین سے ان کے بیٹے محمد تک پہنچے۔ (فتح الباری : 358/1) گویا کہ صحابہ نے نسل درنسل ان کی حفاظت کی اور ان سے تبرک حاصل کیا ۔اور یہ یقیناً محبت رسول ﷺ کی روشن دلیل ہے۔ موجودہ دور میں اس کی زیارت کے حوالے سے تنبیہ آگے آرہی ہے ۔

عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَوْهَبٍ، قَالَ: أَرْسَلَنِي أَهْلِي إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَدَحٍ مِنْ مَاءٍ – وَقَبَضَ إِسْرَائِيلُ ثَلاَثَ أَصَابِعَ مِنْ قُصَّةٍ – فِيهِ شَعَرٌ مِنْ شَعَرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ إِذَا أَصَابَ الإِنْسَانَ عَيْنٌ أَوْ شَيْءٌ بَعَثَ إِلَيْهَا مِخْضَبَهُ، فَاطَّلَعْتُ فِي الجُلْجُلِ، فَرَأَيْتُ شَعَرَاتٍ حُمْرًا

 (صحیح بخاری : 5896 ،کتاب اللباس باب ما یذکر فی الشیب )

یعنی :عثمان بن عبداللہ بن موہب کہتے ہیں کہ مجھے میرے گھر والوں نے ام سلمہ rکے پاس ایک پیالہ دے کر بھیجا، جس میں نبی ﷺ کے بال تھے، جب کسی کو نظر لگ جاتی یا کوئی تکلیف ہوتی ہو وہ ام سلمہ rکے پاس برتن بھیج دیتا، عثمان کا بیان ہے کہ میں نے اس میں جھانک کر دیکھا تو مجھے چند سرخ بال نظر آئے۔

اسی حوالےسے سیدنا معاویہ tنے اپنے بیٹے کو وصیت کی تھی کہ

یا بنیّ؛ انی صَحِبْتُ رسولَ اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم، فخَرَجَ لحاجةٍ، فاتَّبعتُہ باداوة، فکساني أحدَ ثوبیہ الذی کان علی جلدہ، فخبأتہ لہذا الیوم، وأخذَ رسولُ اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم من اظفارہ وشعرہ ذاتَ یوم فأخذتُہ وخبأتہ لہذا الیومِ، فاذا أنامتُّ فاجعل ذلک القمیصَ دونَ کفنی ممّا یلی جلدی، وحُذْ ذلک الشعرَ والأظفارَ فاجعلَہُ في فمي وعلٰی عیني ومواضع السجود مني. (الاستیعاب:473/3)

یعنی : ”اے بیٹے! میں ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ تھا، آپﷺ حاجت کے لیے نکلے، میں چھاگل لے کر آپ ﷺکے پیچھے گیا، (اور وضو کرایا) تو آپ ﷺنے زیب تن کیے ہوئے دو کپڑوں میں سے ایک کپڑا مجھے عنایت فرمایا، وہ میں نے اس دن کے لیے چھپا رکھا تھا۔ (اسی طرح) رسول اللہ ﷺ نے ایک دن اپنے ناخن اور بال کاٹے، تو میں نے انھیں لے لیا تھا اور اس دن کے لیے حفاظت سے رکھ لیا تھا۔ تم اس قمیص کو میرے کفن کے نیچے میرے بدن سے متصل رکھ دینا۔ اور وہ بال اور ناخنِ مبارک لے کر میرے منہ میں اور میری آنکھوں اور سجدہ کی جگہوں پر رکھ دینا۔“

اہم وضاحت :

نبی ﷺ کے بال اور آپ ﷺسے متعلق ہر شے مبارک ہے ۔اور اس میں کوئی دو رائے نہیں۔صحابہ کا اس حوالے سے طریق و منہج واضح ہے ۔لیکن آج کے دور میں جو موئے مبارک کی نمائش کی جاتی ہے ۔ہم اس کے مخالف اس لئے ہیں کہ آج اس بات کا تعین بہت مشکل بلکہ ناممکن ہے کہ یہ بال نبی ﷺ کے ہی ہیں۔کیونکہ نبی ﷺ کےحوالے سے کسی چیز کی بھی نسبت میں انتہائی احتیاط کی ضرورت ہے۔ جیسا کہ صحابہ کرام اور اسلاف نےنبی ﷺ کے قول وعمل کے حوالے سے بڑے احتیاط کئے اصول حدیث وضع کئے۔ تاکہ کوئی جھوٹ گھڑ کر نبی ﷺ کی طرف منسوب نہ کر سکے ۔اور سند کے ذریعے سے صحیح و ضعیف و موضوع احادیث میں فرق کیا ۔اور یہی طرز عمل آپ ﷺ سے متعلق دیگر چیزوں میں تھا ۔لہذا آج کوئی بھی اٹھ کر یہ دعوی کردےکہ یہ فلاں چادر یا فلاںچیز یا یہ بال نبی ﷺ کے ہیں اور ہم اسے بغیر تحقیق کے مان لیں ،تو اس کے اس عمل میں گویا کہ ہم شریک ہوگئے ہیں ۔یہ بات ذہن نشین رہےکہ نبی ﷺ کی طرف غلط بات منسوب کرنے والے کے لئے ہلاکت ہی ہلاکت ہے۔ لہذا ہمیں مطلق طور پر ہر سنی سنائی بات اور بالخصوص شریعت کے حوالے سےاور نبی ﷺ سے متعلق کسی چیز کے حوالے سے محض سنی سنائی بات پر کان نہیں دھرنے چاہییں ،بلکہ تحقیق کرنی چاہئے ۔چنانچہ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے:

’’كَفَى بِالْمَرْءِ كَذِبًا أَنْ يُحَدِّثَ بِكُلِّ مَا سَمِعَ‘‘

(صحیح مسلم : 5)

لہذا موئے مبارک کی نمائش کے نام پر لوگوں کے مال و عصمت سے سلوکِ بد قطعاً جائز نہیں ۔نیز ایسی محافل میں مرد و زن کا اختلاط و دیگر برائیاں ہوتی ہیں، جو خلاف شریعت ہیں اور جن سےبچنا فرض ہے ۔خلاصہ یہ ہے کہ موئے مبارک کے حوالے سے موجودہ مروجہ طریق کی شرعاً کوئی حیثیت نہیں ۔

نبی ﷺ کے پسینہ سے محبت :

  عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْخُلُ بَيْتَ أُمِّ سُلَيْمٍ فَيَنَامُ عَلَى فِرَاشِهَا، وَلَيْسَتْ فِيهِ، قَالَ: فَجَاءَ ذَاتَ يَوْمٍ فَنَامَ عَلَى فِرَاشِهَا، فَأُتِيَتْ فَقِيلَ لَهَا: هَذَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَامَ فِي بَيْتِكِ، عَلَى فِرَاشِكِ، قَالَ فَجَاءَتْ وَقَدْ عَرِقَ، وَاسْتَنْقَعَ عَرَقُهُ عَلَى قِطْعَةِ أَدِيمٍ، عَلَى الْفِرَاشِ، فَفَتَحَتْ عَتِيدَتَهَا فَجَعَلَتْ تُنَشِّفُ ذَلِكَ الْعَرَقَ فَتَعْصِرُهُ فِي قَوَارِيرِهَا، فَفَزِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: مَا تَصْنَعِينَ؟ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ ! فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ نَرْجُو بَرَكَتَهُ لِصِبْيَانِنَا، قَالَ: أَصَبْتِ

(صحیح مسلم :2331،مسند احمد : 13310)

یعنی : انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺام سلیم rرضی اللہ عنہا کے گھر تشریف لاتے، تو ام سلیمr کے بستر پر سو جاتے۔ اور ام سلیم رضی اللہ عنہا وہاں نہ ہوتیں۔ راوی انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دن آپ ﷺ تشریف لائے تو ام سلیم رضی اللہ عنہا کے بستر پر سو گئے۔ ام سلیم رضی اللہ عنہا آئیں ،تو ان سے لوگوں نے کہا کہ نبی ﷺ آپ کے گھر میں آپ کے بستر پر سو رہے ہیں۔ راوی کہتے ہیں کہ ام سلیم  رضی اللہ عنہا اندر آئیں تو دیکھا کہ آپ ﷺ کو پسینہ آ رہا ہے اور آپﷺکا پسینہ مبارک چمڑے کے بستر پر جمع ہو رہا ہے، تو ام سلیم رضی اللہ عنہا نے ایک ڈبیہ کھولی اور آپ ﷺ کا پسینہ مبارک پونچھ پونچھ کر اس میں ڈالنے لگیں تو نبی ﷺ گھبرا گئے اور فرمانے لگے: اے ام سلیم !یہ کیا کر رہی ہو؟ام سلیم رضی اللہ عنہا نے جواب دیا: اے اللہ کے رسولﷺ! ہم اپنے بچوں کے لئے اس پسینے سے برکت کی امید رکھتے ہیں۔ آپ ﷺنے فرمایا: تو ٹھیک کر رہی ہے۔

بعض روایات میں ہے کہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے جواب دیا کہ میں اسے خوشبو کے طور پر استعمال کرنے کے لئے جمع کر رہی ہوں۔ بلکہ ام سلیم rنے اسے اطیب الطیب (سب سے اچھی خوشبو )کہا۔

(صحیح مسلم :2331 ،سنن نسائی : 5371)

ام سلیم رضی اللہ عنہا اپنی خوشبو میں نبی ﷺ کے بالوں کو بھی ملاتی تھیں ۔(مسند احمد : 12483)

خلاصہ یہ ہے کہ صحابہ کرام کس درجہ نبی ﷺ کی ذات سے محبت کرتے تھے ،کہ آپ کا چہرہ ،آپ کی زلفوں سے پیار ،آپ کے مستعمل پانی سے پیار ،آپ کے لعاب سے پیار ،آپ کے مستعمل لباس سے پیار۔ ان سب کی مثالیں گزر چکی ہیں ۔مزید تتبع سے بے شمار مثالیںاس حوالے سے مل جائیں گی ،ہم نے صرف چند پیش کردیں۔ جن سے بخوبی سمجھا جا سکتا ہے کہ صحابہ کو آپ کی ذات سے کتنا پیار تھا۔

نبی ﷺ کے قول و عمل سے محبت :

جس طرح نبی ﷺ کی ذات سے محبت ضروری ہے اور جزو ایمان ہے ۔اسی طرح نبی ﷺ کے قول و عمل سے محبت بھی جزو ایمان ہے اور اگر ایک شخص نبی ﷺ کی ذات سے محبت کرتا ہے۔لیکن اس کے دل میں پیغمبر ﷺ کے عمل سے کوئی خاص لگاؤ نہیں ۔تو ایسے شخص کو صرف بظاہر نبی ﷺ کی ذات سے محبت کوئی فائدہ نہ دے گی ۔اس بات کو دوسرے لفظوں میں یوں کہہ لیجئے کہ کسی شخص کا نبی ﷺ سے محبت کا دعوی اسی معیار پرہی پرکھا جا سکتا ہےکہ اسے نبی ﷺ کے قول و عمل سے کس قدر محبت ہے اور اگر وہ اس معیار میں پورا نہیں اترتا ،بلکہ فرمان رسول ﷺپر قول غیر کو ترجیح دیتا ہے ۔تو اس کا واضح سا مطلب یہ ہے کہ اس کا محبت کا دعوی محض کھوکھلا اور بودا ہے ۔جبکہ صحابہ کرام کی جس طرح ذات سے محبت کے بے مثال واقعات گزر چکے ہیں ،اسی طرح صحابہ نبی ﷺ کے قول و عمل سے بھی پیار کرتے تھے ۔نصوص شریعہ میں پیغمبر ﷺ کے قول و عمل کی اہمیت کو مختلف انداز سے بیان کیاگیا کہیں اللہ تعالیٰ نےآپ ﷺ کے قول اور زندگی کی قسم کھائی : جیساکہ فرمان الٰہی ہے :

 [ وَقِيْلِهٖ يٰرَبِّ اِنَّ هٰٓؤُلَاۗءِ قَوْمٌ لَّا يُؤْمِنُوْنَ]  (الزخرف :88)

یعنی :اور قسم ہے رسول ﷺکے اس قول کی کہ: اے میرے پروردگار اب یہ ایسے لوگ ہیں جو کبھی ایمان نہ لائیں گے۔

 اسی طرح عمر کی قسم کھائی :

 [لَعَمْرُكَ اِنَّهُمْ لَفِيْ سَكْرَتِهِمْ يَعْمَهُوْنَ     (الحجر :72)

یعنی :(اے نبی )! آپکی عمر کی قسم! اس وقت وہ اپنی مستی میں دیوانے ہو رہے تھے۔

ان دونوں آیات میں آپ ﷺکی پوری عمر اور اور آپﷺ کے قول کی قسم کھا کر اللہ تعالیٰ نےاس کی عظمت و شان و رفعت کو بیان کیا ہے۔ اور ساتھ ہی یہ بھی واضح ہوگیا کہ آپﷺ کی عمر کا ہر لمحہ انسانیت کے لئے ضابطہ حیات ہے ۔اسی لئے فرمایا:

[لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِمَنْ كَانَ يَرْجُو اللّهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ وَذَكَرَ اللّهَ كَثِيرًا](الأحزاب: 21)

یعنی :(مسلمانو!) تمہارے لئےاللہ کے رسول ﷺ(کی ذات) میںبہترین نمونہ ہے، جو بھی اللہ اور یوم آخرت کی امید رکھتا ہو اور اللہ کو بکثرت یاد کرتا ہو ۔

معلوم ہواکہ اللہ کے رسول ﷺ کے عمل کو نمونہ بنا دیاگیاہے۔ اور اس کی اتباع اور پیروی کو لازم پکڑنےکا حکم بھی دیگر نصوص میں دے دیا گیا ۔چناچہ ارشاد باری تعالی ہے :

[وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلاَ مُؤْمِنَةٍ إِذَا قَضَى اللهُ وَرَسُولُهُ أَمْرًا أَنْ يَكُونَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ مِنْ أَمْرِهِمْ وَمَنْ يَعْصِ اللهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ ضَلَّ ضَلاَلاً مُبِينًا] (الأحزاب: 36)

یعنی : کسی مومن مرد اور مومن عورت کو یہ حق نہیں کہ جب اللہ اور اس کا رسول کسی کام کا فیصلہ کر دے تو ان کے لئے اپنے معاملہ میں کچھ اختیار باقی رہ جائے اور جو اللہ اور اسکے رسول کی نافرمانی کرے تو وہ یقینا صریح گمراہی میں جا پڑا۔

اسی طرح فرمایا:

[قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِيْ يُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ ۭوَاللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ] (آل عمران : 31)

یعنی : آپﷺ کہہ دیجئے: کہ اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری پیروی کرو ۔ اللہ خود تم سے محبت کرنے لگے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا اور اللہ بہت بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔

اسی طرح ایک مقام پر فرمایا:

 [قُلْ أَطِيعُوا اللهَ وَالرَّسُولَ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّ اللَّهَ لاَ يُحِبُّ الْكَافِرِينَ   ](آل عمران: 32)

یعنی: آپﷺ ان سے کہہ دیجئے کہ: اللہ کی اور اس کے رسول کی اطاعت کرو پھر اگر وہ یہ دعوت قبول نہ کریں تو اللہ ایسے کافروں کو پسند نہیں کرتا۔

اسی طرح ایک اور مقام پر فرمایا:

[وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا وَاتَّقُوا اللّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ](الحشر: 7)

یعنی : اور جو کچھ تمہیں رسولﷺ دے دیں، وہ لے لو اور جس سے روکیں اس سے رک جاؤ۔ اور اللہ سے ڈرتے رہو ۔ اللہ تعالیٰ یقینا سخت سزا دینے والا ہے۔

اسی طرح سورہ نساء میں فرمایا:

[وَمَنْ يُطِعِ اللّهَ وَرَسُولَهُ يُدْخِلْهُ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا وَذَلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ * وَمَنْ يَعْصِ اللهَ وَرَسُولَهُ وَيَتَعَدَّ حُدُودَهُ يُدْخِلْهُ نَارًا خَالِدًا فِيهَا وَلَهُ عَذَابٌ مُهِينٌ] (النساء: 13،14)

جو شخص اللہ اور اس کے رسولﷺ کی اطاعت کرے گا، اللہ تعالیٰ اسے ایسے باغات میں داخل کرے گا، جن کے نیچے نہریں جاری ہیں، وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے اور یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔ اور جو اللہ اور اس کے رسول ﷺکی نافرمانی کرے اور اللہ تعالیٰ کی حدود سے آگے نکل جائے اللہ اسے دوزخ میں داخل کرے گا جس میں وہ ہمیشہ رہے گا اور اسے رسوا کرنے والا عذاب ہوگا۔

اسی طرح سورہ نساءہی میں ایک جگہ فرمایا

[مَنْ يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللّهَ](النساء :80)

یعنی : جس کسی نے رسول ﷺکی اطاعت کی تو اس نے اللہ کی اطاعت کی۔

اللہ تعالی نے نبی ﷺ کے قول و عمل کو سینے سے لگانے والے متبعین کے لئے اپنی خصوصی نصرت کی بھی نوید سنائی :

ارشاد باری تعالی ہے :

[يٰٓاَيُّھَا النَّبِيُّ حَسْبُكَ اللّٰهُ وَمَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ]

(الانفال :64)

یعنی:اے نبیﷺ ! آپ کے لئے اور ان مومنوںکے لئے جو آپ کے حکم پر چلتے ہیں اللہ ہی کافی ہے۔

آج اس پر فتن دور میں بھی پیغمبر ﷺ کے متبعین مختلف قسم کی مخالفتوں اور صعوبتوں سے دوچار ہیں ۔انہیں صبر و ثبات سے کام لینا چاہئے ،نیز اس آیت اور اس طرح کی دیگر آیات جن میں مومنین کے لئے تسلی کا پہلوموجودہے اور مختلف قسم کی نویدیں اور بشارتیں دی گئی ہیں ،انہیں پڑھے ،یہ آیات بڑے اطمینان و سکون اور دلی راحت کا سبب ہیں ۔

ان ادلہ سے نبی ﷺ کے قول و عمل کو لازم پکڑنے کی اہمیت واضح ہوگئی ۔یہی وجہ ہےکہ صحابہ نے جس طرح آپ کی ذات سے محبت کی عمدہ مثالیں قائم کیں۔اسی طرح قول و عمل سے کس حد تک محبت کی ؟؟ اس کے چند نمونے ذیل میں پیش کئے جا رہے ہیں ۔

نبی ﷺ کے  قول و عمل سے عملی محبت کے مظاہر :

اس عنوان کے تحت نبی ﷺسے فرامین اور افعال سے محبت کے قصص بیان کئے جاتے ہیں ۔

سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے مسکرانے کی وجہ :

 سید نا علی رضی اللہ عنہ کے لئے ایک سواری لائی گئی تاکہ اس پر سوار ہوں۔ جب انہوں نے اپنا پاؤں رکاب میں رکھا تو فرمایا :بسم اللہ، جب اس کی پیٹھ پر بیٹھ گئے تو فرمایا:الحمدللہ، پھر کہا:  {سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ وَإِنَّا إِلَى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ} پھر تین مرتبہ الحمدللہ کہا۔ اس کے بعد تین مرتبہ اللہ اکبر کہا۔ پھر کہا: سُبْحَانَكَ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي فَاغْفِرْ لِي، فَإِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ۔پھر سید نا علی رضی اللہ عنہ ہنس پڑے۔ لوگوں نے پوچھا: امیرالمومنین! آپ کس بات پر ہنسے؟ انہوں نے کہا : میں نے جناب رسول اللہ ﷺ کو ایسا ہی کرتے دیکھا تھا ،جیسا کہ میں نے اس وقت کیا، جب رسول اللہ ﷺہنسے تھے تو میں نے بھی آپﷺ سے یہی پوچھا تھا کہ اے اللہ کے رسول!ﷺ آپ کس بات پر ہنسے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: تیرا رب اپنے بندے سے خوش ہوتا ہے جب وہ کہتا ہے میرے گناہ بخش دے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اس کے سوا کوئی گناہ معاف نہیں کر سکتا۔

(سنن ابو داؤد : 2602 ،جامع ترمذی : 3446 ،وقال حسن صحیح ،مسند احمد : 753 ،صححہ الالبانی)

انس کا کدو (سبزی) پسند کرنا :

انس بن مالکرضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :

 انَّ خَيَّاطًا دَعَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِطَعَامٍ صَنَعَهُ، قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ: فَذَهَبْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى ذَلِكَ الطَّعَامِ، فَقَرَّبَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُبْزًا وَمَرَقًا، فِيهِ دُبَّاءٌ وَقَدِيدٌ، فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَتَبَّعُ الدُّبَّاءَ مِنْ حَوَالَيِ القَصْعَةِ ، قَالَ:فَلَمْ أَزَلْ أُحِبُّ الدُّبَّاءَ مِنْ يَوْمِئِذٍ

(صحیح بخاری : 2092،کتاب البیوع ،باب فی ذکر الخیاط، صحیح مسلم : 2041،سنن ابی داؤد : 3782،جامع ترمذی : 1850)

یعنی : سید نا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک درزی نے نبیﷺ کی دعوت کی۔ انس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں بھی آپ ﷺکے ساتھ گیا،آپ کے سامنے کھانا پیش کیاگیا،سالن میں گوشت اور کدو اکٹھے تھے۔ میں نے دیکھا کہ آپ ﷺبرتن سے کدوتلاش کرکے نکال رہے ہیں۔اسی دن سے میں بھی کدو پسند کرنے لگا۔

صحابی نے انگوٹھی نہیں اٹھائی:

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ فِي يَدِ رَجُلٍ، فَنَزَعَهُ فَطَرَحَهُ، وَقَالَ: يَعْمِدُ أَحَدُكُمْ إِلَى جَمْرَةٍ مِنْ نَارٍ فَيَجْعَلُهَا فِي يَدِهِ،فَقِيلَ لِلرَّجُلِ بَعْدَ مَا ذَهَبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: خُذْ خَاتِمَكَ انْتَفِعْ بِهِ، قَالَ: لَا وَاللهِ، لَا آخُذُهُ أَبَدًا وَقَدْ طَرَحَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

(صحیح مسلم :2090،کتاب اللباس ،صحیح ابن حبان : 15، کتاب الاسراء،سنن کبری للبیھقی : 4214 )

یعنی : سید نا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے ایک آدمی کے ہاتھ میں سونے کی انگوٹھی پہنے ہوئے دیکھی۔ آپﷺنے وہ انگوٹھی اتار کر پھینک دی اور فرمایا :کیا تم میں سے کوئی آدمی چاہتا ہے کہ وہ اپنے ہاتھ میں دوزخ کا انگارہ رکھ لے ۔رسول اللہ ﷺکے تشریف لے جانے کے بعد اس آدمی سے کہا گیا کہ اپنی انگوٹھی پکڑ لو اور اس سے فائدہ اٹھاؤ۔(یعنی تم پر حرام ہے عورت استعمال کرسکتی ہے یابیچ سکتے ہو۔) وہ آدمی کہنے لگا :نہیں، اللہ کی قسم! میں اسے کبھی بھی ہاتھ نہیں لگاؤں گا، جس کو رسول اللہ ﷺ نے پھینک دیا ہو۔

عبداللہ بن مسعود اور حکم رسول ﷺ:

عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: لَمَّا اسْتَوَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، قَالَ: اجْلِسُوا، فَسَمِعَ ذَلِكَ ابْنُ مَسْعُودٍ، فَجَلَسَ عَلَى بَابِ الْمَسْجِدِ، فَرَآهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: تَعَالَ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ

(سنن ابوداؤد : 1091،سنن کبری بیھقی : 5749 ،صححہ الالبانی )

یعنی : سید نا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ جمعہ کے دن رسول اللہ ﷺ (خطبہ دینے کے لیے) منبر پر تشریف لائے تو فرمایا : بیٹھ جاؤ۔سیدنا عبد اللہ ابن مسعودرضی اللہ عنہ نے سُنا تو مسجد کے دروازے پر ہی بیٹھ گئے۔رسول اللہ ﷺنے دیکھا تو فرمایا: عبد اللہ! مسجد کے اندر آ کے بیٹھو ۔

نبی ﷺکے فرمان کی وجہ سےبنو تمیم سے محبت ہوگئی :

 سیدنا ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں بنو تمیم سے کوئی خاص لگاؤ نہیں رکھتا تھا ،لیکن جب سے میں نے نبی ﷺ بنو تمیم سے متعلق تین باتیں سنیں،(پھر ان تین باتوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا)میں نے آپ ﷺ کو ان لوگوں کے متعلق فرماتے ہوئے سنا کہ وہ میری امت میں دجال کے لئے بہت زیادہ سخت ہوں گے ،ایک بار بنی تمیم کے صدقات آئے، تونبیﷺ نے فرمایا :یہ ہماری قوم کے صدقات ہیں اور(تیسری بات یہ ہے کہ ) بنی تمیم کی ایک عورت عائشہrکے پاس قید ہو کر آئی تونبیﷺ نے فرمایا کہ اسے آزاد کر دو ،اس لئے کہ وہ سیدنااسماعیل uکی اولاد میں سے ہے۔

(صحیح بخاری :2543 ، کتاب العتق بَابُ مَنْ مَلَكَ مِنَ العَرَبِ رَقِيقًا، فَوَهَبَ وَبَاعَ وَجَامَعَ وَفَدَى وَسَبَى الذُّرِّيَّةَ،صحیح مسلم : 2525)

فائدہ : اس حدیث سے واضح ہوگیا کہ جیسے ہی ابوہریرہt کے علم میں یہ بات آئی کہ بنو تمیم نبی ﷺ کی قوم میں سے ہیں ۔اس وقت سے ہی ابوہریرہ tنے بنو تمیم سے محبت کرنا شروع کردی ۔یعنی نبی ﷺ سے ایسی محبت کہ آپ کی قوم سے بھی محبت کی جائے۔ یہاں ہمیں اپنے استاذمحترم الشیخ عبداللہ ناصر رحمانی حفظہ اللہ اور سید بدیع الدین شاہ الراشدی رحمہ اللہ کا ایک مشاہدہ قابل ذکر ہے ۔اس حدیث کو سامنے رکھتے ہوئے ان دونوں شخصیات نے مختلف علماءاور دیگر لوگ جن کا تعلق بنو تمیم سے تھا ،ملاقات کی اور سب کا عقیدہ وہی تھا جو اہل حدیث کا عقیدہ ہے ۔تو گویا کہ یہ حدیث اور بنو تمیم کا وجود یہ مسلک اہل حدیث کی حقانیت کی دلیل ہے ،کیونکہ نبی ﷺ نے بنوتمیم کے حوالے سے یہ پیشین گوئی کی کہ یہ لوگ دجال کے مقابلے میں بڑے سخت ہوں گے ۔

معاویہ بن قرۃ اور ان کے بیٹے کے ہمیشہ بٹن کھلے رکھنے کی وجہ :

 مُعَاوِيَةُ بْنُ قُرَّةَ، حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ:أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَهْطٍ مِنْ مُزَيْنَةَ، فَبَايَعْنَاهُ، وَإِنَّ قَمِيصَهُ لَمُطْلَقُ الْأَزْرَارِ قَالَ: فَبَايَعْتُهُ ثُمَّ أَدْخَلْتُ يَدَيَّ فِي جَيْبِ قَمِيصِهِ، فَمَسِسْتُ الْخَاتَمَ قَالَ عُرْوَةُ: فَمَا رَأَيْتُ مُعَاوِيَةَ وَلَا ابْنَهُ قَطُّ، إِلَّا مُطْلِقَيْ أَزْرَارِهِمَا فِي شِتَاءٍ وَلَا حَرٍّ، وَلَا يُزَرِّرَانِ أَزْرَارَهُمَا أَبَدً

(سنن ابی داؤد : 4082 ،کتاب اللباس ،باب فی حل الازار،مسند احمد : 15581 )

معاویہ بن قرہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ وہ فرماتے ہیں کہ میں بنو مزینہ کی ایک جماعت کے ساتھ نبی اکرمﷺ کے پاس حاضر ہوا۔ ہم نے نبی ﷺ کے ہاتھ پر بیعت کی۔ آپ کی قمیص کا گریبان کھلا ہوا تھا۔ میں نے بیعت کرنے کے بعد اپنا ہاتھ آپﷺ کی قمیص میں ڈال دیا تو میں نے خاتم نبوت (جو آپ کی گردن سے ذرا نیچے تھی) کو ہاتھ سے مس کیا۔ عروہ بن عبداللہ  (جو اس حدیث کے راوی ہیں) کہتے ہیںکہ میں نےمعاویہ بن قرہ (تابعی)کو اور ان کے بیٹے (ابو ایاس )کو سردی و گرمی میں بٹن کھلے رکھے ہی دیکھا۔

ابن عمر کا نبی ﷺ کی بات کی مخالفت دیکھ کر اپنے بیٹے سے ناراضگی کا اظہار کرنا :

 أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: لَا تَمْنَعُوا نِسَاءَكُمُ الْمَسَاجِدَ إِذَا اسْتَأْذَنَّكُمْ إِلَيْهَا قَالَ: فَقَالَ بِلَالُ بْنُ عَبْدِ اللهِ: وَاللهِ لَنَمْنَعُهُنَّ، قَالَ: فَأَقْبَلَ عَلَيْهِ عَبْدُ اللهِ: فَسَبَّهُ سَبًّا سَيِّئًا مَا سَمِعْتُهُ سَبَّهُ مِثْلَهُ قَطُّ وَقَالَ:’’ أُخْبِرُكَ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَقُولُ: وَاللهِ لَنَمْنَعُهُنَّ ‘‘

(صحیح مسلم : 442،کتاب الصلوۃ ،باب خروج النساء الی المساجد اذا لم یترتب علیہ فتنۃ ،و انھا لا تخرج مطیبۃ ،سنن الدارمی : 456 ،صحیح ابن حبان : 2213 )

یعنی : عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہ فرماتےہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا انہوں نے فرمایا: تمہاری عورتیں جب مساجد جانے کی اجازت مانگیں تو تم اپنی عورتوں کو مساجد سے نہ روکو ۔ بلال بن عبداللہ نے کہا:اللہ کی قسم! ہم ان کو ضرور منع کریں گے۔ جس پر عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے ان پر اس قدر سخت ناراضگی کا اظہار کیا کہ اتنا کسی پر ناراض نہ ہوئے تھے ۔اور فرمایا میں تجھ کو رسول اللہ ﷺکے فرمان کی خبر دیتا ہوں اور تو کہتا ہے کہ ہم ان کو ضرور منع کریں گے۔

عبداللہ بن مغفل کا نبی ﷺ کی بات کی مخالفت کی وجہ سے قطع تعلقی کرنا :

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُغَفَّلٍ: أَنَّهُ رَأَى رَجُلًا يَخْذِفُ، فَقَالَ لَهُ: لاَ تَخْذِفْ، فَإِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الخَذْفِ، أَوْ كَانَ يَكْرَهُ الخَذْفَ وَقَالَ:إِنَّهُ لاَ يُصَادُ بِهِ صَيْدٌ وَلاَ يُنْكَى بِهِ عَدُوٌّ، وَلَكِنَّهَا قَدْ تَكْسِرُ السِّنَّ، وَتَفْقَأُ العَيْنَ ثُمَّ رَآهُ بَعْدَ ذَلِكَ يَخْذِفُ، فَقَالَ لَهُ: أُحَدِّثُكَ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ نَهَى عَنِ الخَذْفِ أَوْ كَرِهَ الخَذْفَ، وَأَنْتَ تَخْذِفُ لاَ أُكَلِّمُكَ كَذَا وَكَذَا

(صحیح بخاری :5479  ،کتاب الذبائح والصید باب الخذف والبندقۃ ،صحیح مسلم : 1954،کتاب الصید والذبائح و ما یؤکل من الحیوان ،سنن الدارمی : 453 ،المقدمۃ ،باب تعجیل عقوبۃ من بلغہ عن النبی ﷺحدیث فلم یعظمہ و لم یؤقرہ)

عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ نے ایک آدمی کو کنکری پھینکتے ہوئے دیکھا تو انہوں نے فرمایا کنکری نہ پھینک ۔کیونکہ آپ ﷺکنکری پھینکنے سے منع فرماتے تھے یارسول اللہﷺ اسے ناپسند کرتے تھے۔ کیونکہ اس سے نہ شکار کیا جاتا ہے اور نہ ہی اس سے دشمن مرتا ہے۔ لیکن اس سے دانت ٹوٹ جاتا ہے یا آنکھ پھوٹ جاتی ہے۔ سیدنا عبداللہ بن مغفل tنے اس کے بعد پھر اسے کنکری پھینکتے دیکھا تو اس سے فرمایا کہ میں تجھے رسول اللہ ﷺکی حدیث سناتا ہوں کہ آپ ﷺ اسے ناپسند سمجھتے تھے یا کنکری پھینکنے سے منع فرماتے تھے۔ اور اس کےباوجودتم کنکری پھینک رہے ہو ۔میں تجھ سے کبھی بھی بات نہیں کروں گا۔

یہ ہے حقیقی محبت !کہ لوگوں سے قطع تعلقی کی بنیاد پیغمبر ﷺ کی مخالفت ہے۔

 نبیﷺ کے قول و عمل سے محبت نجات کا ذریعہ :

جب سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو سیدنا ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ نے ایک قوم کی اطلاع دی کہ میں نے مسجد میں کچھ لوگوں کو دیکھا ہےکہ وہ حلقے بنا کر بیٹھے ہوئے ہیں اور نماز کا انتظار کر رہے ہیں۔ ان میں سے ہر ایک حلقے میں ایک شخص ہے ،جس کے سامنے کنکریاں موجود ہیں اور وہ شخص یہ کہتا ہے :سو مرتبہ اللہ اکبر پڑھو۔ تو لوگ سو مرتبہ اللہ اکبر پڑھتے ہیں۔ پھر وہ شخص کہتا ہے :سو مرتبہ لاالہ الا اللہ پڑھو۔ لوگ سو مرتبہ یہ پڑھتے ہیں۔ پھر وہ شخص کہتا ہے: سومرتبہ سبحان اللہ پڑھو ،تو لوگ سبحان اللہ پڑھتے ہیں۔اور پھر عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ ، سیدنا ابو موسی اشعریرضی اللہ عنہ ے ساتھ مسجد کی جانب چل پڑے ۔عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ ان حلقوں میں سے ایک حلقے کے پاس تشریف لائے۔ اور ان کے پاس کھڑے ہو کر فرمایا: یہ میں تمہیں کیا کرتے ہوئے دیکھ رہاہوں۔ انہوں نے جواب دیا :اے ابوعبدالرحمن! یہ کنکریاںہیں، جن پر ہم لا الہ الا اللہ اور سبحان اللہ شمارکر کےپڑھ رہے ہیں ۔سیدنا عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا :تم اپنے گناہوں کو شمار کرو۔میں اس بات کی ضمانت دیتا ہوں کہ تمہاری نیکیوں میں سے کوئی چیز ضائع نہیں ہوگی۔ اے امت محمدیہ ﷺ! تم کتنی تیزی سے ہلاکت کی طرف جا رہے ہو، یہ تمہارے نبی اکرم ﷺکے صحابہ ،تمہارے درمیان بکثرت تعداد میں موجود ہیں۔ اورابھی تو یہ نبی اکرم ﷺ کے کپڑےبھی پرانے نہیں ہوئے اور نبی ﷺکے برتن بھی ٹوٹے نہیں ہیں۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! کیاتم ایسے طریقے پر ہو جو نبیﷺکے طریقے سے زیادہ ہدایت یافتہ ہے؟ یا پھر تم گمراہی کا دروازہ کھولنا چاہتے ہو۔ لوگوں نے عرض کی: اللہ کی قسم! اے ابوعبدالرحمن، ہمارا ارادہ صرف نیک ہے۔ سیدنا عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ نے فرمایا :کتنے نیکی کے خواہش مند ایسے ہیں جو نیکی نہیں کرتے۔ نبی اکرم ﷺکا فرمان ہے کہ کچھ لوگ قرآن پڑھیں گے، لیکن وہ قرآن ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا ۔اور اللہ کی قسم! مجھےنہیں معلوم !کہ ان میں سے اکثریت تم لوگوں کی ہو۔ پھر عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ ان کے پاس سے اٹھ کرچلےگئے۔

 عمرو بن سلمہ بیان کرتے ہیں: ہم نے ان میں سے اکثر کو دیکھا،کہ انہوں نے نہروان کی جنگ میں خوارج کے ساتھ مل کر ہمارے ساتھ مقابلہ کیا۔(سنن الدارمی : 210)

 عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: ’’ كَانَ مَنْ مَضَى مِنْ عُلَمَائِنَا يَقُولُونَ: الِاعْتِصَامُ بِالسُّنَّةِ نَجَاةٌ، وَالْعِلْمُ يُقْبَضُ قَبْضًا سَرِيعًا، فَنَعْشُ الْعِلْمِ ثَبَاتُ الدِّينِ وَالدُّنْيَا، وَفِي ذَهَابِ الْعِلْمِ ذَهَابُ ذَلِكَ كُلِّهِ  ‘‘(سنن الدارمی : 97)

یعنی : امام زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہمارے اسلاف یہ کہا کرتے تھے کہ سنت کو مضبوطی سے تھامے رکھنا ہی نجات ہے اور علم کو بڑی تیزی سے قبض کر لیا جائے گا علم کو برقرار رکھنا دین اور دنیا کوثابت رکھنے کے مترادف ہے اور علم کی رخصتی میں ان سب (دین ودنیا کی نعمتوں) کی رخصتی ہے ۔

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الدَّيْلَمِيِّ، قَالَ: بَلَغَنِي أَنَّ أَوَّلَ ذَهَابِ الدِّينِ تَرْكُ السُّنَّةِ، يَذْهَبُ الدِّينُ سُنَّةً سُنَّةً، كَمَا يَذْهَبُ الْحَبْلُ قُوَّةً قُوَّةً

(سنن الدارمی :98 ،شرح اصول اعتقاد للالکائی : 127)

یعنی : عبداللہ بن دیلمی بیان کرتے ہیں مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ دین میں سب سے پہلے سنت کو ترک جائے گا۔ ایک ایک سنت کر کے دین اس طرح رخصت ہوگا جیسے کوئی رسی ایک ایک دھاگہ کرکے ٹوٹ جاتی ہے ۔

نبی ﷺ کے قول وعمل کے مقابلے میں کسی دوسرے کی بات کی حیثیت :

 أَنَّ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللهِ، حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ رَجُلاً مِنْ أَهْلِ الشَّامِ، وَهُوَ يَسْأَلُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ عَنِ التَّمَتُعِ بِالعُمْرَةِ إِلَى الحَجِّ؟ فَقَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ: هِيَ حَلاَلٌ، فَقَالَ الشَّامِيُّ: إِنَّ أَبَاكَ قَدْ نَهَى عَنْهَا، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ: أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ أَبِي نَهَى عَنْهَا وَصَنَعَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَأَمْرَ أَبِي نَتَّبِعُ؟ أَمْ أَمْرَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، فَقَالَ الرَّجُلُ: بَلْ أَمْرَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: لَقَدْ صَنَعَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

(جامع ترمذی : 824 ،ابواب الحج ،باب ما جاء فی التمتع )

یعنی : سالم بن عبداللہ نے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے ایک شامی کو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سےحج تمتع (حج کے ساتھ عمرے کو ملانے) کے متعلق سوال کرتے ہوئے سنا۔ عبداللہ بن عمرt نے فرمایا :یہ جائز ہے ۔شامی نے کہا :آپ کے والد (عمر بن خطاب)نے اس سے منع کیا ہے۔ ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: دیکھو ! اگر میرے والد کسی کام سے منع کریں اور رسول اللہ ﷺ وہی کام کریں، تو میرے والد کی اتباع کی جائے گی یا رسول اللہﷺکی؟ شامی نے کہا : نبی ﷺ کی بات کوحتمی طور پر مانا جائے گا ۔ ابن عمر tنے فرمایا:تو بس پھر! رسول اللہ ﷺنے حج تمتع کیا ہے ۔

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ نےحقِ محبت نبھاتے ہوئے کتنا عمدہ جواب دیا کہ حتمی طور پر نبی ﷺ کی ہی مانی جائے گی کیونکہ وحی آپ ﷺ پر نازل ہوئی ہے ،نہ کہ عمر رضی اللہ عنہ پر ۔اندازہ لگائیں جب نبی ﷺ کی بات کے مقابلے میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی بات کو رد کیا جا سکتا ہے تو پھر کسی امام کی یا آج کے کسی عالم کی بات کیا حیثیت رکھتی ہے ؟اگر یہ نکتہ کما حقہ اہل تقلید کی سمجھ میں آجائے تو آج جو تقلیدی جمود نظر آتا ہے ،بلکہ اس کی بنیاد پر احادیث رسول ﷺ کے ساتھ جو سلوک کیا جاتا ہے ،یہ سب کچھ نہ ہو ۔

عَنْ مَرْوَانَ بْنِ الحَكَمِ، قَالَ: شَهِدْتُ عُثْمَانَ، وَعَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا وَعُثْمَانُ يَنْهَى عَنِ المُتْعَةِ، وَأَنْ يُجْمَعَ بَيْنَهُمَا،فَلَمَّا رَأَى عَلِيٌّ أَهَلَّ بِهِمَا، لَبَّيْكَ بِعُمْرَةٍ وَحَجَّةٍ، قَالَ:مَا كُنْتُ لِأَدَعَ سُنَّةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِقَوْلِ أَحَدٍ

(صحیح بخاری :1563  ،کتاب الحج باب التمتع والاقران والافراد صحیح مسلم : 1223،سنن النسائی : 2723،واللفظ للبخاری )

یعنی :مروان بن حکم کہتے ہیں کہ میں موجود تھاکہ جب عثمان اور علی  رضی اللہ عنہما  کے پاس موجود تھا۔ عثمان رضی اللہ عنہ حج تمتع اور قران سے منع کرتے تھے ،جب علی رضی اللہ عنہ نے دیکھا، تو حج اور عمرہ دونوں کا احرام باندھا ۔پھرفرمایا کہ کسی ایک شخص کی بات پر میں نبیﷺ  کی سنت کو نہیں چھوڑ سکتا۔

نبی ﷺ کی ذات و بات سے محبت کا صلہ :

 سیدناانس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے نبی اکرم ﷺسے پوچھا :متی الساعۃ ؟ قیامت کب قائم ہوگی؟جواب میں آپ ﷺنے ارشاد فرمایا: وما اعددت لہا؟یعنی:تونے اسکے لیے کیا تیار ی کر رکھی ہے ؟ (جواب میں) اس نے کہا: لاشیٔ الا انی احب اللہ و رسولہ صلّی اللہ علیہ وسلم، یعنی اور تو کچھ نہیں! مگر یہ کہ میں بلاشک و تردد اللہ اور اس کے رسول ﷺسے محبت رکھتا ہوں۔ (اس کا یہ جواب سن کر) رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا :انت مع احببت یعنی :جسے تو محبوب رکھتا ہے (کل قیامت کے دن) اسی کے ساتھ ہوگا۔ راوی حدیث انس tفرماتے ہیں :

فما فرحنا بشیٔ فرحنا بقول النبی صلّی اللہ علیہ وسلم انت مع من احببت، قال انس فانا احب النبی صلّی اللہ علیہ وسلم و ابابکر و عمر و ارجو ان اکون معہم بحبی ایا ہم وان لم اعمل بمثل اعمالہم (صحیح بخاری:3688 ،کتاب اصحاب النبی ﷺ،باب مناقب عمر بن الخطاب  )

یعنی: ہمیں نبی ﷺ کے اس فرمان سے جتنی خوشی ہوئی کسی اور بات سے اتنی خوشی نہیں ۔کیونکہ میں نبی ﷺ ،ابو بکر اور عمر رضی اللہ عنھما سے محبت کرتا ہوں ۔ان سے محبت کی وجہ سے مجھے امید ہے کہ کل قیامت کے دن انہی کے ساتھ ہوں گااگر چہ ان جیسے اعمال نہیں ہیں ۔

سیدہ عائشہرضی اللہ عنہافرماتی ہیں : ایک آدمی نبی ﷺکے پاس آیا کہنے لگا ۔اللہ کے رسول ﷺ،اللہ کی قسم !آپ مجھے میری جان ،اہل و عیال ،مال و اولاد سب سے بڑھ کر محبوب ہیں ۔میں گھر میں ہوتا ہوں ،آپ کو یادکرتا ہوں ،تو مجھ سے رہا نہیں جاتا حتی کہ یہاں آکر آپ کودیکھ لوں ۔اور جب میں اپنی اور آپ کی موت کو یاد کرتا ہوں ۔تو میں جانتا ہوںکہ جب آپ جنت میں داخل ہونگے ،آپ جنت میں انبیاء کے ساتھ اعلی درجات پر ہونگے ۔جس کی وجہ میں جنت میں آپ کے دیدار سے محروم ہوجاؤں گا ۔(یعنی یہاںتھوڑی دیرآپ کا چہرہ نہ دیکھوں تو قرار نہیں آتا ،وہاں تو بالکل ہی محروم ہو جاؤں گا ؟؟)

نبی ﷺ نے اس وقت کوئی جواب نہ دیاحتی کہ یہ آیات نازل ہوئیں ۔

[وَ مَنْ يُّطِعِ اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ فَاُولٰٓىِٕكَ مَعَ الَّذِيْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ مِّنَ النَّبِيّٖنَ وَ الصِّدِّيْقِيْنَ۠ وَ الشُّهَدَآءِ وَ الصّٰلِحِيْنَ١ۚ وَ حَسُنَ اُولٰٓىِٕكَ رَفِيْقًا] (النساء : 69) ؎

یعنی : اور جو شخص اللہ اور رسول کی اطاعت کرتا ہے تو ایسے لوگ ان لوگوں کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے انعام کیا ہے یعنی انبیاء ، صدیقین، شہیدوں اور صالحین کے ساتھ اور رفیق ہونے کے لحاظ سے یہ لوگ کتنے اچھے ہیں۔ (المعجم الصغیر : 26/1)

نبی ﷺ کے قول و عمل سے رو گردانی کرنے والوں کا انجام :

 [فَلَا وَ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُوْنَ حَتّٰى يُحَكِّمُوْكَ فِيْمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوْا فِيْۤ اَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَ يُسَلِّمُوْا تَسْلِيْمًا] (النساء : 65)

یعنی : (اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم !) تمہارے پروردگار کی قسم! یہ لوگ اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتے جب تک کہ اپنے تنازعات میں آپ کو حکم (فیصلہ کرنے والا) تسلیم نہ کرلیں پھر آپ جو فیصلہ کریں اس کے متعلق اپنے دلوں میں گھٹن بھی محسوس نہ کریں اور اس فیصلہ پر پوری طرح سر تسلیم خم کردیں۔

اس آیت کی تفسیر میں صحیحین میں یہ واقعہ مذکورہے کہ ’’ سیدنا عروہ بن زبیررضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ زبیررضی اللہ عنہ (میرے باپ) اور ایک انصاری میں حرہ میں واقع پانی کی نالی پر جھگڑا ہوا۔ نبی اکرم ﷺنے زبیرtکو کہا ’’تم اپنے درختوں کو پانی پلا لو پھر اسے اپنے ہمسایہ کے باغ میں جانے دو۔یہ سن کر وہ انصاری کہنے لگا ‘کیوں نہیں، آخر زبیررضی اللہ عنہ آ پ ﷺکی پھوپھی کا بیٹا جو ہوا۔ اس پر آپﷺ کا رنگ متغیر ہو گیا اور آپﷺ نے زبیر رضی اللہ عنہ کو کہا :’’زبیر! اپنے کھیت کو پانی پلاؤ اور جب تک پانی منڈیروں تک نہ پہنچ جائے اس کے لیے پانی نہ چھوڑو۔ یعنی جب انصاری نے آپ ﷺکو غصہ دلایا تو پھر آپ ﷺنے زبیررضی اللہ عنہ کو اس کا پورا حق دلایا۔ جبکہ آپﷺ کے پہلے حکم میں دونوں کی رعایت ملحوظ تھی۔ زبیررضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں سمجھتا ہوں کہ یہ آیت اسی بارے میں نازل ہوئی۔

(بخاری، کتاب التفسیر و کتاب المساقاۃ ، باب سکر الانہار ۔۔۔ مسلم، کتاب الفضائل باب وجوب اتباعہ )

اس آیت میں نبی ﷺ کی اطاعت نہ کرنے والوں کے بارے میں اللہ نے اپنی ہی قسم کھاکر کہا یہ لوگ مومن نہیں ۔بلکہ اسی آیت کے تحت سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا واقعہ بھی ملتا ہے کہ انہوں نے نبی ﷺ کے فیصلے کو تسلیم نہ کرنے کی وجہ سے ایک شخص کا سر تن سے جدا کر دیا تھا۔

نبی ﷺ کی بات نہ ماننے والاآندھی کا شکار :

ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :

[فَلَمَّا أَتَيْنَا تَبُوكَ قَالَ:أَمَا إِنَّهَا سَتَهُبُّ اللَّيْلَةَ رِيحٌ شَدِيدَةٌ، فَلاَ يَقُومَنَّ أَحَدٌ، وَمَنْ كَانَ مَعَهُ بَعِيرٌ فَلْيَعْقِلْهُ» فَعَقَلْنَاهَا، وَهَبَّتْ رِيحٌ شَدِيدَةٌ، فَقَامَ رَجُلٌ، فَأَلْقَتْهُ بِجَبَلِ طَيِّءٍ]

(صحیح بخاری : 1481 ،صحیح مسلم : 1392،مسند احمد : 23604 ،صحیح ابن حبان : 4503 )

یعنی : سیدنا ابوحمید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ تبوک کی جنگ میں ہم رسول اللہ ﷺکے ساتھ ہم تبوک میں پہنچے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ آج رات تیز آندھی چلے گی، لہٰذا کوئی شخص کھڑا نہ ہو اور جس کے پاس اونٹ ہو، وہ اس کو مضبوطی سے باندھ لے۔ پھر ایسا ہی ہوا کہ زوردار آندھی چلی۔ ایک شخص کھڑا ہوا تو اس کو ہوا اڑا لے گئی، اور (وادی ) طی ءکے دونوں پہاڑوں کے درمیان ڈال دیا۔

اس حدیث سے نبی ﷺ کی بات کو نہ ماننے کا انجام دنیا میں ہی معلوم ہوگیا ۔اور ایک شخص دین کے معاملات میں نبی ﷺ کی بات کو حرف آخر نہ سمجھے اور تھکرادے اسے ابدی اخروی انجام سے ڈرنا چاہئے۔

نبی ﷺ کی بات نہ ماننے والاساری زندگی اپنے ہاتھ نہ اٹھا سکا :

إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، أَنَّ أَبَاهُ، حَدَّثَهُ أَنَّ رَجُلًا أَكَلَ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشِمَالِهِ، فَقَالَ:كُلْ بِيَمِينِكَ قَالَ: لَا أَسْتَطِيعُ، قَالَ: لَا اسْتَطَعْتَ ، مَا مَنَعَهُ إِلَّا الْكِبْرُ، قَالَ: فَمَا رَفَعَهَا إِلَى فِيهِ۔

(صحیح مسلم : 2021،مسند احمد : 16493 ،صحیح ابن حبان : 6512 )

یعنی : ایاس بن سلمہ بن اکوع اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ اک آدمی نبی ﷺ کے پاس بیٹھا بائیں ہاتھ سےکھانا کھا رہا تھا،آپ نے فرمایا: دائیں ہاتھ سے کھاؤ۔اس نے کہا کہ میں طاقت نہیں رکھتا۔نبی ﷺ نے فرمایا: تو طاقت ہی نہ رکھے ۔راوی کہتے ہیں کہ اس نے یہ انکار محض تکبر کی بنیاد پر کیا تھااور پھر ساری عمر وہ اپنے ہاتھ اٹھانے کی طاقت نہ رکھ سکا۔

صحیح ابن حبان کی مذکورہ محولہ روایت میں اس کا نام بْسربن راعی مذکور ہے ۔اس روایت کو علامہ البانی اور شیخ الارناؤط نے صحیح کہا ہے ۔

محبت میں اعتدال :

صحابہ کرام کی محبت رسول ﷺ کی عمدہ مثالیں قارئین نے ملاحظہ کیں ۔لیکن یہاں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ کسی صحابی نے فرط محبت میں نبی ﷺ کو اللہ یا اللہ کا جزء نہیںکہا۔کیونکہ آپ ﷺ نے صحابہ کی تربیت ہی ایسی کی تھی ۔چناچہ آپ کی تربیت کے حوالے سے چند مثالیں ملاحظہ فرمائیں ۔

وعن ا بن عباس قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إياكم والغلو في الدين فإنما هلك من كان قبلكم بالغلو في الدين(مسند احمد : 3248 )

یعنی : ابن عباس رضی اللہ عنہ رفرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: دین میں غلو سے بچو،تم سے پہلے لوگ دین میں غلو ہی کی وجہ سے ہلاک ہو گئے تھے ۔

پہلی مثال :

عَنِ الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذٍ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَدَاةَ بُنِيَ عَلَيَّ، فَجَلَسَ عَلَى فِرَاشِي كَمَجْلِسِكَ مِنِّي، وَجُوَيْرِيَاتٌ يَضْرِبْنَ بِالدُّفِّ، يَنْدُبْنَ مَنْ قُتِلَ مِنْ آبَائِهِنَّ يَوْمَ بَدْرٍ، حَتَّى قَالَتْ جَارِيَةٌ: وَفِينَا نَبِيٌّ يَعْلَمُ مَا فِي غَدٍ. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لاَ تَقُولِي هَكَذَا وَقُولِي مَا كُنْتِ تَقُولِينَ

(صحیح بخاری : 4001 ،سنن ابی داؤد : 4922 ،جامع ترمذی : 1090 ،سنن ابن ماجہ : 1897 ،مسند احمد : 27021 )

ربیع بنت معوذ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میر ی منگنی والے دن نبی ﷺ ہمارے پاس آکر بیٹھ گئے ،کچھ بچیاں دف بجا کر بدر کے مقتولین کا تذکرہ کر رہیں تھیں ۔ایک بچی نے یہ کہہ دیا کہ ہمارا نبی کل کی بات بھی جانتا ہے ،فوراً نبی ﷺ نے کہا یہ نہ کہو اس سے پہلے جو کہہ رہی تھی ،وہی کہو۔

دوسری مثال :

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرَاجِعُهُ الْكَلَامَ، فَقَالَ: مَا شَاءَ اللهُ وَشِئْتَ، فَقَالَ: جَعَلْتَنِي لِلَّهِ عَدْلًا، مَا شَاءَ اللهُ وَحْدَهُ

(مسند احمد : 3247 ،الادب المفرد : 783 ،المعجم الکبیر : 13006 ،سنن الکبری : 5812 ،مصنف ابن ابی شیبہ :26691 )

یعنی: ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نبی ﷺ کے پاس آیا آپ ﷺ سے گفتگو کررہا تھا اور دوران گفتگو اس نے کہا جواللہ چاہے اور آپ چاہیں۔ آپ ﷺنے فرمایا: کیاتو نے مجھے اللہ کے برابر بنا دیا،بلکہ یوں کہو!جو اللہ اکیلا چاہے ۔

تیسری مثال :

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

 [لاَ تُطْرُونِي، كَمَا أَطْرَتْ النَّصَارَى ابْنَ مَرْيَمَ، فَإِنَّمَا أَنَا عَبْدُهُ، فَقُولُوا عَبْدُ اللَّهِ، وَرَسُولُهُ] (صحیح بخاری : 3445 )

یعنی: مجھے اس طرح حد سے بڑھا مت دینا جس طرح عیسائیوں نے (عیسی)ابن مریم علیہ السلام کو حد سے بڑھا دیا تھا۔میں اللہ کا بندہ ہوں،مجھے اللہ کا بندہ اور رسول ہی کہو۔

لا تتخذوا قبري عيدا(سنن ابو داؤد : 2042 )

یعنی : میری قبر کو میلہ نہ بنا لینا۔

اس حدیث میں نبی ﷺ نے محبت میں اعتدال کا بڑا سنہری اصول قائم کردیا ہے ۔کہ اگر محبت رسول ﷺنہیں تو بندہ مومن نہیں۔ اور اگر محبت میں غلو آگیا اور اس غلو میں اللہ کے رسول ﷺ کو بشریت کے درجے سے بڑھا کر نو ر یا نور من نور اللہ قرار دیاجائے تو بھی ایمان خطرے میں ہے۔ اور یہ صریح شرک ہے ۔کیونکہ عیسائیوں نے بھی فرط محبت میں عیسی علیہ السلام کو بشریت سے بڑھا کر ابن اللہ ،ثالث ثلاثۃ جیسا عقیدہ اختیار کر لیا تھا۔اب اس حدیث کی روشنی میں محبت میں غلو کرنے والوں کو اپنا جائزہ لینا چاہئے ۔

محبت میں اعتدال ایک مثال کی روشنی میں:

گذشتہ حدیث کی روشنی میں ہر معاملے کی طرح محبت رسول ﷺ میں اعتدال کو واضح کیا گیا تھا ،اس کے مزید فہم کےلئے ہم ایک مثال پیش کرتے ہیں : فرض کریں  ایک باپ اپنے بچے کو ایک حکم دیتا ہے ،اور اسی بچے کو ایک حکم اس کا بڑا بھائی دیتا ہے ،اب وہ بچہ اپنے والد کی بات چھوڑ کر اپنے بڑے بھائی کی بات کو مان لے یہ سوچ کر کہ مجھے بڑے بھائی سے زیادہ پیار ہے اس لئے کہ وہ تو ابو کا بھی محبوب ہے ۔اور میرا بھی دوستانہ بھائی (freindly)ہے ۔اب میں اسی کی بات مانوں گا ۔یقیناً یہ اس بچے کی بہت بڑی غلطی ہوگی کہ وہ باپ کی محبت پر اپنے بھائی کی محبت کو ترجیح دے رہا ہے ۔

اسی طرح ایک شخص اپنی ماں کی محبت پر بیوی کی محبت کو ترجیح دیتا ہے تو یہ عمل شرعاً و اخلاقاً بھی ناجائز ہے اور ہمارا معاشرہ بھی اسے قبول نہیں کرتا ۔

بالکل اسی طرح اگر ایک شخص کسی ولی یا امام ،مفتی وغیرہ سے اتنی محبت کرے کہ اس کی بات حرف آخر اور قابل پیروی سمجھے ۔یقیناًیہ غلط ہوگا کیونکہ یہ مرتبہ تو رسول اللہ ﷺ کا ہے کہ آپ کی بات کو حرف آخر سمجھا جائے اور خلوص قلبی سے آپ کے فرامین پر عمل کیا جائے ۔اسی طرح اگر کوئی شخص نبی ﷺ سے محبت میں غلو کرتے ہوئے ان صفات سے متصف مان لیں جو صرف اللہ تعالیٰ کا خاصہ ہیں ،یا نور من نور اللہ (اللہ کے نور کا حصہ )کہہ کر اللہ کا جزء قرار دیا جائے ۔یقیناًیہ صریح شرک اور ایسی محبت قطعاًمطلوب نہیں ۔بلکہ یہ دین، دین وسط و اعتدال ہے۔ عقائد سے لے کر مسائل و فضائل تک ہمیں وسط و اعتدال ہی سے کام لینا چاہئے ۔

محبت رسول ﷺکے تقاضے :

ہم اس پیرائے میں یہ واضح کئے دیتے ہیں کہ اگر ایک شخص نبی ﷺ سے واقعی اور حقیقی محبت کرتا ہے ،تو وہ کن امور کو اپنے اندر ڈھال لے ،جن کے ذریعے سے اس کے محبت رسول ﷺ کے دعویٰ کی تصدیق کی جاسکتی ہے۔نیز وہ محبت رسول ﷺ کی متقاضیات میں سے ہیں۔

1 وہ اپنا آئیڈیل نبیﷺ کو بنا لے ۔اور آئیڈیل کا معنی عقائد سے لے کر فضائل و مسائل اور پھر معاشرت کے بھی تمام پہلوؤں میں نبیﷺ کے اسوہ کو اپنا قدوہ بنا لے ۔

2 اللہ کے رسول ﷺ کی بات (حدیث ) میں کسی قسم کے شک و شبہ میں مبتلا نہ ہو ۔

3 ہر سنی ،سنائی بات کو نبی ﷺ کی طرف منسوب نہ کرے ۔

4 نبی ﷺ کی طرف قطعا ً جھوٹ نہ باندھے ۔

5 نبی ﷺ کی طرف منسوب جھوٹی روایات پر قطعاً عمل نہ کرے اور نہ ہی اسے بیان کرے ۔اور نہ ہی اس کی بنیاد پر اپنا کوئی عقیدہ یا دینی مسئلے کی بیاد رکھے ۔

6 نبی ﷺ کی صحیح سند سے ثابت حدیث کے آگے اپنی رائے و قیاس کو چھوڑکر سر خم تسلیم کردے ۔

7 نبی ﷺ کی بات کے مقابلے میں کسی دوسرے کے قول کو خواہ وہ کوئی بھی ہو ،اسے ترجیح نہ دے ۔

8 ہر قسم کی بدعت و دین میں نئی اختراع پر عمل اور اس کے نشر سے گریز کرے ۔

9 نبی ﷺ سے محبت کا تقاضہ ہے کہ سنت کے مقابلے میں نئی ایجاد شدہ بدعات کا حسب استطاعت رد کرے اور اپنے اقارب کو اس سے باخبر کرے ۔

10 پیغمبر ﷺ کی سنتوں ،قول و عمل کو زیادہ سے زیادہ عام کرنے کا جذبہ اپنے دل میں رکھے ۔

تلک عشرۃ کاملۃ

دعا ہے کہ اللہ تعالی کما حقہ ہمیں محبت رسول ﷺ کے جذبے سے سرشار فرمائے ۔(آمین)اورقیامت کے دن ہمیں ہمارے محبوب کا ساتھ عطا فرمائے۔(آمین)

واللہ ولی التوفیق

About شیخ یونس اثری

Check Also

ملّت کے سپوت ذمہ داریاں اور درپیش فتنے

تخلیق انسانی کئی مراحل طے کرکے منظر عام پر آتی ہےاور پھر تخلیق (پیدائش)کے بعد …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے