Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2017 » شمارہ جنوری » نمازجنازہ میں سلام پھیرنے کامسنون طریقہ

نمازجنازہ میں سلام پھیرنے کامسنون طریقہ

نبی اکرم ﷺاورصحابہ کرام سے نماز جنازہ میں صرف ایک ہی جانب سلام پھیرناثابت ہے،دونوں طرف سلام پھیرنے کی جمیع روایات ضعیف ہونے کی بناء پر ناقابل حجت ہیں۔
سیدناابوھریرہ سے روایت ہے:
” أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى عَلَى جِنَازَةٍ فَكَبَّرَ عَلَيْهَا أَرْبَعًا وَسَلَّمَ تَسْلِيمَةً ”
بیشک رسول اکرم ﷺ نے ایک میت پر نماز جنازہ پڑھی اس پر چار تکبیریں کہیں اور پھر ایک جانب سلام پھیرا۔
(سنن الکبری للبیھقی ۴؍۷۰،رقم الحدیث:۶۹۸۲،دار الکتب العلمیہ ،سنن الدار قطنی ۲؍۸۹،رقم الحدیث:۱۷۹۹، طبع نشر السنۃ ملتان، المستدرک علی الصحیحین للحاکم ۱؍۵۱۳،دار الکتب العلمیہ وسندہ صحیح)
تنبیہ بلیغ: اس کی سند میں ابو العنبس سے مراد سعید بن کثیر بن عبید التمیمی’’ثقۃ‘‘(تقریب التھذیب۲۶۲۵) ہیں۔
بعض کا اس سے مراد عبداللہ بن صھبان ’’ضعیف‘‘(تقریب ۳۷۱۸) کولیناغلط ہے۔
ابوالعنبس سے مراد سعید بن کثیر ہی ہیں فی الوقت اس کی دو دلیلیں پیش خدمت ہیں:
(۱) امام ابوعبداللہ محمد بن عبداللہ الحاکم النیشاپوری (المتوفی ۴۰۵)نے صراحت کردی ہےکہ ابوالعنبس سےمراد سعید بن کثیر ہیں جیسا کہ وہ اس سے پہلے والی روایت کےمتعلق فرماتے ہیں:
’’وشاھدہ حدیث أبی العنبس سعید بن کثیر‘‘
یعنی ابوالعنبس سعیدبن کثیر کی (ایک طرف سلام والی) حدیث اس حدیث کی شاہد ہے۔
(المستدرک علی الصحیحین ۱؍۵۱۳،دار الکتب العلمیہ)
اس تصریح کے بعد بھی ابوالعنبس سے مراد عبداللہ بن صھبان لینا اعجب العجب ہے۔
(۲)اس سند میں ابوالعنبس سے روایت کرنے والےحفص بن غیاث ہیں،عبداللہ بن صھبان کے تلامذہ میں ان کا نام نہیں ملتا، جبکہ سعید بن کثیر کےتلامذہ میں ان کانام مذکور ہے۔دیکھئے:
(تہذـیب الکمال ۳؍۱۹۲مؤسسۃ الرسالۃ)
اور اسی طرح عبداللہ بن صھبان کے اساتذہ میں ان کے والد(صھبان) شمار نہیں ہوتے جبکہ سعید بن کثیر کے اساتذہ میں ان کے والد (کثیر بن عبید) کا نام موجود ہے۔انظر المصدر السابق.
نافع عبداللہ بن عمر کے متعلق فرماتے ہیں ’’آپ جب نماز جنازہ پڑھتے تو رفع الیدین کرتے پھر تکبیر کہتے پھر جب فارغ ہوتے توا پنی دائیں جانب ایک سلام پھیرتے۔
(مصنف ابن ابی شیبہ ۳؍۱۹۰،دار الفکروسندہ صحیح)
عمرو بن مہاجر الدمشقی فرماتے ہیںمیں نے واثلہ بن اثقع کی اقتداء میں ساٹھ جنازے پڑھے آپ چار تکبیریں کہتے اور ایک سلام پھیرتے۔
(مصنف ابن ابی شیبہ ۳؍۱۹۱دار الفکر وسندہ صحیح)
کسی بھی صحابی یاتابعی (سوائے ابراھیم نخعی کے) سے مذکور صحابہ (واثلہ بن اثقع اور ابن عمر)کی مخالفت ثابت نہیں۔
امام سعید بن جبیر، امام محمد بن سیرین ، امام حسن بصری اور امام مکحول نماز جنازہ میں صرف ایک جانب سلام پھیرنے کے قائل تھے۔(انظر مصنف ابن ابی شیبہ ۵؍۱۹۱،دار الفکر باسانید صحیحۃ)
جہاں تک تعلق ہے ابراھیم بن یزید النخعی کے عمل کا تو وہ دو وجوہ سے مرجوح ہے۔
1امام صاحب کا یہ عمل رسول اکرم ﷺ کے مخالف ہونے کی وجہ سے لائق التفات نہیں۔
2امام ابراھیم نخعی سے ہی ثابت ہے کہ نماز جنازہ میں ایک طرف سلام پھیراجائے ،چنانچہ وہ فرماتے ہیں:
’’تسلیم السھو والجنازۃ واحد‘‘
سہو اور جنازے کا ایک ہی سلام ہوتا ہے۔
(مصنف ابن ابی شیبہ ۱؍۴۸۲،دار الفکر وسندہ صحیح)
بعض لوگ دو طرف سلام کے حق میں مشہور تابعی عامر بن شراحیل کا عمل پیش کرتے ہیں کہ وہ نماز جنازہ میں دونوں جانب سلام پھیرتے تھے۔(مصنف ابن ابی شیبہ ۱؍۱۹۱،دار الفکر)
توعرض ہے کہ امام شعبی سے دو طرف سلام والی روایت حدیث ابن ابی مطر ’’کے ضعف‘‘ (تقریب التھذیب ۱۳۰۶) کی وجہ سے ضعیف ہے۔
اور یہ بھی یاد رہے کہ نبی اکرم ﷺ کے عمل کے مقابلہ میں امتیوں کے اقوال پیش کرنا کوئی دین کی خدمت نہیں بلکہ سنت نبوی سے انحراف ہے۔
اور اسی طرح جمہور محدثین وائمہ عظام بھی جنازہ میں ایک ہی جانب سلام پھیرنے پر عامل رہے ہیں۔
امام عبداللہ بن مبارک (المتوفی ۱۸۱)یہاں تک فرماتے ہیں:من سلم علی الجنازۃ بتسلمتین فھو جاہل جاہل.
جس نے نماز جنازہ میں دو سلام پھیرے وہ جاہل ہے،جاہل ہے۔
(مسائل احمد بن حنبل لابی داؤد ،ص:۲۵۴،صحح الشیخ زبیر علی زئی)

دونوں طرف سلام پھیرنے کے دلائل کاجائزہ

نماز جنازہ میں دونوں جانب سلام پھیرنے کے قائلین کی طرف سے اپنے مؤقف کے حق میں جو بھی روایات پیش کی جاتی ہیںوہ بلحاظ سند پایہ صحت کو نہیں پہنچتیں اس لئے ان سے حجت پکڑنادرست نہیں۔
آنے والی سطور میں ان دلائل کا مختصر جائزہ پیش کیاجاتاہے:
دلیل :(۱)
قال البیھقی وَأَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الرَّازِيُّ الْحَافِظُ، أنبأ زَاهِرُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ زِيَادٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَعْدٍ الزُّهْرِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ حَفْصٍ، ثنا مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، وَالْأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: ” ثَلَاثُ خِلَالٍ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُهُنَّ، تَرَكَهُنَّ النَّاسُ,إِحْدَاهُنَّ: التَّسْلِيمُ عَلَى الْجِنَازَةِ مِثْلُ التَّسْلِيمِ فِي الصَّلَاةِ ”
سیدناعبداللہ بن مسعود فرماتےہیں تین کام ایسے ہیں جن کو اللہ کے رسول ﷺ کیاکرتے تھے ان میں سے ایک جنازے میں عام نمازوں کی طرح سلام پھیرناہے۔
(سنن الکبری للبیھقی ۱؍۷۱،دار الکتب العلمیہ)
جائزہ: اس کی سند تین علل کی بناء پر ضعیف(ناقابل عمل) ہے۔
علت:(۱) حماد بن ابی سلیمان الکوفی کا آخری عمر میں حافظہ خراب ہوگیا تھا۔(سوالات ابی داؤد عن احمد بن حنبل ،ص:۳۳۸ الطبقات الکبری ۶؍۳۳،دار صادر)
امام نور الدین علی بن ابی بکر الھیثمی (المتوفی ۸۰۷) ایک ضعیف روایت (طلب العلم فریضہ علی کل مسلم) پر جرح کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’لایقل من حدیث حماد الا مارویٰ عنہ القدماء شعبہ وسفیان الثوری والدستوائی ومن عدا ھؤلاء رووا عنہ بعد الاختلاط.
یعنی حماد کی صرف وہی روایات مقبول ہونگی جو ان سے قدماء (اختلاط سے پہلے سننے والے رواۃ) شعبہ ،سفیان ثوری(ہشام بن ابی عبداللہ) الدستوائی نے روایت کی ہوں ان رواۃ کے علاوہ نے حماد سے اختلاط کے بعد سنا ہے۔
(مجمع الزوائد ۱؍۱۹،۲۰، دار الکتب العربی ونسخۃ اخری ۱؍۱۲۴،۱۲۵،مؤسسۃ المعارف)
زید بن ابی انیسہ کاشمار ان رواۃ میں نہیں ہوتا جنہوںنے حماد سے قبل ازاختلاط سنا ہے۔
علت:(۲)حماد بن ابی سلیمان مختلط ہونے کے ساتھ ساتھ مدلس بھی ہیں۔
تفصیل کیلئےدیکھئے :(ذہبی عصرحقا حافظ زبیر علی زئی کی کتاب ’’الفتح المبین فی تحقیق طبقات المدلسین ،ص:۶۱)
اور اس روایت میں سماع کی تصریح نہیں کررہے جبکہ مسلمہ اصول ہے کہ مدلس کی غیرمصرح بالسماع روایت ضعیف ہوتی ہے۔
دیکھئے: (الرسالۃ للشافعی ،ص:۳۶۳بتحقیق احمدشاکر طبع دار الارشاد۔الاحسان فی ترتیب ابن حبان ۱؍۱۶۱مؤسسۃ الرسالۃ ونسخۃ اخری ،ص:۳۶بیت الافکار والدولۃ-الکفایۃ فی اصول الروایۃ ۲؍۳۸۶،دار الھدی ۔مقدمہ ابن الصلاح مع التقیید والایضاح، ص:۹۸،مؤسسۃ الکتاب الثقافیہ)
مخالفین حق کے نزدیک بھی محدثین کرام کا مذکوراصول برحق ہے تسلی کےلئے تین شہادتیں پیش خدمت ہیں۔
1دیوبندیوں کےامام اورشیخ الحدیث سرفراز صفدر صاحب لکھتے ہیں:
’’مدلس راوی عن سے روایت کرے توحجت نہیں الایہ کہ وہ تحدیث کرے یا اس کا کوئی ثقہ متابع ہو۔
(خزائن السنن ۱؍۱مکتبہ صفدریہ گوجرانوالہ)
2بریلوی مناظر غلام مصطفے نوری ۔سعید بن ابی عروبہ(مدلس طبقہ ثانیہ عندابن حجر) کے بارے میں لکھتے ہیں ’’لیکن‘‘ اس کی سند میں ایک تو سعید بن ابی عروبہ ہیں جو کہ ثقہ ہیں لیکن مدلس ہیں اور یہ روایت بھی انہوں نے قتاد ہ سے لفظ عن کے ساتھ کی ہے اور جب مدلس عن کے ساتھ روایت کرے تو وہ حجت نہیں ہوتی۔
(ترک رفع الیدین ،ص:۴۲۵،مکتبہ رضویہ فیصل آباد)
3ماسٹر امین اوکاڑوی لکھتے ہیں :….مدلس جو روایت عن سے کرے وہ منقطع ہوتی ہے۔
(تجلیات صفدر ۲؍۱۷۹،مکتبہ امدادیہ ملتان)
علت:(۳)ابراھیم بن یزید النخعی مدلس (الفتح المبین ۵۱) کا عنعنہ ہے جبکہ مدلس کی معنعنہ روایت ضعیف ہوتی ہے کماتقدم التفصیل)
معلوم ہوا کہ یہ روایت ان تین علل کی وجہ سے ضعیف ہے ۔
محدث العصر علامہ ناصر الدین البانی کا احکام الجنائز، ص:۱۲۷میں اس کو حسن کہنا تعجب خیز ہے۔
دلیل :(۲)
ابراھیم بن مسلم الھجری کہتےہیں کہ سیدناعبداللہ بن ابی اوفی نے ایک جنازے میں دائیں بائیں سلام پھیرا اور فرمایا:’’رأیت رسول اللہ ﷺ یصنع ھکذا‘‘ میں نے رسول اللہ ﷺ کو اس طرح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔
(سنن الکبری للبیھقی ۱؍۷۱،دار الکتب العلمیہ)
جائزہ: اس کی سند بھی ضعیف ہے، ضعف الروایۃ کی دو علل ہیں۔
علت:(۱)ابراھیم بن مسلم الھجری پر متعدد محدثین نے جرح کر رکھی ہے۔
vامام ابوحاتم محمد بن ادریس الرازی(المتوفی ۲۷۷) فرماتے ہیں: ’’لیس بقوی لین الحدیث‘‘ (الجرح والتعدیل ۳؍۱۰۸،دار الکتب العلمیہ)
vامام محمدبن سعد(المتوفی ۲۳۰) فرماتے ہیں: ’’وکان ضعیفا فی الحدیث‘‘ (الطبقات الکبری ۶؍۳۴۱)
vامام ابواسحٰق ابراھیم بن یعقوب الجوزجانی (المتوفی۲۵۹ھ) فرماتے ہیں: یضعف حدیثہ.(احوال الرجال ،ص:۹۱موسسۃ الرسالۃ)
vامام محمد بن احمد بن عثمان الذھبی(المتوفی ۷۴۸) کسی روایت پر جرح کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’لکن ابراھیم بن مسلم ضعیف’‘ابراھیم بن مسلم ضعیف ہے۔ (تلخیص المستدرک ۱؍۷۴۱،دار الکتب العلمیہ،مزید دیکھئے،ص:۵۱۲)
vحافظ احمد بن علی بن حجرالعسقلانی(المتوفی ۸۵۲) فرماتے ہیں:’’لین الحدیث رفع موقوفات‘‘
(تقریب التھذیب ۲؍۵۸،دار المعرفۃ)
علت:(۲)شریک بن عبداللہ القاضی(ثقہ قبل الاختلاط) مدلس (الفتح المبین۷۵) کا عنعنہ ہے جبکہ مدلس کی معنعنہ روایت ضعیف ہوتی ہے،کماسبق
دلیل:(۳)
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ قَالَ: وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي بِخَطِّهِ: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ نَافِعٍ الْأَشْعَرِيُّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ: «صَلَّيْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى جَنَازَةٍ، فَسَلَّمَ، عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ»
ہم نے رسول اللہ ﷺ کےساتھ ایک میت پر نماز جنازہ پڑھی آپﷺ نے اپنے دائیں اور بائیں جانب سلام پھیرا۔
(المعجم الاوسط للطبرانی ۳؍۴۰۰،رقم:۴۳۳۷،دار الفکر)
جائزہ: یہ روایت خالد بن نافع الاشعری کے ضعف کی وجہ سے ضعیف ہے۔
vامام ابوزرعہ عبداللہ بن عبدالکریم بن یزید الرازی(المتوفی ۲۶۴) فرماتے ہیں: ’’ضعیف الحدیث‘‘
(الجرح والتعدیل لابن ابی حاتم ۳؍۳۵۰،دار الکتب العلمیہ)
vامام ابوحاتم محمد بن ادریس الرازی(المتوفی ۲۷۷) فرماتے ہیں: ’’شیخ، لیس بقوی یکتب حدیثہ‘‘ (الجرح والتعدیل ۳؍۱۰۸،لابن ابی حاتم ۳؍۳۵۰،دارالکتب العلمیہ)
شیخ ہے،قوی نہیں ہے اس کی حدیث(متابعات میں) لکھی جائے گی۔
vامام ابوعبدالرحمٰن احمد بن شعیب النسائی (المتوفی ۳۰۳) فرماتے ہیں:’’ضعیف‘‘ (کتاب الضعفاء والمتروکین ،ص:۹۵ ت ۱۷۵ مؤسسۃ الکتب الثقافیہ)
vامام ابو احمد عبداللہ بن عدی الجرجانی(المتوفی ۳۶۵) نے ان کو اپنی کتاب ’’الکامل‘‘ میں ذکر کرکے امام نسائی کی جرح نقل کی گویا اسے ضعیف قرار دیاہے۔دیکھئے۔
(الکامل ۳؍۴۵۶ ت۵۸۸،دار الکتب العلمیہ)
فائدہ: کوئی بھی مصنف بطور تائید کسی کی بات نقل کرے اور اس سے اختلاف نہ کرے تومصنف کابھی وہی موقف تصورکیاجائے گا۔
الا یہ کہ اس مصنف سے دوسرے کسی مقام پراس کی تردید ثابت ہوجائے۔
مشہور دیوبندی عالم سرفراز خان صفدر حیاتی لکھتے ہیں: ’’سوم: جب کوئی مصنف کسی کاحوالہ اپنی تائید میں پیش کرتا ہے اور اس کے کسی حصہ سے اختلاف نہیں کرتا تو وہی مصنف کا نظریہ ہوتا ہے۔
(تفریح الخواطر،ص:۲۹،مکتبہ صفدریہ گوجرانوالہ)

امام ابو الفرج عبدالرحمن بن علی بن محمد ابن الجوزی(المتوفی ۵۹۷) نے ان کو ضعیف ومتروک راویوں میں ذکرکیاہے،دیکھئے:
(الضعفاءوالمتروکون ۱؍۲۵۱،دارالباز)
vامام ابومحمد بن احمد بن عثمان الذھبی(المتوفی ۷۴۸) نے ان کو ضعفاء میں ذکر کیا ہے۔(المغنی فی ضعفاء الرجال ۱؍۲۰۷بتحقیق نور الدین عتر طبع قدیم)
خلاصۃ التحقیق:نبی اکرمﷺ وصحابہ کرام سے نماز جنازہ میں صرف ایک جانب سلام پھیرنا ثابت ہے،دونوں طرف والی تمام روایات اصول محدثین کی رو سے ضعیف ہونے کی بناء پر ناقابل عمل ہیں۔
لہذا عاملین بالحدیث کو چاہئے کہ وہ صحیح حدیث پر عمل کرتے ہوئے ایک ہی جانب سلام پراکتفاء کریں ۔

About ادارہ

Check Also

مراسلے ومکاتیب

مٹیاری سےأزکی اخت حافظ محمد احمدصاحبہ کامکتوب جناب محترم ومکرم مدیرصاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ …

جواب دیجئے