آئینہ کتب

نام کتاب عربی
اتمام الخشوع بوضع الیمین علی الشمال بعد الرکوع
نام کتاب اردو
نماز میں رکوع کے بعد ہاتھ باندھنا
تالیف
فضیلۃ الشیخ ابواسماعیل یوسف حسینa
اشاعت اول
1902ء بمطابق1324ھ
اشاعت دوم
2016ء بمطابق1437ھ
115سال یعنی تقریباً سواصدی قبل جب یہ کتاب شایع ہو کر منظرعام پر آئی اور عوام الناس میںعام ہوگئی تو کچھ احباب نے شیخ الکل فی الکل سیدنذیر حسین محدث دہلوی aکے تلمیذ رشید محدث العصر علامہ محمد بشیر سہسوانی aسے اس کتاب کا جواب لکھنے کی گزارش کی تو آپa نے جواب دیا:’’اس کاجواب لکھنا کوئی حلوہ تھوڑا ہی ہے‘‘
(مقالاتِ راشدیہ ج۱۰،ص ۲۸۱)
جب سے مقالاتِ راشدیہ کی مذکورہ بالاعبارت پڑھی تھی تب سے اس کتاب کی زیارت کرنے کابڑاشوق تھا۔
ہم اللہ تبارک وتعالیٰ کے اس احسانِ عظیم پر، اس کاشکر ادا کرتے ہیں کہ اس نے ہمیں اس عظیم تالیف کی زیارت کرائی۔ الحمدللہ حمداکثیرا طیبا مبارک فیہ.
یاد رہے کہ اہم ترین ونایاب کتب کی زیارت کی خواہش کرنا، طریقۂ اسلاف ہے،محدث دیارِ سندھ ابومحمد بدیع الدین شاہ راشدی aبدیع التفاسیر میں’’سیدنا امام بخاریaکی نایاب تالیف’’بر الوالدین‘‘ سے متعلق فرماتےہیں:’’اللہ تبارک وتعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ اس کی جلد زیارت کرادے۔‘‘
مؤلف کتاب فضیلۃ الشیخ علامہ قاضی ابواسماعیل یوسف حسین خانپوری ہزاروی a(متوفی ۱۹۳۳ء)کی شخصیت علمی حلقوں میں کسی تعارف کی محتاج نہیں، آپ کی علمیت کے سب معترف ہیں، قاضی صاحب کی شخصیت تدریس وتحریر،تقریر ومناظرہ غرض ہر میدان میں ممتاز حیثیت کی حامل تھی، آپ کاشمار برصغیر کے ممتاز ترین علماء وزعماء میں ہوتا ہے، موصوف بڑے ذی علم عالم دین تھےاور کثیر المطالعہ تھے۔ آپ کاحافظہ بڑا قوی تھا، آپ16اکتوبر1868ءبمطابق28جمادی الثانی1285ھ بروز جمعہ بعد طلوع آفتاب قصبہ خانپور تحصیل ہریپور ضلع ہزارہ میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم اپنے والدماجدعلامہ قاضی محمد حسن (متوفی۱۳۰۰ء)اور برادران مولاناقاضی عبدالاحد(۱۳۴۷ھ)اور قاضی محمدخانپوری سے حاصل کی۔ان کے علاوہ آپaنے مختلف اساتذہ سے تحصیل علم کیاان میں :مولانا عبدالکریم بن مولانا ولایت علی عظیم آبادی، شیخ الکل میاں نذیر حسین محدث دہلوی(متوفی ۱۳۲۷ھ) مولانا ابو یحی شاہجہان پوری،نیز علامہ حسین محسن انصاری یمانی (متوفی ۱۳۲۷ھ) سے بھی اجازۃ الروایۃ حاصل کی۔ رحمھم اللہ
آپaنے مختلف عنوانات پر(۱۰)کتب بھی تحریر فرمائیں اور یکم جون1933ءکو 64سال کی عمر میں خانپور میں وفات پائی۔ اللھم اغفرلہ وارحمہ وعافہ واعف عنہ.
محولہ بالاکتاب آپaکی علمی وتحقیقی تصانیف ورسائل میں سے ایک ہےجسے آپ نے نماز میں رکوع کے بعد حالتِ قیام میں ہاتھ باندھنے سے متعلق تحریرفرمایا، اس مسئلہ سے متعلق آپaکی یہ کتاب مختصر مگر جامع وپرمغزہے۔ قاضی صاحب نے اپنی اس کتاب میں اس مسئلہ پر نقلی وعقلی دلائل سے خوب سیرحاصل بحث کی ہے۔ اور دلائل سے ثابت کیا ہے کہ رکوع کے بعد قیام میں ہاتھوں کو باندھنا ہی صحیح ہے۔ اس موضوع پر یہ ایک مکمل راہ نما کتاب ہے۔
نام کتاب
حقیقی اسلام بخلاف سیاسی اسلام
تحقیق وتالیف
سیدعبیداللہ
برائے رابطہ:
0333-2220834
حدیث کی کتاب صحیح مسلم میں سیدنا ابوہریرہ tسے مروی ، پیارے پیغمبر ﷺ کی یہ حدیث موجود ہے،فرمایا:
بدء الاسلام غریبا وسیعود غریبا فطوبی للغرباء وھو یارز بین المسجدین کما تارز الحیۃ الی جحرھا.
(صحیح مسلم ۱؍۱۳۱)
یعنی اسلام کاآغاز اجنبیت سےہوا اور عنقریب اسلام اجنبیت کی طرف لوٹ جائے گا،لہذا اجنبیوں(مشکل حالات میں اسلام پرعمل پیرا لوگوں) کیلئےخوشخبری ہے۔ جس طرح سانپ اپنے بل کی طرف سکڑ جاتا ہے اسی طرح اسلام دومسجدوں (مسجد حرام،مسجد نبوی،یعنی مکہ ومدینہ) کی جانب سکڑجائے گا۔
مولانا صفی الرحمٰن مبارکپوری aمنۃ المنعم۱؍۱۳۱میں حدیث ذکر کرتے ہیں جس میں ان غرباء (اجنبیوں) کاتعارف یوں کرایاگیا ہے:
الغرباء انھم ھم الذین یصلحون ماافسد الناس من بعدی من سنتی.
یعنی غرباء وہ ہیں جو میرے بعد میری ترک کی ہوئی سنت کی اصلاح (اسے زندہ) کریں گے۔
آج جب ہم ملاحظہ کرتے ہیں کہ لوگ:ترجیع والی اذان ،سحری کی اذان ، رکعتین قبل المغرب اور دیگر متعدد سنتوں کے احیاء پرحیران وششد رہ جاتے ہیں اور بعض تو تنقید کرتے نظرآتے ہیں اور بعض اظہارِ نفرت کرنے سے نہیں چوکتے تومندرجہ بالاحدیث پر ہمارا ایمان ویقین دوچندہوجاتاہے۔ فاضل مصنف نے یہی ذہن رکھتے ہوئےمحولہ بالاکتاب تصنیف فرمائی ہے اور ثابت کیا ہے کہ قرونِ اولیٰ کےلوگ کتنی ثابت قدمی کے ساتھ عمل کرنے کے حوالہ سے وحی(قرآن وحدیث) پر اکتفاء کیے ہوئے تھے اور یوں وہ خیروبھلائی کے ساتھ حیاتِ طیبہ سے بہرہ وررہے، اور پھر کس طرح چور دروازے سے تقلید شخصی اور دیگر باطل طرق کو اسلام کا لبادہ اوڑھا کر اہل اسلام میں رائج کیا گیا او انہیں صراطِ مستقیم (راہ وحی) سے ہٹانے کی سعی مذموم کی گئی۔ حقیقی اسلام(قرآن وحدیث) کے تعارف کے حوالے سے128صفحات پر مشتمل یہ کتاب، لاریب لائقِ مطالعہ ہے۔
نام کتاب
ریاض المسلم
تحقیق وتالیف
الشیخ عبداللطیف اخترd
اشاعت:
یکم جولائی2016ء
ملنے کاپتہ
مولاناعبداللطیف اخترمدرس جامعہ دارالحدیث رحمانیہ سفیدمسجد سولجربازارنمبر1
قرآن وحدیث کے دلائل سے یہ بات الم نشرح ہےکہ ایک مسلمان کیلئے ضروری ہے کہ وہ ہروقت ذکرالٰہی میں مصروف رہے اس کا ایک آسان ساطریقہ یہ ہےکہ روز مرہ کےکام انجام دیتے وقت، ان کاموں کے مواقع کی ادعیہ مسنونہ کااہتمام کرلیاجائے یوں ایک مسلمان ہر وقت ذکرالٰہی میں مصروف رہ سکتا ہے مثلا:سوتےوقت، جاگتے وقت، بیت الخلاء میں جاتے اور نکلتے وقت، وضوء کےآغاز واختتام پر، مسجد میں داخل ہوتے اور نکلتے وقت، کھاناکھاتےوقت اور کھانا کھانے کے بعد،گھر میں جاتے اور گھر سے جاتے وقت ،سواری پر سوار ہوتے وقت،وغیرہ وغیرہ الغرض جتنے مواقع ہیں ہر موقعہ کی دعا کا اہتمام کرلیا جائے تو ہر وقت اپنی زبان کوذکرالٰہی سے تررکھاجاسکتاہے۔
اس بات کے پیش نظر علماء کرام نے ادعیہ مسنونہ پر مشتمل کتابیں مرتب فرمائیں اور ان کتابوں کو قبولِ عام حاصل ہوامثلاً:
۱۔پیارے رسولﷺ کی پیاری دعائیںاز مولانا عطاء اللہ حنیفa
۲۔ حصن المسلم ازسعید بن علی بن وھف القحطانی
۳۔کتاب الدعاء از مولانا مختاراحمد ندوی سلفی
۴۔ مسنون دعائیں از محدث دیار سندھ علامہ سید ابومحمد بدیع الدین شاہ راشدیa
۵۔روز مرہ کی مسنون دعائیں از سماحۃ الشیخ عبدالرزاق البدرd
۶۔محمدرسول اللہ ﷺ کی نماز مع مسائل واذکار از حافظ عبدالمالک مجاہدd
۷۔مسنون دعائیں از مفتی عبدالقہار دہلویa
محولہ بالاکتاب ’’ریاض المسلم‘‘ بھی اس سلسلہ کی کڑی ہے۔ اس کتاب کی اضافی خوبی یہ ہے کہ اس کے آخر میں عبادات واخلاقیات سے متعلق40احادیث عربی مع اردو ترجمہ ،عقیدہ سے متعلق21اہم ترین سوالات اور قرآن وحدیث سے ان کے جوابات، سیرتِ نبویﷺ (علی صاحبھا الصلاۃ والسلام)سے متعلق49سوالات اور ان کے جوابات، قرآنی معلومات سے متعلق 19سوالات کے جوابات، منازل کی تقسیم، قرآن مجید کی سورتوں کی نزولی ترتیب اور اسماءِ حسنیٰ ذکرکردیئے گئے ہیں۔
الغرض: یہ کتاب ہر اعتبار سے لائقِ مطالعہ اور ہر گھر کی ضرورت ہے۔

About شیخ ذوالفقارعلی طاہررحمہ اللہ

.سابق ناظم امتحانات جمعیت اہل حدیث سندھ اور ایڈیٹر دعوت اہل حدیث اردو مجلہ ٣ جنوری ٢٠١٨ کو ایک ٹریفک حادثے میں انتقال کر گئے ‏اللهم اغفر له، وارحمه، وعافه، واعف عنه، وأكرم نزله، ووسع مدخله واغسله بالماء والثلج والبرد ونقه من الخطايا، كما نقيت الثوب الأبيض من الدنس، وأبدله داراً خيراً من داره، وأهلاً خيراً من أهله، وزوجاً خيراً من زوجه، وأدخله الجنة، وأعذه من عذاب القبر، ومن عذاب النار

Check Also

پاکستان زندہ آباد

فضیلۃ الشيخ ذوالفقار علی طاہرر رحمہ اللہ کی یوم آزادی کی مناسبت سے لکھی ہوئی …

جواب دیجئے