Home » Uncategorized » امام ترمذی رحمہ اللہ کا تساہل علماءاحناف کی نظر میں

امام ترمذی رحمہ اللہ کا تساہل علماءاحناف کی نظر میں

امام ترمذی رحمہ اللہ کا مقام ومرتبہ کسی بھی ذی علم سےاوجہل نہیں، امام صاحب کا شمار ان بابرکت شخصیات میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنی پوری زندگی حدیث رسول کی خدمت میں گذاری،دیگرائمہ حدیث (امام بخاری،امام علی بن مدینی،امام احمد،امام مسلم وغیرہم)کی بنسبت امام ترمذی روات پر حکم لگانے میں متساہل(نرم )سمجھے جاتے ہیں،محدثین نے ان کی منفرد توثیق کا اعتبار نہیں کیا۔جیساکہ امام ذہبی فرماتے ہیں:

فلهذا لا يعتمد العلماء على تصحيح الترمذي.

اسی (کثیربن عبداللہ المزنی وامثالہ کی توثیق کرنے کی)وجہ  سے علماء امام ترمذی کی تصحیح پر اعتماد نہیں کرتے۔

[ میزان الاعتدال ج۳ص۴۰۷ت۶۹۴۳طبع دار المعرفة]

اسی طرح ایک اور مقام پر فرماتے ہیں:

فلا يغتر بتحسين الترمذي، فعند المحاققة غالبها ضعاف.

امام ترمذی رحمہ اللہ کی تحسین (یعنی ان کا کسی حدیث کو حسن کہنا)سے  دھوکہ نہیں کھانا چاہیے،محققین کے نزدیک ایسی اکثر روایات ضعیف ہوتی ہیں۔[میزان الاعتدال ص ۴۱۶ج ۴ت۹۶۶۱ طبع دار المعرفة]

علاوہ ازیں درج ذیل کتب میں بھی امام صاحب کو متساہل تصور کیا گیاہے۔

[ذکرمن یعتمدقولہ فی الجرح والتعدیل  للذہبی ص۱۵۹،فتح الباری لابن حجر ج۹ص۷۸،سلسلۃ الاحادیث الضعیفۃ الالبانی ج۱ص۷۶،المتکلمون فی الرجال للسخاوی ص۱۳۷،مقدمہ تحفۃ الاحوذی ص۳۵۰]

دورحاضر کے بعض مخالفین کتاب وسنت اپنی بے سروپاروایات کی تصحیح  وتحسین یا اپنی مرضی کے راویوں کی ایسی توثیق امام صاحب سے پیش کرتے رہتے ہیں  جس میں امام صاحب منفرد ہوتےہیں،جب اہل حق کی طرف سے انہیں کہاجاتاہےکہ امام صاحب کا شمارمتساہلین میں ہوتاہے انکی منفرد توثیق قبول نہیں کی جاتی تو وہ امام صاحب کے تساہل کاہی انکار کردیتےہیں،اسی مناسبت سے  ذیل میں ہم انہیں کے علما ءکی  بارہ (12)باحوالہ عبارات پیش کرتے ہیں جنہوں نے امام ترمذی رحمہ اللہ کو متساہل سمجھتے ہوئے ان کی منفرد توثیق کوقبول نہیں کیا۔

1۔علامہ زیلعی حنفی(المتوفی۷۶۲ھ) ایک روایت (جسے امام ترمذی نے حسن کہاہے)پر تبصرہ کرتے ہوئے کہتےہیں:

 وانكر عليه، لان مداره على الحجاج بن أرطاة، وهو مدلس، ولم يذكر سماعا.

یعنی امام صاحب کی اس تحسین کا (محدثین کی طرف سے) انکار کیا گیاہے، کیونکہ اس روایت کا دارومدار حجاج بن ارطاۃ  پر ہے اور وہ مدلس ہے اس روایت میں اس نے سماع کی تصریح نہیں کی۔[نصب الرایۃ ج۲ص۳۰۰ مؤسسة الريان للطباعة والنشر]

2۔ملاعلی قاری حنفی نے بھی امام صاحب کو متساہل کہاہے۔

[مرقاۃ المفاتیح  شرح مشکاۃ المصابیح ج۱ص۲۵طبع دارالفکر]

3۔محمدزکریاکاندھلوی صاحب لکھتےہیں:۔ امام ترمذی کے اوپرمتساھل فی تصحیح الاحادیث وتحسینھا کااعتراض ہے۔۔۔اوریہ اعتراض بڑا مضبوط ہے۔اورامام ترمذی کے متساہل

ہونے کی بہت سی مثالین جامع ترمذی میں ملتی ہیں۔

[مقدمہ الکوکب الدری ص۴۷طبع مکتبہ الشیخ کراچی]

4سرفراز صفدر صاحب لکھتےہیں:۔۔۔باوجودیکہ حضرات محدثین  کرام کے نزدیک امام ترمذی حدیث کی تصحیح وتحسین میں بڑے متساہل ہیں۔[الکلام المفید فی اثبات التقلید ص۳۲۹طبع مکتبہ صفدریہ گوجرانوالہ]

5۔مفتی تقی عثمانی صاحب لکھتے ہیں:اگرکسی حدیث کی تصحیح کے بارے میں امام ترمذی متفرد ہوں اور دوسرے تمام ائمہ سے اسی کی تضعیف منقول ہو تو اس صورت میں جمہورکے قول کا اعتبار کرنا چاہیے۔

[درس ترمذی ج۱ص۱۳۷طبع مکتبہ دارالعلوم کراچی]

اور اسی طرح جرابوں پر مسح کرنے والی روایت کے متعلق کہتے ہیں:اس حدیث کی تصحیح میں امام ترمذی سے تسامح ہواہے۔

[درس ترمذی ج۱ص۱۷۶طبع مکتبہ دارالعلوم]

6۔ڈاکٹر عبدالستار مروت دیوبندی صاحب لکھتےہیں:الغرض امام ترمذی کو اپنی جامع میں بعض ضعیف روایات کو صحیح اور بعض مجہول  روایات کو حسن قرار دینے کی وجہ سے امام حاکم کی طرح متساہل قرار دیاگیاہے اوراسی تساہل کی بنا پر انکی تصحیح  اور تحسین کو غیرمعتبر بتایاگیا ہے اوران کے تساہل کی یہی وجہ علامہ ذہبی نے بھی بیان فرمائی ہے۔

[دقائق السنن ج۱ص۴۱طبع مکتبہ صفدریہ پشاور]

7۔بریلوی مکتب فکرکے معروف عالم غلام رسول سعیدی صاحب لکھتے ہیں:احادیث پر کوئی حکم لگانے اورانکی قسم متعین کرنے میں  بعض اوقات امام ترمذی سے تساہل بھی واقع ہواہے۔

[مقدمہ جامع ترمذی مترجم ج۱ص۴۱ مترجم صدیق سعیدی بریلوی طبع فرید بک اسٹال لاہور]

ایک روایت پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتےہیں:۔۔۔اورامام ترمذی کا اسکو غیرمحفوظ کہنا محض تساہل ہے۔[ص۴۲]

8۔دیوبندی مکتب فکر کے مناظر ماسٹر امین اوکاڑوی نے لکھا:امام ترمذی اس بارے میں متساہل ہیں۔

[تجلیات صفدر ج۲ص۱۷۶طبع مکتبہ امدادیہ ملتان]

9۔عبدالغنی طارق لدھیانوی دیوبندی نےجرابوں پر مسح کرنے والی روایت کے بارے میں لکھا:اس کی تصحیح میں ترمذیسے تسامح ہوگیاہے۔[انوارالسنن۱۹۱طبع زم زم پبلشرز کراچی]

10۔دیوبندی مولوی عبدالحق (بانی دارالعلوم اکوڑہ کھٹک)کہتے ہیں:امام ترمذی کی تصحیح یا تحسین پراس وقت مکمل اعتماد نہیں کیاجاسکتاجب وہ اپنے اس قول میں منفردہوں۔[حقائق السنن ج۱ص۸۱طبع دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ کھٹک]

11۔دیوبندی مکتب فکر کےمفتی نظام الدین شامزئی صاحب امام ترمذیکے نزدیک ایک صحیح روایت پر بحث کرتے ہوئے  امام نووی کے حوالے سے کہتے ہیں:ان (عبدالرحمان بن مہدی،یحیی بن معین،احمد،سفیان ثوری اورامام مسلم)میں سے ہر ایک امام ترمذی

سے مقدم ہے یعنی ترمذی کسی حدیث کو صحیح کہیں اور ان میں سے کوئی ایک ضعیف کہے تو اسی کی بات مانی جائیگی(نہ کہ امام ترمذی کی)۔

[مجمع البحرین ج ۱ص۱۰۴،۱۰۵طبع مکتبہ الحبیب کراچی]

12۔علامہ یوسف بنوری دیوبندی صاحب ،امام ترمذی کے نزدیک صحیح روایت پر بحث کرتےہوئے لکھتےہیں:

لایقبل قول الترمذی انہ حسن صحیح .

 یعنی امام ترمذی کا اس کو حسن صحیح کہنا ناقابل قبول ہے۔

[معارف السنن ج۱ص۳۴۹طبع ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی]

ان کے علاوہ بھی کافی حوالے موجود ہیں اختصار کے پیش نظر انہیں پر اکتفاء کیاجاتاہے۔

تنبیہ:امام صاحب رحمہ اللہ کی توثیق کو ہر صورت میں ناقابل اعتبار قرار دینا قطعا درست نہیں ہے ،جیساکہ دور حاضر کے بعض لوگوں کاطرز ہے،حق بات یہ ہے کہ اگر امام صاحب رحمہ اللہ کسی راوی  کی توثیق  یا کسی حدیث تصحیح یا تحسین کردیں اور کوئی دوسرا محدث بھی انکی موافقت کردے چہ جائیکہ کہ وہ امام صاحب کی طرح متساہل ہی ہو توامام صاحب کا وہ حکم قبول کیاجائیگا، بشرط ان کی توثیق جمہور کے مخالف نہ ہو اور وہ روایت اصول محدثین کے مطابق ضعیف نہ ٹھہرتی ہو،  اوراسی طرح امام صاحب کسی مجہول راوی (جس کی توثیق نہ مل رہی ہو) کی توثیق کردیں اور ان کی کوئی  دوسرامحدث موافقت کردے چاہے وہ امام صاحب کی طرح متساہل ہو یا معتدل  تواس راوی کی جہالت مرتفع ہوجائیگی ۔

About محمدابراھیم ربانی

Check Also

سیدناامیرمعاویہ رضی اللہ عنہ اور کتابت وحی

آج کے اس پرفتن دور میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہ بالخصوص سیدنا معاویہ بن …

جواب دیجئے