Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2018 » شمارہ اکتوبر » الصلاۃ خیر من النوم کے الفاظ کس اذان میں  ؟

الصلاۃ خیر من النوم کے الفاظ کس اذان میں  ؟

الصلاۃ خیر من النوم کے الفاظ کس اذان میں کہنے چاہئیں ؟ اس بارے میں اہل علم میں اختلاف پایاجاتاہے جمہور اہل علم ان الفاظ کو نماز فجر میں کہنے کے قائل ہیں جب کہ بعض علماء کا کہنا ہے کہ یہ الفاظ رات(سحری کے وقت)کی اذان  میں کہے جائینگے۔

ہمارے نزدیک جمہور اہل علم کا قول راجح ہے ۔

ذیل میں تفصیل ملاحظہ کیجیے۔

سیدنا انس بن مالک الانصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

من السنة اذا قال المؤذن في اذان الفجر حي على الفلاح قال: الصلاة خير من النوم.

یہ سنت میں سے ہے کہ جب مؤذن صبح کی اذان میں حی علی الفلاح کہے تو’’ الصلاۃ خیرمن النون ‘‘کہے۔

[صحيح ابن خزيمة ج۱ص۲۰۲ح۳۸۶،ط المكتب الاسلامي،السنن الکبری للبیھقی ج۱ص۲۲۳ح۱۹۸۴،ط دار الكتب العلميہ]

اس روایت کو امام ابن خزیمہ اور امام بیہقینے صحیح قرار دیاہے ،نیزسنن دارقطنی(ج۱ص۴۵۴ح۹۴۴) میں مرتین. (یعنی ان الفاظ کو دفعہ کہنے )کا اضافہ موجودہے۔

فائدہ:یہ اصول حدیث  کا مسلم مسئلہ ہے کہ جب بھی کوئی صحابی کسی امر کے بارے میں کہے کہ یہ سنت ہے تو وہ مرفوع حدیث کے حکم میں ہوتاہے۔تفصیل کے لیے  ملاحظہ کیجیےراقم کی کتاب(نمازجنازہ میں ایک طرف ہی سلام پھیرنا مسنون ہے ص۳۷۔۳۸)

اس صحیح حدیث سے معلوم ہوا کہ الصلاۃ خیر من النوم کے الفاظ اذان فجر میں  ہی کہے جائینگے ۔

جہاں تک تعلق ہے  طلوع فجر سے پہلے والی اذان کا تو اس میں یہ الفاظ کہنا ثابت نہیں ہیں اس اذان کواذان لیل (رات کی اذان ) کہا جاتا ہے ۔

جیساکہ نبی اکرمﷺنے فرمایا:

إن بلالا يؤذن بليل.[صحيح البخاري ح۶۲۲]

اس حدیث پر امیر المؤمنین فی الحدیث محمدبن اسماعیل بخاری a (المتوفٰی۲۵۶ھ)نے بایں الفاظ باب قائم کیاہے:

باب الاذان قبل الفجر.

معلوم ہوا کہ اس اذان کا تعلق فجر کی پہلی اذان سے ہے، بعض کا اسی اذان کو بھی اذان فجر کہنا الفاظ حدیث وفہم ائمہ دین کے خلاف ہے۔

بعض روایات میں یہ الفاظ فجر کی پہلی اذان میں کہنے کا ذکر موجودہے اس سے بعض علماء رات کی اذان (جسے سحری کی اذان کہا جاتا ہے)میں ان (الفاظ)کوکہنے کی دلیل لیتےہیں۔

توعرض ہے کہ سحری کی اذان کو رات کی اذان کہاجاتاہے نہ کہ فجر کی اذان ۔ کماذکرنا

باقی جن احادیث میں فجر کی دو اذانوں کا تذکرہ ہے تو ان میں  دوسری اذان سے اقامت مراد ہےکیونکہ اقامت کو بھی اذان کہا جاتا ہے۔جیسا کہ رسول اکرمﷺ نے فرمایا:

بين كل اذانين صلاة.

یعنی  ہر دو اذانوں کے درمیان نماز (سنت)ہے۔

(صحیح بخاری، رقم الحدیث:۶۲۷)

ایک حدیث میں آتاہے:

كان الاذان على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم , وابي بكر , وعمر اذانين يوم الجمعة.

نبی اکرمﷺ،ابوبکر اور عمرکے زمانہ میں جمعہ کی دو اذانیں تھیں۔(صحیح بخاری رقم الحدیث ۱۷۷۴)

ان دونوں احادیث میں اقامت کو بھی اذان کہاگیاہے۔

علامہ خطابی(المتوفٰی۳۸۸ھ) اس کی توضیح کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

أراد بالأذانين: الأذان والإقامة، حمل أحد الاسمين على الآخر، كقولهم: الأسودان: التمر والماء،وإنما الأسود أحدهما، وكقولهم: سيرة العمرين،  يريدون أبا بكر وعمر۔

یعنی دو اذانوں سے اذان اور اقامت مرادہے ایک نام کو دوسرے پرمحمول کیاگیاہے جس طرح کھجور اور پانی دونوں پر اسودین کا لفظ بولاجاتاہے حالانکہ ان دونوں میں سے اسود(سیاہ)صرف ایک ہے اور اسی طرح سیرت عمرین سے ابوبکر اورعمر کی سیرت مرادہوتی ہے۔

[معالم السنن، ج:۱ص:۲۷۷،ط:المطبعة العلمية]

علامہ یحیی بن شرف نووی (المتوفٰی۶۷۶ھ)نے فرمایا:

المراد بالأذانين الأذان والإقامة.

دو اذانوں سے مراد اذان اور اقامت ہیں۔

[شرح صحیح المسلم۔ ج:۶ص:۱۲۳،ط:دار احياء التراث العربي]

مزید فرماتے ہیں:والمراد بالأذانين الأذان والإقامة باتفاق العلماء.[المجموع،ج:۴ص:۹،ط:دار الفكر]

دو اذانوں سے اذان اور اقامت کو مراد لینے پر علماء کا اتفاق ہے۔

امام بغوی رحمہ اللہ (المتوفٰی۵۱۶ھ) اس کی توضیح میں امام خطابی رحمہ اللہ کا قول بیان کرنے کے بعدفرماتے ہیں:

ويحتمل أن يكون الاسم لكل واحد منهما حقيقة، لأن الأذان في اللغة الإعلام، فالأذان إعلام بحضور الوقت، والإقامة أذان بفعل الصلاة.

یہ بھی احتمال ہے کہ ان(اذان اوراقامت) میں سے ہر ایک کو اذان حقیقی طور پر کہاگیاہو کیونکہ اذان کا لغوی  معنی اعلان کرناہے۔ نماز کا وقت ہوجانے پر اذان کے ذریعہ اعلان کیاجاتاہے جبکہ  اقامت کے ذریعہ نماز کے شروع ہونے کا اعلان کیاجاتاہے(تو اسی لغوی مناسبت کی وجہ سے اسے بھی اذان کہاگیاہے)۔

[شرح السنۃ،ج:۲ص:۲۹۴،بتحقیق الشیخ شعيب الارنؤوط،ط:المکتب الاسلامی ]

حافظ ابن حجر فرماتے ہیں:

أن هذا من باب التغليب كقولهم القمرين الشمس والقمر ويحتمل أن يكون أطلق على الإقامة أذان لأنها إعلام بحضور فعل الصلاة كما أن الأذان إعلام بدخول الوقت.

یہ تغلیب کے باب میں سے ہے جس طرح سورج اور چاند دونوں کو قمرین کہاجاتاہے۔اور یہ بھی ممکن ہے لفظ اذان کا اقامت پر اطلاق اس طور پر کیاگیاہے کہ یہ(اقامت) نماز کے کھڑے ہوجانے کے لیے اعلان ہے اور اذان نماز کے وقت شروع ہوجانے کے لیے اعلان ہے۔[فتح الباري شرح صحيح البخاري، ج:۲ص:۱۴۱، ط:دارالسلام ریاض]

علامہ عبدالرحمن محدث مبارکپوری رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

أي أذان وإقامة وهذا من باب التغليب كالقمرين  للشمس والقمر.

دو اذانوں سےاذان اور اقامت مراد ہیں اور یہ تغلیب کے باب میں سے ہے جس طرح سورج اور چاند کو قمرین کہاجاتاہے۔

[تحفۃالاحوذی،ج:۱ص:۴۶۶،ط:دارالكتب العلمية]

علامہ عطاءاللہ حنیف بھوجیانیفرماتے ہیں:

والمراد بالاذانین الاذان والاقامۃ.

دو اذانوں سے مراد اذان اور اقامت ہیں۔

[التعلیقات السلفیہ، ج:۱ص:۴۶۵،المکتبۃ السلفیۃ، لاہور]

محدثین کی تبویب

کتاب وسنت کا وہی مفہوم معتبر ہے جو سلف صالحین سے ماخوذ ہے، اب  آئیےسلف سے  معلوم کرتےہیں کہ وہ اس حدیث کا  کیا مطلب لیتے ہیں۔

محدثین نے اس حدیث سے فجر ہی کی اذان مراد لی ہے ،کسی  بھی امام نے اس سے سحری کی اذان مراد نہیں لی۔

اس حدیث پر محدثین کی تبویب ملاحظہ کیجیے:

اما م ابو بکر محمد بن ابراھيم بن المنذر النيسابوري رحمہ اللہ (المتوفٰی۳۱۹ھ)نے اس حدیث پران الفاظ میں باب قائم فرمایا:

ذكر التثويب في اذان الفجر.

اذان فجر میں تثویب(الصلاۃ خیرمن النوم)کا ذکر۔

[الاوسط في السنن والاجماع والاختلاف، ج:۳ص:۲۲ح:۱۱۷۳،ط:دار طيبة ،الرياض]

امام ابو نعيم الفضل بن عمرو بن حماد التيمي ، المعروف بابن دکين (المتوفٰی۲۱۹ھ)نے تبویب یوں قائم فرمائی ہے:

باب في الصلاة خير من النوم من كان يقول في صلاة الفجر.

نماز فجر میں الصلاۃ خیر من النوم کہنے کابیان۔

[کتاب الصلاة لابن دکین، ص:۱۸۳ح:۱۹۸۱،ط: مكتبة الغرباء الأثرية]

امام الائمہ ابو بکر محمد بن اسحاق بن خزيمہ النيسابوري (المتوفٰی۳۱۱ھ) نے اس طرح باب باندھاہے:

باب التثويب في اذان الصبح.

اذان فجر میں تثویب (الصلاۃ خیرمن النوم )کہنےکا بیان۔[صحيح ابن خزيمة،ج:۱ص:۲۰۰ح:۳۸۵،ط: المكتب الاسلامي]

امام ابو عبد الرحمن احمد بن شعيب بن علي  النسائي (المتوفٰی۳۰۳ھ)اس حدیث سے پہلے فرماتے ہیں:

التثويب في اذان الفجر.

اذان فجر میں تثویب (الصلاۃ خیرمن النوم ) کہنے کا بیان۔

[سنن نسائی ،رقم الباب: ۱۵قبل حدیث۶۴۸]

امام ابو بکر احمد بن الحسين بن علي البيہقی(المتوفٰی۴۵۸ ھ)  نے یوں باب قائم فرمایا:

باب التثويب في اذان الصبح.

اذان فجر میں تثویب (الصلاۃ خیرمن النوم ) کہنے کا بیان۔

السنن الكبرى، ج:۱ص:۶۲۲ح:۱۹۸۱ط:دار الكتب العلمية]

امام ابو جعفر احمد بن محمد بن سلامہ طحاوی رحمہ اللہ (المتوفٰی۳۲۱ھ) نے فرمایا:

باب قول المؤذن في اذان الصبح الصلاة خير من النوم.

 مؤذن کا صبح کی اذان میں الصلاۃ خیر من النوم کہنے کابیان۔[شرح معاني الآثار،ج:۱ص:۱۳۷،ط:عالم الكتب]

امام علي بن عمردارقطنی رحمہ اللہ (المتوفٰی۳۸۵ھ)نے بھی اس حدیث کو  باب ذكر الإقامة واختلاف الروايات فيها میں درج کیاہے۔[سنن الدارقطني،ج:۱ص:۱۴۳،ط:مؤسسة الرسالة]

ائمہ حدیث کی تبویب وتفہیم سے معلوم ہوتاہےکہ  اس  حدیث  کا تعلق اذان فجر سے ہی ہے ۔

بعض کا اس حدیث سے اذان لیل(سحری کی اذان)میں الصلاۃ خیرمن النوم کی دلیل لینا فہم سلف کے خلاف ہونے کی وجہ سےدرست نہیںہے۔ھذا ماعندی  واللہ اعلم بالصواب.

About محمدابراھیم ربانی

Check Also

ترجمان اہلحدیث ڈاکٹرعبدالحفیظ سموں حفظہ اللہ کا مختصرتعارف

واٹس ایپ کی دنیامیں خدمت دین میں رواں دواں علمی مجموعہ ’’دارالاسلاف‘‘میں تعارف علماء اہلحدیث …

جواب دیجئے