Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2017 » شمارہ اگست » اقامت ہوجانے کے بعد فجر کی سنتوں کاحکم

اقامت ہوجانے کے بعد فجر کی سنتوں کاحکم

تحریر:محمدابراھیم ربانی،بدین۔فاضل: المعہد السلفی کراچی


فرض نماز کی اقامت کے بعد فرض کے علاوہ سنتیں یا نوافل پڑھنا درست نہیں احادیث صحیحہ میں اقامت کے بعد سنتیں پڑھنے کی سخت ممانعت موجودہے ، لیکن بعض الناس کا کہنا ہے کہ اس حکم سے فجر کی سنتیں خارج ہیں یعنی اقامت کے بعد بھی فجر کی سنتیں پڑھی جاسکتی ہیں، صحیح وصریح دلائل کے پیش نظر یہ موقف انتہائی کمزور ہے۔
cسیدنا ابوھریرہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
اذا اقیمت الصلاۃ فلاصلاۃ الاالمکتوبۃ.
جب فرض نماز کے لئے اقامت کہہ دی جائے تو فرض کے علاوہ کوئی بھی نماز نہیں ہوتی۔(صحیح مسلم،الرقم:710)
اس صحیح حدیث سے ثابت ہوا کہ اقامت کے بعدفرض کے علاوہ کوئی بھی نماز پڑھنا جائز نہیں چاہے وہ فجر کی سنتیں ہوں یا کوئی اور نماز سب کاحکم یکساں ہے ائمہ حدیث نے بھی اس حدیث کے عموم میں فجر کی سنتوں کو شامل کیا ہے۔
zامام بیہقی a(المتوفی 458ھ)نےاس حدیث کو درج ذیل باب کے تحت لکھا ہے:
باب کراھیۃ الإشتغال بھما بعد ما اقیمت الصلاۃ.
یعنی: اقامت ہوجانے کے بعد فجر کی دو سنتوں میں مشغول ہونے کی کراہیت کابیان۔(سنن الکبری للبیھقی مع الجوھر النقی 481/2طبع نشر السنۃ ملتان)
zامام محمد بن اسحٰق بن خزیمہ a(المتوفی 311ھ)نے اس حدیث پر ان الفاظ میں باب قائم کیا ہے:
باب النھی عن أن یصلی رکعتی الفجر بعد الإقامۃ ضد قول من زعم انھما تصلیان والإمام یصلی الفریضۃ.
یعنی: اس بات کابیان کہ فجر کی دو رکعت اقامت کے بعد ادا کرنا منع ہے برخلاف اس شخص کے جو کہتا ہے کہ امام فرض نماز پڑھ رہا ہوتو یہ دو رکعت پڑھ لی جائیں۔
(صحیح ابن خزیمہ 169/2المکتب الاسلامی)
zامام محمد بن حبان البستی a(المتوفی 354ھ)نےاس حدیث پر یوں باب قائم فرمایا۔
ذکر البیان بأن حکم صلاۃ الفجر وحکم غیرھا من الصلوات فی ھذا الزجر سواء.
یعنی: اس بات کا بیان کہ اس ڈانٹ میں فجر اور دوسری نمازوں کا حکم ایک ہی ہے۔(صحیح ابن حبان بترتیب ابن بلبان، ص: 412بیت الافکار والدولۃ)
محدثین کے انداز تبیین سے بھی واضح ہور ہا ہے کہ یہ حدیث فجر کی سنتوں کو بھی شامل ہے۔
اعتراض: معروف دیوبندی عالم علامہ یوسف بنوری صاحب اس حدیث کے متعلق لکھتےہیں کہ اس حدیث کے مرفوع اور موقوف ہونے میں اختلاف ہے اس لئے یہ حدیث مضطرب ہے۔(معارف السنن 76/4مکتبہ بنوریہ کراچی)
جائزہ: یہ حدیث مرفوعا وموقوفا دونوں طرح ثابت ہے مسلمہ اصول ہےکہ جب ایک روایت مرفوع ثابت ہو اور وہی روایت دوسرے کسی طریق سے موقوفا بھی ثابت ہوجائے تو مرفوع کا اعتبار کیاجائیگا۔
جیسا کہ امام یحیی بن مشرف الدین النووی a(المتوفی 672ھ)فرماتے ہیں:
قال بعض المحدثین ان الحدیث ذار روی مرفوعا وموقوفا فالحکم للوقف والصحیح ان الحکم للرفع لأنہ زیادۃ ثقۃ .
یعنی: محدثین کا کہنا ہے کہ جب کسی حدیث کو مرفوع وموقوف دونوں طرح بیان کیاجائے تو موقوف کا اعتبار ہوگا جبکہ صحیح بات یہ ہے کہ اس صورت میں مرفوع کا اعتبار ہوگا کیونکہ یہ ثقہ راوی کی زیادتی ہے۔(المجموع115/1دار الفکر)
اور اسی طرح معروف حنفی عالم علامہ زیلعی a(المتوفی 762ھ)فرماتے ہیں:
اذا رفع ثقۃ حدیثا وقفہ اخر او فعلھا شخص واحد فی وقتین ترجح الرافع.
یعنی:جب ثقہ راوی کسی حدیث کو مرفوع بیان کرے اور دوسرا راوی اسے موقوف بیان کرے یا ایک ہی شخص ایک وقت میں مرفوع بیان کرے اور دوسرے وقت میں اسی روایت کو موقوف بیان کرے تو مرفوع بیان کرنے والے کو ترجیح دی جائیگی۔
(نصب الرایہ 19/1دار نشر الکتب الاسلامیہ لاہور)
معلوم ہوا کہ مرفوع وموقوف کے اختلاف کی صورت میں مرفوع کو ترجیح حاصل ہوگی۔
اس کے بعد بھی بعض الناس کا مذکورہ حدیث کو مضطرب کہنا سوائے تقلیدی تعصب وعناد کے کچھ نہیں۔
cسیدنا عبداللہ بن مالک بن بحینہ فرماتے ہیں:
ان رسول اللہ ﷺ رای رجلا وقد اقیمت الصلاۃ یصلی رکعتین فلما انصرف رسول اللہ ﷺ لاث بہ الناس فقال رسول اللہ ﷺ آلصبح اربعا؟ آلصبح اربعا؟.
یعنی:رسول اللہ ﷺ نے ایک آدمی کو دیکھا کہ وہ نماز کی اقامت کے بعد فجر کی دورکعت پڑھ رہا تھا جب رسول اللہ ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو لوگوں نے اس آدمی کو گھیر لیا آپﷺ نے اس سے فرمایا کیا فجر کی (فرض) نماز کی چار رکعت پڑھ رہے ہو؟ کیا فجر کی(فرض) نماز کی چار رکعت پڑھ رہے ہو؟
(صحیح البخاری،الرقم:663صحیح مسلم، الرقم:711)
اس صحیح حدیث سے ثابت ہوا کہ اقامت کے بعدفرض کے علاوہ کوئی بھی نماز پڑھنا جائز نہیں چاہے وہ فجر کی سنتیں ہوں یا کوئی اور نماز سب کاحکم یکساں ہے ائمہ حدیث نے بھی اس حدیث کے عموم میں فجر کی سنتوں کو شامل کیا ہے۔
zشارح مسلم امام یحی بن شرف الدین النوویa(المتوفی 672ھ)’’آلصبح اربعا‘‘کا مطلب بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
تصلی الصبح اربعا، ھو استفہام انکار ومعناہ انہ لایشرع بعد الإقامۃ للصبح إلا الفریضۃ فاذا صلی رکعتین نافلۃ بعد الإقامۃ لم صلی معھم الفریضۃ صار فی معنی من صلی الصبح اربعا لانہ صلی بعد الإقامۃ اربعا.
یعنی: کیا تم صبح کی(فرض) نماز چارر کعت ادا کرتے ہو؟ یہ استفہام انکاری ہے، اس کا معنی یہ ہے کہ صبح کی نماز کی اقامت کے بعد فرض نماز ہی ادا کی جاسکتی ہے جب آدمی اقامت کے بعد دو رکعتیںنفل ادا کریگا پھر نمازیوں کے ساتھ فرض پڑھے گا گویاصبح کی چار رکعت ادا کررہا ہے کیونکہ اس نے اقامت کے بعد چار رکعتیں ادا کی ہیں۔
( شرح صحیح مسلم 31/4داراحیاء التراث العربی )
علامہ عینی حنفی کی وضاحت
علامہ عینی حنفیa(المتوفی 855ھ) فرماتے ہیں:
قولہ آلصبح اربعا حیث انکر علی الرجل الذی کان یصلی رکعتین بعد أن اقیمت صلاۃ الصبح فقال آلصبح اربعا ای الصبح تصلی اربعا لانہ اذا صلی رکعتین بعد ان اقیمت الصلاۃ ثم یصلی مع الإمام رکعتین صلاۃ الصبح فیکون فی معنی من صلی الصبح اربعا فدل ہذا علی أن لا صلاۃ بعد الإقامۃ الا الصلاۃ المکتوبۃ.
یعنی:کیا صبح کی نماز چار رکعت پڑھ رہے ہو؟ اس قول کے ساتھ آپﷺ نے اس شخص پر انکار کیا جو صبح کی نماز کھڑی ہونے کے بعد دو رکعتیں ادا کررہا تھا یعنی نماز کھڑی ہونے کے بعد وہ دو رکعتیں سنت ادا کرکے پھرامام کے ساتھ صبح کی دو رکعت نماز پڑھے گا توگویا اس نے صبح کی چار رکعتیں ادا کی ہیں اس سے معلوم ہوتا ہے اقامت ہوجانے کے بعد کوئی نماز سوائے فرض نماز کے نہیں ہوتی۔
( عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری 182/3دار الفکر)
cسیدنا عبداللہ بن عباسwفرماتے ہیں:
کنت اصلی وأخذ المؤذن فی الإقامۃ فجذبنی النبی ﷺ وقال أتصلی الصبح اربعا؟
یعنی:میں نماز پڑھ رہا تھا اسی اثناء میں مؤذن اقامت کہنے لگا رسول اللہ ﷺ نے مجھے کھینچا اور فرمایا کیا تم صبح کی فرض نماز چاررکعت ادا کررہے ہو۔
(مسند ابی داؤد الطیالسی ،ص:358ح2736 مکتبۃ المعارف وسندہ حسن وصالح بن رستم ابو عامر الخزار وھو ثقۃ عند الجمھور)
اس کے علاوہ بھی اہل الحدیث کے موقف پر متعدد احادیث موجود ہیں جن کی تعداد حد تواتر کو جاپہنچی ہے جیسا کہ امام اندلسی ابومحمد علی بن احمد بن سعید ابن حزم الاندلسی (المتوفی453ھ)فرماتے ہیں:
فھذہ نصوص منقولۃ نقل التواتر لایحل لاحد خلافھا.
یہ نصوص (دلائل) متواتر تک مروی ہیں کسی کے لئے ان کے خلاف عمل جائز نہیں۔(المحلی 71/3مسئلہ308دار احیاء التراث الاسلامی)
اختصار کے پیش نظر انہیں چند دلائل پر اکتفاء کیاجاتاہے۔
اس کے برخلاف بعض الناس نے ان احادیث کو اپنی تقلید ناسدید کی بھینٹ چڑھاتے ہوئے باطل وفاسد تاویلات کے ذریعے فرامین رسول ﷺ کورد کردیا۔
قارئین کرام تعصب سے بالاترہوکر فیصلہ کریں کہ کیا تقلید انسان کو کتاب وسنت کی مخالفت پر آمادہ نہیں کرتی؟
حیران کن بات تو یہ ہے کہ ایک طرف یہ لوگ بڑی ڈھٹائی سے خدمت دین کا ڈھنڈورا پیٹتے ہوئے نہیں تھکتے اور دوسری طرف بڑی جرأت وبیباکی سے سنت نبوی کا انکار کرتے ہوئے نظر آتے ہیں، فیاللعجب
بعض الناس کی دلیل کا تحقیقی جائزہ
ذخیرہ حدیث میںکوئی بھی ایسی حدیث بسند صحیح موجود نہیں جس میں فجر کی سنتوں کی استثناء مذکور ہو، اس تعلق سے بعض الناس ایک سخت ضعیف روایت کا سہارالیتے ہیں اس روایت کا تحقیقی جائزہ پیش خدمت ہے:ـ
سیدنا ابوھریرہسے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
اذا اقیمت الصلاۃ فلاصلاۃ الاالمکتوبۃ الا رکعتی الصبح.
یعنی: جب نماز کی اقامت ہوجائے تو سوائے فرض نماز کےکوئی نماز نہیں ہوتی ہاںفجر کی دو رکعت (سنتیں) ہوجاتی ہیں۔
(سنن الکبری للبیھقی مع الجوھر النقی 481/2نشر السنۃ ملتان)
جائزہ:یہ روایت بلحاظ سند سخت ضعیف ہونے کی وجہ سے ناقابل قبول ہے کیونکہ اس کی سند میں تین رواۃ سخت مجروح ہے:
(۱)حجاج بن نصیر القساطیطی القیسمی
bامام ابوحاتم محمد بن ادریس الرازی(المتوفی 277ھ)ان کے متعلق فرماتے ہیں:
منکر الحدیث ،ضعیف الحدیث.(الجرح والتعدیل لابن ابی حاتم 163/3ت712دار احیاء التراث العربی)
bامام ابوالحسن احمد بن عبداللہ العجلی(المتوفی 261ھ)نے حجاج بن نصیر کو متروک قراردیا ہے۔
(تاریخ الثقات ،ص:109ت 257مکتبہ اثریہ )
bامام ابوعبداللہ محمد بن اسمعیل البخاری(المتوفی 256ھ)نے بھی ان کو ضعیف کہا ہے۔
(کتاب الضعفاء ،ص:30ت76بتحقیق الشیخ زبیر علی زئی)
bامام ابوالفرج عبدالرحمان بن علی بن محمد ابن الجوزی(المتوفی 597ھ)نےان کو ضعیف ومتروک راویوں میںذکر کیا ہے۔
(الضعفاء والمتروکون 193/1ت716دار الکتب العلمیہ)
bامام ابوعبداللہ محمد بن احمد بن عثمان الذھبی(المتوفی 748ھ)فرماتےہیں:
مجمع علی ضعفہ.
یعنی اس کے ضعف پر محدثین کا اتفاق ہے۔
(دیوان الضعفاء 172/1ت851دار العلم بیروت)
ایک اور مقام پر لکھتے ہیں:
حجاج بن نصیر ترک.
یعنی حجاج بن نصیر متروک راوی ہے۔
(تلخیص مستدرک الحاکم 179/3ونسخۃ اخری 1810/5مکتبہ نزار مصطفے مکہ)
bحافظ ابوالفضل احمد بن علی بن حجر العسقلانی(المتوفی 852ھ) فرماتےہیں:
ضعیف کان یقبل التلقین.
یہ ضعیف ہے اور تلقین قبول کرتا تھا۔
(تقریب التھذیب 190/1ت1142قدیمی کتب خانہ کراچی)
خلاصہ یہ ہوا کہ حجاج بن نصیر جمہور محدثین کے نزدیک ضعیف ہے جیسا کہ امام نور الدین علی بن ابی بکر الھیثمی (المتوفی807ھ) فرماتے ہیں:
والاکثرون علی تضعیفہ.
یعنی اکثر محدثین نے ان کو ضعیف کہا ہے۔
(مجمع الزوائد 22/1دار الکتاب العربی)
مزیدفرماتےہیں:
وقد ضعفہ الجمھور.
یعنی اس کو جمہور نے ضعیف کہا ہے۔
(مجمع الزوائد 84/10دار الکتاب العربی)
نیز حجاج بن نصیر کو معروف حنفی عالم جمال الدین ابومحمد عبداللہ بن یوسف الحنفی الزیلعی(المتوفی762ھ)نے بھی ضعیف کہا ہے۔دیکھئے:
(نصب الرایہ 44/1دار نشر الکتب الاسلامیہ)
(۲)عبادہ بن کثیر البصری الثقفی
bامام الجرح والتعدیل ابوزکریا یحی بن معین(المتوفی 233ھ)فرماتے ہیں:
ضعیف الحدیث لیس بشیٔ.
(الجرح والتعدیل لابن ابی حاتم 85/6)
bامام ابوحاتم محمد بن ادریس الرازی(المتوفی 277ھ) فرماتے ہیں:
ضعیف الحدیث.
(الجرح والتعدیل لابن ابی حاتم 85/6)
bامام ابوعبدالرحمٰن احمد بن شعیب النسائی(المتوفی 303ھ) فرماتے ہیں:
متروک الحدیث.
(کتاب الضعفاء والمتروکین ،ص:172ت429)
bامام علی بن عمر الدار قطنی(المتوفی 385ھ) نے بھی انہیں ضعیف کہا ہے۔
(کتاب الضعفاء والمتروکین،ص:129ت389مکتبہ اثریہ )
bامام ابویونس یعقوب بن سفیان الھندی(المتوفی 277ھ) فرماتے ہیں:
حدیثہ لیس بشیٔ.
(المعرفہ والتاریخ 140/3مکتبۃ الدار بروایۃ عبداللہ بن جعفر)
bامام نور الدین علی بن ابی بکر الھیثمی (المتوفی 807ھ) فرماتے ہیں:
وھو متروک الحدیث.
(مجمع الزوائد 130/1دار الکتاب العربی)
bحافظ ابوالفضل احمد بن علی بن حجر العسقلانی(المتوفی 852ھ) فرماتےہیں:
متروک.(تقریب التھذیب 168/1قدیمی کتب خانہ)
شبہ: بعض مقلدین کی طرف سے یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس (عباد) سے عباد بن کثیر البصری مراد نہیں بلکہ اس سےمراد عباد بن کثیر الرملی ہے جیسا کہ یوسف بنوری دیوبندی لکھتے ہیں:
الظاہر أنہ عباد بن کثیر الرملی لا البصری.
یعنی ا س سے عباد بن کثیر الرملی مراد ہے نہ کہ بصری۔
(معارف السنن 78/4مکتب بنوریہ کراچی)
ازالہ: راجح تحقیق کے مطابق اس (عباد) سے عباد بن کثیر البصری مراد ہے نہ کہ عبادہ بن کثیر الرملی۔
اگر بالفرض اس سے مراد عباد بن کثیر الرملی بھی لیاجائے تو بھی مفید نہیں کیونکہ عباد بن کثیر الرملی بھی محدثین کے نزدیک ضعیف ہے۔
bامام ابوعبداللہ احمد بن محمد بن حنبل الشیبانی(المتوفی 241ھ) فرماتےہیں:
ضعیف.
(العلل ومعرفۃ الرجال 207/2المکتب الاسلامی،الجرح والتعدیل لابن ابی حاکم 85/6دار احیاء التراث)
bامام ابوزرعہ عبداللہ بن عبداللہ بن یزید الرازی(المتوفی 264ھ) فرماتےہیں:
ضعیف الحدیث.
(الجرح والتعدیل لابن ابی حاتم 85/6ت132)
bامام ابوعبداللہ محمد بن اسماعیل البخاری الجعفی(المتوفی 256ھ) فرماتےہیں:
فیہ نظر.
یعنی:اس راوی میں کلام ہے۔
(تاریخ الکبیر 129/6ت164دار الکتب العلمیہ)
bامام علی بن عمر الدار قطنی(المتوفی 385ھ) فرماتے ہیں:
ضعیف.
(کتاب الضعفاء والمتروکین،ص:129ت390مکتبہ اثریہ )
bامام ابو عبدالرحمٰن احمد بن شعیب النسائی(المتوفی 303ھ) فرماتے ہیں:
لیس بثقۃ.
(کتاب الضعفاء والمتروکین،ص:172ت428مؤسسۃ الکتب الثقافیہ )
bامام ابو عبداللہ محمد بن احمد بن عثمان الذھبی(المتوفی 748ھ) فرماتے ہیں:
مجمع علی ضعفہ.
یعنی اس کےضعیف ہونے پر محدثین کا اجماع ہے۔
(دیوان الضعفاء 18/2ت2081دار العلم)
bامام ابوالفضل احمد بن علی بن حجر العسقلانی(المتوفی 852ھ) فرماتے ہیں:
ضعیف.
(تقریب التھذیب 468/1قدیمی)
خلاصہ: یہ دونوں راوی محدثین کے نزدیک ضعیف(ناقابل اعتبار) ہیں لہذا بعض الناس کا اس روایت کو بچانے کیلئے بصری کو رملی سے بدلناانہیں چنداں مفید نہیں کیونکہ دونوں ضعیف ہیں۔
تنبیہ:بعض علماء ان دونوں(رملی اوربصری) کو ایک ہی سمجھتے ہیں جیسا کہ حافظ ابن الجوزی (المتوفی 597ھ) فرماتے ہیں:
ومن العلماء من ذھب ان الرملی والثقفی واحد ولیس کذالک.
یعنی بعض علماء اس طرف گئے ہیں کہ (عباد بن کثیر) رملی اور (عباد بن کثیر البصری) ثقفی ایک ہی شخص کی دو مختلف نسبتیں ہیں حالانکہ ایسا نہیں ہے۔
(کتاب الضعفاء والمتروکین 76/2دار الباز)
(۳)لیث بن ابی سلیم
bامام ابوزرعہ عبداللہ بن عبداللہ بن یزید الرازی(المتوفی 264ھ) فرماتےہیں:
وھو مضطرب الحدیث.
اس کی حدیث میں اضطراب پایاجاتاہے۔
(الجرح والتعدیل لابن ابی حاتم 179/7ت1014)
bامام الجرح والتعدیل ابوزکریا یحی بن معین(المتوفی 233ھ)فرماتے ہیں:
ضعیف .
(تاریخ عثمان بن سعید الدارمی عن ابی زکریا، ص:159رقم: 720-560)
bامام ابوعبداللہ احمد بن محمد بن حنبل الشیبانی(المتوفی 241ھ) فرماتےہیں:
مضطرب الحدیث.
(العلل ومعرفۃ الرجال 379/2المکتب الاسلامی)
bامام ابواسحاق ابراھیم بن یعقوب الجوزجانی(المتوفی 259ھ) فرماتےہیں:
یضعف حدیثہ لیس بثبت.
اس کی(بیان کردہ) احادیث کو(محدثین کی طرف سے) ضعیف کہا گیا ہے۔ یہ ثبت (ثقہ) نہیں ہے۔
bامام ابو عبدالرحمٰن احمد بن شعیب النسائی(المتوفی 303ھ) فرماتے ہیں:
ضعیف.
(کتاب الضعفاء والمتروکین،ص:209ت536مؤسسۃ الکتب الثقافیہ )
bامام محمد بن سعد بن منبع(المتوفی 230ھ) فرماتے ہیں:
وکان ضعیفا فی الحدیث.
وہ حدیث میں ضعیف تھا۔
(طبقات الکبری 349/6دار صادر)
bامام ابوحاتم محمد بن حبان البستی(المتوفی 354ھ)اس کے متعلق فرماتے ہیں:
ولکن اختلاط فی اخر عمرہ حتی کان لا یدری ما یحدث بہ.
وہ(لیث بن سلیم) آخری عمر میں اختلاط کا شکار ہوگیایہاںتک کہ وہ اپنی بیان کردہ روایت کو بھی نہیں پہچان سکتا تھا۔
(المجروحین 231/2دار الباز)
bحافظ سراج الدین عمر بن علی بن احمد الانصاری المعروف بابن الملقن(المتوفی 804ھ)فرماتے ہیں:
وھو ضعیف عند الجمہور.
جمہور محدثین کے نزدیک یہ ضعیف ہے۔
(خلاصہ البدر المنیر ،ص:78مکتبہ شاملہ)
bجمال الدین ابومحمد عبداللہ بن یوسف الحنفی الزیلعی (المتوفی762ھ) فرماتے ہیں:
وھو ضعیف .
(نصب الرایہ 96/3دار نشر الکتب الاسلامیہ)
خلاصہ یہ ہوالیث بن ابی سلیم ضعیف ومختلط راوی ہے
امام بیہقی کا فیصلہ
امام بیہقی(المتوفی458ھ)اس روایت کو نقل کرنے کے فورا بعد فرماتے ہیں:
وہذ الروایۃ لااصل لھا.
یعنی الاالصبح کی زیادت بے اصل ہے۔
(سنن الکبری للبیھقی مع جوھر النقی 482/2نشر السنۃ ملتان)
بعض الناس کا بیہقی کے حوالے سے یہ روایت نقل کرنے کے بعد امام صاحب کی جرح کو چھپادینا خیانت علمی سے کم نہیں ہے۔
اور اسی طرح شیخ الاسلام ثانی امام محمد بن ابی بکر بن ایوب ابن القیم(المتوفی751ھ)اس روایت کے متعلق فرماتے ہیں:
لااصل لھا.
یعنی اس روایت کی کوئی اصل نہیں۔(اعلام المؤقنین375/2)
نیز معروف اہل حدیث عالم علامہ شمس الحق عظیم آبادی aنے اس روایت کے ضعف پر تفصیلی گفتگوفرمائی ہے،دیکھئے:
(عون المعبود 401/4دار الکتب العلمیہ)
تقی عثمانی صاحب کی شہادت
مفتی تقی عثمانی صاحب (جن کا آل دیوبند کے سنجیدہ طبقے میں بڑا مقام ہے) اس روایت کے متعلق فرماتے ہیں:
’’بعض حضرات نے حنفیہ کےمسلک پر بیہقی کی ایک روایت سے استدلال کیا ہے جس میں فلاصلاۃ الاالمکتوبۃ کے بعد الابعد الفجر کا استثناء موجود ہے لیکن یہ روایت نہایت ضعیف ہے۔
(درس ترمذی 189/2مکتبہ دار العلوم کراچی)
ایک اور مقام پر فرماتے ہیں:
حنفیہ اور مالکیہ نے بیہقی کی ایک روایت سے استدلال کیا جس میں الاالفجر کا استثناء آیا ہے لیکن وہ انتہائی ضعیف ہے قابل استدلال نہیں قرا ر دی گئی اکثر محدثین نے اس کو ضعیف کہا ہے اگرچہ علامہ عینی نے اس کوقابل استدلال بنانے کے لئے زور لگایا ہے لیکن وہ ضعیف ہے۔
(انعام الباری 417/3مکتبہ دار الحراء کراچی)
ثابت ہوا کہ یہ روایت سخت ضعیف ہے لہذا بعض الناس کا اسے اپنے حق میں پیش کرنا غلط ہے۔
دوران جماعت فجر کی سنتیں پڑھنے کی خرابیاں اور غلام رسول سعیدی کا کلمہ حق
بریلوی مکتبہ فکر کے معروف عالم غلام رسول سعیدی بریلوی اقامت کے بعد فجر کی سنتوں کے متعلق گفتگو کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’کیونکہ فجر کی سنتوں کی تاکید بھی رسول اللہ ﷺ نے کی ہے اور خود رسول اللہ ﷺ نےہی اقامت فجر کے وقت سنتیں پڑھنے پر ناراضگی کا اظہار فرمایا ہے اس لئے اتباع حدیث کا تقاضا یہ ہےکہ اقامت فجر کےوقت سنتیں پڑھنا شروع نہ کرے کیونکہ جن کے حکم سے سنتیں پڑھی جاتی ہیں وہ خود منع فرمارہے ہیں ……..
اس میں ایک خرابی یہ ہے کہ امام بآواز بلند قرآن پڑھ رہا ہے جس کا سننا فرض ہے اور سنتوں میں مشغول شخص اس فرض کو ترک کررہا ہے، دوسری خرابی یہ ہے کہ سنتوں میں مشغول شخص بظاہر فرض اور جماعت سے اعراض کررہا ہے اور تیسری خرابی یہ ہے کہ اس کا یہ عمل اس باب کی احادیث کی مخالفت کو مستلزم ہے۔
(شرح صحیح مسلم 421/2فرید بک اسٹال لاہور)
خلاصۃ التحقیق: گذشتہ صفحات میں کی گئی گفتگو کا ماحصل یہ ہے کہ اقامت ہوجانے کے بعد کسی بھی قسم کی نماز پڑھنا جائز نہیں چاہے وہ فجر کی سنتیں ہوں یاکوئی اور نماز سب کاحکم مساوی ہے۔جس روایت میں فجر کی استثناء آئی ہے وہ سخت ضعیف ہونے کی بناء پر ناقابل اعتبار ہے، دوسری بات یہ ہے کہ وہ صحیح احادیث کے بھی خلاف ہے اگر کوئی شخص فجر کی فرض نماز سے قبل سنتیں ادا نہ کرسکے تو اسے چاہئے کہ جماعت ختم ہونے کے بعد اداکرلے۔
(صحیح ابن خزیمہ 164/2ح1116المکتبۃ الاسلامی، صحیح ابن حبان ،ص:307ح1561صححہ الحاکم ووافقہ الذھبی انظر المستدرک 201/1ص201ح1017مکتبہ نزار مصطفے)
اگر فجر کی سنتیں فرض کے فورا بعد بھی ادا نہ ہوسکیں تو طلوع آفتاب کے بعد ادا کی جائیں۔
(مصنف ابن ابی شیبہ 254/2وسندہ صحیح موقوف عن ابن عمر)
نیز اس حوالے سے ایک مرفوعا روایت بھی آتی ہے۔
(سنن ترمذی:423)
لیکن وہ قتادہ کی تدلیس کی وجہ سے ضعیف ہے۔
xxxxxxxxxxxxx

About محمدابراھیم ربانی

Check Also

اتمام البرھان فی تصحیح ابن خزیمہ وابن حبان امام ابن خزیمہ وامام ابن حبان کی تصحیح اور بعض الناس کامغالطہ

امام ابوبکرمحمدبن اسحاق بن خزیمہ رحمہ اللہ (المتوفیٰ۳۱۱ھ)اورامام ابوحاتم محمدبن حبان البستی رحمہ اللہ (المتوفیٰ۳۵۴ھ)نے …

جواب دیجئے