Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2017 » شمارہ دسمبر » سانحہ سقوط ڈھاکہ

سانحہ سقوط ڈھاکہ

علامہ احسان الٰہی ظہیر رحمہ اللہ کے جذبات وتاثرات

علامہ صاحب ملک وقوم کا درد رکھنے والے ایک محب وطن رہنماتھے۔16دسمبر1971ءبروز جمعرات ،سقوط ڈھاکہ ہواتوخبر سنتے ہی بچوں کی طرح دھاڑیں مارمارکر رونے لگے۔ اور17دسمبر1971ءبروز جمعہ جامع مسجد چینیانوالی لاہور میں انہوں نے ایک دردناک خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا۔یہ خطبہ جمعہجہاں ان کی حب الوطنی کا سب سے بڑا سرٹیفکیٹ ہے، وہاں یہ ادب کے ذخیرے میں ایک شہ پارے کی حیثیت رکھتا ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے چینیانوالی مسجد میں علامہ احسان الٰہی ظہیر نے نہیں امام الہند ابوالکلام آزاد نےخطبہ جمعہ ارشادفرمایا ہو۔ خطبہ کامکمل متن قارئین کی نذرہے.

اعوذباللہ السمیع العلیم من الشیطن الرجیم بسم اللہ الرحمٰن الرحیم لَقَدْ نَصَرَكُمُ اللہُ فِيْ مَوَاطِنَ كَثِيْرَۃٍ۝۰ۙ وَّيَوْمَ حُنَيْنٍ۝۰ۙ اِذْ اَعْجَبَتْكُمْ كَثْرَتُكُمْ فَلَمْ تُغْنِ عَنْكُمْ شَيْــــًٔـا وَّضَاقَتْ عَلَيْكُمُ الْاَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ ثُمَّ وَلَّيْتُمْ مُّدْبِرِيْنَ۝۲۵ۚ ثُمَّ اَنْزَلَ اللہُ سَكِيْنَتَہٗ عَلٰي رَسُوْلِہٖ وَعَلَي الْمُؤْمِنِيْنَ وَاَنْزَلَ جُنُوْدًا لَّمْ تَرَوْہَا وَعَذَّبَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا۝۰ۭ وَذٰلِكَ جَزَاۗءُ الْكٰفِرِيْنَ۝۲۶
تمام قسم کی تعریفات اللہ وحدہ لاشریک لہ خالق کائنات مالک ارض وسماء کے لئے ہیں اور لاکھوں کروڑوںدرود وسلام ہوں اس ہستی اقدس پر، جن کا نام نامی اسم گرامی محمد اکرم ﷺ ہے۔ وہ ذات مقدسہ، مبارکہ مطہرہ کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے جنہیں اس کائنات میں پوری انسانیت کا امام اورسردار بناکرمبعوث کیا وہ سرورگرامی منزلت کہ جن کی قیادت وسیادت کو جس قوم نے تسلیم کرلیا اور دل وجان سے مان لیا اور جن کی تعلیمات پر جو قوم بھی عمل پیراہوگئی،دنیا کی کوئی قوم اس کی بلندی وبرتری کامقابلہ نہ کرسکی، وہ ہادی برحق ﷺ کہ جس قوم نے ان کی نافرمانی کی اور ان کے بتلائےہوئے راستوں سےمنحرف ہوگئی، اسے پھر دنیا کی کوئی قوت وطاقت تباہی وبربادی سے نہ بچاسکی۔
مسلمان کو اس بات پر اعتماد واعتقاد اور یقین اور بھروسہ ہےکہ اللہ تبارک وتعالیٰ خالق ہے، مالک ہے، رازق ہے اور تمام تدبیرات صرف اور صرف اسی کے قبضہ ٔقدرت میں ہیں،دنیا میں کوئی قوت وطاقت اس کی شریک نہیں، وہ اکیلا مالک ومختار ہے، اکیلاخالق ورزاق ہے، اکیلا مدبر الامور ہے،اس کے حکم کے بغیر پتہ بھی حرکت نہیں کرسکتااور اس کاحکم آجائے تو پہاڑ بھی اپنی جگہ سے ہل جاتے ہیں۔
اس بات پر یقین رکھنے کے بعد مومن اس بات پر بھی ایمان رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ چونکہ پوری کائنات کا مالک ومختار ہے اور کوئی اس سے پوچھنے والااوربازپرس کرنےو الانہیںہے۔ [اِنَّ رَبَّكَ فَعَّالٌ لِّمَا يُرِيْدُ۝۱۰۷ ](ھود:۱۰۷)اس لئےاگر کسی کو اپنی قسمت بنانامقصودہواور اپنے کاموں کو سدھارنامطلوب ہوتو اسے چاہئے کہ اپنے مولیٰ کو راضی کرے اور اپنے مالک کو راضی کرے، تاکہ اس کاخالق اس پر راضی ہوکر اس کے کاموں کو سنواردے،کیونکہ جب تک مالک راضی نہیں ہوتاتب تک بگڑی سنورنہیں سکتی اور جب وہ راضی ہوجائے تو پھر سنوری کوکوئی بگاڑ نہیں سکتا۔ یہ قانون اس دن سے چلاآرہا ہے ،جب اس کائنات کو پیدا کیاگیاتھا اورتب تک یہ قانون باقی رہے گا جب تلک یہ کائنات باقی رہے گی۔[وَلَنْ تَجِدَ لِسُـنَّۃِ اللہِ تَبْدِيْلًا۝۲۳ ] (الفتح:۲۳)
اللہ خود ارشا دفرماتا ہے:’’میرے طریقے بدلانہیں کرتے، میری سنت کبھی نہیں بدلتی، میراحکم کبھی تبدیل نہیں ہوتا، میری تقدیر کبھی نہیں ٹلتی۔
لوگ نہیں جانتے کہ زمین وآسمان بدل سکتے ہیں ،تقدیرالٰہی کبھی نہیں بدل سکتی،کائنات کی ہستیوں میں کون ہے رب کائنات کے سوا[لَا يُسْــَٔـلُ عَمَّا يَفْعَلُ وَہُمْ يُسْــَٔــلُوْنَ۝۲۳ ]کا مصداق ہو؟اس کاحکم آجائے توکیوں؟ اورکیسے؟کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور جب کیسے؟اور کس لئے؟نہیں کہاجاسکتا تو اسے ٹالاکیسے جاسکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم نے جب بھی تاریخ کےآئینے میں دیکھا اس کے حکم کو ہمیشہ قطعی اور یقینی پایا اور ایک دفعہ نہیں ہزاروں مرتبہ تدبیروں کو تقدیروں کے سامنے پٹتے ہوئے دیکھا،لیکن ہم نے کبھی بھی،جب سےزمانے کی تاریخ موجود ہے تقدیر کو تدبیر سےمات کھاتے ہوئے نہیں دیکھا، ہم نے دیکھا ہے کہ اللہ کے حکم کے سامنے منصوبے دھرے رہ جاتےہیں ،لیکن کبھی یہ نہیں دیکھا کہ منصوبوں نےاللہ کے حکم کو ٹال دیا ہو۔ ایک ہی بات ہے جو مومنوں کو سکھلائی اورپڑھائی گئی ہے کہ مومنو!تقدیر اللہ کی ہوتی ہے، لیکن اسےمومن خود اپنے عملوں سے بناتے ہیں اور مسلمان اسے خود اپنے عملوں سے ترتیب دیتے ہیں۔ قادر ظالم نہیں ہوتا ۔یہ غیراسلامی نظریہ ہےکہ ہم نے تو یوں چاہا اور ہم نے تو قادر کو راضی کرنے کی کوشش کی،لیکن تقدیرالٰہی الٹی ہوگئی ،تقدیر تب الٹتی ہے جب قادرناراض ہوتا ہے، جب قادر راضی ہوتوتقدیر بگڑ نہیں سکتی،یہ اللہ کا قانون ہے ،یہ اللہ کاطریقہ ہے، یہ اللہ کی سنت ہے، ہم نے اسے بارہادفعہ سنااورآج ہم اس قانون کو اپنی آنکھوں سے ….دیکھ رہے ہیں۔
وہ چیز جس کو ہم کتابوں میں پڑھاکرتے تھے۔آج ہماری آنکھوںکے سامنے حقیقت بن کر آگئی ہے۔ آج پاکستان کاوجود تارتار ہے۔ آج صرف پاکستان کا جسم چھلنی چھلنی نہیں بلکہ پوری اسلامی دنیا کا جسم چھلنی چھلنی ہے۔
آج صرف پاکستان میں ماتم نہیں ہورہا بلکہ انڈونیشیا سے لیکر مصر تک اور مصر سے لیکرمراکش تک ہرہرملک میں ماتم ہورہا ہے۔
آج اسلامیانِ عالم کا کوئی گھرانہ نہیں جس سے سسکیوں،آہوں اور کراہوں کی آواز نہ آرہی ہو۔ ان سسکیوں کو سننے کے لئے کانوں کی ضرورت ہے۔
ان آہوں کو محسوس کرنے کے لئے دل کی ضرورت ہے اور اس چیخ وپکار کے سمجھنے کے لئے دماغ کی ضرورت ہے، وگرنہ دنیا کا کوئی خطہ ایسا نہیں ہےجہاں سےرونے اورپیٹنے کی صدانہیں آرہی۔ اس لئے کہ آج پاکستان زخمی نہیں ہوا ،اسلام زخمی ہوکررہ گیا ہے۔
ہم کل تک اس بات کاتصور تک کرنے کے لئے تیار نہ تھے، ہم چیختے رہے، چلاتے رہے،منبرومحراب تمہیں آواز دیتے رہے، مسجدیں تمہیں بلاتی رہیں، اللہ کے گھر تمہیں پکارتے رہے، قرآن تمہیں صدادیتارہا، رسول اللہ ﷺ کا فرمان تمہیں ٹوکتارہا لیکن تم نے ہرچیز کو پامال کردیا اورآج تم خود پامال ہوکررہ گئے۔تم نہیں جانتے کہ آج کیاہوگیا اور کیا بیت گیا ہے۔
ہمارے لبوں پر کل سے ایک ہی سوال ہےاللہ! یہ کیا بن گیا ہے؟ لیکن آسمان سے یہ جواب بھی سن رہے ہیں۔ ہم نے نہیں بنایا ،تم نے میری تقدیر کو خود بھڑکایاہے:[وَمَا ظَلَمُوْنَا وَلٰكِنْ كَانُوْٓا اَنْفُسَھُمْ يَظْلِمُوْنَ۝۵۷ ](البقرہ:۵۷)ہم نے کبھی کسی پر زیادتی نہیں کی، لوگ خود ہمارے غضب کو دعوت دیتے ہیں۔ہم نے کبھی ظلم نہیں کیا لوگ خود ہمارے ظلم کو بلاتے ہیں۔ہم اپنے عذاب کو ان سے ٹالتے ہیں ۔یہ ہمارے عذاب کو آوازیں دیتے ہیں کہ قہرالٰہی ہم پہ کیوں نازل نہیں ہوتا۔
دوستو!ہم نے کیاکیاہے؟
آج ہماری اٹھی ہوئی گردنیں جھک گئی ہیں۔
آج ہمارے تنے ہوئے سینے سکڑ کررہ گئے ہیں۔
آج ہماری آوازیں کجلاگئی ہیں۔
آج ہماری روحیں مرجھاگئی ہیں۔
آ ج ہمارے دل بیٹھ گئے۔
آ ج ہمارے اعصاب ٹوٹ گئے۔
آ ج ہمارے جسم چھلنی ہوگئے۔
آ ج ہمارے دل زخمی ہوگئے۔
اورآ ج ہمارے جگر پھٹ کر رہ گئے ہیں،آج یہ سب کچھ کیوں ہے؟ اس لئے کہ آج ڈھاکہ کی مسجد بیت المکرم ہمارے پاس نہیں رہی۔
آج ہم اس لئے اپنی آنکھوں کے سامنے جالے محسوس کرتے ہیں کہ آج چٹاگانگ کی عیدگاہ ہم سے چھن گئی ہے۔
آج معصوم بچے کٹ رہے ہیں۔
آج بیواؤں کےنالے فضائے ارضی کو چیررہے ہیں۔
آج کتنے مظلوم اورمعصوم لوگوں کے گھر جل رہے ہیں۔
آج کتنے جوان،خوبصورت جوان اوررعناجوان موت کے ہاتھوں بے کس اور بے بس ہوکررہ گئے ہیں۔
یہ کیوں ہوا؟ ایساکیوں ہوا؟ ہم نے یہ سوچا ہوتا توآج ہمیں یہ دن نہ دیکھنا پڑتا۔ ہم نے کبھی اس بات پر غور نہیں کیا کہ ؎
میں اگر سوختہ ساماں ہوں تو یہ روز سیاہ
خود دکھایا ہے مرے گھر کے چراغاں نے مجھے
آج اگر میرا گھر جل رہا ہے تو اس گھر کو آگ میں نے خود لگائی ہے۔
آج…آج یہ پریذیڈنٹ کی تقریر نہیں جو لوگوں کو دھوکہ دے سکے، ورغلاسکے، ان کے ذہنوں پہ پردے ڈال سکے۔ اس کو کیا پتہ ہے کہ آج صرف مشرقی پاکستان کے مسلمان نہیں کٹے ،ہندوستان کے سات کروڑمسلمان بھی بے آبروہوکررہ گئے ہیں۔
آج کون ہے؟جو ان سات کروڑ مسلمانوں کی خاطر یہ کہے کہ ہندوغنڈو!دیکھو ان پر تمہاری نگہ گستاخ نہ اٹھے ہم زندہ ہیں۔
آج کون ہے؟ جو ہندوغنڈوں کے ان کی عصمتوں کی طرف بڑھتے ہوئے ہاتھوں کو روک سکے…..!
ہم نہیں جانتے کہ آج کیا ہوا ہےاور تم(اس وقت کے پاکستانی حکمران جنرل یحیی خان اور ذوالفقارعلی بھٹو) نہیں جانتے کہ آج کیا بیتا ہے،اسی لئے….رات تمہاری آواز میں کوئی لرزش نہ تھی، اسی لئے تمہاری آنکھ میں کوئی آنسونہ تھا، اس لئے تم بڑے طنطنے سے بول رہے ہو اور اسے اپنی بہادری اور شجاعت کی دلیل سمجھتے ہو، تمہیں کیا معلوم ہے کہ آج مکہ اورمدینہ کے گھر میں کہرام مچاہے۔ تمہیں کیا پتہ ہے کہ بیت المقدس آج لُٹا ہے۔
تمہیں کون بتلائے کہ آج فاروق اعظمؓ جس نے آتش پرستوں کے وجود کو مٹادیاتھا۔ان ہی آتش پرستوں کا ایک کمانڈرمانک شاآج مسلمانوں کی لاشوں پہ قہقہے لگا رہا ہے۔
تمہیں کیا خبر ہے کہ ہم پہ کیاگزری ہے؟خدا کی قسم ہم یہ چاہتے تھے کہ آج ہم زندہ نہ ہوتے اور ہمیں یہ دن دیکھنا نصیب نہ ہوتا۔
کاش!آج سےپہلے ہم مٹ چکے ہوتے۔
اور تم اتنے بدبخت ہو، تم اتنے سنگدل ہو، تمہارا دل اس قدر پتھرہو چکا ہے کہ تمہیں معلوم ہی نہیں کہ آج اسلام پہ کیا بیت گئی ہے، تم ٹس سے مس نہیں ہوتے۔
آج تمہاری سنگدلی نے اسلام کو ڈبویا،مسلمانوں کو ڈبویاہے۔ جاؤ! مجھے پھانسی پہ لٹکادو۔میں یہ کہتاہوں اوربرسرِ منبرکہتاہوں ،شرابیوں نے اس ملک کو ڈبویااور زانیوں نے ڈبویاہے۔
کیا ہے! ہم اس زندگی سے موت کو بہتر سمجھتے ہیں، یہ زندگی کوئی زندگی نہیں، اس زندگی سے موت ہزاردرجہ اچھی ہے۔ کاش ہم اس سے پہلے مرچکے ہوتے ،ہمارے جسم مٹی کے نیچے دب چکے ہوتے، تاکہ آج ہم اپنی عصمت مآب بہنوں کی سسکیاں نہ سن سکتے۔
آج تم نے یہ ظلم ڈھایا اور پھرتمہیں شرم نہیں آتی ،پھر تم قوم کو بہکاتے ہو، پھر قوم کو دھوکہ دیتے ہو ،پھر کہتے ہو ایک محاذ پہ شکست ہوگئی تو کیاہوا،اوظالمو ایک محاذ پہ شکست نہیں ہوئی ۔تم نے اسلام کا جگر کاٹ کر ہندوؤں کے حوالے کردیا ہے۔
تم کہتے ہوایک محاذ پہ شکست ہوگئی ،تم نے اس قوم سے کس بات کا بدلہ لیا ہے؟ اور اس کے باوجود اس قوم سے چمٹے رہنے کا تم عزم کئے ہو۔جاؤخدا کے لئے چلے جاؤتمہیں معلوم نہیں تم نے کیا ستم ڈھایاہے۔ تم نے کیا ظلم کیا ہے، یہ ظلم ہم کبھی بھول نہیں سکتے۔ہماری نسلیں اس ظلم کو نہیں بھول سکتیں ،ہم ان داغوں کو اپنے بچوں کےسینوں میں پرورش کرکے جائیں گے کہ اس طرح تم نے ہم کو داغ لگایاتھا اور اس طرح تم نے ہمیں چرکے دیئے تھے۔
آج تم نے محمد عربی uکی امت سے ان کے سر کی اوڑھنی چھین لی ہے۔
آج مسلمان امت ،اس کی آبرو،اس کی حرمت مٹ چکی ہے اس کا وقار لُٹ چکااور اس کی عفت کٹ چکی ہے۔
وہ لوگ غلط سوچتے ہیں جو کہتے ہیں بنگالیوں کا وطن گیا، بنگالیوں کاوطن نہیں گیا ،محمدﷺ کی الاٹمنٹ پہ چھاپہ ماراگیاہے….سرورِ ہاشمی ﷺ کے دیس پہ ڈاکہ پڑا ہے۔
چٹاگانگ کی سرزمین! رب ذوالجلال کی قسم تُومجھے اتنی ہی پیاری ہے جتنا لاہور اورسیالکوٹ پیارا ہے۔
ہم ان واقعات کو کیسے فراموش کرسکتے ہیں، جن سے ہمارے جسم زخمی اور ہمارے دل کٹ چکے ہیں، ہماری آنکھیں بے نور ہوگئی ہیں۔
آج بیت المکرم کی جامع مسجد کعبہ سے کہہ رہی ہوگی میری ماں! آج مجھے تیرے رکھوالے اغیار کے حوالے کرکے بھاگ نکلے۔
آج ہم پہ جو گزررہی ہے نہ آسمان اس کو جان سکتا ہے ،نہ زمین اس کو محسوس کرسکتی ہے۔ آج کون جانے کہ آج ہمارے دل پہ کیا بیت گئی ہے، آج ہماری روحوں پہ کیا بیت گئی ہے…..؟
کعبہ کے رب کی قسم!میرا ایک بچہ ہے اگر وہ مرجاتا ،کٹ جاتا مجھے اتنا صدمہ نہ ہوتا۔ آج ہم کیوں زندہ ہیں؟کاش !آج سے پہلے ہم مر گئے ہوتے۔
دوستو!آج میں تمہیں رونے سے نہیں روکتا،خوب زور سے روؤْ تمہارے گناہ مٹ جائیں۔تمہیں کیا معلوم کہ تمہارے گناہوں کی سیاہی تمہاری بداعمالیوں کی تاریکی نے اس امت پہ کس عذاب کو مسلط کیا ہے۔ آج روؤ،پوری قوم مل کر روئے۔ شاید ا س سے ہمارے گناہ دھل جائیں۔
میں سوچتاہوں آج ہم پہ کیاگزر گئی ،پچھلے برس کعبۃ اللہ میں بیٹھا ہوا ایک فلسطینی جس کاوطن چھن چکا،جس کی دولت لٹ چکی،جس کی ماں اور بہن کی آبروکٹ چکی تھی۔ کعبہ کی چوکھٹ پہ سرجھکائے پاکستان کے لئے دعا مانگ رہا تھا۔ اللہ پاکستان کی حفاظت فرما، اللہ پاکستان کی مدد فرما…میں نے اس سے پوچھا فلسطینی !تیرا اپناگھر لُٹ چکاتو اس کے لئے دعانہیں مانگتا پاکستان کے لئے کیامانگتاہے؟
جانتے ہو اس نے کیاکہا؟آج تم ان کو کیا جواب دوگے۔ اس نے کہا تھا مجھے اپنے گھر کی فکر نہیں۔پاکستان زندہ ہے تو بیت المقدس واپس مل جائے گا …آج بتلاؤ…آج بتلاؤکہ ہم فلسطینیوں کوکیاجواب دیں گے؟ آج بتلاؤہم ان کو کیاکہیں؟ تم نے کیا ستم ڈھایا؟
ہم تمہیں پکارتے رہے۔ہم تمہیں آواز دیتے رہے ،ہم تمہیں بلاتے رہے، ہم نےکہا قوم کو مسلمان بناؤْانہیں طوائفوں کے چکر میں مت ڈالو۔ انہیں شراب کا مسکہ مت دو۔ان کے ہاتھوں میں تلواریں تھماؤ۔ اللہ نے ان کی انگلیاں بربط سےکھیلنے کے لئے نہیں رائفلوں کے ٹریگروں پہ چلنے کے لئے بنائی ہیں۔
اوظالمو!تم نے کیاکیا؟تم نے عین ان ایام میں جن ایام میںدشمن ہماری سرحدوں پہ دستک دے رہا تھااور ادھررمضان مبارک نے ڈیرے ڈال دیئے تھے، تم نے عین ان ایام میں رقص اور موسیقی کی محفلیں بپاکیں۔ تم سمجھتے ہو یہ ویسے ہی ہوگیا۔[وَمَا ظَلَمُوْنَا وَلٰكِنْ كَانُوْٓا اَنْفُسَھُمْ يَظْلِمُوْنَ۝۵۷ ]ہم نےتو کبھی کسی بستی کو نہیں ستایا۔ یہ خود ہمارے عذاب کو دعوت دیتے ہیں۔ ہم نے کبھی کسی پہ تباہی مسلط نہیں کی ….آج کیاہوگیا ہے، آج کیا بیت گیا ہے، آج کیا گزر گیا ہے۔ خدا کی قسم قیامت آچکی ہے۔تم کو میں نے آج سے پہلے کہا تھا تم گواہ ہو، میں نےکہا تھا ’’مومنو!عذاب آچکا ہے‘‘ کہاتھا کہ نہیں کہاتھا۔ تم کو میں نے کہا تھا۔اس سے بڑا عذاب کیا ہوسکتا ہے کہ عورتیں عالمِ اسلام پر مسلط کردی گئی ہیں۔ عجمیوں پہ اندراگاندھی اور عربوں پر گولڈ ائیر،قسم اٹھاؤ کہ میں نے تم سے نہیں کہاتھا؟
ہماری آواز کون سنتا ہے۔ ہم نے رمضان میں تمہیں رورو کر کہا۔ اس قوم کو نورجہاںکی ضرورت نہیں ۔خالد بن ولید کی ضرورت ہے۔
اس قوم کو کنجروں کی ضرورت نہیں، طارق بن زیاد کی ضرورت ہے۔
اس قوم کو گویوں کی ضرورت نہیں ،عمرو بن العاص اور ابوعبیدہ بن الجراح کی ضرورت ہے۔
اس قوم کو میراثیوں کی ضرورت نہیں محمد بن قاسم اور محمود غزنوی کی ضرورت ہے۔ تم نے کیاظلم کیا ہے۔
کون ہے جو ہمارے غم کو جانے؟
کون ہے جو ہمارے درد کو بٹائے؟
کون ہے جو ہمارے احساسات کوسمجھے؟
کون ہے جو ہماری آواز کو سنے؟
کون سا کان ہے جس تک ہماری آواز پہنچے؟
ہم اس بات سے قاصر ہیں کہ تمہارے کانوں تک اپنی ننھی سی، پست سی آواز پہنچاسکیں۔ خدا کی قسم اگر ہم میں طاقت ہوتی تو اپنی آواز کو سیسہ بنا کر تمہارے کانوں میں پگھلادیتے ،لیکن ہم میں طاقت نہیں۔
آج کیا ہوگیا ہے،یہ سمجھتے رہے ہم لڑیں گے، ہم نے بارہاکہا کہ مادیت سے مادیت لڑسکتی ہے اور جب مادیت کے مقابلے میں فروتری ہو، کمتری ہو تو پھر مادیت نہیں روحانیت لڑتی ہے۔
ہم نے کہا،اللہ کوآواز دو۔تمہیں قسم ہے عین اس دن ،جس دن کہ جنگ چھڑنے والی تھی، اس جمعہ کو۔ اس جمعہ کو ہمیں نہیں پتہ تھا کہ آج کیا ہورہا ہے۔جمعہ ہم نے پڑھایا اور رات کو جنگ ہوئی ہے۔ تمہیں قسم ہے ہم نے تمہیں نہیں کہا تھا کہ اسلام کو ایکسپلائٹ……….کرنا چھوڑ دو۔ اسلام کو استعمال کرنا ترک کردو۔یہ تمہاری داشتہ نہیں ہے۔ جب جی میں آیا تم نے اسے پٹاری سے باہرنکال لیا۔ جب جی میں آیا تم نے پٹاری کے اندرداخل کرلیا۔
قسم اٹھاؤہم نے نہیں کہاتھا؟
ہم نے نہیں کہا تھا کہ چوبیس سال تم قوم کو کافربناتے رہے، اب چوبیس دن میںیہ مسلمان کیسے بنے گی؟
آج تم کہتے ہو،یہ ظلم ہوگیا۔آج ایک محاذپرشکست ہوگئی۔ایک محاذ پر شکست نہیں ہوئی۔آج تم نے اسلام کے قلب میں خنجر گاڑدیاہے۔
خداگواہ۔ہم جانتے تھے، ہم سمجھتے تھے کہ یہ ہونے والاہے،لیکن اپنے دل کو تسلیاں دیتے تھے شاید اللہ راضی ہوجائے،لیکن اللہ نے جان لیایہ منافقوں کی قوم ہے، یہ مجھ سےاجنبیوں والاسلوک کرتے ہیں۔ جب دل میں آتا ہے سودے بازی شروع کردیتے۔جب کام نکل جاتا منہ موڑ لیتے ہیں۔ کیا ہم نے یہ منافقت نہیں برتی؟ سوچو65ءکی جنگ میں کیا ہواہوگا؟65ءکی جنگ میں حالات اس سے زیادہ ناگفتہ بہ تھے،لیکن تم نے اللہ کو پکارا،اللہ نے تمہاری مدد فرمادی، پھر ہم نے تم کو کہا اب اللہ کی مدد کو سینے سےلگاکررکھو۔تم نے کہا،وقت تھا ،ضرورت پڑی تھی اب نکل گئی ہے۔ اب ضرورت کیاہے، چنانچہ تم نے اسلام کو دیس نکالا دےدیا،تم نے کھلم کھلاکہااس ملک کا وجود اسلام کا مرہون منت نہیں ہے۔کیا یہ نہیں کہاگیا اور جب تم کہتے ہو یہ اسلام کا رہین منت نہیں تو اسلام کے والی کو کیاضرورت ہے کہ تمہاری مدد کرتا پھرے، یہ یحیی خان کہتا ہے اللہ اکبر کی ضرب لگاؤ۔دوسال ہمارے کان پک گئے ہیں تمہاری تقریریں سنتے ہوئے تم نے پہلے تو کبھی اللہ کا نام نہیں لیا پہلے اللہ اکبر کہا تھا؟وقت پڑنے پر تم اللہ کو یاد کرتے ہو۔نعوذباللہ تم نے اللہ کو کوئی ضرورت کی گانٹھ سمجھاہواہے،یہ ہماری منافقت ہے جو ہم کو ڈبوگئی ہے
میں اگر سوختہ ساماں ہوں تو یہ روز سیاہ
خود دکھایا ہے مرے گھر کے چراغاں نے مجھے
ہم نے خود اپنے آپ کو ڈبونے کے اسباب مہیا کئے۔
ہم کہتے رہے تم نے اسباب زوال مہیا کرلئے۔ اب اگر کوئی معجزہ ہوجائے تو تم بچ جاؤوگرنہ تباہی وبربادی کے تمام دواعی موجود ہیں۔
آج کیا ہوا ہے؟ کل تک ہم عربوں پہ ہنسا کرتے تھے کہ وہ بھاگ گئے۔ میدان چھوڑ کر بھاگ گئے، پاگلو!وہ تو جنگلوں اور صحراؤں کو چھوڑ کر بھاگے تھے تم نے توبسے ہوئے شہروں کوچھوڑ دیا۔ انہوںنے گولان کی پہاڑیوں اور صحرائے سینا کو چھوڑا لیکن تم نے چٹاگانگ کوچھوڑا، نواکھلی کوچھوڑا، جیسور کوچھوڑا، تم نے ڈھاکہ کو چھوڑا، تم نے کھلنا کوچھوڑا، تم نے کومیلا کوچھوڑا، تم نے بسی ہوئی اور آباد بستیوں کواجاڑ کر رکھ دیا۔
آج بتلاؤتم دوسروں پر پھبتی کستے تھے، آج تم کیا منہ دکھاؤگے؟ ہمیں عزت ملی تو محمد اکرم ﷺ کے نامِ گرامی سے ملی، ہمیں مقام ملا تو ربِ قدوس کی رحمت سے ملا تھا تم نے سمجھا شاید یہ ہمیں اپنے زوربازوسے ملا ہے:
فرمایا:[ لَقَدْ نَصَرَكُمُ اللہُ فِيْ مَوَاطِنَ كَثِيْرَۃٍ۝۰ۙ وَّيَوْمَ حُنَيْنٍ۝۰ۙ] فرمایا ہم نے تمہاری مدد کی، اللہ اپنے رسول ﷺ کو کہتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ سے بڑھ کر کسی اور کی شخصیت نہیں ہوسکتی۔ اللہ اپنے حبیب کو فرماتا ہے۔[ لَقَدْ نَصَرَكُمُ اللہُ فِيْ مَوَاطِنَ كَثِيْرَۃٍ۝۰ۙ ] ہم نے بے شمار دفعہ تمہاری مدد کی۔ فرمایا:[وَّيَوْمَ حُنَيْنٍ۝۰ۙ اِذْ اَعْجَبَتْكُمْ كَثْرَتُكُمْ فَلَمْ تُغْنِ عَنْكُمْ شَيْــــًٔـا] فرمایا ہر وقت تمہیں اپنی کمزوری کا اپنی فروتری کا احساس ہوتا تھا اور تم رب کی برتری کا سہارالیتے تھے۔ہم تمہاری مدد کرتے تھے لیکن حنین کے دن آپ کے ساتھیوں کو اللہ کی رحمت پہ نہیں اپنی کثرت پہ ناز آگیا۔
[ وَّضَاقَتْ عَلَيْكُمُ الْاَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ ] فرمایا: زمین اپنی فراخیوںکے باوجود تنگ ہو کررہ گئی۔ تمہیں تمہاری کثرت کوئی فائدہ نہ پہنچاسکی۔ تم سمجھتے ہو کہ کثرت سے فائدہ ہوتا ہے؟
تم نے قرآن کبھی پڑھنا ہی نہیں تھا،تم نے سوچنا ہی نہیں تھا، تمہیں کیا تم کہتے رہے ہماری فوجیں لڑیں گی۔ اوظالمو!فوجیں تب لڑتی ہیں جب اللہ کی رحمت آسمانوں سے اترتی ہے۔
ہمیں آج کس المیے سے دوچارہوناپڑا۔تم میں سے ہرشخص آنکھیں بند کرےاور سوچے کہ کل تک ہم تصور کرسکتے تھے کہ یہ ہوجائے گا؟
ہم نے 65کی جنگ میں جب دشمن نے اچانک اوریکایک حملہ کیاتھا،جب ہم سوئے ہوئے تھے ۔ہم نے رات کے پچھلے پہرسنا کہ دشمن نے حملہ کردیا تب ہم نے اپنے سرسجدے میں رکھ دیئے۔ ہم بارگاہ الٰہی میں جھک گئے۔ہم نے کہا:اللہ!دشمن سوتے ہوئے آیا ہے۔ اللہ نے کیاکہا:فرمایا:تم سورہے تھے تمہارارب تو جاگ رہا تھااور پھر کیاہوا،تم سورہے تھے ،لیکن دشمن ان مقامات سے ایک انچ آگے نہ بڑھ سکا،جہاں تک وہ رات کے اندھیروں میں بڑھ آیاتھا۔
لاہور کے محاذ پر اس نے بھرپور حملہ کیاتھا۔بی آربی اس کے لئے سمند ر بن گئی،چھوٹی سی نہر دریابن گیااور آج ڈھاکہ کے درمیان سینکڑوں دریاسمٹ کر نالے بن گئے،جبکہ یہاں صرف ایک نہر تھی اور میں نے تب بھی کہاتھا بی آربی نہیں بچایاکرتی ،تم نے کہا بی آربی سے بچ گئے۔ہم نے کہا:بی آربی کیا ہے؟تین فٹ کی نہر،بی آربی نہیں بچاتی۔تمہیں کیا پتہ ہے ،کہ بی آر بی میں پانی کاچلانے والابچارہاتھا۔ تم نے نہیں سوچا کہ بی آربی نے نہیں بچایاہمیں تو اس رب نے بچایا ہے جس رب نے ہمیں یہ ملک دیاتھا۔جس رب نے آزادی بخشی تھی۔ جس رب نے ہمیں عزت عطا فرمائی تھی۔ تم بی آربی کا تذکرہ کرتے رہے اور آج سینکڑوں بی آربی بہ رہی تھیں، لیکن مشرقی پاکستان میں کوئی بی آربی کام نہ آسکی۔
جاؤپوچھومشرقی پاکستان کے لوگوں سے اور ان لوگوں سے جن لوگوں نے مشرقی پاکستان دیکھا ہے اور ان لوگوں سے جن لوگوں نے مشرقی پاکستان کا جغرافیہ پڑھا ہے۔ ان سے پوچھوکہ وہاں کوئی بستی ایسی نہیں جس کے گردوپیش دریا اور نہریںنہ ہوں۔ آج کوئی دریا کام نہیں آیا کیوں؟ اس لئے کہ دریا کام نہیں آتے کام تو رب کی رحمت آتی ہے۔
تم نے اس بات کو نہیں سوچا۔تم نے ہم سے نفاق برتا۔اسلام سے نفاق برتا، قرآن سے منافقت برتی، خدا سے نفاق برتا، قرآن نے کیاکہا:
[يُخٰدِعُوْنَ اللہَ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا۝۰ۚ] قرآن میںکون سی چیز نہیں،مگر ہم نے قرآن پڑھا ہی نہیں۔ فرمایا اللہ کو دھوکہ دیتے ہیں، مومنوں کو دھوکہ دیتے ہیں۔ دیکھو قرآن کی صداقت کو دیکھو۔ قرآن ایسے معلوم ہوتا ہے جیسے آج ہی نازل ہوا ہے، جب پڑھو قرآن تروتازہ ،ایسامحسوس ہوتا ہے کہ قرآن ابھی اتررہاہے، رب تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں:
[يُخٰدِعُوْنَ اللہَ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا۝۰ۚ] اللہ کو دھوکہ دیتے ہیں، مومنوں کو دھوکہ دیتے ہیں۔
[يُخٰدِعُوْنَ اللہَ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا۝۰ۚ وَمَا يَخْدَعُوْنَ اِلَّآ اَنْفُسَھُمْ] فرمایا:پاگلوں سے کہہ دو،تمہارا دھوکہ نہ اللہ کو فریب دے سکتا ہے، نہ مومنوں کو۔ اس کانقصان اگرپہنچے گا تو تمہی کو پہنچے گا۔ صاحبو!یہ کوئی مذاق ہے یا کھیل ہے کہ آدمی رات کو شراب کی بوتل پئے اور ایک غیرعورت کو اپنے پہلومیں لے کے سوئے اورصبح اٹھ کر کہے :اسلام زندہ باد، قرآن زندہ باد، اللہ اکبر کی ضرب کاری لگاؤ۔ہم فتح یاب ہوں گے۔ یہ مذاق ہے، یہ اللہ سے مذاق ہے، یہ اسلام سے مذاق ہے، یہ کیا۔اس کانام کیا ہے؟تم خود بتلاؤکہ اس کا کیانام ہے۔یہ اسلام ہے کہ تم شراب بھی پیتے رہو، تم زنا بھی کرتے رہو،تم کلبوں کو آباد بھی رکھواور پھرکہوکہ خدا کی نصرت آرہی ہے۔ گویا تم نے خدا کی رحمت کو اپنابھکاری سمجھ رکھا ہے، سوچو۔ اس جنگ کو شروع ہوئے پندرہ روز ہوگئے ۔تمہیں رب ذوالجلال کی قسم ہے۔ سوچو۔ کونسی شراب گاہ ہے جو ان پندرہ دنوں میں بند ہوئی ہو؟ کون سا سینما ہے جو ان پندرہ دنوں میں بند ہوا ہو؟کون سی بے حیائی ہے جو ان پندرہ دنوں میں ختم ہوئی ہو؟ کون سی جوئے بازی ہے جس پر ان پندرہ دنوں میں قدغن لگی ہو؟ کون سی قماربازی ہے جس پر ان پندرہ دنوں میں پابندی لگی ہو؟ بتلاؤ!تم نے اللہ کے غضب کو خود دعوت دی ہے۔ریس کورس بھی کھلا ہے، رقص گاہیں بھی کھلی ہیں،جم خانہ بھی کھلا ہے، شراب کی بوتلیں بھی کھلی ہیں اور شراب کی دکانیں بھی کھلی ہیںاور کہتے ہیں اسلام لڑے گا۔اللہ لڑے گا۔ گویااللہ آسمانوں سے زمینوں پر اتر کر تمہارے لئے لڑے کہ تم شرابیں پیو، زناکرو،فجور وفسوق کے بازار گرم رکھو، اللہ کامذاق اڑاؤ۔رسول اللہﷺ کا مذاق اڑاؤاور کہو :اللہ آکے تمہاری مدد کرے۔ تم کن کو دھوکہ دیتے ہو؟ہم تو بہکائے جاسکتے ہیں،ہم تو ورغلائے جاسکتے ہیں۔ اللہ کو کون ورغلائے وہ [عَلِيْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ]ہے۔ وہ تمہاری زبان سے نکلی ہوئی بات تمہارے ہاتھ سے کئے ہوئے کام ہی کو نہیں جانتا۔ تمہارے دل کی دھڑکن کو بھی جانتا ہے اس کودھوکہ دیتے ہو؟
ہم نے کہا:چلوچھوڑدو۔جوہواسوہوا۔اب آجاؤ!اللہ کومنالو،اللہ کو راضی کرلو،اللہ سے زیادہ ’’اَرْحَمُ الرّٰحِمِيْن‘‘اور کون ہے ۔جتنی جلدی وہ مان جاتا ہے اور کوئی مانتاہی نہیں۔ قادسیہ میں ایک آدمی نے شراب پی۔
میدان جنگ ہے، ایک آدمی شراب پیتا ہے ،سعد بن ابی وقاصtسالاراعظم کو خبر ہوتی ہے۔ فرمایا اس کو زنجیروں میں جکڑدو، میدان جنگ سے واپس بلاؤ۔ ایک کمانڈر نے کہا: سپہ سالارمیدان جنگ ہے،غلطی ہوگئی ،دلیرآدمی ہے۔ بہادر آدمی ہے۔ چھوڑ دیجئے اللہ کی راہ میں جنگ کرے گا۔کسی کومارے گا، مرجائے گا،اس کو زنجیروں میں جکڑنے کی ضرورت کیا ہے؟سعد بن ابی وقاصtنے کیا جواب دیا؟ فرمایا: رسول اللہ ﷺ کا صحابی تلواروں اور بازوؤں پر بھروسہ نہیں کرتا، اللہ کی رحمت پہ بھروسہ کرتا ہے۔ میں اس شرابی کو لڑنے کی اجازت نہیں دے سکتا، اس کی وجہ سے میرے رب کی رحمتیں منہ موڑ جائیں گی، جاؤ اسے زنجیریں پہنادو۔
تمہیں معلوم ہی نہیں ہے کہ اسلام نے کیا سکھایااورکیاپڑھایا ہے۔ سعد بن ابی وقاصtاس کو زنجیروں میں جکڑ دیتے ہیں،اس نے دیکھا مسلمان لڑ رہے ہیںوہ آنکھوں کے سامنے دیکھ رہا ہے کہ میدان جنگ میں خون ہولی کھیلی جارہی ہے ،تڑپ اٹھا، کہنے لگا ہائے میری زنجیروں کو کھول دومیں نے اپنے گناہوں سے معافی مانگ لی ہے، کوئی کھولنے والانہیں۔ مسلمان جنگ پرچلے گئے۔ سعد بن ابی وقاصtکی بیوی موجود ہے،کہنے لگا سعد کی بیوی میری زنجیروں کو کھول دو،مجھ سے مسلمانوں کا گرتاخون دیکھا نہیں جاتا۔ اس نے کہا تم نے گناہ کیا اور سپہ سالار نے تمہیں زنجیروں میں جکڑنے کا حکم دیا ہے۔ اس نے کہا خدا کی قسم اگر زندہ رہا تو خود آکے زنجیریں پہن لوں گا مجھے رہاکردو،میں نے اپنے اللہ سے معافی مانگ لی ہے۔مسلمانوں کے لشکرپہ شکست کے آثار نمودار تھے ۔کافروں نے ایک صف پہ حملہ کیا، صف الٹنے لگی۔ ابومحجن کی آہوں اور سسکیوں کو دیکھ کر سعدؓ کی بیوی کادل بھرآیا۔ اس نے زنجیروں کوکھولا،ابومحجن نے اپنی زرہ نہیں پہنی، بکتر بند نہیں پہنا۔ننگے جسم کافروں کی اس صف پرٹوٹ پڑا۔ سعدؓ ایک بلند جگہ پہ کھڑے میدان جنگ کا نقشہ دیکھ رہے تھے ،کیا دیکھتے ہیں کہ مسلمانوں کی ایک صف درہم برہم ہے، لیکن ایک تنہاآدمی آیا کافروں کی صفیں اُلٹ گیااور وہ جس طرف پہ گرتا ہے بجلی بن کر گرتا ہےاور خرمنوں کو جلاتا ہوا چلا جاتاہے۔ جس طرف کارُخ کرتا ہے کافر کٹے جاتے ہیں۔ سعدؓ ٹیلے پر بیٹھے ہوئے اپنا سر سجدے میں رکھ کر کے کہنے لگے:
’’اے اللہ! اگر یہ فرشتہ نہیں ہے تو میں اپنی تلوار اس کی نذر کرتا ہوں‘‘
اس نے صفوں کو الٹ دیا، اللہ نے مومنوں کو فتح عطافرمادی۔ مومن واپس ہوئے کمانڈر نیچے اترے۔دیکھوں وہ جوان کون تھا؟اب وہ صفوں میں نظر نہیں آتا۔پوچھا وہ کون تھا جو اس بے جگری سے لڑر ہا تھا۔ڈھونڈا ،تلاش کیا ملتا نہیں، خیمے سے بیوی آواز دیتی ہے ،سعدؓ جس کو تم ڈھونڈ رہے ہو، اس نے اب زنجیریں پہن رکھی ہیں، سعد بن ابی وقاصؓ پلٹے۔ کہنے لگے۔بیوی کیا کہتی ہو؟ کہنے لگی صحیح کہتی ہوں۔ یہ ابومحجن ہے جس نے شراب نوشی سے توبہ کی اور تلوار کوتھام کے میدان جنگ میں چلاگیا۔اس نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ اگر زندہ لوٹا توخود زنجیروں کو پہن لوں گا۔ اب یہ زنجیریں پہن چکا ہے۔ سعدؓ اس جنگ میں بیمار تھے ،حرکت نہیں کرسکتے تھے۔ اس لئے ٹیلے پہ بیٹھے فوجیوں کولڑارہے تھے۔اپنی چھڑی کوٹیکتے ہوئے اٹھے۔ ساتھیوں نے سہارا دینا چاہا ۔کہنے لگے مجھے چھوڑ دو۔میں اس کے پاس اپنےپیروں سے چل کر جاناچاہتاہوں جس کی توبہ نے اللہ کی رحمت کو آسمانوں سے زمین پر نازل کردیا۔
لیکن ہائے افسوس!تمہیں تو تب بھی توفیق نصیب نہیں ہوئی۔
اوظالمو! تم نے اس کڑے وقت میںبھی یہ نہیں سوچا کہ اب ہی اللہ کو منالیں۔
تم نےکیاکیا؟تم نےکیا ظلم کیا؟
جنرل نیازی!تم پہ قربان۔تم نے شجاعت کے کیامعرکے سرکئے۔ ایک غیرملکی ریڈیوکہہ رہاتھا، حقائق کا آپ کو پتہ چلے گا ،لیکن کچھ دنوں کے بعد ہمارے یہ بڑے ہمیں حقیقت نہیں بتلاتے۔ جنرل نیازی آخری وقت تک کہتا رہا،میں کٹ جاؤں گاہتھیار نہیں پھینکوں گا کیونکہ میری روایات میراماضی ہتھیار ڈالنے سے خالی ہے۔
کاش!آج جنرل نیازی کے ٹکڑے ہوچکے ہوتے اور اس نے ہتھیار نہ ڈالے ہوتے۔
تم ان سسکیوں کااندازہ نہیں کرسکتے جس وقت وہ اپنے پیجوں کو اتار کر جنرل اروڑا کو پیش کررہاتھا۔تمہیں کیا پتہ ہے اس نے ایک غیرملکی نامہ نگار کوکیاکہاتھا۔اس نے کہا:خدا کی قسم !اگر مجھ کو اوپر سے حکم نہ ہو میں آخری وقت تک ہتھیار نہ ڈالوں۔تمہیں پتا ہے ان ظالموں نے کیاکیا ظلم کئے ہیں۔اسے جبراً ہتھیار پھینکنے پر مجبور کیاگیا۔جنرل نیازی وہ شخص تھا جس نے ایک غیرملکی اخبار کے نمائندے کو کہا، جب اس نے کہا تھا: تمہاری حکومت نے یہ حکم دیا ہے کہ ہتھیار پھینک دو۔لوگوں کی جانوں کو بچاؤ، اس نے کہا: کیوں ہتھیار پھینکوں؟ کہنے لگا مغربی پاکستان بڑا دور ہےاور اس جوان نے جواب دیا:مغربی پاکستان بہت دور ہے لیکن جنت دور نہیںہے۔جنت بڑی قریب ہے۔ مغربی پاکستان تک نہیں پہنچاجاسکتا ،لیکن جنت میں جانے سے کوئی نہیں روک سکتا۔
اےکاش!آج ہم زندہ نیازی کاماتم کرنے کی بجائے شہید نیازی کا ماتم کررہے ہوتے…..!
ہمیں زخم تب بھی لگتے، لیکن اس وقت ہمارے زخموں میں اتنی ٹیس نہ ہوتی جتنی اب ہے۔
اس وقت ہمارے سینوں میں اتنی جلن نہ ہوتی جتنی جلن اب ہے۔
اس وقت ہماری روحیں اتنی کچلی ہوئی نہ ہوتیں جتنی آج ہیں۔ آج چودہ سوبرس میں یہ پہلی مرتبہ ہے۔ آج محمدﷺ کی امت میں یہ پہلی مرتبہ ہے۔ عربوں نے میدان جنگ کوچھوڑاتھا۔ ہتھیار نہیں پھینکے تھے۔ ہم عربوں پر طعن کرتے رہے۔ آج چودہ سوسال میں پہلی مرتبہ ہے کہ مسلمانوں نے اس طرح اجتماعی طور پر ہتھیار پھینکے۔ ہم نےکبھی ہتھیار نہیں پھینکے تھے۔ ہماری روایات کو دھبہ لگایاگیا۔ ہماری اقدار کو کچلاگیا۔ ہمارے ماضی کو مسلاگیاہے۔
آج میں صبح کہہ رہا تھا،بانی پاکستان 48ء میں نہیں مرے۔ آج مرےہیں اور آج انہوں نے انہیں قبر سے باہرنکال کر ماراہے۔
تمہیں کیا پتہ ہے آج کیا کچھ نہیں ہوا۔ آج کا زخم ایک زخم نہیں۔ آج کے زخم ہزاروں زخم ہیں۔آج تم نے بانی پاکستان کو ان کی قبر سے نکال کر ذبح کیا ہے۔
آج۔ آج ابھی میرے ایک دوست کا فون آیا۔اس نے کہا مجھے معلوم ہوا ہے، تم کل سے رورہے ہو،صبرکروتم نے لوگوں کو صبر کی تلقین کرنی ہے۔ میںنے کہا:خدا گواہ ہے۔ہم ملکوں کے لئے نہیں روتے۔ ہم اس لئے روتے ہیں کہ آج کے بعد اسلام کا کوئی تجربہ کرنے پربھی تیار نہیں ہوگا۔ یہ ایک ملک تھا جو اسلامی نظریہ پہ بنا۔ یہ ایک ملک تھا جو اسلامی نظریۂ حیات پر وجود میں آیا اور آج اس کے کٹنے سے دنیامایوس ہوجائے گی ۔ہمارا رونا ایک ملک کا رونا نہیں۔
میں نے حج سے واپسی کے بعد تمہیں بتلایاتھا کہ میں سعودی عرب کے ہونے والے بادشاہ کوملا،ولی عہدکوملا، اس نے مجھ سے پوچھا۔ پاکستان کا کیاحال ہے؟ میں نے کہا ٹھیک ہے۔ اس وقت کچھ آپس میںنوک جھونک جاری تھی۔ اس نے بڑی تشویش کا اظہار کیا۔ میں نے کہا آپ کو تشویش کیوں ہے۔ تم کیا جانو کہ آج ہم کیوں روتے ہیں۔ تمہیں کیاپتہ ہےکہ آج چوٹ کہاں کہاں جاکے پڑی ہے۔ اس نے کہا مجھے اس لئےتشویش ہے کہ جب تک پاکستان زندہ ہے کعبہ اور مدینہ کے راستے محفوظ ہیںاور اگرپاکستان کمزور ہوگیا توکعبہ اور مدینہ کے راستے غیرمحفوظ ہوجائیں گے۔
آج تمہیں کیا پتہ ہے ہمارارونا کس وجہ سے ہے۔ خدا گواہ ہے کہ 67ء کی عرب اسرائیل جنگ میں صرف ایک دن ایسا آیا، جب مسجد نبوی کے میناروں کی روشنی بجھادی گئی ۔نہیں تو کبھی مسجد نبوی بے نور نہیں ہوئی۔ ہمیشہ اس کے چراغ روشن رہے۔ انہوں نے یہ انتظام کررکھا ہے کہ اگر بجلی پیچھے سے منقطع ہوجائے تواندر جنریٹر رکھےہیں، تاکہ مسجد نبوی کی روشنی گل نہ ہونے پائے۔ لیکن67ء کی عرب اسرائیل جنگ میں ایک دن ایسا بھی آیا جبکہ مسجد نبوی کی بتیوں کو بجھادیاگیا۔ مدینہ منورہ میں رسول اللہ ﷺ کی بستی میں کہرام مچ گیا۔ آج کیا ہوا رسول اللہ ﷺ کے روضے کے گنبد کے بلب بجھادیئے گئے ۔جواب ملا آج مدینۃ الرسول کے بلب اس لئے بجھائے گئے ہیں کہ خطرہ ہے کہیں اسرائیل سعودی عرب پہ بھی بمباری نہ کردے۔
جانتے ہو مدینہ کے باسیوں نے کیا جواب دیا، کہنے لگے اسرائیل مدینہ پر بمباری نہیں کرسکتا۔ اس کو معلوم ہے کہ پاکستان کے مسلمان ابھی زندہ ہیں۔
اودوستو!آج مدینہ کے لوگ کیا سوچ رہے ہوں گے۔ آج ان کے دلوں پہ کیا بیت رہی ہوگی؟
میں نے آپ کو بتلایا کہ65ء کی جنگ میں ہم نے مدینہ طیبہ میں دیکھا۔اسلامی یونیورسٹی میں کہ ہندوستان کے طلبہ ہندوستان کی حمایت کرتے اور پاکستان کے طلبہ پاکستان کی حمایت کرتے۔ لیکن ایک رات جنگ کےدنوں میں پچھلے پہرنیند اچاٹ ہوگئی۔ آنکھیں کھل گئیں، تومیں نے سنا میرے پڑوس سے سسکیوں کی آواز آرہی تھی۔ میں نے سمجھا شاید کسی بھائی کو تکلیف ہوگی۔ جھانک کر دیکھا، توکیادیکھتا ہوں کہ ہندوستان کا ایک طالب علم جودن کی روشنی میں ہندوستان کی حمایت میں ہم سے لڑا کرتا تھا۔ رات کی تاریکی میں اپنا سرسجدے میں رکھے ہوئے کہہ رہا ہے:اللہ پاکستان کو فتح عطافرما‘‘’’اللہ پاکستان کو نصرت عطافرما‘‘ میں چپکے سے باہرنکل آیا۔صبح ہوئی میں نے اس سے کہا:بھائی ہم نے تیرے راز کو پالیا۔ دن کی روشنی میں ہم سے لڑتے جھگڑتے ہو اور رات کی تاریکی میں پاکستان کی فتح کے لئے دعائیں مانگتے ہو۔
جانتے ہواس نے کیاجواب دیا۔کہنے لگا دن کی روشنی میں ہم اپنی جنم بھومی کے لئے لڑتے ہیں ۔ہندوستان کے لئے کہ میری ماں وہاں بستی ہے، میراباپ وہاں رہتا ہے، لیکن رات کی تاریکی میں پاکستان کے لئے اس لئے دعامانگتے ہیں کہ میرا دل وہاں بستا ہے۔ میرا ایمان وہاں بستا ہے۔ تمہیں کیا معلوم کہ ہندوستان کے مسلمان یہ سمجھتے ہیں کہ اگر پاکستان زندہ ہے تو ان کی آبروباقی ہے۔ ہندواس پر ظلم نہیں کرسکتے۔
آج ہندوستان کے مظلوم مسلمانوں کے زخموں پہ کون پھاہہ رکھے؟ آج ان کو کون سہارادے۔
آج ہم بارہ کروڑ نہیں رہے 5کروڑ رہ گئے ہیں۔ آج ہماری تعداد ہندوستان کے مسلمانوں سے بھی کم ہوگئی ہے۔ ہندوستان میں سات کروڑ مسلمان بستے ہیں اور آج ہم صرف 5کروڑ مسلمان ہیں۔
ہم نے کس چیز کو یاد کرنا ہے ۔ایک بات ہوتواس کو کہیں۔
دوستو!پتہ نہیں اب کتنے دن رونا ہے۔ لیکن یاد رکھو ہم مومن ہیں، ہم مسلمان ہیں۔روتے اس لئے ہیں کہ زخم لگا ہے لیکن رب کی رحمت سے اب بھی مایوس نہیں ہیں۔ اس لئے نہیں روتے کہ ہم مایوس ہوگئے۔ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے تو وہ اس کو اپنے دل سے نکال دےکہ ہم مایوسی اور ناامیدی کی بناء پر روتے ہیں۔
ہم اسے لئے روتے ہیں کہ ہمارے دل کٹ گئے ہیں۔
ہم اس لئے روتے ہیں کہ مشرقی پاکستان میں ہمیں اپنے جیالوں، اپنے شہیدوں کے خون کے گرنے کی آواز آرہی ہے۔
ہم اس لئے روتے ہیں کہ ہمیں اپنے معصوم بچوں کےکٹنے اور جلائے جانے کا غم ہے۔ مایوس ہم اب بھی نہیں ہیں۔ اس لئے کہ مومن اپنے رب کی رحمت سے کبھی مایوس نہیں ہوتا۔[وَلَا تَايْــــَٔــسُوْا مِنْ رَّوْحِ اللہِ۝۰ۭ ]اللہ کی رحمت سے ناامید مت ہو۔لیکن خدا کے لئے اللہ کی رحمت کو پکاروتوسہی۔ اللہ ٹوٹے ہوئے دلوں کے بہت قریب ہوتا ہے۔ ہمارے دل ٹوٹے ہوئے ہیں۔ دعاکرو اللہ اپنی رحمتوں کو ہمارے لئے نازل فرمائے۔
دوستو! آج ہم جہاں ماضی کا غم کررہے ہیں۔ ہمیں مستقبل کو بھی دیکھنا چاہئے۔ ہم سوچیں کہ اب کیاہوگااور اب کیاکرناچاہئے۔اب کیا کہیں، شرم آتی ہے کہ آپ کہیں گے کہ یہ یہی ثابت کرنے پرتُلاہواہےکہ ہم نے یہ کہا تھا،وہ کہا تھا۔ ہم نے اپنی طرف سے نہیں کہاتھا۔قرآن وسنت کی روشنی میں کہاتھا۔ ہم نے کہاتھاامریکہ اور برطانیہ کو مت دیکھو۔ تم نے مشرق ومغرب پہ نگاہیں ٹکائی رکھیں۔تم آخری وقت تک قوم کو دھوکہ دیتے رہےکہ ساتواں بحری بیڑا چل چکا،چٹاگانگ کا رُخ کرچکا، خلیج بنگال میں پہنچ چکا، مورچہ لگاچکا۔اس بیڑے کابیڑا غرق ہوگیا ہے وہ کہاں ہے؟ہم نے تمہیں نہیں کہاتھا۔بتلاؤ ہم نے نہیں کہا تھا کہ مشرق ومغرب کو مت دیکھو۔پہلوں نے مشرق ومغرب کو نہیں مشرق ومغرب کے رب کو دیکھا ہے۔ ہم نے تم کو کہا تھا کہ نہیں کہا تھا اور اب بھی یہی کہتے ہیں ۔چھوڑدو میں رب کعبہ کی قسم کھاکرکہتا ہوں، مجھے اسی طرح یقین ہے جس طرح دن کی روشنی کا یقین ہے کہ امریکہ، روس، برطانیہ، فرانس،ایسے ہی ہمارے دشمن ہیں،جس طرح ہندوستان ہمارا دشمن ہے اور آج ان کا اتنا ہی قصور ہے جتنا ہندوستان کا قصور ہے۔یہ ہمارے مروانے میں پوری طرح شامل ہیں۔ تمہیں کیا پتہ ہے تم یہ کہتے رہے، فرانس ہمارے چچا کا بیٹااور امریکہ ہمارے باباکابیٹا ہے۔ یہ ذلیل اور کمینے ہیں۔یہ محمد ﷺ کی امت کےد وست نہیںہوسکتے۔ہم نے تمہیں کہہ کہہ کر اپنے سینے کو چھلنی کرلیا ہے،لیکن تمہارے کان پر جوں تک نہیں رینگی یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے دشمن رسول اللہ ﷺ کی امت کے بہی خواہ بن جائیں۔خداکاخوف کرو۔ ہم نے تمہیں مثال دیکر سمجھایاکہ تیرے باپ کا دشمن کبھی تیرا دوست نہیں ہوسکتا۔بکواس کرتا ہے وہ شخص جو کہتا ہے کہ میرے باپ کا دشمن میرا دوست ہے۔ ہمارے آقا کو گالیاں دینے والے۔ ہمارے مولیٰ کی توہین کرنے والے۔ہمارے دوست کیسےہوسکتے ہیں؟ تم نادان ہو، امریکی بحری بیڑے نے اسی طرح ہمیں مروایا ہے،جس طرح روسی بحری بیڑے نے عربوں کومروایاتھا۔ اپنی نگرانی میں ،اور ہم تو پہلے دن سے قائل ہی نہیں ہیں کسی کی مدد کے۔ ہم مدد چاہتے ہیں تو رب جبریل کی مدد چاہتے ہیں، جس نے محمد ﷺ کے لئے جبریل کو نازل کیاتھا، تم نے رب کو کبھی آواز ہی نہیںدی۔ تم چین کو پکارتے رہے۔ پاگل بنایا ہےتم نے قوم کو۔ امریکہ آرہا ہے ۔فلاں آرہا ہے، کہاں آرہا ہے۔ایسے ایسے احمق لوگ ہیں۔ مجھے پرسوں ہی پتہ چل گیا تھا کہ حالات انتہائی خراب ہوچکے اور ڈھاکہ اب چندلمحوں کامہمان ہے۔ میں نے ایک دوست کو کہا،وہ میرے سرہوگیا۔میں نے کہا مجھ سے غلطی ہوگئی۔میں تو اپناغم چھپانہیںسکا اس لئے تمہیں بتلادیا۔کہنے لگاامریکہ کابحری بیڑا آگیا ہے۔ میں نے کہا تمہارے باپ کے گھرآئے گا امریکہ کابحری بیڑا۔تم یہ سمجھتے ہو کہ رسول اللہ ﷺ کے دشمن تمہیں بچانے کے لئے آئیں گے۔ آخری وقت تک ہمارے ریڈیو نے چھپائے رکھا۔ ہم اپنے ریڈیو کی مذمت کرتے ہیں۔ہم اپنے ٹیلیویژن کی مذمت کرتے ہیں، جس نے ہمیں اندھیرے میں رکھا۔یہ بکواس کرتے ہیں،یہ کنجریوں کونچانچا کر ان کے بازوکھڑے کرواکرکے سمجھتے ہیں ہم جنگ جیت جائیں گے۔ ان کو شرم نہیں آتی،بے غیرتوں کو۔ انہوں نے بے غیرتی کانام بدلاہے۔ بے غیرتی کو نہیں بدلا۔کوئی ایک بات ہے۔ اگر ہمارے سینے میں زخم ہیں تو ہمارے سینوں میں ناسور بھی ہیں۔ ہم کہیں گے اور اس بات کو واشگاف انداز میں کہیں گے ۔انہوں نے بے حیائی کو ختم نہیں کیا،بے حیائی کا نام بدل دیا ہے۔پہلے کنجریاں گانے گایاکرتی تھیں۔ اب کنجریاں بازو اٹھا اٹھا کر یا علی کہتی ہیں۔ مقصد دونوں کا ایک ہے۔پہلے بھی کنجریوں کی چھاتیوں کو دکھاناہے۔ا ب بھی ان کی چھاتیوں کو دکھاناتھا۔ یہ بے حیا،یہ بدکار انہوں نے روپ بد ل لیا۔ انہوں نے اپنی اصلیت کو نہیں بدلا۔ قوم کو دھوکہ دیتے ہیں۔ ہم ترانے گارہے ہیں، طوائفیں ترانے گارہی ہیں۔
مجھے ایک دوست نے بتلایا کہ ٹیلیویژن میں آج چارطوائفیں اپنے بازو اٹھااٹھا کر کہہ رہی تھیں ہم لال قعلہ پر جھنڈا لہرائیں گے۔ شرم کرو، بے حیاؤ!تم نے بے حیائی کو ہر رنگ میں فروغ دیا ہے۔ اس وقت جب دن رات ہمیں خدا کی بارگاہ میں جھکنا چاہئے تھا۔ تم نے اس وقت بھی عورتوں کی عصمتوں کو لوگوں کے سامنے نیلام کیا ہےاور شرک کا یہ عالم ہے ۔جاؤ ریڈیوسنو!یا علی یا علی ۔ایک بھی اللہ کا نام نہیں لیتا۔یہ عالم ہے شرک کا۔
تم پہ عباس کا سایہ۔ تم نے ایک دفعہ نہیں کہا تم پر اللہ کا سایہ۔ یہ کسی عقیدے کی اشاعت کی بات نہیں۔ یہ ایمان کی بات ہے۔تم پہ فلاں کا سایہ فلاں کا سایہ۔ رسول اللہﷺ نے تو کسی کے سائے کو نہیں پکارا۔ رسول اللہ ﷺ نے توکہا:
لاالٰہ الااللہ وحدہ انجز وعدہ ونصرعبدہ وھزم الاحزاب وحدہ.
جب سرزمین عرب کو پامال کردیاتو محمدعربی نے یہ نہیں کہا کہ محمد نے فتح کیاہے۔فرمایا میرے اکیلے رب نے فتح کیا ہے۔ تم شرم کروبے غیرتو!تم نے ہمیں ڈبویاہے۔ اگرآج ہمارے ہاتھ تمہارے گریبانوں تک نہیں پہنچ سکتے توقیامت کو یقینا پہنچیں گے۔تم سب مجرم ہو۔ ریڈیو، ٹیلیویژن ،یہ بدمعاشی اورفحاشی کے اڈے ہیں۔ کوئی ایک بات ہے۔ تم نے قوم کو کٹوادیا ۔تم نے پہلے غیراللہ کوپکارا۔چین اور امریکہ کو مددکے لئے پکارتے رہے۔ کبھی تم عباس اور فلاں کو پکارتے رہے۔ تمہیں کیا پتہ، آؤاختلافِ عقائد کی بات نہیں۔ ایمان کی بات بتلاتا ہوں۔ محمدﷺ نے میدان جنگ میں صرف ایک نعرہ لگایاہے:
اللہ اکبر خربت خیبرا انا اذا نزلنا بساحۃ قوم فساء صباح المنذرین.
لوگ کہتے ہیں کہ محمد ﷺ کے دشمن بہت طاقتور ہیں لیکن میرا اللہ ان سے بھی بڑا طاقتور ہے۔ ایک اللہ، دنیا کا کون ہے جس کو تم کہہ سکوکہ کائنات سے بڑا ہے۔یہ کون کہہ رہا ہے ۔دنیا کا سردار کہہ رہاہے۔ سیدکونین کہہ رہا ہے۔رحمت عالم کہہ رہا ہے۔رسول اکرم کہہ رہا ہےﷺ۔
کوئی ایک بات !!!
پیٹوں دل کو کہ روؤں جگر کو میں!….!
مقدور ہو تو ساتھ رکھوں نوحہ گر کو میں
ایک ماتم ہے۔ تم نے ساری قوم کو کربلا میں کھڑا کردیا ہے۔ آج تم نے سارے پاکستان کو کربلابنادیا ہے۔ کہہ میں یہ رہا تھا کہ ہم ناامید نہیں ہیں۔ ہم مایوس نہیں ہیں۔ہم مومن ہیں، لیکن جب ہم کہتے ہیں کہ ہم ناامید نہیں ہیں تو کوئی یہ نہ سمجھے کہ ہمارے زخم مٹ گئے ہیں۔ یہ زخم قیامت تک ہرے رہیں گے اور ہم ان زخموں کو اپنی اولادوں کو ورثہ میں دے کر جائیں گے۔ ہمارے زخم نہیں مٹ سکتے۔
رب کلام مبین کی قسم!میں مشرقی پاکستان کا نام(بنگلہ دیش) نہیں لےسکتا۔ مشرقی پاکستان کا نام لیتا ہوں، میرا گلارندھ جاتا ہے۔ یہ زخم کبھی مٹ سکتا ہے؟ رات کے اندھیروں میں ہم جاگیں گے،مشرقی پاکستان ہمارے لبوں پر آئے گا۔ہماری آنکھوں سے آنسونکل آئیں گے۔ یہ زخم نہیں مٹے گا۔ہم مایوس نہیں۔ ہم ناامید نہیں۔ ہم تمہیں کہتے ہیں کہ اب ہمارا پنڈ چھوڑ دو۔اب ہماری جان چھوڑ دو۔یحیی خان صاحب جاؤ ہم تمہیں کچھ نہیں کہتے،یہاں سے چلے جاؤ۔چھوڑ دو۔محمد اکرم ﷺ کی امت کو اس سے زیادہ بے آبرونہ کرو اور ہم یہ کہتےہیں ۔حکومت یہ اعلان کرے کہ ہم نے پانچ لاکھ کی فوج تیار کرنی ہے۔مت دیکھو روس کی طرف۔مت دیکھو امریکہ کی طرف۔ کسی کو مت دیکھو۔ اس دنیا میں آج ثابت ہوگیا ہے کہ اگر دیکھنا ہے تو اپنی قوت بازو کو دیکھو اور اللہ کی رحمت کو دیکھو۔ کافروں نے اپنی قوت بازو کودیکھ کر تم پہ فتح حاصل کی ہے۔ تم نے اپنے قوت بازو کو دیکھا نہ اپنے رب کو دیکھا۔ تم امریکہ اور چین کو دیکھتے رہے۔ اور مجھے شرم آتی ہے یہ بات دہراتے ہوئے کہ اندراگاندھی نے کہا تھا کہ پاکستان کو بڑی طاقتوں کاسہارا ہے، ہمیں اپنی قوت کا سہارا ہے۔ نومہینے سے جنگ جاری ہےتم بڑی طاقتوں کا سہارا لیتے پھرے جبکہ نو ماہ میں دس لاکھ انسانوں کو تیار کیاجاسکتا تھا۔
آج ایک ہی صورت ہے کہ پاکستان کے بچے بچے کو مجاہدبنادو۔ پاکستان کے بچے بچے کو غازی بنادو۔ پاکستان کے بچے بچے کو فوجی وردی پہنادو۔ پاکستان کے بچے بچے کو سپاہی بنادو۔اور ان کو کہو کہ اپنے زخم چاٹو اور تب تک چاٹتے رہو جب تک ہندوستان کو ذلیل نہیں  کرلیتے۔ اس سے بدلہ نہیں چکادیتے۔ یہی ایک حل ہے یقین کرو۔ اگر اس کے علاوہ کوئی اورراہ اختیار کی گئی تو آج مشرقی پاکستان کو رورہے ہیں کل مغربی پاکستان کو روئیں گے۔ آج یاد کرلو۔ سوچو۔ اپنے رخوں کوبدلو۔ اپنی زندگیوں کو تبدیل کرو۔ توبہ کرو۔معافی مانگو۔ کہواللہ!ہم نے تجھ سے منافقت برتی تھی۔ اب منافقت چھوڑ کر مسلمان ہوگئے ہیں۔ آجاؤ، عیاشیوںکوچھوڑدواور فحاشیوں کوچھوڑدو۔ان طوائفوں کونکال دو۔ ان کو گولی سے اڑادو۔ہمیں طوائفوں کی ضرورت نہیں ہمیں محمد بن قاسم کی ضرورت ہے۔ ہمیں اداکاروں کی ضرورت نہیں، ہمیں طارق بن زیاد کی ضرورت ہے۔ ہمیں کسی گلوکار کی ضرورت نہیں ہمیں خالد بن ولید کی ضرورت ہے۔قوم کو تیار کرو۔قوم کو بتلاؤکہ تمہارے رسول کریم ﷺ نے کافروں کے سامنے کٹنے کو ترجیح دی جھکنے کو پسند نہیں فرمایا۔ قوم کو تیار کرو۔اس کے سینوں میں آگ بھردو۔ ان کے دلوں میں چنگاریاں جلادو۔ ان کے ذہنوں میں شعلے جلادو۔ان کو اس طرح بھڑکاؤکہ جب یہ کفر کے خرمن پر گریں تو اسے خاکستر بنادیں۔
یادرکھو!ایک یہ حل ہے۔ایک ہی حل ہے۔ ایک ہی علاج ہے اور وہ علاج یہ ہے کہ ہم تب تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک مشرقی پاکستان کو آزاد نہیں کروالیتے۔ ایک ہی حل ہے۔ ایک ہی علاج ہے ہم تب تک سکون سے نہیں بیٹھیں گے جب تک کشمیر کو بھی ساتھ آزاد نہیں کروالیتے۔ ان کو بتادو، ہم تب تک آرام سے نہیں بیٹھیں گے جب تک ہندوستان کے سات کروڑ مسلمان بھی محفوظ نہیں ہوجاتے۔ ان کو بتلاؤاور کس طرح بتلاؤ۔زمین پر تیاری کرواور آسمان پر اللہ کی رحمتوں کو آوازیں دو۔ ایک ہی علاج ہے ،ایک علاج جو اس کے سوا دوسرا علاج کہتا ہے غلط کہتا ہے۔ تمہیں مٹاناچاہتا ہے ۔یاد رکھ لوہم نے پہلے بھی تمہیں کہا کم از کم تم تو گواہ رہوگے ہم تمہیں کہتے رہے اور آج تمہیں پھر بتلارہے ہیں کہ تم زندہ رہنا چاہتے ہو اس کا ایک طریقہ ہے ۔ہر آدمی سپاہی بن جائے ،کپڑے کی دکان کرے،جوتوں کی دکان کرے ،سبزی بیچے، اسکول میں ماسٹر ہو اور دفتر میں ملازم ہو لیکن چوبیس گھنٹے کے نوٹس پر، وردی والاسپاہی ہو، صوبیدار ہو، لیفٹینٹ ہو، کیپٹن ہو، میجر ہو، کرنل ہو صرف چوبیس گھنٹے کےنوٹس پر اس کی انگلیاں رائفلوں کے ٹریگروں پر حرکت کرنے لگیں اور یہ کوئی لغویات نہیں۔ ہم نے اسرائیل کو دیکھا۔ اس نے اسی طرح اپنی بقاکو،اسی طرح اپنی زندگی کو بنارکھاہے۔ یقین کریں سارے اسرائیل میں بائیس لاکھ یہودی ہیں صرف، 10کروڑ عربوں کو انہوں نے شکست دی۔ کس طرح کہ ان 20لاکھ میں15لاکھ جوان،بچے اوربوڑھے فوجی ہیں۔ کوئی اون،تیل بیچتاہے، کوئی دوسرا کاروبار کرتا ہے، کوئی ہل چلاتا ہے ،لیکن ادھر سائرن بجتا ہے ادھر ہر آدمی اپنے آپ کو فوجی قالب میں ڈھال لیتا ہے۔
ایک ہی حل ہے۔ مسجد کا خطیب ،مسجد کا مؤذن ،مسجد کا طالب علم، کالج کا پرنسپل، یونیورسٹی کا چانسلر اور پاکستان کا ہرہرفرد کاروبار کرنے والا،منڈی جانے ولا،بازار میں رہنے والا،ہر آدمی اپنے آپ کو سپاہی کے قالب میں ڈھال لے۔
حکومت اس بات کا اعلان کرے، ہر وہ شخص جس کے بازوؤں میں رائفل کے اٹھانے کی سکت ہے اس کو فوجی ٹریننگ دی جائے گی، اس کو فوجی تربیت دی جائے گی۔
سوچو!ایک ہی حل ہے۔ نیچے یہ کرو، اپنے بازوؤں میں زور پیدا کرو اپنے ماتھوں کو سجدوں سے سجاؤ، اپنے سینوں کو ایمان کی روشنی میں منور کرو، اپنے دلوں کو قرآن کریم کی قندیلوں سے روشن کرو، زبان پہ نعرہ تکبیر ہو، زبان پر اللہ کی فتح ونصرت کی دعاہو۔ محمد رسول اللہ ﷺ نے تمہیں عملاً بتلایا کہ میدان بدر میں تلواروں اور تیروں سے بچوں کو سجا کے لے آئے۔ صدیق کہتا ہے۔رات کی تاریکی چھاگئی۔ میں نے اپنے آقا کے خیمے کو دیکھا،میرا آقا نہیں۔میں ڈھونڈا اور ڈھونڈتا ہوانکلا۔ میں نے کیا دیکھا، پوری امت کا سرتاج ،اللہ کامحبوب جس کے سامنے ساری کائنات ہیچ ہے، جس کے سامنے پوری دنیا ہیچ ہے، اس نے اپنی پیشانی مبارک کو ننگی زمین پہ رکھا ہواہے اور کیا کہہ رہا ہے:اللھم ان تھلک ہذا العصابۃ فلن تعبد بعدہ.
اللہ میری جتنی کائنات تھی،میں لے کر آگیا ۔اب ان کی حفاظت کرنا تیرا کام ہے۔ اب ان کو بچانا تیرا کام ہے۔محمد ﷺ نے تمہیں کون سی چیز نہیں بتلائی۔ آؤظالمو!دیکھو!لبوں پہ اللہ کی رحمت کی دعائیں ہوں، ہاتھوں میں رائفلیں ہوں، پھر دیکھو کہ اللہ کے فرشتے تمہاری مدد کے لئے کس طرح اترتے ہیں۔ اللہ سے دعا ہے۔ اللہ ہمیں اب بھی سدھاردے، اور ہمارے زخموں کو مندمل فرمادے۔آمین
وآخر دعوانا ان الحمدللہ رب العالمین.

About ادارہ

Check Also

ہمارے استاذ محترم شیخ ذوالفقار علی طاہررحمہ اللہ کے متعلق درجہ ثامنہ کے طلبہ کے مشاہدات،جذبات اور احساسات

  ہمارے استاذ محترم اور والد کا مقام رکھنے والے انسان فضیلۃ الشیخ ذوالفقار علی …

جواب دیجئے