Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2018 » شمارہ اکتوبر » مجاہد کے لیے خوشخبریاں ۔۔۔!!!

مجاہد کے لیے خوشخبریاں ۔۔۔!!!

 

محترم قارئین ! دیگر نیک اعمال کی طرح جھاد فی سبیل اللہ بھی حد درجہ محبوب و پسندیدہ عمل ہے جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ :

أَيُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ؟ فَقَالَ:‏‏‏‏ إِيمَانٌ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ، ‏‏‏‏‏‏قِيلَ:‏‏‏‏ ثُمَّ مَاذَا؟ قَالَ:‏‏‏‏ الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏قِيلَ:‏‏‏‏ ثُمَّ مَاذَا؟ قَالَ:‏‏‏‏ حَجٌّ مَبْرُورٌ .( صحیح بخاری : 24 )

کون سا عمل سب سے افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانا۔ کہا گیا : اس کے بعد کون سا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا  : اللہ کی راہ میں جہاد کرنا –

ایک روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ :

أَيُّ الْعَمَلِ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ ؟ قَالَ :‏‏‏‏ الصَّلَاةُ عَلَى وَقْتِهَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ ثُمَّ أَيٌّ ؟ قَالَ :‏‏‏‏ ثُمَّ بِرُّ الْوَالِدَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ :‏‏‏‏ ثُمَّ أَيٌّ ؟ قَالَ :‏‏‏‏ الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ .( صحیح بخاری : 527 )

بارگاہ الہی میں کون سا عمل زیادہ محبوب ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اپنے وقت پر نماز پڑھنا، پھر پوچھا گیا : اس کے بعد ؟ فرمایا : والدین کے ساتھ نیک نیک سلوک کرنا ۔ پوچھا گیا : اس کے بعد؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا  : اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔

جہاد فی سبیل اللہ کی نیکیوں کا سن کر صحابیات رضوان اللہ علیھن نے خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ :

 نَرَى الْجِهَادَ أَفْضَلَ الْعَمَلِ، ‏‏‏‏‏‏أَفَلَا نُجَاهِدُ؟ ‏‏

( صحیح بخاری : 1520 )

یا رسول اللہ! ہم دیکھتے ہیں کہ جہاد تمام نیک اعمال سے بڑھ کر ہے۔ پھر ہم بھی کیوں نہ جہاد کریں؟

جھاد کرنے والا شخص کئے خوشخبریوں کا حامل ہے یہاں چند بشارتوں کا بالاختصار ذکر کرتے ہیں ۔

مجاہد کو اللہ تعالی کا وفد قرار دیا گیا ہے ، جیسا کہ سیدنا ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

وَفْدُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ثَلَاثَةٌ:‏‏‏‏ الْغَازِي، ‏‏‏‏‏‏وَالْحَاجُّ، ‏‏‏‏‏‏وَالْمُعْتَمِرُ .( سنن نسائی : 3123 )

اللہ کا وفد تین ( طرح کے لوگ ) ہیں ، مجاہد ، حاجی  اور عمرہ کرنے والا ۔

یعنی یہ تینوں اللہ تعالی کے مقرب ہیں اور ایلچی کا درجہ رکھتے ہیں ۔

اور اللہ تعالی نے اپنے مجاہد بندے اور اس کے جان مال اور اہل عیال کی حفاظت نصرت اپنے ذمے اٹھایا ہے ۔

سیدنا ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ :

أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏  تَكَفَّلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِمَنْ جَاهَدَ فِي سَبِيلِهِ لَا يُخْرِجُهُ إِلَّا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِهِ، ‏‏‏‏‏‏وَتَصْدِيقُ كَلِمَتِهِ، ‏‏‏‏‏‏بِأَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ أَوْ يَرُدَّهُ إِلَى مَسْكَنِهِ الَّذِي خَرَجَ مِنْهُ مَعَ مَا نَالَ مِنْ أَجْرٍ أَوْ غَنِيمَةٍ .( سنن نسائی : 3124 )

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ اپنی راہ کے مجاہد کا کفیل و ضامن ہے جو خالص جہاد ہی کی نیت سے گھر سے نکلتا ہے، اور اس ایمان و یقین کے ساتھ نکلتا ہے کہ یا تو اللہ تعالیٰ اسے ( شہید کا درجہ دے کر ) جنت میں داخل فرمائے گا یا پھر اسے ثواب اور مال غنیمت کے ساتھ اس کے اس ٹھکانے پر واپس لائے گا، جہاں سے نکل کر وہ جہاد میں شریک ہوا تھا ۔

نہ صرف اللہ ذمہ اٹھاتا ہے بلکہ مجاھد کی نصرت اپنے اوپر لازم فرما لیتا ہے جیسا کہ سیدنا ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ :

أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏  ثَلَاثَةٌ حَقٌّ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ عَوْنُهُمْ:‏‏‏‏ الْمُكَاتَبُ الَّذِي يُرِيدُ الْأَدَاءَ، ‏‏‏‏‏‏وَالنَّاكِحُ الَّذِي يُرِيدُ الْعَفَافَ، ‏‏‏‏‏‏وَالْمُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ .( سنن نسائی : 3223 )

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تین ( طرح کے لوگ )  ہیں جن کی مدد کرنا اللہ تعالیٰ نے اپنے اوپر لازم کر لیا ہے :  ( ایک )  وہ مکاتب(غلام) جو مقررہ رقم ادا کر کے آزادی حاصل کر لینے کے لیے کوشاں ہوں ۔ ( دوسرا )ایسا نکاح کرنے والا جو شادی کرکے عفت و پاکدامنی کی زندگی بسر کرنا چاہتا ہو( تیسرا )  وہ مجاہد جو اللہ کی راہ میں جہاد کرنے کے لیے نکلا ہو ۔

جہاں اللہ تعالی نے ان کا ذمہ اٹھایا ہے وہاں بندوں کو بھی یہ تعلیم دی گئی ہے کہ وہ مجاھدین اور ان کے اہل عیال کی نصرت و حفاظت کریں جو ان کی نصرت حفاظت کریں گے ان کے لیے بہت ہی بڑی بشارتیں دی گئی ہیں اور جو ان سے روگردانی کرتے ہیں ان کے لیے وعید وارد ہوئی ہیں ۔

سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ :

حُرْمَةُ نِسَاءِ الْمُجَاهِدِينَ عَلَى الْقَاعِدِينَ كَحُرْمَةِ أُمَّهَاتِهِمْ وَمَا مِنْ رَجُلٍ مِنَ الْقَاعِدِينَ يَخْلُفُ رَجُلًا مِنَ الْمُجَاهِدِينَ فِي أَهْلِهِ إِلَّا نُصِبَ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ  ، ‏‏‏‏‏‏فَقِيلَ لَهُ:‏‏‏‏ هَذَا قَدْ خَلَفَكَ فِي أَهْلِكَ، ‏‏‏‏‏‏فَخُذْ مِنْ حَسَنَاتِهِ مَا شِئْتَ، ‏‏‏‏‏‏فَالْتَفَتَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:‏‏‏‏ مَا ظَنُّكُمْ ؟( سنن ابی داود : 2496 )

مجاہدین کی بیویوں کی حرمت جہاد سے بیٹھے رہنے والے لوگوں پر ایسی ہے جیسے ان کی ماؤں کی حرمت ہے، اور جو خانہ نشین مرد مجاہدین کے گھربار کی خدمت میں رہے، پھر ان کے اہل میں خیانت کرے تو قیامت کے دن ایسا شخص کھڑا کیا جائے گا اور مجاہد سے کہا جائے گا : اس شخص نے تیرے اہل و عیال میں تیری خیانت کی اب تو اس کی جتنی نیکیاں چاہے لے لے ، اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا:  پھر تم کیا سمجھتے ہو ۔

اور ایک روایت میں ہے کہ :

مَنْ جَهَّزَ غَازِيًا، فَقَدْ غَزَا، وَمَنْ خَلَفَ غَازِيًا فِي أَهْلِهِ، فَقَدْ غَزَا .( صحیح مسلم : 4903 )

جس شخص نے کسی مجاہد کے لیے سامان مہیا کیا تو یقینا اس نے جہاد کیا اور جس نے مجاہد کے پیچھے اس کے گھر والوں کی دیکھ بھال کی اس نے بھی جہاد کیا .

اور ایک روایت میں ہے کہ :

مَنْ لَمْ يَغْزُ أَوْ يُجَهِّزْ غَازِيًا أَوْ يَخْلُفْ غَازِيًا فِي أَهْلِهِ بِخَيْرٍ أَصَابَهُ اللهُ سُبْحَانَهُ بِقَارِعَةٍ قَبْلَ يَوْمِ الْقِيَامَةِ .

( سنن ابن ماجہ : 2752 )

جس شخص نے جہاد نہ کیا، یا کسی مجاہد کو تیار نہ کیا، یا غازی کے گھر والوں کی بہتر انداز میں کفالت نہ کی، اللہ تعالیٰ اسےقیامت سے پہلے (مصیبت یا حادثہ) دکھادے گا۔

مجاہد بندے کے اس نیک عمل کی بنا پر تمام پریشانیاں دور کی جاتی ہیں جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ :

إِنَّهُ لَيُنَجِّي اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى بِهِ مِنَ الْهَمِّ وَالْغَمِّ ۔

( مسند احمد : 22795 )

بیشک اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے پریشانی اور غم دور کر دیتا ہے ۔

اور اللہ تعالی مجاہد کے فقر فاقہ ختم کر دیتا ہے اور اسے غنی فرما دیتا ہے جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : سَافِرُوا تَصِحُّوا وَاغْزُوا تَسْتَغْنُوا.( مسند احمد : 8588 صححه الالباني )

سفر کرو تندرست رہو گے، جہاد کرو غنی ہو جاؤ گے۔

مجاہد بندے کو بے شمار نیکیوں سے مالا مال کیا جاتا ہے حتی کہ یوں کہا گیا کہ مجاہد کے جھاد کی نیکی کا تو کوئی مثل ہی نہیں جیسا کہ سیدنا ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ :

جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ دُلَّنِي عَلَى عَمَلٍ يَعْدِلُ الْجِهَادَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ لَا أَجِدُهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ هَلْ تَسْتَطِيعُ إِذَا خَرَجَ الْمُجَاهِدُ أَنْ تَدْخُلَ مَسْجِدَكَ فَتَقُومَ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا تَفْتُرَ، ‏‏‏‏‏‏وَتَصُومَ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا تُفْطِرَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَمَنْ يَسْتَطِيعُ ذَلِكَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ:‏‏‏‏ إِنَّ فَرَسَ الْمُجَاهِدِ لَيَسْتَنُّ فِي طِوَلِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَيُكْتَبُ لَهُ حَسَنَاتٍ .

( صحیح بخاری : 2785 )

ایک صاحب  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اور عرض کیا کہ : مجھے کوئی ایسا عمل بتا دیجئیے جو ثواب میں جہاد کے برابر ہو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ایسا کوئی عمل میں نہیں پاتا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا تم اتنا کر سکتے ہو کہ جب مجاہد  ( جہاد کے لیے )  نکلے تو تم اپنی مسجد میں آ کر برابر نماز پڑھنی شروع کر دو اور ( نماز پڑھتے رہو اور درمیان میں )  کوئی سستی اور کاہلی تمہیں محسوس نہ ہو، اسی طرح روزے رکھنے لگو اور کوئی دن بغیر روزے کے نہ گزرے۔ ان صاحب نے عرض کیا : بھلا ایسا کون کر سکتا ہے؟ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : مجاہد کا گھوڑا جب رسی میں بندھا ہوا زمین ( پر پاؤں ) مارتا ہے تو اس پر بھی اس کے لیے نیکیاں لکھی جاتی ہیں۔

اور ایک روایت میں ہے کہ :

مَثَلُ الْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَنْ يُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏كَمَثَلِ الصَّائِمِ الْقَائِمِ .

( سنن نسائی : 3126 )

اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والے کی مثال  ( اور اللہ کو معلوم ہے کہ اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والا کون ہے )  دن بھر روزہ رکھنے والے اور رات میں عبادت کرنے والے کی مثال ہے۔

اور مجاہد بندہ بھی اس خوشخبری کا حامل کہ وہ راہ جھاد میں اگر شھادت پا لیتا ہے تو اس کےلئے روزہ محشر تک جھاد کا اجر لکھا جاتا ہے ۔

جیسا کہ سیدنا ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ :

 مَنْ خَرَجَ حَاجًّا فَمَاتَ كَتَبَ اللهُ لَهُ أَجْرَ الْحَاجِّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَمَنْ خَرَجَ مُعْتَمِرًا فَمَاتَ، كَتَبَ اللهُ لَهُ أَجْرَ الْمُعْتَمِرِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَمَنْ خَرَجَ غَازِيًا فِي سَبِيلِ اللهِ فَمَاتَ كَتَبَ اللهُ لَهُ أَجْرَ الْغَازِي إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ .( صحیح بخاری : 2146 )

جو شخص حج کرنے کے ارادے سے نکلا اورفوت ہوگیا، قیامت تک اس کے لئے حج کرنے والے کا ثواب لکھاجائےگا، اور جو شخص عمرہ کرنے کے لئے نکلا اور وفات پا گیا، قیامت تک اس کے لئے عمرہ کرنےکاثواب لکھاجائےگا۔  اور جو شخص اللہ کے راستے میں جہاد کرنے کےلئے نکلا اور وفات پاگیا تو قیامت تک اس کےلئے مجاہد کا اجر لکھاجائے گا۔

اور مجاہد کے لئے تمام مومن روز محشر شفاعت کریں گے اور اس کے حق میں باری تعالی سے جھگڑیں گے ۔

ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا : جب مومن لوگ آگ سے خلاصی پالیں گے، اور بے خوف ہو جائیں گے، تو ( اس ذات كی قسم جس كے ہاتھ میں میری جان ہے ) تم میں سے كکوئی شخص دنیا میں اپنے ساتھی سے اتنا سخت جھگڑا نہیں كکرتا جتنا شدید جھگڑا مومن اپنے رب سے اپنے ان بھائیوں كکے بارے میں كکریں گے جو آگ میں ڈال دیئے گئے ہونگے ۔ ك اے ہمارے رب ! ہمارے بھائی ہمارے ساتھ نماز پڑھا كکرتے تھے، روزہ رکھا کرتے تھے، حج كکیا كکرتے تھے ( اور ہمارے ساتھ جہاد كکیا كکرتے تھے)  پھر بھی آپ نے انہیں آگ میں ڈال دیا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا : جاؤ، ان میں سے جن كکو پہچانتے ہو آگ سے نکال لو۔ جنتی ان كکے پاس آئیں گے ، وہ انہیں ان كکے چہروں سے پہچانیں گے۔ آگ ان كکے چہروں كکو نہیں جلائے گی۔ ان میں ایسے بھی ہونگے جنہیں آگ نصف پنڈلیوں تک جلائے گی، ان میں ایسے بھی ہونگے جنہیں ٹخنوں تک جلائے گی ( جنتی ) ان میں سے ( بے شمار ) لوگوں كکو نکال لیں گے وہ كہیں گے: اے ہمارے رب جن كکے بارے میں تو نے ہمیں حکم دیا ہم نے انہیں نکال لیا …. الخ ( مسند احمد : 11463 )

اور مجاہد بندے پر جہنم کی آگ حرام ہو جاتی ہے جیسا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنھا سے مروی ہے کہ :

فَعَلَيْك بِالْجِهَاد في سَبِيل الله فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ الله  ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقول: ما خَالَط قَلْبُ امْرِئ مُسْلِمٍ رَهْجٌ في سَبِيل الله إِلَا حَرَّم الله عليه النَّار.  ( الصحیحة للالبانی : 2554 )

تم اللہ کے راستے میں جہاد کو لازم کرلو، کیوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا فرما رہے تھے: اللہ کے راستے میں جس مسلمان کا جسم بھی غبار آلود ہوگیا، اللہ تعالیٰ اس پر جہنم کو حرام کر دے گا۔

اور روز محشر مجاہد کی جنت میں داخلا تو خالق دو جہاں نے اپنے ذمے لیا ہوا ہے جیسا کہ سیدنا ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ :

وَتَوَكَّلَ اللَّهُ لِلْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِهِ، ‏‏‏‏‏‏بِأَنْ يَتَوَفَّاهُ فَيُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ، ‏‏‏‏‏‏أَوْ يُرْجِعَهُ سَالِمًا بِمَا نَالَ مِنْ أَجْرٍ، ‏‏‏‏‏‏أَوْ غَنِيمَةٍ .( سنن نسائی : 3126 )

اللہ تعالیٰ نے مجاہد فی سبیل اللہ کے لیے ذمہ لیا ہے کہ اسے موت دے گا، تو اسے جنت میں داخل کرے گا یا  ( موت نہیں دے گا تو )  صحیح و سالم حالت میں اجر و ثواب اور مال غنیمت کے ساتھ جو اسے حاصل ہوا ہے اسے واپس اس کے گھر بھیج دے گا ۔

اور ایک روایت میں ہے کہ :

 فَإِنَّ الْجِهَادَ بَابٌ مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ .

( الصحیحة للالبانی : 1649 )

جہاد جنت كے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے۔

کتنی بڑی سعادت و خوشبختی ہوگی کہ جس دن لوگ مضطر ، مصائب میں مبتلا ہونگے مجاہد بندے کو پکار پکار کر جنت میں داخل کیا جائے گا جیسا کہ سیدنا ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ :

أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ مَنْ أَنْفَقَ زَوْجَيْنِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ نُودِيَ مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ:‏‏‏‏ يَا عَبْدَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏هَذَا خَيْرٌ، ‏‏‏‏‏‏فَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصَّلَاةِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الصَّلَاةِ، ‏‏‏‏‏‏وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الْجِهَادِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الْجِهَادِ، ‏‏‏‏‏‏وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصِّيَامِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الرَّيَّانِ، ‏‏‏‏‏‏وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصَّدَقَةِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الصَّدَقَةِ.

( صحیح بخاری : 1897 )

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جو اللہ کے راستے میں دو چیزیں خرچ کرے گا اسے فرشتے جنت کے دروازوں سے بلائیں گے کہ اے اللہ کے بندے ! یہ دروازہ اچھا ہے پھر جو شخص نمازی ہوگا اسے نماز کے دروازہ سے بلایا جائے گا جو مجاہد ہوگا اسے جہاد کے دروازے سے بلایا جائے جو روزہ دار ہوگا اسے «باب الريان» سے بلایا جائے گا اور جو زکوٰۃ ادا کرنے والا ہوگا اسے زکوٰۃ کے دروازہ سے بلایا جائے گا۔

تمام مسلمین کو چاہئے کہ وہ جھاد کی ہر وقت تیاری میں رہیں جب بھی اعلاء کلمۃ اللہ کی خاطر جھاد کی ضرورت پڑے اگر تن من قربان کرنی پڑے تو اسلامی ریاست کے تحت سب کچھ قربان کردیں کیوں کہ جو جھاد سے غافل رہتا ہے اس بندے کے لئے وعید وارد ہوئی ہیں۔

سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ما تَرَكَ قَوْمٌ الْجِهَاد الا عَمَّهُم الله بِالْعَذَاب. ( المعجم الاوسط : 3839 )

جس قوم نے بھی جہاد چھوڑا اللہ تعالیٰ عمومی طور پر انہیں عذاب میں مبتلا کر دے گا ۔

اور ایک روایت میں ہے کہ :

 مَنْ لَمْ يَغْزُ أَوْ يُجَهِّزْ غَازِيًا أَوْ يَخْلُفْ غَازِيًا فِي أَهْلِهِ بِخَيْرٍ أَصَابَهُ اللهُ سُبْحَانَهُ بِقَارِعَةٍ قَبْلَ يَوْمِ الْقِيَامَةِ .

جس شخص نے جہاد نہ کیا، یا کسی مجاہد کو تیار نہ کیا، یا غازی کے گھر والوں کی بہتر انداز میں کفالت نہ کی، اللہ تعالیٰ اسےقیامت سے پہلے (مصیبت یا حادثہ) دکھادے گا۔( سنن ابن ماجہ : 2752 )

اللہ عزوجل ہمیں جھاد کی تیاری کی توفیق بخشے اور شہادت کی موت نصیب فرمائے۔

آمین یا مجیب السائلین .

About عبدالسلام جمالی

Check Also

اصحاب الحديث کے لیے خوشخبریاں

قارئین کرام ! اصحاب الحدیث سے مراد رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث مبارکہ …

جواب دیجئے