Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2018 » شمارہ جون » اصحاب الحديث کے لیے خوشخبریاں

اصحاب الحديث کے لیے خوشخبریاں

قارئین کرام ! اصحاب الحدیث سے مراد رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث مبارکہ سننے ، سنانے ، لکھنے پڑھنے اور اس پر عمل کرتے ہوئے اسے آگے دیگر لوگوں تک پہنچانے والے خوشنصیب لوگ ہیں ـ

ایسے لوگوں کے لیے بشارات و خوشخبریوں پر بلاشبہ ایک ضخیم کتاب لکھی جاسکتی ہے یہاں ہم اختصار کو پیش نظر رکھتے ہوئے چند باتوں پر اکتفاء کرتے ہیں ـ

حدیث نبوی لکھنے والا بندہ انتہائی بڑی سعادت کا حامل ہے کہ وہ حدیث نبوی لکھتے ہوئے وحیء الاہی لکھنے کی سعادت حاصل کر رہا ہے زبان نبوی سے نکلنے والا ہر لفظ "وَمَا یَنۡطِقُ عَنِ الۡہَوٰی اِنۡ ہُوَ اِلَّا وَحۡیٌ یُّوۡحٰی” کی تحت وحیء الہی ہی ہوتا ہے ۔

حدیث نبوی سے جی جوڑنے والے خوشنصیب دنیاوی و آخروی کامیابی وکامرانی، عزت ورفعت سے نوازے جاتے ہیں ۔

:عبداللہ بن داود رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ

’’جس شخص کے پیش نظر حدیث سے حصول دنیا اور نفع عاجل ہو اسے دنیا مل جائے گی مگر آخرت سے محروم رہے گا اور جس شخص کا نصب العین علم حدیث کے پڑھنے پڑھانے سے آخرت ہو اللہ تعالی اسے محروم نہیں فرماتے اور دنیا بھی بقدر ضرورت مل ہی جاتی ہے ۔ ‘‘

(شرف اصحاب الحدیث مترجم ص : ٦٢)

حدیث نبوی کے حبدار صحابیء رسول صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا ابوھریرہ رضی اللہ عنہ کی ابتدائی حالات سے تمام اہل علم واقف ہیں کہ گلیوں کوچوں میں  گر کر بے ہوش ہوجاتے اور ہوش آنے پر حدیث سننے کی خواہش فرماتے اس حب حدیث نے سیدنا ابوھریرہ رضی اللہ عنہ کو انتہائی بڑی رفعتوں سے دوچار فرمایا تاریخ دمشق اور دیگر کتب میں ہے کہ سیدنا ابوھریرہ رضی اللہ عنہ اپنے زمانے میں مدینہ کے گورنر مقرر ہوئے اور صحیح بخاری میں امام محمد رحمۃ اللہ علیہ تابعی سے مروی ہے کہ ہم ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس تھے اور ان کے جسم پر کتان کے دو کپڑے گیرو میں رنگے ہوئے تھے۔

 :انہوں نے ان ہی کپڑوں میں ناک صاف کی اور کہا

واہ واہ دیکھو ابوہریرہ کتان کے کپڑوں میں ناک صاف کرتا ہے ، اب ایسا مالدار ہو گیا حالانکہ میں نے اپنے آپ کو ایک زمانہ میں ایسا پایا ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر اور عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرہ کے درمیان بیہوش ہو کر گڑ پڑتا تھا اور گزرنے والا میری گردن پر یہ سمجھ کر پاؤں رکھتا تھا کہ میں پاگل ہو گیا ہوں، حالانکہ مجھے جنون نہیں ہوتا تھا، بلکہ صرف بھوک کی وجہ سے میری یہ حالت ہو جاتی تھی۔

(صحیح بخاری : 7324)

امام شافعی اپنے عصر و عہد میں کتاب و سنت کے سب سے بڑے عالم حدیث گذرے ہیں آپ رحمہ اللہ حدیث نبوی سے دلچسپی رکھتے اور اصحاب الحدیث سے انتہائی گہرا لگاؤ رکھتے تھے فرماتے ہیں کہ : اصحاب الحدیث کا دامن مت چھوڑو اس لیے کہ وہ سب سے زیادہ درست بات کہنے والے ہیں ـ(تاریخ حدیث و محدثین : 378)

اور آپ فرمایا کرتے کہ :

لو لا اصحاب الحديث لكنا فيمن يبيع الفول

اگر اہل حدیث نہ ہوتے تو ہم چھولے بیچنے والے ہوتے ۔

(مقالات راشديہ 2/516)

یعنی کہ حدیث نبوی سے لگاؤ کی بنا پر اللہ عزوجل کی جانب سے اصحاب الحدیث کو عزتوں ورفعتوں سے مالا مال کیا جاتا ہے ـ۔

اور ہاں اصحاب الحدیث جوشب وروز حدیث نبوی کی خدمت میں رہا کرتے ہیں دنیا کے تمام تر مشکلات سے نجات دیئے جاتے ہیں اور خوشخبریوں سے نوازے جاتے ہیں۔

طلب حدیث کی وجہ سے اللہ عزوجل کی طرف سے اصحاب الحدیث اور ان کے اہل خانہ کو رزق دیا جاتا ہے اور انہیں رزق کی تنگی سے محفوظ کیا جاتا ہے جیسا کہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ

 : كَانَ أَخَوَانِ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَكَانَ أَحَدُهُمَا يَأْتِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَالْآخَرُ يَحْتَرِفُ، ‏‏‏‏‏‏فَشَكَا الْمُحْتَرِفُ أَخَاهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ لَعَلَّكَ تُرْزَقُ بِه.

(سنن ترمذی : 2345 وصححہ البانی)

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں دو بھائی تھے، ان میں سے ایک نبی  صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں (حصول حدیث کےلیے) رہتا تھا اور دوسرا محنت و مزدوری کرتا تھا، محنت و مزدوری کرنے والے نے ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے بھائی کی شکایت کی تو آپ نے فرمایا :

’’شاید تجھے اسی کی وجہ سے رزق ملتا ہو ۔ ‘‘

حدیث نبوی کے لئے سفر اور خدمت حدیث کرنے والے اصحاب الحدیث کی وجہ سے پر اللہ تعالی امت محمدیہ سے مصائب و آزمائشیں دور کر ديتا ہے اور سکون اطمئنان کی زندگی عطا فرماتا ہے جیسا کہ سیدنا ابراھیم بن ادھم رحمہ اللہ کا کہنا ہے کہ :

  إن الله تعالي يرفع البلاء عن هذه الامة برحلة أصحاب الحديث .

بے شک اللہ عزوجل محدثین کے (طلب حدیث کےلئے) سفر کی برکت سے امت کے مصائب دور فرمادیتا ہے ۔ (الرحلة فی طلب الحدیث ،تدریب الراوی، النوع الثامن والعشرون : معرفة آداب طالب الحدیث ص : 330)

اور سھل بن عبداللہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ :

من أراد الدنيا والأخرة فليكتب الحديث فإن فيه منفعة الدنيا والأخرة .

جو شخص دنیا و آخرت کی بھلائی کا خواہاں اور متلاشی ہے وہ حدیث تحریر کیا کرے اس میں دونوں جہانوں کی منفعت اور فائدہ ہے ـ

(شرف اصحاب الحدیث  ص : ٦١)

اصحاب الحدیث کی یہ خدمت ان کےلیے صدقہ جاریہ ہوتی ہے جو مرنے کے بعد بھی ان کےلیے صدقہ جاریہ بنے گی جیسا کہ سیدنا ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

 إِذَا مَاتَ الْإِنْسَانُ انْقَطَعَ عَمَلُهُ إِلَّا مِنْ ثَلَاثٍ،‏‏‏‏ صَدَقَةٌ جَارِيَةٌ،‏‏‏‏ وَعِلْمٌ يُنْتَفَعُ بِهِ،‏‏‏‏ وَوَلَدٌ صَالِحٌ يَدْعُو لَهُ .

جب انسان مر جاتا ہے تو اس کے عمل کا سلسلہ بند ہو جاتا ہے سوائے تین چیزوں کے : ایک صدقہ جاریہ ہے ، دوسرا ایسا علم ہے جس سے لوگ فائدہ اٹھائیں اور تیسرا نیک و صالح اولاد ہے جو اس کے لیے دعا کرے۔ (سنن ترمذی : 1376)

یہ علم حدیث گویا کہ اصحاب الحدیث کے لیے مرنے کے بعد بھی سود مند رہتا ہے جس کی بنا پر اصحاب الحدیث کو بفضل اللہ تعالی قبر میں سکون اطمئنان دیا جائے گا اور درجات بلند کیئے جائیں گے ـ

اور بندہ کے تمام تر گناہ بخشے جائیں گے .

زکریاء بن عدی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ:

 رأيت ابن المبارك في النوم فقلت ما فعل الله بك ؟ قال غفرلي برحلتي في الحديث .

میں نے خواب میں جناب عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ کو دیکھا اور میں نے ان سے پوچھا کہ : ما فعل بک؟

یعنی اللہ تعالی نے آپ کے ساتھ کیا معاملہ فرمایا ہے؟ آپ رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا :

طلب حدیث کے لیے سفر کے وجہ سے اللہ تعالی نے میری مغفرت فرما دی ہے ـ

(شرف اصحاب الحدیث ، باب ذکر ما رآہ الصالحون  الخ ۔۔۔۔ ص : 90)

احمد بن شبویہ رحمہ اللہ کا کہنا ہے کہ :

من اراد علم القبر فعليه بالاثر ، ومن اراد علم الجبز فعليه بالري .

جو شخص قبر میں کام آنے والا علم سیکھنا چاہتا ہو وہ حدیث پڑھنے اور صرف کثرت معلومات کا خواہش مند ہو وہ رائے قیاس سیکھے ـ۔

(شرف اصحاب الحدیث  ص : ٧٥)

اصحاب الحدیث کےلیے عظیم خوشخبری ہے کہ اللہ تعالی حصول حدیث کی رحلت کی بنا پر ان کے لیے جنت کا راستہ آسان فرما دیتا ہے سیدنا ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

مَا مِنْ رَجُلٍ يَسْلُكُ طَرِيقًا يَطْلُبُ فِيهِ عِلْمًا إِلَّا سَهَّلَ اللَّهُ لَهُ بِهِ طَرِيقَ الْجَنَّةِ، ‏‏‏‏‏‏وَمَنْ أَبْطَأَ بِهِ عَمَلُهُ لَمْ يُسْرِعْ بِهِ نَسَبُهُ  .

جو شخص حصول علم کے لیے کوئی راستہ طے کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اس کے لیے جنت کا راستہ آسان کر دیتا ہے، اور جس کو اس کے عمل نے پیچھے کر دیا تو اسے اس کا نسب آگے نہیں کر سکے گا ۔

(سنن ابی داود : 3643)

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :

من أدي حديثا إلي أمتي لتقام به سنة أو تثلم به بدعة فله الجنة .

جو شخص میری امت کو ایک حدیث بھی پہنچا دے جس سے کوئی سنت قائم ہو یا کسی بدعت کا رد ہو تو اس کےلیے جنت کی بشارت ہے ـ

( شرف اصحاب الحدیث  ص : 79 )

روز محشر گناہگاروں کے چہرے کالے سیاہ ہونگے لیکن اصحاب الحدیث کے لیے یہ انتہائی بڑی سعادت ہے کہ دعاء نبوی کی برکت سے ان کے چہرے روشن، سفید اور سرخرو ہونگے ـ

جیسا کہ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :

نَضَّرَ اللَّهُ امْرَأً سَمِعَ مِنَّا حَدِيثًا فَحَفِظَهُ حَتَّى يُبَلِّغَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ إِلَى مَنْ هُوَ أَفْقَهُ مِنْهُ، ‏‏‏‏‏‏وَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ لَيْسَ بِفَقِيهٍ  .(سنن ابی داود : 3660)

اللہ تعالیٰ اس شخص کو تروتازہ رکھے جس نے ہم سے کوئی بات سنی اور اسے یاد رکھا ، یہاں تک کہ اسے دوسرے لوگوں تک پہنچایا ، کیونکہ بہت سے حاملین فقہ ایسے ہیں جو فقہ کو اپنے سے زیادہ فقہ و بصیرت والے کو پہنچا دیتے ہیں ، اور بہت سے فقہ کے حاملین خود فقیہ نہیں ہوتے۔

اور اللہ تعالی اصحاب الحدیث کو حب حدیث و خدمت حدیث کی وجہ سے عزت کےساتھ بلا بلا کر جنت میں داخل فرمائیں گے ـ۔

جیسا کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ : قیامت کے دن جب اصحاب الحدیث ( یعنی اہلحدیث) اس حال میں آئیں گے کہ ان کے ساتھ قلم ودوات ہونگی (جن سے وہ احادیث لکھا کرتے تھے) تو اللہ تعالی ان سے فرمائے گا ـ تم اصحاب الحدیث ہو جو لمبی مدت نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود لکھتے رہے ہو (لہذا اب) تم جنت کی طرف روانہ ہوجاو ـ۔

(رواہ الطبرانی القول البدیع ص : 248)

اور اصحاب حدیث کے لیے یہ بھی ایک بہت بڑا اعزاز ہے کہ وہ قیامت کے دن رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اٹھیں گے اور آپ کے ساتھ جنت میں داخل ہوں گے ۔

اللہ تبارک و تعالی کا فرمان ہے :

یَوۡمَ نَدۡعُوۡا کُلَّ اُنَاسٍۭ بِاِمَامِھِمۡ .

اس دن (یعنی قیامت کے دن) ہم ہر شخص کو اسکے امام کے ساتھ بلائیں گے ۔(بنی اسرائیل : 71)

امام ابن کثیر رحمہ اللہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں : ه

ہذا أكبر شرف لاصحاب الحديث لأن إمامهم النبي صلي الله عليه وسلم .

اس میں اصحاب الحديث کے لئے بہت بڑا شرف ہے ، کہ ان کے امام  محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ۔

 (تفسیر ابن کثیر : 3/259)

قارئین کرام ! ان سطور پر اکتفاء کرتے ہوئے ہم اللہ تعالی سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمیں اصحاب الحدیث میں سے بنائے اور روز آخرت اصحاب الحدیث کے ساتھ اٹھائے ۔

آمین

About عبدالسلام جمالی

Check Also

مجاہد کے لیے خوشخبریاں ۔۔۔!!!

  محترم قارئین ! دیگر نیک اعمال کی طرح جھاد فی سبیل اللہ بھی حد …

جواب دیجئے