Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2017 » شمارہ مارچ » صالح کے لئے خوشخبریاں

صالح کے لئے خوشخبریاں

’’قرآن کی روشنی میں‘‘

صالح سے مراد ایسا نیک شخص ہےجو اپنی زندگی کثرت سے نیکیوں اور اعمال صالحہ میںبسرکرتاہے۔ ایسے بندے کوخود خالق کائنات نے قرآن حکیم میں بے شمار بشارتوں سے نوازاہے۔اللہ تعالیٰ ایسے شخص کو بشارت دیتے ہوئے ارشاد فرماتاہے:
[وَبَشِّرِ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَھُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِىْ مِنْ تَحْتِہَا الْاَنْہٰرُ۝۰ۭ كُلَّمَا رُزِقُوْا مِنْہَا مِنْ ثَمَرَۃٍ رِّزْقًا۝۰ۙ قَالُوْا ھٰذَا الَّذِىْ رُزِقْنَا مِنْ قَبْلُ۝۰ۙ وَاُتُوْا بِہٖ مُتَشَابِہًا۝۰ۭ وَلَھُمْ فِيْہَآ اَزْوَاجٌ مُّطَہَّرَۃٌ۝۰ۤۙ وَّھُمْ فِيْہَا خٰلِدُوْنَ۝۲۵ ](البقرہ:۲۵)
ترجمہ:اور ایمان والوں اور نیک عمل کرنے والوں کو ان جنتوں کی خوشخبریاں دو، جن کےنیچے نہریں بہہ رہی ہیں۔ جب کبھی وه پھلوں کا رزق دیئے جائیں گے اور ہم شکل ﻻئے جائیں گے تو کہیں گے یہ وہی ہے جو ہم اس سے پہلے دیئے گئے تھے اور ان کے لئے بیویاں ہیں صاف ستھری اور وه ان جنتوں میں ہمیشہ رہنے والے ہیں ۔
اور اللہ تعالیٰ کافرمان ہے:[اَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ طُوْبٰى لَہُمْ وَحُسْنُ مَاٰبٍ۝۲۹ ](الرعد:۲۹)
ترجمہ:جو لوگ ایمان ﻻئے اور جنہوں نے نیک کام بھی کئے ان کے لئے خوشحالی ہے اور بہترین ٹھکانا ۔
مزیددیکھئے سورۃ بنی اسرائیل:۹، حج:۳۷، کہف:۲۔
صالح بندہ اپنے عمل صالح کی بنا پر اللہ تبارک وتعالیٰ کامحبوب بن جاتاہے۔ جس کا اللہ عزوجل نے یوں اعلان فرمایاکہ:
[اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سَيَجْعَلُ لَہُمُ الرَّحْمٰنُ وُدًّا۝۹۶ ](مریم۹۶)
ترجمہ:بیشک جو ایمان لائے ہیں اور جنہوں نے شائستہ اعمال کیے ہیں ان کے لیے اللہ محبت پیدا کردے گا۔
صالح بندہ دنیابھر کے ہرانسان سے افضل اور بہترہے۔ اللہ تعالیٰ کافرمان ہے:
[اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ۝۰ۙ اُولٰۗىِٕكَ ہُمْ خَيْرُ الْبَرِيَّۃِ۝۷ۭ ](البینۃ:۷)
ترجمہ:بیشک جو لوگ ایمان ﻻئےاور نیک عمل کیے یہ لوگ بہترین خلائق ہیں ۔
اور اللہ تعالیٰ صالح بندے کو سب سے بہترین زندگی عطا فرمائے گا۔اللہ رب العالمین کافرمان ہےکہ:
[مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى وَہُوَمُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّہٗ حَيٰوۃً طَيِّبَۃً۝۰ۚ وَلَـنَجْزِيَنَّہُمْ اَجْرَہُمْ بِاَحْسَنِ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ۝۹۷ ](النحل:۹۷)
ترجمہ:جو شخص نیک عمل کرے مرد ہو یا عورت، لیکن باایمان ہو تو ہم اسے یقیناً نہایت بہتر زندگی عطا فرمائیں گے۔ اور ان کے نیک اعمال کا بہتر بدلہ بھی انہیں ضرور ضرور دیں گے ۔
یعنی کہ صالح بندے کو ایک ایسی بہتر زندگی عطا کی جائے گی جس میں نہ کوئی غم وپریشانی ہوگی اور نہ ہی کسی قسم کاڈروخوف، اللہ تعالیٰ کافرمان ہے کہ:
[اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَاَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتَوُا الزَّكٰوۃَ لَھُمْ اَجْرُھُمْ عِنْدَ رَبِّہِمْ۝۰ۚ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْہِمْ وَلَا ھُمْ يَحْزَنُوْنَ۝۲۷۷ ](البقرہ:۲۷۷،نمل:۸۹)
ترجمہ:بے شک جو لوگ ایمان کے ساتھ(سنت کے مطابق نیک کام کرتے ہیں) نمازوں کو قائم کرتے ہیں اور زکوٰة ادا کرتے ہیں، ان کا اجر ان کے رب تعالیٰ کے پاس ہے، ان پر نہ تو کوئی خوف ہے، نہ اداسی اور غم ۔
صالح بندہ دنیا کے ہر فتنہ، فساد، شر،شرارتوں سے نجات پالے گا۔ اللہ رب العزت نے فرمایا کہ:
[فَاَمَّا مَنْ تَابَ وَاٰمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَعَسٰٓي اَنْ يَّكُوْنَ مِنَ الْمُفْلِحِيْنَ۝۶۷ ](القصص:۶۷)
ترجمہ:ہاں جو شخص توبہ کرلے ایمان لے آئے اور نیک کام کرے یقین ہے کہ وه نجات پانے والوں میں سے ہو جائے گا ۔
اللہ عزوجل صالح بندے کو عزت بھرارزق عطافرمائےگا۔اللہ تعالیٰ کافرمان ہےکہ:
[لِّيَجْزِيَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ۝۰ۭ اُولٰۗىِٕكَ لَہُمْ مَّغْفِرَۃٌ وَّرِزْقٌ كَرِيْمٌ۝۴ ](سبأ:۴)
ترجمہ:تاکہ وه ایمان والوں اور نیکوکاروں کو بھلائی عطا فرمائے، یہی لوگ ہیں جن کے لئے مغفرت اور عزت کی روزی ہے ۔
اللہ تعالیٰ صالح بندے کو اپنی رحمت سے ڈھانپ لیتا ہے ،اللہ تعالیٰ کا فرمان ہےکہ
[فَاَمَّا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَيُدْخِلُہُمْ رَبُّہُمْ فِيْ رَحْمَتِہٖ۝۰ۭ ذٰلِكَ ہُوَالْفَوْزُ الْمُبِيْنُ۝۳۰ ] (الجاثیہ:۳۰)
ترجمہ:پس لیکن جو لوگ ایمان ﻻئے اور انہوں نے نیک کام کیے تو ان کو ان کا رب اپنی رحمت تلے لے لے گا، یہی صریح کامیابی ہے ۔
اللہ عزوجل صالح بندے کو ہرقسم کے خساروں سے محفوظ رکھےگا، اللہ تعالیٰ کافرمان ہے:
[وَالْعَصْرِ۝۱ۙ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِيْ خُسْرٍ۝۲ۙ اِلَّا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ۔۔۔](العصر)
زمانے کی قسم بیشک (بالیقین) انسان سرتا سر نقصان میں ہے سوائے ان لوگوں کے جو ایمان ﻻئے اور نیک عمل کیے ….
اللہ تبارک وتعالیٰ صالح بندے کو بے شمار نیکیوں سے مالامال فرمائےگا حتی کہ اللہ عزوجل کافرمان ہے کہ:
[مَنْ جَاۗءَ بِالْحَسَـنَۃِ فَلَہٗ عَشْرُ اَمْثَالِہَا۝۰ۚ ] (الانعام:۱۶۰)
ترجمہ:جو شخص نیک کام کرے گا اس کو اس کے دس گنا ملیں گے۔
اور فرمایا کہ:
[مَنْ جَاۗءَ بِالْحَسَنَۃِ فَلَہٗ خَيْرٌ مِّنْہَا۝۰ۚ وَہُمْ مِّنْ فَزَعٍ يَّوْمَىِٕذٍ اٰمِنُوْنَ۝۸۹ ](النمل:۸۹)
ترجمہ:جو لوگ نیک عمل ﻻئیں گے انھیں اس سے بہتر بدلہ ملے گا اور وه اس دن کی گھبراہٹ سے بےخوف ہوں گے ۔
اور اللہ عزوجل ایسے بندوں کے گناہوں کو بھی نیکیوں میں بدل دے گا۔اللہ تعالیٰ کافرمان ہے کہ:
[وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَنُكَفِّرَنَّ عَنْہُمْ سَـيِّاٰتِہِمْ وَلَنَجْزِيَنَّہُمْ اَحْسَنَ الَّذِيْ كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ۝۷ ] (العنکبوت:۷)
ترجمہ:اور جن لوگوں نے یقین کیا اور مطابق سنت کام کیے ہم ان کے تمام گناہوں کو ان سے دور کر دیں گے اور انہیں ان کے نیک اعمال کے بہترین بدلے دیں گے ۔
اللہ سبحانہ وتعالیٰ صالح بندے سے اس کی مغفرت کا عہد کرتے ہوئے فرماتاہے:
[وَعَدَ اللہُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ۝۰ۙ لَہُمْ مَّغْفِرَۃٌ وَّاَجْرٌ عَظِيْمٌ۝۹ ](المائدۃ:۹)
ترجمہ:اللہ تعالیٰ کا وعده ہے کہ جو ایمان ﻻئیں اور نیک کام کریں ان کے لئے وسیع مغفرت اور بہت بڑا اجر و ﺛثواب ہے ۔
یعنی صالح بندہ بے شمار نیکیوں سے نوازجاتاہے، اسکے تمام تر گناہ نیکیوں میں بدل جاتےہیںاوراس کی مغفرت کا اعلان ہوتاہے۔ مزید پڑھیئے :سورۃ ھود:۱۱۴،طہ:۸۲، سبا:۴،فاطر:۷۔
معلوم ہوا کہ صالح بندے کو اللہ عزوجل زندگی میں ہی رحمتوں، برکتوں،مغفرتوں سے نوازتا ہے۔
اور بعدالموت قبر میں جہاں ماںباپ، بہن بھائی، دوست، اقارب میں سے کوئی ساتھ نہیں دے گا ،بندے کے نیک اعمال اس کا ساتھ دیںگے۔ اللہ رب العزت نے فرمایا:
[اَلْمَالُ وَالْبَنُوْنَ زِيْنَۃُ الْحَيٰوۃِ الدُّنْيَا۝۰ۚ وَالْبٰقِيٰتُ الصّٰلِحٰتُ خَيْرٌ عِنْدَ رَبِّكَ ثَوَابًا وَّخَيْرٌ اَمَلًا۝۴۶ ] (الکھف:۴۶)
ترجمہ:مال واولاد تو دنیا کی ہی زینت ہے، اور (ہاں) البتہ باقی رہنے والی نیکیاں تیرے رب کے نزدیک از روئے ﺛثواب اور (آئنده کی) اچھی توقع کے بہت بہتر ہیں ۔
اور ہاں!روزِقیامت صالح بندے کو صلحاء کے ساتھ اٹھاکر صلحاء میں شامل کیاجائے گا، اللہ عزوجل نے فرمایا:
[وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَــنُدْخِلَنَّہُمْ فِي الصّٰلِحِيْنَ۝۹ ](العنکبوت:۹)
ترجمہ:اور جن لوگوں نے ایمان قبول کیا اور نیک کام کیے انہیں ہم اپنے نیک بندوں میں شمار کر لیںگے۔
اور ایسے نیک اور صالح لوگوں کو اللہ تعالیٰ جنت میں داخل فرماکر خود ان کی مہمان نوازی فرمائے گا۔اللہ عزوجل کا فرمان ہے:
[اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ كَانَتْ لَہُمْ جَنّٰتُ الْفِرْدَوْسِ نُزُلًا۝۱۰۷ۙ ](الکھف:۱۰۷)
جو لوگ ایمان ﻻئے اور انہوں نے کام بھی اچھے کیے یقیناً ان کےلئے الفردوس کے باغات کی مہمانی ہے ۔
مزیدعظیم ترخوشخبری جو بندے کے لئے ایک بڑا اعزاز وسعادت ہے، وہ یہ کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ ایسے بندے کو اپنادیدار نصیب فرمائے گا۔ اللہ تعالیٰ کافرمان ہےکہ
[قُلْ اِنَّمَآ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ يُوْحٰٓى اِلَيَّ اَنَّمَآ اِلٰـــہُكُمْ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ۝۰ۚ فَمَنْ كَانَ يَرْجُوْا لِقَاۗءَ رَبِّہٖ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَّلَا يُشْرِكْ بِعِبَادَۃِ رَبِّہٖٓ اَحَدًا۝۱۱۰ۧ ](الکھف:۱۱۰)
ترجمہ:آپ کہہ دیجئے کہ میں تو تم جیسا ہی ایک انسان ہوں۔ (ہاں) میری جانب وحی کی جاتی ہے کہ سب کا معبود صرف ایک ہی معبود ہے، تو جسے بھی اپنے پروردگار سے ملنے کی آرزو ہو اسے چاہئے کہ نیک اعمال کرے اور اپنے پروردگار کی عبادت میں کسی کو بھی شریک نہ کرے ۔
صالح بندے کے دخول جنت کا اعلان باری تعالیٰ نے تقریباً پچیس (۲۵) مقامات پر فرمایا ہے، (دیکھئے :بقرہ:۲۵، ۸۲، اعراف: ۴۲، یونس:۹، ھود:۲۳، رعد:۲۳، ۲۹، ابراھیم:۲۳، کھف:۳۱، مریم:۶۰، طہ:۷۶،حج:۱۴، ۵۶، روم:۱۵،لقمن: ۸، سجدہ:۱۹، احزاب: ۲۱، مؤمن: ۴۰، حم سجدہ:۹، شوریٰ: ۲۳، محمد:۱۲، طلاق: ۱۱، انشقاق: ۲۵، بروج: ۱۱، البینۃ:۸)
[ذٰلِكَ الَّذِيْ يُبَشِّرُ اللہُ عِبَادَہُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ۝۰ۭ ](شوریٰ:۲۳)
ترجمہ:یہی وه ہے جس کی بشارت اللہ تعالیٰ اپنے ان بندوں کو دے رہا ہے جو ایمان ﻻئے اور (سنت کے مطابق) نیک عمل کیے ۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں نیک عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور مذکورہ بشارتوں سےنوازے۔
آمین یامجیب السائلین.

About عبدالسلام جمالی

Check Also

صالح کے لئے خوشخبریاں احادیث کی روشنی میں

      قارئین کرام! جیسا کہ آپ سابقہ معروضات میں صالح بندے  کے لئے …

جواب دیجئے