Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2018 » شمارہ اپریل » صالح کے لئے خوشخبریاں احادیث کی روشنی میں

صالح کے لئے خوشخبریاں احادیث کی روشنی میں

      قارئین کرام! جیسا کہ آپ سابقہ معروضات میں صالح بندے  کے لئے قرآن حکیم کی روشنی میں خوشخبریاں ملاحظہ فرماچکے ہیں اسی طرح صالح ونیکوکاربندے کے لئے احادیث صحیحہ میں بھی بہت سی خوشخبریاں وارد ہوئی ہیں جن کا بالاختصار تذکرہ پیش کیاجاتاہے۔

صالح ونیکوکاربندوں کی نشاندہی کرتے ہوئے آپﷺ نے فرمایاکہ

"إِنَّ مِنْ النَّاسِ مَفَاتِيحَ لِلْخَيْرِ مَغَالِيقَ لِلشَّرِّ، وَإِنَّ مِنْ النَّاسِ مَفَاتِيحَ لِلشَّرِّ، مَغَالِيقَ لِلْخَيْرِ، فَطُوبَى لِمَنْ جَعَلَ اللَّهُ مَفَاتِيحَ الْخَيْرِ عَلَى يَدَيْهِ، وَوَيْلٌ لِمَنْ جَعَلَ اللَّهُ مَفَاتِيحَ الشَّرِّ عَلَى يَدَيْهِ”

(سنن ابن ماجہ:۲۳۷،سلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ للالبانی:۱۳۳۲)

ترجمہ:بعض لوگ خیر کی کنجی اوربرائی کے قفل ہوتے ہیں اور بعض لوگ برائی کی کنجی اور خیر کے قفل ہوتے ہیں،تو اس شخص کے لئے خوشخبری ہے جس کے ہاتھ میں اللہ تعالیٰ نے خیر کی کنجیاں رکھ دیں ہیں اور اس شخص کے لئے ہلاکت ہے جس کے ہاتھ میں اللہ تعالیٰ نے شر کی کنجیاں رکھ دی ہیں۔

صالح بندے کو نبی کائنات ﷺ نے خیر وبرکت کی چابی قرار دیا ہےاور مزید خوشخبری دی ہےکہ نیکوکار بندہ ہر شرسے آسانی کے ساتھ مقابلہ کرسکتاہے، اور اللہ عزوجل صالح بندے کولمبی عمرعطافرماتاہے، جیسے کہ آپﷺ نےفرمایا:

«لَا يَزِيدُ فِي الْعُمْرِ إِلَّا الْبِرُّ، وَلَا يَرُدُّ الْقَدَرَ إِلَّا الدُّعَاءُ، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيُحْرَمُ الرِّزْقَ بِخَطِيئَةٍ يَعْمَلُهَا»

(ابن ماجہ:۹۰، مسند احمد ۳؍۵۰۲،الصحیحۃ للالبانی:۱۵۴)

عمرکو نیکی کے سوا کوئی چیز نہیں بڑھاتی، اور تقدیر کو دعا کےسوا کوئی چیز نہیں بدلتی اور آدمی گناہوں کے ارتکاب کے سبب رزق سے محروم کردیاجاتاہے۔

نیکیوں کے بناپراللہ سبحانہ وتعالیٰ صالح بندے کی عمر میں اضافہ فرمادیتاہے اور صالح بندہ اللہ عزوجل کے ہاں معزز،مقرب ومحبوب بن جاتاہے،جیسا کہ سیدنا عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہ سے مروی ہےکہ رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ والے دن اپنی اونٹنی قصواء پر بیٹھ کر طواف کیا خم دار چھڑی سے رکن یمانی کا استلام کیا، مسجد میں اونٹنی بٹھانے کی جگہ نہ ملی، جب اونٹنی وادی کے درمیان پہنچی تو بٹھادی گئی، پھرآپﷺ نے اللہ کی حمد وثناکی اور فرمایا:

’’ایھاالناس فإن اللہ قد أذھب عنکم عبیۃ الجاھلیۃ، الناس رجلان بر رقی کریم علی ربہ وفاجر شقی ھین علی ربہ.‘‘

(الصحیحۃ للالبانی :۲۸۰۳،ابن حبان:۳۹۰۱)

لوگو!یقیناً اللہ تعالیٰ نے تم سے جاہلیت کا تکبر وفخر لے لیا ہے، لوگ دوقسم کے ہیں:نیک متقی اپنے رب کے ہاں معزز اور فاجر،بدبخت اپنے رب کے ہاں ذلیل۔

ایسے معزز ومقرب شخص کےساتھ اللہ تعالیٰ کےجانب سے خاص فرشتہ معاون و مددگار رہتا ہے، سیدناابوھریرہtسے مروی ہےکہ

 أن رجلا قال: يا رسول الله! إن لي قرابة، أصلهم ويقطعون، وأحسن إليهم ويسيئون، وأحلم ويجهلون، قال: إن كان كما تقول فكأنما تسفهم المل، ولا يزال معك من الله ظهير [ما دمت على ذلك]

(الصحیحۃ للالبانی:۲۵۹۷،مسند احمد:۷۶۲۱،المعجم الکبیر للطبرانی :۵۶۹،ابن حبان:۴۵۱)

ایک آدمی نےکہا:اے اللہ کے رسول!میرے رشتہ دار ہیں، میں ان سے ملتاہوں وہ مجھ سے دورہوتے ہیں، میں ان سے نیکی کرتاہوں وہ مجھے تکلیف دیتے ہیں، میں حلم وبردباری والاہوں، وہ جاہل قسم کےلوگ ہیں، آپ نے فرمایا:جس طرح تم کہہ رہے ہواگر واقعی اسی طرح ہے تو گویا تم نے انہیں اکتاہٹ میں ڈال دیا ہے(اور جب تک تم اس کام پر ڈٹے رہوگے)اللہ کی طرف سے ایک مددگار تمہارے ساتھ رہےگا۔

مذکورہ حدیث واضح کرتی ہے کہ صالح بندے کو چاہئے کہ وہ ہر شخص سے نیکی کرتارہے،چاہے پھر وہ کتناہی فاسق،فاجرو جاہل کیوں نہ ہو صالح بندے کو اس کی نیکیوں کے بدلے اسے رزق کی تنگی جیسی خطرناک پریشانی سے محفوظ رکھاجاتاہے جیسا کہ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے:

ان اللہ عزوجل لایظلم المؤمن حسنۃ یثاب علیھا الرزق فی الدنیا….الخ

(مسنداحمد :۱۲۲۶۴،سلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ للالبانی:۳۶۴۷)

اللہ تعالیٰ مومن کی نیکی کے بارے میں ظلم نہیں کرتادنیا میںبھی اس کے بدلے اسے رزق پہنچایاجاتاہے۔

مذکورہ بشارتوں سے واضح ہوا کہ صالح بندے کو اللہ سبحانہ وتعالیٰ تمام تر مشکلات سے محفوظ رکھتا ہے،اور اپنی جانب سے ایک مددگاراس کے لئے مقرر کرتا ہے، جوصالح بندے کا ہروقت معاون رہتا ہے، مزید بشارت یہ ہےکہ صالح بندے کو اللہ عزوجل بے شمار نیکیوں سے مالامال فرماتا ہے، سیدناابوھریرہtسے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

: إِذَا أَرَادَ عَبْدِي أَنْ يَعْمَلَ سَيِّئَةً، فَلاَ تَكْتُبُوهَا عَلَيْهِ حَتَّى يَعْمَلَهَا، فَإِنْ عَمِلَهَا فَاكْتُبُوهَا بِمِثْلِهَا، وَإِنْ تَرَكَهَا مِنْ أَجْلِي فَاكْتُبُوهَا لَهُ حَسَنَةً، وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَعْمَلَ حَسَنَةً فَلَمْ يَعْمَلْهَا  فَاكْتُبُوهَا لَهُ حَسَنَةً، فَإِنْ عَمِلَهَا فَاكْتُبُوهَا لَهُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا إِلَى سَبْعِ مِائَةِ ضِعْفٍ "(صحیح بخاری:۷۵۰۱)

(اے فرشتو!)جب میرابندہ کسی برائی کا ارادہ کرے تو اسے نہ لکھو یہاں تک کہ اسے کر نہ لے، جب اس کو کرلے پھر اسے اس کے برابر لکھو اور اگر اس برائی کومیرے خوف سے چھوڑ دے تو اس کے حق میں ایک نیکی لکھو اور اگر بندہ کوئی نیکی کرناچاہئے تو اس کے لئے ارادہ ہی پر ایک نیکی لکھو،جب وہ عمل کرلے تو اس کے لئے(ایک نیکی پر) دس نیکیاں لکھو،سات سوتک اضافہ کرو۔

صالح بندہ جب بیمار ہوتا ہے ،تو اللہ رب العزت بندے کی تندرستی کے وقت کی جانی والی نیکیوں کا سلسلہ جاری رکھتاہے۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

” إن الله تعالى يقول: إذا ابتليت عبدا من عبادي مؤمنا، فحمدني وصبر على ما ابتليته به، فإنه يقوم من مضجعه ذلك كيوم ولدته أمه من الخطايا، ويقول الرب للحفظة: إني أنا قيدت عبدي هذا وابتليته، فأجروا (له) من الأجر ماكنتم تجرون له قبل ذلك وهو صحيح ".

(الصحیحۃ للالبانی:۲۰۰۹،مسند احمد :۱۶۴۹۶)

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :’’جب میں اپنے کسی مؤمن بندے کو آزماتا ہوں پھر وہ میری تعریف کرتاہے، اور میری دی ہوئی آزمائشوں پر صبر کرتا ہے تو وہ اپنی اس(مرض والی) جگہ سے اس طرح اٹھےگا جس طرح اس کی ماں نے اسے خطاؤں سے پاک جناتھا، اور اللہ تعالیٰ فرشتوں سے فرماتاہے:میں نے اپنے اس بندے کو قیدکردیا،اور اسے آزمائش میں مبتلاکیا، اس لئے جو اجر اس کی تندرستی کی حالت میں لکھتے تھے وہی اجراب بھی لکھو۔‘‘

صالح بندہ کتنا بڑاخوش نصیب انسان ہے؟کہ اللہ عزوجل اس صالح بندے کے تمام ترگناہوں کو نیکیوں میں بدل دیتاہے، سیدنا ابوطویل شطب الممدودرضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کےپاس آئے اور کہا:

أَرَأَيْتَ رَجُلًا عَمِلَ الذُّنُوبَ كُلَّهَا، فَلَمْ يَتْرُكْ مِنْهَا شَيْئًا، وَهُوَ فِي ذَلِكَ لَمْ يَتْرُكْ حَاجَةً وَلَا دَاجَةً إِلَّا أَتَاهَا، فَهَلْ لَهُ مِنْ تَوْبَةٍ؟ قَالَ: «فَهَلْ أَسْلَمْتَ؟» قَالَ: أَمَّا أَنَا فَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَنَّكَ رَسُولُ اللهِ، قَالَ: «نَعَمْ , تَفْعَلُ الْخَيْرَاتِ، وَتَتْرُكُ السَّيِّئَاتِ، فَيَجْعَلُهُنَّ اللهُ لَكَ خَيْرَاتٍ كُلَّهُنَّ» , قَالَ: وَغَدَرَاتِي وَفَجَرَاتِي؟ قَالَ: «نَعَمْ» قَالَ: اللهُ أَكْبَرُ، فَمَا زَالَ يُكَبِّرُ حَتَّى تَوَارَى.(المعجم الکبیر للطبرانی:7235 )

آپ کا کیاخیال ہے؟اگر ایک آدمی نے تمام تر گناہ کئے ہوں اور کوئی بھی گناہ نہ چھوڑاہووہ اسی حالت میں ہو کہ اس نے کوئی بھی چیز نہ چھوڑی ہو کیا اس کے لئے توبہ ہے؟آپﷺ نے فرمایا:کیا تم مسلمان ہوگئے ہو؟اس نے کہا:’’أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَنَّكَ رَسُولُ اللهِ‘‘آپﷺ نے فرمایا:ہاں! تم نیک کام کرواور برے کام چھوڑدو، اللہ تعالیٰ ان تمام گناہوں کو تمہارے لئے نیکی بنادے گا۔ اس نے کہا: میرے دھوکے اور میری سرکشیاں بھی آپ نے فرمایا:ہاں!اس نے بے ساختہ کہا:اللہ اکبر اور اللہ اکبر کہتا ہوا نظروں سے اوجھل ہوگیا۔‘‘

سیدناابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے،کہ نبیٔ کائنات ﷺ نے فرمایا:

الْمَيِّتُ تَحْضُرُهُ الْمَلَائِكَةُ، فَإِذَا كَانَ الرَّجُلُ صَالِحًا، قَالُوا: اخْرُجِي أَيَّتُهَا النَّفْسُ الطَّيِّبَةُ، كَانَتْ فِي الْجَسَدِ الطَّيِّبِ، اخْرُجِي حَمِيدَةً، وَأَبْشِرِي بِرَوْحٍ وَرَيْحَانٍ، وَرَبٍّ غَيْرِ غَضْبَانَ، فَلَا يَزَالُ يُقَالُ لَهَا ذَلِكَ حَتَّى تَخْرُجَ، ثُمَّ يُعْرَجُ بِهَا إِلَى السَّمَاءِ، فَيُفْتَحُ لَهَا، فَيُقَالُ: مَنْ هَذَا؟ فَيَقُولُونَ: فُلَانٌ، فَيُقَالُ: مَرْحَبًا بِالنَّفْسِ الطَّيِّبَةِ، كَانَتْ فِي الْجَسَدِ الطَّيِّبِ، ادْخُلِي حَمِيدَةً، وَأَبْشِرِي بِرَوْحٍ وَرَيْحَانٍ، وَرَبٍّ غَيْرِ غَضْبَانَ، فَلَا يَزَالُ يُقَالُ لَهَا ذَلِكَ حَتَّى يُنْتَهَى بِهَا إِلَى السَّمَاءِ الَّتِي فِيهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ….الخ

(السنن الکبری للنسائی:۱۱۴۴۲،مسند احمد:۳۶۴، سنن ابن ماجہ:۴۲۶۲)

جوآدمی قریب المرگ ہوتا ہے تو (موت کے) فرشتے اس کے پاس آجاتے ہیں،اگر وہ نیک آدمی ہو تو اسےکہتے ہیں:اے پاکیزہ روح! جو پاکیزہ جسم میں ہے،نکل آ،توبہت اچھی ہے، تجھے خوشخبری ہو کہ تو اللہ تعالیٰ کی رحمت اورنعمتوں میں جانےوالی ہے،اور تیرا رب تجھ سے ناراض نہیں ہے، اس طرح کے کلمات بارباراسے کہےجاتے ہیں حتی کہ وہ (جسم سے) نکل آتی ہے، پھر وہ فرشتےاسے آسمانوں کی طرف اوپر لے جاتے ہیں، تو اس کے لیے آسمان کادروازہ کھول دیاجاتاہے، کہاجاتا ہے کہ یہ کون ہے؟یعنی کس کی روح ہے؟ وہ (فرشتے) کہتے ہیں کہ یہ فلاں آدمی (کی روح) ہے، تو کہاجاتاہے کہ پاکیزہ روح کو مرحبا جو پاکیزہ جسم میں تھی ،تولائق تعریف ہے، داخل ہوجا، تجھے اللہ تعالیٰ کی رحمتوں ،نعمتوں کی خوشخبری ہو کہ تو اپنے رب کے پاس جارہی ہے، جو تجھ سے ناراض نہیں (ہرآسمان پر) اسے اس قسم کے کلمات کہے جاتےہیں حتی کہ فرشتے اسے اس آسمان پر لے جاتے ہیں جس پر اللہ تعالیٰ کی ذاتِ اقدس ہے۔‘‘

جیسے آپ پڑھ آئے کہ صالح بندے کی تندرستی میں کی گئی نیکیوں کا سلسلہ حالت مرض میں بھی چلتارہتا ہے، عین اسی طرح زندگی میں کی جانے والی نیکیوں کا سلسلہ مرنے کے بعد بھی جاری رہتاہے، سیدنا ابوھریرہtسے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

” إِذَا مَاتَ الْإِنْسَانُ انْقَطَعَ عَنْهُ عَمَلُهُ إِلَّا مِنْ ثَلَاثَةٍ: إِلَّا مِنْ صَدَقَةٍ جَارِيَةٍ، أَوْ عِلْمٍ يُنْتَفَعُ بِهِ، أَوْ وَلَدٍ صَالِحٍ يَدْعُو لَهُ "(صحیح مسلم:۱۶۳۱-۴۲۲۳)

جب انسان فوت ہوجاتاہے تو اس کا عمل منقطع ہوجاتاہے سوائے تین اعمال کے (وہ منقطع نہیںہوتے) صدقہ جاریہ یا ایسا علم جس سے فائدہ اٹھایاجائے یانیک بیٹا جو اس کے لئے دعاکرے۔‘‘

صالح بندے کو اس کی نیکیاں قبر کے دردناک عذاب سے بچائیں گی، سیدنا ابوھریرہtسےمروی ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا:

’’میت کو جس وقت قبر میں رکھ دیاجاتاہے تو اس وقت لوگوں کے واپس جاتے ہوئے ان کی جوتیوں کی آہٹ سنائی جاتی ہے چنانچہ اگر میت مسلمان ہوتونمازاس کے سرہانے ہوجاتی ہے اور روزے اس کے دائیں جانب ہوجاتے ہیں اور زکوٰۃ اس کے بائیں جانب ہوجاتی ہے، اور نفلی نمازیں اورصدقات اور دیگرنیکیاں اور لوگوں کے ساتھ بھلائیاں اس کے پیچھے ہوجاتی ہیں،توفرشتے جب سرہانے کی طرف سے آتے ہیں تو نماز کہتی ہے کہ اس طرف سے راستہ نہیں ہے، پھر دائیں جانب سے آتے ہیں تو روزے کہتے ہیں کہ اس طرف سے راستہ نہیں ہے، پھر بائیں جانب سے آتے ہیں تو زکوٰۃ کہتی ہے کہ میری طرف سے راستہ نہیں ہے، پھرپاؤں کی طرف سے آتے ہیں تو نفلی نماز،صدقات اور نیکیاں کہتی ہیں کہ ہماری طرف سے راستہ نہیں ہے…الخ (الترغیب الترہیب:۳۵۶۱)

یعنی صالح بندے کی نیکیاں اسے قبر میںعذاب قبر سےمحفوظ رکھیں گی،صالح بندے کو اللہ رب العزت دنیا وقبر کی تمام ترآزمائشوں سے محفوظ بچاکرجنت میںداخل کریں گے ،نبی ﷺ کافرمان مبارک ہے کہ:

ومن کتب لہ عندہ حسنۃ أدخلہ اللہ بھا الجنۃ.

(سلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ للالبانی:۱۳۹۶)

جس کے لئے اللہ تعالیٰ اپنے پاس کوئی نیکی لکھ دے اسےاس نیکی کے بدلے جنت میں داخل کرے گا۔

لیکن ہاں! یہ بات ذہن نشین کرلیں کہ مذکورہ تمام تربشارتیں ایمان کے ساتھ مشروط ہیں یعنی مذکورہ بشارتیں مومن مسلمان کے لئے ہیں، باقی کافر ومشرک اگرکوئی بھی نیکی کا کام کرتا ہے، تو اسے اس کا اجر آخرت میںنہیں ملے گا بلکہ وہ اپنی کی ہوئی نیکی کا اجر دنیا میں ہی پالے گا جیسے کہ رسول اللہ ﷺ کافرمان مبارک ہے:

وأما الکافر فیعطی بحسناتہ فی الدنیا فاذا لقی اللہ عزوجل یوم القیامۃ لم تکن لہ حسنۃ یعطی بھا خیرا.(سلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ:۳۶۴۷)

جب کہ کافر اس کی نیکیوں کے بدلے (جو اس نے اللہ کے لئے عمل کیے ہونگے) دنیا میں بدلہ دے دیاجاتاہے،جب وہ اللہ سے ملاقات کرے گا تو اس کی ایسی کوئی نیکی نہیں ہوگی جس کے بدلے اسے اجر دیاجائے‘‘

اللہ سبحانہ وتعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں ایمان کی حالت میں نیکیوں پر استقامت کی توفیق عطافرمائے اور مذکورہ بشارتوں سے نوازے ،آمین یا مجیب السائلین.

About عبدالسلام جمالی

Check Also

صالح کے لئے خوشخبریاں

’’قرآن کی روشنی میں‘‘ صالح سے مراد ایسا نیک شخص ہےجو اپنی زندگی کثرت سے …

جواب دیجئے