Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2018 » ‎شمارہ اگست » بدعت ایک گمراہی

بدعت ایک گمراہی

قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ نے یہ بات بیان فرمادی ہے کہ ابلیس (شیطان) انسان کو اس دنیا میں ہر طرح سے گمراہ کرنےمیں لگا رہے گا۔

[قَالَ فَبِمَآ اَغْوَيْتَنِيْ لَاَقْعُدَنَّ لَہُمْ صِرَاطَكَ الْمُسْتَقِيْمَ۝۱۶ۙ ثُمَّ لَاٰتِيَنَّہُمْ مِّنْۢ بَيْنِ اَيْدِيْہِمْ وَمِنْ خَلْفِہِمْ وَعَنْ اَيْمَانِہِمْ وَعَنْ شَمَاۗىِٕلِہِمْ۝۰ۭ وَلَا تَجِدُ اَكْثَرَہُمْ شٰكِرِيْنَ۝۱۷ ](الاعراف:۱۶،۱۷)

ترجمہ:اس نے کہا بسبب اس کے کہ تو نے مجھ کو گمراہ کیا ہے میں قسم کھاتا ہوں کہ میں ان کے لئے تیری سیدھی راہ پر بیٹھوں گا ،پھر ان پر حملہ کروں گا ان کے آگے سے بھی اور ان کے پیچھے سے بھی اور ان کی داہنی جانب سے بھی اور ان کی بائیں جانب سے بھی اور تو ان میں سے اکثر کو شکر گزار نہ پائے گا۔

اس شیطان مردود نےا پنی دشمنی کی ابتداء زمانہ سیدناآدم علیہ السلام سے شروع کردی تھی اور آج تک انسانوں کو گمراہ کرنے میں لگاہواہے۔ بعض لوگ شیطان کے فریب میں آکرمحض اپنی عقل ورائے اور اپنے باپ دادا کو جن رسومات (بدعات) کو کرتے پایا،کو ہی معیارِ حق سمجھتے ہیں اورقرآن وسنت کے علمی خزانے کو چھوڑ کر شیطان کے بتائے ہوئے عبادت کے طریقے اور من گھڑت وظائف پر عمل پیرا ہوجاتے ہیں جسے’’بدعت ‘‘کہتے ہیں۔

بدعت کی تعریف:کسی چیز کا ایسے طریقے سے ایجاد کرنا جس کی پہلے کوئی بنیاد نہ ہو۔ ایجاد کی دوقسمیں ہیں:

(۱)تمدنی ایجادات: تمدنی ترقی کے نتیجے میں نئی نئی ایجادات یہ جائز ہیں جیسےہوائی جہاز، کمپیوٹر، فرج وغیرہ ان کا استعمال جائز ہے یہ بدعت نہیں ہیں۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد پاک ہے:

[وَّالْخَيْلَ وَالْبِغَالَ وَالْحَمِيْرَ لِتَرْكَبُوْہَا وَزِيْنَۃً۝۰ۭ وَيَخْلُقُ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ۝۸ ](النحل:۸)

ترجمہ:گھوڑوں کو، خچروں کو، گدھوں کو اس نے پیدا کیا کہ تم ان کی سواری لو اور وہ باعث زینت بھی ہیں۔ اور بھی وہ ایسی بہت چیزیں پیدا کرتا ہے جن کا تمہیں علم بھی نہیں۔

(۲)دین میں ایجادات(دین میں کسی نئی چیز کا ایجاد کرنا) : یعنی ہر وہ عمل بدعت کہلائے گا جو ثواب اور نیکی سمجھ کر کیاجائے لیکن شریعت میں اس کی کوئی بنیاد یاثبوت نہ ہو۔ دین کو سب سے زیادہ نقصان پہنچانے والی چیز بدعات ہیں چونکہ یہ نیکی اور ثواب سمجھ کر کی جاتی ہیں اس لئے بدعتی انہیں ترک کرنے کاتصور بھی نہیں کرتے، جبکہ دوسرے کبیرہ گناہوں کا ارتکاب کرنے والے کبھی نہ کبھی اپنے گناہوںپر نادم ہو کر ضرور توبہ کرلیتے ہیں۔سفیان ثوری رحمہ اللہ  فرماتے ہیں کہ’’شیطان کو معصیت(گناہ) کے مقابلے میں بدعت زیادہ محبوب ہے‘‘(شرح السنۃ ۱؍۲۱۶)

بدعات کے بارے میں چنداحادیثِ مبارکہ:

(الف) رسول اللہ ﷺنے فرمایاکہ بہترین بات اللہ کی کتاب ہے اور بہترین طریقہ محمدﷺ کا طریقہ ہے اور بدترین کام دین میں نئی چیز(بدعت) ایجاد کرنا ہے اورہربدعت گمراہی ہے۔(صحیح مسلم:۸۶۷)

اور ہر گمراہی آگ میں لے جانے والی ہے۔(سنن نسائی:۱۵۷۹)

(ب) رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ تم میرے اور میرے خلفاء راشدین کے طریقے کو مضبوطی سےپکڑلینا او ردین میں نئے نئےکام (بدعات) ایجاد کرنے سے بچنااس لئے کہ ہر بدعت گمراہی ہے۔

(ابن ماجہ:۴۲)

چونکہ بدعت نیکی ہی کی ہمشکل ہوتی ہے اس لئے بدعتی حضرات کہتےہیں کہ اس کام میں ’’برائی کیا ہے؟‘‘ مندرجہ ذیل روایات ملاحظہ فرمائیں اور پھربتائیں کہ ان میں برائی ہے یانہیں؟

(الف) سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سےمروی ہے کہ تین صحابہ، ازواجِ مطہرات میں سے بعض کے پاس حاضر ہوئے، ان میں سے ایک نے کہا کہ میں ہمیشہ ساری رات(نفلی) نماز پڑھتا رہوں گا، دوسرے نےکہا میں ہمیشہ( نفلی) روزے رکھتارہوں گا جب کہ تیسرے نے کہا کہ میں کبھی نکاح نہیں کروںگا۔

جب رسول اللہﷺ کو یہ پتاچلا تو آپﷺ نے فرمایا: ’’میں (نفلی) روزے رکھتابھی ہوں اور چھوڑتا بھی ہوں،رات کو(نفلی) نماز پڑھتا بھی ہوں اور سوتا بھی ہوں اور عورتوں سےنکاح بھی کیے ہیں۔ جس نے میری سنت کو چھوڑدیا اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں۔

(صحیح بخاری:۵۰۶۳)

(ب) ایک شخص نے عید کےدن عید کی نماز سے پہلے کچھ نماز پڑھنا چاہی تو سیدناعلیtنے اسے منع کردیا۔ آپ نے فرمایا کہ جب تک کسی کام کو رسول اللہ ﷺ نے نہ کیا ہو یااس کی ترغیب نہ دی ہو اس کاثواب نہیں ملتا بلکہ ممکن ہے ’’اللہ تجھے رسول اللہ ﷺ کی مخالفت کی وجہ سے سزا دے‘‘(نظم البیان،ص:۷۳)

اس سے معلوم ہوا کہ صرف رسول اللہﷺ کے طریقے کے مطابق عبادت کرنا ہی مقبول ہے۔

اہل بدعت کی حوضِ کوثر سےمحرومی: حضورِ اکرم ﷺ نےفرمایا:’’ جس نے ایک مرتبہ حوضِ کوثر سے پانی پی لیا وہ کبھی پیاسا نہیں ہوگا۔

(صحیح بخاری:۷۰۵۰صحیح مسلم:۵۹۶۷)

سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ روایت کرتےہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:’’میں حوضِ کوثر پر تمہارااستقبال کروں گا۔ کچھ لوگ آئیں گے مگر انہیں میرے پاس آنے سے روک دیاجائے گا۔ مجھے بتایا جائے گا آپﷺ نہیں جانتے کہ آپﷺ کے بعد ان لوگوں نے کیسی کیسی بدعتیں جاری کیں۔ پھر میں کہوں گادوری ہو، دوری ہو ایسے لوگوں کیلئے جنہوں نے میرے بعد دین کو بدل دیا۔‘‘ (صحیح بخاری:۷۰۵۲صحیح مسلم:۵۹۷۴)

جو شخص دنیا میں جتنا بدعت کو سینے سے لگائے گا قیامت کے دن اتنا ہی حوضِ کوثر سے دور اورجہنم کے قریب ہوگا۔

کیا دین میں بدعت کی گنجائش ہے؟

بدعات کا پرچار کرنے والوں سے اگر کوئی کہتا ہے کہ یہ عمل نہ تورسول اکرم ﷺ نے کیا نہ صحابہ کرام نے ،تو کہتے ہیں:

(الف) کہ وہ تو بخشے بخشائے لوگ تھے انہیں ان کاموں کی کیاضرورت تھی۔ تو اس سلسلے میں عرض یہ ہے کہ ان کے زمانے میں تو یہ کام (بدعات) ہوتے ہی نہیں تھے۔ جیسے مرحومین کاسوئم،چہلم یابرسی، اجتماعی قرآن خوانی ،عید میلاد النبی ﷺ ، قوالیاں، کونڈے، گیارہویں، آیتِ کریمہ کا وِرد، معین تعداد میں سورہ یٰسین پڑھناوغیروغیرہ۔

(ب) اسی طرح دوسرا نکتہ ان لوگوں کا یہ ہوتا ہے کہ یہ جوثواب کے کام (بدعات) ہم کرتے ہیں یہ بدعت حسنہ ہے۔ جبکہ ایسی تقسیم کرنے والوں کیلئے نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان کافی ہے کہ:’’کل بدعۃ ضلالۃ‘‘

مطلب یہ ہے کہ:’’ہر بدعت گمراہی ہے‘‘(صحیح مسلم:۸۶۷)

اس حدیث سے ثابت ہوا کہ بدعت کی کوئی تقسیم نہیں ہے۔

(ج) اسی طرح اہل بدعت، سیدناعمرtکے اس قول سے بھی استدلال کرتے ہیں جوقیام اللیل باجماعت کے بارے میں انہوںنے فرمایاتھا کہ’’یہ بدعت اچھی ہے‘‘۔ لیکن یہ استدلال بھی باطل ہے، اس لئے کہ رمضان المبارک کا یہ قیام اللیل،جسے بعد میں تراویح کہا جانے لگا، نبی ﷺ سے ثابت ہے، آپﷺ نےصحابہ کرام کے ساتھ باجماعت تین راتیں قیام فرمایا جبکہ چوتھی رات اس اندیشہ کی وجہ سے قیام نہ فرمایا کہ کہیں یہ مسلمانوں پر فرض نہ ہوجائے۔ لہذا سیدنا عمرtکا یہ عمل نوایجاد نہیں بلکہ شریعت میں اس کی اصل موجود ہے۔

لہذا دین میں کسی بھی قسم کی بدعت کی کوئی گنجائش نہیں اس لئے ہمیںبدعات سے اجتناب کرناچاہئے اور ہر معاملہ میں قرآن وسنت پر عمل کرناچاہئے تاکہ ہمیں اُخروی نجات حاصل ہو۔آمین

About حافظ صہیب ثاقب

Check Also

شب برات کی حقیقت

شعبان کی پندرھویں شب کی متعدد روایات آئی ہیں، جن میں اس شب کی بعض …

جواب دیجئے