Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2018 » ‎شمارہ اگست » اربعینِ نووی حدیث نمبر 28

اربعینِ نووی حدیث نمبر 28

قسط نمبر :61

گذشتہ قسط میں ہم نے رسول اللہ ﷺ کے وعظ ونصیحت کے تعلق سےکچھ آداب بیان کیے تھے،اس تعلق سے دورِ حاضر کے کچھ واعظین کے بعض انحرافات کی طرف بھی اشارہ کیاتھا،وعظ ونصیحت تو رسول اللہ ﷺ کا سب سے اہم،مقدم اور مقدس اسوہ ہے،جس کی پیروی ازحد ضروری ہے،آپﷺ کی اتباع ہی سے کلام میں تاثیر پیدا ہوگی؛ کیونکہ تاثیراللہ تعالیٰ کے امر سے پیداہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ کا امر اس وعظ پر صادرہوگا جس میں رسول اللہ ﷺ کے اسوۂ حسنہ کے تقاضے پورےکیے گئے ہوں۔

آپﷺ کا یہ اسوۂ مبارکہ بھی سامنے آتا ہے کہ آپ مسلسل اوربلاناغہ وعظ نہیں فرماتے تھے،بلکہ کچھ وقفہ سے وعظ فرماتے،جیساکہ ابووائل کی روایت سے بخاری مسلم میں حدیث ہے،عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ ہر جمعرات کو وعظ کیاکرتے،ایک شخص نے عرض کیا:اے ابوعبدالرحمٰن! ہمیں آپ کا وعظ بہت پسند ہے اور ہم چاہتےہیں کہ آپ ہمیں ہرروز نصیحت فرمایاکریں،جناب عبداللہ نے فرمایا:روزانہ وعظ کرنے سے مجھے ایک ہی چیز روکتی ہےاور وہ یہ کہ میں تمہیں اکتاہٹ میں نہ ڈال دوں،رسول اللہ ﷺبھی ہمیں کئی دنوں کے وقفوں کے ساتھ وعظ فرمایا کرتے تھے،اس ڈر سے کہ ہم اکتاہٹ کا شکار نہ ہوجائیں۔

(بخاری:70مسلم:83)

اس کے علاوہ وعظ کامختصرہونابھی رسول اللہ ﷺ کی سنتِ مبارکہ تھی،بہت طویل وعظ سے آپﷺ گریز کیاکرتے تھے۔

جابربن سمرہ رضی اللہ عنہ کی روایت سے صحیح مسلم میں یہ حدیث موجود ہے:

کنت أصلی مع النبی ﷺ فکانت صلاتہ قصداً وخطبتہ قصداً.

یعنی:میں رسول اللہﷺ کے ساتھ نماز پڑھاکرتاتھا،آپﷺ کی نماز اور خطبہ دونوں درمیانے سے ہوتے تھے۔(وقت کے اعتبار سے)(صحیح مسلم:41,42)

سنن ابی داؤد کی روایت کے مطابق:رسول اللہ ﷺ زیادہ طویل خطبہ ارشاد نہ فرماتے،بلکہ چند بابرکت جملوں پر اکتفاء فرمایاکرتے، جیسا کہ ہماری زیرِ بحث حدیث سے بھی ثابت ہورہاہے، کیونکہ یہ حدیث رسول اللہ ﷺکا ایک خطبۂ مبارکہ ہے،لیکن کس قدر مختصر اور جامع ہےاور کس قدر مؤثر ہے کہ تمام صحابہ سن کر    رودیئے۔

جب آپﷺ اس خطبہ سے فارغ ہوئے تولوگوںنے عرض کیا :

(یارسول اللہ کأنھا موعظۃ  مودع فأوصنا)

اے اللہ کے رسول!یہ توکسی الوداع کہنے والے شخص کی نصیحت محسوس ہورہی ہے،لہذا ہمیں کچھ مزید نصیحت فرمادیجئے،جسے آپ کی آخری وصیت سمجھاجائے۔

آخری وصیت کی بہرحال ایک اہمیت ہوتی ہے،سننے والے اس کا پوری طرح اہتمام واحترام بجالاتےہیں،رسول اللہ ﷺ کی حیاتِ مبارکہ کے آخری دور میں متعدد موقعوں پر الوداعی ملاقاتوں اور الوداعی وصیتوں کا ذکرملتاہے۔

حجۃ الوداع کے خطبہ میں آپﷺ نے فرمایاتھا:

(لاأدری لعلی لاألقاکم بعد عامی  ہذا)(جامع ترمذی:886،نسائی:270/5،ابن ماجہ:3023)

یعنی:مجھے معلوم نہیں،شاید میں آئندہ سال تمہیں نہ مل سکوں۔

اسی حج کے موقع پر آپﷺ نے مزید فرمایاتھا:

«لِتَأْخُذُوا مَنَاسِكَكُمْ، فَإِنِّي لَا أَدْرِي لَعَلِّي لَا أَحُجُّ بَعْدَ حَجَّتِي هَذِهِ»)(صحیح مسلم:310)

یعنی:اپنی مناسکِ حج مجھ سے لے لو،میں نہیں جانتا شاید اس حج کے بعد کبھی حج نہ کرسکوں۔

اسی سفرِ حج سے لوٹتے ہوئے آپﷺ نے لوگوں کو مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک چشمہ( جس کا نامخُم) تھا پرجمع فرمایااور چندوصیتیں ارشاد فرمائیں،آغازِ خطبہ میں فرمایا:

(یاأیھاالناس!إنما أنا بشر مثلکم ،یوشک ان یأتینی  رسول ربی فأجیبہ)(صحیح مسلم:1836,1835)

یعنی:اےلوگو!بلاشبہ میں تو تم جیسا ایک بشرہوں،عنقریب میرے پاس بھی میرے رب کا قاصد(ملک الموت) آجائے گا اورمیں اس کاپیغام قبول کرتے ہوئے (اپنے رب سے جاملوںگا)

پھرآپﷺ نے تمسک بالکتاب والسنۃ اور اپنے اہل بیت کے ساتھ اچھے سلوک کی وصیت فرمائی،ان دونوں وصیتوں کو حدیث میں (ثقلین) کے لفظ سے تعبیرکیاگیاہے،جس کامعنی انتہائی قیمتی اورمہنگی امانت ،جو امت کو سونپ دی گئی ہے۔

صحیح بخاری ومسلم میں عقبہ بن عامر tکی روایت سے ایک حدیث مروی ہے،جس میں رسول اللہ ﷺ نے شہداء احد کو الوداع فرمایا،اس موقع پر آپﷺ نے امت کے تمام احیاء واموات کو بھی الوداع کہااور وصیت بھی فرمائی،پوری حدیث ملاحظہ ہو:

صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى قَتْلَى أُحُدٍ بَعْدَ ثَمَانِي سِنِينَ، كَالْمُوَدِّعِ لِلْأَحْيَاءِ وَالأَمْوَاتِ، ثُمَّ طَلَعَ المِنْبَرَ فَقَالَ: «إِنِّي بَيْنَ أَيْدِيكُمْ فَرَطٌ، وَأَنَا عَلَيْكُمْ شَهِيدٌ، وَإِنَّ مَوْعِدَكُمُ الحَوْضُ، وَإِنِّي لَأَنْظُرُ إِلَيْهِ مِنْ مَقَامِي هَذَا، وَإِنِّي لَسْتُ أَخْشَى عَلَيْكُمْ أَنْ تُشْرِكُوا، وَلَكِنِّي أَخْشَى عَلَيْكُمُ الدُّنْيَا أَنْ تَنَافَسُوهَا»، قَالَ: فَكَانَتْ آخِرَ نَظْرَةٍ نَظَرْتُهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.(صحیح بخاری:4042صحیح مسلم:1796)

یعنی:رسول اللہ ﷺنے شہداءاحد کے لئے دعائیں فرمائیں، پھر آپﷺ منبر پہ جلوہ افروزہوئے،گویاتمام زندوں اور فوت شدگان کو الوداع کہناچاہتے ہیں،فرمایا:میں حوضِ کوثر پہ پہلے پہنچ کر تمہارا انتظار کروںگا،(جس کی چوڑائی    ایلہ مقام سے لیکر جحفہ تک ہوگی)مجھے تم پر یہ خوف نہیں کہ تم میرے بعد شرک کرنے لگوگے ،لیکن یہ خوف ضرور ہے کہ تم دنیا کی طرف راغب ہوجاؤاور پچھلے لوگوں کی طرح ہلاکت کا شکار ہوجاؤ، عقبہ بن عامرt فرماتے ہیں:آج میں نے رسول اللہ ﷺ کو آخری بار منبر پہ تشریف فرمادیکھا۔

مسنداحمد کی ایک حدیث میں یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہﷺ نے شہداء احد کے لئے یہ دعا ان کی شہادت کے آٹھ سال بعد فرمائی، تمام احیاء واموات کو الوداع فرمایا اور یہ ارشاد بھی فرمایا:میں حوضِ کوثر پہ تمہاراانتظارکروںگا،تمہاری بخشش کی سفارش کروںگا،اب میری تمہاری ملاقات حوضِ کوثر پہ ہی ہوگی،میں اس وقت بھی حوضِ کوثر کو دیکھ رہاہوں، اب مجھے تمہارے فقیرہونےکا اندیشہ نہیں ہے،بلکہ دنیا کی طرف میلان اختیار کرنے کاخوف ہے۔

مسند احمد ہی میں عبداللہ بن عمرو بن عاص سے مروی حدیث موجود ہے،جس میں رسول اللہ ﷺ کا اپنی امت کو الوداع کہنے کے لئے آنے کا ذکرہے،آپﷺ نے فرمایاتھا:میں محمدنبی اُمی ہوں، (تین بار فرمایا)میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا،مجھے فواتح الکلم، خواتم الکلم اور جوامع الکلم دیئے گئے ہیں،میں نے تمہیں جہنم کے داروغہ فرشتوں کا بتایا ہے،نیز ان فرشتوں کا بھی بتایاہے جو حاملین عرش ہیں،میرے رب نے میرے لئے بڑی آسانیاں فرمائی ہیںاور میری امت کو عافیت سے نوازا ہے،پس جب تک میں تمہارے بیچ موجود ہوں میری بات سنواور اطاعت کرو،اور جب مجھے دنیا سے اٹھالیاگیاتو پھر کتاب اللہ کو لازم پکڑلو، اس کے حلال کو حلال،اور اس کے حرام کو حرام جانو۔

(مسنداحمد:212/2)

واضح ہو کہ فواتح الکلم سے مرادوہ امور ہیں جو جنت کا دروازہ کھولنے والے ہیں،خواتم الکلم سے مراد وہ امور ہیں جو بندے کے حسنِ خاتمہ پر منتج ہوتے ہیں، جبکہ جوامع الکلم سے مراد وہ احادیث ہیں جو مختصر ہونے کے ساتھ ساتھ اس قدر جامع ہیں کہ ان میں فلاح ونجات کا پورا پروگرام مذکور ہوتاہے،الفاظ میں کم لیکن معانی کا ایک وسیع سمندر سمیٹے ہوئے۔

واضح ہو کہ زیرِ بحث حدیثِ عرباض بن ساریہ میں رسول اللہ ﷺ کے کس خطبہ کا ذکر ہے کہ جسے سن کر صحابہ کرام سناٹے میں آگئے اور پھوٹ پھوٹ کے رودیئے،یا تو مذکورہ بالاخطبوں میں سے کوئی ایک خطبہ ہے یا پھر ان کے علاوہ اسی قسم کےکسی اورموقع کے خطبہ کاذکر ہے۔

(واللہ تعالیٰ  أعلم)

جب رسول اللہ ﷺ اس انتہائی مؤثر اور بلیغ خطبہ سےفارغ ہوئے توصحابہ کرام نے اسے آپﷺ کا آخری خطبہ قراردیتے ہوئے آپ کی آخری وصیت کا تقاضاکرڈالا،چونکہ صحابہ کرام پر ایک رقت طاری تھی ،آنکھوں سے آنسورواں تھے اور اس پہ مستزاد انہوں نے آپﷺ کی آخری وصیت جاننے کی طلب پیش کردی۔

اس انتہائی سازگار فضامیں الناصح الامین محمد رسول اللہ ﷺ صحابہ کرام کی اس طلب کو پوراکرتے ہوئے،اپنی آخری وصیت بیان کرنے کے لئے فوراً تیارہوگئے۔

آپﷺ نے چارامورکواپنی وصیت قراردیااورانتہائی جامعیت کے ساتھ بیان بھی فرمادیا،جوپوری امت کے لئے مشعلِ راہ کے طور پر موجودہے:

پہلی وصیت:تقویٰ

فرمایا:أُوْصِيْكُمْ بِتَقْوَى اللهِ عزوجل.

میں تمہیں اللہ عزوجل سے ڈرتے رہنے کی وصیت کرتاہوں۔

یہ انتہائی جامع وصیت ہے،جوآپﷺ اکثر ارشاد فرمایا کرتے تھے،اللہ تعالیٰ نے بھی تمام اولین وآخرین کو یہی وصیت فرمائی ہے:

[وَلَقَدْ وَصَّيْنَا الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَاِيَّاكُمْ اَنِ اتَّقُوا اللہَ۝۰ۭ](النساء:۱۳۱)

یعنی:اور واقعی ہم نے ان لوگوں کو جو تم سے پہلے کتاب دیئے گئے تھے اور تم کو بھی یہی حکم کیا ہے کہ اللہ سے ڈرتے رہو ۔

قرآن حکیم میںاللہ تعالیٰ کی طرف سے (اتقواللہ) اور (اتقوا ربکم) کے جملوں کے ساتھ بار بار تقویٰ اختیار کرنے کا حکم موجود ہے،بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے(یاأیھاالذین آمنوا) کی نداء کے بعد اکثر تقویٰ اختیار کرنے کاحکم دیاگیاہے۔

تقویٰ کی وصیت دنیا اورآخرت کی ابدی سعادت کی ضامن ہے، قولہ تعالیٰ:[وَالْعَاقِبَۃُ لِلتَّقْوٰى۝۱۳۲]یعنی:(انجامِ کار تقویٰ کے لئے ہے) اپنے عموم کے اعتبار سے دنیااورآخرت کے تمام امورکوشامل ہے۔

[وَمَنْ يَّـتَّقِ اللہَ يَجْعَلْ لَّہٗ مَخْرَجًا۝۲ۙ وَّيَرْزُقْہُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ۝۰ۭ]

اور جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے اللہ اس کے لیے چھٹکارے کی شکل نکال دیتا ہے اور اسے ایسی جگہ سے روزی دیتا ہے جس کا اسے گمان بھی نہ ہو۔

[وَمَنْ يَّتَّقِ اللہَ يَجْعَلْ لَّہٗ مِنْ اَمْرِہٖ يُسْرًا۝۴ ]

 اور جو شخص اللہ تعالیٰ سے ڈرے گا اللہ اس کے (ہر) کام میں آسانی کر دے گا ۔

[وَمَنْ يَّتَّقِ اللہَ يُكَفِّرْ عَنْہُ سَـيِّاٰتِہٖ وَيُعْظِمْ لَہٗٓ اَجْرًا۝۵  ]

 اور جو شخص اللہ سے ڈرے گا اللہ اس کے گناہ مٹا دے گا اور اسے بڑا بھاری اجر دے گا ۔

بعض احادیث میں رسول اللہ ﷺ نے تقویٰ کی وصیت یوں فرمائی:اتق اللہ فی السر والعلن.یعنی:ہر خلوت وجلوت میں اللہ تعالیٰ ہی سے ڈرو۔

جامع ترمذی کی ایک حدیث جوابوذرغفاری اور معاذ بن جبل w کی روایت سے ہے،یوں ارشاد فرمایا:اتق اللہ حیثما کنت. یعنی: جہاں بھی ہوتقویٰ کے ساتھ رہو۔

اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کا تقویٰ ہر مقام پر ،ہرحالت میں اور ہر دور میں مطلوب ومقصود ہے،تنہائی میں بھی اور لوگوں کے سامنے بھی۔

واضح ہو کہ تقویٰ ،وقایۃ سے ہے،جس سے مراد یہ ہے کہ انسان کو جس چیز کاخوف ہواس سے بچاؤکے لئے کوئی آڑاختیار کرلے،جیسے جوتا پاؤں کے لئے ایک آڑ ہے تاکہ زمین پر چلنے سے حاصل ہونے والے اضرار سے بچ سکےاور جیسے گھر یا خیموں کی آڑ حاصل کرنا سورج کی دھوپ یا بارش وغیرہ سے بچاؤکے لئے۔

شریعت مطہرہ میں تقویٰ ایک آڑ اختیار کرنے کانام ہے، یعنی:اللہ تعالیٰ کے غضب اور اس کے عذاب سے بچاؤاختیار کرنے کے لئے وہ آڑ اختیار کرلی جائے جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے،وہ آڑ اعمال صالحہ کی ہے،جنہیں بھرپور طریقے سے اختیار کیاجائے،اور وہ آڑ منہیات ومنکرات کی ہے جن سے بھرپور طریقے سے اجتناب برتاجائے،نیز کتاب وسنت میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ نے جو بھی خبریں ارشاد فرمائی ہیں،ان سب کی تصدیق کی جائے۔

شیخ محمد بن صالح العثیمین رحمہ اللہ تقویٰ کی تعریف کرتے ہوئے فرماتے ہیں:ومعنى التقوى: طاعة الله بامتثال أمره واجتناب نهيه على علم وبصيرة.

یعنی:اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنا،اس کاہرحکم مان کر،اور اس کی ہر نہی سے دوری اختیار کرکے،مکمل علم اور بصیرت کی بنیاد پر۔

مزیدفرماتے ہیں:ولهذا قال بعضهم في تفسيرها: أن تعبد الله على نور من الله، ترجو ثواب الله، وأن تترك ما حرم الله، على نور من الله، تخشى عقاب الله.

یعنی:اسی لئے بعض علماء نے تقویٰ کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا ہے:تواللہ تعالیٰ کی عبادت کراس کی طرف سے عطاکردہ نور کی بنیاد پر، اس کے مکمل ثواب کی امیدکے ساتھ،نیز اس کی حرام کردہ ہر شیٔ کو یکسر چھوڑ دے،اس کے عطاکردہ نور کی بنیاد پر،اس کے عذاب سے ڈرتے ہوئے۔

درج ذیل اشعار میں تقویٰ کے معنی کی شاندار عکاسی ہوتی ہے:

خل الذنوب صغيرها … وكبيرها ذاك التقى

سب گناہ چھوڑ دے،چھوٹے ہوں یابڑے،یہی تقویٰ ہے۔

واعمل كماش فوق أر … ض الشوك يحذر ما يرى

عمل کی راہ پر اس طرح چلوگویاتم کانٹوں بھری زمین پر بہت ہی محتاط قدموں سے چل رہے ہو۔

لاتحقرن صغيرة إن … الجبال من الحصى

کسی چھوٹے گناہ کو حقیر نہ جانو،پہاڑ چھوٹی چھوٹی کنکریوں سے ملکر ہی بنتاہے۔وفقنا اللہ لمایحبہ ویرضاہ.

(جاری ہے)

About الشیخ عبدﷲ ناصر رحمانی

امیر جمعیت اہل حدیث سندھ

Check Also

حجِ تمتع حج وعمرہ کیونکر قبول نہیں ہوتا؟

بسم اﷲ الرحمن الرحیم إن الحمد للہ نحمدہ ونستعینہ ونستغفرہ، ونعوذ باللہ من شرور أنفسنا …

جواب دیجئے