Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2018 » ‎شمارہ اگست » مقدس فریضہ حج کو داغدار کرنے کی ناپاک سازش!

مقدس فریضہ حج کو داغدار کرنے کی ناپاک سازش!

کچھ ایام قبل سوشل ميڈيا اور بعض خبر رساں اداروں پر اسلام کے ایک اہم اور مقدس فریضہ حج سے متعلق یہ بحث کی جا تی رہی کہ دوران حج، مناسک حج کی ادائیگی کے دوران خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کیا جاتا ہے۔ اس طرح کے اکادکا واقعات ذکر کرکے یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ حج تقوی، للہیت اور اپنے آپ کو گناہوں سے پاک کرنے اور الله سے معافی طلب کر نے کا عمل نہیں بلکہ نعوذباللہ خواتین سے چھیڑخانی کرنے اور ان کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کا کوئی عالمگیر اجتماع ہے…!!!

بطور خاص ٹویٹر پر اسے ایک تحریک کی شکل دی گئی ،جس میں دیسی اورعالمی ملحد اورلبرلز اپنے خبث باطن کے اظہار میں مصروف عمل رہے تاکہ اس مقدس عبادت کو داغدار کیا جاسکے!

میری ناقص رائے میں بظاہر اس کے  پس پردہ دو مقاصد ہو سکتے ہیں:

اول: یہ تاثر دینا ہےکہ علماء کرام اسلامی تعلیمات کی روشنی میں یہ جو کہتے ہیں کہ مردوزن کے اختلاط سے بے حیائی اور فحاشی کے دروازے کھلتے ہیں اور جو تباہ کاریاں ہوتی ہیں ان سے حرم شریف اوراسلام کا مقدس فریضہ حج بھی محفوظ نہیں ہے ۔نعوذ بالله من ذلک

دوم : اس طرح کی باتیں کرکے عام مسلمانوں کو اس عظیم الشان عبادت سے بدظن کرنامقصودہے، تاکہ ان کو والہانہ محبت اور قلبی لگاؤ حرم شریف اورفریضہ حج سے ہے اس کو ختم کیا جاسکے۔

اب آئیے ایک نگاہ اس طرف بھی ڈالتے ہیں کہ اسلام میں حج کا کیا مقام و مرتبہ ہے؟ اور بعض وہ مقاصد ذکر کرتے ہیں جو شریعت حکیمہ نے مد نظر رکھے ہیں۔

حج اسلام کے بنیادی ارکان میں سے ایک اہم رکن ہے؛جو ہر مالدار اورصاحب استطاعت مسلمان پر عمر میں ایک مرتبہ فرض ہے۔ جو بھی مسلمان ایمان، اخلاص کے ساتھ اور سنت نبوی کے مطابق اس کے ارکان اورشرائط کو پورا کرتے ہوئے اورمنہیات سے اجتناب کرتے ہوئے یہ فرض ادا کرے گا، تو اسے یہ خوشخبری سنائی گئی ہے کہ “جس نے بیت اللہ کا حج کیا نہ کوئی بیہودگی کا کام کیا اور نہ ہی گناہ کی بات کی تو وہ (اپنے گھر کی طرف ایسے لوٹے گا) جیسے اس کی ماں نے اسے آج ہی جنم دیا ہے۔‘‘

اس حدیث اور شریعت کی دیگر نصوص کو دیکھنے سے پتہ چلتا ہے کہ فحش خیالات، بےحیائی اورگناہوں سے اجتناب پر ہی فضیلت حج کو بیان کیا گیا ہے _ شریعت مطہرہ کی یہ واضح تعلیمات ہر حاجی کو یہ پیغام دیتی ہیں کہ جس فرض کی ادائیگی کے لئے تم دنیا کے اطراف واکناف سے مصائب اور پریشانیوں سے پُر رخت سفر باندھ رہے ہو اور بےتحاشا سرمایہ صرف کر رہے ہو اور وہ گناہوں کا بوجھ جو تم اتارنا چاہتے ہو یہ تب ہی ممکن ہے جب تمہارہ حج بے حیائی اور اور بیہودگی کی آلائشوں سے پاک ہوگا۔

اللہ تعالٰی کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اس نے مجھ گنہگار کو تین حج اور کئی عمرے کرنے کی سعادت نصیب کی( جب میں عالم اسلام کی عظیم درسگاہ، مدینہ یونیورسٹی میں زیر تعلیم تھا) کسی ایک موقع پر بھی کوئی ایسا حیاباختہ منظر نہیں دیکھا بلکہ مردوزن میں سے ہر ایک اپنے رب کی طرف متوجہ تھا، اپنے لیے دنیا اور آخرت کی بھلائیاں مانگ رہا تھا، آنکھوں سے آنسو جاری تھے رب غفور سے  اپنےگناہوں کی معافی کے طلب گار تھے۔ ہر وہ شخص اس بات کی گواہی دے گا جو یہ عظیم الشان فریضہ ادا کرچکا ہے۔قلب وروح کو منور کرنے والے اورتزکیہ وإصلاح سے پُر اس مقدس فریضہ کے بارے میں اس طرح کی ہرزہ سرائی یقیناً ان لوگوں کا کام ہے جو یا تواس عبادت کی روح اور حقائق سے  نابلدوجاہل ہیں یا وہ تجاہل عارفانہ سے کام لے رہے ہیں ۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے حج مبرور (وہ حج جو عند الله قبول ہوجائے) کی جزا جنت ذکر کی ہے؛ شارحین حدیث اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں کہ: اللہ تعالٰی کے ہاں اعمال کی قبولیت گو کہ غیب کا معاملہ ہے، تاہم عمل کی قبولیت کی کچھ ظاہری علامات ہیں جیسے حاجی خالص اللہ کے لیے حج کرے،نبی صلی الله علیہ وسلم کے طریقے کے مطابق عمل کرے،حج میں کسی بھی بے حیائی اور فحش گوئی کا مرتکب نہ ہو۔(بلکہ اگر اپنی بیوی بھی ہمراہ ہو تو اس کے ساتھ بھی حالت احرام میں کوئی ایسا عمل نہیں کرسکتا چہ جائیکہ کسی غیر عورت سے ایسا کوئی معاملہ کرے۔)

عمر بھر کی جمع پونجی لے کر ایک مسلمان حج کے لیے جاتا ہے، پوری زندگی یہاں پہنچنے کے لئے ماہیء بے آب کی طرح تڑپتا ہے یہ سوچ ہی اس کے اصلاح احوال کے لیے کافی ہوجاتی ہے کہ مبادا کوئی ایسا کام سرزد ہو جائے جس سے اس کا اخروی اجرو ثواب ضايع ہو _نیز دین اسلام یہ کہتا ہے کہ زمان ومکان کے شرف سے بھی گناہ کی سنگینی اور ہولناکی میں اضافہ ہو تا ہے، بے حیائی اور بدکاری ویسے بھی حرام ہے لیکن اگر وہ بیت اللہ جیسے پاکیزہ مکان میں کی جائے تو اس کے قباحت اور شناعت میں مزید کئی گنا اضافہ ہو جاتا ہے ۔

ان امور کی روشنی میں یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ حج ایک عظیم مالی اور بدنی عبادت ہے جس سے جہاں گناہ معاف ہوتے ہیں وہاں نفس کا تزکیہ بھی ہوتا ہے اور گناہوں سے نفرت کا داعیہ پیدا ہوتا ہے اور یہی امور ایک حاجی کے ذہن میں ہما وقت موجود ہوتے ہیں تو وہ کیسے گوارہ کرسکتا ہے کہ اس کی جدوجہد اورکدوکاوش یوں ہی رائیگاں چلی جائے !!!؟

اللہ تعالٰی مسلمانان عالم کو ان سازشوں کو سمجھنے اور اپنے دین میں پنہاں حکمتوں کا فہم نصیب فرمائے ۔آمین

ایک عالم ربانی کا سانحہ ارتحال

15اگست کو’’مجلہ دعوت اہل حدیث‘‘ کے ماہ رواں کی فائنل تیاری جاری تھی، مدینہ طیبہ سے ایک المناک خبر موصول ہوئی کہ عالم اسلام کی عظیم علمی شخصیت ، مدرس وواعظ حرم ،سابق استاذ جامعہ اسلامیہ اور مصنف کتب کثیرہ شیخ ابوبکر جزائری اس دارفانی سے کوچ کر گئے۔انا الله وإنا إليه راجعون.

شیخ رحمہ اللہ طویل عرصہ مرض  میں مبتلا رہے جو یقیناً ان کےلئے رفع درجات اور گناہوں سے پاکی کا باعث ہے۔شیخ رحمہ اللہ نے 97  برس کی طویل عمر پائی ،علم وعمل سےبھرپور پچاس برس مسجد نبوی میں وعظ وتدریس کی مسند پر جلوہ افروز رہے۔ نہایت عمدہ اور مفید کتب تالیف کیں ،جن میں اہم ترین ایسر التفاسیر، منھاج المسلم اور سیرت پر ھذا الحبیب یا محب ہیں ۔

اللہ تعالیٰ شیخ رحمہ اللہ  کی دینی جھود کو اپنی بارگاہ میں شرف قبولیت عطا فرمائے اور بشری لغزشوں سے درگزر فرمائے اور ان کو جنت الفردوس میں جگہ دے۔آمین

About شیخ عبدالصمد مدنی

Check Also

ہجرت مدینہ،چند اہم دروس واسباق

الحمدلله والصلاة والسلام على رسول الله وعلى آله وأصحابه ومن تبعهم بإحسان إلى يوم الدين …

جواب دیجئے