Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2018 » ‎شمارہ اگست » پاکستان زندہ آباد

پاکستان زندہ آباد

فضیلۃ الشيخ ذوالفقار علی طاہرر رحمہ اللہ کی یوم آزادی کی مناسبت سے لکھی ہوئی ایک يادگار تحریر جو گذشتہ سال ’’ماہنامہ دعوت اہلحدیث ‘‘میں شائع ہوئی، اس تحریر کی اہمیت وافادیت کو دیکھتے ہوئی دوبارہ شامل اشاعت کیا جارہا ہے۔(ادارہ)

الحمد للہ والصلوۃ والسلام علی رسول ﷲ (ﷺ) وبعد!

قارئین کرام! السلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ

پاکستانی قوم14اگست کو یوم آزادی مناتی ہے،71سال قبل اس روز ہم نے یہ پیارا وطن حاصل کیا تھا،برطانوی سامراج کا سورج غروب ہواتھااور ہندوؤں کی سازشیں ناکام ہوئی تھیں، بابائے قوم کی قیادت میں علامہ اقبال کے پیش کیے ہوئے دو قومی نظریئے کی بنیاد پر ہم نے یہ ملک اسلام کے نام پر حاصل کیا، ہندو رہنما جھانسہ دینے کیلئے کہتے تھے کہ ہمارا رہن سہن، ثقافت،زبانیں سب ایک ہیں لیکن وہ یہ بات نہیں جان سکتے تھے کہ اسلام سے بڑا فرق اور کیاہوسکتا ہے ہمارےاور ان کے درمیان یہ اتنی بڑی لکیر ہے کہ کوئی اسے پاٹ نہیں سکتا،انہی دنوں کی بات ہے کہ قائد ایک ہوٹل میں کھانا تناول فرمارہے تھے کہ ایک جوشیلا ہندوآیا اور قائد کے پاس آکر دوقومی نظریہ کی مخالفت کرنے لگا اور کہنے لگا ہندومسلم جدانہیں ہوسکتے ہمارارہن سہن،ثقافت،زبان ایک ہی ہے، ہم میں کوئی تفریق ،جدائی اور دوری نہیں ہے، قائد نے اسے بیٹھنے کو کہا، کچھ دیر بعد قائد نے گلاس میں پانی لیا، نوش فرمایا، پھر اسی گلاس میں پانی لیا اور اس جوشیلے ہندو نوجوان کو دیا اور فرمایا پانی پیجیئے،وہ کہنے لگا میں اس گلاس میں پانی نہیں پیوں گا اس میں تو آپ نے پانی پیا ہے،میں ہندو ہوں اور آپ مسلم!قائد نے فرمایا: یہ ہے دوقومی نظریہ جو زندہ تھا، زندہ ہے اورزندہ رہے گا،اور تجھے ہندومسلم کے مابین تقسیم سمجھ آگئی؟اس سے کوئی جواب بن نہیں پایا اور بڑبڑاتاہوا وہاں سے چلاگیا۔

ان دنوں ہندوستان کے طول وعرض میں ہرمسلمان یہ نعرہ لگاتا نظرآتاتھا کہ:

بٹ کے رہے گا ہندوستان

لےکر رہیں گے پاکستان

ان میں وہ مسلمان بھی شامل تھے، جنہیں یہ علم تھا کہ پاکستان بننے پر بھی وہ وہاں نہیں جائیں گے،لیکن وہ بھی اس تحریک میں شامل تھے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ اگر ان کے بھائی آزاد ہوں گے تو انہیں بھی اس سےتقویت حاصل ہوگی، ان کیلئے پڑوس میں کوئی آوازتو اٹھانے والاہوگا۔

اگر ہم اپنی تاریخ پر نظرڈالیں تو آزادی کے بعد ہم نے جہاں بہت کچھ کھویا ہے، وہیں بہت کچھ حاصل بھی کیا ہے، یہ سچ ہے کہ ہم اپنے ملک کو صحیح معنوں میں اسلام کا گہوارہ نہیں بناسکے، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان ہی دنیا کے نقشے پر ایسا اسلامی ملک ہے، جہاں مسلمانوں کو اپنے عقائد کے حوالے سے سب سے زیادہ آزادیاں حاصل ہیں، جہاں سب سے زیادہ دینی مدارس ہیں، جن میں لاکھوں طلبہ کو دینی تعلیم دی جاتی ہے، جہاں سے ہرسال حفاظ وعلماء کے قافلے نکلتے ہیں، جہاں علماء کھل کر اپنی رائے کااظہار کرسکتے ہیں، جہاں مساجد ومدارس پر کوئی پابندی نہیں، جہاں کوئی غیر اسلامی قانون نہیں بنایاجاسکتا، پاکستان وہ ملک ہے، جس نے ہمیشہ اسلامی کاز کیلئے آواز بلند کی، جس کے پاسپورٹ پر آج تک اسرائیل کیلئے ممنوع لکھا ہوا ہے، حالانکہ مصر اور اردن سمیت کتنے ہی عرب ممالک ایسے ہیں جو اس ملک کو تسلیم کرکے بیٹھے ہوئے ہیں، لیکن ہم نے صرف اخوتِ اسلامی ا ور قبلۂ اول کی وجہ سے آج تک اسرائیل کو منہ نہیں لگایا۔

ہمارے آباؤاجداد نےیہ ملک بناتے ہوئے اسے اسلام کا مرکز بنانے کا جو خواب دیکھا تھا، وہ اگر سو فیصد پورا نہیں ہوا تو ٹوٹا بھی نہیں ہے۔ کشمیر بوسنیا،فلسطین، افغانستان ،برما الغرض جہاں کہیں بھی مسلمانوں پرظلم ہوا، ہم نے سب سے مؤثر آواز ان کیلئے بلند کی، جو کچھ بن پڑا ان کیلئے کیا، اگر کہیں حکومت نے کمزوری دکھائی تو ہماری دینی تنظیموں نے وہ خلاپورا کیا، یہ نعمت بھی اسی ملک میں ہی حاصل ہے کہ یہاں دینی تنظیمیں آزادانہ کام کررہی ہیں، انہیں دنیا بھر کے مظلوم مسلمانوں کیلئے امداد جمع کرنے اور ان تک پہنچانے کی آزادی حاصل ہے۔

آج سے ایک عرصہ قبل شہید ناموسِ صحابہ علامہ احسان الٰہی ظہیررحمہ اللہ نے مسجد حرام میں ایک فلسطینی کو پاکستان کی سلامتی کی دعا مانگتے دیکھا تھا، استفسار پر اس کا کہنا تھا کہ: عالم اسلام کو پاکستان سے امیدیں وتوقعات ہیں،اگر پاکستان سلامت ہے تو عالم اسلام سلامت ہے۔

معلوم ہوا کہ ہم دنیا بھر کے مسلمانوں کی امیدوں کامرکز ہیں،اور اس کی وجہ یہ ہےکہ رب العالمین نے ہمیں ایسی قوت سے نوازا ہے، جو اسلامی دنیا میں اور کسی کے پاس نہیں ۔ جی ہاں!ہم بفضل اللہ ایٹمی قوت ہیں، ہمارے میزائل دنیا کے ایک بڑے حصے کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں، ہم ایک ایسی عسکری قوت ہیں کہ جسے دنیا چاہے بھی تو نظرانداز نہیں کرسکتی۔ ہماری مسلح افواج کی بہادری، جرأت، جنگی حکمت عملی اور حربی صلاحیتوں کا ناصرف اسلامی دنیا، بلکہ پوری دنیا کی افواج میں کوئی ہم پلہ نہیں۔ تنقید کرنے والے کہہ سکتے ہیں کہ آزادی کے بعد ہم نے آدھا ملک گنوادیا ۔ہاں یہ سچ ہے، لیکن یہ بھی سچ ہے کہ پھر ہم نے غلطیوں سے سبق بھی سیکھا اور اس کے بعد پیچھے مڑکر نہیں دیکھا، اب ہم اللہ عزوجل کے فضل وکرم سے اتنے مضبوط ہیں کہ کسی کو ہمارے وجود کے بارے ناپاک سوچ رکھنے کی بھی جرأت نہیں ہوسکتی۔ گذشتہ ڈیڑھ عشرہ میں دنیا کی بڑی طاقتوں نے ہمیں توڑنے اور کمزور کرنے کی ہر ممکن کوشش کی، کہیں اسلامی شدت پسندی کے نام پر اور کہیں آزادی کے نعروں کے نام پر ہمارے وجود پر اندر سے حملے کرائے لیکن نصرت الٰہی سے یہ سب ناکام ہوگئے۔پاک فوج نے دنیا کی بڑی طاقتوں سے لڑی جانے والی یہ خفیہ جنگ جیت لی،اب دشمن ہارچکاہے،پسپائی اختیار کررہا ہے، پہلےجنرل راحیل شریف نے ’’ضربِ عضب‘‘ اور اب جنرل قمرجاوید باوجوہ نے’’ردالفساد‘‘ کے ذریعہ دشمن کوناکوں چنے چبوادیئے ہیں، یہ اتنی بڑی کامیابی ہے کہ ہم اس پر جتنا فخر اور رب تعالیٰ کا شکرکریں، کم ہے، دنیا کی عسکری تاریخ میں ہمارے حدود اربعہ کے کسی ملک کی جانب سے اتنی طاقتوں کو شکست دینے کی کوئی مثال نہیں ملتی، گوریلاجنگ میں تو امریکہ جو اپنے آپ کو سپرپاور گردانتا ہے بھی شکست کھاگیا، صومالیہ ہو یا عراق اور افغانستان ہر جگہ اس نے بھاگنے میں عافیت جانی، لیکن پاکستانی افواج نے اللہ کے فضل سے یہ جنگ بھی جیت کردکھائی، یہ سب آزادی کے بسبب ملنے والاثمر ہے۔

آج کچھ عاقبت نااندیش قسم کے لوگ اس وطن عزیز کا کھاتےہیں اور اس کی مخالفت کرتے ہیں، کوئی کہتا ہے’’پاکستان نہ کھپے‘‘ اور کوئی کہتا ہے اگر میں1947ء میں ہوتاتوپاکستان کو کبھی ووٹ نہ دیتا،جن کو پاکستان نہیں چاہئےوہ ذرا اپنے چہیتے ہندوستان جاکر وہاں زندگی گزار کر دکھائیں تو انہیں لگ پتہ جائے۔اور پاکستان کو ووٹ نہ دینے کی باتیں کرنے والے بھی سن لیں کہ امام ہند ابوالکلام آزاد اور دیوبندی حضرات کے شیخ الہند مولانا محمود الحسن نے پاکستان کو ووٹ نہیں دیا پھر بھی یہ ملک بن کر رہا،تمہارے ووٹ نہ دینے سے کیا فرق پڑتا؟؟؟

آج ہم کچھ لوگوں کی طرف سے یہ فقرہ سنتے ہیں’’ اس ملک میں کیا رکھاہے؟‘‘ وہ لوگ یہ فقرہ اکثر دہراتے ہیں اس بات کا احساس کیے بغیر

کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں آزاد ملک عطاکیا ہے، جہاں ہم آزادی سے سانس لے رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس ملک میں وہ نعمتیں پیدا کی ہیں جو دنیا کے بہت سے ملکوں میں نہیں ہیں۔ وطن عزیز کی خاطرجان قربان کرنے والے محبِ پاکستان حکیم سعید جو حافظ قرآن تھے اور صومِ داؤدی کے پابند بھی، فرمایا کرتے:قرآن مجید کی سورت الرحمٰن باترجمہ پڑھیں تو آپ کو ادراک ہوگا کہ اللہ تعالیٰ نے اس سورت میں جن نعمتوں کا تذکرہ فرمایا ہے وہ پاکستان میں وافر مقدار میں موجود ہیں۔

بے شک اللہ تعالیٰ نے وطن عزیز کوبے شمار نعمتوں سے مالامال فرمایاہے، یہاں عظیم نہری نظام موجود ہے، بہترین زراعت ہے، لہلاتے کھیت اور آنکھوں کو خیرہ کردینے والی فصلیں اور باغات ہیں، اللہ نے اس ملک کو چار موسموں سے سجایاہے ،شدید گرمیوں کے بعد بارشیں ہوتی ہیں اور اس کے بعد جب ٹھنڈی ہواچلتی ہے تو ایسا سکون وسرور ملتا ہے جو اے سی بھی نہیں دے سکتا۔الغرض ہزاروں مثالیں باور کرتی ہیں کہ پاکستان اللہ تعالیٰ کاخاص انعام ہے اس کی حفاظت کیجئے، ہمارے اجداد نے لاکھوں جانوں کی قربانی دیکر ہمیں آزادی کی نعمت دلائی، اس کی قدر کریں، آزادی کی قدر صحیح معنوں میں اگر سمجھنی ہو تو ذرافسلطین اور کشمیر کی طرف نظر دوڑالیجئے، آپ اس نتیجہ پر پہنچے بغیر نہیں رہ سکتے کہ واقعتاً پاکستان اللہ تعالیٰ کا خاص انعام ہے، لہذا: پاکستان زندہ آباد ۔

اللہ ہمارا حامی وناصر ہو

About شیخ ذوالفقارعلی طاہررحمہ اللہ

.سابق ناظم امتحانات جمعیت اہل حدیث سندھ اور ایڈیٹر دعوت اہل حدیث اردو مجلہ ٣ جنوری ٢٠١٨ کو ایک ٹریفک حادثے میں انتقال کر گئے ‏اللهم اغفر له، وارحمه، وعافه، واعف عنه، وأكرم نزله، ووسع مدخله واغسله بالماء والثلج والبرد ونقه من الخطايا، كما نقيت الثوب الأبيض من الدنس، وأبدله داراً خيراً من داره، وأهلاً خيراً من أهله، وزوجاً خيراً من زوجه، وأدخله الجنة، وأعذه من عذاب القبر، ومن عذاب النار

Check Also

عمل پرہمیشگی پسندیدہ ہے!

الحمدللّٰہ والصلاۃ والسلام علی رسول ﷲ(ﷺ) وبعد! قارئین کرام! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ جیسےہی …

جواب دیجئے