Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2019 » شمارہ جولائی » مقدمہ بدیع التفاسیر قسط نمبر :215

مقدمہ بدیع التفاسیر قسط نمبر :215

غَیْرَ:اسم ہے جو اضافت وابہام کو لازم ہوتا ہے،جب تک معرفہ نہ ہو دواضداد کے درمیان واقع نہیں ہوتا اس لئے معرفہ کی صفت ہو کر بھی مستعمل ہوتا ہے جیسے:[غَيْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْہِمْ] (فاتحہ:۷) اصل میںنکرہ کے لئے صفت ہوتا ہےجیسے:[نَعْمَلْ صَالِحًا غَيْرَ الَّذِيْ كُنَّا نَعْمَلُ۝۰ۭ](فاطر:۳۷) اور کبھی حال واقع ہوتا ہے نیز موقع ومحل کی شرط کےساتھ استثناء کے لئے بھی آتا ہے، امام راغب نے المفردات ،ص:۳۷۴میںغیر کےمعنی کے لئے چاروجوہات لکھی ہیں :(۱)صرف نفی کے لئے ہو اور اثبات کے لئےنہ ہو جیسے: [وَمَنْ اَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ ہَوٰىہُ بِغَيْرِ ہُدًى مِّنَ اللہِ۝۰ۭ] (القصص: ۵۰) (۲)بمعنی ’’الا‘‘استثناء کے لئے اور نکرہ کی صفت واقع ہو جیسے: [ہَلْ مِنْ خَالِقٍ غَيْرُ اللہِ ] (فاطر:۳) (۳)کسی ایک صورت کی نفی مگر اصل مادہ کی نفی نہ ہو جیسے: [كُلَّمَا نَضِجَتْ جُلُوْدُھُمْ بَدَّلْنٰھُمْ جُلُوْدًا غَيْرَھَا](النساء:۵۶) (۴)ذات کی نفی ہو جیسے: [اَلْيَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْہُوْنِ بِمَا كُنْتُمْ تَقُوْلُوْنَ عَلَي اللہِ غَيْرَ الْحَقِّ](الانعام:۹۳)

ف:کے استعمال کی چند صورتیں ہیں:1عاطفہ اس وقت تین باتوں کا فائدہ دیتا ہے:(۱)ترتیب خواہ وہ معنوی ہو جیسے: [فَوَكَزَہٗ مُوْسٰى فَقَضٰى عَلَيْہِ](القصص:۱۵) (۲)ترتیب لفظی یاذکری اس صورت میں مفصل کا مجمل پر عطف ہوتا ہے جیسے:[فَاَزَلَّہُمَا الشَّيْطٰنُ عَنْہَا فَاَخْرَجَہُمَا مِـمَّا كَانَا فِيْہِ](البقرہ:۳۶) [فَقَدْ سَاَلُوْا مُوْسٰٓى اَكْبَرَ مِنْ ذٰلِكَ فَقَالُوْٓا اَرِنَا اللہَ جَہْرَۃً](النساء:۱۵۳) استاد فراء ترتیب کے قائل نہیں ان کی دلیل یہ ہے:[وَكَمْ مِّنْ قَرْيَۃٍ اَہْلَكْنٰہَا فَجَاۗءَہَا بَاْسُـنَا بَيَاتًا اَوْ ہُمْ قَاۗىِٕلُوْنَ۝۴](الاعراف:۴) مگر اس کا جواب یہ ہےکہ اس آیت میںاھلکنا ھا کامعنی یہ ہے کہ اردنا اھلاکھا یعنی ہم نے ان کی ہلاکت کا ارادہ کیا، امام ابن ہشام کہتے ہیں کہ فراء کا اس بارے میں عجیب موقف ہے ایک طرف تو وہ ف کو ترتیب کے لئے نہیں مانتے تو دوسری طرف واؤ کو ترتیب کے لئے کہتے ہیں ۔

2۔تعقیب اور ہر چیز اپنی حیثیت کے مطابق ہے :[اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللہَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَاۗءِ مَاۗءً۝۰ۡفَتُصْبِحُ الْاَرْضُ مُخْضَرَّۃً۝۰ۭ ] (الحج:۶۳)(۳)سببیہ:جیسے:[فَتَلَـقّٰٓي اٰدَمُ مِنْ رَّبِّہٖ كَلِمٰتٍ فَتَابَ عَلَيْہِ](البقرۃ:۳۷)

2۔مجرد سبب کے لئے جیسے: [اِنَّآ اَعْطَيْنٰكَ الْكَوْثَرَ۝۱ ۭفَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ۝۲ۭ ] (الکوثر:۱،۲) ظاہر ہے کہ انشاء اور خبر دونوں ایک دوسرے پر عطف نہیں ہوتیں ۔3ایسی جگہ جہاں شرط نہ بن سکے جہاں جواب کےلئے بطور رابطہ واقع ہو خواہ وہ جملہ اسمیہ ہو جیسے: [اِنْ تُعَذِّبْہُمْ فَاِنَّہُمْ عِبَادُكَ](المائدۃ:۱۱۸) یا جملہ فعلیہ ہو جیسے:[اِنْ تَرَنِ اَنَا اَقَلَّ مِنْكَ مَالًا وَّوَلَدًا۝۳۹ۚ فَعَسٰي رَبِّيْٓ اَنْ يُّؤْتِيَنِ خَيْرًا مِّنْ جَنَّتِكَ] (الکھف: ۳۹،۴۰) یا انشائیہ ہو جیسے:[قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللہَ فَاتَّبِعُوْنِيْ يُحْبِبْكُمُ اللہُ](آل عمران:۳۱) اور اس آیت میں جملہ اسمیہ وانشائیہ کی مشترکہ مثال مذکور ہے:[قُلْ اَرَءَيْتُمْ اِنْ اَصْبَحَ مَاۗؤُكُمْ غَوْرًا فَمَنْ يَّاْتِيْكُمْ بِمَاۗءٍ مَّعِيْنٍ۝۳۰ۧ] (الملک:۳۰) یا لفظا ومعنا ماضی ہو جیسے:[اِنْ يَّسْرِقْ فَقَدْ سَرَقَ اَخٌ لَّہٗ مِنْ قَبْلُ] (یوسف:۷۷) 4زائدہ جیسے: [وَلَمَّا جَاۗءَھُمْ كِتٰبٌ مِّنْ عِنْدِ اللہِ مُصَدِّقٌ لِّمَا مَعَھُمْ۝۰ۙ وَكَانُوْا مِنْ قَبْلُ يَسْتَفْتِحُوْنَ عَلَي الَّذِيْنَ كَفَرُوْا۝۰ۚۖ فَلَمَّا جَاۗءَھُمْ مَّا عَرَفُوْا كَفَرُوْا بِہٖ۝۰ۡفَلَعْنَۃُ عَلَی الْکَافِرِیْنَ] (البقرۃ:۸۹) 5الاستیناف جیسے:[كُنْ فَيَكُوْنُ۝۸۲]

(یس:۸۲)

فِی:یہ حرف جر ہے اور دس معانی کے لئے استعمال ہوتا ہے:(۱)بمعنی ظرف زمانی یا مکانی جیسے:[الۗمّۗ۝۱ۚ غُلِبَتِ الرُّوْمُ۝۲ۙ فِيْٓ اَدْنَى الْاَرْضِ وَہُمْ مِّنْۢ بَعْدِ غَلَبِہِمْ سَيَغْلِبُوْنَ۝۳ۙ فِيْ بِضْعِ سِنِيْنَ۝۰ۥۭ ](الروم:۱تا۴) اس آیت میںدونوں کی مثال ہے، یا مجازا ظرف ہو جیسے: [وَلَكُمْ فِي الْقِصَاصِ حَيٰوۃٌ يّٰٓاُولِي الْاَلْبَابِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ۝۱۷۹] (البقرہ:۱۷۹) (۲)مصاحبت کےمعنی میں ہو مثلا: [فَخَـــرَجَ عَلٰي قَوْمِہٖ فِيْ زِيْنَتِہٖ] (القصص:۷۹) (۳)تعلیل کے لئے جیسے: [قَالَتْ فَذٰلِكُنَّ الَّذِيْ لُمْتُنَّنِيْ فِيْہِ](یوسف:۳۲) (۴)بمعنی علی جیسے:[وَّلَاُصَلِّبَنَّكُمْ فِيْ جُذُوْعِ النَّخْلِ] (طہ:۷۱) (۵)بمعنی ب جیسے شاعر کا قول:

یرکب یوم الروع من فوارس

یصیرون فی طعن الاباھر والکلی

(۶)الی کےمعنی میں جیسے:[فَرَدُّوْٓا اَيْدِيَہُمْ فِيْٓ اَفْوَاہِہِمْ] (ابراھیم:۹) (۷)بمعنی من جیسے:[وَيَوْمَ نَبْعَثُ فِيْ كُلِّ اُمَّۃٍ شَہِيْدًا عَلَيْہِمْ مِّنْ اَنْفُسِہِمْ](النحل:۸۹) اسی سورت میں یہ آیت بھی ہے :[وَيَوْمَ نَبْعَثُ مِنْ كُلِّ اُمَّۃٍ شَہِيْدًا] (النحل:۸۴)(۸)مقایسہ مقابلہ وتقابل کے لئے جیسے :[فَمَا مَتَاعُ الْحَيٰوۃِ الدُّنْيَا فِي الْاٰخِرَۃِ اِلَّا قَلِيْلٌ۝۳۸] (توبۃ:۳۸) (۹) زائدہ اور کسی دوسرے محذوف سے عوض واقع ہو جیسے:ضربت فیمن رغبت ای من رغبت فیہ(۱۰)تاکید کے لئے اور اس جگہ بھی زائدہ ہوتا ہےجیسے: [وَقَالَ ارْكَبُوْا فِيْہَا](ھود:۴۱)

فائدہ: سیوطی نے الاتقان میں ذکر کیا ہے کہ’’فی‘‘ عن کے معنی میں بھی آتا ہے:[فَہُوَفِي الْاٰخِرَۃِ اَعْمٰى](بنی اسرائیل:۷۲)

قد:یہ حرف چند معانی کےلئے آتا ہے :(۱)تحقیق کے لئے اور اس وقت فعل ماضی پر داخل ہوتا ہے جیسے: [قَدْاَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ۝۱ۙ ](المؤمنون:۱) (۲)ایسے ماضی پر داخل ہوتا ہے جو حال واقع ہوتا ہے جیسے:[اَوْ جَاءُوْكُمْ حَصِرَتْ صُدُوْرُھُمْ] (النساء:۹۰) اس جگہ لفظ قد مضمر ہے یعنی قدحصرت صدورھم اور ظاہر کی مثال جیسے: [وَمَا لَنَآ اَلَّا نُقَاتِلَ فِيْ سَبِيْلِ اللہِ وَقَدْ اُخْرِجْنَا مِنْ دِيَارِنَا وَاَبْنَاىِٕنَا](البقرۃ:۲۴۶) (۳)بمعنی تقلیل اور اس وقت مضارع پر داخل ہوتا ہے پھر تقلیل اسی فعل کی ہو جیسے: قدیصدق الکذوب یا اس فعل کی تقلیل مراد ہو جیسے: [قَدْ يَعْلَمُ مَآ اَنْتُمْ عَلَيْہِ](النور:۶۴) (۴)تکثیر کے لئے زمخشری نے اس کے لئے یہ مثال پیش کی ہے کہ :[قَدْ نَرٰى تَـقَلُّبَ وَجْہِكَ فِي السَّمَاءِ](البقرہ:۱۴۴) (۵)توقع کے لئے کہا جائے :قد قامت الصلاۃ چونکہ اس وقت لوگ نماز کے انتظار میں ہوتےہیں بعض نے اس آیت کو اس باب میں پیش کیا ہے کہ: [قَدْسَمِعَ اللہُ قَوْلَ الَّتِيْ تُجَادِلُكَ فِيْ زَوْجِہَا](المجادلۃ:۱)

ک:یہ حرف جارہ بھی مستعمل ہوتا ہے اور غیر جارہ بھی، جارہ والی صورت میں حرف واسم دونوں واقع ہوتا ہے ،حرف کی صورت میں تین معانی کےلئے آتا ہے(۱)تشبیہ جیسے:زید کالاسد (۲)تعلیل جیسے: [وَيْكَاَنَّہٗ لَا يُفْلِحُ الْكٰفِرُوْنَ۝۸۲ۧ](القصص:۸۲) (۳)بمعنی علی اس طرح اخفش اور کوفیوں نے ذکر کیا ہے جیسے کیف اصبحت کے جواب میں کہاجائے: بخیر ،اسمیہ اور جارہ کی صورت میں مثل کے معنی میں ہوتا ہے اور ایسا استعمال امام سیبویہ اور دوسرے محققین کے نزدیک صرف بوقت ضرورت ہوتا ہے جیسے قول شاعر:

یضحکن عن کالبرد المھم

اور غیر جارہ صورت میں اس کی دوقسمیں ہیں:مضمر ،منصوب یا مجرور جیسے: [مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلٰى۝۳ۭ](الضحیٰ:۳)

کاد:فعل ناقص ہے، یہ صرف فعل ماضی اور مضارع پر آتا ہے اس کا اسم مرفوع اور خبر فعل مضارع جو کہ ان یا ان جیسے معنی والے حرف سے خالی ہوتی ہے اس وقت قربت ومقاربہ کا معنی دیتا ہے منفی کی صورت میں مقاربہ کی نفی اور اثبات کی صورت میں مقاربہ کا اثبات ہوگا:[وَاِنْ كَادُوْا لَيَفْتِنُوْنَكَ ](بنی اسرائیل:۷۳) [وَمَا كَادُوْا يَفْعَلُوْنَ۝۷۱ۧ ] (البقرۃ:۷۱)

فائدہ: کلمہ کاد ارادہ کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے جیسے: [كَذٰلِكَ كِدْنَا لِيُوْسُفَ](یوسف:۷۶) [اَكَادُ اُخْفِيْہَا] (طہ:۱۵) اور اس کے برعکس اراد بمعنی کاد بھی مستعمل ہوتاہے جیسے: [فَوَجَدَا فِـيْہَا جِدَارًا يُّرِيْدُ اَنْ يَّنْقَضَّ](الکھف:۷۷)

کَاَیِّن:یہ اسم ہےجو کہ تشبیہ والے کاف اور تنوین والے أَیٌّ سےمرکب ہے، عدد میں تکثیر کا فائدہ دیتا ہے،جیسے:[وَكَاَيِّنْ مِّنْ نَّبِيٍّ قٰتَلَ۝۰ۙ مَعَہٗ رِبِّيُّوْنَ كَثِيْرٌ۝۰ۚ ](آل عمران:۱۴۶)

کَم:یہ اسم مبنی ہے جو ابتداء کلام میں آتا ہے ،مبہم ہوتا ہے اور تمیز کا محتاج ہوتا ہے اور یہ کلمہ استفہام اورخبر کے لئے آتا ہے مگر قرآن کریم میں صرف خبر کے لئے مذکور ہے اور اس وقت کثرت کا معنی دیتا ہے اکثر فخرومباھات کے مقام پر استعمال ہوتا ہے جیسے: [وَكَمْ مِّنْ مَّلَكٍ فِي السَّمٰوٰتِ](النجم:۲۶) [وَكَمْ مِّنْ قَرْيَۃٍ اَہْلَكْنٰہَا](الاعراف:۴) [وَكَمْ قَصَمْنَا مِنْ قَرْيَۃٍ كَانَتْ ظَالِمَۃً] (الانبیاء:۱۱)

فائدہ: امام کسائی کہتے ہیں کہ :بم اور لم کی طرح کم بھی دراصل کماتھا پرالف کوحذف کردیاگیا ،زجاج اس کا رد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگر ایسا ہوتا تو اس کامیم بھی مفتوح ہوتا۔             (جاری ہے)

About شیخ العرب والعجم علامہ سید ابو محمد بدیع الدین شاہ الراشدی رحمہ اللہ

جمعیت اہل حدیث سندھ کے بانی ومئوسس شیخ العرب والعجم سید ابو محمد بدیع الدین شاہ الراشدی رحمہ اللہ ہیں جوکہ اپنے دور کے راسخین فی العلم علماء میں سے تھے بلکہ ان کے سرخیل تھے۔ صوبہ سندھ میں موجود فتنوں ،فرقوں ،ضلالتوں،تقلیدجامد اور ان کی نشاطات کو دیکھتے ہوئے شاہ صاحب رحمہ اللہ نے اس صوبہ کو اپنی دعوتی واصلاحی سرگرمیوں کا مرکز ومحور بنالیاتھا۔

Check Also

بدیع التفاسیر قسط214

دون:فوق کا نقیض ہے،ظرف ہو کر مستعمل ہوتا ہے اور مشہور قول کے مطابق غیر …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے