Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2019 » شمارہ جون » بدیع التفاسیر قسط214

بدیع التفاسیر قسط214

دون:فوق کا نقیض ہے،ظرف ہو کر مستعمل ہوتا ہے اور مشہور قول کے مطابق غیر منصرف ہوتا ہے ،بعض کہتے ہیں کہ منصرف ہوتا ہے، اور کبھی اسم بمعنی غیر ہوکر واقع ہوتا ہے،جیسے: [وَاتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِہٖٓ اٰلِہَۃً](الفرقان:۳) زمخشری کہتے ہیں کہ اس کا معنی ہے:ادنی مکانا من الشیٔ یعنی دوسری چیز سے کم ترحیثیت میں، دون تفاوت کے معنی میں بھی مستعمل ہوتا ہے جیسے: زید دون عمرو یعنی زید عمرو سے شرف میں کم تر ہے نیز اس میں ایسی وسعت رکھی گئی ہے کہ تجاوز کا معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے، جیسے: [لَا يَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُوْنَ الْكٰفِرِيْنَ اَوْلِيَاءَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِيْنَ](آل عمران:۲۸) اس آیت کا ظاہری معنی یہ ہے کہ مؤمن اپنے اہل ایمان بھائیوں کی دوستی سےتجاوز کرتے ہوئے کفار کو اپناد وست نہ بنائیں ۔

ذو:بمعنی صاحب(والا) مضاف ہوکر مستعمل ہوتا ہے مگر ضمیر اور مشتق کی طرف مضاف نہیں ہوتا۔

فائدہ: علامہ سہیلی کہتے ہیں کہ ذو وصف کے معنی میں لفظ صاحب سے زیادہ ابلغ ہے کیونکہ ذو تابع کی طرف مضاف ہوتا ہے اور صاحب متبوع کی طرف مثلا اس طرح کہا جاتا ہے کہ:ابوھریرہ صاحب النبی ﷺ اور یوں نہیں کہاجاتا کہ النبی صاحب ابی ھریرۃ رضی اللہ عنہ، اور ذو کے لئے اس طرح کہا جاتا ہے کہ: ذوالمال،ذوالعرش اور یہ قرأت قرآن مجید میں بھی مستعمل ہوئی ہے،چنانچہ فرمایا:[وَذَا النُّوْنِ اِذْ ذَّہَبَ مُغَاضِبًا](الانبیاء:۸۷) [وَلَا تَكُنْ كَصَاحِبِ الْحُوْتِ۝۰ۘ] (القلم:۴۸)

رُبَّ:حرف جر ہے،کوفیوں نے اس کے اسم ہونے کا دعویٰ کیا ہے، اس کے معنی میں اختلاف ہے کہ یہ تقلیل کا معنی دیتا ہے یا تکثیر کا، ابن ہشام کہتے ہیں یہ ہمیشہ نہ تقلیل کے معنی کے لئے آتا ہے اور نہ تکثیر کے لئے بلکہ اکثر تکثیر کیلئے آتا ہے مثلا:[رُبَمَا يَوَدُّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَوْ كَانُوْا مُسْلِـمِيْنَ۝۲ ](الحجر:۲) اور کبھی تقلیل کے معنی میں آتا ہے جیسے قال شاعر:

ألا رب مولود ولیس لہ اب

وذی ولد لم یلدہ ابوان

روید:اسم ہے اور رود کی تصغیر ہے بمعنی المھل یعنی مہلت دینا یہ ہمیشہ مصغر استعمال ہوتا ہے ،جیسے:[اَمْہِلْہُمْ رُوَيْدًا۝۱۷ۧ ]

(الطارق:۱۷)

س:یہ حرف صرف مضارع پر داخل ہوتا ہے اور اسے مستقبل کے معنی کے لئے خاص کردیتا ہے ،مضارع کے لئے خاص ہونے کے باوجود اس میں کوئی عمل نہیں کرتا،جیسے: [سَيَقُوْلُ السُّفَہَاۗءُ مِنَ النَّاسِ](البقرہ:۱۴۲)

سوف:س کی طرح ہے مگر زمانہ کے اعتبار سے اس کے معنی میں قدرے وسعت پائی جاتی ہے’’ س ‘‘سے اس بات میںمختلف ہے کہ اس پر لام داخل ہوتا ہے جبکہ س پر لام داخل نہیں ہوتا جیسے: [وَلَسَوْفَ يُعْطِيْكَ رَبُّكَ فَتَرْضٰى۝۵ۭ ](الضحیٰ:۵) ابوحیان نحوی کہتےہیں کہ توالی حرکات یعنی تین زبر ایک ساتھ لازما آئیں گی (جیسے: واؤ،لام اور سین پر زبر ہے)

سواء:مستوی یعنی برابری،یہ مقصورہ استعمال ہوتا ہے،جیسے: [لَّا نُخْلِفُہٗ نَحْنُ وَلَآ اَنْتَ مَكَانًا سُوًى۝۵۸ ](طہ:۵۸) اور ممدودہ فتحہ کے ساتھ آتا ہے ،جیسے:[سَوَاۗءٌ عَلَيْہِمْ ءَاَنْذَرْتَھُمْ اَمْ لَمْ تُنْذِرْھُمْ](البقرہ:۶) کبھی بمعنی وسط کے بھی آتا ہے جیسے :[خُذُوْہُ فَاعْتِلُوْہُ اِلٰى سَوَاۗءِ الْجَحِيْمِ۝۴۷ۖۤ ](الدخان:۴۷) نیز بمعنی تام بھی استعمال ہوتا ہے جیسے:[فِيْٓ اَرْبَعَۃِ اَيَّامٍ۝۰ۭ سَوَاۗءً لِّلسَّاۗىِٕلِيْنَ۝۱۰] (حم سجدہ:۱۰)

قرآن مجید میں سواء بمعنی غیر مستعمل نہیں ہوا۔

سآء:یہ فعل مذمت کے معنی میں استعمال ہوتا ہے اور منصرف نہیں ہوتا جیسے: [وَسَاۗءَ سَبِيْلًا۝۳۲ ](بنی اسرائیل:۳۲)

علی:دوطرح سے مستعمل ہوتا ہے:1حرف ہو کر اس وقت اس کے نو معانی ہوتے ہیں:

(۱)بمعنی استعلاء یہی اس کا اکثر استعمال ہے جیسے: [وَعَلَيْہَا وَعَلَي الْفُلْكِ تُحْمَلُوْنَ۝۲۲ۧ](المؤمنون:) یا اس کے قریب معنی جیسے: [ اَوْ اَجِدُ عَلَي النَّارِ ہُدًى۝۱۰ ](طہ:۱۰) اور کبھی استعلاء کے معنی میں ہوتا ہے جیسے: [وَلَہُمْ عَلَيَّ ذَنْۢبٌ فَاَخَافُ اَنْ يَّقْتُلُوْنِ۝۱۴ۚ ](الشعراء:۱۴) (۲)مصاحبہ کے معنی میں بمعنی مع جیسے: [وَاٰتَى الْمَالَ عَلٰي حُبِّہٖ](البقرہ:۱۷۷) (۳)المجاورۃ بمعنی عن جیسے قول شاعر:

رضیت علی بنو قشیر

لعمراللہ اعجبنی رضاھا

(۴)بمعنی لام تعلیل جیسے: [وَلِتُكَبِّرُوا اللہَ عَلٰي مَا ھَدٰىكُمْ](البقرۃ:۱۸۵) (۵)ظرفیہ بمعنی فی جیسے: [وَدَخَلَ الْمَدِيْنَۃَ عَلٰي حِيْنِ غَفْلَۃٍ مِّنْ اَہْلِہَا](القصص:۱۵) (۶)بمعنی من جیسے: [الَّذِيْنَ اِذَا اكْتَالُوْا عَلَي النَّاسِ يَسْتَوْفُوْنَ۝۲ۙ] (المطففین:۲) (۷)ب کی طرح : [حَقِيْقٌ عَلٰٓي اَنْ لَّآ اَقُوْلَ عَلَي اللہِ اِلَّا الْحَقَّ۝۰ۭ ](الاعراف:۱۰۵) (۸)زائد ہ عوض کے لئے جیسے شاعر کا قول:

ان الکریم وابیک یعتمل

ا ن لم یجد یوما علی من یتکل

یا غیر عوض کے لئے جیسے حمید بن ثور کا شعر:

ابی اللہ الا ان سرحۃ مالک

علی کل افنان العضاۃ تروق

اس مثال کو ابن ہشام صحیح نہیں سمجھتے ۔

(۹)استدراک واضراب کے لئے، جیسے:فلان لایدخل الجنۃ لسوء صنیعہ علی انہ لاییئس من رحمۃ اللہ

2علی کی یہ صورت ہے کہ اسم ہوکر فوق کے معنی میں آئے جیسے قول شاعر:

غدت من علیہ بعد ماتم ظمئھا

اس صورت میں اس کے شروع میں من داخل ہوتا ہے اور اخفش یہ صورت بھی ذکر کرتے ہیں کہ مجرور اور اس کا فاعل ایک ہی مسمی کے لئے ضمیر ہوں جیسے:[اَمْسِكْ عَلَيْكَ زَوْجَكَ](الاحزاب:۳۷)

عن:اس کے استعمال کی تین صورتیں ہیں:1بطور حرف مستعمل ہو اس صورت میں اس کے دس معنای ہیں :(۱)مجاورہ ، جیسے:[فَلْيَحْذَرِ الَّذِيْنَ يُخَالِفُوْنَ عَنْ اَمْرِہٖٓ](نور:۶۳) (۲)بدل کے معنی میں، جیسے:[وَاتَّقُوْا يَوْمًا لَّا تَجْزِىْ نَفْسٌ عَنْ نَّفْسٍ شَـيْــــًٔـا](البقرہ:۴۸) (۳) استعلاء: مثلا:[وَمَنْ يَّبْخَلْ فَاِنَّمَا يَبْخَلُ عَنْ نَّفْسِہٖ۝۰ۭ ](محمد:۳۸) (۴)تعلیل، جیسے:[وَمَا كَانَ اسْتِغْفَارُ اِبْرٰہِيْمَ لِاَبِيْہِ اِلَّا عَنْ مَّوْعِدَۃٍ وَّعَدَھَآ اِيَّاہُ۝۰ۚ](التوبۃ:۱۱۴) (۵)بعد کے معنی میں جیسے: [قَالَ عَمَّا قَلِيْلٍ لَّيُصْبِحُنَّ نٰدِمِيْنَ۝۴۰ۚ ](المؤمنون:۴۰) (۶)ظرفیہ جیسے: قول شاعر

وآس سراۃ الحی حیث لقیتھم

ولاتک عن حمل الرباعۃ وانیا

(۷)من کی طرح: جیسے:[وَہُوَالَّذِيْ يَقْبَلُ التَّوْبَۃَ عَنْ عِبَادِہٖ ](الشوریٰ:۲۵) (۸)ب کے مترادف :جیسے: [وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْہَوٰى۝۳ۭ ](النجم:۳) (۹)الاستعانۃ:جیسے: رمیت عن القوس.(۱۰)زائدہ یا کسی دوسرے عن محذوف کے عوض ہو جیسے قول شاعر:

اتجزع ان نفس اتاھا حمامھا

فھلا اللتی عن بین جنبیک تدفع

ابن جنی کے بقول یہاں اصل تقریر اس طرح ہے:فھلا تدفع عن اللتی بین جنبیک ، اسم موصول سے قبل عن کو حذف کرکے اور موصول کے بعد (اس کے عوض) دوسرے عن کو لایاگیا ۔

2مصدری حرف ہوکراستعمال ہو جیسے بنوتمیم والے: اعجبنی ان تفعل میں عن تفعل پڑھتے ہیں اسی طرح انَّ مشددہ میں بھی کہتے ہیں مثلا: اشھد عن محمدا رسول اللہ اور اس قسم کو عنعنہ تمیم کہتےہیں۔

3جانب کے معنی میں اسم ہوکر واقع ہو اور یہ صورت تین مقامات پر ہوتی ہے(۱)جب اس پر من داخل ہو جیسے قول شاعر:

فلقد ارانی للرماح دریئۃ

من عن یمینی تارۃ وامامی

ابن ہشام نے قرآن مجید سے اس کی مثال دی ہے: [ثُمَّ لَاٰتِيَنَّہُمْ مِّنْۢ بَيْنِ اَيْدِيْہِمْ وَمِنْ خَلْفِہِمْ وَعَنْ اَيْمَانِہِمْ وَعَنْ شَمَاۗىِٕلِہِمْ۝۰ۭ ] (الاعراف:۱۷)

(۲)کہ اس پر علی داخل ہو مگر ایسی مثال بالکل نایاب ہے البتہ ایک شاعر کاقول ہے:

علی عن یمینی مرت الطیرسنحا

(۳)اس کا مجرور اور اس کے متعلق فاعل دونوں ایک ہی مسمی کے ضمیر ہوں ،اخفش کہتے ہیں کہ جیسے امرءالقیس کا شعر ہے:

دع عنک نھبا صحیحا فی حجراتہ۔

عسی:یہ کلمہ نہ مطلقا فعل ہے اور نہ ہی حرف ،اگرچہ بعض اسے حرف کہتے ہیں ،محبوب وپسندیدہ چیز کی امید اور نا پسندیدہ کے خطرہ کے لئے دونوں معانی میں استعمال ہوتا ہے،جیسے: [وَعَسٰٓى اَنْ تَكْرَھُوْا شَـيْـــًٔـا وَّھُوَخَيْرٌ لَّكُمْ۝۰ۚ وَعَسٰٓى اَنْ تُحِبُّوْا شَـيْـــــًٔـا وَّھُوَشَرٌّ لَّكُمْ۝۰ۭ ](البقرہ:۲۱۶)

اس آیت میں دونوں معانی کی مثال موجود ہے،علامہ ابن فارسی نحوی کہتے ہیں کہ عسی قرب کے معنی کے لئے بھی آتا ہے ،جیسے: [قُلْ عَسٰٓى اَنْ يَّكُوْنَ رَدِفَ لَكُمْ بَعْضُ الَّذِيْ تَسْتَعْجِلُوْنَ۝۷۲ ]

(النمل:۷۲)

امام کسائی کہتے ہیں کہ قرآن کریم میں جہاں بھی عسی کا استعمال خبر کے معنی کے لئے ہوا ہے وہاں جمع کا صیغہ آیا ہے جیسے:[فَہَلْ عَسَيْتُمْ اِنْ تَوَلَّيْتُمْ](محمد:۲۲)

ابوعبیدہ کہتے ہیںکہ اس کا معنی ہے :ھل عرفتم ذالک وھل خبرتموہ .یعنی کیا تم نے اسے معلوم کیا؟ ابن ابی حاتم ،بیہقی وغیرہ نے ابن عباس  رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے کہ:

قال کل عسی فی القرآن فھی واجبۃ :یعنی قرآن مجیدمیں ہر جگہ عسی کا استعمال وجوب کے معنی کے لئے ہوا ہے اسی طرح امام شافعی سے منقول ہے ۔ابن الانباری کہتے ہیں کہ قرآن کریم میں دو

جگہوں کے علاوہ باقی تمام جگہوں پر عسی وجوب کے لئے ہے۔[عَسٰي رَبُّكُمْ اَنْ يَّرْحَمَكُمْ۝۰ۚ ](بنی اسرائیل:۸) یہاں بنونضیر کے یہودیوں سے خطاب ہے اس وقت ان پر رحم کے بجائے ان سے لڑائی ہوئی اور ان پر عذاب واقع ہوا۔

(۲)[عَسٰى رَبُّہٗٓ اِنْ طَلَّقَكُنَّ اَنْ يُّبْدِلَہٗٓ اَزْوَاجًا خَيْرًا مِّنْكُنَّ ](التحریم:۵) اور یہ بات ظاہر ہے کہ آیت میں مذکور تبدیلی واقع نہیں ہوئی۔(یعنی رسول اللہ ﷺ نے ازواج مطہرات کو طلاق نہیںدی) ابن دھان کہتے ہیں کہ عسی لفظ ومعنی کے اعتبار سے فعل ماضی ہے کیونکہ اس میں مستقبل یعنی آئندہ چیز کی امید وطمع کا معنی حاصل ہوتا ہے، بعض کہتے ہیں کہ لفظی اعتبار سے ماضی ہے اور معنی کے اعتبار سے مستقبل ہے کیونکہ اس میں ایسی چیز کی امید وطمع کی خبر دی گئی ہے جو زمانہ مستقبل میں واقع ہونے والی ہے۔

عند:ظرف مکان ہے جو حضور وقرب کے معنی میں استعمال ہوتا ہے اگردونوں حسی ہوں جیسے:[فَلَمَّا رَاٰہُ مُسْتَقِرًّا عِنْدَہٗ] (النمل:۴۰) اور قرب کے معنی کے لئے جیسے:[عِنْدَ سِدْرَۃِ الْمُنْتَہٰى۝۱۴ عِنْدَہَا جَنَّۃُ الْمَاْوٰى۝۱۵ۭ ](النجم:۱۴،۱۵) یا دونوں معنوی ہوں جیسے:[قَالَ الَّذِيْ عِنْدَہٗ عِلْمٌ مِّنَ الْكِتٰبِ] (النمل:۴۰) او رقرب کی مثال جیسے: [رَبِّ ابْنِ لِيْ عِنْدَكَ بَيْتًا فِي الْجَنَّۃِ](التحریم:۱۱)

        (جاری ہے)

About شیخ العرب والعجم علامہ سید ابو محمد بدیع الدین شاہ الراشدی رحمہ اللہ

جمعیت اہل حدیث سندھ کے بانی ومئوسس شیخ العرب والعجم سید ابو محمد بدیع الدین شاہ الراشدی رحمہ اللہ ہیں جوکہ اپنے دور کے راسخین فی العلم علماء میں سے تھے بلکہ ان کے سرخیل تھے۔ صوبہ سندھ میں موجود فتنوں ،فرقوں ،ضلالتوں،تقلیدجامد اور ان کی نشاطات کو دیکھتے ہوئے شاہ صاحب رحمہ اللہ نے اس صوبہ کو اپنی دعوتی واصلاحی سرگرمیوں کا مرکز ومحور بنالیاتھا۔

Check Also

مقدمہ بدیع التفاسیر قسط نمبر :215

غَیْرَ:اسم ہے جو اضافت وابہام کو لازم ہوتا ہے،جب تک معرفہ نہ ہو دواضداد کے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے