Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2019 » شمارہ جون » اختتام رمضان

اختتام رمضان

الوداع کہہ گیا ہم کو ماہِ بہار

زندگی میں پھر آئے، دعا ہے اے یار

ساتھ لایا تھا اپنے، رب کی رحمت وسیع

اب گیا ہے تو ہم کو کرگیا بے قرار

کیا خوشی تھی سبھی کو اس کی آمد کے وقت

اس کے جاتے ہی ہر اک ہوگیا سوگوار

ہم جانے نہ دیتے یہ مہینہ کبھی

اگر کچھ جو ہوتا، ہمیں اختیار

اب وہ گھڑیاں دوبارہ کیا خبر کہ نہ آئیں

گزر ہی نہ جائے کہیں حیاتِ مستعار

وقت گزرا سنہری ماہ رمضان میں

سب اکٹھے تھے جب سحری ہو یا افطار

نعمتیں ہر قسم کی دستر خوانوں پہ تھیں

سموسے، پکوڑے، کھجور و انار

جس نے روزہ رکھا اور تروایح پڑھی

بخشے جائیں گے اس کے گناہ کے انبار

کچھ ہوئے تھے جمع اعتکاف کیلئے

تاکہ پائیں وہ رات جو ہے ذی وقار

ہے بڑا باسعادت جس نے پالی وہ رات

بن گیا الف شھر کا وہ عبادت گزار

ماہ رمضان میں جو کچھ ہم نے کیا

میں سمجھتا نہیں کہ ہوبہت شاندار

لیکن جو کچھ کیا گر وہی ہو قبول

پھر تو ہوگا ہمارا بیڑا ہی پار

آؤ ملکر کریں ہم یہ قول وقرار

اب کے نہ ہوگی ہم سے کمی اگلی بار

یہ مبارک مہینہ آئے بار بار

اب رہے گا اسی کا ہمیں انتظار

یہ دعا ہے میری دل سے اے اثری

ہم سے ہوجائے راضی، پروردگار

About حافظ عبدالکریم اثری

Check Also

احساس(نظم )

کس قدر ابن آدم، تو ہے کرتا گناہ گامزن راہِ عصیان یہ، تو ہے شام …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے