Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2019 » شمارہ جون » تـسـكـيـن الجـنـان بـتـوثـيـق دراج بـن الـسـمـعـان

تـسـكـيـن الجـنـان بـتـوثـيـق دراج بـن الـسـمـعـان

دین اسلام کے حقیقی محافظ منہج سلف کے امین،احیائے سنت کے علمبردار علمائے حق (علمائے اہلحدیث) کی اشاعت اسلام میں مثالی خدمات  کسی بھی صاحب شعور سےمخفی نہیں ہیں۔ درحقیقت یہ علماءباطل کی تحریفات وتلبیسات کے سامنے فولاد ہیں جو اہل باطل کی سازشوں کو بے نقاب کرنے میں پیش پیش ہیں۔ بالفاظ دیگر علمائے حق دین اسلام کے ٹھیکیدار تو نہیں ہیں البتہ دین کے چوکیدار ضرور ہیں اور چوکیدار سے تکلیف چور کو ہوتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ اہل باطل عصبیت کی آگ کو ٹھنڈا کرنے کیلئے سب سے پہلے انہی علماء کو نشانہ تنقید بنانے کی مذموم سعی کرتے ہیں، جس کی زندہ مثال ۱۳۹۵؁ھ بمطابق ۱۹۷۵ ع میں جنم لینے والے نومولود اورتکفیری فرقے’’ فرقہ مسعودیہ رجسٹرڈ جماعت المسلمین‘‘ کے ’’بے اختیار امیر‘‘ جناب محمداشتیاق قريشى صاحب کی کتاب بنام ’’محمد ناصر الدین البانی فن حدیث کے آئینے میں‘‘ہے جس میں موصوف نےمحدث البانی رحمہ اللہ کی شاندار علمی خدمات سے صرف نظر کرتے ہوئے محض چند روایات کو بنیاد  بنا کر علامہ البانی رحمہ اللہ کی تحقیقات کو نشانہ تنقید بنانے کی سعی لاحاصل کی ہے ۔

ستم کا عالم یہ ہے کہ موصوف نے اپنی اس کتاب میں تقریبا 112مرتبہ علامہ البانی رحمہ اللہ کا نام لیا ہے لیکن کہیں بھی نہ اچھے الفاظ میں ان کا ذکر کیا ہے اور نا ہی ’’رحمہ اللہ ‘‘ لکھا ہے جو جماعت التکفیر کی قيادت کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔۔!!

موصوف کی اس کتاب کا مطالعہ کرنے والا یہ بات بخوبی سمجھ سکتا ہے کہ موصوف نےخلط مبحث سے کام لیکر علمی خیانتوں،تناقضات اور جہالتوں کا ارتکاب کیاہے ضعیف روایات کو صحیح اور ثقہ راویوں کو ضعیف ثابت کرنے کی ناکام کوشش کی ہے ۔

جس کےمدلل ومبرہن رد کیلئے دیکھئے راقم  السطور کی کتاب أَلْمَعُوْنَةُ الصَّمَدِيَّةُ فِيْ إِبْطَالِ أُصُوْلِ الْفِرْقَةِ الْمَسْعُوْدِيَّةِ المعروف’’ مسعودی اصول ِحدیث محدثین کی عدالت میں ‘‘ يَسَّرَ اللهُ لَنَا طَبْعَهُ.

یہاں پر ہم صرف ایک ثقہ راوی ابوالسمح دراج بن سمعان کی آئمہ ومحدثین سے توثیق نقل کرتے ہیں جن کے بارے میں موصوف لکھتے ہیں کہ:

’’ جب دراج ابوالسمح ابوالہیثم سے روایت کرے گا تو وہ ضعیف ہوگی ‘‘دیکھئے ۔ (محمد ناصرالدین البانی فن حدیث کے آئینے میں ص :۱۵)

موصوف کی یہ بات درست نہیں ہے کیونکہ دراج ابوالسمح مختلف فیہ ضرور ہیں جیساکہ امام ابوالحسن علی بن محمد بن عبدالملک  ابن القطان الفاسی المتوفی ( ۶۲۸ھ) فرماتے ہیں :

وَدَرَّاجٌ يُوَثِّقُهُ قَوْمٌ وَيُضَعِّفَهُ آخَرُوْنَ.

 یعنی انکو ایک قوم نے ثقہ اور (بعض) دوسروں نے ضعیف قرار دیا ہے‘‘(بیان الوھم والایھام ۴/۳۷۲ طبع: دار طیبہ الریاض)

لیکن جمہور محدثین کے نزدیک ثقہ وصدوق ہیں ان کی ابوالہیثم سے روایات بھی صحیح ہیں ۔

ذیل میں انکا مختصر تعارف مع توثیق پیش خدمت ہے ۔

نام ونسب : دراج بن سمعان ابوالسمح القرشی المصری۔

اساتذہ : عبداللہ بن حارث بن جزءالزبیدی ، ابوالہیثم سلیمان بن عمرو العتواری ،عبدالرحمن بن جبیر المصری، عیسی بن ہلال الصدفی،عبدالرحمن بن حجیرۃ ۔وَخَلْقٌ كَثِيْرٌ.

تلامذہ: حیوۃ بن شریح،خلاد بن سلیمان الحضرمی،عبداللہ بن لہیعہ،لیث بن سعد،عمرو بن الحارث وَآخَرُوْنَ.

وفات:  آپ رحمہ اللہ نے ۱۲۶ ھ میں وفات پائی ۔إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ.

دیکھئے۔ (تھذیب الکمال ۸/۴۷۷برقم: ۱۷۹۷ طبع الرسالة بیروت،تاریخ الاسلام للذہبی ۳/۵۱۴برقم ۱۹۶۲طبع: دارالکتب العلمیہ بیروت،تقریب التھذیب ۱۸۲۴ دارالرشید حلب)

جارحین اور انکی جروحات: ابوالسمح دراج بن سمعان پر درج ذیل محدثین نے جرح کی ہے۔

 (1) ٭ امام ابوعبداللہ احمد بن محمد بن حنبل الشیبانی المتوفی (۲۴۱ھ) فرماتے ہیں:

وَهَذَا رَوَىٰ مَنَاكِيْرَ كَثِيْرَةً .

’’ یعنی انہوں نے بہت ساری منکر روایات بیان کی ہیں ‘‘

(سؤالات ابی داود للامام احمد برقم: ۲۵۹ طبع: مکتبہ العلوم والحکم مدینہ منورہ)

 مزید فرماتے ہیں  :

هَؤُلَاءِ الثَّلَاثَةُ دَرَّاجٌ وَحُيَيٌّ وَزَبَّانُ هَؤُلَاءِ الثَّلَاثَةُ أَحَادِيْثُهُمْ مَنَاكِيْرُ

’’ دراج ،حیی اور زبان ان تینوں کی حدیثیں منکر ہیں ‘‘

(العلل ومعرفة الرجال ۳/۱۱۶ برقم:۴۴۸۲ طبع:المکتب الاسلامی بیروت)

نیز دیکھئے (الجرح والتعدیل ۳/۴۱۱ وسندہ صحیح طبع: دارالکتب العلمیہ بیروت)

امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کی یہ جرح ضعف خفیف پر دلالت کرتی ہے امام صاحب نے دراج ،حیی اور زبان ان تینوں پر ایک ہی جرح کی ہے جبکہ حیی بن عبداللہ بن شریح المعافری علی الراجح صدوق ہیں اور زبان بن فائد بھی صرف حافظے کی خرابی کی وجہ سے ضعیف ہے۔

 دیکھئے (تقریب التھذیب ۱۶۰۵ ،۱۹۸۵ طبع: دارالرشید حلب)

لھذا یہ جرح امام یحیی بن معین ،عثمان بن سعید الدارمی ،ابن عدی اور جمہور آئمہ ومحدثین کی توثیق کی وجہ سے لائق التفات نہیں ۔

(2)٭ امام ابو حاتم محمد بن ادریس بن منذر الرازی المتوفی (۲۷۷ھ) فرماتے ہیں:فِيْ حَدِيْثِهِ صُنْعَةٌ

’’یعنی انکی احادیث میں کچھ ضعف ہے‘‘

(المصدرالسابق ۳/۴۱۱)

(3)٭امام ابوعبدالرحمن احمد بن شعیب النسائی المتوفی (۳۰۳ھ) فرماتے ہیں :’’لَيْسَ بِالْقَوِيِّ‘‘

(کتاب الضعفاء والمتروکین رقم الترجمة۱۹۶ طبع:مؤسسة الکتب الثقافية بیروت)

(4)٭ امام ابوبکر فضل بن عباس المعروف فضلک الرازی المتوفی (۲۷۰ھ) فرماتے ہیں:مَا هُوَ بِثِقَةٍ وَلَا كَرَامَةٍ لَهُ

’’ یعنی نہ وہ ثقہ ہے اور ناہی قابل تکریم ہے‘‘

(الکامل لابن عدی ۴/۱۱ وسندہ حسن طبع: دارالکتب العلمیہ بیروت)

تنبیہ:  لَيْسَ بِالْقَوِيِّ اَوْ مَا هُوَ بِثِقَةٍ

یہ مطلقا کوئی جرح نہیں ہے ۔

(5) ٭ امام ابوالحسن علی بن عمر الدارقطنی المتوفی(۳۸۵ھ) فرماتے ہیں:مِصْرِيٌّ مَتْرُوْكٌ  ۔

(سؤالات البرقانی للدارقطنی برقم ۱۴۲ طبع: القاہرہ)

نوٹ : امام دارقطنی کی اس جرح کا مفصل جواب آگےآرہا ہے ۔

(6)٭ امام محمدبن طاہر المقدسی (م۵۰۷ھ) فرماتے ہیں:

وَدَرَّاجٌ ضَعِيْفٌ

(ذخیرة الحفاظ ۲/۹۰۱ برقم ۱۸۳۳ طبع:دارالسلف الریاض)

اسی طرح امام ابو جعفر العقیلی المتوفی(۳۲۲ھ)اورا مام ابن الجوزی المتوفی(۵۹۷ھ)نےان جروح کی بنیاد پر ضعفاء میں ذکرکیا

ہے اپنی طرف سے کوئی جرح نہیں کی دیکھئے  ۔

(الضعفاءالکبیر ۲/۴۳ طبع:دارالباز مکہ مکرمہ، الضعفاء والمتروکین لابن الجوزی ۱/۲۶۹برقم ۱۱۷۵ طبع: دارالکتب العلمیہ  بیروت)

 (7)٭ امام ابوعبداللہ محمد بن احمد بن عثمان الذہبی المتوفی(۷۴۸ھ) فرماتے ہیں : وَدَرَّاجٌ كَثِيْرُ الْمَنَاكِيْرِ

اسی طرح ایک روایت کے بارے میں فرماتے ہیں :

فِيْهِ دَرَّاجٌ وَهُوَ وَاهٍ

مزید فرماتے ہیں : فِيْهِ دَرَّاجٌ وَهُوَ صَاحِبُ عَجَائِبَ

 دیکھئے ۔ (مختصرتلخیص الذھبی ۱/۱۹۷ ،۲/۵۹۷،۹۴۰)

امام یحیی بن معین ،عثمان بن سعید الدارمی ،ابن عدی اور جمہور آئمہ ومحدثین کی زبردست توثیق کے بعد حافظ ذہبی کی یہ جرح لائق التفات نہیں ہے ۔

غیرثابت جروحات :دراج ابوالسمح پر بعض جروحات سرے سے ثابت ہی نہیں ہیں مثلا :

٭ امام ابوعبداللہ محمد بن اسمعیل البخاری المتوفی (۲۵۶ھ) سے منسوب جرح :

وَدَرَّاجٌ فِيْ حَدِيْثِهِ نَظَرٌ

(تعجیل المنفعة ۱/۵۶۶ طبع: دارالبشائر الاسلامیہ بیروت)

٭ امام ابوعبدالرحمن احمد بن شعیب النسائی المتوفی(۳۰۳ھ) کی جرح :مُنْكِرُ الْحَدِيْثِ

(میزان الاعتدال ۳/۴۰ برقم ۲۶۷۰ طبع:دارالکتب العلمیہ بیروت)

یہ دونوں جروح غیر ثابت ہونے کی وجہ سے مردود ہیں امام بخاری اور امام نسائی رحمہمااللہ سے باسند صحیح ثابت نہیں ہیں بے سند اور ضعیف اقوال کی علمی دنیا میں کوئی وقعت نہیں ہے۔

فائدہ :کسی بھی راوی کی توثیق یا تضعیف کے بارے میں کبار آئمہ نقاد کی طرف منسوب بے اصل یا ضعیف اقوال سے استدلال درست نہیں ہے جیساکہ حافظ ابن حجر العسقلانی (م۸۵۲ھ) ایک ضعیف سند کیساتھ مروی جرح پر تبصرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

وَنَقَلَ ابْنُ الْجَوْزِيِّ مِنْ طَرِيْقِ الْكُدَيْمِيْ عَنِ ابْنِ الْمَدِينِيْ عَنِ الْقطَّانِ أَنَّهُ قَالَ أَنَا لَا أَرْوِيْ عَنْهُ وَهَذَا مَرْدُوْدٌ لِأَنَّ الْكُدَيْمِيْ ضَعِيْفٌ

یعنی امام یحیی بن سعید القطان سے ابن الجوزی کی نقل کردہ جرح مردود ہے کیونکہ اسکو بیان کرنے والا کدیمی بذات خود ضعیف ہے۔

دیکھئے ۔(ھدی الساری ۱/۳۸۷ طبع: بیروت )

امام ابوداود سلیمان بن اشعث السجستانی (م۲۷۵ھ) کی اپنے بیٹے عبداللہ پر جرح ثابت نہیں ہے اس غیر ثابت جرح پر تبصرہ کرتے ہوئے امام ابوعبداللہ محمد بن احمد بن عثمان الذہبی المتوفی(۷۴۸ھ) فرماتے ہیں :

وَلَعَلَّ قَوْلَ أَبِي دَاوُدَ لَا يَصِحُّ سَنَدُه

یعنی امام ابوداود کے قول کی سند صحیح نہیں ۔

(تاریخ الاسلام للذہبی۷/۳۰۵طبع: بیروت)

ابوالسمح دراج بن سمعان کی  جمہور آئمہ نے انکی زبردست توثیق کر رکھی ہےغیرواضح جرح اورتعدیل میں تعارض کی صورت میں  جمہور کو تقدیم وترجیح حاصل ہے جیساکہ:

امام ابوعبداللہ محمدبن احمدبن عثمان الذہبی المتوفی (۷۴۸ھ) امام شافعی رحمہ اللہ کے متعلق ابن معین کے کلام پر تبصرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں :

فَإنَّا نَقْبَلُ قَوْلَهُ دَائِمًا فِي الْجَرْحِ وَالتَّعْدِيْلِ وَنُقَدِّمُهُ عَلَى كَثِيْرٍ مِنَ الْحُفَّاظِ مَا لَمْ يُخَالِفِ الْجُمْهُوْرَ فِيْ إِجْتِهَادِهِ فَإِذَا انْفَرَدَ بِتَوْثِيْقِ مَنْ لَيَّنَهُ الْجُمْهُورُ أَوْ بِتَضْعِيْفِ مَنْ وَثَّقَهُ الْجُمْهُوْرُ وَقَبِلُوْهُ فَالْحُكْمُ لِعُمُوْمِ أَقْوَالِ الْأَئِمَّةِ لَا لِمَنْ شَذَّ

’’ پس بلاشبہ ہم ان کی جرح وتعدیل میں ان کے قول کو ہمیشہ قبول کرتے ہیں اور بہت سے حفاظ پر مقدم کرتے ہیں الا یہ کہ ان کا اجتہاد جمہور کے خلاف نہ ہو اگر کسی ایسے راوی کی توثیق کرنے میں منفرد ہیں جس کو جمہور نے ضعیف قرار دیا ہو یا ایسے راوی کو ضعیف قرار دینے میں منفرد ہوں جس کو جمہور نے ثقہ قرار دیا ہو اور اس(کی روایت) کو قبول کیا ہو تو جمہور کے عمومی اقول پر فیصلہ ہوگاناکہ کسی کے شاذ قول پر‘‘  ۔

(الرواة الثقات المتكلم فيهم ص 30،29 دارالبشائر بيروت)

معدلین اور انکی تعدیلات: جمہور آئمہ ومحدثین نے دراج ابوالسمح کی زبردست توثیق کر رکھی ہے جیساکہ:

(1)٭ امام الجرح والتعدیل ابوزکریا یحیی بن معین البغدادی المتوفی (۲۳۳ھ) فرماتے ہیں :

هُمَا ثِقَتَانِ دَرَّاجٌ وَأَبُوالْهَيْثَمِ ’’یعنی دراج اور ابوالہیثم دونوں ثقہ ہیں‘‘

(تاریخ ابن معین روایة الدوری ۲/۳۱۸برقم ۵۰۳۹طبع: دارالقلم بیروت)

(2)٭ امام عثمان بن سعید الدارمی المتوفی (۲۸۰ھ) دراج اور مشرح بن عاہان کے بارے میں فرماتے ہیں:

هُمَا صَدُوْقَانِ ’’یعنی دونوں سچے ہیں ‘‘

(الجرح والتعدیل ۳/۱۱ ۴طبع: دارالکتب العلمیہ بیروت)

(3)٭امام ابوحاتم محمد بن حبان البستی المتوفی(۳۵۴ھ) نے’’ ثقات‘‘  میں شمار ہے ۔

دیکھئے ۔ (کتاب الثقات لابن حبان ۵/۱۱۴طبع: دارالفکر بیروت)

(4)٭امام ابوحفص عمر بن احمد بن عثمان المعروف بابن شاہین المتوفی (۳۸۵ھ) دراج عن أبی الہيثم عن أبی سعيد والی سند کے بارے میں فرماتے ہیں :مَا كَانَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ فَلَيْسَ بِهِ بَأْسٌ .

دیکھئے ۔(تاریخ اسماءالثقات لابن شاہین برقم: ۳۳۶طبع: دارالکتب العلمیة بیروت)

(5)٭امام ابوداود سلیمان بن اشعث السجستانی المتوفی (۲۷۵ھ) فرماتے ہیں:

أَحَادِيْثُهُ مُسْتَقِيْمَةٌ إِلَّا مَا كَانَ عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ عَنْ أَبِيْ سَعِيْدٍ

’’ یعنی دراج عن ابی الہیثم عن ابی سعید کے (طریق کے) علاوہ طرق سے ان کی روایتیں صحیح ہیں‘‘

(سؤالات ابی عبید الآجری ۲/۱۶۶برقم: ۱۴۹۲ طبع:مؤسسة الریان بیروت)

تنبیہ: سؤالات کے راوی ابوعبیدالآجری بذات خود مجہول ہیں اور یہ حوالہ متابعت میں پیش کیا گیا ہے ۔

باقي دراج عن ابی الہیثم عن ابی سعید والی اسانید بھی صحیح ہیں ۔

كَمَا سَيَأْتِي التَّفْصِيْلُ.

(6)٭ امام ابوحاتم محمد بن حبان البستی المتوفی(۳۵۴ھ)نے بھی اسی سلسلہ سند کو صحیح قرار دیا ہے ۔

دیکھئے (صحیح ابن حبان برقم ۵۸۵،۴۲۲،۳۹۸،۳۰۹،۱۹۳ طبع: مؤسسة الرسالة)

(7)٭ امام الائمہ محمد بن اسحق بن خزیمہ النیسابوری المتوفی (۳۱۱ھ) نے انکی احادیث کو ’’صحیح‘‘ قرار دیا ہے دیکھئے۔

(صحیح ابن خزیمہ برقم  ۶۵۳،۱۵۰۲،۱۶۸۳،۲۴۷۱ طبع: المکتب الاسلامی بیروت)

(8)٭ امام ابواحمد عبداللہ بن عدی الجرجانی المتوفی(۳۵۶ھ) فرماتے ہیں :

وَتَقْرُبُ صُوْرَتُهُ مِمَّا قَالَ فِيْهِ يَحْيَى بْنُ مَعِيْنٍ

’’یعنی انکا حال یحیی بن معین کے (توثیق والے) والے قول کے قریب تر ہے‘‘

(الکامل لابن عدی ۴/۱۶ طبع دارالکتب العلمیہ بیروت)

 (9)٭امام ابومحمد عبداللہ بن علی بن الجارود (م۳۰۷ھ) دیکھئے (المنتقی لابن الجارود برقم: ۱۰۳۵،۳۳۶ طبع: بیروت)

 (10)٭ حافظ ضیاء المقدسی المتوفی (۶۴۳ھ) نے بھی ان کی  حدیث کو ’’صحیح‘‘ قرار دیا ہے دیکھئے ۔

(الاحادیث المختارة برقم: ۲۰۰ طبع: مکہ مکرمہ)

(11)٭ امام ابوعیسی محمد بن عیسی الترمذی المتوفی (۲۷۹ھ) نے انکی حدیث کو ’’حسن‘‘ قرار دیا ہے دیکھئے ۔

(جامع الترمذی رقم الحدیث ۲۶۱۷،۲۰۳۳ طبع:دارالسلام الریاض)

(12)٭امام ابوعبداللہ الحاکم النیسابوری المتوفی (۴۰۵ھ) ’’دراج عن ابی الہیثم‘‘ والی سند کے بارے میں فرماتے ہیں:

هَذِهِ صَحِيْفَةٌ لِلْمِصْرِيِّيْنَ صَحِيْحَةُ الْإِسْنَادِ وَأَبُوالْهَيْثَمِ مِنْ ثِقَاتِ أَهْلِ مِصْرَ

’’ یہ مصریوں کا سلسلہ سند ہے جو کہ صحیح ہے اور ابوالہیثم مصر کے ثقہ راریوں میں سے ہیں ‘‘

(المستدرک للحاکم ۱۸۳۹ طبع: دارالکتب العلمیہ بیروت)

یہ ایک مسلم اصول ہے کہ احادیث کی تصحیح وتحسین ان کے راویوں کی ’’ ضمنی توثیق ‘‘ ہوتی ہے جیساکہ  :

٭ حافظ ابو الفضل احمد بن علی بن حجر العسقلانی المتوفی (۸۵۲ھ) ’’ عبداللہ بن عبید الدیلی ‘‘  کے ترجمہ میں فرماتے ہیں:

وَأَمَّا الرَّاوِيْ عَنْ عُدَيْسَةَ فَقَدْ أَخْرَجَ حَدِيْثَهُ أَيْضًا التِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ حَسَنٌ غَرِيْبٌ وَهٰذَا يَقْتَضِيْ أَنَّهُ عِنْدَهُ صَدُوْقٌ مَعْرُوْفٌ

’’ عدیسہ سے بیان کرنے والے راوی کی حدیث کو ترمذی اور نسائی نے روایت کیا ہے اور امام ترمذی نے کہا:کہ

(اس کی حدیث) ’’حسن غریب‘‘ ہے یہ (تحسین حدیث)اس بات کا تقاضہ کرتی ہے کہ وہ راوی ان کے نزدیک سچے اور معروف ہیں‘‘۔

مزید فرماتے ہیں : وَيَحْسُنُ لَهُ التِّرْمِذِيُّ فَلَيْسَ بِمَجْهُوْلٍ ’’امام ترمذی نے انکی حدیث کو ’’حسن‘‘  قرار دیا ہے لہذا وہ مجہول نہیں ہیں ‘‘

 (تعجیل المنفعة ۱/۷۵۱ برقم :۵۶۴ طبع: دارالبشائر بیروت)

اسی طرح ’’ عبدالرحمن بن خالد بن جبل العدوانی ‘‘ کے بارے میں فرماتے ہیں:

صَحَّحَ ابْنُ خُزَيْمَةَ حَدِيْثَهُ وَمُقْتَضَاهُ أَنْ يَّكُوْنَ عِنْدَهُ مِنَ الثِّقَاتِ

’’ ابن خزیمہ نے انکی حدیث کو صحیح قرار دیا ہے جو اس بات کا تقاضہ ہے کہ وہ انکے نزدیک ثقہ ہیں ‘‘

دیکھئے ۔ (المصدرالسابق ۱/۷۹۳ برقم: ۶۱۹)

’’عبداللہ بن عتبہ بن ابی سفیان‘‘ کے بارے میں فرماتے ہیں:

أَخْرَجَ ابْنُ خُزَيْمَةَ حَدِيْثَهُ فِيْ صَحِيْحِهِ فَهُوَ ثِقَةٌ عِنْدَهُ

’’ ابن خزیمہ نے انکی حدیث کو اپنی صحیح میں ذکر کیا ہے لہذا وہ انکے نزدیک ثقہ ہیں ‘‘

دیکھئے ۔ (تھذیب التھذیب ۵/۲۷۵ برقم: ۳۵۷۳ طبع: دار الکتب العلمیة بیروت)

٭ علامہ عبد الله بن يوسف  الزيلعي الحنفی المتوفی (۷۶۲ھ) ’’ زینب بنت کعب ‘‘ کے بارے میں  فرماتے ہیں:

وَفِيْ تَصْحِيْحِ التِّرْمِذِيِّ إِيَّاهُ تَوْثِيْقَهَا

یعنی امام ترمذی کی تصحیح میں ہی انکی توثیق ہے ‘‘

 (نصب الرأیہ ۳/۲۶۴  طبع: مؤسسة الریان بیروت)

ایک اور مقام پر فرماتے ہیں:

وَمِنَ الْعَجَبِ كَوْنُ ابْنِ الْقَطَّانِ لَمْ يَكْتَفِ بِتَصْحِيْحِ التِّرْمِذِيِّ فِيْ مَعْرِفَةِ حَالِ عَمْرِو بْنِ بُجْدَانَ مَعَ تَفَرُّدِهِ بِالْحَدِيثِ وَهُوَ قَدْ نَقَلَ كَلَامَهُ: هٰذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ صَحِيْحٌ وَأَيُّ فَرْقٍ بَيْنَ أَنْ يَقُولَ: هُوَ ثِقَةٌ أَوْ يُصَحِّحَ لَهُ حَدِيْثًا اِنْفَرَدَ بِهِ؟

’’ تعجب ہے کہ ابن القطان نے عمرو بن بجدان کے بارے میں امام ترمذی کی تصحیح پر اکتفا نہیں کیا جبکہ وہ حدیث بیان کرنے میں منفرد ہیں حالانکہ انہوں نے ترمذی کا کلام بھی نقل کیا ہے کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے کسی راوی کو ثقہ کہنے یا اسکی منفرد حدیث کو صحیح قرار دینے میں کیا فرق ہے ؟(نصب الرأیہ ۱/۱۴۹ طبع: مؤسسة الریان)

حافظ ابن حجر اور علامہ زیلعی کے کلام سے معلوم ہوا کہ روایت کی تصحیح صاحب تصحیح کے نزدیک اس حدیث کے راویوں کی ضمنی توثیق ہوتی ہے ۔

 (13)٭ امام ابونصر علی بن ھبۃ اللہ بن جعفر بن ماکولا (م۴۷۵ھ) فرماتے ہیں:

أَحَادِيْثُهُ مُسْتَقِيْمَةٌ.’’یعنی انکی احادیث صحیح ہیں‘‘

(الاکمال ۳/۳۱۸ طبع :بیروت)

٭امام ابوعبداللہ شمس الدین محمد بن احمد بن عثمان الذہبی المتوفی(۷۴۸ھ)نے بھی انکی حدیث کو ’’صحیح‘‘  قرار دیا ہے

دیکھئے۔ (تلخیص المستدرک برقم :۳۲۸۰ )

(14)٭ امام ابوالفضل احمد بن علی بن حجر العسقلانی المتوفی (۸۵۲ھ) فرماتے ہیں:

صَدُوْقٌ فِيْ حَدِيْثِهِ عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ ضُعْفٌ

’’صدوق ہیں البتہ انکی ابوالہیثم سے مروی احادیث میں ضعف ہے‘‘(تقریب التھذیب برقم: ۱۸۲۴ طبع: دارالرشید حلب)

(15)٭ حافظ نورالدین علی بن ابی بکر الہیثمی المتوفی (۸۰۷ھ) فرماتے ہیں:

دَرَّاجٌ أَبُوالسَّمْحِ وَهُوَ ثِقَةٌ ’’یعنی دراج ابوالسمح ثقہ ہیں‘‘

(مجمع الزوائد ومنبع الفوائد ۱/۲۲۹ طبع: بیروت)

(16)٭ ذہبی دوراں محسن اہلحدیث حافظ زبیر بن مجدد علی زئی رحمہ اللہ نے بھی ان کو ثقہ قرار دیا ہے دیکھئے۔

(اضواءالمصابیح ۱/۲۸۸ طبع: مکتبہ اسلامیہ لاہور)

ان جمہور آئمہ ومحدثین کی توثیق کے مقابلے میں بعض معاصرین مثلا علامہ البانی (سلسلہ ضعیفہ برقم ۱۷۷۹ طبع مکتبہ المعارف الریاض)شیخ شعیب الارنؤوط ،دکتوربشار عواد معروف (تحریر تقریب التھذیب ۱۸۲۴ طبع:الرسالۃ بیروت)وغیرہم کی تضعیف مرجوح ہے۔

یہاں یہ وضاحت بھی ضروری ہے ان آئمہ ومحدثین مثلا ابن خزیمہ،ابن حبان،حاکم،ابن الجارود وغیرہم نے دراج ابوالسمح کی ابوالہیثم سے مروی روایات کو بھی ’’صحیح‘‘ قرار دیا ہے۔كَمَا تَقَدَّمَ التَّفْصِيْلُ.

متقدمین میں سے کسی نے بھی دراج کی ابوالہیثم سے روایات کو ضعیف قرار نہیں دیا۔

شبہ (1):امام دارقطنی نے دراج بن سمعان کو ’’متروک‘‘ قرار دیا ہے اس واضح جرح کے مقابلے میں ’’مبہم تعدیل‘‘ لائق التفات نہیں ہے۔

ازالہ:جمہور آئمہ نقاد کی زبردست توثیق کے بعد امام دارقطنی کی یہ جرح کئی وجوہات کی بنا پر مرجوح ہے :

اولا: ہر جگہ متروک سے متھم بالکذب اور ساقط العدالۃ مراد لینا غلط ہے کیونکہ محدثین عظام نے سیء الحفظ ، مختلط، کثیر الغفلۃ کو متروک قرار دیا ہے۔دیکھئے (لسان المیزان۱/۱۲ طبع: بیروت)

اسی طرح حافظ ذہبی رحمہ اللہ مشہور ثقہ تابعی عطاء بن ابی رباح پر امام علی بن المدینی کی جرح کا جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں:

لَمْ يَعْنِ التَّركَ الْاِصْطِلَاحِي بَلْ عَنَى أَنَّهُمَا بَطَّلَا الْكِتَابَةَ عَنْهُ، وَإِلَّا فَعَطَاءٌ ثَبْتٌ رَضِيٌّ

یعنی انہوں نے ترک اصطلاحی مراد نہیں لیا بلکہ انکی مراد تھی کہ ان دونوں (ابن جریج اور قیس بن سعد) نے ان سے (احادیث) لکھنا چھوڑ دیا تھا وگرنہ عطاء ثقہ ہیں۔

(میزان الاعتدال۳/۷۰ طبع: دارالمعرفة بیروت)

آئمہ ومحدثین کے کلام کا تتبع کرنے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ محدثین عظام تقریبا دس وجوہات کی بنا پر متروک کا لفظ استعمال کرتے تھے اور صحیحین کے رواۃ سمیت سمیت کئی ثقہ وصدوق راویوں پر بھی متروک کی جرح موجود ہے مثلا  امام ابوعبداللہ الجورقانی (م۵۴۳ھ) فرماتے ہیں :

وَإِسْمَاعِيلُ وَلَيْثٌ وَشَهْرٌ ثَلَاثَتُهُمْ مَتْرُوكُونَ لِضَعْفِهِمْ وَلِينِهِم

یعنی اسماعیل (بن عیاش) لیث (بن ابی سلیم) اور شھر (بن حوشب) یہ تینوں (حافظے کی) کمزوری اور (حدیث میں) ضعف کیوجہ سے متروک ہیں۔

(کتاب الاباطیل۲/۱۹۰ طبع: دارالصمیعی الریاض)

جبکہ اسماعیل بن عیاش اور شھربن حوشب علی الراجح ثقہ ،صدوق اور حسن الحدیث ہیں۔

ثانیا : یہ امام دارقطنی رحمہ اللہ کا تفرد ہے اور توثیق وتضعیف میں عامۃ المحدثین کی آراء سے فیصلہ ہوگا جیساکہ جماعت المسلمین رجسٹرڈ کے بانی سید مسعود احمد بی ایس سی صاحب لکھتے ہیں :

’’جرح وتعدیل کا فیصلہ تحقیق اور عامۃ المحدثین کی رائے سے ہوگا نہ کہ انفرادی رائے سے لہذا انفرادی رائے اگر اسماء الرجال کی کتابوں میں مل جائے تو اس کو بنیاد بناکر کسی ثقہ راوی کو غیر ثقہ بنانا صرف اپنی رائے کو نباہنے کا بہانہ ہوگا‘‘

 دیکھئے ۔ (ذہن پرستی از مسعود صاحب  ص 43)

مسعود صاحب کی اس تحریر سے معلوم ہوا کہ اصول حدیث اور جرح وتعدیل میں کسی محدث کی انفرادی رائےیا تفرد کی کوئی حیثیت نہیں ہےبلکہ دیگر آئمہ ومحدثین کے اقوال سے فیصلہ ہوگا۔

ثالثا : عین ممکن ہے کہ امام صاحب نے ایسے شبہ اور احتمال کی بنیاد پر متروک کہا ہو جو سرے سے باعث ترک ہی نہ ہو جیساکہ خود امام دارقطنی رحمہ اللہ نے صحیح بخاری کے راوی عمران بن حطان الخارجی کو بدعقیدہ ہونے کیوجہ سے متروک کہا ۔

جبکہ یہ باعث ترک ہی نہیں اور بدعقیدہ ہونا ترک اصطلاحی کو مستلزم نہیں ہے ۔فَلْيُتَأَمَّلْ عَلَى هَذَا حَقَّ تَأَمُّلٍ.

رابعا : امام احمد بن صالح المصری (م۲۴۸ھ) کے بقول محدثین متروک (اصطلاحی) اس کو کہتے تھے جس کی احادیث کے ترک پر اجماع ہو (الکفایة فی علم الروایة ۱/۱۱۰ مقدمة ابن الصلاح ۱/۲۴۶ طبعُ: بیروت وسندہ حسن)

جبکہ دراج ابوالسمح کو متروک قرار دینا یہ امام دارقطنی کا تفرد ہےاسکے برعکس کبار آئمہ نقاد نے توثیق کی ہے۔

شبہ(2):فرقہ مسعودیہ نام نہاد جماعت المسلمین رجسٹرڈ کے امیر دوم محمد اشتیاق صاحب لکھتے ہیں کہ:

’’ امام احمد بن حنبل کہتے ہیں کہ دراج کی وہ احادیث جو ابوالہیثم سے پھر ابوسعید سے مروی ہیں ان میں ضعف ہے‘‘

(محمد ناصرالدین البانی فن حدیث کے آئینے میں ص ۱۵،۱۴)

ازالہ: اس قول کی سند میں ’’عبدالوہاب بن ابی عصمہ‘‘ ہے جس کی توثیق معلوم نہیں ہے دیکھئے ۔

(الکامل فی الضعفاءلابن عدی ۴/۱۰ طبع:دارالکتب العلمیہ بیروت)

بے سند اور ضعیف اقوال کی علمی دنیا میں کوئی حیثیت نہیں ہے ۔

اس کے مقابلے میں امام الجرح والتعدیل ابوزکریا یحیی بن معین البغدادی المتوفی (۲۳۳ھ) نے بالصراحت دراج کی ابوالہیثم سے مروی روایات کو صحیح قرار دیا ہے جیساکہ ان کے شاگرد امام ابوالفضل عباس بن محمد الدوری المتوفی(۲۷۱ھ ) فرماتے ہیں:

سَأَلْتُ يَحْيَى بْنَ مَعِيْنٍ عَنْ أَحَادِيْثِ دَرَّاجٍ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ عَنْ أَبِيْ سَعِيدٍ فَقَالَ هَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ

’’ میں نے یحیی بن معین سے دراج عن ابی الہیثم عن ابی سعید کی سند کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا یہ سند صحیح ہے‘‘

(المستدرک للحاکم تحت حدیث ۲۹۷۱ وسندہ صحیح طبع: بیروت)۔

اسی طرح امام ابوحفص عمر بن احمد بن عثمان المعروف بابن شاہین المتوفی (۳۸۵ھ) دراج عن أبی الہيثم عن أبی سعيد والی سند کو فَلَيْسَ بِهِ بَأْسٌ قرار دے کر صحیح کہا ہے .دیکھئے ۔(تاریخ اسماءالثقات لابن شاہین برقم ۳۳۶طبع: دارالکتب العلمیة بیروت)۔

خلاصۃ البحث : دراج بن سمعان جمہور محدثین کے نزدیک ثقہ اور صدوق ہیں انکی ابوالہیثم سے مروی روایات بھی صحیح ہیں لہذا بعض جروحات کی بنیاد پر انکو ضعیف قرار دینا درست نہیں ہے۔

هَذَا مَا عِنْدِيْ وَاللهُ أَعْلَمُ بِالصَّوَابِ.

About ابوانیس عبدالجباراظہر

Check Also

بکھرے موتی

سلف صالحین اور اصلاحِ نفس : * امام ابومحمدعبداللہ بن وہب بن مسلم الفہری المتوفی …

جواب دیجئے