Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2018 » شمارہ نومبر » عدل وانصاف کے تقاضے اور ہماری عدالتیں!

عدل وانصاف کے تقاضے اور ہماری عدالتیں!

آٹھویں صدی ہجری کے مجدد شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کاایک قول آب ز رسے لکھنے کے قابل ہے کہ: "اللہ تعالٰی ظالم کی سلطنت کو صفحۂ ہستی سے مٹا دے گا، چاہے وہ مسلمان ہی کیوں نہ ہو اور عادل کی مملکت کو عروج اور بقا دے گا چاہے وہ کافر ہی کیوں نہ ہو۔”

اقوام عالم کی تاریخ گواہ ہے کہ وہی قومیں آگے بڑھیں، رفعت اور ترقی سے ہم کنار ہوئیں، جنہوں نے اپنے معاشرے کو عدل و انصاف کی بنیادوں پر قائم کیا اور ہر عام و خاص کو ایک ہی ترازو میں تولا اور ان کے مد مقابل وہ اقوام اور ممالک تاریخ کے صفحات سے حرف غلط کی طرح مٹ گئے، جن کے ہاں عدل و انصاف کی جگہ ظلم و بربریت نے لے لی تھی، یا جن کا نظام عدل کمزور کو پیس کر رکھ دیتا تھا لیکن طاقتور کا بال بھی بیکا نہیں کرسکتا تھا۔

اسی لیے اسلام نے اپنے سنہری دور، (عہد رسالت اورعہد خلفائے راشدین) میں جس معاشرے کی داغ بیل ڈالی تھی، توحید اور رسالت کی ٹھوس بنیادوں کے بعد عدل اور انصاف اس کا مضبوط ستون تھا، جس کے سائے میں ہر عام و خاص بیٹھ سکتا تھا۔ معاشرے کاایک آدمی سب سے قوی شخصیت (خلیفہ مسلمین) تک کو عدالتی کٹہرے میں کھڑا کر سکتا تھا۔ عہد رسالت مآب میں بنو مخزوم قبیلے سے تعلق رکھنے والی فاطمہ نامی ایک عورت نے چوری کی، حد سے بچنے کے لیے سفارش کو اختیار کیا گیا۔ رحمت عالم صلی الله علیہ وسلم کا چہرہ مبارک غصے سے سرخ ہوگیا، فرمایا “تم سے پہلے لوگ اسی لیے تباہ و برباد ہوئے جب کمزور جرم کرتا تو اس کو سزا دیتے، اور طاقتور کو چھوڑ دیتے تھے۔ اللہ کی قسم! اگر میری لخت جگر فاطمہ بھی چوری کرتی تو میں اس کا بھی ہاتھ کاٹ دیتا۔ ”

ان سطور کو لکھنے کا سبب چند وہ  واقعات ہیں، جنہوں نے وطن عزیز میں ہونے والے انصاف کا پردہ چاک کر دیا ہے اور عدالتی نظام پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ کس طرح ایک شخص کے قتل کے الزام میں اس کی بیوی، ساس، سسر اور برادر نسبتی کو ایک ناکردہ گناہ کی پاداش میں 19 سالوں تک جیل کی سلاخوں کے پیچھے کردیا گیا۔ ان میں ایک کا جنازہ بھی وہیں سے اٹھا۔ باقی ماندہ لوگوں کو اب جاکر عدم ثبوت کی بنا پر "باعزت” بری کیاگیا ہے۔ انصاف نہ ملنے کا دوش ان کی غربت کو دیا جائے کہ اپیل کے لیے ان سے اس وقت 400 روپے مانگے گئے تھے، جو وہ نہیں دے پائے تھے یا ہمارے نظام عدل کو جو ان جیسے ناخواندہ اور غربت کی چکی میں پستے لوگوں کے لیے کچھ نہیں کرسکتا۔

وہ کل کا جوان اور آج کا بزرگ جو 33 سال اپنے پلاٹ کا مقدمہ لڑتا رہا جن کے حق میں ابھی عدالت عالیہ کا فیصلہ آیا ہے۔

اسی پر بس نہیں بلکہ ایک سروے کے مطابق اس وقت اوپر سے لے کر نیچے تک عام اورخصوصی عدالتوں میں 19 لاکھ مقدمات گل رہے ہیں۔

بینک سے چند ہزار قرضہ لینا والاعام کسان تو قانون کے آہنی ہاتھوں میں آجاتا ہے لیکن قوم کے کروڑوں روپے ہضم کرنے والا اسمبلی میں پہنچ کر عیش و عشرت کررہا ہوتا ہے۔

جس معاشرے کا چلن ایسا ہوجائے تو کیا احساس محرومی کے نتیجے میں منفی رد عمل پیدا نہیں ہوگا!!!؟ ایسے لوگ مجرم بن کر معاشرے کو انتقام کی آگ میں نہیں جلائیں گے؟ سندھ کے بعض مشہور ڈکیتوں کی روئیداد پڑھنے سےپتہ چلتا ہے کہ ان کے جرم کی دنیا میں قدم رکھنے کی وجہ ان کے ساتھ ناانصافی اور ظلم کا ہونا ہے۔

ہمیں اس روش کو ترک کرکے عدل و انصاف کے عمل کو فوری اور مؤثر بنانا ہوگا۔ شفاف اتنا کہ مظلوم کو یقین ہو کہ میں ہی سرخرو ہوں گا۔ یوں وہ قانون کو کبھی اپنے ہاتھ میں نہیں لے گا۔ ظالم کو اس کے انجام بد سے دوچار کیا جائے تاکہ وہ دوسروں کے لیے عبرت کا نشان بن جائے۔

ایک زندہ قوم اور پرامن معاشرے کے لیے ایسا کرنا ناگزیر ہے، اس کے لیے ہمارے حکمرانوں اور عدلیہ سے وابستہ افراد کو آگے آنا ہوگا اور سسٹم میں موجود ان خامیوں کو دور کرنا ہوگا جن کی وجہ سے انصاف نہیں ہوتا یا جو عام آدمی کے لیے حصول انصاف کو مشکل بنا دیتی ہیں اور مجرم کے لیے راہ فرار کے جو چور دروازے ہیں ان کو بھی بند کرنا ہوگا۔

آخر میں یہ بھی یاد دلاتا چلوں کہ پاکستان ایک اسلامی نظریاتی ریاست ہے دین اسلام نے عدل و انصاف کے جو اصول بتائے ہیں، حدود اور تعزیرات کے باب میں جو جزا اور سزا کا قانون رکھا ہے، اس کو اپنا کر ہی یہ ممکن ہے۔ جس کے لیے خیر القرون کا زمانہ شاہد عدل ہے کہ کس طرح ان کو نافذ کرکے معاشرتی برائیوں کا خاتمہ کر دیا گیا اور جرائم کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا گیا۔

About شیخ عبدالصمد مدنی

Check Also

سال نو؛ چند غور طلب پہلو

الحمدللہ والصلاة والسلام علی رسول الله وعلی آلہ واصحابہ اجمعین اما بعد: قارئین کرام! السلام …

جواب دیجئے