اربعینِ نووی

حدیث نمبر : 29، قسط نمبر : 67

دوسرا نفلی عمل

وَالصَّدَقَةُ تُطْفِئُ الخَطِيْئَةَ كَمَا يُطْفِئُ المَاءُ النَّارَ،

اورصدقہ گناہوں کوبجھادیتاہے، جیسا کہ پانی آگ کو بجھا دیتا ہے۔

یہ وہ دوسرا نفلی عمل ہے جسے رسول اللہ ﷺ نے ابوابِ خیر میں سے قراردیاہے،یعنی نفلی صدقات گناہوں کو یوں بجھادیتےہیںجیسے پانی آگ کو بجھادیتاہے،یہاں گناہوں سے مراد صغیرہ گناہ ہیں،جبکہ کبیرہ گناہوں کی بخشش کے لئے توبہ شرط ہے،کماقال اللہ تعالیٰ:[يٰٓاَيُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا تُوْبُوْٓا اِلَى اللہِ تَوْبَۃً نَّصُوْحًا۝۰ۭ عَسٰى رَبُّكُمْ اَنْ يُّكَفِّرَ عَنْكُمْ سَيِّاٰتِكُمْ وَيُدْخِلَكُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِہَا الْاَنْہٰرُ۝۰ۙ ](تحریم:۸)

ترجمہ:اے ایمان والو! تم اللہ کے سامنے سچی خالص توبہ کرو۔ قریب ہے کہ تمہارا رب تمہارے گناه دور کر دے اور تمہیں ایسی جنتوں میں داخل کرے جن کے نیچے نہریں جاری ہیں۔

لیکن یہاں سماحۃ الوالد الشیخ عبدالمحسن حمدا لعباد  حفظہ اللہ نے ایک بڑا عمدہ استنباط کیاہے،فرماتےہیں:

وتشبیہ النبی ﷺ بإطفاء الصدقۃ للخطایابإطفاء الماء النار یدل علی زوال الخطایاکلھا ؛فإن المشاہد فی الماء إذا وقع علی النار أنہ یزیلھا حتی لایبقی لھا وجود. (فتح القوی المتین ،ص:175)

یعنی:نبیﷺ کا صدقہ کے تمام گناہوں کو مٹادینے کے لئے پانی کے آگ کو بجھادینے سے تشبیہ دینے کا واضح معنی یہی ہے کہ صدقہ تمام گناہوں کو مٹاڈالتاہے،جیسا کہ پانی آگ کومکمل طورپہ بجھادیتاہے؛ کیونکہ مشاہدہ سے یہ بات ثابت اور معلوم ہے کہ پانی جب آگ پر گرتا ہے توپوری آگ کو زائل کردیتا ہے،حتی کہ آگ کا وجود ختم ہوجاتاہے۔

صدقہ ایک ایسا عمل ہے جس کا فائدہ میدانِ محشر ہی میں ظاہر ہو جائے گا،جیسا کہ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے:(کل امریٔ فی ظل صدقتہ یوم القیامۃ)(مسنداحمد:۱۷۴۶۶)یعنی:قیامت کے دن ہرشخص اپنے صدقہ کے سائے تلے ہوگا۔

بخاری ومسلم کی صحیح حدیث کے مطابق اللہ تعالیٰ کا فراہم کردہ یہ سایہ سات قسم کے خوش نصیب انسانوں کو نصیب ہوگا،ان میں سے ایک خوش نصیب یہ بندہ ہے:(رجل تصدق بصدقۃ فأخفاھاحتی لاتعلم شمالہ ماتنفق یمینہ)(بخاری:۶۶۰،مسلم:۱۰۳۱)

یعنی:وہ شخص جس نے اس قدر چھپاکر صدقہ دیا کہ اس کے بائیں ہاتھ کو پتہ نہ چل سکےکہ دائیں ہاتھ نے کیاخرچ کیا ہے۔

چھپاکر خرچ کرنے سے مراد اخلاص کی حفاظت اور ریاکاری سے کلی طورپر اجتناب برتناہے،رسول اللہ ﷺ نے ریاکاری کی نیت سے ادا کیے گئے صدقہ کو شرک قراردیاہے۔(من تصدق یرائی فقد أشرک)

واضح ہو کہ صدقہ ایک ایسا برگزیدہ عمل ہے کہ قیامت کے دن ناکامی کا منہ دیکھنے والے لوگ جب صدقہ کی خیرات وبرکات دیکھیں گے تودنیاکی لمبی زندگی کی بھیک مانگیں گے،صرف اس لئے کہ صدقہ وخیرات کر کے اپنی اس ناکامی کو ختم کرسکیں اور صالحین کی فہرست میں شامل ہوسکیں۔

[وَاَنْفِقُوْا مِنْ مَّا رَزَقْنٰكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ يَّاْتِيَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ فَيَقُوْلَ رَبِّ لَوْلَآ اَخَّرْتَنِيْٓ اِلٰٓى اَجَلٍ قَرِيْبٍ۝۰ۙ فَاَصَّدَّقَ وَاَكُنْ مِّنَ الصّٰلِحِيْنَ۝۱۰  وَلَنْ يُّؤَخِّرَ اللہُ نَفْسًا اِذَا جَاۗءَ اَجَلُہَا۝۰ۭ وَاللہُ خَبِيْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ۝۱۱ۧ]

ترجمہ:اور جو کچھ ہم نے تمہیں دے رکھا ہے اس میں سے (ہماری راه میں) اس سے پہلے خرچ کرو کہ تم میں سے کسی کو موت آ جائے تو کہنے لگے اے میرے پروردگار! مجھے تو تھوڑی دیر کی مہلت کیوں نہیں دیتا؟ کہ میں صدقہ کروں اور نیک لوگوں میں سے ہو جاؤں اور جب کسی کا مقرره وقت آجاتا ہے پھر اسے اللہ تعالیٰ ہر گز مہلت نہیں دیتا اور جو کچھ تم کرتے ہو اس سے اللہ تعالیٰ بخوبی باخبر ہے ۔(المنافقون:۱۰،۱۱)

تیسرا نفلی عمل

وَصَلاةُ الرَّجُلِ فِي جَوْفِ اللَّيْلِ .

اور آدمی کا رات کی تنہائی میں نماز پڑھنا (یعنی تہجد)پھرآپﷺ نے یہ آیاتِ کریمہ تلاوت فرمائیں: [تَـتَجَافٰى جُنُوْبُہُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ يَدْعُوْنَ رَبَّہُمْ خَوْفًا وَّطَمَعًا۝۰ۡوَّمِـمَّا رَزَقْنٰہُمْ يُنْفِقُوْنَ۝۱۶ فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّآ اُخْفِيَ لَہُمْ مِّنْ قُرَّۃِ اَعْيُنٍ۝۰ۚ جَزَاۗءًۢ بِمَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ۝۱۷] (السجدۃ:۱۶،۱۷)

ترجمہ:ان کی کروٹیں اپنے بستروں سے الگ رہتی ہیں اپنے رب کو خوف اور امید کے ساتھ پکارتے ہیں اور جو کچھ ہم نے انہیں دے رکھا ہے وہ خرچ کرتے ہیں ،کوئی نفس نہیں جانتا جو کچھ ہم نے ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک ان کے لئے پوشیدہ کر رکھی ہے، جو کچھ کرتے تھے یہ اس کا بدلہ ہے ۔

یہ حدیث تہجد کی نماز کی فضیلت کو واضح کرتی ہے،فضیلت کے لئے اتناہی کافی ہے کہ اس نماز کو رسول اللہ ﷺ نے ابوابِ خیر میںسے قرار دیا ہے،صحیح مسلم کی ایک حدیث کے مطابق فرض نماز کے بعد سب سے افضل نماز، رات کی نماز ہے۔(صحیح مسلم:۱۱۶۳)

خواہ وہ نماز دورکعات یا دس آیات کی تلاوت ہی میں منحصر کیوں نہ ہو؛کیونکہ ایک حدیث میں رسول اللہ ﷺ کافرمان ہے:(من قام بعشرآیات لم یکتب من الغافلین)یعنی:جوشخص دس آیات کے ساتھ رات کاقیام کرلے وہ روزِقیامت غافلین میں نہیں بلکہ ذاکرین میں شمار ہوگا۔

قیامت کے دن سب سے بڑا اعزاز مقامِ محمود ہے،جو ایک ہی شخصیت کو حاصل ہوگا،ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ وہ شخصیت محمدرسول اللہ ﷺ ہیں،اللہ تعالیٰ نے اس عظیم اعزاز کو پانے کے لئے رسول اللہ ﷺ کو درج ذیل نصیحت فرمائی ہے:[وَمِنَ الَّيْلِ فَتَہَجَّدْ بِہٖ نَافِلَۃً لَّكَ۝۰ۤۖ عَسٰٓي اَنْ يَّبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا۝۷۹ ]

ترجمہ:رات کے کچھ حصے میں تہجد کی نماز میں قرآن کی تلاوت کریں یہ زیادتی آپ کے لئے ہے عنقریب آپ کا رب آپ کو مقام محمود میں کھڑا کرے گا ۔(بنی اسرائیل:۷۹)

یہاں ایک اہم مسئلہ کی وضاحت کرنا ضروری سمجھتاہوں،بعض مقررین یا واعظین کودیکھا ہےکہ دورانِ تقریر وہ جب بھی کسی آیتِ کریمہ کی تلاوت کرتےہیںتوپہلے تعوذیعنی (أعوذ باللہ من الشیطن الرجیم) پڑھتے ہیں،اس کے بعد اپنی مطلوبہ آیت کی قرأت کرتے ہیں،اس حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے؛ کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی مذکورہ بالاحدیث کے دوران آیت کریمہ [تَـتَجَافٰى جُنُوْبُہُمْ ] تلاوت فرمائی اور اس سےقبل (أعوذ باللہ )نہیں پڑھا۔آپﷺ کا یہی طریقۂ مبارکہ اکثر احادیث سے ثابت ہے،چنانچہ جب بھی آپ نے کسی حدیث مبارک کے دوران کسی آیت کریمہ کی تلاوت فرمائی ہے تو (أعوذ باللہ )پڑھے بغیر فرمائی ہے،جس کی ایک واضح دلیل خطبۃ الحاجۃ ہے، جو آپﷺ کی حیاتِ طیبہ میں اہم مواقع پر ایک معمول کی حیثیت اختیارکرچکاتھا،اس میں تین مختلف آیات موجود ہیں،مگر ان سے قبل تعوذ ثابت نہیں۔

اسی نکتے کو فقیہ زماں شیخ محمد بن صالح عثیمین رحمہ اللہ نے ان الفاظ میں واضح فرمایاہے:(ترجمہ)اگرکوئی شخص کہےکہ حدیث میں آیت کریمہ سے قبل (أعوذ باللہ من الشیطن الرجیم)پڑھنامذکور نہیں ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ نے حکماً فرمایاہے:[فَاِذَا قَرَاْتَ الْقُرْاٰنَ فَاسْتَعِذْ بِاللہِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ۝۹۸ ](النحل:۹۸)اور جب بھی قرآن پڑھنے لگو شیطان مردود سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرو؟

جواب:حدیث میں آپﷺ کا آیت کریمہ پڑھنا برائے استدلال تھا،برائے تلاوت نہیں تھا،اور قرآن مجید میں جو اللہ تعالیٰ کا امر وارد ہے اس کا تعلق تلاوت سے ہے،بہت سے ایسی احادیث موجود ہیں جن میں مختلف آیات سے استشہاد مذکور ہے ،لیکن کسی حدیث میں تعوذ یعنی (أعوذ باللہ من الشیطن الرجیم)مذکور نہیں۔

واضح ہو کہ یہ آیت کریمہ جس سے رسول اللہ ﷺ نے دورانِ حدیث استدلال فرمایاہے،ایک بڑے اہم فائدے پر مشتمل ہے،جو قولہ تعالیٰ:[يَدْعُوْنَ رَبَّہُمْ خَوْفًا وَّطَمَعًا]میں موجودہے،یعنی: وہ اپنے رب کو خوف اور امید کے ساتھ پکارتے ہیں،جس سے ثابت ہوا کہ دعا کرتے وقت خواہ دعاءِ عبادت ہوجیسےنمازوغیرہ یا دعاءِ طلب وسوال ہو، لوگوں پر خوف اور امید، دونوں کیفیتیں طاری رہنی چاہئیں،چنانچہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہوئے خوف ورجاءدونوں کیفیتیں اپنے اوپر قائم رکھو۔

خوف سے مراد یہ ہے کہ یہ خدشہ دل میں موجود ہوکہ شایدمیری یہ عبادت اللہ تعالیٰ کے ہاں قابل قبول نہ ہو،جیسا کہ صحابہ کرام کا منہج قرآن نے پیش کیا ہے:[وَالَّذِيْنَ يُؤْتُوْنَ مَآ اٰتَوْا وَّقُلُوْبُہُمْ وَجِلَۃٌ]

(المؤمنون:۶۰)

یعنی:وہ جو بھی عمل انجام دیتےہیںان کےدل کپکپاتے رہتے ہیں۔ثابت ہوا کہ اصحابِ رسول ﷺ عمل کی انجام دہی کے وقت اس کی قبولیت کے حوالے سے ہمیشہ خائف رہتے تھے۔

رجاء یعنی امید کے پہلو سےمراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کی وسعت کا خیال کرتےہوئے ،اس عمل کی قبولیت کی امید قائم رکھے۔

امام اہل السنۃ احمد بن حنبل  رحمہ اللہ کے ایک قول سے واضح ہوتا ہے کہ بندے کے اندر خوف ورجاء کی دونوں کیفیتیں برابری کی سطح پر ہونی چاہئیں،کوئی ایک کیفیت دوسری پر غالب نہ ہو،ورنہ ہلاکت کا اندیشہ موجود رہے گا۔

بعض اہل علم کا کہنا ہے کہ عند الموت،رجاء یعنی اچھی امید کا پہلو غالب رہناچاہئے،جیسا کہ رسول اللہ ﷺ کی حدیث ہے:(لایموتن أحدکم إلا وھو یحسن الظن باللہ)(صحیح مسلم:2877)

یعنی:تم میں سے کوئی شخص نہ مرے مگر اس طرح کہ اس کا اللہ تعالیٰ کے ساتھ اچھا گمان قائم ہو۔

البتہ جب بندہ صحت وعافیت سے مالامال زندگی بسرکررہاہوتو اپنے اوپر خوف کا پہلوغالب رکھے،اس طرح خوف ورجاء کے تعلق سے اس کی زندگی میں اعتدال اور استقامت پیداہوسکتی ہے۔

بعض اہل علم کا کہنا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت والاعمل انجام دیتے ہوئے رجاء یعنی اچھی امید کاپہلوغالب رکھے اور گناہ کی طرف میلان کی صورت میں اپنے اوپر خوف کا پہلو غالب کرلے۔

اس کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرتے ہوئے اچھی امید قائم کرلے اور یہ سوچے کہ جس ذات نے اپنی اطاعت کی توفیق دے کر مجھ پر احسان فرمایا ہے وہی ذات اسے شرفِ قبولیت دے کر مزیداحسان فرمائے گا،چنانچہ جو مجھ پر واجب تھا وہ میں نے اداکردیا اب اللہ تعالیٰ سے ثواب کی امید قائم ہے۔

اور جب کسی گناہ کا ارادہ بن جائے تو جانبِ خوف کواپنے اوپرغالب کرلے، اور وہ خوف اس گناہ کے سامنے ایک دیوار اور آڑ بن جائے، جو اس گناہ کے ارتکاب سے باز رکھے۔(واللہ اعلم)

اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے معاذ بن جبل  رضی اللہ عنہ سےفرمایا:

أَلا أُخْبِرُكَ بِرَأْسِ الأَمْرِ وَعَمُودِهِ وَذِرْوَةِ سَنَامِهِ؟

یعنی:کیامیں تمہیںاس معاملے (یعنی دین) کے سر اوراس کے ستون اوراس کی سب سے اونچی چوٹی کی خبرنہ دوں؟

انہوںنے عرض کیا:کیوںنہیں،ضرور فرمائیے۔

توآپﷺ نے فرمایا:

(رَأْسُ الأَمْرِ الإِسْلامُ وَعَمُودُهُ الصَّلاةُ وَذروَةُ سَنَامِهِ الجِهَادُ) یعنی:اس دین کاسراسلام ہے،اور اس کا مرکزی ستون نماز ہے، اور اس کی سب سے اونچی چوٹی جہاد ہے۔

حدیث سے معلوم ہوا کہ دین اسلام کا سر،اسلام ہے۔

جسم میں انسانی سر کی اہمیت سب جانتے ہیں،اگر سرکاٹ کر علیحدہ کردیاجائے توباقی ساراڈھانچہ سرکٹی لاش بن جاتاہے،اسی طرح اسلام جس کی پانچ بنیادیں ہیں اگر مفقود ہوں تو باقی سارا دین ایک لاش کی طرح مردار اور بیکار قرارپائے گا۔

حافظ ابن رجب بغدادی  رحمہ اللہ فرماتےہیں:ایک حدیث میں (رأس ہذا الأمر شھادۃ ان لاالٰہ الاللہ)واردہے،یعنی: پورے دین کا سر (لاالٰہ الااللہ)کی گواہی دینا ہے،جس سے ثابت ہوا کہ توحید کی گواہی کے بغیر بھی باقی سارادین سرکٹی لاش کی مانند ہے۔

(لاالٰہ الااللہ)کی گواہی دینااس بات کی متقاضی ہے کہ اس کلمہ کا مکمل اور صحیح معنی معلوم ہو اور زبان کا اقرار،دل کا اعتراف اور اعضاء کا عمل یکساںاوربرابرہو،ان میں کسی قسم کا کوئی فرق نہ ہو،جواقرار زبان پر ہو وہی اعتراف دل میں ہو اور اسی کے مطابق اعضاء کا عمل ہو۔

اگرایسا نہ ہوا تو دین کے سارے اعمال مثلاً:حج،عمرہ،صدقہ، جہاد، تہجدالغرض تمام نیکیوں کی حیثیت ایک ایسی لاش کی سی ہوگی جس کا سر کٹا ہوا ہو،یعنی سارا کا سارا دین ناقابل قبول ہوگا،اور بندہ[عَامِلَۃٌ نَّاصِبَۃٌ۝۳ۙ تَصْلٰى نَارًا حَامِيَۃً۝۴ۙ ]کے بمصداق جہنم کا لقمہ بن جائے گا۔

امت کے ہر فردکو یہ بات نوٹ کرلینی چاہئے اور اسے اچھی طرح دل میں جاگزیں کرلیناچاہئے کہ توحید ہی محورِ دین اور مدارِ قبولیت ہے اس کے بغیر ہرمحنت رائیگاں اور فضول ہے، جبکہ توحیدِراسخ اگر موجود ہے توعمل کی کمی یا گناہوں کی موجودگی جیسی کوتاہیاں قابل معافی ہوسکتی ہیں،جیسا کہ ایک حدیث قدسی میں رسول اللہ ﷺ کافرمان ہے،اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:(یاابن آدم انک لواتیتنی بقراب الارض خطایا ثم لقیتنی لاتشرک بی شیئالأتیتک بقرابھا مغفرۃ)(مسنداحمد،جامع ترمذی)

یعنی:اے آدم کے بیٹے!اگر تو زمین بھر گناہوں کے ساتھ مجھ سے ملے،لیکن تو نے شرک نہ کیاہوتومیں زمین بھر مغفرت کے ساتھ تجھ سے ملوں گا۔

مسنداحمد میں مذکور وہ قصہ اس حدیث کی عملی تصدیق ہے،جس میں ایک شخص کی توحید کی گواہی،اس کے گناہوںکےننانوے رجسٹروں پر بھاری پڑجائے گی،اور اس کے جنت کے داخلے کا پروانہ جاری ہوجائےگا۔

حدیثِ مذکور میںرسول اللہ ﷺنے نماز کو دین کا عمودیعنی مرکزی ستون قرار دیا ہے،جس سے نماز کی اہمیت اجاگر ہوتی ہے،جس کا معنی یہ ہوگا کہ دین ایک ایسی عمارت ہے جو ایک انتہائی اہم اور مرکزی ستون پر قائم ہے اور وہ ستون نماز ہے،جس کے ترک کی صورت میں عمارت منہدم ہوسکتی ہے،اسی حدیث سے بعض علماء نے ترکِ صلاۃ کے کفر ہونےکااستدلال کیاہے،بہرحال اس سلسلہ میں تمام ادلہ کے جمع ہونے کی صورت میں مسئلہ کی نوعیت واضح ہوگی۔(واللہ تعالیٰ اعلم)

اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے جہاد کو دین اسلام کی سربلند چوٹی قراردیاہے،جہاد میں جہادِنفس نیزجہادِاعداءشامل ہیں،نفس کے مجاہدہ کو رسول اللہ ﷺ نے افضل جہاد قراردیاہے،جبکہ قرآن نے دعوت الی اللہ کو جہادِکبیرکہاہے۔

دشمنوں سےجہاد جو اصطلاحی اعتبار سے قتال سے عبارت ہے،جسے جہادبالسیف بھی کہاجاتاہے،ضرورت پڑنے پر انتہائی اہمیت اختیار کرجاتا ہے،جس کے بڑے فضائل وارد ہیں،یہ جہاد قیامت تک جاری رہے گا،کسی عادل کا عدل یا ظالم کا ظلم اسے ختم نہیں کرسکے گا،اسے دین اسلام کی چوٹی قرار دینا،اس کی اہمیت کو واضح کرتا ہے،چوٹیاںسرکرنا ہر کسی کا کام نہیں۔                             (جاری ہے)

About الشیخ عبدﷲ ناصر رحمانی

امیر جمعیت اہل حدیث سندھ

Check Also

اربعینِ نووی

حدیث نمبر: 29 قسط نمبر 66 گذشتہ قسط کا خلاصہ یہ ہے کہ سیدنامعاذ بن …

جواب دیجئے