Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2018 » شمارہ جون » خطبہ عیدالفطر

خطبہ عیدالفطر

خطبہ مسنونہ کے بعد:

تقبل اللہ منا ومنکم

میں آپ تمام حضرات کو،مرد وخواتین کو، اہل اسلام کو،تقبل اللہ منا ومنکم کے مبارک الفاظ کے ساتھ ہدیہ تبریک پیش کرتاہوں ،اللہ تعالیٰ آپ کو ہمیشہ خوشیاں نصیب فرمائے اور ہر طرح کی خیر وبرکت سے نوازے بالخصوص ان لوگوں کو مبارک باد پیش کرتاہوں جو حقیقتا مبارک باد کے حقدار بھی ہیں جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی توفیق سے اس مبارک مہینے کی خیروبرکت حاصل کرنے کی کوشش کی ،روزے رکھے، تروایح پڑھیں،صدقات وخیرات کیے، تلاوت کی، اذکار کیےاور کچھ خوش نصیب لوگوں نے اعتکاف کی سنت اور نیکی پرعمل کیا،معتکفین اور غیرمعتکفین میں سے بہت سارے ہیں جنہوں نے شب قدر بھی پانے کی کوشش کی ،حقیقی طور پر آج عیدانہی لوگوں کی ہے، عید کا معنی خوشی ہے اور مومن کی خوشی صرف کھانے پینے میں نہیں ہے، ایک مومن کی خوشی تو اس میں ہے کہ دل میں یہ قوی امید پیدا ہو،خیال پیدا ہوکہ اس کا رب اس سے راضی ہے اس نے اپنے رب کو راضی کرنے کی کوشش کی ہے اس ماہ مبارک کے اعمال کے نتیجے آج کتنے لوگ ہیں جوڈھیروں اجروثواب کماچکے اور جوزندگی بھر کے گناہوں کی معافی حاصل کرچکے اور سب سے بڑھ کر اپنی گردنوں کو جہنم کی آگ سے آزاد کراچکے ،مبارکباد کے مستحق یہی لوگ ہیں ،مبارک ہو ایسے لوگوں کو اپنی سعادت اور خوش نصیبی پر،جو تم نے اس ماہ مبارک میں کوششیں کی اس پر جتنا بھی اللہ کا شکر اداکرو کم ہے۔

:وہ لوگ جنہوں نے اس مہینے میں خوب محنت کی اور نیک عمل کیے جدوجہد کی میں ان سے ۴باتیں عرض کرنا چاہتاہوں

وہ اللہ کا شکر ادا کریں کہ اللہ کے فضل وکرم سے اس گئے گزرے دور میں، مادیت کےدور میںانہیں اعمال صالحہ کی، نیکی کرنے کی توفیق ملی۔

1۔وہ کثرت سے استغفار بھی کریں کیونکہ اتنی کوشش کے باوجود بھی ہم سب کو یہ احساس ہےکہ ہم حق ادا نہ کرسکے اور کہیں نہ کہیں ضرورکوتاہی رہ گئی،اس پر وہ کثرت سے استغفار بھی کریں تاکہ اللہ تعالیٰ ہماری ان کوتاہیوں کو معاف کردے،اور اس کے ساتھ ساتھ خوب اللہ تعالیٰ سےاجروثواب کی امید بھی رکھیںجس کا وعدہ اللہ نے اور اس کے رسول ﷺ نےان اعمال صالحہ پر اجروثواب کاکررکھاہے،اللہ تعالیٰ سےاچھی امید بھی رکھیں،امید کسی بنیاد پر رکھنی چاہئے اور وہ بنیاد آپ نے بحمداللہ تعالیٰ قائم کردی ہے ،روزے رکھ کے، تراویح پڑھ کر، تلاوت کرکے، اعتکاف بیٹھ کر، شب قدر پانے کی کوشش کرکے، اب آپ حق بجانب ہیں کہ آپ امید رکھیں کہ اللہ تعالیٰ آپ کو ضرور مغفرتیں، رحمتیں، برکتیں عطا فرمائے گا۔اب محنت اورکوشش کرکے امید کی بنیاد  قائم کرنے کے بعد مایوسی کفر ہے ،اب مایوس نہیں ہونا چاہئے، اللہ تعالیٰ بڑا قدردان ہے ضرور آپ کی قدردانی فرمائے گا۔

2۔اس کے ساتھ ساتھ ساتھ یہ بھی نصیحت کروںگا کہ جو نیکیاں، جو اعمال آپ نے کیے ،بڑی محنت سے، بڑی کوشش سے ، ان کی حفاظت کریں ،عمل کی قبولیت اور حفاظت کیلئے کچھ چیز عمل سے پہلے ضروری ہوتی ہے اور کچھ عمل کے بعد،مثلا:عقیدہ کی صحت بالخصوص شرک وکفر سے دوری، اخلاص نیت اور قدم بقدم سنت رسول ﷺ کی پیروی۔

3۔ضروری ہے کہ تادم حیات صحیح عقیدہ جو قرآن وحدیث سے ثابت ہے پر قارئم رہیں شرک وکفر اور تمام باطل افکار ونظریات سے دور رہیں، اسی طرح عمل کے بعد بھی تادم حیات اخلاص کی حفاظت کریں ،اگر زندگی کے کسی موڑ پر بھی ریا کاری کی نیت سے اپنے کسی عمل کااظہار کردیا تو عمل باطل اور ضائع ہوجائے گا،اوربالخصوص کسی کاحق نہ ماریں، کسی پر ظلم نہ کریں ،حقوق العباد پامال نہ کریں وگرنہ کل قیامت کےدن یہ مظلوم آپ کی یہ نیکیاں باہم بانٹ کے لے جائیں گے اور اللہ تعالیٰ انہیں راضی کرنے کے لئے ان کوان کاحق آپ سے نیکیوں کی صورت میں دیگا،اگر ہم نےآج حقوق العباد پامال کردیے ،ظلم وزیادتی کی توکل قیامت کے دن ان نیکیوں سے ہاتھ دھونے پڑیں گے لہذا اپنے اعمال کی حفاظت کی پوری پوری کوشش کیجئے۔

4۔بات نیک اعمال کرنے والوں سے یہ ہے کہ آپ اس نیکی کے راستے میں استقامت اختیار کیجئے آپ اس نیکی کے راستے پر پوری استقامت کے ساتھ گامزن ہوجایئے ۔اصل مطلوب یہ ہے کہ انسان زندگی بھر اللہ تعالیٰ کی  شریعت پر قائم ہو ،یہ ماہ مبارک تو جذبہ عمل پیدا  کرنےکیلئے ہے یہ تو تربیت اور ٹریننگ کامہینہ ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کافرمان ہے:[لعلکم تتقون] تاکہ تم ہمیشہ کیلئے متقین اور پرہیز گار بن جاؤ اس لئے اس نیکی اور تقویٰ کی راہ پر ہمیشہ ہمیشہ کیلئے گامزن ہوجائیے اپنے پیارے نبی محمدﷺ کی طرح اور ان کے صحابہ کی طرح جن کیلئے اللہ تعالیٰ نے اپنی رضا اور خوشنودی کا اعلان کیا ہے کہ جو زندگی بھر تقویٰ وپرہیزگاری پر قائم رہے۔

:اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتاہے

[ان الذین قالوا ربنا اللہ ثم استقاموا تتنزل علیھم الملائکۃ ان لاتخافوا ولاتحزنوا وابشروا بالجنۃ التی کنتم توعدون]

وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کو رب مانتے ہیں اور ربوبیت کے تقاضوں کو پورا کرنے میں لگ جاتے ہیںاوراس پر استقامت اختیار کرتے ہیں اورموت آنے تک اس راہ پر استقامت اختیار کرتے ہیں ابھی روح نہیں نکلی ہوتی ،نکلنے کا وقت ہوتا ہے آسمان سے فرشتے قطار درقطار اترتے ہیں ،بشارتیں لے کر،خوشخبریاں لے کر اور آکر کہتےہیں [ان لاتخافواولاتحزنوا ]اب موت کےسائے چھٹ گئے اور غم کے سائے چھٹ گئے آج کے بعد تم کو خوف اورغم نہیںہوگا اور خوش ہوجاؤ اس جنت کے بارے میں جس کا تم سے وعدہ کیاگیاتھا ۔

:دین پر استقامت کیلئے اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کرتے رہنا چاہیے

[ربنالاتزغ قلوبنا بعد از ھدیتنا وھب لنامن لدنک رحمۃ]

یعنی:اے اللہ !ہدایت دینے کے بعد اور اصلاح کی توفیق دینے کے بعد ہمارے دلوں کو کجروی اور ٹیڑھ پن سے دوچار نہ کر۔

نیز اللہ تعالیٰ سے یہ دعا بھی کرنی چاہئے :[اھدنا الصراط المستقیم] اس میں بھی یہی معنی ہے ،ہدایت کی فہم اور ہدایت پر عمل پیراہونے کے باوجود ہدایت طلب کرنے کا مطلب ہے ، اے اللہ ہمیںہدایت کی راہ پر استقامت عطافرما ۔

:ہمارے پیارے نبیﷺ کثرت سے یہ دعابھی پڑھا کرتے تھے

یامقلب القلوب ثبت قلبی علی دینک، یامصرف القلوب صرف قلبی الی طاعتک .

اے دلوں کے پھیرنے والے(یعنی اللہ تعالیٰ) میرے دل کو دین پے جمادے، اے اللہ! دلوں کوپھیرنے والے میرے دل کو اپنی اطاعت کی طرف پھیر دے.

سیدہ ام سلمہ rنے پوچھا :اے اللہ کے رسولﷺ!آ پ یہ دعا کیوں کثرت سے پڑھتے ہیں،فرمایا کیوں نہ پڑھو ں جبکہ میں یہ جانتا ہوں کہ تمام انسانوں کے دل اللہ کے دو انگلیوں کے بیچ میں ہیں اللہ  تعالیٰ بے پروا ذات ہے جس دل کو جس طرف چاہے پھیردے۔ کیوں نہ میں اللہ تعالیٰ سے ڈروں ،اور اس سے توفیق کی دعا کروں ۔

اللہ تعالیٰ فرماتاہے :[فاعبد ربک حتی یاتیک الیقین] اور یہ پوری امت کوخطاب ہے ،اپنے رب کی بندگی اختیار کرتے رہیئے، موت آنےتک ۔

وہ احباب جنہوں نے اس مہینے میں عمل صالح کی کوئی کوشش نہیں کی، یاکوشش کی ہے توغفلت اورکوتاہی کاشکار رہے ان سے کچھ باتیں کرناچاہتاہوں ،آپ اپنا محاسبہ کریں ،آ پ نے یہ بدعملی ،یہ سستی اور غفلت کیوں اختیار کی، روزے کیوں نہ رکھے، تراویح کیوں نہ پڑھی، زکوٰۃ کیو ں نہیں دی، صدقات کیوں نہیںد یئے، کیاآپ اس کے منکر ہیں؟اگر آپ ا ن ساری چیزوں کے منکر ہیں تودائرہ اسلام سے خارج ہیں، آپ دین اور شریعت کے منکر ہیں،صرف دعوے کے مسلمان ہیں اور اگر منکر تونہیں ہیں مانتے ہیں تو پھر عمل کیو ں نہیں کرتے؟پھر یہ سستی کیوں؟ یہ غفلت کیوں؟ کیا آپ کو اللہ کی رحمت نہیں چاہئے ؟کیا آپ اپنی گردن کو جہنم کی آگ سے آزاد نہیں کرواناچاہتے؟ کیاکل قیامت کےدن جہاں ایک ایک نیکی کی ضرورت ہوگی اس زندگی کی تیاری نہیں کرنا چاہتے؟ آپ سے بڑھ کر کوئی محروم نہیں ہے ،ماہِ رمضان نیکیوں کا موسم بہار تھا، رحمتیں بٹ رہی تھیں،اور ہر افطاری کے موقع پر اور ہر رات لوگوں کی گردنیں  جہنم سےآزاد ہورہی تھیں، لوگ شب قدر پاکر ایک ہی رات کے ذریعہ سالوں کی عبادت کاثواب لوٹ رہے تھے اور آپ پورےمہینے گھومنے پھرنے اور دنیاداری میں مست رہے آپ کو آخرت کی فکر نہیں ہے، کس خوش فہمی میں مبتلاہیں ۔ ایسے لوگ اللہ پر جھوٹی امیدیں باندھے ہوئے ہیں یہ جھوٹی امیدیں ہیں ان کی کوئی حیثیت نہیں ،اللہ کی رحمت اور برکت کی امیدیں وہ باندھیں  جنہوں نے روزے رکھے، تراویح پڑھی، شب قدر کی عبادت کی ،قرآ ن کی تلاوت کی،وہ اب امیدیں باندھیں ،اے اللہ!ہمیں معاف کرہمیں جنت دے ،جنہوں نے کچھ نہیں کیا ان کو کوئی حق نہیں بنتا امیدیں باندھنے کا،اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا:

[لیس بامانیکم ولاامانی اھل الکتاب من یعمل سوء یجز بہ]

اےایمان والو!جنت نہ تو یہود نصاریٰ کو ان کی خواہشوں پر ملے گی اورنہ تو جنت تمہیںتمنا اور امیدوں پر ملےگی۔جس کے ذمہ کوئی گناہ ہے سزا مل کر رہے گی اور کل قیامت کے دن نہ کوئی ولی اور نہ کوئی مدد گار پائے گا۔اس کے مقابل

[ومن یعمل من الصالحات من ذکر وانثی وھو مومن فاولئک یدخلون الجنۃ]

جس کسی نے عمل صالح  کیے وہ مرد ہویاعورت ،ایمان بھی موجود ہو تو یہ وہ لوگ ہیں جو جنت میں داخل ہونگے ۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

،الکیس من دان نفسہ وعمل لما بعد الموت والعاجز من اتبع نفسہ ھواہ وتمنی علی اللہ

دانا وہ ہے جواپنے نفس کامحاسبہ کرتا ہے،اور موت کے بعد کی زندگی کی تیاری کرتا ہے،اور احمق اوربے وقوف وہ ہے جو اپنے نفس کی خواہشات کی پیروی میں لگاہوا ہے اوراللہ پر جھوٹی امیدیں باندھتا ہے۔

میرے بھائیو! آخر میں تھوڑی سی نصیحت اور کرناچاہتاہوں :

دیکھیں! جتنے بھی عمل صالح کیے:روزے ،زکوٰۃ، صدقات ،اعتکاف وغیرہ ضروری ہے کہ یہ سارے عمل یہ ساری محنت توحید کے ساتھ ہو،سنت کے ساتھ ہو ،یہ سب تب قبول ہونگے جب یہ شرک اور بدعت کی دوری کے ساتھ ہوں اس لئے کہ اگر ایمان میں کفر آگیا کسی بھی اسلامی عقیدے اورنظریے کاآپ نے انکار کردیا ،عقل پرستی اور دیکھا دیکھی کی بنیاد پرذاتی پسند وناپسند کی بنیاد پر یاسمجھ میں نہ آئے اس بنیاد پر ،توگویا آپ میں کفر آگیااور جب کفرآگیا توعمل برباد ہوجائیں گے اور نمبر۲ شرک آگیا توحیدختم ہوجائیگی اور توحید ختم ہوگئی تو ایمان ختم ہوجائے گا ،ایمان کا سب سےاہم مسئلہ تو اللہ کو ربوبیت میں اکیلا ماننا ہے اللہ کی ربوبیت میں، الوہیت میں ،صفات میں ،عظمت میں ،شان میں کسی مخلوق کوچاہے نبی ہو،ولی ہویا کوئی بھی صالح انسان ہو، شامل کیا تو شرک لازم آجائے گا اور شرک آنے سے آپ کے سارے عمل برباد ہوجائیں گے ،اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

[لئن اشرکت لیحبطن عملک]

اے نبی(ﷺ)اگرآپ نے بھی (بالفرض والمحال)شرک کیا توآپ کے بھی عمل برباد ہوجائیںگے۔

آج ہم دیکھتے ہیں بہت سارے لو گ ہیں جن کی پوری کوشش ہے کہ وہ سیدناعلیؓ کو اللہ ثابت کریں ،اللہ بنائیں ،یا کم از کم اللہ تعالیٰ  کی ساری صفات، حقوق اورعظمتیں ان کے سپرد کرکے ان کو اللہ کا شریک بنائیں بعض لوگوں کی پوری کوشش ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ کو جو شرک مٹانے کیلئے آئے، توحید پھیلانے کے لئے آئے انہیں اللہ ثابت کریںیا یہ کہ محمددرحقیقت اللہ ہیںیااللہ تعالیٰ کی صفات،حقوق اور تمام عظمتیں محمدﷺ میں ثابت کرکےیہ ظاہر کریں کہ اللہ تعالیٰ اورمحمدﷺ میں کوئی فرق نہیں۔(والعیاذ باللہ)

بدعات سے بچیں ،اللہ کے دین میں اضافہ نہ کریں ، اللہ کے دین میں ردوبدل نہ کریں ،نئے نئے کام نہ کریں، نئے نئے کام گمراہی ہے اور گمراہی جہنم میں لے جاتی ہے، اور ایسے لو گ بہت سارے ہیں، عمل کی قبولیت کے لئے شرط ہے ،بدعات سے بچنا، خرافات سے بچنا، اور بدعت سے بچنا ضروری ہے، حدیث میں ہے بدعتیوں کوحوض کوثر سے دور بھگادیاجائے اور رسول اللہ ﷺ بھی فرمائیں گے :

سحقا سحقا لمن غیر بعدی

دوری ہو،دوری ہو ان لوگو ں کے لئے جنہوں دین کو تبدیل کردیا۔

اور نمبر۲ ان سارے اعمال کا سنت رسول کے مطابق ہونا،قدم قدم پر اللہ کے رسول کی اطاعت ضروری ہے،اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

[یاأیھاالذین امنوا اطیعوا اللہ واطیعوا الرسول ولاتبطلوا اعمالکم]

اللہ کی اطاعت کرو ،رسول اللہ کی اطاعت کرو،اور اپنے اعمال برباد نہ کرو۔

یعنی جو عمل اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کے دائرے سے باہر ہے وہ باطل ہے۔

شرک وبدعت سے بچنے کیلئے ،اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کیلئے اورسنت رسول پر عمل کیلئےایک ہی راستہ ہےاور وہ ہے قرآن وحدیث کو دلیل سمجھو،شریعت سمجھو، قرآ ن وحدیث کے ساتھ مکمل طورپر وابستہ ہوجاؤ ۔

برادران اسلام!آخر میں ایک مختصر سی بات،مختصر سی نصیحت!آج خوشی کا دن ہے ،عید کا دن ہے، تمام مسلمان بھائیو کو اپنے رشتے داروں، پڑوسیوں کو،عزیزوں کو ،جاننے والوں کو اس خوشی میں شریک کیجئے، محبتیں بانٹیئے ،خوشیاں بانٹیئے ،دلوں میں بغض اور نفرتیں ختم کیجئے ،صلہ رحمی قائم کیجئے یہ خوشی کا دن ہے ، ا ن لوگوں کو خوشی پہنچایئے، یاد رکھئے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس مسلمان بھائی کےدل میں دوسروں کے لئے بغض اور نفرت ہے اس کی بخشش اور مغفرت نہیں ہوتی، جب تک وہ صلح نہیں کرلیتا۔اور فرمایا لوگوں میں سب سے بہتر و ہ ہے جو سلام کی ابتداء کرتا ہے،اورصلح کرتا ہے۔ سب سے زیادہ آپ کی محبتوں اورخوشیوں کے مستحق آپ کے والدین اور آپ کے رشتہ دار ہیں ،کتنی محرومی کی بات ہے ہم قطع تعلقی کیے ہوئے ہیں،اس پہلو کی طرف ضرور توجہ کیجئے اور اپنی اصلاح کیجئے۔ماہ رمضان میںہم نے بہت کچھ سیکھا، سمجھامثلاً:تقویٰ، صبر اور ہمدردی ان خوبیوں اورخصائل کواپنی زندگی کا شعار بنائیے اللہ تعالیٰ سے قبولیت اعمال ،استقامت علی الدین اور دوام علی الطاعۃ کی توفیق کی دعاہے۔

About شیخ داؤد شاکر

Check Also

انتخابات2018ء

الحمد للہ والصلوۃ والسلام علی رسول ﷲ (ﷺ) وبعد! 25جولائی 2018ء کو پاکستان میں عام …

جواب دیجئے