Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2018 » شمارہ جون »  روایت حدیث میں امام ابوداؤد رحمہ اللہ کا احتیاط وا مانتداری

 روایت حدیث میں امام ابوداؤد رحمہ اللہ کا احتیاط وا مانتداری

اللہ کے نبی ﷺ سے شریعت کولینا،آگے بیان کرنا، دوسروں تک پہنچانا،دین اسلام کی بہت بڑی خدمت ہے لیکن اس حوالے سے احتیاط کا درس دیا گیا ہے۔

جو فرشتہ وحی (دین ،شریعت)لیکر آیا  وہ جبرائیل امین اورجن نبی پر لایا وہ بھی بڑے ہی امین تھے شریعت کو آگے پہنچانے میں امانتداری، احتیاط تو مطلوب ہے خود محمد رسول اللہ ﷺ کے بارے میں اللہ رب العالمین نے قرآن میں واضح طور پر بتا دیا ہے:

[وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْاَقَاوِيْلِ۝۴۴ۙ لَاَخَذْنَا مِنْہُ بِالْيَمِيْنِ۝۴۵ۙ ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْہُ الْوَتِيْنَ۝۴۶ۡۖ](الحاقۃ:۴۴تا۴۶)

جب محمدرسول اللہﷺ کے بارے میں شریعت کو آگے  پہنچانے کے حوالے سے احتیاط بتایا گیا تو اوروںکوبھی شریعت کو آگے پہنچانے میں  احتیاط کرنا ہوگا ۔

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جیسی عظیم جماعت بھی شریعت، حدیث کی روایت میں بڑی احتیاط کرتی تھی حالانکہ انہوں نےتو حدیثیں  رسول مکرم ﷺسے براہ راست سنی تھیںوجہ یہ تھی کہ رسول ﷺکا فرمان :

"من کذب علی متعمدا فلیتبوأ مقعدہ من النار”

جو مجھ پر جھوٹ باندھتا ہے اس کا ٹھکانہ جہنم ہے

ان کی آنکھوں کے سامنے تھا جس کا خوف انہیں بسا اوقات اصل حدیث کی روایت میں بھی محتاط کردیتا تھا-

انس رضی اللہ عنہ جو اصحاب مکثرین میں سے ہیں روایت حدیث میں اپنی احتیاط بیان کرتے ہوئے فرماتےہیں۔

"انہ لیمنعنی ان احدثکم حدیثا کثیرا ان محمد رسول اللہ ﷺ قال من تعمد علی کذبا فلیتبو مقعدہ من النار”

(مجھے تم سے بکثرت حدیثیں بیان کرنے سے رسول اللہ ﷺ کا یہ فرمان روکتا ہے کہ جس نے مجھ پر عمدا جھوٹ باندھا وہ اپنا ٹھکانہ آگ میں بنالے)(صحیح بخاری رقم الحدیث 108)

 :عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہاپنے والد محترم زبیررضی اللہ عنہ  سے عرض کرتے ہیں کہ:

” انی لا اسمعک تحدث عن رسول اللہ ﷺکما یحدث فلان و فلان قال اما انی لم افارقہ ولکن سمعتہ یقول: من کذب علی فلیتبو أ  مقعدہ من النار”

(میں نہیں سنتا کہ آپ "اتنی کثرت سے” رسول اللہﷺکی حدیثیں بیان کرتے ہوں جیسا کہ فلاں اور فلاں بیان کرتا ہے- وہ فرمانے لگے: میں رسول اللہﷺ سے جدا نہیں ہوا لیکن میں نے سنا آپﷺ فرماتے تھے: "جو مجھ پر جھوٹ باندھتا ہے اس کا ٹھکانہ آگ ہے”

(صحیح بخاری، ج1 ص:12)

معروف تابعی عبدالرحمن بن ابی لیلی اپنا مشاہدہ بیان فرماتے ہیں کہ:

” ادرکت فی ھذا المسجد عشرین ومائۃ من الانصار وما منھم من یحدث بحدیث الا ود ان اخاہ کفاہ”

( میں نے اس مسجد میں ایک سو بیس(120)صحابہ کو پایا ہے ان میں سے کوئی ایک بھی حدیث بیان کرنے کو تیار نہ ہوتا بلکہ ہر ایک کی خواھش ہوتی تھی کہ کوئی دوسرا بھائی بیان کرے-"(دارمی:۱۳۵)

صحابہ کرام جیسے خود حدیث روایت کرنے میں احتیاط سے کام لیتے اسی طرح کسی دوسرے سے یعنی روایت لینے میں پوری احتیاط کرتے تھے جیسا کہ علی  رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں

"کنت اذا سمعت من رسول اللہ ﷺ حدیثا نفعنی اللہ بما شاء ان ینفعنی بہ وکان اذا حدثنی غیرہ استحلفتہ فاذا حلف صدقتہ”

میں جب رسول اللہ ﷺ سے براہ راست کوئی حدیث سنتا تو اللہ مجھے ا س حدیث سے جو نفع پہنچانا چاہتا پہنچا دیتا اور جب کوئی غیر مجھ سے حدیث بیان کرتا تو میں اس سے قسم اٹھواتا اگر وہ قسم اٹھالیتا تو میں اس کی تصدیق کرتا۔(مسند احمد۱؍۲)

خطیب بغدادی رحمہ اللہ  امام سلیمان بن مھران الاعمش سے بیان کرتے ہیں

أخبرنا أبو نعيم الحافظ قال ثنا أبو بكر عبد الله بن محمد بن عطاء القباب قال ثنا على بن سعيد العسكري قال ثنا يعقوب بن يوسف قال سمعت سهل بن زنجلة يقول سمعت وكيعا يقول سمعت الأعمش يقول كان هذا العلم عند أقوام كان أحدهم لأن يخر من السماء احب اليه من ان يزيد فيه واوا أو الفا أو دالا  الکفایۃ فی  علم الروایۃ 1/177

امام وکیع بن الجراح رحمہ اللہ  فرماتے ہیں میں نے سلیمان بن مھران الاعمش سے سنا وہ  فرماتے ہیں یہ علم ایسے معزز لوگوں کے پاس تھا کہ ان میں ایک آسمان سے گرنا تو گوارا کرلیتا لیکن اس میں ایک حرف واو ، الف اور دال کے اضافے کو برداشت نہیں کرتا تھا۔

امام ابو داؤد سلیمان بن اشعث سجستانی رحمہ اللہ  بھی انہی محدثین میں سے ایک ہیں جنہوں نے محمد رسول اللہ ﷺ کی شریعت کو جو حدیث کی صورت میں ان تک پہنچی بڑی امانتداری سے آگے پہنچایا حدیث کی ادائیگی میں ایک حرف بھی تبدیل نہ ہونے دیا امام ابو داؤد  رحمہ اللہ کی عظیم کتاب سنن ابی داؤد کا مطالعہ کرنے سے یہی بات آشکار ہوتی ہے  انہوں نے بڑی امانتداری سے اللہ کے نبی ﷺ کی احادیث کو، جیسے اپنے شیوخ سے سنا بعینہ ایسی طرح اپنی کتاب میں داخل کردیا  اگر کہیں حدیث کی سند یا متن بیان کرنے میں استاذہ نے کوئی کم بیشی کی ہے تو امام صاحب رحمہ اللہ  نے انکا نام لیکر اس کمی بیشی کو بیان کردیا۔

قارئین کرام :ہم آپ کے سامنے امام ابوداؤد کی اس عظیم  کتاب سے کچھ مثالیں رکھتے ہیں جن سے امام صاحب کی روایت  حدیث میں احتیاط اور پیغمبر کی شریعت کو آگے پہنچانے میں  امانتداری کی عظیم خوبیوں سے متصف ہونا واضح ہوتا ہے امام صاحب  رحمہ اللہ  نےجس طرح متن ِحدیث کو ادا کرنے میں امانتداری سے کام لیا ہے اسی طرح سندِحدیث میں بھی احتیاط کرنے میں کمال کردیا ۔ویسے تو سنن ابی داؤد اس طرح کی مثالوںسے بھری پڑی ہے جن سے روایتِ حدیث میں امام ابو داؤدرحمہ اللہ کی امانتداری سامنے آتی ہے  بغیر مبالغے کے اس پر ایک ضخیم کتاب ترتیب دی جاسکتی ہے لیکن آپ کے سامنے چند مثالیں پیش کرتے ہیں یاد رکھیں راقم الحروف کے کم علم ہونے  کی وجہ سے غلطی کا احتمال بدرجہ اتم موجود ہے اس عنوان کو صحیح طور کوئی صاحب علم ہی  کما حقہ سمجھا سکتا ہے ۔

٭امام ابوداؤدحدیث بیان کرتے وقت دو شیوخ میں سے ہر ایک کےالفاظ کے فرق کومد نظر رکھا مثلا ایک استاد نے سند بیان کی اس میں اسنے حدثنا کے الفاظ بیان کیئے دوسرے نے اس جگہ عن کا لفظ استعمال کیا ،ایک  نےپوری سند میں تصریح سماع کا لفظ ( حدثنا اخبرنا  سمعت وغیرہ )استعمال کیا دوسرے نے  اس  چیز  کا اہتمام نہیں کیا  امام ابوداؤدa اس کی وضاحت کرتے ہیں ،اسکی چندمثالیں ملاحظہ ہوں:

۱۔حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِىٍّ قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أَحْمَدُ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ أَخْبَرَنِى أَشْعَثُ وَقَالَ الْحَسَنُ عَنْ أَشْعَثَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ  سنن ابی داؤد رقم الحدیث27

اس سند میں امام صاحب کے دو استاد احمد بن حنبل اور حسن بن علی الحلوانی ہیںدونوں حدیث بیان کرتے وقت سند میں معمولی فرق کرتے ہیں احمد فرماتے ہیں’’حدثناعبدالرزاق حدثنا معمر  اخبرنی اشعث ‘‘یعنی معمر اور انکے استاد اشعث کے درمیان’’اخبرنی‘‘کا لفظ کہا جوکہ تصریح سماع پر دلالت کرتا ہے

انکے علاوہ امام صاحب  کے دوسرے استاد حسن بن علی ہیں  جو امام معمر اور انکے استاد اشعث کے درمیان لفظ’’عن ‘‘ کواستعمال کرکے سند  بیان کرتے ہیں۔

امام ابو داؤد رحمہ اللہ نے اس باریکی کو بھی نوٹ کیا اوراپنے تلامذہ اور قارئین تک اسے پہنچایا

۲۔حدثنا محمد بن المصفى وعمر بن حفص الوصابى – المعنى – قالا حدثنا بقية حدثنا شعبة  قال عمر عن شعبة. سنن ابی داؤد رقم الحدیث 1073

امام صاحب رحمہ اللہ کے دواستاد محمد بن المصفی اور عمر بن حفص  الوصابی ہیں امام صاحب فرماتے ہیں انکی حدیث کا مفھوم ایک ہی ہے لیکن الفاظ ذرامختلف ہیں  انہوں نے جب امام ابو داؤد a کو سند بیان کی تو ایک دوسرے سے معمولی اختلاف کیا محمد بن المصفی نے اپنے شیخ بقیہ سے یہ حدیث بیان کی’’حدثنا شعبۃ‘‘کہا اس کے برعکس جب امام صاحب کے دوسرے شیخ عمر بن حفص نے اپنے استاد بقیہ سے بیان کی تو’’عن شعبۃ‘‘کہا۔

۳۔حدثنا محمد بن المتوكل العسقلانى وسلمة قالا حدثنا عبد الرزاق عن معمر  ۔۔۔۔۔۔۔

قال سلمة بن شبيب قال أنا معمر. سنن ابی داؤد رقم الحدیث1863

یہاں بھی امام صاحب a نے اپنے شیوخ کے حدیث بیان کرنے میں الفاظ کے معمولی اختلاف کو واضح کیااور حدیث کے ادا کرنے میں بڑی امانتداری کا مظاہرہ کیا ہے امام صاحب کے دو استادوں محمد بن متوکل اور سلمۃ بن شبیب میں سے ایک سلمہ بن شبیب نے امام عبدالرزاق اور انکے استاد معمر کے درمیان’’اخبرنا‘‘کا لفظ استعمال کیا اور محمد بن متوکل نے’’عن‘‘کا لفظ استعمال کرکے حدیث  بیان کی ۔

٭ دواستادوں میں کسی شیخ کے الفاظِ حدیث کے حفظ پر زیادہ اعتماد  ہوتا  ہے تو وہاں نشاندہی کرتے ہیں کہ دونوں شیوخ میں فلاں کی حدیث  کے الفاظ مجھے زیادہ ازبر ہیں مثلا

۱۔حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ ح وَحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادٍ – قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَأَنَا لِحَدِيثِ ابْنِ يَحْيَى أَتْقَنُ – قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَهَذَا حَدِيثُ مُسَدَّدٍ وَهُوَ أَتَمُّ  سنن ابی داؤد رقم الحدیث62

امام صاحب رحمہ اللہ  کے دو  استاد محمد بن یحیی بن فارس اور مسدد بن مسرھد ہیں روایت امام صاحب نے کتاب کے اندر مسدد کے الفاظ سے بیان کی لیکن وضاحت کردی کی مجھے دونوں میں سے  میرے استاد محمد بن یحیی کی بیان کردہ حدیث کے الفاظ پر زیادہ اعتماد ہے اس جگہ امام صاحب نے روایت ِ حدیث میں امانتداری ، احتیاط کی مثال قائم کردی ہے ۔

۲۔حدثنا محمود بن خالد وعبد الله بن عبد الرحمن السمرقندى – وأنا لحديثه أتقن – سنن ابی داؤد رقم الحدیث 2342

یہاں بھی امام صاحب رحمہ اللہ نے روایتِ حدیث میں احتیاط کا مظاہرہ کیا ہے امام صاحب کے دو استاد ہیں محمود بن خالد اور عبداللہ بن عبدالرحمان السمرقندی امام صاحب فرماتے ہیں مجھے عبداللہ بن عبدالرحمان السمرقندی کے الفاظ ازبر ہیں ان پر زیادہ بھروسہ ہے ۔

۳۔حدثنا إبراهيم بن موسى الرازى أخبرنا ح وحدثنا عمرو بن عثمان حدثنا محمد بن حرب – المعنى وأنا لحديثه أتقن – عن أبى سلمة سنن ابی داؤد رقم الحدیث 2525

اس سند میں امام صاحب کے دو شیوخ ابراہیم بن موسی الرازی اور عمرو بن عثمان الحمصی ہیں  امام صاحب فرماتے ہیں یہ حدیث مجھے ان دو شیوخ نے بیان کی دونوں کےالفاظ ذرا مختلف ہیں لیکن مفھوم ایک ہی ہے مجھے اپنے استادعمرو بن عثمان الحمصی  کی بیان کردہ روایت کے الفاظ پر زیادہ اعتماد ہے۔

۴۔ حدثنا عيسى بن إبراهيم البركى وسمعته من أبى الوليد الطيالسى وأنا لحديث عيسى أضبط سنن ابی داؤد رقم الحدیث 5234

اس جگہ امام صاحب نے یہ حدیث دو شیوخ عیسی بن ابراہیم البرکی اور ابو الولید الطیالسی سے لی ہے لیکن امام صاحب فرماتے ہیں عیسی بن ابراہیم البرکی کے الفاظ بنسبت ابو لولید الطیالسی کے الفاظ سے میرے ضبط میں زیادہ ہیں۔

٭ایک ہی حدیث دو استادوں سے لی دونوں سے حدیث لینے کا انداز اگر مختلف ہے یعنی اگر ایک نے خود حدیث بیان کی اور دوسری شیخ پر حدیث پڑھی گئی امام صاحب نے سنی یا استاد پر خود امام  صاحب نے قراءت کی اس فرق کو بھی واضح کیا ،مثلا :

2505 – حدثنا عمرو بن عثمان وقرأته على يزيد بن عبد ربه الجرجسى قالا۔۔۔۔ سنن ابی داؤد رقم الحدیث2503

امام صاحب فرماتے ہیں ہمیں عمرو بن عثمان الحمصی نے حدیث بیان کی اور یہی حدیث میں نے اپنے استاد یزید بن عبد ربہ الجرجسی پر پڑھ کر بھی حاصل کی ہے۔

یعنی اس حدیث کو  دو شیوخ سے لیا لیکن حدیث لینے کا انداز مختلف تھا ایک نے خود بیان کی دوسرے استاد کے سامنے خود امام ابو داؤد  رحمہ اللہ نے پڑھی۔

٭اگر حدیث کے سماع کے دوران استاد سے حدیث کا کوئی لفظ صحیح طور پر نہ سن سکے کسی ساتھی سے سمجھا اسکی بھی نشاندہی فرماتے ہیں مثلاً:

۱۔حدثنا موسى بن إسماعيل حدثنا حماد ح وحدثنا نصر بن على عن مهنا أبى شبل – قال أبو داود ولم أفهمه منه جيدا سنن ابی داؤد رقم الحدیث 4993

امام صاحب a کے دو استاد موسی بن اسماعیل  اور نصر بن علی الجھضمی ہیں امام صاحب فرماتے ہیں:

میں یہ حدیث نصر بن علی  الجھضمی سے صحیح طور پر نہیں سمجھ سکا ۔

۲۔حدثنا سليمان بن حرب ومسلم بن إبراهيم – المعنى – عن وهيب عن مصعب بن محمد عن أبى صالح عن أبى هريرة قال قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم- « إنما جعل الإمام ليؤتم به فإذا كبر فكبروا ولا تكبروا حتى يكبر وإذا ركع فاركعوا ولا تركعوا حتى يركع وإذا قال سمع الله لمن حمده فقولوا اللهم ربنا لك الحمد ». قال مسلم « ولك الحمد ».قال أبو داود « اللهم ربنا لك الحمد ». أفهمنى بعض أصحابنا عن سليمان. سنن ابی داؤد رقم الحدیث 601

امام ابو داؤدa کے دو استاد ہیںان میں سے سلیمان بن حرب سے جب حدیث سنی تو’’اللهم ربنا لك الحمد‘‘کے الفاظ ان سے نہ سمجھ سکے فرماتے ہیں مجھے ہمارےساتھیوں میں سے کسی نے شیخ کے الفاظ سمجھائے ہیں ۔

یہاں بھی امام صاحب a نے امانتداری کی ایک مثال قائم کی ہے یہی وجہ ہے  شیخ عبدالمحسن العباد حفظہ اللہ انہیں عظیم الشان الفاظ کے ساتھ داد تحسین پیش کرتے ہیں شارح ابی داؤد شیخ عبدالمحسن العباد حفظہ اللہ اسی حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں :

وهذا من الاحتياط والتوقي والإتقان والعناية من أبي داود رحمه الله ا لمکتبۃ الشاملۃ  شرح سنن ابی داؤد لشیخ عبدالمحسن العباد  حفظہ اللہ 4/76

امام ابوداؤدa کے یہ الفاظ روایت حدیث میں آپ کے  کمالِ احتیاط ،ضبط اور توجہ کی واضح مثال ہیں

۳۔حدثنا سعيد بن منصور حدثنا شهاب بن خراش حدثنى شعيب بن رزيق الطائفى قال جلست إلى رجل له صحبة من رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يقال له الحكم بن حزن الكلفى فأنشأ يحدثنا قال وفدت إلى رسول الله- صلى الله عليه وسلم- سابع سبعة أو تاسع تسعة۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔ قال أبو على سمعت أبا داود قال ثبتنى فى شىء منه بعض أصحابنا وقد كان انقطع من القرطاس. سنن ابی داؤد رقم الحدیث1096

راوی سنن ابی داؤد ابو علی a فرماتے ہیں میں نے اپنے شیخ امام ابو داؤد رحمہ اللہ سے سنا کہ اس حدیث کے بعض  الفاظ  کے ثبوت میں  مجھے شک تھاکیوں کہ وہ الفاظ میرے مسودے سے مٹ گئے تھے جن کی تصدیق مجھے میرے ایک ساتھی نے کروائی ۔

قارئین کرام!اس مقام پر بھی امام صاحب aنے کمال احتیاط کا عظیم الشان کا مظاہرہ کیا ہے ۔

٭استاد کے الفاظ پر اگر صحیح ضبط نہیں ہوتا تو  حدیث بیان کرنے کے بعد  استاد کا نام لیکر’’او کما قال فلان‘‘ یعنی اگر میرے بیان کردہ الفاظ صحیح نہیں تو پھر حدیث ویسے ہی ہے جیسے فلان نے بیان کی مثلا :

…………………فصلى إلى جدار فاتخذه قبلة ونحن خلفه فجاءت بهمة تمر بين يديه فما زال يدارئها حتى لصق بطنه بالجدار ومرت من ورائه. أو كما قال مسدد. سنن ابی داؤد رقم الحدیث 708

امام صاحب رحمہ اللہ نے مذکورہ متن اپنے شیخ مسدد بن مسرھد سے ذکر کیا انہیں الفاظ میں تردد تھا متن مکمل بیان کرنے کے بعد فرمایا   ’’أو كما قال مسدد‘‘یا پھر حدیث اس طرح  ہے جیسے میرے شیخ مسدد نے بیان کی ۔

٭امام صاحب رحمہ اللہ کو ایک متن اگر چار شیوخ سے ملا انکے الفاظ میں معمولی فرق ہے مفھوم ایک ہی ہے تو امام صاحب رحمہ اللہ انتہائی امانتداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہر  ایک کے الفاظ کو الگ الگ بیان کردیا  جیساکہ انھوں نے اس متن کے حوالے سے اس طرح کیا ۔

حدثنا أحمد بن حنبل وأحمد بن محمد بن شبوية ومحمد بن رافع ومحمد بن عبد الملك الغزال قالوا حدثنا عبد الرزاق عن معمر عن إسماعيل بن أمية عن نافع عن ابن عمر قال نهى  رسول الله -صلى الله عليه وسلم- – قال – أحمد بن حنبل أن يجلس الرجل فى الصلاة وهو معتمد على يده

.وقال ابن شبوية نهى أن يعتمد الرجل على يده فى الصلاة.

 وقال ابن رافع نهى أن يصلى الرجل وهو معتمد على يده. وذكره فى باب الرفع من السجود.

 وقال ابن عبد الملك نهى أن يعتمد الرجل على يديه إذا نهض فى الصلاة. سنن ابی داؤد رقم الحدیث992

قارئین کرام کس طرح امام صاحب رحمہ اللہ نے متن کے الفاظ ادا کرنے میں شیوخ کے معمولی اختلاف کو واضح کردیا حالانکہ انکا مفھوم  ایک ہی ہے۔

٭حدیث کو اپنے شیخ سے صحیح طور پر ضبظ نہ کرسکے یا کوئی بھی اس حوالے سے شک اور تردد رہاتو حدیث بیان کرتے وقت اس کی وضاحت بھی کردی ۔

حدثنا موسى بن إسماعيل حدثنا حماد قال أخذت من ثمامة بن عبد الله بن أنس كتابا زعم أن أبا بكر كتبه لأنس وعليه خاتم رسول الله -صلى الله عليه وسلم- حين بعثه مصدقا وكتبه له فإذا فيه « هذه فريضة الصدقة التى فرضها رسول الله -صلى الله عليه وسلم- على المسلمين التى أمر الله عز وجل بها نبيه -صلى الله عليه وسلم۔۔۔۔۔۔۔  سنن ابی داؤد رقم الحدیث 1567

امام صاحب رحمہ اللہ اس لمبی حدیث کو بیان کرتے ہوئے متن میں ایک مقام پر جاکر فرماتے ہیں :(قال أبو داود من ها هنا لم أضبط عن موسى كما أحب) میں اپنے استاد موسی بن اسماعیل سے اس مقام سے متن جس طرح میں چاہتا تھا ویسے یاد نہ کرسکا۔

حدثنا أحمد بن حنبل حدثنا عبد الرزاق أخبرنا ابن جريج أخبرني أبو الزبير أنه سمع جابرا يقول سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى أن يقعد على القبر وأن يقصص ويبنى عليه .

حدثنا مسدد وعثمان بن أبى شيبة قالا حدثنا حفص بن غياث عن ابن جريج عن سليمان بن موسى وعن أبى الزبير عن جابر بهذا الحديث قال أبو داود قال عثمان أو يزاد عليه وزاد سليمان بن موسى أو أن يكتب عليه ولم يذكر مسدد فى حديثه أو يزاد عليه. قال أبو داود خفى على من حديث مسدد حرف وأن. سنن ابی داؤد رقم الحدیث 3226

امام صاحب رحمہ اللہ نے یہ متن اپنے تین شیوخ احمد بن حنبل ، مسدد اور عثمان بن ابی شیبہ سے لیا ہے پھر انکے الفاظ ذرا مختلف تھے اسکو واضح کرتے ہیں کہ عثمان بن ابی شیبہ نے اس متن کے الفاظ میں ’’أو يزاد عليه‘‘کا  اضافہ کرتے ہیں  پھر ابن جریج کے دو شیوخ سلیمان بن موسی اور ابو الزبیر کے الفاظ میں اختلاف تھا اسکو’’أو أن يكتب عليه‘‘سےواضح کیا یہ سلیمان کے الفاظ ہیں اسکے بعد امام صاحب اپنے شیخ مسدد کے بارے فرماتے ہیں انہوں مجھے جب مذکورہ متن د  یا تو’’أو يزاد عليه‘‘ کا ذکر نہیں کیا دوسرا انکی حدیث سے مجھ پر’’یبنی علیہ‘‘سے پہلے لفظ’’وان‘‘مخفی رہا ۔

سنن ابی داؤد کے اس مقام پر امام صاحب  رحمہ اللہ نے روایتِ حدیث میں احتیاط کی عظیم الشان مثال پیش کی ہے  یہی وجہ ہے کہ الشیخ عبدالمحسن العباد حفظہ اللہ نے بڑے خوبصورت الفاظ کے ساتھ انہیں داد تحسین پیش کی ہے ۔

شیخ عبدالمحسن العباد حفظہ اللہ رقمطراز ہیں :

وهذا يدل على عناية العلماء الفائقة بضبط ألفاظ الأحاديث، فتجدهم يضبطون مثل هذه الألفاظ اليسيرة السهلة التي يكون المعنى واضحاً بها وبدونها، ومع ذلك فقد اعتنوا عناية فائقة بضبط الأحاديث وتدوينها. المکتبۃ الشاملۃ شرح ابی داؤد لشیخ عبدالمحسن العباد   17/129

محدثین کرام کا یہ انداز اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ وہ احادیث کے الفاظ کو محفوظ کرنے میں کس قدر خصوصی توجہ دیا کرتے تھے کہ وہ معمولی اور آسان الفاظ جن کے بیان کرنے نہ کرنے سے عبارت کے واضح ہونے میں کوئی فرق نہیں پڑتا لیکن اسکے باوجود وہ احادیث کے ضبط و تدوین کا زبردست اہتمام کرتے تھے۔

اس طرح کا اعتراف امام صاحب رحمہ اللہ  اپنی اس عظیم کتاب میں سند کے حوالے سے بھی کرتے ہیں ۔

قال أبو داود لم أفهم إسناده من ابن العلاء كما أحب سنن ابی داؤد رقم الحدیث 2684

میں جس طرح چاہتا تھا اس سند کو اپنے شیخ  ابن العلاء سے نہیں  سمجھ سکا ۔

حدثنا سليمان بن حرب ومحمد بن عيسى قال أبو داود : فهمت هذا من محمد بن عيسى سنن ابی داؤد رقم الحدیث 3316

امام صاحب رحمہ اللہ اپنے دو شیوخ سے ایک لمبی حدیث ذکر کرتے ہیں الفاظ سلیمان بن حرب کے لاتے ہیں لیکن درمیان میں   امانتداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں حدیث کا یہ حصہ میں نے اپنے  شیخ محمد بن عیسی سے سمجھا ہے  وہ متن کا ٹکڑا ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں

’’قال أبو داود : ثم رجعت إلى حديث سليمان‘‘ اب میں اپنے پہلے شیخ سلیمان بن حرب کے الفاظ کی طرف دوبارہ لوٹتا ہوں

٭ اپنے شیوخ سے سنی ہوئی حدیث کے الفاظ  میں فرق نہ کرسکے تو وضاحت کردی کہ میرے اوپر دونوں استادوں کے الفاظ خلط ملط ہوچکے ہیں

حدثنا مسدد وأبو كامل دخل حديث أحدهما في الآخر 854

امام صاحب a کے یہاں دو استاد ہیں جنہوں نے انکو حدیث دی امام صاحب فرماتے ہیں میرے دونوں استادوں کی حدیث  مجھ پر خلط ملط ہوئی ہے۔

حدثنا موسى بن إسماعيل حدثنا حماد ح وحدثنا بشر بن خالد حدثنا أبو أسامة قالا۔۔۔۔۔۔۔۔

دخل حديث أحدهما فى الآخر. سنن ابی داؤد رقم الحدیث 4933

اس مقام پر بھی امام صاحب اس چیز کو واضح فرما رہے ہیں کہ میرے استاد موسی بن اسماعیل اور بشر بن خالد کی حدیث مجھ پر خلط ملط ہوچکی ہے

٭امام صاحب رحمہ اللہ نےکہیں اپنے شیخ کے سھو کو محسوس کیا وہاں حدیث تو ویسے ہی بیان کردی جیسے شیخ سے سنی تھی لیکن کمال ادب سے اس غلطی کی  وضاحت بھی کردی مثلا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِىٍّ وَغَيْرُهُمْ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ  قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَهَذَا لَفْظُ ابْنِ الْعَلاَءِ وَقَالَ عُثْمَانُ وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِىٍّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ. قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَهُوَ الصَّوَابُ سنن ابی داؤد رقم الحدیث 61

امام  ابو داؤدرحمہ اللہ کے  ایک استاد محمد بن العلاء نے سند میں موجود راوی ولید بن کثیر کے استاد کا نام محمد بن جعفربن زبیربتایا چونکہ امام صاحب انہی کے بیان کردہ الفاظ سے اپنی کتاب میں حدیث کامتن ذکر کرتے ہیںلہذا سند بیان کرتے وقت ابن العلاء کے الفاظ کا لحاظ رکھتے ہوئے محمد بن جعفر کہہ کرسند بیان کردی لیکن بعد میں بتایا کہ میرے دو دوسرے شیوخ اس راوی کا  نام محمد بن عباد بن  جعفر بیان کرتے ہیں اور فرمایا ’’وھو الصواب‘‘ انکی بات ٹھیک ہے۔

حدثنا عباس بن عبد العظيم حدثنا عبيد الله بن موسى حدثنا يوسف بن صهيب عن عبد الله بن بريدة عن أبيه أن امرأة حذفت امرأة فأسقطت فرفع ذلك إلى رسول الله -صلى الله عليه وسلم- فجعل فى ولدها خمسمائة شاة ونهى يومئذ عن الحذف. قال أبو داود كذا الحديث خمسمائة شاة. والصواب مائة شاة. قال أبو داود هكذا قال عباس وهو وهم. سنن ابی داؤد رقم الحدیث 4578

امام صاحب a کو انکے شیخ عباس بن عبدالعظیم العنبری نے جب  یہ متن بیان کیا تو "خمس مائۃ  شاۃ” کہا  انتہائی امانتداری کے ساتھ "كذا الحديث خمسمائة شاة "کہ شیخ نے حدیث تو ایسے بیان کی لیکن صحیح "مائۃ شاۃ "ہے میرے شیخ عباس بن عبدالعظیم  سے وہم ہوا ہے۔

٭ایک ہی متن دو شیوخ سے سنا ہو ایک نے متن میں اگر ذرہ برابر بھی اضافہ کیا امام صاحب a نے روایت حدیث میں امانتداری کا مظاہرہ کرتے ہو ئے اسکی بھی وضاحت کردی سنن ابی داؤد کی اندر  اسکی بے شمار مثالیں موجود ہیں جن میں  سےصرف دو مثالیں پیش کی  جاتی ہیں :

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ وَمُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ – الْمَعْنَى – ………….    فَقُولُوا اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ ». قَالَ مُسْلِمٌ « وَلَكَ الْحَمْدُ » –  سنن ابی داؤد رقم الحدیث 603

امام صاحب کے دو استاد سلیمان بن حرب اور مسلم بن ابراہیم  اس حدیث کو بیان کرتے ہیں سلیمان بن حرب نے  بغیر واو کے” ربنا لک الحمد”کہا اور اس کے برعکس مسلم بن ابرہیم نے واو کے اضافے کے ساتھ "ربنا ولک الحمد”بیا ن کی ہے  امام صاحب رحمہ اللہ نے اس پر  بھی قارئین کو متنبہ کردیا ۔

حدثنا سليمان بن حرب وحفص بن عمر قالا حدثنا شعبة عن عمرو بن مرة عن هلال بن يساف عن عمرو بن راشد عن وابصة أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- رأى رجلا يصلى خلف الصف وحده فأمره أن يعيد – قال سليمان بن حرب – الصلاة. سنن ابی داؤد رقم الحدیث680

اس حدیث کو بھی امام ابو داؤد رحمہ اللہ نےدو شیوخ سے لیا امام صاحب کے استاد حفص بن عمر حدیث بیان کرتے ہوئے صرف ان یعید کہتے ہیں ان کے علاوہ سلیمان بن حرب نے جب امام صاحب کو یہ متن دیا تو ان یعید الصلاۃ بیان کیا یعنی الصلاۃ کا اضافہ کیا۔

قارئین کرام یہ تھیں امام ابو داؤد رحمہ اللہ کی روایت ِحدیث میں احتیاط ،امانتداری کی چند مثالیں جو سنن ابی داؤد سے جمع کی گئیں اگر مزید تتبع کیا جا ئے تو اس حوالے سے کافی مواد حاصل ہوسکتا ہے بہر حال سلف صالحین ومحدثین کرام کا یہ انداز ہمیں سبق دیتا ہے کہ ہم بھی شریعت، احادیث کو بیان کرنے میں احتیاط کریں سنی سنائی روایت نبی اکرمﷺ کے طرف منسوب کرنا موضوع و من گھڑت واقعات مزے لے لے کر عوام کو سنانا دین کی خدمت نہیں بلکہ نبی ﷺ کی احادیث کی روشنی میں بہت بڑی وعید کا باعث ہے اللہ رب العالمین ہمیں منھج سلف پر  چلائےانہیں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ہمارا خاتمہ بالخیر ہو ۔

About شیخ عبدالرحمان اثری

جواب دیجئے