Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2018 » شمارہ جون » دو اصحاب علم و فضل کا داغ مفارقت

دو اصحاب علم و فضل کا داغ مفارقت

ماہ جون 2018ع میں جماعت اہل حدیث سندھ کودو باوقار، کہنہ‎مشق اصحاب علم و فکر علمی خاندان کے چشم و چراغ حضرات کی جدائی کے صدمے سے دو چار ہونا پڑا۔ [انا للہ و انا الیہ راجعون]

سچ ہے کہ موت ایک اٹل حقیقت ہے جس سے کوئی متنفس محفوظ نہیں، لیکن ان حضرات کے داغ مفارقت سے ایک عہد اپنے اختتام کو پہنچا۔

   سید محمد ابراھیم شاہ المعروف سید حاکم شاہ راشدی بن شیخ العرب والعجم علامہ بدیع الدین شاہ راشدی متوفی[1996] کے سب سے چھوٹے اور آخری فرزند ارجمند تھے، جنہوں نے 27 رمضان المبارک کو داعی اجل کو لبیک کہا، آپ گوناگوں صفات عالیہ واوصاف حمیدہ سے متصف تھے، علم پرور ہونے کے علاوہ آپ جہاندیدہ ،مردم شناس، زیرک، دوستوں اور اہل علم کے دوست، قوت حافظہ سے مالا مال باغ و بہار طبع کے مالک تھے۔

شہر خموشاں خاک تیری، کھا گئی کیسے کیسے لوگ

ٹھوس مطالعہ ان کا سرمایہ علم و افتخار تھا، صاف اور سادہ مزاج ستھری اور باوقار طبع کے مالک پوری جماعت اور علامہ شاہ صاحب کے قدر شناسوں پر مشفق و مہربان نظر آتے تھے، چونکہ آپ اپنے والد گرامی کے آخری فرزند ارجمند اور یادگار تھے لھذا ان کے بچھڑجانے سے علامہ شاہ صاحب کی علمی بزمہائے کے کئی واقعات صفحہ ذہن پر ابھر آتے ہیں۔ مگر {کل من علیھا فان}انہوں نے تقریبا ساٹھ سال کی عمر پائی، انکی شخصیت اتنی یادگار باوقار باغ و بہار، پر کشش اور جاذبیت سے بھرپور تھی کہ جو ان سے ایک بار ملتا وہ ان کے حسن خلق سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکتا، بلاشبہ ان کا حلقہ احباب وسیع تھا، انکی مجالس میں بیٹھ کر تسکین قلب عطا ہوتی تھی، وہ ‎‌‎گئے تو بڑی عمر میں لیکن ان کے اٹھ جانے سے ایک عہد اورایک دور رخصت ہوگیا۔جسے محسوس کرتے ہوئے جماعت اہل حدیث نے انکے داغ مفارقت کو جوانوں کے جانے کی طرح محسوس کیا، چونکہ آپ شاہ صاحب کی آخری یادگار، اور اس عہد،اسلوب،ذوق کے نمائندہ تھے، لھذا انکے سانحہ ارتحال کا سن کر فضیلۃ الشیخ علامہ عبداللہ ناصر رحمانی حفظہ اللہ نے نیوسعیدآباد انکے گھر آکر دعائے مغفرت کے ساتھ پوری جماعت سے دلی تعزیت کی بہرحال اللہ تعالی انکی مغفرت کرے انکے پورے خاندان بالخصوص انکے فرزند ارجمند کو صبر جمیل کی توفیق عطا فرمائے اور انکی بشری لغزشوں پر نظر عفو کرتے ہوئے اپنی بے پایان رحمت کا نزول فرمائے آمین۔

سپردم بہ تومایہ خویش را۔ تودانی حساب کم و بیش را۔

{2} مولوی ابوعکاشہ عبدالجبار کھٹی مرحوم بھی تقریبا پچاس سال کی عمر میں مؤرخہ 18 جون 2018ع کو نوکوٹ ضلع میرپورخاص میں طویل علالت کے بعد مالک حقیقی سے جا ملے، آپ سندھ کی مشہور حق گو جماعت اہل حدیث کے روح رواں،علامہ شاہ صاحب کے دست راست مولوی محمّد سلیمان کھٹی {متوفی  15ستمبر2003}کے گھر پیدا ہوئے انہوں نے ابتدائی تعلیم نوکوٹ کے مدرسہ دارالقرآن والحدیث اور عصریہ ہائی اسکول نوکوٹ میں حاصل کرنے کے بعد تحصیل ھیڈکوارٹر ڈیپلو تھرپارکر کے قدیم مدرسہ دارالقرآن والحدیث میں علوم اسلامیہ کے ماہر مولانا محمد حیات لاشاری{متوفی2006}کے ہاں تحصیل علم کے بعد علامہ شاہ صاحب کے دست مبارک سے سندالفراغ حاصل کر کے کچھ وقت تک اسی مدرسہ مین تدریس کے فرائض سرانجام دینے کے بعد انکے والد مرحوم کی ناسازئ صحت کے باعث نوکوٹ آکر مرکزی جامع محمدی مسجد اہل حدیث میں خطابت وامامت کے فرائض سرانجام دینا شروع کیے۔ مولوی عبدالجبار کھٹی کا مطالعہ نھایت وسیع تھا، وہ بحالت بیماری بھی جب ہمت بحال ہوتی تو کتب بینی یا عبادت گذاری میں مصروف نظر آتے تھے، آپ نہ صرف جامع محمدی مسجد اہل حدیث کے بانی و مھتمم تھے بلکہ زندگی کا ایک بڑا حصّہ انہوں نے مسجد کی خدمت کرتے ہو‎ۓئے خطابت و امامت کے فرائض بحسن وخوبی سرانجام دیئے، تا آنکہ 19جون2018ع کو انکی میت بھی جامع محمدی مسجد اہل حدیث کے ملحق کمرہ سے اٹھائی گئی  آپ ایک اچھے داعی ومدرس بھی تھے ، اچھے مؤثرخطیب و مقرر ہونے کے ساتھ دعوت الی اللہ اور توحید وسنت کو بڑی خوش اسلوبی سے عوام الناس تک پہنچایا کرتے تھے، مولوی ابوعکاشہ عبدالجبار کھٹی مرحوم گذشتہ چند برسون سے فالج کی معذوری اور قوت گویائی سے محرومی کی وجہ سے خانۂ نشین رہے۔

عمر بھر کی بےقراری کو قرار آہی گیا

مرحوم کی نماز جنازہ میں نوکوٹ شہر کے علاوہ قرب وجوار کے دیہات سے جماعت اہل حدیث کے علمائے کرام،دوست واحباب اور کاروباری شخصیات نے کثرت سے شرکت کی، انکی نماز جنازہ مولانا احمد صدیق نے پڑھائی، بہرحال اللہ تعالی مرحومین کی بشری لغزشوں کو معاف فرمائے‎ۓ، اور ان کو شفاعت،مغفرت ورحمت سے نوازے اور پسمانداگان کو صبر جمیل کی توفیق عطا فرمائے۔آمین

About پروفیسر مولابخش محمدی

پروفیسر مولابخش محمدی،مٹھی تھرپارکر

Check Also

علامہ سیّد بدیع الدین شاہ راشدیؒ (1926ع  ۔۔ 1996ع)

درمیانہ قد، ہلکا پھلکا معتدل جسم، تیکھے نقوش، کشادہ جبیں پر علم و فضل کا …

جواب دیجئے