Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2018 » شمارہ جون » معہد کی مہک سے معطرمہران

معہد کی مہک سے معطرمہران

نبوی منہج پر قائم دینی مدارس محمدی مشن کے مراکز ہیں ان مدارس کا تعلق کسی تقویم، کسی تمدن، کسی عہد،کسی قوم ،کلچر ،کسی زبان وادب سے نہیں بلکہ ان کا تعلق براہ راست نبوت محمدﷺ سے ہے،مدارس ایک ایسی بڑی کارگاہیں ہیں جہاں آدم گری اور مردم سازی کاکام ہوتا ہے، یہاں پر دین کے داعی، اسلام کے سچے سپاہی تیار ہوتے ہیں، اسلامی آبادی بلکہ تمام انسانی آبادی کے عقائد ونظریات کی اصلاح ہوتی ہے ،قرآن وسنت کے حاملین مدارس میں تربیت پانے والے طلبۂ عظام کو وحی کی تعلیمات کا آبِ حیات پلایاجاتاہے ان مدارس کا ایک سرا نبوت محمدی ﷺ سے ملا ہے تو دوسراسرا اس زندگی سے جڑاہوا ہے اگر ان دینی مدارس کی قندیلیں زندگی سے نکال دیں توہرطرف جہالت،کفر اور شرک کی تاریکیاں پھیل جائیں ،کیوں کہ مدارس ہی روشنی کے مینار ہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے یثرب کی سرزمین پر قدم جماتے ہی اس اسلامی اسٹیٹ پرجو اولین اقدامات کیے تھے وہ مسجد نبوی کی تعمیر، مواخاتِ مدینہ اور میثاقِ مدینہ ہیں، مسجد نبوی کی تعمیر کے ساتھ اس ارض مقدس میں ایک جگہ کوسائباں سےڈھانپ کر ایک چبوترہ بنایاگیا تاکہ تجلیاتِ نبوت سے فانوس روشن کیے جاسکیں، دنیا اس چبوترے کو صفا اور اس میں تعلیم وتربیت پانے والے افضل اشخاص کو اصحاب صفہ کے نام سے جانتی ہے،یہ اسلام کی پہلی اقامتی دینی درسگاہ ہے جس کے مؤسس اکرم الخلائق محمدرسول اللہ ﷺ ہیں، یہی وجہ ہے کہ ہر صاحب علم وفہم کی ہردور میں ایک دیرینہ بلکہ اس کی زندگی کی اہم ترین خواہش یہ ہوتی ہے کہ نبوی منہج پر ورثہ نبوت سے تزکیۃ النفوس کا کام کیاجائے،ان محاسن کو مد نظر رکھتے ہوئے مفسرقرآن، محدیث دیار سندھ شیخ العرب والعجم علامہ سیدابومحمد بدیع الدین شاہ راشدی رحمہ اللہ جس نے عالم اسلام، پاکستان بالخصوص سندھ کے شہر شہر،نگرنگر،قریۃ قریۃ، بستی بستی بڑی جانفشانی سے توحیدوسنت کا بھولاہواسبق پھر سے پڑھایا،وادی مہران میں محمدی مشن کی مزید آبیاری کے لئے علوم اسلامیہ کی عظیم دینی درسگاہ جامعہ راشدیہ کے قیام کے لئے 22ایکڑ زمین خریدی مگر ہر معاملے پر اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی مشیت غالب ہے،اجل الٰہی سے مہلت نہ ملی جامعہ کاخواب ادھورا چھوڑ کر اپنے رب کی رحمت کی طرف روانہ ہوگئے۔

اس کے بعد آپ کے علمی جانشین محدث العصر ،استاذ الاساتذہ، فضیلۃ الشیخ علامہ عبداللہ ناصررحمانی حفظہ اللہ نے حقیقی نیابت کے منصبِ بلند پر سرفراز ہوتے ہی جمعیت اہل حدیث سندھ کے دیگر امور کےساتھ ساتھ محمدی مہک سے وادیٔ مہران کے معاشرے کو معطر کرنے کے لئے قرآن وسنت کے حاملین سلف صالحین کے منہج پر المعہد السلفی للتعلیم والتربیۃ کی بنیاد رکھی۔

الٰہ العالمین کی رحمت عالیہ سے پھر محترم شیخ حفظہ اللہ کے اخلاص اور مشفق اساتذہ کرام کی انتھک محنتوں سے آج اس معہد کی مہک سے پورا پاکستان بالخصوص وادیٔ مہران کا کونہ کونہ معطر نظرآتاہے۔

میں راقم الحروف جمعیت اہل حدیث سندھ کا ایک ادنیٰ سا کارکن ہونے کےساتھ ایک ادنی طالب علم بھی ہوں، اللہ تعالیٰ کی توفیق سے سندھ کے کافی شہروں،علاقوں ،گوٹھوں،تھرپارکرسے لے کر اَپرسندھ کے کچھ حصوں میں تبلیغی ،تعلیمی ،تفریحی، تفہیمی دورے کرچکاہوں،بحمدللہ ہر علاقے میں اس گلشن کے گل(پھول) نظرآئے ہیں، المعہد السلفی اور اس کے ذیلی اداروں سے سندفراغت حاصل کرنے والے طلبہ کرام کی تعداد تو بہت زیادہ ہے مگر اصل بات بہتات کی نہیں بلکہ ایسے افراد تیار کرنا مطلوب ومقصود ہیں جو گلشن محمدی کی آبیاری کرتے ہوئے اسلام کی امانت کو صحیح طریقے کے ساتھ لوگوں تک پہنچائیں، اس قحط الرجال میں ربانی رجال پیداکرنا ہی اصل ہدف ہے، محمدی مشن سے محبت کرنے والوںکے مربی،معہد کے مؤسس محدث العصر فضیلۃ الشیخ علامہ عبداللہ ناصررحمانی حفظہ اللہ اکثر کہاکرتے ہیں کہ :’’یہ ادارہ المعہد السلفی اپنی سوسالہ محنتوں اور اپنے تمام تر وسائل کو صرف کرنے کے بعد نتیجتاً اس سے ایک ابن تیمیہ رحمہ اللہ تیار ہوجائے تو ہمارے سارے اہداف پورے ہوگئے۔‘‘

اللہ تعالیٰ کی بے حساب رحمت سے ہمیں امید ہے کہ محترم شیخ حفظہ اللہ کے لگائے ہوئے اس باغ کو اللہ سبحانہ وتعالیٰ یہ اعزاز بھی بخش دیں گے، مگر محترم قارئین کرام!ان الفاظ میں سمایہ ہوا ایک سمندر ہے ایک درد اور ہدف ہے کہ ایسا انقلابی کام ہو جس سے توحید وسنت کا بول بولاہوجائے۔

بحمدللہ آج سرزمین سندھ میں ربانی علماء کی ایک بڑی تعداد دعوتی واصلاحی سرگرمیوں میں سرگرم نظرآتی ہے، مہران کےان موحدوں کے افق پر ہمیں المعہد کے ماہتاب بھی نظرآتے ہیں، ان علاقوں میں بھی جہاں پرتوحید وسنت کا نام لینا جرم اور گستاخی سمجھاجاتاتھا، بدعقیدگی گمراہی دین بن چکی تھی، بحمدللہ آج وہاں پر قال اللہ وقال الرسول ﷺ کی صدائیں بلند کرتے ہوئے اس المعہد کے مہکتے پھول نظر آتے ہیں۔

سمندری ساحل(کراچی ،گولارچی،بدین) سے کوہستان (جامشورو) تھر کے ریگستان،نگر،ناتھن(خیرپور) عمرکوٹ، نیرون کوٹ، ڈیپلو، دربیلو، سعیدآباد،سکندرآباد، حیدرآباد، شکارپور،میرپورخاص، رانی پور، کنری، قمبر،سکھر،سانگھڑ،کینجھر، کارونجھر سے لے کر کشمور کے کناروں تک المعہد السلفی نے وادیٔ مہران میں موتی بکھیردیے ہیں۔

ا ندرونِ سندھ کی عظیم دینی درسگاہ جامعہ بدیع العلوم الاسلامیہ سعید آباد ،ادارہ تعلیم القرآن والحدیث مٹیاری،وادیٔ مہران میں موجود چھوٹے بڑے مراکز ومدارس کی ایک اچھی خاصی تعداد معہد کی بے مثل محنتوں کی ایک نظیر ہے۔

دل کی چاہت اور موضوع کی اہمیت کا تقاضا یہ ہے کہ میں المعہد السلفی کی وادیٔ مہران میں محنتوں،اس گلستان کے ثمین ثمرات،اس باغِ بہاراں کی بہاریں ،اور اس علمی آبشار سے کی گئی آبیاری کا تفصیلی تذکرہ کروں، مگر مضمون کی طوالت کاخوف اور سندھ میں توحید وسنت کی صداؤں کوبلند کرنے والے مجلہ’’ دعوت اہل حدیث‘‘کے قواعد اور ضوابط کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے اسی پر اکتفاکرتاہوں۔

اللہ رب العزت کے حضور بدست عاجزانہ دعا ہے کہ مولائے کریم نبوی منہج پر ان مراکز ومدارس کی حفاظت فرمائے، بالخصوص وادیٔ مہران کی عظیم دینی درسگاہ المعہد السلفی للتعلیم والتربیۃ سے محبت ومصاحبت رکھنے والے تمام منتظمین ،مدرسین ومعاونین کی کاوشوں کو قبول ومنظور فرمائے، اور اس جہدِ جمیل کےبدولت منتظمین ومعاونین اور مدرسین ومحبین کو میدانِ محشر کی مشقتوں سے محفوظ رکھے، دنیا وآخرت کے خیرکثیر سے ان کی جھولیاں بھردے۔(آمین یارب العالمین)

About ابواحسان واحد بخش کاکا

جواب دیجئے