Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2018 » شمارہ جون » احکام ومسائل

احکام ومسائل

دواہم مسائل کی وضاحت

محترم جناب مفتی صاحب

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

عرض یہ ہے کہ آج کل بینک سےلوگ قرضہ لیتے ہیں اس وجہ سے کہ زراعت کیلئے بینک قرضہ اس قاعدے کے تحت دیتی ہے کہ جو بھی غریب کسان ہیں ان کے لئے آسانی ہے اور وہ قرضہ سال کے بعد 20000پر2000اضافی لیتے ہیں،کچھ کہتے ہیں کہ یہ کاروبار ہے اور اس کو زمین کی کھاد کے لئے استعمال کیاجاتاہے،اگر وہ کھاد سیٹھوں سے لیتےہیں تو وہ ان پر ڈبل رقم لگاتے ہیں اس لئے بینک ان کو آسانی کیلئے رقم دیتی ہے، اور اضافی چارجز لیتی ہے اس کی شرعی حیثیت کیا ہے۔

ہمارے علاقےمیںمسجد ہے اس کے سامنے جوپلاٹ ہے اس کو قبرستان بناناکیساہے ،اور وہاں ایک قبر بھی رکھی گئی ہے اورہمارا اس مسجد میں نمازپڑھنا اور پڑھانا کیسا ہے؟

الجواب بعون الوہاب

صورت مسئولہ برصحت سؤال

بینک یاکوئی فردیاادارہ اگر کسی شخص کو20,000روپے قرضہ دے اور واپسی پر20,000کے بجائے22ہزار کاتقاضہ کرے تو یہ سود ہوگا جیسا کہ حدیث موقوف میں امام بیہقی aنے روایت کیا ہے:[کل قرض جر منفعۃ فھو وجہ من وجوہ الربا] یعنی ہر وہ قرض جو کہ قرض کے ساتھ منافع بن کر آئے وہ قرض سود کی اقسام میں سے ایک قسم ہے۔

نیز ارشاد باری تعالیٰ ہے:[وَاَحَلَّ اللہُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبٰوا۝۰ۭ ](البقرہ:۲۷۵)

یعنی:اللہ تعالیٰ نے تجارت کو حلال قراردیاہے اور سود کوحرام ۔

لہذا بینک کی یہ پیشکش صریحاً سود ہے، البتہ تجارت جائز ہے ،چاہے تجارت میں کوئی چیز مہنگی فروخت ہورہی ہو۔

جہاں تک دوسرے سوال کا تعلق ہے کہ مسجد کے سامنے جوپلاٹ ہے اسے قبرستان کے طور پر استعمال کیاجارہا ہے اس پلاٹ کو قبرستان بنانا درست نہیں ہے قبرستان کے لئے کسی اورپلاٹ کا انتخاب کیاجانا چاہئے۔

یہ اس لئے کہ مسجد پہلے بنی ہے اور قبرستان کےلئے جگہ بعد میں وقف کی گئی ہے ،مسجد کو قائم رکھنا تمام اہل محلہ خصوصا وہ لوگ جو علاقے میں اپنا مقام رکھتے ہیں ان کی شرعی ذمہ داری ہے ۔ہاں اگر قبرستان پہلے موجود تھا اور مسجد بعد میں بنوائی گئی ہوتوایسی جگہ مسجد بنانا درست نہیں ہے بلکہ اس مسجد کاگورنمنٹ نوٹس لے اور ختم کروادے اور یہ بات بھی علم میں رہے کہ مسجد کے سامنے اگرقبرستان یاقبر ہے توہاں مسلمانوں کانماز پڑھنا درست نہیں ہے ،جیسا کہ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے:[لعن اللہ الیھود والنصاریٰ اتخذوا قبور انبیائھم مساجدا](متفق علیہ) یعنی:یہود ونصاریٰ پر اللہ کی لعنت ہو انہوں نے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنالیا۔

وراثت سے متعلق ایک مسئلے کی وضاحت

محمد یوسف کوریٹائرمنٹ کے ۹لاکھ ۶۰ہزار ملے،قرض کی ادائیگی کے بعد جبکہ قرض ۷لاکھ تھا قرض کی ادائیگی کے بعد باقی رقم اور مزید۱۰ لاکھ ملنے والے ہیں ان میں سےجوبقایا رقم ہے قرض کے بعد اور محمدیوسف کا والداوروالدہ زندہ ہیں،اور۶بچے ،۲بیویاں ہیں اب یہ رقم کیسے تقسیم ہوگی؟

جبکہ بیویاں کہہ رہی ہیں کہ یہ بقایا رقم ہماری ہے ان میں سے محمد یوسف کے والدین کا کوئی تعلق نہیں۔

اورمحمدیوسف کاوالدکہہ رہا ہے کہ بقایا رقم میرے حوالے کی جائے تاکہ میں محمد یوسف کی اولاد کی صحیح پرورش کرسکوں کیونکہ محمد یوسف کی ایک بیوی کے بچے میرے پاس رہتےہیں ان بچوں کومال چھوڑکر میکے چلے گئی ہے۔

جبکہ ۱۴ہزار ماہانہ ہر ایک بیوی کوسرکاری ک طرف سے پینشن کے طور پر ملتا ہے اب سوال یہ ہے کہ باقی ملنے والے ۱۰لاکھ اور۹لاکھ ۶۰ہزار میں ۷لاکھ کی ادائیگی کے بعد جو رقم بچتی ہے ان کی تقسیم کیسے ہوگی اگر وہ پیسے بچوں کوملیں توبچوں کی کفالت کون کرے؟

اور ان پیسوں اوربچوں کاوارث کون ہے؟

قرآن وحدیث سے ہماری راہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الوہاب

صورت مسئولہ برصحت سؤال

مرحوم محمد یوسف کوریٹائرمنٹ کے بعد۹لاکھ ۶۰ہزار روپے ملے تھے جبکہ ۱۰لاکھ مزید ملنےوالےہیں جو کہ ٹوٹل ۱۹لاکھ ۶۰ہزار بنتے ہیں ،مذکورہ ورثہ کی تقسیم ورثاء جوکہ والدین مرحوم کی ۲بیوائیں اور ان کے چھ بچوں میں تقسیم سے قبل پہلے ان کاقرضہ اداکیاجائےگاجو کہ تقریبا ۷لاکھ روپے ہیں اس کے بعد بقیہ رقم(12,60,000)بارہ لاکھ ساٹھ ہزار روپے ہیں، سب سے پہلے والدین کوبحکم فرمان باری تعالیٰ :ـ[وَلِاَبَوَيْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ اِنْ كَانَ لَهٗ وَلَدٌ](النساء:۱۱)

یعنی اولادکی موجودگی میں والدین میں سے ہر ایک کو کل مال سے چھٹاحصہ ملے گا، جوکہ (2,10,000)دولاکھ دس ہزار روپے ہے۔

اسی طرح مرحوم کی دونوں بیواؤں میں آٹھواں حصہ تقسیم ہوگا، جیسا کہ فرمان باری تعالیٰ ہے:[فَاِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَھُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ ](النساء:۱۲)

یعنی اگر تم صاحب اولاد ہوتو تمہاری بیویوں کوآٹھواں حصہ ملے گا، آٹھواں حصہ مرحوم کی بیویوں کیلئے ہے اگر ایک بیوی ہوتی تو مکمل آٹھواں حصے کی مالک ہوگی اگر دوہونگی توآٹھواں حصےمیں دونوں شریک ہونگی الغرض اگرمرحوم کی چاربیویاں ہو اور چاروں مرحوم کے انتقال کے وقت زندہ تھیں تو اس وقت بھی وہ سب آٹھویں حصہ میں شریک ہونگی۔

مذکورہ قاعدے کی روسے ہر ایک بیوہ کوحصہ میں(78,750) اٹھتر ہزار سات سوپچاس روپے کی رقم ملے گی، اور یہی رقم دوسری بیوہ کو بھی ملے گی،کل رقم سے مذکورہ رقم نکال کر باقی (6,82,500)چھ لاکلھ بیاسی ہزار پانچ سوروپے بچتے ہیں جو کہ بحکم فرمان باری تعالیٰ :

]لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَيَيْنِ ۚ ](النساء:۱۱)

یعنی اللہ تعالیٰ تمہیں تمہاری اولاد کے بارے میں تاکیدی حکم دیتا ہے کہ بیٹے کاحصہ بیٹی کی نسبت دوگناہے۔

بقیہ رقم کومذکورہ قاعدے کےمطابق مرحوم کے بچوں میں تقسیم کردی جائے ،باقی بچے نابالغ ہیں تو یہ رقم دادا کے پاس رکھوائی جائے تاکہ وہ وقت آنے پر ان کی رقم لوٹادے۔

رب کریم ہمیں جمیع معاملات میں قرآن وسنت پر عمل کی توفیق عطافرمائے۔آمین۔ہذا ماعندی واللہ اعلم بالصواب

About حافظ محمد سلیم

مفتی جمعیت اہل حدیث سندھ

Check Also

احکام ومسائل

انشورنس سوال :167 محترم جناب مفتی صاحب! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ سوال یہ ہے …

جواب دیجئے